بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النبأ — Surah Naba
آیت نمبر 31
کل آیات: 40
قرآن کریم النبأ آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ النبأ islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا ﴿ۙ۳۱﴾
یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے
بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے
بےشک پرہیزگاروں کیلئے کامیابی و کامرانی ہے۔
یقینا پرہیزگاروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31){ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا:} جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنھیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنھوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلادیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر وتکذیب سے ڈرنے والوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔{” مَفَازًا “} مصدر ہو تومعنی ہے ”کامیابی“ اور ظرف ہو تو معنی ہے ”کامیابی کا مقام۔“ {” مَفَازًا “} میں تنوین ”ایک بڑی“ کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →