بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النبأ — Surah Naba
آیت نمبر 35
کل آیات: 40
قرآن کریم النبأ آیت 35
آیت نمبر: 35 — سورۃ النبأ islamicurdubooks.com ↗
لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا کِذّٰبًا ﴿ۚ۳۵﴾
وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے
وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے
جس میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں نہ جھٹلانا
وہ لوگ وہاں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ کوئی جھوٹ۔
وہ اس میں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ ( ایک دوسرے کو) جھٹلانا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭

نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23] ‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔

📖 احسن البیان

35۔ 1 یعنی کوئی بےفائدہ اور بےہودہ بات وہاں نہیں ہوگی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 35){ لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًا:} جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کے کان وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ یہ سنیں گے کہ کوئی کسی کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کوئی کسی سے جھگڑے گا ہی نہیں کہ اس کی بات کو جھٹلائے۔ گالی گلوچ اور دنگا فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جسے ان کاموں سے نفرت ہو، پھر اسے بے ہودہ بکنے والوں اور ایک دوسرے کو جھٹلانے والے بدتمیزوں سے واسطہ رہتا ہو۔
← پچھلی آیت (34) پوری سورۃ اگلی آیت (36) →