بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النبأ — Surah Naba
آیت نمبر 20
کل آیات: 40
قرآن کریم النبأ آیت 20
آیت نمبر: 20 — سورۃ النبأ islamicurdubooks.com ↗
وَّ سُیِّرَتِ الۡجِبَالُ فَکَانَتۡ سَرَابًا ﴿ؕ۲۰﴾
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وه سراب ہو جائیں گے
اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا،
اور پہاڑ چلائے جائیں گے اور وہ بالکل سراب ہو جائیں گے۔
اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104] ‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔ اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏ [20-طه:107-105] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔ اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔

📖 احسن البیان

20۔ 1 وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو، پہاڑ بھی دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 20) ➊ {وَ سُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا:سَرَابًا “} جو دوپہر کے وقت دور سے دیکھنے والے کو پانی کی طرح نظر آتا ہے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح پہاڑ ریت بن جائیں گے جو دور سے پانی کی طرح نظر آتی ہے مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہو تا۔ ➋ قرآن میں قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال بیان ہوئے ہیں، سب سے پہلے صور کی آواز کے ساتھ زمین اور پہاڑ ایک چوٹ سے توڑ دیے جائیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً» ‏‏‏‏ [ الحاقۃ: ۱۴ ] ”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا اور دونوں ایک ہی بار ٹکرا دیے جائیں گے۔“ پھر بھربھری ریت ہو جائیں گے جو خود بخود گرتی جا رہی ہو، فرمایا: «‏‏‏‏وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا» ‏‏‏‏ [ المزمل: ۱۴ ] ”اور پہاڑ گرائی ہوئی ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے۔“ پھر دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے، فرمایا: «وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ» ‏‏‏‏ [ القارعۃ: ۵ ] ”اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔“ پھر بکھرا ہوا غبار بن جائیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّا» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۶ ] ”پس وہ پھیلا ہوا غبار بن جائیں گے۔“ پھر بادلوں کی طرح چلیں گے، جیساکہ فرمایا: «وَ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» ‏‏‏‏ [ النمل: ۸۸ ] ”حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔“ پھر سراب بن جائیں گے، جیسے یہاں فرمایا ہے، پھر ان میں سے کچھ بھی نہیں رہے گا، فقط چٹیل زمین رہ جائے گی جس میں کوئی بلندی یا پستی نہیں ہوگی، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106) لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: 107،106 ] ”پھر وہ اسے ایک چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا، جس میں تونہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری ہوئی جگہ۔“
← پچھلی آیت (19) پوری سورۃ اگلی آیت (21) →