بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النبأ — Surah Naba
آیت نمبر 1
کل آیات: 40
قرآن کریم النبأ آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ النبأ islamicurdubooks.com ↗
عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں
یہ آپس میں کاہے کی پوچھ گچھ کررہے ہیں
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال و جواب کر رہے ہیں؟
کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ ‘

پھر خود فرماتا ہے کہ ’ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے ‘۔ مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔ پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ’ جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں ‘، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ’ تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے ‘، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟ زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ’ دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے ‘۔ انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ’ زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ’ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا ‘۔

📖 احسن البیان

یہ لوگ کس کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں (1)

📖 القرآن الکریم

(آیت 1تا3) ➊ { عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ…:} اس سور ت میں قیامت کے حق ہونے کے دلائل اور اس کے کچھ احوال بیان کیے گئے ہیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ یہ بتایا کہ ایک دن تمھیں زندہ ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور تمھیں تمام نیک و بد اعمال کی جزا ملنی ہے تو سننے والوں نے آپس میں سوال شروع کر دیے کہ کیا واقعی قیامت ہو گی؟ آیا یہ ممکن بھی ہے؟ پھر وہ قیامت کس طرح ہو گی؟ وغیرہ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ➋ { ” النَّبَاِ الْعَظِيْمِ “} سے مراد قیامت ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی تو مانتا ہی نہیں کہ قیامت ہو گی، کوئی مانتا ہے مگر اسے یقین نہیں، کوئی کہتا ہے مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں؟ یہ تو عقل ہی کے خلاف ہے اور کوئی کہتا ہے کہ جسم زندہ نہیں ہوں گے بلکہ سب خوشی اور غم روح ہی پر گزرے گا، وغیرہ وغیرہ۔
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →