بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الكهف
سورۃ الكهف — 110 آیات — صفحہ 1 از 3
قرآن کریم Surah 18
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی
مولانا محمد جوناگڑھی
تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی
احمد رضا خان بریلوی
سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اصلاً (بالکل، ذرا بھی) کجی نہ رکھی،
علامہ محمد حسین نجفی
ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندہ (خاص) پر کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں رکھی۔
عبدالسلام بن محمد
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق تعریف قرآن مجید ٭٭

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے، اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی بہت بڑی نعمت ہے، جس سے اللہ کے تمام بندے اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس نے اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی، کوئی کسر، کوئی کمی نہیں، صراط مستقیم کی رہبر، واضح جلی، صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے، جو عذاب اللہ کی طرف سے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے، اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔ جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔
تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی (1)۔
{سورة كهف} کہف کا معنی پہاڑ میں کھلی اور وسیع غار ہے، تنگ غار کو{ ”غَارٌ“ } یا {”مَغَارَةٌ“ } کہتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کہف والوں کا قصہ بیان فرمایا ہے، جس میں اللہ پر ایمان کی برکات بیان ہوئی ہیں کہ اس کی بدولت کس طرح آدمی دشمن سے محفوظ اور تمام دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اس میں حق کہنے کی کتنی جرأت پیدا ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیسے عجیب طریقوں سے عزت و کرامت عطا فرماتا ہے۔ (مہائمی) اس کی فضیلت میں متعدد احادیث ثابت ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُوْرَةِ الْكَهْفِ، عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ] [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل سورۃ الکہف و آیۃ الکرسی: ۸۰۹ ] ”جو شخص سورۂ کہف کی شروع کی دس آیات حفظ کرلے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔“ مسلم کی اس حدیث میں اس سورت کی آخری دس آیات کی بھی یہی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس سورت کے پڑھنے سے گھر میں سکینت اور برکت کا نزول ہوتا ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: [ كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْكَهْفِ وَإِلٰی جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُوْ وَ تَدْنُوْ، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَي النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ، فَقَالَ تِلْكَ السَّكِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ ] ”ایک آدمی سورۂ کہف پڑھ رہا تھا، اس کے ایک طرف ایک گھوڑا تھا جو دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا، تو اسے بادل کے ایک ٹکڑے نے ڈھانپ لیا، پھر اس نے قریب آنا شروع کر دیا اور مزید قریب آتا گیا، چنانچہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سکینت تھی جو قرآن کے ساتھ اتری۔“ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل الکہف: ۵۰۱۱ ] ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُوْرَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهٗ مِنَ النُّوْرِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ] [ مستدرک حاکم: 368/2، ح: ۳۳۹۲، صححہ الألباني في صحیح الجامع: ۶۴۷۰ ] ”جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے تو دو جمعوں کے درمیان اس کے لیے نور روشن رہے گا۔“ (آیت 1) ➊ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ …:} یہ سورت ان پانچ سورتوں میں شامل ہے جن کی ابتدا {” اَلْحَمْدُ “} کے ساتھ ہوئی ہے، دوسری چار سورتیں فاتحہ، انعام، سبا اور فاطر ہیں۔ پچھلی سورت کا خاتمہ بھی {” اَلْحَمْدُ “} کے ساتھ ہوا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر کام کی ابتدا اور انتہا اللہ کے پاکیزہ نام کے ساتھ یا اس کی حمد کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ان تمام سورتوں میں سے ہر سورت کا طریقہ اگرچہ مختلف ہے مگر مقصود لوگوں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ حمد کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، اور کوئی نہیں، کیونکہ کسی میں کوئی خوبی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کر دہ ہے۔ ➋ {الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ:} سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام حمد کا مالک ہونے کی دلیل کے لیے چار صفات بیان ہوئی ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ کے تمام حمد اور خوبیوں کا مالک ہونے کی ایک ہی دلیل بیان کی گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر {”الْكِتٰبَ “} نازل فرمانا ہے۔ کیونکہ دوسرے تمام انعامات اگرچہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں مگر یہ نعمت سب سے اہم ہے، کیونکہ اس پر ہمیشہ کی زندگی یعنی اخروی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔ ➌ { عَلٰى عَبْدِهِ:} ”اپنے بندے پر، اپنے غلام پر“ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خاص عبد قرار دینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہا شان بیان ہوئی ہے، اگرچہ زمین و آسمان میں رہنے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی غلام ہے، مگر ”اپنا غلام“ کہنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عزت ملی وہ بہت کم لوگوں کو ملی ہے، جیسا کہ «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» ‏‏‏‏ [بنی إسرائیل: ۱ ] میں ہے اور اس کتاب کی بھی تعریف ہے جو نازل کی گئی۔ {” الْكِتٰبَ “} میں الف لام عہد کا ہے، یعنی یہ کتاب، مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ جب صرف {” الْكِتٰبَ “} کہا جائے تو قرآن کریم ہی مراد ہوتا ہے، اس لیے کہ اس کے سوا کسی اور میں یہ کمال ہی نہیں کہ اسے {” الْكِتٰبَ “} کہا جا سکے۔ ➍ {وَ لَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا:عِوَجًا “} کجی، ٹیڑھا پن۔ {” عِوَجًا “} پر تنوین عموم کے لیے ہے جو نفی کے بعد آکر مزید عام ہو گیا ہے، یعنی اس کتاب میں کسی بھی قسم کا کوئی ٹیڑھا پن نہیں، نہ الفاظ میں، نہ معانی میں، نہ فصاحت و بلاغت میں، نہ یہ کہ اس کی آیات کا آپس میں کوئی اختلاف ہو، یا اس کی کوئی خبر غلط نکلے، یا کوئی حکم حکمت سے خالی ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ زمر (۲۸)، بنی اسرائیل (۹، ۱۰) اور نساء (۸۲)۔
قَیِّمًا لِّیُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِیۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡہُ وَ یُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ہر طرح سے ٹھیک ٹھاک رکھا تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے اور ایمان ﻻنے اور نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبریاں سنا دے کہ ان کے لئے بہترین بدلہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
عدل والی کتاب کہ اللہ کے سخت عذاب سے ڈرائے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کریں بشارت دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بالکل سیدھی اور ہموار تاکہ وہ (مکذبین کو) اللہ کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور ان اہل ایمان کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بالکل سیدھی، تاکہ وہ اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور ان مومنوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، خوش خبری دے کہ بے شک ان کے لیے اچھا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق تعریف قرآن مجید ٭٭

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے، اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی بہت بڑی نعمت ہے، جس سے اللہ کے تمام بندے اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس نے اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی، کوئی کسر، کوئی کمی نہیں، صراط مستقیم کی رہبر، واضح جلی، صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے، جو عذاب اللہ کی طرف سے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے، اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔ جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔
2۔ 1 مِنْ لَّدنہ، جو اس اللہ کی طرف سے صادر یا نازل ہونے والا ہے
(آیت 2) ➊ {” قَيِّمًا “} میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل سیدھی، پہلے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی کجی نہیں رکھی، اب فرمایا بالکل سیدھی ہے۔ بات ایک ہی ہے مگر اس تاکید کا فائدہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک چیز میں بظاہر کوئی کجی نہیں ہوتی، مگر حقیقت میں اور باریکی سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی نہ کوئی کجی ہوتی ہے، اس سے اس کی بھی نفی ہو گئی۔ جیسے ایک جگہ ہموار نظر آتی ہے مگر آلہ رکھ کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہموار نہیں۔ {” قَيِّمًا “} کا معنی نگران بھی ہے، {”مُهَيْمِنٌ“ } کا بھی یہی معنی ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۴۸) اس صورت میں مراد یہ ہو گی کہ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں پر نگران ہے، یعنی ان کے مضامین کا درست یا تحریف شدہ ہونا اس کتاب کی تصدیق یا تکذیب سے معلوم ہوتا ہے۔ ➋ { لِيُنْذِرَ بَاْسًا …:} یہاں یہ بتایا کہ اس کتاب کو اپنے بندے پر اس لیے نازل فرمایا کہ وہ اس سخت عذاب سے ڈرائے جو اس کی جانب سے ہو گا، مگر یہ نہیں بتایا کہ کسے ڈرائے، اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مراد عموم ہے، یعنی کافر و مومن ہر ایک کو اللہ کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے، یا یہ کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں بتائی ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ يُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۴ ] ”اور (تاکہ) ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔“ اس آیت(۴) میں یہ نہیں بتایا کہ کس چیز سے ڈرائے، اس کا ذکر زیر تفسیر آیت (۲) میں ہے کہ اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مضمون یہ بنے گا: ”تاکہ ان لوگوں کو اپنی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔“ دونوں آیتوں میں ڈرانے کا ذکر دو بار آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کتاب اور پیغمبر کے فرائض میں ڈرانے کا فریضہ زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایمان نہ لانے والے زیادہ ہیں، جن میں سے کوئی مسیح علیہ السلام کو اور کوئی عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتا ہے، کوئی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتا ہے، کوئی اپنے انبیاء و اولیاء کو اللہ کے نور کا ٹکڑا اور کوئی انھیں عین اللہ تعالیٰ قرار دیتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں نے کہا: «اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۷۲ ] ”بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔“ اور ہماری امت کے ایک ظالم نے کہا ہے: وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفی ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کتاب ان سب کو اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراتی ہے، خواہ وہ دنیا و آخرت دونوں میں ہو یا صرف آخرت میں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد رکھنے کی تردید کے لیے دیکھیے سورۂ مریم (۸۸ تا ۹۵) {” مِنْ لَّدُنْهُ “} سے عذاب کی ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے۔
مَّاکِثِیۡنَ فِیۡہِ اَبَدًا ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جس میں ہمیشہ رہیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مستحق تعریف قرآن مجید ٭٭

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے، اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی بہت بڑی نعمت ہے، جس سے اللہ کے تمام بندے اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس نے اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی، کوئی کسر، کوئی کمی نہیں، صراط مستقیم کی رہبر، واضح جلی، صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے، جو عذاب اللہ کی طرف سے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے، اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔ جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ یُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ٭﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اوﻻد رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بچہ بنایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تاکہ وہ ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے سوالات ٭٭

بے علمی اور جہالت کے ساتھ منہ سے بول پڑتے ہیں۔ یہ تو یہ، ان کے بڑے بھی ایسی باتیں بےعلمی سے کہتے رہے۔ «كَلِمَةً» کا نصب تمیز کی بنا پر ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہے «كَبُرَتْ كَلِمَة ھٰذِہِ کَلِمَۃً» اور کہا گیا ہے کہ یہ تعجب کے طور پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے «اَعْظِمْ بِکَلِمتِہِمُ کَلِمَۃً» جیسے کہا جاتا ہے «اَکْرِمُ بِذَیْدٍ رَجُلًا» بعض بصریوں کا یہی قول ہے۔ مکہ کے بعض قاریوں نے اسے کلمتہ پڑھا ہے جیسے کہا جاتا ہے «عَظُمَ قَوْلُکَ وَکَبُرَ شَانُکَ» جمہور کی قرأت پر تو معنی بالکل ظاہر ہیں کہ ان کے اس کلمے کی برائی اور اس کا نہایت ہی برا ہونا بیان ہو رہا ہے جو محض بے دل یل ہے، صرف کذب و افترا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریشیوں نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو محیط کو مدینے کے یہودی علماء کے پاس بھیجا کہ تم جا کر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کی بابت کل حالات ان سے بیان کرو۔ ان کے پاس اگلے انبیاء کا علم ہے، ان سے پوچھو ان کی آپ کی بابت کیا رائے ہے؟ یہ دونوں مدینے گئے احبار مدینہ سے ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ذکر کیا اور کہا کہ تم ذی علم ہو بتاؤ ان کی نسبت کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا دیکھو ہم تمہیں ایک فیصلہ کن بات بتاتے ہیں تم جا کر ان سے تین سوالات کرو، اگر جواب دے دیں تو ان کے سچے ہونے میں کچھ شک نہیں، بیشک وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اگر جواب نہ دیں سکیں تو آپ کے جھوٹا ہونے میں بھی کوئی شک نہیں پھر جو تم چاہو کرو۔ ان سے پوچھو اگلے زمانے میں جو نوجوان چلے گئے تھے ان کا واقعہ بیان کرو۔ وہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ اور اس شخص کے حالات دریافت کرو جس نے تمام زمین کا گشت لگایا تھا، مشرق مغرب ہو آیا تھا۔ اور روح کی ماہیت دریافت کرو۔ اگر بتا دے تو اسے نبی مان کر اس کی اتباع کرو اور اگر نہ بتا سکے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو چاہو کرو۔ یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا، لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتا دی ہے۔ اب چلو صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کریں چنانچہ یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں گا لیکن ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، پندرہ دن گزر گئے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا۔ اہل مکہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا، آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے۔ ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا، قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہو جانے کا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے سورۃ الکہف نازل ہوئی۔ اسی میں ان شاءاللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا، ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» [ 17- الإسراء: 85 ] ‏‏‏‏ میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861] ‏‏‏‏
4۔ 1 جیسے یہودیوں عیسائیوں اور بعض مشرکین (فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں) کا عقیدہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس بات کا نہ اُنہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ محض جھوٹ بکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منھ سے نکل رہی ہے وه نرا جھوٹ بک رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس بارے میں نہ وہ کچھ علم رکھتے ہیں نہ ان کے باپ دادا کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے، نِرا جھوٹ کہہ رہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اس بارے میں نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کو کوئی علم تھا۔ یہ بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ یہ لوگ بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو۔ بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے سوالات ٭٭

بے علمی اور جہالت کے ساتھ منہ سے بول پڑتے ہیں۔ یہ تو یہ، ان کے بڑے بھی ایسی باتیں بےعلمی سے کہتے رہے۔ «كَلِمَةً» کا نصب تمیز کی بنا پر ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہے «كَبُرَتْ كَلِمَة ھٰذِہِ کَلِمَۃً» اور کہا گیا ہے کہ یہ تعجب کے طور پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے «اَعْظِمْ بِکَلِمتِہِمُ کَلِمَۃً» جیسے کہا جاتا ہے «اَکْرِمُ بِذَیْدٍ رَجُلًا» بعض بصریوں کا یہی قول ہے۔ مکہ کے بعض قاریوں نے اسے کلمتہ پڑھا ہے جیسے کہا جاتا ہے «عَظُمَ قَوْلُکَ وَکَبُرَ شَانُکَ» جمہور کی قرأت پر تو معنی بالکل ظاہر ہیں کہ ان کے اس کلمے کی برائی اور اس کا نہایت ہی برا ہونا بیان ہو رہا ہے جو محض بے دل یل ہے، صرف کذب و افترا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریشیوں نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو محیط کو مدینے کے یہودی علماء کے پاس بھیجا کہ تم جا کر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کی بابت کل حالات ان سے بیان کرو۔ ان کے پاس اگلے انبیاء کا علم ہے، ان سے پوچھو ان کی آپ کی بابت کیا رائے ہے؟ یہ دونوں مدینے گئے احبار مدینہ سے ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ذکر کیا اور کہا کہ تم ذی علم ہو بتاؤ ان کی نسبت کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا دیکھو ہم تمہیں ایک فیصلہ کن بات بتاتے ہیں تم جا کر ان سے تین سوالات کرو، اگر جواب دے دیں تو ان کے سچے ہونے میں کچھ شک نہیں، بیشک وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اگر جواب نہ دیں سکیں تو آپ کے جھوٹا ہونے میں بھی کوئی شک نہیں پھر جو تم چاہو کرو۔ ان سے پوچھو اگلے زمانے میں جو نوجوان چلے گئے تھے ان کا واقعہ بیان کرو۔ وہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ اور اس شخص کے حالات دریافت کرو جس نے تمام زمین کا گشت لگایا تھا، مشرق مغرب ہو آیا تھا۔ اور روح کی ماہیت دریافت کرو۔ اگر بتا دے تو اسے نبی مان کر اس کی اتباع کرو اور اگر نہ بتا سکے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو چاہو کرو۔ یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا، لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتا دی ہے۔ اب چلو صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کریں چنانچہ یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں گا لیکن ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، پندرہ دن گزر گئے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا۔ اہل مکہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا، آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے۔ ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا، قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہو جانے کا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے سورۃ الکہف نازل ہوئی۔ اسی میں ان شاءاللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا، ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» [ 17- الإسراء: 85 ] ‏‏‏‏ میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861] ‏‏‏‏
5۔ 1 اس کلمہ تہمت سے مراد یہی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جو نرا جھوٹ ہے۔
(آیت 5) ➊ {مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ …:} یعنی اللہ کی اولاد ہونے کی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس، کیونکہ علم وہ ہے جس کی کوئی دلیل ہو۔ ان کے باپ دادا نے کسی علم کے بغیر محض جہل سے یہ بات نکالی اور انھوں نے محض جہالت کی بنا پر ان کی تقلید کی۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے تقلید کے بارے میں کیا خوب کہا: {اَلْعِلْمُ قَالَ اللّٰهُ قَالَ رَسُوْلُهُ مَا ذَاكَ وَالتَّقْلِيْدُ يَسْتَوِيَانِ اِذْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ مُقَلِّدًا لِلنَّاسِ وَالْأَعْمَي هُمَا سِيَّانِ} ”علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا اور اس کے رسول نے فرمایا۔ یہ اور تقلید برابر نہیں ہیں، کیونکہ علماء کا اتفاق ہے کہ لوگوں کی تقلید کرنے والا اور اندھا دونوں برابر ہیں۔ “ ➋ {كَبُرَتْ كَلِمَةً …: ” كَبُرَتْ “} مذمت کے لیے فعل ماضی ہے، گویا افعال مدح و ذم کے قبیل سے ہے۔ {” كَبُرَتْ “} فعل ذم ہے، اس کا فاعل {”هِيَ“} محذوف ہے، {” كَلِمَةً “ } تمیز ہے، یعنی یہ جو کچھ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، یہ بطور کلمہ (یعنی منہ سے بولنے کے لحاظ سے) ہی بہت بڑی بات ہے، کجا یہ کہ اس کا عقیدہ رکھا جائے۔ اس میں کچھ تعجب کا اظہار بھی ہے کہ کتنی بڑی بات انھوں نے اپنے منہ سے نکال دی۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا (88) لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّا (89) تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (90) اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا (91) وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا (92) اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا (93) لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّا (94) وَ كُلُّهُمْ اٰتِيْهِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَرْدًا» [ مریم: ۸۸ تا ۹۵ ] ”اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔ بلاشبہ یقینا تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔ آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا، حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔ بلاشبہ یقینا اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔“
فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا، تو اے محمدؐ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ ﻻئیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں غم سے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)!) شاید آپ ان کے پیچھے اس رنج و افسوس میں اپنی جان دے دیں گے کہ وہ اس کلام پر ایمان نہیں لائے۔
عبدالسلام بن محمد
پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کر لینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏‏‏‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏‏‏‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔
6۔ 1 بِھٰذَا الْحَدِیْثِ (اس بات) سے مراد قرآن کریم ہے۔ کفار کے ایمان لانے کی جتنی شدید خواہش آپ رکھتے تھے اور ان کے اعراض و گریز سے آپ کو سخت تکلیف ہوتی تھی، اس میں آپ کی اسی کیفیت اور جذبے کا اظہار ہے۔
(آیت 6){فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ …: ” بَاخِعٌ”بَخَعَ يَبْخَعُ نَفْسَهُ“} اس نے اپنے آپ کو غم سے مار ڈالا۔ {”لَعَلَّ“} کا لفظ محبوب چیز کے لیے بولا جائے تو ترجی، یعنی امید کرنا مراد ہوتا ہے اور ایسی چیز کے لیے بولا جائے جس کا خطرہ ہو تو اسے اشفاق یعنی ڈرنا کہا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے۔ اس آیت سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اپنے آپ کو رنج و غم سے کیوں گھلا رہے ہیں؟ اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے کا کس قدر صدمہ تھا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے {” بَاخِعٌ نَّفْسَكَ “} (اپنے آپ کو ہلاک کر لینے والے) کے الفاظ استعمال فرمائے۔ مزید دیکھیے سورۂ شعراء(۳) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَائَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهٰذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِيْ تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيْهَا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ، فَيَقْتَحِمْنَ فِيْهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تَقْتَحِمُوْنَ فِيْهَا ] [بخاری، الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصي: ۶۴۸۳۔ مسلم: 2284/16 ] ”میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ خوب بھڑکائی، جب اس نے اس کے اردگرد کو روشن کر دیا تو پروانے اور اس قسم کے جانور اس آگ میں گرنے لگے۔ وہ اس میں گرتے تھے اور وہ شخص انھیں روکتا تھا اور وہ اس سے زبردستی آگ میں گھستے تھے۔ تو میں آگ سے بچانے کے لیے تمھاری کمروں کو پکڑنے والا ہوں اور تم زبردستی اس میں گھستے ہو۔“ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (۸)، نمل (۷۰) اور نحل (۲۷) {” عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ “} ان کے قدموں کے نشانات پر، یعنی ان کے پیچھے۔ {” اَسَفًا “} بہت زیادہ فکر و غم، یہ مفعول ہے، یعنی غم کی وجہ سے۔
اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعﺚ بنایا ہے کہ ہم انہیں آزمالیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے زمین کا سنگھار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے زمین کی زینت بنایا ہے۔ تاکہ ہم ان لوگوں کو آزمائیں کہ عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اس کے لیے زینت بنایا ہے، تاکہ ہم انھیں آزمائیں ان میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏‏‏‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏‏‏‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔
7۔ 1 روئے زمین میں جو کچھ ہے، حیوانات، جمادات، نباتات، معدنیات اور دیگر مدفون خزانے، یہ سب دنیا کی زینت اور رونق ہیں
(آیت 7){ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا …:} یعنی ہم نے زمین پر جو کچھ بھی ہے، حیوان، انسان، پودے، ندی نالے، سمندر اور پہاڑ، غرض ہر چیز اس زمین کی زینت بنائی ہے۔ زینت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے آل عمران (۱۴) مقصد انسانوں کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل میں کون زیادہ اچھا ہے، کون دنیا کی سج دھج کی طرف دوڑتا ہے اور کون اس کو چھوڑ کر آخرت کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔
وَ اِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَیۡہَا صَعِیۡدًا جُرُزًا ؕ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے (ایک دن) چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ ہم جو کچھ اس پر ہے، اسے ضرور ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏‏‏‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏‏‏‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔
8۔ 1 صعیدا۔ صاف میدان۔ جرز۔ بالکل ہموار۔ جس میں کوئی درخت وغیرہ نہ ہو، یعنی ایک وقت آئے گا کہ یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں سمیت فنا ہوجائے گی اور روئے زمین ایک چٹیل اور ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی، اس کے بعد ہم نیک و بد کو ان کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔
(آیت 8){وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا …: ” صَعِيْدًا “ } مٹی، کیونکہ وہ سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی ہے۔ {” صَعِدَ يَصْعَدُ “} چڑھنا۔{ ” جُرُزًا “ } چٹیل زمین، جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ {”جَرَزَتِ الْأَرْضُ“} قحط یا ٹڈی دل کی وجہ سے زمین پر کوئی اگی ہوئی چیز نہ رہ گئی۔ سورۂ سجدہ میں فرمایا: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ السجدۃ: ۲۷ ] ”اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ نہیں دیکھتے؟“ ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ کفار جن چیزوں پر اترا رہے ہیں وہ سب چند دن کے لیے زمین کی زینت ہیں، پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ نہ اس پر کوئی مکان رہے گا نہ باغ، نہ سبزہ، نہ جانور، نہ آدمی، یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہو جائے گی۔
اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو اپنے خیال میں غار اور کتبے والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت عجیب نشانی سمجھ رہا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ کہف و رقیم (غار اور کتبے) والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب نشانی تھے؟
عبدالسلام بن محمد
یا تو نے خیال کیا کہ غار اور کتبے والے ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب چیز تھے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏‏‏‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔
9۔ 1 یعنی یہ واحد بڑی اور عجیب نشانی نہیں ہے۔ بلکہ ہماری ہر نشانی ہی عجیب ہے۔ یہ آسمان و زمین کی پیدائش اور اس کا نظام، شمس و قمر اور کواکب کی تسخیر، رات اور دن کا آنا جانا اور دیگر بیشمار نشانیاں، کیا تعجب انگیز نہیں ہیں۔ کَھْف اس غار کو کہتے ہیں جو پہاڑ میں ہوتا ہے۔ رقیم، بعض کے نزدیک اس بستی کا نام ہے جہاں سے یہ نوجوان گئے تھے، بعض کہتے ہیں اس پہاڑ کا نام ہے جس میں غار واقع تھا بعض کہتے ہیں رَقِیْم بمعنی مَرْقُوْم ہے اور یہ ایک تختی ہے لوہے یا سیسے کی، جس میں اصحاب کہف کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اسے رقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس پر نام تحریر ہیں۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔ جس پہاڑ میں یہ غار واقع ہے اس کے قریب ہی ایک آبادی ہے جسے اب الرقیب کہا جاتا ہے جو مرور زمانہ کے سبب الرقیم کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
(آیت 9) ➊ {اَمْ حَسِبْتَ …:” الْكَهْفِ “} پہاڑ میں وسیع غار۔ {” الرَّقِيْمِ “} بمعنی {”مَرْقُوْمٌ“} یعنی لکھی ہوئی تختی یا سل یا کتاب والے۔ ان لوگوں کو ”اصحاب الرقیم“ اس لیے کہتے ہیں کہ جب وہ اچانک غائب ہو گئے اور بہت تلاش کے باوجود نہ ملے تو ان کے نام ایک تختی یا سل پر لکھ کر خزانے میں محفوظ کر دیے گئے، یا یہ کہ ان کے پاس شریعت کے احکام پر مشتمل لکھی ہوئی کتاب تھی۔(شنقیطی) یا یہ کہ ان کے جاگنے کے بعد لوگوں نے غار پر ایک تختی نصب کر دی جس پر ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ ➋ { اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ …:} اس آیت کی تفسیرجو اکثر مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر، شنقیطی رحمۃ اللہ علیھم نے کی ہے، یہ ہے کہ {” اَمْ “} منقطعہ انکار کے لیے ہے۔ شنقیطی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم نے اصحابِ کہف کے قصے کو ہماری نشانیوں میں بڑی عجیب نشانی سمجھ لیا ہے۔ بے شک لوگ اسے بہت بڑی اور عجیب بات سمجھیں، مگر یہ ہماری قدرت اور عظیم نشانیوں کے سامنے کچھ عجیب نہیں، کیونکہ ہمارا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا، پھر زمین میں اس کی زینت کی ہر چیز پیدا کرنا، پھر قیامت کے دن اسے چٹیل میدان بنا دینا اصحابِ کہف کے معاملے سے بہت زیادہ عجیب ہے، جنھیں ہم نے تین سو نو (۳۰۹) سال سلائے رکھا، پھر دوبارہ اٹھا دیا۔ اس کی دلیل بہت سی آیات ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے ذکر سے پہلے زمین اور اس کی زینت پیدا کرنے، پھر اسے چٹیل میدان بنانے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ ان چیزوں کے مقابلے میں کچھ عجیب نہیں جو اس سے کہیں بڑی ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہ لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑی بات ہے، جیسا کہ فرمایا: «لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے۔“ اور دیکھیے نازعات (۲۷ تا ۳۳) یاد رہے کہ ”اصحاب کہف“ اور ”اصحاب رقیم “ ایک ہی گروہ کے نام ہیں اور صحیح بخاری میں مذکور غار کے اندر پناہ لینے والے تین آدمیوں کا اس واقعہ سے تعلق بہت بعید ہے، جن میں سے ایک والدین سے حسن سلوک کرنے والا، ایک پاک دامن رہنے والا اور ایک اجرت پر مزدور رکھنے والا تھا۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اصحابِ کہف کے قصے، ان کے ناموں اور یہ کہ وہ زمین کے کس حصے میں تھے؟ اس سب سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علاوہ کوئی بات ثابت نہیں جو قرآن سے زائد ہو۔ مفسرین نے ان کے متعلق بہت سی اسرائیلی روایات بیان کی ہیں جن کے قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔“ (شنقیطی ملخصاً) ایک اور تفسیر جو پہلی تفسیر کے علاوہ صاحب روح المعانی اور ابن عاشور رحمۃ اللہ علیھما وغیرہ نے ذکر فرمائی ہے، یہ ہے کہ {”حِسْبَانٌ“} گمان اور علم دونوں معنوں میں آتا ہے، ہاں {” اَمْ “} انکار کے لیے نہیں بلکہ تقریری ہے، یعنی یہ بتانے کے لیے ہے کہ یقینا یہ لوگ واقعی عجیب تھے۔ گویا یہ کہا گیا: {”اِعْلَمْ أَنَّهُمْ عَجَبٌ“} ”جان لے کہ یقینا وہ لوگ بڑے عجیب تھے۔“ جیسا کہ تم کہتے ہو: {” أَعَلِمْتَ أَنَّ فُلاَنًا فَعَلَ كَذَا “} ”کیا تمھیں معلوم ہے کہ فلاں نے اس طرح کیا۔“ یعنی یقینا اس نے اس طرح کیا ہے۔ ان مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے واقعے کا عجیب ہونا ذکر کرنے کے بعد تفصیل سے واقعہ بیان کر رہے ہیں، تاکہ مخاطب کو سننے کا شوق پیدا ہوجائے۔ یہ تفسیر بھی ہو سکتی ہے۔
اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ "اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے،"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان چند نوجوانوں نے جب غار میں پناه لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے
احمد رضا خان بریلوی
جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر،
علامہ محمد حسین نجفی
جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی اور کہا اے ہمارے پروردگار! اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے اس کام میں ہدایت کا سامان مہیا فرما۔
عبدالسلام بن محمد
جب ان جوانوں نے غار کی طرف پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے کوئی رحمت عطا کر اور ہمارے لیے ہمارے معاملے میں کوئی رہنمائی مہیا فرما۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏‏‏‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔
10۔ 1 یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں اصحاب کہف کہا گیا، (تفصیل آگے آرہی ہے) انہوں نے جب اپنے دین کو بچاتے ہوئے غار میں پناہ لی تو یہ دعا مانگی۔ اصحاب کہف کے اس قصے میں نوجوانوں کے لئے بڑا سبق ہے، آجکل کے نوجوانوں کا بیشتر وقت فضولیات میں برباد ہوتا ہے اور اللہ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ کاش! آج کے مسلمان نوجوان اپنی جوانیوں کو اللہ کی عبادت میں صرف کریں۔
(آیت 10){اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ …: ” اَوَى “ } (ض) جگہ پکڑی، پناہ لی۔ {” الْفِتْيَةُ “ ” فَتًي“} کی جمع قلت ہے، جوان جو آغاز شباب میں ہوں۔ {” هَيِّئْ “} باب تفعیل سے امر ہے، مہیا فرما، میسر فرما، {” رَشَدًا “} بھلائی، رہنمائی۔ {” اِذْ “} یا تو {” كَانُوْا “} کی ظرف ہے، یا {” عَجَبًا “} کی اور یا {”أُذْكُرْ“} کی جو محذوف ہے، یعنی جب چند نوجوان جو اپنی مشرک قوم اور مشرک بادشاہ کے سامنے توحید کا برملا اظہار و اعلان کرنے کی وجہ سے انھیں مطلوب تھے، اپنے گھروں سے نکلے اور انھوں نے ایک پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے، یعنی محض اپنے فضل اور اپنی جناب سے کوئی بھی رحمت جو تو چاہے عطا فرما، جیسے موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا: «رَبِّ اِنِّيْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۲۴ ] ”اے میرے رب! بے شک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔“ رحمت میں کھانا پینا، امن و اطمینان اور ضرورت کی ہر چیز شامل ہے۔{” هَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا “} اور ہمارے لیے اس معاملے میں کوئی رہنمائی عطا فرما کہ ہم کیا کریں۔
فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو ہم نے انہیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سلا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ہم نے ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال تک اسی غار میں پردے ڈال دیئے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس غار میں ان کے کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا
علامہ محمد حسین نجفی
تو ہم نے غار میں کئی برسوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈال دیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال پردہ ڈال دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏‏‏‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔
11۔ 1 یعنی کانوں پر پردے ڈال کر ان کے کانوں کو بند کردیا تاکہ باہر کی آوازوں سے ان کی نیند میں خلل نہ پڑے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے انھیں گہری نیند سلا دیا۔
(آیت 11){فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ …:” فَضَرَبْنَا “} کا مفعول مقدر ہے، یعنی {”حِجَابًا“} ”تو ہم نے ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا“ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا، تاکہ ان کی پریشانی اور گھبراہٹ ختم ہو جائے، کیونکہ نیند اس کا سب سے اچھا علاج ہے اور وہ اپنی مشرک قوم سے بھی محفوظ ہوجائیں۔ یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے، کوئی سو جائے تو اسے کہتے ہیں {” ضُرِبَ عَلٰي آذَانِهِ “} ”اس کے کانوں پر پردہ ڈال دیا گیا۔“ اگرچہ نیند میں آنکھوں اور دوسرے اعضا پر بھی پردہ ہوتا ہے اور انھیں بیرونی دنیا کا کچھ احساس نہیں ہوتا، مگر سب سے آخر میں کانوں کا سننا بند ہوتا ہے اور انسان گہری نیند سو جاتا ہے۔ {” سِنِيْنَ عَدَدًا “} گنتی کے کئی سال، جن کا شمار آگے آ رہا ہے۔
ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴿٪۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا کہ ہم یہ معلوم کرلیں کہ دونوں گروه میں سے اس انتہائی مدت کو جو انہوں نے گزاری کس نے زیاده یاد رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے انھیں جگایا کہ دیکھیں دو گروہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے انہیں اٹھایا۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون اپنے ٹھہرنے کی مدت کا زیادہ ٹھیک شمار کر سکتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تا کہ ہم معلوم کریں دونوں گروہوں میں سے کون وہ مدت زیادہ یاد رکھنے والا ہے جو وہ ٹھہرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔ اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏‏‏‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔
12۔ 1 ان دو گروہوں سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ یا تو اسی دور کے لوگ تھے جن کے درمیان ان کی بابت اختلاف ہوا، یا عہد رسالت کے مومن و کافر مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف ہی ہیں ان کے دو گروہ بن گئے تھے۔ ایک کہتا تھا ہم اتنا عرصہ سوئے رہے، دوسرا، اس کی نفی کرتا اور فریق اول سے کم و بیش مدت بتلاتا۔
(آیت 12){ ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ …: ”بَعَثَ“} کا معنی کسی ساکن چیز کو حرکت میں لانا ہے۔ یہ لفظ مردہ کو زندہ کرنے اور سوئے ہوئے کو جگانے کے لیے آتا ہے، یعنی پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ ہم معلو م کریں کہ ان سونے والوں کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ ہے جو اپنے وہاں ٹھہرنے کی مدت کو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ یہ ترجمہ اس وقت ہے جب {”اَحْصٰى “} کو اسم تفضیل مانیں اور یہ معنی راجح ہے، کیونکہ باب افعال سے بھی {”أَفْعَلُ“} کے وزن پر اسم تفضیل آ جاتا ہے۔ دوسرا معنی اس صورت میں ہے کہ {” اَحْصٰى “} کو ماضی معروف قرار دیں، اس وقت معنی یہ ہو گا کہ دونوں گروہوں میں سے کون ہے جس نے اس مدت کو یاد رکھا ہے جو وہ ٹھہرے ہیں۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کو گزشتہ، موجودہ اور آئندہ ہر چیز کا علم ہے کہ کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو گا، مگر ظاہر ہے کہ یہ علم کہ فلاں کام واقع ہو چکا ہے، اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ کام واقع ہو جائے، یعنی تاکہ ہم اپنے علم کے مطابق اس کا واقع ہونا جان لیں۔
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی ﴿٭ۖ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم ان کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ان کا صحیح واقعہ تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ یہ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان ﻻئے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی
احمد رضا خان بریلوی
ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں، وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) ہم آپ کو ان کا اصل قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
ہم تجھ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، بے شک وہ چند جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انھیں ہدایت میں زیادہ کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏‏‏‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏‏‏‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏‏‏‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏‏‏‏

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏‏‏‏ پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏‏‏‏ قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏‏‏‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
13۔ 1 اب اختصار کے بعد تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ یہ نوجوان، بعض کہتے ہیں عیسائیت کے پیروکار تھے اور بعض کہتے ہیں ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے کا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا، دقیانوس، جو لوگوں کو بتوں کی عبادت کرنے اور ان کے نام کی نذر نیاز دینے کی ترغیب دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے چند نوجوانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ عبادت کے لائق تو صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمان و زمین کا خالق اور کائنات کا رب ہے۔ فِتْیِۃ جمع قلت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے ان کی تعداد 9 یا اس سے بھی کم تھی۔ یہ الگ ہو کر کسی ایک جگہ اللہ واحد کی عبادت کرتے، آہستہ آہستہ لوگوں میں ان کے عقیدہ کا چرچا ہوا، تو بادشاہ تک بات پہنچ گئی اور اس نے انھیں اپنے دربار میں طلب کر کے ان سے پوچھا، تو وہاں انہوں نے برملا اللہ کی توحید بیان کی بالآخر پھر بادشاہ اور اپنی مشرک قوم کے ڈر سے اپنے دین کو بچانے کے لئے آبادی سے دور ایک پہاڑ کے غار میں پناہ گزین ہوگئے، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند مسلط کردی اور وہ تین سو نو (39) سال وہاں سوئے رہے۔
(آیت 13) ➊ { نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مشہور تھا، مگر اس میں بہت سی خرافات اور غلط باتیں شامل تھیں، اس لیے فرمایا کہ ہم تجھ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ ➋ { اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ …:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے بیان کا خلاصہ یہ ہے، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے اور نوجوان بوڑھوں کی نسبت حق کو زیادہ قبول کرنے والے ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والے اکثر نوجوان تھے۔ قریش کے بوڑھے بزرگ اپنے دین ہی پر باقی رہے، ان میں سے بہت کم ہی ایمان لائے۔ کئی ایک ائمہ مثلاً بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے {” وَ زِدْنٰهُمْ هُدًى “} (اور ہم نے انھیں ہدایت میں زیادہ کر دیا) سے استدلال فرمایا کہ ایمان زیادہ ہوتا ہے اور کم بھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے لیے آٹھ آیات اور بہت سی احادیث بیان فرمائی ہیں۔ اتنی واضح آیات و احادیث کو پڑھ کر بھی کئی حضرات اڑے ہوئے ہیں کہ اصل ایمان میں سب برابر ہیں، وہ نہ کم ہوتا ہے نہ بڑھتا ہے، ہمارا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور جبرائیل علیہ السلام سب کا ایمان برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے نبی کی بات پر {”سَمِعْنَا وَ آمَنَّا“ } کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) ➌ { اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ:} یعنی یہ چند جوان تھے جو اپنی قوم کے اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے، جیسا کہ ان کے کھانا منگواتے ہوئے سب سے ستھرا کھانا رکھنے والے شخص سے کھانا منگوانے کی فرمائش سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ان کی قوم اور بادشاہ مشرک بت پرست تھے، مگر یہ نوجوان بت پرستی چھوڑ کر اپنے رب کی توحید پر پختہ اور خالص ایمان لے آئے اور اس پر ڈٹ گئے اور اللہ کی خاطر خویش و اقارب، مال و منال اور وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اور زیادہ ہدایت و ایمان سے نواز دیا۔
وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کر دیے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ "ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب کہ یہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان وزمین کا پروردگار ہے، ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو پکاریں اگر ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کہی
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کی ڈھارس بندھائی جب کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کے دل اس وقت اور مضبوط کر دیئے جب وہ کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ ہم اس کے سوا اور کسی کو معبود ہرگز نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم بالکل ناحق بات کے مرتکب ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہر گز نہ پکاریں گے، بلاشبہ یقینا ہم نے اس وقت حد سے گزری ہوئی بات کہی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏‏‏‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏‏‏‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏‏‏‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏‏‏‏

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏‏‏‏ پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏‏‏‏ قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏‏‏‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
14۔ 1 یعنی ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے خویش و اقارب کی جدائی اور عیش و راحت کی زندگی سے محرومی کا جو صدمہ انھیں اٹھانا پڑا، ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا تاکہ وہ صدمات کو برداشت کرلیں۔ نیز حق گوئی کا فریضہ بھی جرأت اور حوصلے سے ادا کرسکیں۔ 14۔ 2 اس قیام سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک وہ طلبی ہے، جو بادشاہ کے دربار میں ان کی ہوئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر انہوں نے توحید کا وعظ بیان کیا، بعض کہتے ہیں کہ شہر سے باہر آپس میں ہی کھڑے، ایک دوسرے کو توحید کی بات سنائی، جو فرداً فرداً اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ڈالی گئی اور یوں اہل توحید باہم اکٹھے ہوگئے۔ 14۔ 3 شططا کے معنی جھوٹ کے یا حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔
(آیت 14) ➊ {وَ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:رَبْطٌ “ } کا معنی باندھنا ہے، یعنی بادشاہ اور قوم کے ڈر سے جس گھبراہٹ اور پریشانی کا خطرہ تھا اس سے بچانے کے لیے ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جس سے وہ مضبوط ہو گئے، جس طرح بکھری ہوئی چیزیں گٹھڑی میں ڈال کر ان کو گرہ لگا کر مضبوطی سے باندھ دیا جائے تو وہ بکھرنے سے بچ جاتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ان کے دلوں پر بند باندھ دینے سے وہ حق گوئی کے وقت ہر قسم کے خوف سے محفوظ ہو گئے۔ ➋ { اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یعنی جب وہ بادشاہ کے سامنے اس کے بھرے دربار میں کھڑے ہوئے اور انھوں نے صاف اعلان کر دیا کہ ہم نہ بادشاہ کو اپنا رب مانتے ہیں نہ تمھارے بتوں کو، بلکہ ان سے ہزاروں لاکھوں سال پہلے موجود آسمانوں اور زمین کے رب کو اپنا رب مانتے ہیں۔ یہ توحیدِ ربوبیت کا اعلان تھا کہ رب صرف ایک ہے۔ ”اور ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہر گز نہ پکاریں گے“ یہ توحید الوہیت کا اعلان ہے کہ ہم عبادت بھی صرف اسی کی کریں گے، اسی سے دعا، اسی سے امید اور اسی سے خوف رکھیں گے۔ اگر ہم بادشاہ کو یا اس کے بتوں کو رب یامعبود مانیں تو اس وقت ہم بہت بڑی زیادتی کی بات کہیں گے۔ {” شَطَطًا “} پر تنوین تعظیم کی ہے، کیونکہ شرک سے بڑھ کر نہ کوئی ظلم ہے نہ زیادتی۔ گویا یہ آیت اور سورۂ لقمان (۱۳) میں لقمان علیہ السلام کا قول: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» ہم معنی ہیں۔ {” اِذْ قَامُوْا “} کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جب انھوں نے اپنی قوم کے باطل عقائد و اعمال چھوڑنے کا پختہ عزم کر لیا اور توحید کی دعوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ تقریر کی جو آگے مذکور ہے۔
ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ﴿ؕ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) "یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے ہماری قوم جس نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ ان کی خدائی کی یہ کوئی صاف دلیل کیوں پیش نہیں کرتے اللہ پر جھوٹ افترا باندھنے والے سے زیاده ﻇالم کون ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند، تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہماری قوم ہے جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور خدا اپنا لئے ہیں، یہ لوگ ان کی خدائی پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ پس اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہماری قوم ہے، جنھوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لیے، یہ ان پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏‏‏‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏‏‏‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏‏‏‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏‏‏‏

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏‏‏‏ پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏‏‏‏ قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏‏‏‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) ➊ {هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً …: } انھوں نے صرف توحید کے اعلان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کے فعل کا رد بھی فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی دلیل کیوں نہیں پیش کرتے۔ معلوم ہوا یہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔ چند آیات جن میں مشرکین سے شرک کی دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، دیکھیے انعام (۱۴۸) اور احقاف (۴)۔ ➋ { فَمَنْ اَظْلَمُ …:} یعنی اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا محض جھوٹ ہے اور جو اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑا ظالم کون ہے؟
وَ اِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡ وٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُہَیِّیٔۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب جبکہ تم ان سے اور اِن کے معبودانِ غیر اللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سر و سامان مہیا کر دے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ تم ان سے اور اللہ کے سوا ان کے اور معبودوں سے کناره کش ہوگئے تو اب تم کسی غار میں جا بیٹھو، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تم ان سے اور جو کچھ وہ اللہ سوا پوجتے ہیں سب سے الگ ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنادے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (پھر آپس میں کہنے لگے) اب جب کہ تم نے ان لوگوں سے اور ان کے ان معبودوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں علیٰحدگی اختیار کر لی ہے تو غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت (کا سایہ) تم پر پھیلائے گا۔ اور تمہارے اس کام کے لئے سروسامان مہیا کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تم ان سے الگ ہو چکے اور ان چیزوں سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں تو کسی غار کی طرف (جاکر) پناہ لے لو، تمھارا رب تمھارے لیے اپنی کچھ رحمت کھول دے گا اور تمھارے لیے تمھارے کام میں کوئی سہولت مہیا کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏‏‏‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏‏‏‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏‏‏‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏‏‏‏

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏‏‏‏ پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏‏‏‏ قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏‏‏‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
16۔ 1 یعنی جب تم نے اپنی قوم کے معبودوں سے کنارہ کشی کرلی ہے، تو اب جسمانی طور پر بھی ان سے علیحدگی اختیار کرلو۔ یہ اصحاب کہف نے آپس میں کہا۔ چناچہ اس کے بعد وہ ایک غار میں جا چھپے، جب ان کے غائب ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو تلاش کیا گیا، لیکن وہ اسی طرح ناکام رہے، جس طرح نبی کی تلاش میں کفار مکہ غار ثور تک پہنچ جانے کے باوجود، جس میں آپ حضرت ابوبکر کے ساتھ موجود تھے، ناکام رہے تھے۔
(آیت 16) ➊ { وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ …:” مِرْفَقًا “” اَلْاِرْتِفَاقُ“} کا معنی فائدہ اٹھانا ہے، یعنی کوئی سہولت، آسانی۔ ان کی قوم اور بادشاہ میں سے کسی نے ان کی دعوت قبول نہ کی تو انھوں نے مشورہ کیا کہ جب تم ان لوگوں سے اور ان کے معبودوں سے علیحدہ ہو چکے تو اب یہاں رہ کر جان یا ایمان بچانا مشکل ہے، اس لیے کسی پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لے لو۔ رہا کھانا پینا اور دوسری ضروریات زندگی تو جب تم اپنے رب کی راہ میں ہجرت کر رہے ہو تو وہ خود اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گا اور ہر معاملے میں تمھارے لیے آسانی مہیا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی اس کا وعدہ فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۰۰) باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرکے وہ ایک پہاڑ کے کھلے غار میں جا بیٹھے، نیند غالب آئی تو سو گئے۔معلوم ہوا کہ جب معاشرے میں رہ کر دین پر عمل ممکن نہ رہے تو ہجرت کے لیے پہاڑ ہی بہترین مقام ہیں، چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُوْشِكُ أَنْ يَّكُوْنَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِيْنِهِ مِنَ الْفِتَنِ ] [ بخاري، الإیمان، باب من الدین الفرار من الفتن: ۱۹، عن أبي سعید الخدری رضی اللہ عنہ ] ”قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال چند بکریاں ہوں گی، جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات کے پیچھے پھرتا رہے گا، اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا۔“ جب کفار مکہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ طے کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تین راتیں غار ثور میں چھپے رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفار سے محفوظ رکھا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۴۰)۔ ➋ بعض لوگوں نے اس سے عزلت یعنی لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنے کا استدلال کیا ہے، حالانکہ اصحابِ کہف نے کفار سے علیحدگی اختیار کی، اپنوں سے نہیں، بلکہ آپس میں تو وہ اکٹھے ہی رہے۔ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔(قاسمی)
وَ تَرَی الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ کَہۡفِہِمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَ اِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ ہُمۡ فِیۡ فَجۡوَۃٍ مِّنۡہُ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرۡشِدًا ﴿٪۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ دیکھیں گے کہ آفتاب بوقت طلوع ان کے غار سے دائیں جانب کو جھک جاتا ہے اور بوقت غروب ان کے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وه اس غار کی کشاده جگہ میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی رہبری فرمائے وه راه راست پر ہے اور جسے وه گمراه کردے ناممکن ہے کہ آپ اس کا کوئی کارساز اور رہنما پاسکیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں میں ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ غار اس طرح واقع ہوئی ہے کہ) تم دیکھوگے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں طرف مڑ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا کر نکل جاتا ہے۔ اور وہ ایک کشادہ جگہ پر (سوئے ہوئے) ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک (نشانی) ہے جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے تو تم اس کے لئے کوئی یار و مددگار اور راہنما نہیں پاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے تو ان کی غار سے دائیں طرف کنارہ کر جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس (غار) کی کھلی جگہ میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے، پھر تو اس کے لیے ہرگز کوئی رہنمائی کرنے والا دوست نہ پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غار اور سورج کی شعائیں ٭٭

یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس غار کا منہ شمال رخ ہے۔ سورج کے طلوع کے وقت ان کے دائیں جانب دھوپ کی چھاؤں جھک جاتی ہے پس دوپہر کے وقت وہاں بالکل دھوپ نہیں رہتی۔ سورج کی بلندی کے ساتھ ہی ایسی جگہ سے شعاعیں دھوپ کی کم ہوتی جاتی ہیں اور سورج کے ڈوبنے کے وقت دھوپ ان کے غار کی طرف اس کے دروازے کے شمال رخ سے جاتی ہے مشرق کی جانب سے۔ علم ہیئت کے جاننے والے اسے خوب سمجھ سکتے ہیں، جنہیں سورج چاند اور ستاروں کی چال کا علم ہے۔ اگر غار کا دروازہ مشرق رخ ہوتا تو سورج کے غروب کے وقت وہاں دھوپ بالکل نہ جاتی اور اگر قبلہ رخ ہوتا تو سورج کے طلوع کے وقت دھوپ نہ پہنچتی اور نہ غروب کے وقت پہنچتی اور نہ سایہ دائیں بائیں جھکتا اور اگر دروازہ مغرب رخ ہوتا تو بھی سورج نکلنے کے وقت اندر دھوپ نہ جا سکتی بلکہ زوال کے بعد اندر پہنچتی اور پھر برابر مغرب تک رہتی۔ پس ٹھیک بات وہی ہے جو ہم بیان نے کی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «تَّقْرِضُهُمْ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ترک کرنے اور چھوڑ دینے کے کئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتا دیا تاکہ ہم اسے سوچیں سمجھیں اور یہ نہیں بتایا کہ وہ غار کس شہر کے کس پہاڑ میں ہے اس لیے کہ ہمیں اس سے کوئی فائدہ نہیں، نہ اس سے کسی شرعی مقصد کا حصول ہوتا ہے۔ پھر بھی بعض مفسرین نے اس میں تکلیف اٹھائی ہے، کوئی کہتا ہے وہ ایلہ کے قریب ہے، کوئی کہتا ہے نینویٰ کے پاس ہے، کوئی کہتا ہے روم میں ہے، کوئی کہتا ہے بلقا میں ہے۔ اصل علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ کہاں ہے۔ اگر اس میں کوئی دینی مصلحت یا ہمارا کوئی مذہبی فائدہ ہوتا تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمیں بتا دیتا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بیان کرا دیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تمہیں جو جو کام اور چیزیں جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والی تھیں ان میں سے ایک بھی ترک کئے بغیر میں نے بتا دی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت بیان فرما دی اور اس کی جگہ نہیں بتائی۔ فرما دیا کہ سورج کے طلوع کے وقت ان کے غار سے وہ دائیں جانب جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت انہیں بائیں طرف چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اس سے فراخی میں ہیں، انہیں دھوپ کی تپش نہیں پہنچتی ورنہ ان کے بدن اور کپڑے جل جاتے۔ یہ اللہ کی ایک نشانی ہے کہ رب نے انہیں اس غار میں پہنچایا جہاں انہیں زندہ رکھا، دھوپ بھی پہنچے، ہوا بھی جائے، چاندنی بھی رہے تاکہ نہ نیند میں خلل آئے نہ نقصان پہنچے۔ فی الواقع اللہ کر طرف سے یہ بھی کامل نشان قدرت ہے۔ ان نوجوانوں موحدوں کی ہدایت خود اللہ نے کی تھی، یہ راہ راست پا چکے تھے، کسی کے بس میں نہ تھا کہ انہیں گمراہ کر سکے اور اس کے برعکس جسے وہ راہ نہ دکھائے اس کا ہادی کوئی نہیں۔
17۔ 1 یعنی سورج طلوع کے وقت دائیں جانب کو اور غروب کے وقت بائیں جانب کو کترا کر نکل جاتا اور یوں دونوں وقتوں میں ان پر دھوپ نہ پڑتی، حالانکہ وہ غار میں کشادہ جگہ پر محو استراحت تھے۔ فجوۃ کے معنی ہیں کشادہ جگہ۔ 17۔ 2 یعنی سورج کا اس طرح نکل جانا کہ باوجود کھلی جگہ ہونے کے وہاں دھوپ نہ پڑے، اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ 17۔ 3 جیسے دقیانوس بادشاہ اور اس کے پیروکار ہدایت سے محروم رہے تو کوئی انھیں راہ یاب نہیں کرسکا۔
(آیت 17) ➊ {وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ …:} یعنی ان کے غار کا منہ شمال کی طرف تھا، جب سورج چڑھتا تو دھوپ دائیں طرف ہو جاتی اور غروب کے وقت بائیں طرف ہو جاتی تھی۔ ان کے بدن غار کے کشادہ حصے میں سورج کی تیز شعاؤں سے محفوظ تھے۔ ➋ { مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ: ”هُوَ“} معرفہ کے بعد خبر {” الْمُهْتَدِ “} بھی معرفہ ہے، اس سے حصر کا معنی حاصل ہوا، یعنی جسے اللہ سیدھی راہ پر چلائے سو وہی سیدھی راہ پانے والا ہے، جیسا کہ اصحابِ کہف کو ایمان کی نعمت، پھر اعلان حق کی ہمت، پھر ہجرت کی توفیق اور غار میں جانے کا راستہ عطا فرمایا، جہاں زندہ رہنے کے لیے دھوپ اور ہوا کی جس مقدار میں ضرورت تھی موجود تھی اور وہ لوگوں کی نگاہوں اور دشمن کی دسترس سے بھی محفوظ رہے۔
وَ تَحۡسَبُہُمۡ اَیۡقَاظًا وَّ ہُمۡ رُقُوۡدٌ ٭ۖ وَّ نُقَلِّبُہُمۡ ذَاتَ الۡیَمِیۡنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ ٭ۖ وَ کَلۡبُہُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَیۡہِ بِالۡوَصِیۡدِ ؕ لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَیۡہِمۡ لَوَلَّیۡتَ مِنۡہُمۡ فِرَارًا وَّ لَمُلِئۡتَ مِنۡہُمۡ رُعۡبًا ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ خیال کرتے کہ وه بیدار ہیں، حاﻻنکہ وه سوئے ہوئے تھے، خود ہم ہی انہیں دائیں بائیں کروٹیں دﻻیا کرتے تھے، ان کا کتا بھی چوکھٹ پر اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر آپ جھانک کر انہیں دیکھنا چاہتے تو ضرور الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور ان کے رعب سے آپ پر دہشت چھا جاتی
احمد رضا خان بریلوی
اور تم انھیں جاگتا سمجھو اور وہ سوتے ہیں اور ہم ان کی داہنی بائیں کروٹیں بدلتے ہیں اور ان کا کتا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر اے سننے! والے اگر تو انہیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم انہیں دیکھو تو خیال کرو کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلواتے رہتے ہیں اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے اگر تم انہیں جھانک کر دیکھو تو تم الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہو۔ اور تمہارے دل میں دہشت سما جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو انھیں جاگتے ہوئے خیال کرے گا، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم دائیں اور بائیں ان کی کروٹ پلٹتے رہتے ہیں اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے۔ اگر تو ان پر جھانکے تو ضرور بھاگتے ہوئے ان سے پیٹھ پھیر لے اور ضرور ان کے خوف سے بھر دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایک آنکھ بند ایک کھلی ٭٭

یہ سو رہے ہیں لیکن دیکھنے والا انہیں بیدار سمجھتا ہے کیونکہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں۔ مذکور ہے کہ بھیڑیا جب سوتا ہے تو ایک آنکھ بند رکھتا ہے، ایک کھلی ہوتی ہے۔ پھر اسے بند کر کے اسے کھول دیتا ہے، چنانچہ کسی شاعر نے کہا ہے۔ «ینام باحدی مقلتیہ ویتقی» «باخری الرزایا فہو یقطان نائم» جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں اور دشمنوں سے بچانے کے لیے تو اللہ نے نیند میں بھی ان کی آنکھیں کھلی رکھی ہیں اور زمین نہ کھا جائے، کروٹیں گل نہ جائیں اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں کروٹیں بدلوا دیتا ہے، کہتے ہیں سال بھر میں دو مرتبہ کروٹ بدلتے ہیں۔ ان کا کتا بھی انگنائی میں دروازے کے پاس مٹی میں چوکھٹ کے قریب بطور پہریدار کے بازو زمین پر ٹکائے ہوئے بیٹھا ہوا ہے، دروازے کے باہر اس لیے ہے کہ جس گھر میں کتا، تصویر، جنبی اور کافر شخص ہو اس گھر میں فرشتے نہیں جاتے۔ جیسے کہ ایک حسن حدیث میں وارد ہوا ہے۔ [سنن ابوداود:227،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کتے کو بھی اسی حالت میں نیند آ گئی ہے۔ سچ ہے بھلے لوگوں کی صحبت بھی بھلائی پیدا کرتی ہے دیکھئیے نا اس کتے کی کتنی شان ہو گئی کہ کلام اللہ میں اس کا ذکر آیا۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی کا یہ شکاری کتا پلا ہوا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بادشاہ کے باورچی کا یہ کتا تھا۔ چونکہ وہ بھی ان کے ہم مسلک تھے، ان کے ساتھ ہجرت میں تھے، ان کا کتا ان کے پیچھے لگ گیا تھا۔ واللہ اعلم۔

کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں ذبیح اللہ علیہ السلام کے بدلے جو مینڈھا ذبح ہوا اس کا نام جریر تھا۔ سلیمان علیہ السلام کو جس ہدہد نے ملکہ سبا کی خبر دی تھی اس کا نام عنز تھا اور اصحاب کہف کے اس کتے کا نام قطمیر تھا اور بنی اسرائیل نے جس بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی اس کا نام بہموت تھا۔ آدم علیہ السلام بہشت بریں سے ہند میں اترے تھے، حواء جدہ میں، ابلیس دشت بیسان میں اور سانپ اصفہان میں۔ ایک قول ہے کہ اس کتے کا نام حمران تھا۔ نیز اس کتے کے رنگ میں بھی بہت سے اقوال ہیں، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ اس سے کیا نتیجہ؟ کیا فائدہ؟ کیا ضرورت؟ بلکہ عجب نہیں کہ ایسی بحثیں ممنوع ہوں۔ اس لیے کہ یہ تو آنکھیں بند کر کے پتھر پھینکنا ہے، بے دلیل زبان کھولنا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں وہ رعب دیا ہے کہ کوئی انہیں دیکھ ہی نہیں سکتا۔ یہ اس لیے کہ لوگ ان کا تماشہ نہ بنا لیں، کوئی جرات کر کے ان کے پاس نہ چلا جائے، کوئی انہیں ہاتھ نہ لگا سکے۔ وہ آرام اور چین سے جب تک حکمت الٰہی مقتضی ہے، باآرام سوتے رہیں۔ جو انہیں دیکھتا ہے، مارے رعب کے کلیجہ تھر تھرا جاتا ہے۔ اسی وقت الٹے پیروں واپس لوٹتا ہے، انہیں نظر بھر کر دیکھنا بھی ہر ایک کے لیے محال ہے۔
18۔ 1 ایقاظ، یقظ کی جمع اور رقود راقد کی جمع ہے وہ بیدار اس لئے محسوس ہوتے تھے کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوتی تھیں، جس طرح جاگنے والے شخص کی ہوتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں زیادہ کروٹیں بدلنے کی وجہ سے وہ بیدار نظر آتے تھے۔ 18۔ 2 تاکہ ان کے جسموں کو مٹی نہ کھاجائے۔ 18۔ 3 یہ ان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام تھا تاکہ کوئی ان کے قریب نہ جاسکے۔
(آیت 18) ➊ { وَ تَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ:اَيْقَاظًا “} جمع ہے {”يَقِظٌ“} کی اور {” رُقُوْدٌ “} جمع ہے {”رَاقِدٌ“} کی، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ تم انھیں دیکھو تو سمجھو گے کہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں، یعنی سوتے میں آنکھیں کھلی ہونے اور کروٹیں بدلنے کی وجہ سے تم انھیں جاگتے ہوئے سمجھو گے۔ اور ہم دائیں اور بائیں ان کی کروٹ بدلتے رہتے ہیں، تاکہ ایک ہی پہلو پر پڑے رہنے سے مٹی ان کے بدنوں کو نہ کھا جائے اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے، جیسے پہرا دے رہا ہے۔ ایک الگ تھلگ غار میں ان کا اس طرح لیٹا ہونا اور چوکھٹ پر کتے کا بیٹھا ہونا ایک ایسا دہشت ناک منظر پیش کرتا تھا کہ اگر کوئی شخص اندر جھانکنے کی کوشش بھی کرتا تو خوف کے مارے بھاگ کھڑا ہوتا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں ایک لمبی مدت تک آرام و سکون سے سلائے رکھنے کا انتظام تھا۔ ➋ کتے کے دہلیز پر بیٹھے رہنے اور غار میں نہ جانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيْرُ ] [ بخاری، اللباس، باب التصاویر: ۵۹۴۹ ] ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویر ہو۔“ البتہ کھیتی کے لیے، مویشیوں کی حفاظت کے لیے اور شکار کے لیے کتا رکھنے کی اجازت ہے۔
وَ کَذٰلِکَ بَعَثۡنٰہُمۡ لِیَتَسَآءَلُوۡا بَیۡنَہُمۡ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالُوۡا رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمۡ ہٰذِہٖۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ فَلۡیَنۡظُرۡ اَیُّہَاۤ اَزۡکٰی طَعَامًا فَلۡیَاۡتِکُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡہُ وَ لۡـیَؔ‍‍‍تَلَطَّفۡ وَ لَا یُشۡعِرَنَّ بِکُمۡ اَحَدًا ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ان میں سے ایک نے پوچھا "کہو کتنی دیر اس حال میں رہے؟"دوسروں نے کہا "شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے" پھر وہ بولے "اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لیے لائے اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہم نے انہیں جگا کر اٹھا دیا کہ آپس میں پوچھ گچھ کرلیں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ کیوں بھئی تم کتنی دیر ٹھہرے رہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن یا ایک دن سے بھی کم۔ کہنے لگے کہ تمہارے ٹھہرے رہنے کا بخوبی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اب تو تم اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر بھیجو وه خوب دیکھ بھال لے کہ شہر کا کون سا کھانا پاکیزه تر ہے، پھر اسی میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے آئے، اور وه بہت احتیاط اور نرمی برتے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے
احمد رضا خان بریلوی
اور یوں ہی ہم نے ان کو جگایا کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں ان میں ایک کہنے والا بولا تم یہاں کتنی دیر رہے، کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ ستھرا ہے کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (جس طرح انہیں اپنی قدرت سے سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں سوال و جواب کریں۔ چنانچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہوگے؟ دوسروں نے کہا ہم ایک دن ٹھہرے ہوں گے یا دن کا کچھ حصہ (پھر) بولے تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنا ٹھہرے؟ اچھا اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو۔ وہ (جا کر) دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاک و پاکیزہ ہے۔ تو وہ اس میں سے کچھ کھانا تمہارے لئے لائے۔ اور اسے چاہیے کہ ہوش و تدبر سے کام لے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم کتنی دیر رہے؟ انھوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، دوسروں نے کہا تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے جتنی مدت تم رہے ہو، پس اپنے میں سے ایک کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر کی طرف بھیجو، پس وہ دیکھے کہ اس میں کھانے کے لحاظ سے زیادہ ستھرا کون ہے، پھر تمھارے پاس اس سے کچھ کھانا لے آئے اور نرمی و باریک بینی کی کوشش کرے اور تمھارے بارے میں کسی کو ہرگز معلوم نہ ہونے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کے بعد زندگی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے، کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا۔ آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لیے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لیے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب چونکہ بھوک پیاس معلوم ہو رہی تھی اس لیے انہوں نے بازار سے سودا منگوانے کی تجویز کی۔ دام ان کے پاس تھے۔ جن میں سے کچھ راہ اللہ خرچ کئے تھے، کچھ موجود تھے۔ کہنے لگے کہ اسی شہر میں کسی کو دام دے کر بھیج دو، وہ وہاں سے کوئی پاکیزہ چیز کھانے پینے کی لائے یعنی عمدہ اور بہتر چیز جیسے آیت «وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ» [ 24- النور: 21 ] ‏‏‏‏ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی پاک نہ ہوتا اور آیت میں ہے «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى» [ 87- الأعلى: 14 ] ‏‏‏‏ وہ فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی کی۔ زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ مال کو طیب و طاہر کر دیتی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ مراد بہت سارا کھانا لانے سے ہے جیسے کھیتی کے بڑھ جانے کے وقت عرب کہتے ہیں «زکا الزرع» اور جیسے شاعر کا قول ہے «قبائلنا سبع وانتم ثلاثۃ» «واسبع ازکی من ثلاث واطیب» پس یہاں بھی یہ لفظ زیادتی اور کثرت کے معنی میں ہے۔ لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے اس لیے کہ اصحاب کہف کا مقصد اس قول سے حلال چیز کا لانا تھا۔ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔ کہتے ہیں کہ جانے والے کو بہت احتیاط برتنی چاہیئے، آنے جانے اور سودا خریدنے میں ہوشیاری سے کام لے۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں کی نگاہوں میں نہ چڑھے دیکھو ایسا نہ ہو کوئی معلوم کر لے۔ اگر انہیں علم ہو گیا تو پھر خیر نہیں۔ دقیانوس کے آدمی اگر تمہاری جگہ کی خبر پا گئے تو وہ طرح طرح کی سخت سزائیں تمہیں دیں گے کہ یا تو تم ان سے گھبرا کر دین حق چھوڑ کر پھر سے کافر بن جاؤ یا یہ کہ وہ انہی سزاؤں میں تمہارا کام ہی ختم کر دیں۔ اگر تم ان کے دین میں جا ملے تو سمجھ لو کہ تم نجات سے دست بردار ہو گئے پھر تو اللہ کے ہاں کا چھٹکارا تمہارے لیے محال ہو جائے گا۔
19۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے انھیں اپنی قدرت سے سلا دیا تھا، اسی طرح تین سو نو سال کے بعد ہم نے انھیں اٹھا دیا اور اس حال میں اٹھایا کہ ان کے جسم اسی طرح صحیح تھے، جس طرح تین سو سال قبل سوتے وقت تھے، اسی لئے آپس میں ایک دوسرے سے انہوں نے سوال کیا۔ 19۔ 2 گویا جس وقت وہ غار میں داخل ہوئے، صبح کا پہلا پہر تھا اور جب بیدار ہوئے تو دن کا آخری پہر تھا، یوں وہ سمجھے کہ شاید ہم ایک دن یا اس سے بھی کم، دن کا کچھ حصہ سوئے رہے۔ 19۔ 3 تاہم کثرت نوم کی وجہ سے وہ سخت تردد میں رہے اور بالآخر معاملہ اللہ کے سپرد کردیا کہ وہی صحیح مدت جانتا ہے۔ 19۔ 4 بیدار ہونے کے بعد، خوراک جو انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے، اس کا سر و سامان کرنے کی فکر لاحق ہوئی۔ 19۔ 5 احتیاط اور نرمی کی تاکید اسی اندیشے کے پیش نظر کی، جس کی وجہ سے وہ شہر سے نکل کر ایک ویرانے میں آئے تھے۔ اسے تاکید کی کہ کہیں اس کے روپے سے شہر والوں کو ہمارا علم نہ ہوجائے اور کوئی نئی افتاد ہم پر نہ آپڑے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
(آیت 20،19) ➊ {وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ …:} یعنی جیسے ہم نے انھیں ایک حیرت انگیز طریقے سے غار کے اندر سلایا تھا اسی طرح انھیں اٹھا دیا کہ ان کے جسم صحیح سالم تھے، ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں اور جب انھیں پتا چلے کہ وہ اتنی لمبی مدت سونے کے بعد بیدار ہوئے ہیں تو انھیں ہماری قدرت کا اور مردوں کو زندہ کرنے کا اپنی ذات میں عملی مشاہدہ ہو جائے، ان کا ایمان و یقین مزید مضبوط ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔ ➋ { قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ …:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں دن کے پہلے پہر داخل ہوئے تھے اور دن کے آخری حصے میں بیدار ہوئے۔ اس لیے اس سوال کے جواب میں کہ تم کتنی مدت یہاں ٹھہرے، کسی نے ایک دن اور کسی نے دن کا کچھ حصہ کہا، مگر جب غار کے اردگرد کا عالم بالکل ہی بدلا ہوا نظر آیا تو کہنے لگے، تمھارا رب زیادہ جانتا ہے کہ تم کتنی مدت ٹھہرے ہو۔“ ➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نہ پہلے سوال کرنے والے ولی کو وہاں ٹھہرنے کی مدت کا علم تھا، نہ دوسرے ولیوں کو، جب کہ کئی لوگ اپنے ائمہ اور اولیاء کو {”مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ“} (جو ہو چکا اور جو ہو گا) کا جاننے والا سمجھتے ہیں۔ ➍ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندے بھی بعض اوقات اندازے اور گمان سے کوئی بات کہہ دیتے ہیں، مگر ایسی بات میں وہ اصل علم اللہ کے حوالے کرنے سے غفلت نہیں کرتے۔ ➎ { فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ …:} غار میں ٹھہرنے کی مدت پر بحث کے بعد جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انھوں نے اصل مدت کے اندازے کے لیے اپنے کسی ایک ساتھی کو چاندی (کا سکہ) دے کر شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اسے چند باتوں کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ ایک یہ کہ کھانا لاتے وقت یہ دیکھ لے کہ شہر میں سب سے ستھرا کھانا کس کا ہے، اس سے تمھارے لیے کچھ کھانا لے آئے۔ {” اَزْكٰى “} کا معنی سب سے پاکیزہ، سب سے ستھرا ہے، اس میں کھانے کا حلال و طیب ہونا بھی شامل ہے اور سب سے صاف ستھرا ہونا بھی۔ معلوم ہوا کہ یہ نوجوان شہزادے تھے، یا امراء و وزراء کے چشم و چراغ تھے، جو شہر کے سب سے ستھرے ہوٹل سے کم پر راضی نہ تھے۔ دوسری بات یہ کہ نرمی اور باریک بینی کی کوشش کرے، کیونکہ سختی سے کام بگڑ جاتے ہیں اور باریک بینی اختیار نہ کرنے سے راز کھل جاتے ہیں اور مطلوبہ معلومات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ کوشش کا مفہوم {” وَ لْيَتَؔلَطَّفْ “} (باب تفعل) سے ظاہر ہو رہا ہے اور ”لطف“ کے مفہوم میں نرمی اور باریک بینی دونوں شامل ہیں۔ تیسری تاکید یہ کی کہ تمھارے بارے میں کسی کو ہر گز معلوم نہ ہونے دے۔ کیونکہ اگر مشرکین کو تمھارا پتا چل گیا تو وہ تمھیں سنگ سار کر دیں گے، یا جبراً تمھیں دوبارہ اپنے مشرکانہ دین میں واپس لے آئیں گے۔ ایسی صورت میں تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے، کیونکہ مشرکوں پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔
اِنَّہُمۡ اِنۡ یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ یَرۡجُمُوۡکُمۡ اَوۡ یُعِیۡدُوۡکُمۡ فِیۡ مِلَّتِہِمۡ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا توہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ کافر تم پر غلبہ پالیں تو تمہیں سنگسار کر دیں گے یا تمہیں پھر اپنے دین میں لوٹا لیں گے اور پھر تم کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکو گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اگر وہ تمہیں جان لیں گے تو تمہیں پتھراؤ کریں گے یا اپنے دین میں پھیر لیں گے اور ایسا ہوا تو تمہارا کبھی بھلا نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً اگر ان لوگوں کو تمہاری اطلاع ہوگئی تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا پھر (زبردستی) تمہیں اپنے دین کی طرف واپس لے جائیں گے اور اس طرح تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکوگے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ اگر تم پر قابو پالیں گے تو تمھیں سنگسار کر دیں گے، یا تمھیں دوبارہ اپنے دین میں لے جائیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کے بعد زندگی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے، کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا۔ آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لیے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لیے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب چونکہ بھوک پیاس معلوم ہو رہی تھی اس لیے انہوں نے بازار سے سودا منگوانے کی تجویز کی۔ دام ان کے پاس تھے۔ جن میں سے کچھ راہ اللہ خرچ کئے تھے، کچھ موجود تھے۔ کہنے لگے کہ اسی شہر میں کسی کو دام دے کر بھیج دو، وہ وہاں سے کوئی پاکیزہ چیز کھانے پینے کی لائے یعنی عمدہ اور بہتر چیز جیسے آیت «وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ» [ 24- النور: 21 ] ‏‏‏‏ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی پاک نہ ہوتا اور آیت میں ہے «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى» [ 87- الأعلى: 14 ] ‏‏‏‏ وہ فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی کی۔ زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ مال کو طیب و طاہر کر دیتی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ مراد بہت سارا کھانا لانے سے ہے جیسے کھیتی کے بڑھ جانے کے وقت عرب کہتے ہیں «زکا الزرع» اور جیسے شاعر کا قول ہے «قبائلنا سبع وانتم ثلاثۃ» «واسبع ازکی من ثلاث واطیب» پس یہاں بھی یہ لفظ زیادتی اور کثرت کے معنی میں ہے۔ لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے اس لیے کہ اصحاب کہف کا مقصد اس قول سے حلال چیز کا لانا تھا۔ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔ کہتے ہیں کہ جانے والے کو بہت احتیاط برتنی چاہیئے، آنے جانے اور سودا خریدنے میں ہوشیاری سے کام لے۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں کی نگاہوں میں نہ چڑھے دیکھو ایسا نہ ہو کوئی معلوم کر لے۔ اگر انہیں علم ہو گیا تو پھر خیر نہیں۔ دقیانوس کے آدمی اگر تمہاری جگہ کی خبر پا گئے تو وہ طرح طرح کی سخت سزائیں تمہیں دیں گے کہ یا تو تم ان سے گھبرا کر دین حق چھوڑ کر پھر سے کافر بن جاؤ یا یہ کہ وہ انہی سزاؤں میں تمہارا کام ہی ختم کر دیں۔ اگر تم ان کے دین میں جا ملے تو سمجھ لو کہ تم نجات سے دست بردار ہو گئے پھر تو اللہ کے ہاں کا چھٹکارا تمہارے لیے محال ہو جائے گا۔
20۔ 1 یعنی آخرت کی جس کامیابی کے لئے ہم نے صعوبت، مشقت برداشت کی، ظاہر بات ہے کہ اگر اہل شہر نے ہمیں مجبور کرکے پھر آبائی دین کی طرف لوٹا دیا، تو ہمارا اصل مقصد ہی فوت ہوجائے گا، ہماری محنت بھی برباد جائے گی اور ہم نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آ کر رہے گی (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے کچھ لوگوں نے کہا "اِن پر ایک دیوار چن دو، ان کا رب ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے" مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا " ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اس طرح لوگوں کو ان کے حال سے آگاه کر دیا کہ وه جان لیں کہ اللہ کا وعده بالکل سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ جب کہ وه اپنے امر میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے کہنے لگے کہ ان کے غار پر ایک عمارت بنا لو۔ ان کا رب ہی ان کے حال کا زیاده عالم ہے۔ جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وه کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں، جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کیا تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچھا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ (بستی والے) لوگ ان (اصحافِ کہف) کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے (کہ کیا کیا جائے؟) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ ان کے معاملات پر غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد (عبادت گاہ) بنائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان پر مطلع کر دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انھوں نے کہا ان پر ایک عمارت بنا دو۔ ان کا رب ان سے زیادہ واقف ہے، وہ لوگ جو ان کے معاملے پر غالب ہوئے انھوں نے کہا ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوبارہ جینے کی حجت ٭٭

ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر آگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی، جسم کا اعادہ نہ ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کر دی اور عینی دلیل دے دی۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں، سارا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ اس شہر کا نام افسوس تھا۔ زمانے گزر چکے تھے، بستیاں بدل چکی تھیں، صدیاں بیت گئی تھیں اور یہ تو اپنے نزدیک یہی سمجھے ہوئے تھے کہ ہمیں یہاں پہنچے ایک آدھ دن گزرا ہے۔ یہاں انقلاب زمانہ اور کا اور ہو چکا تھا، جیسے کسی نے کہا ہے۔ «اما الدیار فانہا کدیارہم» «واری رجال الحی غیر رجالہ»

گھر گو انہی جیسے ہیں لیکن قبیلے کے لوگ تو سب اور ہی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ نہ تو شہر کی کوئی چیز اپنے حال پر ہے، نہ شہر کا کوئی بھی رہنے والا جان پہچان کا ہے، نہ یہ کسی کو جانیں نہ انہیں اور کوئی پہچانے۔ تمام عام خاص اور ہی ہیں۔ یہ اپنے دل میں حیران تھا۔ دماغ چکرا رہا تھا کہ کل شام ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئے ہیں، یہ دفعتا ہو کیا گیا؟ ہر چند سوچتا تھا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔ آخر خیال کرنے لگا کہ شاید میں مجنوں ہو گیا ہوں یا میرے حواس ٹھکانے نہیں رہے یا مجھے کوئی مرض لگ گیا ہے یا میں خواب میں ہوں۔ لیکن فوراً ہی یہ خیالات ہٹ گئے مگر کسی بات پر تسلی نہ ہو سکی اس لیے ارادہ کر لیا کہ مجھے سودا لے کر اس شہر کو جلد چھوڑ دینا چاہیئے۔ ایک دکان پر جا کر اسے دام دئیے اور سودا کھانے پینے کا طلب کیا۔ اس نے اس سکے کو دیکھ کر سخت تر تعجب کا اظہار کیا اپنے پڑوسی کو دیا کہ دیکھنا یہ سکہ کیا ہے؟ کب کا ہے؟ کسی زمانے کا ہے؟ اس نے دوسرے کو دیا اس سے کسی اور نے دیکھنے کو مانگ لیا۔ الغرض وہ تو ایک تماشہ بن گیا، ہر زبان سے یہی نکلنے لگا کہ اس نے کسی پرانے زمانے کا خزانہ پایا ہے، اس میں سے یہ لایا ہے اس سے پوچھو یہ کہاں کا ہے؟ کون ہے؟ یہ سکہ کہاں سے پایا؟

چنانچہ لوگوں نے اسے گھیر لیا مجمع لگا کر کھڑے ہو گئے اور اوپر تلے ٹیڑھے ترچھے سوالات شروع کر دئے۔ اس نے کہا میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں، کل شام کو میں یہاں سے گیا ہوں، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے۔ اب تو سب نے قہقہہ لگا کر کہا، بھئی یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا اس سے سوالات ہوئے اس نے تمام حال کہہ سنایا، اب ایک طرف بادشاہ اور دوسرے سب لوگ متحیر ایک طرف سے خود ششدر و حیران۔ آخر سب لوگ ان کے ساتھ ہوئے۔ اچھا ہمیں اپنے اور ساتھی دکھاؤ اور اپنا غار بھی دکھا دو۔ یہ انہیں لے کر چلے غار کے پاس پہنچ کر کہا تم ذرا ٹھیرو میں پہلے انہیں جا کر خبر کر دوں۔ ان کے الگ ہٹتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پر بے خبری کے پردے ڈال دئے۔ انہیں نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں گیا؟ اللہ نے پھر اس راز کو مخفی کر لیا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ یہ لوگ مع بادشاہ کے گئے، ان سے ملے، سلام علیک ہوئی، بغلگیر ہوئے۔ یہ بادشاہ خود مسلمان تھا، اس کا نام تندوسیس تھا۔ اصحاب کہف ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور محبت و انسیت سے ملے جلے، باتیں کیں، پھر واپس جا کر اپنی اپنی جگہ لیٹے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر لیا، رحمہم اللہ اجمعین۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، وہاں انہوں نے روم کے شہروں میں ایک غار دیکھا، جس میں ہڈیاں تھیں، لوگوں نے کہا یہ ہڈیاں اصحاب کہف کی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین سو سال گزر چکے کہ ان کی ہڈیاں کھوکھلی ہو کر مٹی ہو گئیں [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہو جائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے، لڑ جھگڑ رہے تھے، بعض قیامت کے قائل تھے، بعض منکر تھے۔ پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لیے دلیل بن گیا۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کر دیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جنہیں سرداری حاصل تھی، انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنا لیں گے۔ امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قائل کلمہ گو تھے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [ حدیث ] ‏‏‏‏ «لَعَنَ اللَّه الْيَهُود وَالنَّصَارَى اِتَّخَذُوا قُبُور أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِد» اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحیح بخاری:435] ‏‏‏‏ جو انہوں نے کیا، اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کر دیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کر دیا جائے۔
21۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے سلایا اور جگایا، اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کردیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ آگاہی اس طرح ہوئی جب اصحاب کہف کا ایک ساتھی چاندی کا سکہ لے کر شہر گیا، جو تین سو سال قبل کے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا تھا اور وہ سکہ اس نے ایک دکاندار کو دیا، تو وہ حیران ہوا، اس نے ساتھ والی دکان والے کو دکھایا، وہ دیکھ کر حیران ہوا، جب کہ اصحاب کہف کا ساتھی یہ کہتا رہا کہ میں اس شہر کا باشندہ ہوں اور کل ہی یہاں سے گیا ہوں، لیکن اس ' کل ' کو تین صدیاں گزر چکی تھیں، لوگ کس طرح اس کی بات مان لیتے؟ لوگوں کو شبہ گزرا کہ کہیں اس شخص کو مدفون خزانہ ملا ہو۔ یہ بات بادشاہ یا حاکم مجاز تک پہنچی اور اس ساتھی کی مدد سے وہ غار تک پہنچا اور اصحاب کہف سے ملاقات کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر وفات دے دی (ابن کثیر) 21۔ 2 یعنی اصحاب کہف کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے وقوع اور بعث بعد الموت کا وعدہ الٰہی سچا ہے، منکرین کے لئے اس واقعہ میں اللہ کی قدرت کا ایک نمونہ موجود ہے۔ 21۔ 3 اذ یا تو ظرف ہے اعثرنا کا، یعنی ہم نے انھیں اس وقت ان کے حال سے آگاہ کیا، جب وہ بعث بعد الموت یا واقعہ قیامت کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ 21۔ 4 یہ کہنے والے کون تھے، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت کے اہل ایمان تھے، بعض کہتے ہیں بادشاہ اور اس کے ساتھی تھے، جب جاکر انہوں نے ملاقات کی اور اس کے بعد اللہ نے انھیں پھر سلا دیا، تو بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ان کی حفاظت کے لئے ایک عمارت بنادی جائے۔ 21۔ 5 جھگڑا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی بابت صحیح علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ 21۔ 6 یہ غلبہ حاصل کرنے والے اہل ایمان تھے یا اہل کفر و شرک؟ شوکانی نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر نے دوسری رائے کو۔ کیونکہ صالحین کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا اللہ کو پسند نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لعن اللہ الیھود والنصٓاری اتخذوا قبور انبیائھم وصٓالحیھم مساجد۔ البخاری۔ مسلم۔ اللہ تعالیٰ بہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے پیغمبروں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا، حضرت عمر کی خلافت میں عراق میں حضرت دانیال ؑ کی قبر دریافت ہوئی تو آپ نے حکم دیا کہ اسے چھپا کر عام قبروں جیسا کردیا جا‏ئے تاکہ لوگوں کے علم میں نہ آئے کہ فلاں قبر فلاں پیغمبر کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر۔
(آیت 21) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ …:} یعنی جس طرح ہم نے انھیں ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقے سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہر والوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کر دیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے اور واقعہ کی صورت خود بخود بھی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے، لوگوں کی تہذیب، رہن سہن، زبان اور لباس ہر چیز بدل چکی ہے، اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہو گیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھانا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکاندار کو بلایا، بالآخر کچھ لوگ جمع ہو گئے اور انھیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں فلاں بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا، اس لیے اصحابِ کہف کو دیکھنے اور انھیں سلام کرنے کے لیے بادشاہ اور اس کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ شہر جانے والا ساتھی اندر داخل ہو گیا اور سارے ساتھی دوبارہ لیٹ گئے، اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کر لی۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وہاں تین سو نو (۳۰۹) سال ٹھہرنا بیان فرمایا ہے، اگر وہ اس کے بعد بھی زندہ ہوتے تو ان پر عمارت بنانے یا مسجد بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی کرامت دیکھنے والے خوش عقیدہ لوگ انھیں شہر لے جاتے اور ہر طرح ان کی خدمت بجا لاتے۔ ➋ اس آیت سے کئی ساتھیوں کا مال برابر جمع کرکے کھانے وغیرہ کے لیے اکٹھا خرچ کرنا ثابت ہوتا ہے، خواہ کوئی کم کھاتا ہو یا زیادہ اور یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنایا جا سکتا ہے۔ ➌ { لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ …:} یعنی ان پر مطلع ہونے والے شہر کے لوگوں کو یقین آ جائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ➍ {اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ …:} یعنی ہم نے شہر والوں کو ان پر اس وقت مطلع کیا جب وہ آپس میں اپنے معاملے میں جھگڑ رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ مر کر جی اٹھنا برحق ہے، کوئی اس کا انکار کرتا تھا، کوئی کہتا کہ حشر صرف روح کا ہو گا بدن کا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اصحابِ کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلا دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر بدن اور روح دونوں کا ہو گا۔ {”اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ “} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب شہر والے اصحابِ کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ یہ کون لوگ تھے؟ غار میں کب آئے؟ کتنی دیر سوئے رہے؟ اب ان کے مرنے پر ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ بعض نے کہا، ان پر دیوار بنا کر غار کا منہ بند کر دیں۔ بعض نے کہا، ان پر ایک عمارت ان کی یادگار کے طور پر بنا دیں۔ ➎ { رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ:} یعنی اصحابِ کہف اور شہر والوں کے احوال ان کا رب بہتر جانتا ہے۔ ➏ { قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ …:} جن لوگوں کے پاس غلبہ و اقتدار تھا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے اور اس طرح ان کی یاد گار کو باقی رکھیں گے۔ گزشتہ قوموں میں اسی راستے سے شرک داخل ہوتا رہا اور اب بھی شرک کے سب سے بڑے مراکز انھی قبروں پر تعمیر شدہ عمارتیں مثلاً خانقاہیں وغیرہ یا مسجدیں ہی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے: [ لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ] [ بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد…: ۱۳۳۰۔ مسلم: ۵۲۹ ] ”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔“ جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے فوت ہونے سے پانچ دن پہلے سنا، آپ نے فرمایا: [ أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوْا يَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيْهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ، إِنِّيْ أَنْهَاكُمْ عَنْ ذٰلِكَ ] [ مسلم، المساجد، باب النہي عن بناء المساجد علی القبور…: ۵۳۲ ] ”جان لو! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے، سن لو کہ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں۔“ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سب سے بدتر مخلوق قرار دیا، فرمایا: [ فَأُولٰئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، الصلاۃ، باب ھل تنبش قبور مشرکي الجاھلیۃ …: ۴۲۷۔ مسلم: ۵۲۸، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ] ان احادیث میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے مراد ان کے پاس مسجدیں بنانا ہے، کیونکہ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے ان کے انبیاء و اولیاء کی قبروں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ بعض مسلمانوں نے یہ تکلف بھی ختم کرکے اپنے بزرگوں کی قبریں عین مسجدوں کے اندر بنانا شروع کر دیں۔ ان لوگوں کی کوئی مسجد کم ہی کسی نہ کسی قبر سے خالی نظر آئے گی، ان کے مولویوں نے اس بدترین فعل کے جواز کے لیے زیر تفسیر آیت کو دلیل بنا لیا، حالانکہ اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ ان کے غالب اور بااثر لوگوں نے یہ کہا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے درست کہا یا غلط، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُّجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُّقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُّبْنٰی عَلَيْهِ ] [ مسلم، الجنائز، باب النھي عن تجصیص القبر…:۹۷۰ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر چونا گچ (سیمنٹڈ) بنائی جائے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جائے۔“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ابو الہیاج الاسدی، علی رضی اللہ عنہ کے داماد فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: [ أَلاَ أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِیْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ ] [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹ ] ”کیا میں تمھیں اس کام پر مقرر نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا؟ وہ یہ ہے کہ کوئی مورتی نہ چھوڑ جسے تو مٹا نہ دے اور نہ کوئی اونچی قبر جسے تو برابر نہ کر دے۔“ اللہ کی حکمت دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبریں برابر کرنے پر اس شخص کو مقرر فرمایا جس کے نام لیواؤں نے سب سے زیادہ قبروں کو پختہ اور اونچا بنانا تھا، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
سَیَقُوۡلُوۡنَ ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ خَمۡسَۃٌ سَادِسُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ رَجۡمًۢا بِالۡغَیۡبِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَبۡعَۃٌ وَّ ثَامِنُہُمۡ کَلۡبُہُمۡ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِہِمۡ مَّا یَعۡلَمُہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلٌ ۬۟ فَلَا تُمَارِ فِیۡہِمۡ اِلَّا مِرَآءً ظَاہِرًا ۪ وَّ لَا تَسۡتَفۡتِ فِیۡہِمۡ مِّنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو
مولانا محمد جوناگڑھی
کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، غیب کی باتوں میں اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں، کچھ کہیں گے کہ وه سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ پس آپ ان کے مقدمے میں صرف سرسری گفتگو کریں اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بے دیکھے الاؤتکا (تیر تکا) بات اور کچھ کہیں گے سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی
علامہ محمد حسین نجفی
عنقریب کچھ لوگ کہہ دیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ کہہ دیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ اور بہت کم لوگوں کو ان کا علم ہے۔ سو ان کے بارے میں سوائے سرسری گفتگو کے لوگوں سے زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب وہ کہیں گے تین ہیں، ان کا چوتھا ان کا کتا ہے اور کہیں گے پانچ ہیں، ان کا چھٹا ان کا کتا ہے، بن دیکھے پتھر پھینکتے ہوئے اور کہیں گے سات ہیں، ان کا آٹھواں ان کا کتا ہے۔ کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے زیادہ واقف ہے، انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا، سو تو ان کے بارے میں سرسری بحث کے سوابحث نہ کر اور ان لوگوں میں سے کسی سے ان کے بارے میں فیصلہ طلب نہ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاف کہف کی تعداد ٭٭

لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف کر دیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بے نشانے کے پتھر ہیں کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں، نہ لگیں تو زوال نہیں۔ ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرمایا تردید نہیں کی۔ یعنی سات وہ آٹھواں ان کا کتا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات صحیح اور واقع میں یونہی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ علم اللہ کی طرف اسے لوٹا دیا جائے۔ ایسی باتوں میں کوئی صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے غور و خوض کرنا عبث ہے۔ جس بات کا علم ہو جائے، منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔

اس گنتی کا صحیح علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں انہیں میں سے ہوں، میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور یہی ہم نے پہلے لکھا تھا۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے۔ یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ یہ نو تھے۔ ان میں سے جو سب سے بڑے تھے ان کا نام مکسلمین تھا۔ اسی نے بادشاہ سے باتیں کی تھیں اور اسے اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی تھی۔ باقی کے نام یہ ہیں فحستلمین، تملیخ، مطونس، کشطونس، بیرونس، دنیموس، بطونس اور قابوس۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموماً وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں، کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔
22۔ 1 یہ کہنے والے اور ان کی مختلف تعداد بتلانے والے عہد رسالت کے مؤمن اور کافر تھے، خصوصاً اہل کتاب جو کتب آسمانی سے آگاہی اور علم کا دعویٰ رکھتے تھے۔ 22۔ 2 یعنی علم ان میں سے کسی کے پاس نہیں، جس طرح بغیر دیکھے کوئی پتھر مارے، یہ بھی اس طرح اٹکل پچو باتیں کر رہے ہیں۔ 22۔ 3 اللہ تعالیٰ نے صرف تین قول بیان فرمائے، پہلے وہ دو قولوں کو رَجْمَا بالْغَیْبِ (ظن وتخمین) کہہ کر ان کو کمزور رائے قرار دیا اور اس تیسرے قول کا ذکر اس کے بعد کیا، جس سے اہل تفسیر نے استدلال کیا ہے کہ یہ انداز اس قول کی صحت کی دلیل ہے اور فی الواقع ان کی اتنی ہی تعداد تھی (ابن کثیر) 22۔ 4 بعض صحابہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے میں بھی ان کم لوگوں میں سے ہوں جو یہ جانتے ہیں کہ اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی؟ وہ صرف سات تھے جیسا کہ تیسرے قول میں بتلایا گیا ہے (ابن کثیر) 22۔ 5 یعنی صرف ان ہی باتوں پر اکتفا کریں جن کی اطلاع آپ کو وحی کے ذریعے سے کردی گئی ہے۔ یا تعین عدد میں بحث و تکرار نہ کریں، صرف یہ کہہ دیں کہ اس تعین کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 22۔ 6 یعنی بحث کرنے والوں سے ان کی بابت کچھ نہ پوچھیں، اس لئے کہ جس سے پوچھا جائے، اس کو پوچھنے والے سے زیادہ علم ہونا چاہئے، جب کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس تو پھر بھی یقینی علم کا ایک ذریعہ وحی، موجود ہے، جب کہ دوسروں کے پاس ذہنی تصور کے سوا کچھ بھی نہیں۔
(آیت 22) ➊ {سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ …:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت اہل کتاب میں اور ان کے ذریعے سے مشرکین عرب میں اصحابِ کہف سے متعلق طرح طرح کی باتیں موجود تھیں، مگر مستند معلومات کسی کے پاس نہ تھیں۔ ➋ اصحابِ کہف کے ناموں کے بارے میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔ ناموں کی صراحت غالباً اسرائیلی کتب تواریخ سے ماخوذ ہے اور ان اسماء کے تلفظ میں بھی بہت اختلاف ہے، کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہو سکتا۔ (فتح الباری) پھر بعض لوگ ان ناموں کے خواص اور فائدے بیان کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے لیے ان کو لکھتے ہیں جو کسی صورت بھی صحیح نہیں، بلکہ اگر ”یا“ حرف ندا کے ساتھ لکھے جائیں، یا ان ناموں میں نفع پہنچانے یا نقصان سے بچانے کی تاثیر کا عقیدہ رکھا جائے تو صاف شرک ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس بارے میں بعض روایات بھی گھڑ لی گئی ہیں جو ابن عباس اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنھم کی طرف منسوب ہیں، مگر ان میں سے کوئی روایت بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما یا سلف صالحین سے ثابت نہیں۔ نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ان ناموں کے ساتھ علاج کی تردید کی ہے۔ ➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب یہ تو جانتے تھے کہ کسی زمانے میں یہ واقعہ ہوا ہے، مگر وہ اس کی حقیقت سے بے خبر تھے۔ اس لیے محض اٹکل سے اس کی تفصیلات بیان کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کے متعلق ان کے دو قول ذکر فرما کر ان کی تردید فرمائی، البتہ تیسرے قول کا ذکر فرما کر کہ وہ سات تھے، اس کی تردید نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا، کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے متعلق زیادہ جانتا ہے اور انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر اس بحث کے بے فائدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں سے سرسری بحث کے سوا کوئی بحث کریں، نہ ان کے متعلق ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں، کیونکہ ان کے پاس اس کا کچھ علم نہیں۔ اکثر اہل علم نے، جن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں، آخری قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس بات میں مختلف اقوال ہوں اسے بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اقوال ذکر کیے جائیں اور صحیح قول کی طرف اشارہ کر دیا جائے اور بحث کا فائدہ بھی بیان کیا جائے کہ اس سے کیا حاصل ہوا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تینوں باتیں بیان فرما دیں۔ (قاسمی ملخصاً)
وَ لَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہرگز ہرگز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے بارے میں کسی کتابی سے کچھ نہ پوچھو، اور ہر گز کسی بات کو نہ کہنا میں کل یہ کردوں گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ میں کل اسے ضرور کروں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں یہ کام کل ضرور کرنے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاف کہف کی تعداد ٭٭

لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف کر دیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بے نشانے کے پتھر ہیں کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں، نہ لگیں تو زوال نہیں۔ ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرمایا تردید نہیں کی۔ یعنی سات وہ آٹھواں ان کا کتا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات صحیح اور واقع میں یونہی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ علم اللہ کی طرف اسے لوٹا دیا جائے۔ ایسی باتوں میں کوئی صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے غور و خوض کرنا عبث ہے۔ جس بات کا علم ہو جائے، منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔

اس گنتی کا صحیح علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں انہیں میں سے ہوں، میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور یہی ہم نے پہلے لکھا تھا۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے۔ یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ یہ نو تھے۔ ان میں سے جو سب سے بڑے تھے ان کا نام مکسلمین تھا۔ اسی نے بادشاہ سے باتیں کی تھیں اور اسے اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی تھی۔ باقی کے نام یہ ہیں فحستلمین، تملیخ، مطونس، کشطونس، بیرونس، دنیموس، بطونس اور قابوس۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموماً وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں، کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24،23) ➊ { وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ …:} یہاں شان نزول میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحابِ کہف، روح اور ذو القرنین سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”میں تمھیں کل جواب دوں گا“ اور ”ان شاء اللہ“ نہ کہا، تو پندرہ (۱۵) دن وحی رکی رہی، پھر یہ آیت اتری: «وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ» ‏‏‏‏رازی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قاضی نے اسے کئی وجہوں سے بے کار قرار دیا ہے۔ قاسمی نے فرمایا کہ ان کی بات حق ہے، کیونکہ محمد بن اسحاق نے یہ روایت ایک مجہول شیخ سے بیان کی ہے، جیسا کہ ابن کثیر (اور طبری) میں اس کی سندیں موجود ہیں۔ (محاسن التاویل) ➋ اس آیت کا ایک معنی تو مشہور ہے کہ کسی کام کے متعلق یہ مت کہو کہ میں کل یہ کام کرنے والا ہوں، مگر اس کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ ضرور کہو، کیونکہ اللہ نے چاہا تو کام ہو گا، ورنہ نہیں۔ اس کی مثال سلیمان علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ انھوں نے کہا: [ لَأَطُوْفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلٰي مِائَةِ امْرَأَةٍ أَوْ تِسْعٍ وَّتِسْعِيْنَ، كُلُّهُنَّ يَأْتِيْ بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ، فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ، لَجَاهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُوْنَ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب من طلب الولد للجہاد: ۲۸۱۹ ] ”آج رات میں اپنی سو (۱۰۰) یا فرمایا ننانوے (۹۹) عورتوں کے پاس جاؤں گا اور ہر عورت ایک بیٹا جنے گی، جو جہاد فی سبیل اللہ کا شہ سوار ہو گا۔“ ان کے ایک ساتھی نے کہا: ”ان شاء اللہ کہیے۔“ مگر سلیمان علیہ السلام نے (مشغولیت وغیرہ کی وجہ سے) ان شاء اللہ نہ کہا، تو ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو حمل ہوا اور وہ بھی ادھورا بیٹا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو سب عورتوں کے بیٹے ہوتے جو شہ سوار ہوتے اور سب اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔“ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے نبی! کسی کام کے بارے میں (اپنی مرضی سے) یہ مت کہیے کہ کل میں یہ کام کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے، یعنی اللہ چاہے گا کہ آپ وہ کام کریں تو وہ آپ کو اجازت دے گا، پھر آپ اس کے اذن سے یہ کہہ سکتے ہیں۔ (قاسمی) یہ معنی {” اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ “ } الفاظ کے زیادہ قریب ہے اور سورۂ نجم کی آیات (۳، ۴): «وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى» ‏‏‏‏میں بھی یہی مفہوم ہے۔ ➌ { وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ:} یعنی جب بھول جائیں تو یاد آنے پر ”ان شاء اللہ“ کہہ لیں۔ یاد رہے کہ قسم کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ کہہ لے تو قسم پوری نہ کرنے پر کوئی کفارہ نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر قسم سے متصل ”ان شاء اللہ“ نہ کہے تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا، مگر یہ آیت دلیل ہے کہ اگر اس کا ارادہ ”ان شاء اللہ“ کہنے کا تھا مگر بھول کر نہیں کہہ سکا اور یاد آتے ہی اس نے کہہ لیا تو اس کا اعتبار ہو گا۔ مستدرک حاکم (۴؍۳۰۳، ح: ۷۸۳۳) میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مروی ہے کہ جب آد می کسی بات پر قسم کھا لے تو وہ ایک سال تک ”ان شاء اللہ“ کہہ سکتا ہے۔“ ابن قیم رحمہ اللہ نے مدارج السالکین میں فرمایا: ”یہ نسیان کی صورت میں ہے۔“ (محاسن التاویل ملخصاً){وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّيْ …:} اور کہہ دیجیے کہ مجھے اپنے رب سے امید ہے کہ وہ مجھے اصحابِ کہف کی خبر سے بھی قریب تر لوگوں کی ہدایت کا باعث بننے والی خبریں بتائے گا جن سے میری رسالت ثابت ہو گی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غیب کی بہت سی خبریں آپ کو بتائیں جن کی کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔
اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(تم کچھ نہیں کر سکتے) اِلّا یہ کہ اللہ چاہے اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو "امید ہے کہ میرا رب اِس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر ساتھ ہی انشاءاللہ کہہ لینا۔ اور جب بھی بھولے، اپنے پروردگار کی یاد کر لیا کرنا اور کہتے رہنا کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیاده ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے
احمد رضا خان بریلوی
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس سے نزدیک تو راستی کی راہ دکھائے،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر یہ کہ خدا چاہے (یعنی اس کے ساتھ انشاء اللہ کہا کرو) اور جب بھی بھول جائیں تو اپنے پروردگار کو یاد کریں۔ اور آپ کہہ دیجئے! کہ امید ہے کہ میرا پروردگار ایسی بات کی مجھے راہنمائی کرے جو رشد و ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔
عبدالسلام بن محمد
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر بھلائی کی ہدایت دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان شاء اللہ کہنے کا حکم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی ان شاءاللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہو گا؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کر لیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر [ ٧٢ ] ‏‏‏‏ تھیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہو گا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ اس وقت فرشتے نے کہا ان شاءاللہ کہہ مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا۔ اپنے ارادے کے مطابق وہ سب بیویوں کے پاس گئے، مگر سوائے ایک بیوی کے کسی کے ہاں بچہ نہ ہوا اور جس ایک کے ہاں ہوا بھی، وہ بھی آدھے جسم کا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو یہ ارادہ ان کا پورا ہوتا اور ان کی حاجت روائی ہو جاتی۔ اور یہ سب بچے جوان ہو کر راہ حق کے مجاہد بنتے۔ [صحیح بخاری:5242] ‏‏‏‏

اسی سورت کی تفسیر کے شروع میں اس آیت کا شان نزول بیان ہو چکا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا۔ ان شاءاللہ نہ کہا اس بنا پر پندرہ دن تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس حدیث کو پوری طرح ہم نے اس سورت کی تفسیر کے شروع میں بیان کر دیا ہے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ جب بھول جائے تب اپنے رب کو یاد کر، یعنی ان شاءاللہ کہنا اگر موقعہ پر یاد نہ آیا تو جب یاد آئے کہہ لیا کر۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو حلف کھائے کہ اسے پھر بھی ان شاءاللہ کہنے کا حق ہے گو سال بھر گزر چکا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کلام میں یا قسم میں ان شاءاللہ کہنا بھول گیا تو جب بھی یاد آئے کہہ لے، گو کتنی مدت گزر چکی ہو اور گو اس کا خلاف بھی ہو چکا ہو۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ اب اس پر قسم کا کفارہ نہیں رہے گا اور اسے قسم توڑنے کا اختیار ہے۔ یہی مطلب اس قول کا امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور یہی بالکل ٹھیک ہے۔ اسی پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کا کلام محمول کیا جا سکتا ہے، ان سے اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد ان شاءاللہ کہنا بھول جانا ہے۔ اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے، دوسرا کوئی تو اپنی قسم کے ساتھ ہی متصل طور پر ان شاءاللہ کہے تو معتبر ہے۔ یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جب کوئی بات بھول جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو کیونکہ بھول شیطانی حرکت ہے اور ذکر الٰہی یاد کا ذریعہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جائے کہ تجھے اس کا علم نہ ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لیا کر اور اس کی طرف توجہ کر تاکہ وہ تجھے ٹھیک بات اور ہدایت والی راہ بتا اور دکھا دے۔ اور بھی اقوال اس بارے میں مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
24۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی سے تین باتیں پوچھی تھیں، روح کی حقیقت کیا ہے اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کون تھے؟ کہتے ہیں کہ یہی سوال اس سورت کے نزول کا سبب بنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں کل جواب دونگا، لیکن اس کے بعد 15 دن تک جبرائیل وحی لے کر نہیں آئے۔ پھر جب آئے تو اللہ تعالیٰ نے انشاء اللہ کہنے کا یہ حکم دیا۔ آیت میں (غد) سے مراد مستقبل ہے یعنی جب بھی مستقبل قریب یا بعید میں کوئی کام کرنے کا عزم کرو تو انشاء اللہ ضرور کہا کرو۔ کیونکہ انسان کو تو پتہ نہیں کہ جس بات کا عزم کر رہا ہے، اس کی توفیق بھی اسے اللہ کی مشیت سے ملتی ہے یا نہیں۔ 24۔ 2 یعنی اگر کلام یا وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ، تو جس وقت یاد آجائے انشاء اللہ کہہ لیا کرو، یا پھر رب کو یاد کرنے کا مطلب، اس کی تسبیح وتحمید اور اس سے استفغار ہے۔ 24۔ 3 یعنی میں جس کا عزم ظاہر کر رہا ہوں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بہتر اور مفید کام کی طرف میری رہنمائی فرما دے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمۡ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَ ازۡدَادُوۡا تِسۡعًا ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو سال اور زیاده گزارے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر، ف۵۲)
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ لوگ غار میں رہے نو برس اوپر تین سو سال۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو (سال) زیادہ رہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔

پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اس کا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کوصحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتا دے وہ جان لیتا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو سال ٹھہرے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی کی قرأت مروی ہے۔ لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول تامل طلب ہے اس لیے کہ اہل کتاب کے ہاں شمسی سال کا رواج ہے اور وہ تین سو سال مانتے ہیں۔ تین سو نو کا ان کا قول نہیں، اگر ان ہی کا قول نقل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اور نو سال زیادہ کئے۔ بظاہر تو یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا ہے نہ کہ کسی کا قول بیان فرماتا ہے، یہی اختیار امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی روایت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت دونوں منقطع ہیں۔ پھر شاذ بھی ہیں، جمہور کی قرأت وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ پس وہ شاذ دلیل کے قابل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کی آواز کو خوب سن رہا ہے۔ ان الفاظ میں تعریف کا مبالغہ ہے، ان دونوں لفظوں میں مدح کا مبالغہ ہے یعنی وہ خوب دیکھنے سننے والا ہے۔ ہر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو سن رہا ہے۔ کوئی کام کوئی کلام اس سے مخفی نہیں، کوئی اس سے زیادہ سننے دیکھنے والا نہیں۔ سب کے عمل دیکھ رہا ہے، سب کی باتیں سن رہا ہے، خلق کا خالق، امر کا مالک وہی ہے۔ کوئی اس کے فرمان کو رد نہیں کر سکتا۔ اس کا کوئی وزیر اور مددگار نہیں، نہ کوئی شریک اور مشیر ہے۔ وہ ان تمام کمیوں سے پاک ہے، تمام نقائص سے دور ہے۔
25۔ 1 جمہور مفسرین نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے۔ شمسی حساب سے تین سو سال اور قمری حساب سے 39 سال بنتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ انھیں لوگوں کا قول ہے جو ان کی مختلف تعداد بتاتے ہیں، جس کی دلیل اللہ کا یہ قول ہے ' کہ اللہ ہی کو ان کے ٹھرے رہنے کا بخوبی علم ہے ' جس کا مطلب وہ مذکورہ مدت کی نفی لیتے ہیں۔ لیکن جمہور کی تفسیر کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یا کوئی اور اس بتلائی ہوئی مدت سے اختلاف کرے تو آپ ان سے کہہ دیں کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ جب اس نے تین سو نو سال مدت بتلائی ہے تو یہی صحیح ہے کیونکہ وہی جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت غار میں رہے؟
(آیت 25){وَ لَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ …:} بعض مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نو سالوں کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ اگر شمسی سال ہوں تو تین سو سال اور قمری ہوں تو ان کے ٹھہرنے کی مدت تین سو نو سال تھی۔ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو {”ثَلاَثَ مِائَةٍ وَ تِسْعَ سِنِيْنَ“} (یعنی تین سو نو سال) کہنا کافی بھی تھا اور مختصر بھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری کے اس فرق کی کوئی دلیل نہیں۔ نو سالوں کو الگ ذکر کرنے کی وجہ آیات کے فواصل (آخری الفاظ) ہیں، جن سے کلام میں حُسن پیدا ہوتا ہے اور بلاغت کے لحاظ سے قرآن کے الفاظ {” ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا “} کے درمیان اور {” ثَلاَثَ مِائَةٍ وَ تِسْعَ سِنِيْنَ “} کے درمیان فرق زمین و آسمان کا ہے۔ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ کبھی اختصار میں حُسن ہوتا ہے اور کبھی تطویل میں۔ اس لیے ان کے ٹھہرنے کی مدت تین سو نو سال ہی تھی، قمری سال تھے تو سب قمری اور شمسی تھے تو سب شمسی۔ تین سو شمسی اور تین سو نو قمری کی تفریق ایک ذہنی اُپج کے سوا کچھ نہیں۔ (محاسن التاویل)
قُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُوۡا ۚ لَہٗ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اَبۡصِرۡ بِہٖ وَ اَسۡمِعۡ ؕ مَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ ۫ وَّ لَا یُشۡرِکُ فِیۡ حُکۡمِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیں اللہ ہی کو ان کے ٹھہرے رہنے کی مدت کا بخوبی علم ہے، آسمانوں اور زمینوں کا غیب صرف اسی کو حاصل ہے وه کیا ہی اچھا دیکھنے سننے واﻻ ہے۔ سوائے اللہ کے ان کا کوئی مددگار نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب، وہ کیا ہی دیکھتا اور کیا ہی سنتا ہے اس کے سوا ان کا کوئی والی نہیں، اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنا رہے؟ تمام آسمانوں اور زمین کا (علمِ) غیب اسی کے لئے ہے وہ کتنا بڑا دیکھنے والا اور کتنا بڑا سننے والا ہے۔ اللہ کے سوا ان لوگوں کا کوئی سرپرست نہیں ہے اور نہ وہ کسی کو اپنے حکم میں شریک کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اللہ زیادہ جاننے والا ہے جتنی مدت وہ رہے، اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی باتیں ہیں، وہ کس قدر دیکھنے والا اور کس قدر سننے والا ہے، نہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔

پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اس کا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کوصحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتا دے وہ جان لیتا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو سال ٹھہرے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی کی قرأت مروی ہے۔ لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول تامل طلب ہے اس لیے کہ اہل کتاب کے ہاں شمسی سال کا رواج ہے اور وہ تین سو سال مانتے ہیں۔ تین سو نو کا ان کا قول نہیں، اگر ان ہی کا قول نقل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اور نو سال زیادہ کئے۔ بظاہر تو یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا ہے نہ کہ کسی کا قول بیان فرماتا ہے، یہی اختیار امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی روایت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت دونوں منقطع ہیں۔ پھر شاذ بھی ہیں، جمہور کی قرأت وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ پس وہ شاذ دلیل کے قابل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کی آواز کو خوب سن رہا ہے۔ ان الفاظ میں تعریف کا مبالغہ ہے، ان دونوں لفظوں میں مدح کا مبالغہ ہے یعنی وہ خوب دیکھنے سننے والا ہے۔ ہر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو سن رہا ہے۔ کوئی کام کوئی کلام اس سے مخفی نہیں، کوئی اس سے زیادہ سننے دیکھنے والا نہیں۔ سب کے عمل دیکھ رہا ہے، سب کی باتیں سن رہا ہے، خلق کا خالق، امر کا مالک وہی ہے۔ کوئی اس کے فرمان کو رد نہیں کر سکتا۔ اس کا کوئی وزیر اور مددگار نہیں، نہ کوئی شریک اور مشیر ہے۔ وہ ان تمام کمیوں سے پاک ہے، تمام نقائص سے دور ہے۔
26۔ 1 یہ اللہ کی صفت علم و خبر کی مذید وضاحت ہے
(آیت 26) ➊ {قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا …:} یعنی اگر اہل کتاب آپ سے اس مدت میں اختلاف کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کا علم تم سے زیادہ ہے، لہٰذا جو مدت اس نے بتائی ہے وہی صحیح ہے، تمھاری بات کا اعتبار نہیں۔ ➋ { لَهٗ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ …:} یہ اللہ کے {” اَعْلَمُ “} ہونے کی دلیل ہے کہ آسمانوں کا اور زمین کا غیب صرف اس کے پاس ہے۔ رہا دیکھنے اور سننے کے ذریعے سے علم تو وہ کس قدر دیکھنے والا اور کس قدر سننے والا ہے، اس پر تعجب تو ہو سکتا ہے، بیان میں نہیں آ سکتا۔ تو پھر اس کی بات درست ہے یا ان کی جو ان صفات سے خالی ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں کسی کو بھی شریک نہیں کرتا۔
وَ اتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ کِتَابِ رَبِّکَ ۚؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ۟ وَ لَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا ره، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے واﻻ نہیں تو اس کے سوا ہرگز ہرگز کوئی پناه کی جگہ نہ پائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) آپ کے پروردگار کی طرف کتاب (قرآن) کے ذریعہ سے جو وحی کی گئی ہے۔ اسے پڑھ سنائیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور آپ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تلاوت و تبلیغ ٭٭

اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [ 5-المائدة: 67 ] ‏‏‏‏ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّكَ اِلٰى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 28- القص: 85 ] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ تجھ سے تیرے منصب کی بابت قیامت کے دن ضرور سوال کرے گا۔ اللہ کا ذکر، اس کی تسبیح، حمد، بڑائ اور بزرگی بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھا رہا کر جو صبح شام یاد الٰہی میں لگے رہتے ہیں، خواہ وہ فقیر ہوں خواہ امیر، ‎خواہ رزیل ہوں خواہ شریف، خواہ قوی ہوں خواہ ضعیف۔

قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ چھوٹے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھا کریں جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب، ابن مسعود رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ اور ہماری مجلسوں میں بیٹھا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی درخواست رد کرنے کا حکم فرمایا جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [ 6- الانعام: 52 ] ‏‏‏‏ یعنی صبح شام یاد الٰہی کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ ہٹا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ہم چھ شخص غریب غرباء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، سعد بن ابی وقاص، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو آدمی اور رضی اللہ عنہم اتنے میں معزز مشرکین آئے اور کہنے لگے انہیں اپنی مجلس میں اس جرات کے ساتھ نہ بیٹھنے دو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جی میں کیا آیا؟ جو اس وقت آیت «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» اتری۔ [صحیح مسلم:2413] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف] ‏‏‏‏۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف] ‏‏‏‏

بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ایک صاحب سورۃ الکہف کی قرأت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان لوگوں کی مجلس ہے جہاں اپنے نفس کو روک کر رکھنے کا مجھے حکم الٰہی ہوا ہے۔ [مجمع الزوائد،167/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یا تو سورۃ الحج کی وہ تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الکہف کی۔ [مسند بزار،2636:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [ 20- طه: 131 ] ‏‏‏‏، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔
27۔ 1 ویسے تو یہ حکم عام ہے کہ جس چیز کی بھی وحی آپ کی طرف کی جائے، اس کی تلاوت فرمائیں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ لیکن اصحاب کہف کے قصے کے خاتمے پر اس حکم سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب کہف کے بارے میں لوگ جو چاہیں، کہتے پھریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں اپنی کتاب میں جو کچھ اور جتنا کچھ بیان فرما دیا ہے، وہی صحیح ہے، وہی لوگوں کو پڑھ کر سنا دیجئے، اس سے زیادہ دیگر باتوں کی طرف دھیان نہ دیجئے۔ 27۔ 2 یعنی اگر اسے بیان کرنے سے گریز و انحراف کیا، یا اس کے کلمات میں تغیر و تبدیلی کی کوشش کی، تو اللہ سے آپ کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن اصل مخاطب امت ہے۔
(آیت 27) ➊ { وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ:} یعنی اصحابِ کہف کے بارے میں جو بات آپ کو اس کتاب میں بتائی جا رہی ہے وہ بالکل کافی اور جامع مانع ہے۔ آپ اسی کو جوں کا توں پڑھ کر سناتے رہیے، یا یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے، یہی ان کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں۔ ➋ {لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَ لَنْ تَجِدَ …: ” مُلْتَحَدًا “} کا معنی التحاد کی جگہ ہے، جو {”لَحْدٌ“} سے باب افتعال ہے، جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ قبر کو بھی اسی لیے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف ہٹی ہوتی ہے۔ چنانچہ {” مُلْتَحَدًا “} سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں آدمی ایک طرف جا کر پناہ لے لے۔ یعنی اگر آپ کسی کی خاطر داری سے اس کتاب کی تبلیغ میں کوتاہی کریں گے، یا اس میں کوئی رد و بدل کریں گے تو آپ کو اس کے سوا کہیں پناہ نہ ملے گی۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۷) اور یونس (۱۵) یہ خطاب بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مقصود اہل کتاب اور کفار مکہ سب کو متنبہ کرنا ہے کہ تمھاری خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک کی کتاب میں کوئی رد و بدل کرنے والے نہیں۔ ➌ اس آیت پر اور بعض علمائے تفسیر کے قول کے مطابق اوپر کی آیت پر اصحابِ کہف کا قصہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں ان حالات پر تبصرہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ان دنوں مکہ میں درپیش تھے۔
وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کا سنگھار چاہو گے، اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)!) جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں آپ ان کی معیت پر صبر کریں۔ اور دنیا کی زینت کے طلبگار ہوتے ہوئے ان کی طرف سے آپ کی آنکھیں نہ پھر جائیں۔ اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل چھوڑ رکھا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے اس کی اطاعت نہ کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تلاوت و تبلیغ ٭٭

اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [ 5-المائدة: 67 ] ‏‏‏‏ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّكَ اِلٰى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 28- القص: 85 ] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ تجھ سے تیرے منصب کی بابت قیامت کے دن ضرور سوال کرے گا۔ اللہ کا ذکر، اس کی تسبیح، حمد، بڑائ اور بزرگی بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھا رہا کر جو صبح شام یاد الٰہی میں لگے رہتے ہیں، خواہ وہ فقیر ہوں خواہ امیر، ‎خواہ رزیل ہوں خواہ شریف، خواہ قوی ہوں خواہ ضعیف۔

قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ چھوٹے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھا کریں جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب، ابن مسعود رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ اور ہماری مجلسوں میں بیٹھا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی درخواست رد کرنے کا حکم فرمایا جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [ 6- الانعام: 52 ] ‏‏‏‏ یعنی صبح شام یاد الٰہی کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ ہٹا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ہم چھ شخص غریب غرباء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، سعد بن ابی وقاص، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو آدمی اور رضی اللہ عنہم اتنے میں معزز مشرکین آئے اور کہنے لگے انہیں اپنی مجلس میں اس جرات کے ساتھ نہ بیٹھنے دو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جی میں کیا آیا؟ جو اس وقت آیت «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» اتری۔ [صحیح مسلم:2413] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف] ‏‏‏‏۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف] ‏‏‏‏

بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ایک صاحب سورۃ الکہف کی قرأت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان لوگوں کی مجلس ہے جہاں اپنے نفس کو روک کر رکھنے کا مجھے حکم الٰہی ہوا ہے۔ [مجمع الزوائد،167/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یا تو سورۃ الحج کی وہ تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الکہف کی۔ [مسند بزار،2636:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [ 20- طه: 131 ] ‏‏‏‏، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔
28۔ 1 یہ وہی حکم ہے جو اس کے قبل سورة الا نعام۔ 52 میں گزر چکا ہے۔ مراد ان سے وہ صحابہ کرام ہیں جو غریب اور کمزور تھے۔ جن کے ساتھ بیٹھنا اشراف قریش کو گوارا نہ تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، میرے علاوہ بلال، ابن مسعود، ایک ہذلی اور دو صحابی اور تھے۔ قریش مکہ نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بات سنیں، نبی کے دل میں آیا کہ چلو شاید میری بات سننے سے ان کے دلوں کی دنیا بدل جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے منع فرما دیا (صحیح مسلم) 28۔ 2 یعنی ان کو دور کر کے آپ اصحاب شرف و اہل غنی کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں۔ 28۔ 3 فرطا، اگر افراط سے ہو تو معنی ہوں گے حد سے متجاوز اور اگر تفریط سے ہو تو معنی ہوں گے کہ ان کا کام تفریط پر مبنی ہے جس کا نتیجہ ضیاع اور ہلاکت ہے۔
(آیت 28){وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ:وَ لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ”عَدَا يَعْدُوْ“} (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، تجاوز نہ کریں تیری آنکھیں۔ یہ وہی حکم ہے جو اس سے پہلے سورۂ انعام (۵۲) میں گزر چکا ہے۔ مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جن کے پاس قریش کے چودھریوں کو بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے آپ سے کہا، ان لوگوں کو دور ہٹا دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ میں تھا، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک آدمی، بلال اور دو آدمی اور جن کا میں نام نہیں لیتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں آیا جو اللہ نے چاہا کہ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۵۲ ] ”اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں۔“ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب في فضل سعد بن أبي وقاص رضی اللہ عنہ: 2413/46 ] اس آیت میں بھی آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو روک کر رکھنے کا حکم ہے جن میں مذکورہ صفات پائی جاتی ہیں، کیونکہ ان صفات کی وجہ سے وہی اس قابل ہیں کہ آپ ان کے ساتھ رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آپ کی نگاہیں آگے مت بڑھیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت کا ارادہ رکھتے ہوں اور ایسے لوگوں کی بات مت مانیں جن کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔
وَ قُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ ۙ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِہِمۡ سُرَادِقُہَا ؕ وَ اِنۡ یَّسۡتَغِیۡثُوۡا یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالۡمُہۡلِ یَشۡوِی الۡوُجُوۡہَ ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ ؕ وَ سَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے توایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بری آرامگاہ!
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اعلان کردے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان ﻻئے اور جو چاہے کفر کرے۔ ﻇالموں کے لئے ہم نے وه آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ اگر وه فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو چہرے بھون دے گا، بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاه (دوزخ) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کہہ دیجئے کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ بے شک ہم نے ظالموں کیلئے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناطیں انہیں گھیر لیں گی اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا۔ جو چہروں کو بھون ڈالے گا کیا بری چیز ہے پینے کی۔ اور کیا بری آرام گاہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کہہ دے یہ حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، پھر جو چاہے سو ایمان لے آئے اور جو چاہے سو کفر کرے۔ بے شک ہم نے ظالموںکے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتوں نے انھیں گھیر رکھا ہے اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انھیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا پانی دیا جائے گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا، برا مشروب ہے اور بری آرام گاہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کی دیواریں ٭٭

جو کچھ میں اپنے رب کے پاس سے لایا ہوں وہی حق صدق اور سچائی ہے شک و شبہ سے بالکل خالی۔ اب جس کا جی چاہے مانے نہ چاہے نہ مانے۔ نہ ماننے والوں کے لیے آگ جہنم تیار ہے، جس کی چار دیواری کے جیل خانے میں یہ بے بس ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ جہنم کی چار دیواری کی وسعت چالیس چالیس سال کی راہ کی ہے [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور خود وہ دیواریں بھی آگ کی ہیں۔ اور روایت میں ہے، سمندر بھی جہنم ہے۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا، واللہ نہ اس میں جاؤں جب تک بھی زندہ رہوں اور نہ اس کا کوئی قطرہ مجھے پہنچے۔ [مسند احمد:223/4:ضعیف] ‏‏‏‏ «مُهْلِ» کہتے ہیں غلیظ پانی کو جیسے زیتون کے تیل کی تلچھٹ اور جیسے خون اور پیپ جو بے حد گرم ہو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ سونا پگھلایا جب وہ پانی جیسا ہو گیا اور جوش مارنے لگا فرمایا مھل کی مشابہت اس میں ہے۔ جہنم کا پانی بھی سیاہ ہے، وہ خود بھی سیاہ ہے، جہنمی بھی سیاہ ہیں۔ مھل سیاہ رنگ، بدبودار، غلیظ، گندگی، سخت گرم چیز ہے، چہرے کے پاس جاتے ہی کھال جھلسا دیتی ہے، منہ جلا دیتی ہے۔

مسند احمد میں ہے کافر کے منہ کے پاس جاتے ہی اس کے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں آ پڑے گی۔ [مسند احمد:70/3:ضعیف] ‏‏‏‏ قرآن میں ہے وہ پیپ پلائے جائیں گے بمشکل ان کے حلق سے اترے گی۔ چہرے کے پاس آتے ہی کھال جل کر گر پڑے گی، پیتے ہی آنتیں کٹ جائیں گی، ان کی ہائے وائے شور و غل پر یہ پانی انکو پینے کو دیا جائے گا۔ بھوک کی شکایت پر زقوم کا درخت دیا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اس طرح جسم چھوڑ کر اتر جائیں گی کہ ان کے پہچاننے والا ان کھالوں کو دیکھ کر بھی پہچان لے، پھر پیاس کی شکایت پر سخت گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا جو منہ کے پس پہنچتے ہی تمام گوشت کو بھون ڈالے گا۔ ہائے کیا برا پانی ہے۔ یہ وہ گرم پانی پلایا جائے گا، انکا ٹھکانہ، ان کی منزل، انکا گھر، ان کی آرام گاہ بھی نہایت بری ہے۔ جیسے اور آیت میں «اِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَــقَرًّا وَّمُقَامًا» [ 25- الفرقان: 66 ] ‏‏‏‏ وہ بڑی بری جگہ اور بے حد کٹھن منزل ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29) ➊ {وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ:الْحَقُّ “} پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا ہے۔ ➋ { فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ …:} یعنی مجھے تمھاری کوئی پروا نہیں، مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شامت لاؤ گے، میں مومنوں کو اپنی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔ ➌ { اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا:اَعْتَدْنَا “ } میں تاء اصلی ہے۔ {” لِلظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ ➍ {اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا …: ” سُرَادِقٌ “} وہ پردہ جو خیمے کے اردگرد لگایا جاتا ہے، یعنی قنات، جمع {”سُرَادِقَاتٌ“} (قاموس) {”اَلْمُهْلُ“ } پگھلی ہوئی دھات، وہ تانبہ ہو یا سیسہ وغیرہ اور نہایت گرم تیل کی تلچھٹ۔ {” مُرْتَفَقًا “} ظرف مکان ہے، ارتفاق کی جگہ، اصل اس کا یہ ہے کہ آدمی اپنی مرفق (کہنی) پر ٹیک لگا کر آرام کرتا ہے۔ جہنم کو آرام کی جگہ بطور طنز کہا ہے، ورنہ وہاں کہنی پر سر رکھ کر کیسے سو سکتا ہے۔ یعنی چاروں طرف آگ کی دیوار ہو گی، کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ یقینا ہم نیکوکار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سونے کے کنگن اور ریشمی لباس ٭٭

اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ہمیشگی والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہو گا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہو گا۔ یہ باآرام شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی اتکا ہے، ممکن ہے یہی مراد یہاں بھی ہو، چنانچہ حدیث میں ہے میں اتکا کر کے کھانا نہیں کھاتا۔ [صحیح بخاری:5398] ‏‏‏‏ اس میں بھی یہی دو قول ہیں، «أَرَائِكِ» جمع ہے «اَرِیْکَة» کی، تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورۃ الفرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا خَالِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [ 25-الفرقان: 75، 76 ] ‏‏‏‏۔ یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا، اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے۔
30۔ 1 قرآن کے انداز بیان کے مطابق جہنمیوں کے ذکر کے بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے تاکہ لوگوں کے اندر جنت حاصل کرنے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔
(آیت 31،30){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} ظالمین یعنی کفار کے بعد اہل ایمان اور ان کے اجر کا ذکر فرمایا۔ اس مفہوم کی آیات کہ جو اچھا عمل کرے ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے، کے لیے دیکھیے آل عمران (۱۷۱، ۱۹۵)۔
اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ یَلۡبَسُوۡنَ ثِیَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّ اِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّکِئِیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ؕ نِعۡمَ الثَّوَابُ ؕ وَ حَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿٪۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کے لیے سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہاں یہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے نرم وباریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے، وہاں تختوں کے اوپر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ کیا خوب بدلہ ہے، اور کس قدر عمده آرام گاه ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں وہ اس میں سونے کے کنگن بہنائے جایں گے اور سبز کپڑے کریب اور قناویز کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کی کیا ہی اچھی آرام کی جگہ،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہمیشگی کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی انہیں ان میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑے پہنیں گے اور وہ ان میں مسندوں پر گاؤ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہے ان کا ثواب اور کیا ہی اچھی ہے ان کی آرام گاہ۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں انھیں کچھ کنگن سونے کے پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور گاڑھے ریشم کے سبز کپڑے پہنیں گے، ان میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔ اچھا بدلہ ہے اور اچھی آرام گاہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سونے کے کنگن اور ریشمی لباس ٭٭

اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ہمیشگی والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہو گا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہو گا۔ یہ باآرام شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی اتکا ہے، ممکن ہے یہی مراد یہاں بھی ہو، چنانچہ حدیث میں ہے میں اتکا کر کے کھانا نہیں کھاتا۔ [صحیح بخاری:5398] ‏‏‏‏ اس میں بھی یہی دو قول ہیں، «أَرَائِكِ» جمع ہے «اَرِیْکَة» کی، تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورۃ الفرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا خَالِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [ 25-الفرقان: 75، 76 ] ‏‏‏‏۔ یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا، اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے۔
31۔ 1 زمانہ نزول قرآن اور اس سے ما قبل رواج تھا کہ بادشاہ، رؤسا سردران قبائل اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے پہنتے تھے، جس سے ان کی امتیازی حیثیت نمایاں ہوتی تھی۔ اہل جنت کو بھی سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے۔ 31۔ 2 سندس، باریک ریشم اور استبرق موٹا ریشم۔ دنیا میں مردوں کے لئے سونا اور ریشمی لباس ممنوع ہیں، جو لوگ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے دنیا میں ان محرمات سے اجتناب کریں گے، انھیں جنت میں یہ ساری چیزیں میسر ہونگی۔ وہاں کوئی چیز ممنوع نہیں ہوگی بلکہ اہل جنت جس چیز کی خواہش کریں گے، وہ موجود ہوگی۔ ولکم فیہا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون۔ جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب جنت میں موجود ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَیۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّ حَفَفۡنٰہُمَا بِنَخۡلٍ وَّ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا ﴿ؕ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنا دے جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور جنہیں کھجوروں کے درختوں سے ہم نے گھیر رکھا تھا اور دونوں کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے سامنے دو مردوں کا حال بیان کرو کہ ان میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)!) ان لوگوں کے سامنے ان دو شخصوں کی مثال پیش کریں کہ ہم نے ان میں سے ایک کو انگور کے دو باغ دے رکھے تھے اور انہیں کھجور کے درختوں سے گھیر رکھا تھا۔ اور ان کے درمیان کھیتی اگا دی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے لیے ایک مثال بیان کر، دو آدمی ہیں، جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ہم نے ان دونوں کو کھجور کے درختوں سے گھیر دیا اور دونوں کے درمیان کچھ کھیتی رکھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فخر و غرور ٭٭

[41-فصلت:50] ‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] ‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] ‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
32۔ 1 مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دو شخص کون تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے لئے بطور مثال ان کا تذکرہ کیا ہے یا واقعی دو شخص ایسے تھے؟ اگر تھے تو یہ بنی اسرائیل میں گزرے ہیں یا اہل مکہ میں تھے، ان میں ایک مومن اور دوسرا کافر تھا۔ 33۔ 2 جس طرح چار دیواری کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، اس طرح ان باغوں کے چاروں طرف کھجوروں کے درخت تھے، جو باڑ اور چار دیواری کا کام دیتے تھے۔ 32۔ 3 یعنی دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی جن سے غلہ جات کی فصلیں حاصل کی جاتی تھیں۔ یوں دونوں باغ غلے اور میووں کے جامع تھے۔
(آیت 33،32){ وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ …:} کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا، اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ چیزیں فخر کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہو سکتا ہے اور غنی فقیر۔ دنیا میں اگر فخر کی کوئی چیز ہے تو وہ ہے اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان فقراء کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر و مومن کی ایک مثال بیان فرمائی کہ دو آدمی تھے (ان کے نام یا زمانہ معلوم نہیں، نہ ہی اس میں کوئی فائدہ ہے) ان میں سے ایک کو، جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے تھے، جو بہت ہی خوب صورت اور نفع آور تھے۔ انگوروں کے باغوں کو کھجوروں نے گھیر رکھا تھا، دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی اور دونوں باغوں کے درمیان اللہ کے حکم سے نہر چل رہی تھی۔ باغوں اور کھیتوں کو پانی کی کوئی کمی نہ تھی، چنانچہ دونوں باغوں نے پوری پیدا وار دی اور کسی قسم کی کمی نہیں کی۔
کِلۡتَا الۡجَنَّتَیۡنِ اٰتَتۡ اُکُلَہَا وَ لَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡہُ شَیۡئًا ۙ وَّ فَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا ﴿ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی
مولانا محمد جوناگڑھی
دونوں باغ اپنا پھل خوب ﻻئے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کی اور ہم نے ان باغوں کے درمیان نہر جاری کر رکھی تھی
احمد رضا خان بریلوی
دونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی
علامہ محمد حسین نجفی
یہ دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے اور اس میں کچھ بھی کمی نہیں کی اور ہم نے ان کے درمیان (آبپاشی کیلئے) ایک نہر بھی جاری کر دی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
دونوں باغوں نے اپنا پھل دیا اور اس سے کچھ کمی نہ کی اور ہم نے دونوں کے درمیان ایک نہر جاری کر دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فخر و غرور ٭٭

[41-فصلت:50] ‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] ‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] ‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
33۔ 1 یعنی اپنی پیداوار میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے بلکہ بھرپور پیداوار دیتے تھے۔ 33۔ 2 تاکہ باغوں کو سیراب کرنے میں کوئی رکاوٹ واقع نہ ہو۔ یا بارانی علاقوں کی طرح بارش کے محتاج نہ رہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَنَا اَکۡثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
الغرض اس کے پاس میوے تھے، ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیاده مالدار اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیاده مضبوط ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ پھل رکھتا تھا تو اپنے ساتھی سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا۔ (ایک دن گھمنڈ میں آکر) اس نے اپنے (غریب) ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میں مال کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ (مالدار) ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تجھ سے زیادہ طاقتور ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کے لیے بہت سا پھل تھاتو اس نے اپنے ساتھی سے، جب اس سے باتیں کررہا تھا، کہا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور نفری کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فخر و غرور ٭٭

[41-فصلت:50] ‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] ‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] ‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
34۔ 1 یعنی باغوں کے مالک نے، جو کافر تھا، اپنے ساتھیوں سے کہا جو مومن تھا۔ 34۔ 2 نَفَر (جتھے) سے مراد اولاد اور نوکر چاکر ہیں۔
(آیت 34){وَ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ …: ” ثَمَرٌ “ } کی تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی اس کے علاوہ بھی اس کے پاس بہت سا پھل تھا یا بہت نفع تھا، کیونکہ نفع کو بھی ثمر کہہ لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے کہ کھیتوں اور باغوں کے علاوہ اس کی اولاد بھی بہت تھی۔ اس کی دلیل آگے مومن کا قول ہے: «اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًا» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۳۹ ] ”اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔“ دوسرا آدمی مومن تھا مگر نادار تھا، اب اس کافر نے فخر سے گفتگو کرتے ہوئے اسے کہا، میرے پاس تم سے مال بھی زیادہ ہے اور آدمی بھی، یعنی اولاد، نوکر چاکر اور دوست۔ الغرض! اس بے ایمان نے اپنے مال و جاہ کے بھروسے پر مومن بھائی پر فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لیے ساتھ لے چلا۔ (کبیر)
وَ دَخَلَ جَنَّتَہٗ وَ ہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا ﴿ۙ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ﻇلم کرنے واﻻ۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرسکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہوجائے
احمد رضا خان بریلوی
اپنے باغ میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (ایک دن) اپنے باغ میں داخل ہوا جبکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا (اور) کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، کہا میں گمان نہیں کرتا کہ یہ کبھی برباد ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فخر و غرور ٭٭

[41-فصلت:50] ‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] ‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] ‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 36،35){وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ …:} اپنی جان پر ظلم کرنے والا اس لیے کہ اس نے تین باتیں کہیں جو تینوں کفر ہیں، اگرچہ وہ رب تعالیٰ کے وجود کو مانتا تھا، جیسا کہ {” وَ لَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ “} سے ظاہر ہے۔ پہلی یہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا، حالانکہ اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو ہمیشہ سے یا ہمیشہ کے لیے باقی سمجھنا نری جہالت اور دہریت ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار اور ارادے کا انکار ہے، وہ جب چاہے کسی بھی چیز کو {”كُنْ“} کہہ کر فنا کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ میں قیامت کو قائم ہونے والی نہیں سمجھتا، حالانکہ یہ اللہ کی قدرت کا انکار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوبارہ بھی قادر ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر بالفرض میں اپنے رب کی طرف دوبارہ لے جایا گیا تومجھے یہاں سے بہتر جگہ ملے گی، کیونکہ یہ میرا حق ہے۔ دیکھیے حم السجدہ (۵۰) اور سورۂ مریم (۷۷) یہ اعمال کی جزا و سزا سے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و عدل سے انکار ہے اور مذکورہ تینوں باتیں کفر ہیں۔ (مہائمی)
وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ لَاَجِدَنَّ خَیۡرًا مِّنۡہَا مُنۡقَلَبًا ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیاده بہتر پاؤں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں خیال نہیں کرتا کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور اگر (بالفرض) میں کبھی اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا گیا تو اس (باغ) سے بہتر ٹھکانہ پاؤں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ میں قیامت کو گمان کرتا ہوں کہ قائم ہونے والی ہے اور واقعی اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقینا میں ضرور اس سے بہتر لوٹنے کی جگہ پاؤں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فخر و غرور ٭٭

[41-فصلت:50] ‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] ‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] ‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
36۔ 1 یعنی وہ کافر عجب اور غرور میں ہی مبتلا نہیں ہوا بلکہ اس کی مد ہوشی اور مستقبل کی حسین اور لمبی امیدوں نے اسے اللہ کی گرفت اور سزا کے عمل سے بالکل غافل کردیا۔ علاوہ ازیں اس نے قیامت کا ہی انکار کردیا، پھر مذاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیامت برپا ہوئی بھی تو وہاں بھی حسن انجام میرا مقدر ہوگا۔ جن کا کفر طغیان حد سے تجاوز کرجاتا ہے، وہ مست مئے پندار ہو کر ایسے ہی متکبرانہ دعوے کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔ حم السجدہ۔ اگر مجھے رب کی طرف لوٹایا گیا تو وہاں بھی میرے لیے اچھائیاں ہی ہیں۔ افرءیت الذی کفر بایتنا وقال لاوتین مالا وولدا۔ مریم۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور دعوی کیا کہ آخرت میں بھی مجھے مال و اولاد سے نوازا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَکَفَرۡتَ بِالَّذِیۡ خَلَقَکَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىکَ رَجُلًا ﴿ؕ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا "کیا تو کفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اس کے ساتھی نے اس سے اُلٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیا کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے اور پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھے اچھا خاصا مرد بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے ساتھی نے، جب کہ وہ اس سے باتیں کر رہا تھا، اس سے کہا کیا تو نے اس کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
37۔ 1 اس کی یہ باتیں سن کر اس کے مومن ساتھی نے اس کو وعظ و تبلیغ کے انداز میں سمجھایا کہ تو اپنے خالق کے ساتھ کفر کا ارتکاب کر رہا ہے جس نے تجھے مٹی اور قطرہ پانی سے پیدا کیا ابو البشر حضرت آدم ؑ چونکہ مٹی سے بنائے گئے تھے اس لیے انسانوں کی اصل مٹی ہی ہوئی، پھر قریبی سبب وہ نطفہ بنا جو باپ کی صلب سے نکل کر رحم مادر میں گیا وہاں نو مہینے اس کی پرورش کی پھر اسے پورا انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے نکالا بعض کے نزدیک مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب ہے کہ انسان جو خوراک کھاتا ہے وہ سب زمین سے یعنی مٹی سے ہی حاصل ہوتی ہے اسی خوراک سے وہ نطفہ بنتا ہے جو عورت کے رحم میں جا کر انسان کی پیدائش کا ذریعہ بنتا ہے یوں بھی ہر انسان کی اصل مٹی ہی قرار پاتی ہے ناشکرے انسان کو اس کی اصل یاد دلا کر اسے اس کے خالق اور رب کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تو اپنی حقیقت اور اصل پر غور کر اور پھر رب کے ان احسانات کو دیکھ کہ تجھے اس نے کیا کچھ بنادیا اور اس عمل تخلیق میں کوئی اس کا شریک اور مددگار نہیں ہے یہ سب کچھ کرنے والا صرف اور صرف وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کو ماننے کے لیے تو تیار نہیں ہے آہ، کس قدر یہ انسان ناشکرا ہے؟
(آیت 37){قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ …: ” تُرَابٍ “} اور {” نُطْفَةٍ “} کی تنوین تحقیر کے لیے ہے۔ اس کے مومن ساتھی نے، جسے وہ اپنے مال و جاہ پر فخر کرتے ہوئے فقر کا طعنہ دے رہا تھا، اس سے گفتگو کرتے ہوئے اسے جواب میں کفر کا طعنہ دیا اور کہا کیا تو نے اس ہستی سے کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے، پھر ایک قطرے سے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنا دیا۔ دیکھیے حج (۵)، بقرہ (۲۸) اور مومنون (۱۲ تا ۱۴) تفسیر وحیدی میں ہے: ”افسوس کہ اکثر مسلمان مال دار بھی اسی غرور میں مبتلا ہیں، مساکین بلکہ علماء و صلحاء تک کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں۔“
لٰکِنَّا۠ ہُوَ اللّٰہُ رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہا میں، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن میں تو عقیده رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے او ر میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
لیکن میں! تو میرا پروردگار تو وہی اللہ ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن میں، تو وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
38۔ 1 یعنی میں تیری طرح بات نہیں کروں گا بلکہ میں تو اللہ کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا ساتھی مشرک ہی تھا۔
(آیت 38) {لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ …: ” لٰكِنَّاۡ “} اصل میں {”لٰكِنْ أَنَا“} (لیکن میں) ہے، یعنی تم کفر کرتے ہو تو کرتے رہو، لیکن میں یہ ظلم کبھی نہیں کروں گا، بلکہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا ساتھی مشرک تھا۔ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کلمات سکھائے جنھیں میں پریشانی اور بے چینی کے وقت کہوں: [ اَللّٰهُ اَللّٰهُ رَبِّيْ لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ] [ أبوداوٗد، الوتر، باب في الاستغفار: ۱۵۲۵ ] ”اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بناتی (بناتا)۔“
وَ لَوۡ لَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَکَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ۚ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاءاللہ، لا قوة الّا باللہ؟ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے واﻻ ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے، اگر تو مجھے مال واوﻻد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ، ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور تو جب اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا؟ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور خدا کی قوت کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے)۔ اور اگر تو مجھے مال و اولاد میں (اپنے سے) کمتر دیکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو توُ نے یہ کیوں نہ کہا ’’جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘‘اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
39۔ 1 اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بتلاتے ہوئے کہا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت سرکشی اور غرور کا مظاہرہ کرنے کی بجائے یہ کہا ہوتا، مَا شَاَءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلّا باللّٰہِ یعنی جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، وہ چاہے تو اسے باقی رکھے اور چاہے تو فنا کر دے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ جس کو کسی کا مال، اولاد یا حال اچھا لگے تو اسے مَا شَاَءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِ لّا باللّٰہِ پڑھنا چاہیے (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 39){وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ …:} اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی کوئی چیز اچھی لگے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہییں: «‏‏‏‏مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: [ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! أَفَلاَ أَدُلُّكَ عَلٰی كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْشِ، قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاكَ أَبِيْ وَ أُمِّيْ، قَالَ أَنْ تَقُوْلَ لَا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللّٰهِ، قَالَ أَبُوْ بَلْجٍ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ يَقُوْلُ أَسْلَمَ عَبْدِيْ وَاسْتَسْلَمَ، قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو قَالَ أَبُوْبَلْجٍ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِيْ هُرَيْرَةَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ فَقَالَ: لَا إِنَّهَا فِيْ سُوْرَةِ الْكَهْفِ: «وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏] [ مسند أحمد:335/2، ح: ۸۴۴۷ ] ”اے ابوہریرہ! کیا میں تمھیں عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: ”ہاں! آپ پر میرے ماں باپ قربان!“ فرمایا: ”تم کہو {”لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ“} ابوبلج راوی کہتے ہیں، میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ مطیع ہو گیا اور اس نے اپنا آپ میرے سپرد کر دیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگرد نے پوچھا: {”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ“} تو انھوں نے فرمایا: ”نہیں، یہ کلمہ سورۂ کہف میں ہے: «‏‏‏‏وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏“ شعیب ارنؤوط نے کہا کہ یہ روایت عرش کے لفظ کے بغیر صحیح ہے۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ نے {”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ“} کی یہی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [بخاری، القدر، باب لا حول ولا قوۃ إلا باللہ: ۶۶۱۰ ] باقی وہ روایات جن میں یہ کلمات پڑھنے سے نظر بد یا کسی بھی نقصان سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔ (البانی) مگر ان کی فضیلت کے لیے آیت ہی کافی ہے۔
فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤۡتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَ یُرۡسِلَ عَلَیۡہَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا میدان بن جائے
احمد رضا خان بریلوی
تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان (سفید زمین) ہوکر رہ جائے
علامہ محمد حسین نجفی
تو قریب ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر (باغ) عطا فرمائے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں بھیج دے جس سے وہ چٹیل چکنا میدان بن کر رہ جائے۔
عبدالسلام بن محمد
تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کر دے اور اس پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل میدان ہو جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
40۔ 1 دنیا یا آخرت میں۔ یا دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں۔ 40۔ 2 حَسْبَان، غُفْرَان کے وزن پر۔ حساب سے ہے یعنی ایسا عذاب، جو کسی کے کرتوتوں کے نتیجے میں آئے۔ یعنی آسمانی عذاب کے ذریعے سے وہ محاسبہ کرلے۔ اور یہ جگہ جہاں اس وقت سرسبز و شاداب باغ ہے، چٹیل اور صاف میدان بن جائے۔
(آیت 41،40){” صَعِيْدًا “} میدان، {” زَلَقًا “} جس میں قدم پھسلتا ہو۔ اس مومن نے اپنے مغرور ساتھی سے کہا کہ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھتے ہو تو یہ کوئی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں، عین قریب ہے کہ میرا رب دنیا میں یا آخرت میں مجھے تمھارے باغ سے بہتر عطا کر دے اور تمھارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج کر زمین کو چٹیل میدان بنا دے جہاں قدم پھسلتا ہو، یا وہ چشمہ جس سے اس کی نہر نکلتی ہے، اس کا پانی گہرا چلا جائے اور تم کسی صورت اسے حاصل نہ کر سکو۔ دیکھیے سورۂ ملک کی آخری آیت۔
اَوۡ یُصۡبِحَ مَآؤُہَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تیرے بس میں نہ رہے کہ تو اسے ڈھونڈ ﻻئے
احمد رضا خان بریلوی
یا اس کا پانی زمین میں دھنس جائے پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے
علامہ محمد حسین نجفی
یا اس کا پانی اس طرح نیچے اتر جائے کہ تو کسی طرح بھی اسے حاصل نہ کر سکے۔
عبدالسلام بن محمد
یا اس کا پانی گہرا ہو جائے، پھر تو اسے کبھی تلاش نہ کر سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
41۔ 1 یا درمیان میں جو نہر ہے جو باغ کو شادابی اور زرخیزی کا باعث ہے، اس کے پانی کو اتنا گہرا کر دے کہ اس سے پانی کا حصول ہی ناممکن ہوجائے اور جہاں پانی زیادہ گہرائی میں چلا جائے تو پھر وہاں بڑے بڑے ہارس پاور کی موٹریں اور مشینیں بھی پانی کو اوپر کھینچ لانے میں ناکام رہتی ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اُحِیۡطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصۡبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیۡہِ عَلٰی مَاۤ اَنۡفَقَ فِیۡہَا وَ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُشۡرِکۡ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ "کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس کے (سارے) پھل گھیر لئے گئے، پس وه اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا اپنے ہاتھ ملنے لگا اور وه باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وه شخص) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
(چنانچہ) اس کے پھلوں کو گھیرے میں لے لیا گیا (ان پر آفت آگئی) تو اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر کفِ افسوس ملتا تھا اور وہ (باغ) اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا۔ اور وہ کہتا تھا کہ اے کاش کہ میں نے کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بنایا ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کف افسوس ٭٭

اس کا کل مال کل پھل غارت ہو گیا۔ وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا، وہی ہو کر رہی۔ اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا، ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فخر و غرور سب مٹ گیا، نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ «هُنَالِكَ» پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ اپنا انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض «مُنتَصِرًا» پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتداء کرتے ہیں، «وَلَايَةُ» کی دوسری قرأت «وِلَایَةُ» بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آ سکتا جیسے فرمان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [ 40- غافر: 84 ] ‏‏‏‏ یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الٰہی ٹھہرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ «حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 10-يونس: 91، 90 ] ‏‏‏‏ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں، اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [ 25- الفرقان: 26 ] ‏‏‏‏ میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [ 6- الانعام: 62 ] ‏‏‏‏۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
42۔ 1 یہ کنایہ ہے ہلاکت و فنا سے۔ یعنی سارا باغ ہلاک کر ڈالا۔ 42۔ 2 یعنی باغ کی تعمیر و اصلاح اور کاشتکاری کے اخراجات پر کف افسوس ملنے لگا۔ ہاتھ ملنا کنایہ، یہ ہے ندامت سے۔ 42۔ 3 یعنی جن چھتوں، چھپروں پر انگوروں کی بیلیں تھیں، وہ سب زمین پر آرہیں اور انگوروں کی ساری فصل تباہ ہوگئی۔ 42۔ 4 اب اسے احساس ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اس کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر اس کے احکام کا انکار کرنا اور اس کے مقابلے میں سرکشی، کسی طرح بھی ایک انسان کے لئے زیبا نہیں، لیکن اب حسرت و افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
(آیت 42){ وَ اُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ …:} لفظی معنی ہے اس کے پھل کو گھیر لیا گیا، یعنی سب مارا گیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا اس مومن نے کہا تھا کہ رات اللہ کی طرف سے کسی عذاب مثلاً طوفانی بارش، یا سردی کی شدید لہر، یا آگ لگنے سے اس کا سارا باغ برباد ہو گیا، انگور چھتوں سمیت گر گئے اور صبح ہوئی تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کی عجیب تصویر کھینچی ہے، کیونکہ جب یک لخت صدمہ پہنچتا ہے تو آدمی پہلے گنگ رہ جاتا ہے، پھر کچھ سنبھلتا ہے تو بات کرتا ہے، یہ مشرک بھی اپنے باغ کی حالت دیکھتے ہی اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیرنے لگا۔ اس سے دو صورتیں مراد ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ ایک دوسری پر ملنے لگا اور دوسری یہ کہ حسرت و افسوس سے الگ الگ ہی ان کو الٹ پلٹ کرنے لگا کہ ہائے ہائے! میں نے اس میں کس قدر رقم خرچ کی تھی، نفع کے بجائے اصل بھی گیا۔ اب اسے یاد آیا کہ مومن بھائی کی بات سچی تھی اور کہنے لگا، کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا، غرور و تکبر کی راہ سے اپنے نفس کی پیروی نہ کرتا، بلکہ بھائی کی بات مان لیتا اور اپنی ساری شان و شوکت کو اللہ ہی کا عطیہ سمجھتا۔
وَ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ مَا کَانَ مُنۡتَصِرًا ﴿ؕ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاؤ کرتی اور نہ وه خود ہی بدلہ لینے واﻻ بن سکا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اب اس کے پاس کوئی ایسا گروہ بھی نہیں تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ ہی وہ غالب اور بدلہ لینے کے قابل تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کے سوا اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتے اور نہ وہ (خود) بچنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کف افسوس ٭٭

اس کا کل مال کل پھل غارت ہو گیا۔ وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا، وہی ہو کر رہی۔ اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا، ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فخر و غرور سب مٹ گیا، نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ «هُنَالِكَ» پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ اپنا انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض «مُنتَصِرًا» پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتداء کرتے ہیں، «وَلَايَةُ» کی دوسری قرأت «وِلَایَةُ» بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آ سکتا جیسے فرمان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [ 40- غافر: 84 ] ‏‏‏‏ یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الٰہی ٹھہرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ «حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 10-يونس: 91، 90 ] ‏‏‏‏ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں، اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [ 25- الفرقان: 26 ] ‏‏‏‏ میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [ 6- الانعام: 62 ] ‏‏‏‏۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
43۔ 1 جس جتھے پر اس کو ناز تھا، وہ بھی اس کے کام نہیں آیا نہ وہ خود ہی اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی انتظام کرسکا
(آیت 43){وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ …: ” مُنْتَصِرًا “ } کا معنی انتقام لینے والا بھی ہے اور خود بچنے والا بھی، یعنی عذاب آیا تو اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتے، سوائے اللہ کے اور نہ وہ خود بچنے والا تھا۔ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ } کا ایک مطلب یہ ہے جو ترجمے میں گزرا۔ زمحشری اور کئی مفسرین نے یہی معنی کیا ہے، یعنی اس ”وقت اللہ کے سوا“ اسے کوئی بچانے والا نہ تھا، مگر اس کو وہ ناراض کر چکا تھا۔ {” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پھر ”اللہ کے مقابلے میں“ اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کو پہنچتا…۔ یہ معنی بھی کئی مفسرین نے کیا ہے۔ کسی بھی کافر کو جب یہ معاملہ پیش آتا ہے تو وہ اس وقت ہر طرف سے ناامید اور مجبور ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، مگر تب وقت گزر چکا ہوتا ہے اور اس کا ایمان اسے کچھ فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون غرق ہوتے وقت ایمان لے آیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے یونس (۹۰ تا ۹۲) انبیاء علیہم السلام کے مخالفین نے اللہ کا عذاب دیکھا تو کہنے لگے، ہم اللہ اکیلے پر ایمان لے آئے۔ (دیکھیے مومن: ۸۴) اور قارون کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے بعینہ یہ الفاظ فرمائے جو زیر تفسیر قصے والے شخص کے متعلق فرمائے، فرمایا: «فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [ القصص: ۸۱ ] ”تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں میں سے تھا۔“ مگر ان میں سے کسی کے ایمان نے اسے فائدہ نہ دیا۔
ہُنَالِکَ الۡوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الۡحَقِّ ؕ ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ عُقۡبًا ﴿٪۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہیں سے (ﺛابت ہے) کہ اختیارات اللہ برحق کے لئے ہیں وه ﺛواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت ہی بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں کھلتا ہے کہ اختیار سچے اللہ کا ہے، اس کا ثواب سب سے بہتر اور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا،
علامہ محمد حسین نجفی
(ثابت ہوا) کہ ہر قسم کا اختیار خدائے برحق کیلئے ہے۔ وہی بہتر ثواب دینے والا اور وہی بہترین انجام والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہاں ہر طرح کی مدد اللہ سچے کے اختیار میں ہے، وہ ثواب دینے میں بہتر اور انجام کی رو سے زیادہ اچھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کف افسوس ٭٭

اس کا کل مال کل پھل غارت ہو گیا۔ وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا، وہی ہو کر رہی۔ اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا، ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فخر و غرور سب مٹ گیا، نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ «هُنَالِكَ» پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ اپنا انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض «مُنتَصِرًا» پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتداء کرتے ہیں، «وَلَايَةُ» کی دوسری قرأت «وِلَایَةُ» بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آ سکتا جیسے فرمان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [ 40- غافر: 84 ] ‏‏‏‏ یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الٰہی ٹھہرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ «حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 10-يونس: 91، 90 ] ‏‏‏‏ میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں، اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [ 25- الفرقان: 26 ] ‏‏‏‏ میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [ 6- الانعام: 62 ] ‏‏‏‏۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
44۔ 1 ولایۃ۔ کے معنی موالات اور نصرت کے ہیں یعنی اس مقام پر ہر مومن و کافر کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کی مدد کرنے پر اور اس کے عذاب سے بچانے پر قادر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پھر اس موقع پر بڑے بڑے سرکش اور جبار بھی اظہار ایمان پر مجبور ہوجاتے ہیں، گو اس وقت کا ایمان نافع اور مقبول نہیں۔ جس طرح قرآن نے فرعون کی بابت نقل کیا ہے کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہنے لگا۔ امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمین۔ سورة یونس۔ میں اس اللہ پر ایمان لایا جس پر بنو اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ دوسرے کفار کی بابت فرمایا گیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہا ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن کو ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ان کا انکار کرتے ہیں سورة المومن۔ اگر ولایت واو کے کسرے کے ساتھ ہو تو پھر اس کے معنی حکم اور اختیارات کے ہیں جیسا کہ ترجمے میں یہی معنی اختیار کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر۔ 44۔ 2 یعنی وہی اپنے دوستوں کو بہتر بدلہ دینے والا اور حسن عاقبت سے مشرف کرنے والا ہے۔
(آیت 44) ➊ {هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ:هُنَالِكَ “} کا معنی اس وقت بھی ہے اور اس جگہ بھی، اس لیے دونوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ اس موقع پر کیا گیا ہے۔ {” الْوَلَايَةُ “} واؤ کے فتحہ کے ساتھ معنی ہے ”مدد “ اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ معنی ہے ”حکومت، اختیار“ یعنی اس موقع پر صرف اللہ سچے ہی کی مدد کار آمد ہو سکتی ہے، جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں گزرا۔ ➋ { هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ عُقْبًا:} اہل علم متفق ہیں کہ {”خَيْرٌ“} اور {”شَرٌّ“} دونوں اسم تفضیل ہیں، یعنی اصل میں {”اَخْيَرُ“} اور {”اَشَرُّ“} تھے، تخفیف کے لیے انھیں {”خَيْرٌ“} اور {”شَرٌّ“} کر دیا گیا۔ یعنی بدلہ دینے میں اللہ سب سے بہترہے، اس جیسا یا اس سے اچھا بدلہ کسی کے پاس نہیں اور اچھے انجام کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر ہے۔ اس کے عطا کردہ انجام جیسا انجام بھی کسی کے پاس نہیں۔ {” خَيْرٌ “} کا لفظ دوبارہ تاکید اور مبالغہ کے لیے ہے۔
وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ ہَشِیۡمًا تَذۡرُوۡہُ الرِّیٰحُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقۡتَدِرًا ﴿۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے نبیؐ! اِنہیں حیات دنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزه ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وه چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ ان لوگوں کے سامنے زندگانئ دنیا کی (ایک اور) مثال پیش کریں کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا تو اس سے زمین کی نباتات مل گئی (اور خوب پھلی پھولی) پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئی جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے لیے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کر، جیسے پانی، جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین کی نباتات خوب مل جل گئی، پھر وہ چورا بن گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حیات و موت کا نقشہ ٭٭

دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر جو اللہ قادر تھا، وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموماً دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورۃ یونس کی آیت «اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ» [ 10- یونس: 24 ] ‏‏‏‏ الخ میں اور جیسے سورۃ الزمر کی آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» [39-الزمر:21] ‏‏‏‏ الخ میں۔ اور جیسے سورۃ الحدید کی آیت «اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [ 57- الحديد: 20 ] ‏‏‏‏ میں۔ صحیح حدیث میں بھی ہے «الدُّنْيَا خَضِرَة حُلْوَة» دنیا سبز رنگ میٹھی ہے، الخ۔ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ جیسے فرمایا ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [ 6-الانعام: 14 ] ‏‏‏‏ انسان کے لیے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں، بیٹے، خزانے وغیرہ مزین کر دی گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ» [ 64- التغابن: 15 ] ‏‏‏‏ الخ، تمہارے مال، تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور [ دعا ] ‏‏‏‏ «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ، اور [ دعا ] ‏‏‏‏ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے غلام فرماتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے جو مؤذن پہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے پانی منگوایا، ایک برتن میں قریب تین پاؤ کے پانی آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کر کے فرمایا، حضور علیہ السلام نے اسی طرح وضو کر کے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کرے تو صبح سے لے کر ظہر تک کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر عصر میں بھی اسی طرح نماز پڑھ لی تو ظہر سے عصر تک کے تمام گناہ معاف، پھر مغرب کی نماز پڑھی تو عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی تو مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف پھر رات کو وہ سو رہا، صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی تو عشاء سے لے کے صبح تک کے گناہ معاف۔ یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا یہ تو ہوئیں نیکیاں، اب اے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما آپ بتلائیے کہ باقیات صالحات کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ [مسند احمد:71/1:صحیح] ‏‏‏‏

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں، باقیات صالحات یہ ہیں دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد عمارہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ بتاؤ باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اور روزہ۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم نے صحیح جواب نہیں دیا، انہوں نے کہا زکوٰۃ اور حج، فرمایا ابھی جواب ٹھیک نہیں ہوا۔ سنو وہ پانچ کلمے ہیں دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو آپ نے بجز «الحمدللہ» کے اور چار کلمات بتلائے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ بجز «لا حول» کے اور چاروں کلمات بتلاتے ہیں۔

حضرت حسن رحمہ اللہ اور قتادۃ رحمہ اللہ بھی ان ہی چاروں کلمات کو باقیات صالحات بتلاتے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ ہیں باقیات صالحات۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23100] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، باقیات صالحات کی کثرت کرو، پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا ملت، پوچھا گیا وہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل، تسبیح اور «الحمد للہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» [تفسیر ابن جریر الطبری:32102:ضعیف] ‏‏‏‏۔ حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے مولی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے سالم رحمہ اللہ نے محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم رحمہ اللہ سے کہہ دینا کہ فلاں قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں، مجھے ان سے کچھ کام ہے۔ چنانچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم رحمہ اللہ نے پوچھا، کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» اور «سبحان اللہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ رحمہ اللہ نے اس میں کب سے بڑھایا؟ قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں، دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو محمد بن کعب نے فرمایا، کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا، سنو میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، آپ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ اپنی امت سے فرما دیجئیے کہ وہ جنت میں اپنے لیے بہت کچھ باغات لگا لیں، اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا، وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے؟ فرمایا «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» بکثرت پڑھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23099:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے آسمان کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کر لیں، ہمیں خیال ہوا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ لوگو سن رکھو «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ [مسند احمد:267/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بے حد وزنی ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ» اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لیے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں، جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے، وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ [مسند احمد:443/3:حسن] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہا ایک سفر میں تھے کسی جگہ اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں۔ حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے اس وقت کہا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، واقعی میں نے غلطی کی۔ سنو اسلام لانے کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کوئی کلمہ اپنی زبان سے ایسا نہیں نکالا جو میرے لیے لگام بن جائے، بجز اس ایک کلمے کے، پس تم لوگ اسے یاد سے بھلا دو اور اب جو میں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ سونے چاندی کے جمع کرنے میں لگ جائیں، تم اس وقت ان کلمات کو بکثرت پڑھا کرو۔ دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك الثَّبَات فِي الْأَمْر وَالْعَزِيمَة عَلَى الرُّشْد وَأَسْأَلك شُكْر نِعْمَتك وَأَسْأَلك حُسْن عِبَادَتك وَأَسْأَلك قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلك لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلك مِنْ خَيْر مَا تَعْلَم وَأَعُوذ بِك مِنْ شَرّ مَا تَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك لِمَا تَعْلَم إِنَّك أَنْتَ عَلَّام الْغُيُوب» یعنی اے اللہ میں تجھ سے اپنے کام کی ثابت قدمی اور نیکی کے کام کا پورا قصد اور تیری نعمتوں کی شکر گزاری کی توفیق طلب کرتا ہوں اور تجھ سے دعا ہے کہ تو مجھے سلامتی والا دل اور سچی زبان عطا فرما، تیرے علم میں جو بھلائی ہے میں اس کا خواستگار ہوں اور تیرے علم میں جو برائی ہے، میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پروردگار ہر اس برائی سے میری توبہ ہے جو تیرے علم میں ہو، بیشک غیب داں صرف تو ہی ہے۔ سیدنا سعید بن جنادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّه أَحَد» اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتْ» سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ [ دعا ] ‏‏‏‏ «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ [طبرانی کبیر:5482:ضعیف] ‏‏‏‏

اس سند سے مروی ہے کہ جو شخص رات کو اٹھے، وضو کرے، کلی کرے پھر سو سو بار «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» پڑھے اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، بجز قتل و خون کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، باقیات صالحات ذکر اللہ ہے اور «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَتَبَارَكَ اللَّه وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ وَأَسْتَغْفِر اللَّه وَصَلَّى اللَّه عَلَى رَسُول اللَّه» ہے اور روزہ، نماز، حج، صدقہ، غلاموں کی آزادی، جہاد، صلہ رحمی اور کل نیکیاں یہ سب باقیات صالحات ہیں جن کا ثواب جنت والوں کو جب تک آسمان و زمین ہیں، ملتا رہتا ہے۔ فرماتے ہیں پاکیزہ کلام بھی اسی میں داخل ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل اعمال صالحہ اسی میں داخل ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسے مختار بتلاتے ہیں۔
45۔ 1 اس آیت میں دنیا کی بےثباتی اور ناپائداری کو کھیتی کی مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ کھیتی میں لگے پودوں اور درختوں پر جب آسمان سے بارش برستی ہے تو پانی سے ملکر کھیتی لہلہا اٹھتی ہے، پودے اور درخت حیات نو سے شاداب ہوجاتے ہیں۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے کہ کھیتی سوکھ جاتی ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یا فصل پک جانے کے سبب تو پھر ہوائیں اس کو اڑائے پھرتی ہیں۔ ہوا کا ایک جھونکا کبھی اسے دائیں اور کبھی بائیں جانب جھکا دیتا ہے۔ دنیا کی زندگی بھی ہوا کے ایک جھونکے یا اس پانی کے بلبلے یا کھیتی ہی کی طرح ہے، جو اپنی چند روزہ بہار دکھا کر فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ اور یہ سارے تصرفات اس ہستی کے ہاتھ میں ہیں جو ایک ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مثال قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان فرمائی ہے۔ (مثلًا (وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَار السَّلٰمِ ۭ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ) 10۔ یونس:25)، (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ) 39۔ الزمر:21) وغیرہا من الآیات)
(آیت 45){وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا …: ” هَشِيْمًا “} یہ {”فَعِيْلٌ“ } بمعنی {”مَفْعُوْلٌ“} ہے، یعنی چورا چورا کیا ہوا۔ {”تَذْرُوْهُ“ ”ذَرَا يَذْرُوْ“} (ن) ہواؤں کا اڑانا۔ {” مُقْتَدِرًا”قَدَرَ يَقْدِرُ“} سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، حروف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہو گیا، یعنی پوری قدرت رکھنے والا۔ یہ دنیا کی بے ثباتی کی ایک اور مثال ہے، یعنی دنیا کی مثال اس پانی کی سی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا، اس کے ساتھ زمین سے پودے اگے، پھر اتنے گھنے ہوگئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہایت خوب صورت منظر پیش کرنے لگے، جسے دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے، پھر وہ کھیتی پک کر زرد ہو گئی، پھر ایسی خشک ہوئی کہ ٹوٹ پھوٹ کر چورا ہو گئی۔ اسی طرح آسمان سے روح اتری، زمین سے بننے والے بدن سے مل کر انسان بڑھنا شروع ہو گیا، بچپن کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے جوانی آ گئی، ماں باپ جوان اولاد کو دیکھ کر کھل اٹھے، پھر تھوڑی ہی مدت بعد بڑھاپا آ گیا۔ اب اس نے فنا ہونا ہی ہونا ہے، جس طرح پکی ہوئی فصل کو پانی دیا جائے یا کھاد، اسے ریزہ ریزہ ہونا ہی ہے، اسی طرح بوڑھے کو مقوی غذا دی جائے یا کشتے، اس نے قبر میں جا کر مٹی کے ذرات میں بدلنا ہی ہے۔ پھر کئی پودے اگتے ہی اکھاڑ لیے جاتے ہیں، کئی سرسبز پودے جوبن پر کاٹ لیے جاتے ہیں، پھر اگر کوئی حادثہ پیش نہ آئے تو پکنے پر کاٹ لیے جاتے ہیں، یا خود ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان کوئی بچپن میں، کوئی جوانی یا ادھیڑ عمر میں فوت ہو جاتے ہیں، اگر یہ مدت خیریت سے گزر جائے تو بڑھاپے کے بعد یہاں رہنے کا معاملہ ہر حال میں ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے تمام مرحلوں کے درمیان ”فاء تعقیب“ رکھی، یعنی {” فَاخْتَلَطَ “} اور {” فَاَصْبَحَ “} یعنی یہ مرحلے ایک دوسرے کے پیچھے جلد از جلد آتے چلے جاتے ہیں۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے یونس (۲۴)، زمر (۲۱) اور حدید (۲۰)۔
اَلۡمَالُ وَ الۡبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ اَمَلًا ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مال واوﻻد تو دنیا کی ہی زینت ہے، اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ﺛواب اور (آئنده کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی،
علامہ محمد حسین نجفی
مال اور اولادِ زندگانی دنیا کی (ہنگامی) زیب و زینت ہیں اور (دراصل) باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے پروردگار کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میںبہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حیات و موت کا نقشہ ٭٭

دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر جو اللہ قادر تھا، وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموماً دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورۃ یونس کی آیت «اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ» [ 10- یونس: 24 ] ‏‏‏‏ الخ میں اور جیسے سورۃ الزمر کی آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» [39-الزمر:21] ‏‏‏‏ الخ میں۔ اور جیسے سورۃ الحدید کی آیت «اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [ 57- الحديد: 20 ] ‏‏‏‏ میں۔ صحیح حدیث میں بھی ہے «الدُّنْيَا خَضِرَة حُلْوَة» دنیا سبز رنگ میٹھی ہے، الخ۔ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ جیسے فرمایا ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [ 6-الانعام: 14 ] ‏‏‏‏ انسان کے لیے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں، بیٹے، خزانے وغیرہ مزین کر دی گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ» [ 64- التغابن: 15 ] ‏‏‏‏ الخ، تمہارے مال، تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور [ دعا ] ‏‏‏‏ «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ، اور [ دعا ] ‏‏‏‏ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے غلام فرماتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے جو مؤذن پہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے پانی منگوایا، ایک برتن میں قریب تین پاؤ کے پانی آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کر کے فرمایا، حضور علیہ السلام نے اسی طرح وضو کر کے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کرے تو صبح سے لے کر ظہر تک کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر عصر میں بھی اسی طرح نماز پڑھ لی تو ظہر سے عصر تک کے تمام گناہ معاف، پھر مغرب کی نماز پڑھی تو عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی تو مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف پھر رات کو وہ سو رہا، صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی تو عشاء سے لے کے صبح تک کے گناہ معاف۔ یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا یہ تو ہوئیں نیکیاں، اب اے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما آپ بتلائیے کہ باقیات صالحات کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ [مسند احمد:71/1:صحیح] ‏‏‏‏

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں، باقیات صالحات یہ ہیں دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد عمارہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ بتاؤ باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اور روزہ۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم نے صحیح جواب نہیں دیا، انہوں نے کہا زکوٰۃ اور حج، فرمایا ابھی جواب ٹھیک نہیں ہوا۔ سنو وہ پانچ کلمے ہیں دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو آپ نے بجز «الحمدللہ» کے اور چار کلمات بتلائے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ بجز «لا حول» کے اور چاروں کلمات بتلاتے ہیں۔

حضرت حسن رحمہ اللہ اور قتادۃ رحمہ اللہ بھی ان ہی چاروں کلمات کو باقیات صالحات بتلاتے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ ہیں باقیات صالحات۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23100] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، باقیات صالحات کی کثرت کرو، پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا ملت، پوچھا گیا وہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل، تسبیح اور «الحمد للہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» [تفسیر ابن جریر الطبری:32102:ضعیف] ‏‏‏‏۔ حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے مولی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے سالم رحمہ اللہ نے محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم رحمہ اللہ سے کہہ دینا کہ فلاں قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں، مجھے ان سے کچھ کام ہے۔ چنانچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم رحمہ اللہ نے پوچھا، کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» اور «سبحان اللہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ رحمہ اللہ نے اس میں کب سے بڑھایا؟ قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں، دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو محمد بن کعب نے فرمایا، کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا، سنو میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، آپ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ اپنی امت سے فرما دیجئیے کہ وہ جنت میں اپنے لیے بہت کچھ باغات لگا لیں، اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا، وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے؟ فرمایا «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» بکثرت پڑھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23099:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے آسمان کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کر لیں، ہمیں خیال ہوا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ لوگو سن رکھو «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ [مسند احمد:267/4:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بے حد وزنی ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ» اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لیے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں، جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے، وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ [مسند احمد:443/3:حسن] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہا ایک سفر میں تھے کسی جگہ اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں۔ حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے اس وقت کہا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، واقعی میں نے غلطی کی۔ سنو اسلام لانے کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کوئی کلمہ اپنی زبان سے ایسا نہیں نکالا جو میرے لیے لگام بن جائے، بجز اس ایک کلمے کے، پس تم لوگ اسے یاد سے بھلا دو اور اب جو میں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ سونے چاندی کے جمع کرنے میں لگ جائیں، تم اس وقت ان کلمات کو بکثرت پڑھا کرو۔ دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك الثَّبَات فِي الْأَمْر وَالْعَزِيمَة عَلَى الرُّشْد وَأَسْأَلك شُكْر نِعْمَتك وَأَسْأَلك حُسْن عِبَادَتك وَأَسْأَلك قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلك لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلك مِنْ خَيْر مَا تَعْلَم وَأَعُوذ بِك مِنْ شَرّ مَا تَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك لِمَا تَعْلَم إِنَّك أَنْتَ عَلَّام الْغُيُوب» یعنی اے اللہ میں تجھ سے اپنے کام کی ثابت قدمی اور نیکی کے کام کا پورا قصد اور تیری نعمتوں کی شکر گزاری کی توفیق طلب کرتا ہوں اور تجھ سے دعا ہے کہ تو مجھے سلامتی والا دل اور سچی زبان عطا فرما، تیرے علم میں جو بھلائی ہے میں اس کا خواستگار ہوں اور تیرے علم میں جو برائی ہے، میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پروردگار ہر اس برائی سے میری توبہ ہے جو تیرے علم میں ہو، بیشک غیب داں صرف تو ہی ہے۔ سیدنا سعید بن جنادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّه أَحَد» اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتْ» سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ [ دعا ] ‏‏‏‏ «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ [طبرانی کبیر:5482:ضعیف] ‏‏‏‏

اس سند سے مروی ہے کہ جو شخص رات کو اٹھے، وضو کرے، کلی کرے پھر سو سو بار «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» پڑھے اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، بجز قتل و خون کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، باقیات صالحات ذکر اللہ ہے اور «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَتَبَارَكَ اللَّه وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ وَأَسْتَغْفِر اللَّه وَصَلَّى اللَّه عَلَى رَسُول اللَّه» ہے اور روزہ، نماز، حج، صدقہ، غلاموں کی آزادی، جہاد، صلہ رحمی اور کل نیکیاں یہ سب باقیات صالحات ہیں جن کا ثواب جنت والوں کو جب تک آسمان و زمین ہیں، ملتا رہتا ہے۔ فرماتے ہیں پاکیزہ کلام بھی اسی میں داخل ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل اعمال صالحہ اسی میں داخل ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسے مختار بتلاتے ہیں۔
46۔ 1 اس میں اہل ایمان دنیا کا اور جو دنیا کے مال اسباب، قبیلہ اور خاندان اور آل اولاد پر فخر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ چیزیں تو دنیا فانی کی عارضی زینت ہیں۔ آخرت میں یہ چیزیں کچھ کام نہیں آئیں گی۔ اسی لئے اسے آگے فرمایا کہ آخرت میں کام آنے والے عمل وہ ہیں جو باقی رہنے والے ہیں۔ 46۔ 2 باقیات صالحات (باقی رہنے والی نییکیاں) کون سی یا کون کون سی ہیں؟ کسی نے نماز کو، کسی نے تحمید و تسبیح اور تکبیر و تہلیل کو اور کسی نے اعمال خیر کو مصداق قرار دیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ عام ہے اور تمام نیکیوں کو شامل ہے۔ تمام فرائض و واجبات اور سنن و نوافل سب باقیات صالحات ہیں بلکہ برے کاموں سے اجتناب بھی ایک عمل صالح ہے، جس پر عند اللہ اجر وثواب کی امید ہے۔
(آیت 46) ➊ { اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ …:} اس آیت سے مقصود لوگوں کو نیک اعمال کی طرف توجہ دلانا ہے، تاکہ وہ باقی رہنے والے نیک اعمال کو چھوڑ کر، جو آخرت میں کام آنے والے ہیں، محض دنیا کی زندگی کی زینت والی چیزوں میں مشغول نہ رہیں، کیونکہ دنیا کی زندگی بے ثبات اور عارضی ہے، جیسا کہ پچھلی آیت میں مثال سے واضح فرمایا، تو اس کی چمک دمک اور زینت اس سے بھی زیادہ بے ثبات اور عارضی ہے۔ سو باقی کو فانی پر ترجیح دینا ہی کامیابی ہے۔ اس آیت میں مال اور بیٹوں ہی کا ذکر فرمایا، کیونکہ مال میں انسان کی ملکیت کی ہر چیز آ جاتی ہے، مکان، مویشی اور سونا چاندی وغیرہ۔ دوسری آیات میں ان کی تفصیل اور ان کا فتنہ و آزمائش ہونا تفصیل سے ذکر فرمایا، دیکھیے آل عمران (۱۴، ۱۵)، منافقون (۹) اور تغابن (۱۴، ۱۵)۔ ➋ {وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ:} ان الفاظ میں وہ تمام نیک اعمال آجاتے ہیں جو اللہ کو راضی کرنے والے ہیں اور ان کا اجر قیامت کے دن کے لیے باقی ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ {”الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ “} کیا ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: [ لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ ] [ مسند أحمد: 71/1، ح: ۵۱۵ ] {” الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ “} کا ایک خاص مفہوم بھی ہے، یعنی وہ اعمال جن کا ثواب آدمی کو فوت ہونے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ ] [ مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ:۱۶۳۱ ] ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، ایک وہ صدقہ جو جاری رہنے والا ہو (مثلاً مسجد، شفا خانہ، کنواں وغیرہ)، ایک وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے (مثلاً تدریس، تصنیف، تبلیغ وغیرہ) اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (یا شاگرد وغیرہ جو دعا کرتے رہیں)۔“ سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَإِنْ مَاتَ، جَرَی عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِيْ كَانَ يَعْمَلُهُ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط في سبیل اللہ عز وجل: ۱۹۱۳۔ ترمذي: ۱۶۶۵۔ نسائي: ۳۱۶۹، ۳۱۷۰ ] ”اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا رباط (سرحد پر دشمن کے مقابلے کے لیے رہنا) ایک ماہ کے روزے اور اس کے قیام سے بہتر ہے، پھر اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کا وہ عمل اس کے لیے جاری رکھا جاتا ہے جو وہ کرتا تھا اور اس کے لیے اس کا رزق جاری رکھا جاتا ہے اور آزمائش کرنے والوں (منکر و نکیر) سے امن میں رہتا ہے۔“ مسلم میں ایک دن اور ایک رات کے لفظ ہیں اور اس میں {” فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} کے الفاظ نہیں ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ جاریہ، تعلیم دین، دعا کرنے والی اولاد صالح اور جہاد فی سبیل اللہ خاص باقیات صالحات ہیں، جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ ➌ { خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ …:} یعنی ان اعمال کا بدلہ تیرے رب کے ہاں تمام بدلوں سے بہتر ہے اور ان کے اجر کی امید بھی سب امیدوں سے بہتر ہے۔
وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فکر اُس دن کی ہونی چاہیے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاؤ گے، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چھوٹے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے اور ہم انہیں اٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ دن (یاد کرو) جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو دیکھوگے کہ وہ کھلا ہوا میدان ہے اور ہم اس طرح سب لوگوں کو جمع کریں گے کہ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور ہم انھیں اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کے سب میدان حشر میں ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے، ان کا ذکر کر رہا ہے کہ «يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ 52-الطور: 9، 10 ] ‏‏‏‏ آسمان پھٹ جائے گا، «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» [ 27-النمل: 88 ] ‏‏‏‏ پہاڑ اڑ جائیں گے گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [ 101-القارعة: 5 ] ‏‏‏‏ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے، «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [ 20-طٰہ: 105-107 ] ‏‏‏‏ زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، نہ اس میں کوئی مکان ہو گا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا، کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعة: 50، 49 ] ‏‏‏‏ تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [ 11-ھود: 103 ] ‏‏‏‏ اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [ 78-النبإ: 38 ] ‏‏‏‏ تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [ 89-الفجر: 22 ] ‏‏‏‏ تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔

نامہ اعمال سامنے کر دیئے جائیں گے جس میں ہر چھوٹا بڑا، کھلا چھپا عمل لکھا ہوا ہو گا۔ اپنی بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر گناہ گار خوف و حیرت زدہ ہو جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو، چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ۔ ہم سب ادھر ادھر ہو گئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، درخت، جھاڑ، جھنکار جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ رہے ہو؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں۔ [طبرانی کبیر:5485:ضعیف] ‏‏‏‏ جو خیر و شر، بھلائی برائی جس کسی نے کی ہو گی، اسے موجود پائے گا جیسے آیت «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا» [ 3- آل عمران: 30 ] ‏‏‏‏ اور آیت «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» [ 75- القيامة: 13 ] ‏‏‏‏ اور آیت «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاىِٕرُ» [ 86- الطارق: 9 ] ‏‏‏‏ الخ میں ہے، تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] ‏‏‏‏ تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔

مسند احمد میں ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لیے ایک اونٹ خریدا، سامان کس کر سفر کیا، مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر رضی اللہ عنہ دروازے پر ہے، انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہی جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ گئے اور مجھے لپٹ گئے۔ معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا، مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں، اس لیے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آ جائے۔ اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ، بےسر و سامان۔ پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے، فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں۔ کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو سکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں نہ دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے مال و اسباب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ [مسند احمد:495/3:حسن] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582 [21-الأنبياء:47] ‏‏‏‏] ‏‏‏‏ اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [ 21- الأنبياء: 47 ] ‏‏‏‏ الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [ 6- الانعام: 38 ] ‏‏‏‏ الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
47۔ 1 یہ قیامت کی ہولناکیاں اور بڑے بڑے واقعات کا بیان ہے۔ پہاڑوں کو چلائیں گے کا مطلب، پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑ جائیں گے اور پہاڑ ایسے ہونگے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون، زمین سے جب پہاڑ جیسی مضبوط چیزیں ختم ہوجائیں گی، تو مکانات، درخت اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کس طرح وجود برقرار رکھ سکیں گی؟ اسی لئے آگے فرمایا ' ' و زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا ' 47۔ 2 یعنی اولین و آخرین، چھوٹے بڑے، کافر و مومن سب کو جمع کریں گے، کوئی زمین کی تہ میں پڑا نہ رہ جائے گا اور نہ قبر سے نکل کر کسی جگہ چھپ سکے گا۔
(آیت 47) ➊ {وَ يَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ …: ” يَوْمَ “ ” أُذْكُرْ “} محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کے اجر کی پائیداری کی مناسبت سے اب قیامت کے دن کا ذکر فرمایا، یعنی اس دن کو یاد کیجیے جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا اور وہ مختلف حالتوں سے گزرتے ہوئے آخر سراب کی طرح رہ جائیں گے، زمین کے سمندر، پہاڑ اور اونچی نیچی تمام جگہیں ہموار ہو جائیں گی اور پوری زمین پر نگاہ کے لیے کوئی رکاوٹ یا اوٹ باقی نہیں رہے گی۔ پہاڑوں پر گزرنے والی کیفیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نبا (۲۰)، حاقہ (۱۳ تا ۱۵)، طور (۹، ۱۰)، تکویر (۳)، نمل (۸۸)، معارج (۸، ۹)، قارعہ (۴، ۵)، مزمل (۱۴) اور واقعہ (۵، ۶) زمین کے ہموار ہونے کے ذکر کے لیے دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۰۵ تا ۱۰۷)۔ ➋ { وَ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا:} اللہ تعالیٰ پہلے اور پچھلے سب لوگوں کو اکٹھا کرے گا، کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ دیکھیے سورۂ واقعہ (۴۹، ۵۰) دوسرے مقام پر وضاحت فرمائی کہ اس حشر میں جن و انس کے علاوہ دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہوں گی، چنانچہ فرمایا: «وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۳۸ ] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا جان دار نہیں اور نہ کوئی پرندہ ہے جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، پھر وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوْقُ إِلٰی أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰي يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۸۲ ] ”قیامت کے دن حق والوں کو ان کے حقوق ہر صورت ادا کیے جائیں گے، حتیٰ کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔“
وَ عُرِضُوۡا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍۭ ۫ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَکُمۡ مَّوۡعِدًا ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کیے جائیں گے لو دیکھ لو، آ گئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کئے جائیں گے۔ یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا لیکن تم تو اسی خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور سب تمہارے رب کے حضور پرا باندھے پیش ہوں گے بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئےجیسا ہم نے تمہیں پہلی بار بنایا تھا بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ تمہارے پروردگار کے حضور صفیں باندھے پیش کئے جائیں گے (تب ان سے کہا جائے گا) آخر تم اسی طرح ہمارے پاس آگئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ ہاں البتہ تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (دوبارہ پیدا کرنے کا) کوئی وعدہ گاہ مقرر نہیں کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ تیرے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے پیش کیے جائیں گے، بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اسی طرح آئے ہو جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمھارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کے سب میدان حشر میں ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے، ان کا ذکر کر رہا ہے کہ «يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ 52-الطور: 9، 10 ] ‏‏‏‏ آسمان پھٹ جائے گا، «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» [ 27-النمل: 88 ] ‏‏‏‏ پہاڑ اڑ جائیں گے گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [ 101-القارعة: 5 ] ‏‏‏‏ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے، «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [ 20-طٰہ: 105-107 ] ‏‏‏‏ زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، نہ اس میں کوئی مکان ہو گا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا، کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعة: 50، 49 ] ‏‏‏‏ تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [ 11-ھود: 103 ] ‏‏‏‏ اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [ 78-النبإ: 38 ] ‏‏‏‏ تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [ 89-الفجر: 22 ] ‏‏‏‏ تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔

نامہ اعمال سامنے کر دیئے جائیں گے جس میں ہر چھوٹا بڑا، کھلا چھپا عمل لکھا ہوا ہو گا۔ اپنی بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر گناہ گار خوف و حیرت زدہ ہو جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو، چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ۔ ہم سب ادھر ادھر ہو گئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، درخت، جھاڑ، جھنکار جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ رہے ہو؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں۔ [طبرانی کبیر:5485:ضعیف] ‏‏‏‏ جو خیر و شر، بھلائی برائی جس کسی نے کی ہو گی، اسے موجود پائے گا جیسے آیت «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا» [ 3- آل عمران: 30 ] ‏‏‏‏ اور آیت «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» [ 75- القيامة: 13 ] ‏‏‏‏ اور آیت «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاىِٕرُ» [ 86- الطارق: 9 ] ‏‏‏‏ الخ میں ہے، تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] ‏‏‏‏ تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔

مسند احمد میں ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لیے ایک اونٹ خریدا، سامان کس کر سفر کیا، مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر رضی اللہ عنہ دروازے پر ہے، انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہی جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ گئے اور مجھے لپٹ گئے۔ معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا، مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں، اس لیے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آ جائے۔ اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ، بےسر و سامان۔ پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے، فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں۔ کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو سکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں نہ دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے مال و اسباب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ [مسند احمد:495/3:حسن] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582 [21-الأنبياء:47] ‏‏‏‏] ‏‏‏‏ اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [ 21- الأنبياء: 47 ] ‏‏‏‏ الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [ 6- الانعام: 38 ] ‏‏‏‏ الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
48۔ 1 اس کے معنی ہیں کہ ایک ہی صف میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، یا صفوں کی شکل میں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونگے
(آیت 48) {لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ …:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سے یہ بات فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۴) یہ خطاب آخرت کے منکروں سے ہو گا، جیسا کہ اس آیت کے آخر میں ہے: «بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا» ‏‏‏‏ ”بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمھارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔“ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تُحْشَرُوْنَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلٰی بَعْضٍ؟ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُهِمَّهُمْ ذَاكِ ] [ بخاری، الرقاق، باب الحشر: ۶۵۲۷ ] ”تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے اکٹھے کیے جاؤ گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ اس سے کہیں سخت ہو گا کہ انھیں اس بات کی سوچ آئے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ حدیث آئی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ وَعْدًا عَلَيْنَا اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۱۰۴ ] ”جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقینا ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔“ اس حدیث میں یہ بھی ہے: [ ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسٰی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيْمُ ] [ بخاری، التفسیر، سورۃ الأنبیاء، باب: «کما بدأنا أول خلق نعیدہ وعداً علینا» : ۴۷۴۰، ۶۵۲۶ ] ”پھر سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل بے لباس کفار ہی رہیں گے۔
وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزده ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ﻇلم وستم نہ کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور نامہٴ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور نامۂ اعمال (سامنے) رکھ دیا جائے گا اور تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے۔ ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسا نامۂ عمل ہے؟ جس نے (ہمارا) کوئی چھوٹا بڑا (گناہ) نہیں چھوڑا مگر سب کو درج کر لیا ہے۔ اور جو کچھ ان لوگوں نے کیا تھا وہ سب اپنے اپنے سامنے پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے، اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیںگے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کے سب میدان حشر میں ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے، ان کا ذکر کر رہا ہے کہ «يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ 52-الطور: 9، 10 ] ‏‏‏‏ آسمان پھٹ جائے گا، «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» [ 27-النمل: 88 ] ‏‏‏‏ پہاڑ اڑ جائیں گے گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [ 101-القارعة: 5 ] ‏‏‏‏ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے، «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [ 20-طٰہ: 105-107 ] ‏‏‏‏ زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، نہ اس میں کوئی مکان ہو گا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا، کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعة: 50، 49 ] ‏‏‏‏ تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [ 11-ھود: 103 ] ‏‏‏‏ اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [ 78-النبإ: 38 ] ‏‏‏‏ تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [ 89-الفجر: 22 ] ‏‏‏‏ تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔

نامہ اعمال سامنے کر دیئے جائیں گے جس میں ہر چھوٹا بڑا، کھلا چھپا عمل لکھا ہوا ہو گا۔ اپنی بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر گناہ گار خوف و حیرت زدہ ہو جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو، چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ۔ ہم سب ادھر ادھر ہو گئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، درخت، جھاڑ، جھنکار جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ رہے ہو؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں۔ [طبرانی کبیر:5485:ضعیف] ‏‏‏‏ جو خیر و شر، بھلائی برائی جس کسی نے کی ہو گی، اسے موجود پائے گا جیسے آیت «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا» [ 3- آل عمران: 30 ] ‏‏‏‏ اور آیت «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» [ 75- القيامة: 13 ] ‏‏‏‏ اور آیت «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاىِٕرُ» [ 86- الطارق: 9 ] ‏‏‏‏ الخ میں ہے، تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] ‏‏‏‏ تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔

مسند احمد میں ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لیے ایک اونٹ خریدا، سامان کس کر سفر کیا، مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر رضی اللہ عنہ دروازے پر ہے، انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہی جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ گئے اور مجھے لپٹ گئے۔ معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا، مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں، اس لیے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آ جائے۔ اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ، بےسر و سامان۔ پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے، فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں۔ کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو سکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں نہ دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے مال و اسباب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ [مسند احمد:495/3:حسن] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582 [21-الأنبياء:47] ‏‏‏‏] ‏‏‏‏ اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [ 21- الأنبياء: 47 ] ‏‏‏‏ الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [ 6- الانعام: 38 ] ‏‏‏‏ الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49) ➊ { مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ:} بقاعی رحمہ اللہ نے رسم عثمانی میں لامِ جارہ کو الگ لکھنے کا ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ مجرم اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ وہ بعض کلمات پر رک جایا کریں گے۔ علامہ قاسمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بقاعی کے لطیف نکتوں میں سے ایک ہے۔ ➋ {لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً …:} اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے آل عمران (۳۰) اور زلزال (۷، ۸)۔ ➌ {وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا:} یعنی کسی کو بے قصور سزا نہیں دے گا اور نہ ایسا ہو گا کہ اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو اور اس کے نامۂ اعمال میں درج کر دیا جائے۔
وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ ؕ اَفَتَتَّخِذُوۡنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗۤ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِیۡ وَ ہُمۡ لَکُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اُس کو اور اس کی ذرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ بڑا ہی برا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا، یہ جنوں میں سے تھا، اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی، کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اوﻻد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حاﻻنکہ وه تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ﻇالموں کا کیا ہی برا بدل ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، قومِ جن سے تھا تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد و میرے سوا دوست بناتے ہو اور وہ ہمارے دشمن ہیں ظالموں کو کیا ہی برا بدل (بدلہ) ملا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔ تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی سرتابی کی۔ کیا تم (اے منکرینِ حق) مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی اولاد کو اپنا سرپرست و کارساز بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ جنوں میں سے تھا، سو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، تو کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بناتے ہو، حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں، وہ (شیطان) ظالموں کے لیے بطور بدل برا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی ٭٭

بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ آدم علیہ السلام کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے , اپنے خالق و مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہیئے۔ اللہ کے احسان و اکرام، اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں پالا پوسا، پھر اسے چھوڑ کر اس کے بلکہ اپنے بھی دشمن کو دوست بنانا کس قدر خطرناک غلطی ہے؟ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کر کے تمام فرشتوں کو بطور ان کی تعظیم اور تکریم کے ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے حکم برداری کی لیکن چونکہ ابلیس بد اصل تھا، آگ سے پیدا شدہ تھا، اس نے انکار کر دیا اور فاسق بن گیا۔ فرشتوں کی پیدائش نورانی تھی۔

صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، ابلیس شعلے مارنے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جس کا بیان تمہارے سامنے کر دیا گیا ہے۔ [صحیح مسلم:2996] ‏‏‏‏ ظاہر ہے کہ ہر چیز اپنی اصلیت پر آ جاتی ہے اور وقت پر برتن میں جو ہو، وہی ٹپکتا ہے۔ گو ابلیس فرشتوں کے سے اعمال کر رہا تھا، انہی کی مشابہت کرتا تھا اور اللہ کی رضا مندی میں دن رات مشغول تھا، اسی لیے ان کے خطاب میں یہ بھی آ گیا، لیکن یہ سنتے ہی وہ اپنی اصلیت پر آ گیا، تکبر اس کی طبیعت میں سما گیا اور صاف انکار کر بیٹھا۔ اس کی پیدائش ہی آگ سے تھی جیسے اس نے خود کہا کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے۔ ابلیس کبھی بھی فرشتوں میں سے نہ تھا، وہ جنات کی اصل ہے جیسے کہ آدم علیہ السلام انسان کی اصل ہیں۔ یہ بھی منقول ہے کہ یہ جنات ایک قسم تھی فرشتوں کی، جو تیز آگ سے پیدا کیے گئے تھے۔ اس کا نام حارث تھا، جنت کا دارو‏‏غہ تھا۔ اس جماعت کے سوا اور فرشتے نوری تھے۔ جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے تھی۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابلیس شریف فرشتوں میں سے تھا اور بزرگ قبیلے کا تھا، جنتوں کا داروغہ تھا، آسمان دنیا کا بادشاہ تھا، زمین کا بھی سلطان تھا۔ اس سے کچھ اس کے دل میں گھمنڈ آ گیا تھا کہ وہ تمام اہل آسمان سے شریف ہے، وہ گھمنڈ بڑھتا جا رہا تھا، اس کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو تھا۔ پس اس کے اظہار کے لیے آدم کو سجدے کرنے کا حکم ہوا تو اس کا گھمنڈ ظاہر ہو گیا، از روئے تکبر کے صاف انکار کر دیا اور کافروں میں جا ملا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ جن تھا یعنی جنت کا خازن تھا جیسے لوگوں کو شہروں کی طرف نسبت کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں مکی، مدنی، بصریٰ، کوفی۔ یہ جنت کا خازن آسمان دنیا کے کاموں کا مدبر تھا، یہاں کے فرشتوں کا رئیس تھا۔ اس معصیت سے پہلے وہ ملائکہ میں داخل تھا، لیکن زمین پر رہتا تھا۔ سب فرشتوں سے زیادہ کوشش سے عبادت کرنے والا اور سب سے زیادہ علم والا تھا، اسی وجہ سے پھول گیا تھا۔ اس کے قبیلے کا نام جن تھا، آسمان و زمین کے درمیان آمد و رفت رکھتا تھا۔ رب کی نافرمانی سے غضب میں آ گیا اور شیطان رجیم بن گیا اور ملعون ہو گیا۔ پس متکبر شخص سے توبہ کی امید نہیں ہو سکتی۔ ہاں تکبر نہ ہو اور کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس سے ناامید نہ ہونا چاہیئے۔ کہتے ہیں کہ یہ تو جنت کے اندر کام کاج کرنے والوں میں تھا۔ سلف کے اور بھی اس بارے میں بہت سے آثار مروی ہیں، لیکن یہ اکثر و بیشتر بنی اسرائیلی ہیں، صرف اس لیے نقل کئے گئے ہیں کہ نگاہ سے گزر جائیں۔ اللہ ہی کو ان کے اکثر کا صحیح حال معلوم ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کی وہ روایتیں تو قطعا قابل تردید ہیں جو ہمارے ہاں کے دلائل کے خلاف ہوں۔

بات یہ ہے کہ ہمیں تو قرآن کافی وافی ہے، ہمیں اگلی کتابوں کی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم ان سے محض بے نیاز ہیں۔ اس لیے کہ وہ تبدیلی، ترمیم، کمی بیشی سے خالی نہیں۔ بہت سی بناوٹی چیزیں ان میں داخل ہو گئی ہیں اور ایسے لوگ ان میں نہیں پائے جاتے جو اعلیٰ درجہ کے حافظ ہوں کہ میل کچیل دور کر دیں، کھرا کھوٹا پرکھ لیں، زیادتی اور باطل کے ملانے والوں کی دال نہ گلنے دیں جیسے کہ اللہ رحمن نے اس امت میں اپنے فضل و کرم سے ایسے امام اور علماء اور سادات اور بزرگ اور متقی اور پاکباز اور حفاظ پیدا کئے ہیں جنہوں نے احادیث کو جمع کیا، تحریر کیا۔ صحیح، حسن، ضعیف، منکر، متروک، موضوع سب کو الگ الگ کر دکھایا۔ گھڑنے والوں، بنانے والوں، جھوٹ بولنے والوں کو چھانٹ کر الگ کھڑا کر دیا تاکہ ختم المرسلین سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک اور متبرک کلام محفوظ رہ سکے اور باطل سے بچ سکے اور کسی کا بس نہ چلے کہ آپ کے نام سے جھوٹ کو رواج دے لے اور باطل کو حق میں ملا دے۔ پس ہماری دعا ہے کہ اس کل طبقہ پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و رضا مندی نازل فرمائے اور ان سب سے خوش رہے! آمین! اللہ رحمن انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے اور یقیناً ان کا منصب اسی لائق ہے رضی اللہ عنہم و ارضاہم۔ الغ‏‏رض ابلیس اطاعت الٰہی سے نکل گیا۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اپنے دشمن سے دوستی نہ کرو اور مجھے چھوڑ کر اس سے تعلق نہ جوڑو۔ ظالموں کو بڑا برا بدلہ ملے گا۔ یہ مقام بھی بالکل ایسا ہی ہے جیسے سورۃ یاسین میں قیامت کا، اس کی ہولناکیوں کا اور نیک و بد لوگوں کے نتیجوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اے مجرمو! تم آج کے دن الگ ہو جاؤ۔ الخ۔
50۔ 1 قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ شیطان فرشتہ نہیں تھا، فرشتہ اگر ہوتا تو حکم الٰہی سے سرتابی کی اسے مجال ہی نہ ہوتی، کیونکہ فرشتوں کی صفت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے (لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم:6)۔ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ اس صورت میں یہ اشکال رہتا ہے اگر وہ فرشتہ نہیں تھا تو پھر اللہ کے حکم کا وہ مخاطب ہی نہیں تھا کیونکہ اس کے مخاطب تو فرشتے تھے انھیں کو سجدے کا حکم دیا گیا تھا صاحب روح المعانی نے کہا ہے کہ وہ فرشتہ یقینا نہیں تھا لیکن وہ فرشتوں کے ساتھ ہی رہتا تھا اور ان ہی میں شمار ہوتا تھا اس لیے وہ بھی اسجدوا لادم کے حکم کا مخاطب تھا اور سجدہ آدم کے حکم کے ساتھ اس کا خطاب کیا جانا قطعی ہے ارشاد باری ہے۔ ما منعک الا تسجد اذ امرتک۔ جب میں نے تجھے حکم دے دیا تو پھر تو نے سجدہ کیوں نہ کیا۔ 50۔ 2 فِسْق کے معنی ہوتے ہیں نکلنا چوہا جب اپنے بل سے نکلتا ہے تو کہتے ہیں فَسَقَتِ الفَارَۃ مِنْ جُحرِھَا، شیطان بھی سجدہ تعظیم و تحیہ کا انکار کرکے رب کی اطاعت سے نکل گیا۔ 50۔ 3 یعنی کیا تمہارے لئے یہ صحیح ہے کہ تم ایسے شخص کو اور اسکی نسل کو دوست بناؤ جو تمہارے باپ آدم ؑ کا دشمن، تمہارا دشمن اور تمہارے رب کا دشمن ہے اور اللہ کو چھوڑ کر اس شیطان کی اطاعت کرو؟ 50۔ 4 ایک دوسرا ترجمہ اس کا یہ کیا گیا ہے ظالموں نے کیا ہی برا بدل اختیار کیا ہے یعنی اللہ کی اطاعت اور اسکی دوستی کو چھوڑ کر شیطان کی اطاعت اور اسکی دوستی جو اختیار کی ہے تو یہ بہت ہی برا بدل ہے جسے ان ظالموں نے اپنایا ہے۔
(آیت 50) ➊ { وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا …:} اس سلسلۂ کلام میں آدم و ابلیس کا قصہ ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو متنبہ کیا جائے کہ تم جس غرور و تکبر کی راہ پر چل رہے ہو اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے ہو یہ وہی راہ ہے جس پر تم سے پہلے شیطان نے قدم رکھا تھا، پھر دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا؟ ➋ {كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ:فَفَسَقَ “} میں فاء تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں: {”سَرَقَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ“} ”اس نے چوری کی، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔“ یعنی شیطان جنوں میں سے تھا، اس لیے اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ اگر فرشتوں سے ہوتا تو کبھی نافرمانی نہ کرتا، کیونکہ فرشتے نہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ اس کے حکم کے بغیر کوئی کام کرتے ہیں۔ دیکھیے انبیاء (۲۶ تا ۲۸) اور تحریم (۶) معلوم ہوا کہ ابلیس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اصل میں فرشتہ تھا، نام اس کا عزازیل تھا، یا جن تھا مگر کثرت عبادت کی وجہ سے فرشتوں کا استاد بن گیا، بالکل بے اصل بات ہے۔ رہا یہ سوال کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، جنوں کو تھا ہی نہیں تو اس کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۲) اور سورۂ بقرہ (۳۴) کی تفسیر۔ ➌ { اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّيَّتَهٗۤ …:} اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس کی اولاد ہے، مگر ان کی نسل کیسے بڑھی اور کیسے بڑھتی ہے اس کے متعلق صحیح ذریعے سے ہمارے پاس کوئی علم نہیں۔ ➍ {بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا:بِئْسَ “} کا فاعل {”هُوَ“} ضمیر ہے، جو ابلیس کی طرف لوٹتی ہے، یعنی اللہ کے بدلے میں ابلیس کو دوست بنایا تو تم نے بہت برا بدل حاصل کیا۔