بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النبأ — Surah Naba
آیت نمبر 19
کل آیات: 40
قرآن کریم النبأ آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ النبأ islamicurdubooks.com ↗
وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾
اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے
اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا
اور آسمان کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے ہی دروازے ہو جائے گا۔
اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہو جائے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104] ‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔ اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔ اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏ [20-طه:107-105] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔ اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) {وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا:} آسمان میں اب بھی دروازے موجود ہیں، جیسا کہ سورئہ اعراف (۴۰) میں ہے اور حدیث معراج میں بھی اس کا ذکر ہے، مگر اس وقت آسمان اس طرح پھٹے گا جیسے وہ سارے کا سارا دروازوں کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ پھٹنا فرشتوں کے اتارے جانے کے لیے ہو گا،جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [ الفرقان: ۲۵ ] ”جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے۔“
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →