بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النبأ — Surah Naba
آیت نمبر 6
کل آیات: 40
قرآن کریم النبأ آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ النبأ islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 6) ➊ { اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا:} اللہ تعالیٰ نے قیامت کا یقین دلانے کے لیے اور ان کی عقلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے اپنی قدرت کے چند عجائب پیش فرمائے ہیں کہ عقل سے پوچھو کہ اتنے بڑے بڑے کام کرنے والے کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اور وہ عجائب بھی خود تمھارے گردو پیش اور تمھاری ذات میں موجود ہیں۔ ➋ فرمایا جہاں رہتے ہو اسی کو دیکھ لو، کیا عقل میں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی زمین کو ہم نے کس طرح پیدا کیا اور کس طرح بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے؟
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →