اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھی اور (امر حق) سن بھی نہیں سکتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا اور حق بات سن نہ سکتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا (کہ میری آیات نہیں دیکھتے تھے) اور وہ سن نہیں سکتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ کہ ان کی آنکھیں میرے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سن ہی نہ سکتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کو دیکھ کر ٭٭
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 101){ الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ …: ” غِطَآءٍ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، معنی ہے سخت گاڑھا پردہ، یعنی اپنی عقل کی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لاتے اور ضد کی وجہ سے کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے کہ سمجھانے سے سمجھ جاتے۔ مزید دیکھیے سورۂ ملک (۱۰)۔
تو کیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا کافر یہ خیال کیے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وه میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا کافروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز اور سرپرست بنا لیں گے۱ (اور ہم باز پرس نہیں کریں گے) بےشک ہم نے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کیلئے تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو حمایتی بنا لیں گے۔ بے شک ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کو دیکھ کر ٭٭
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔
12۔ 1 حسب، بمعنی ظن ہے اور عبادی (میرے بندوں) سے مراد ملائکہ، مسیح ؑ اور دیگر صالحین ہیں، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شیاطین و جنات ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اور استفہام زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ یعنی غیر اللہ کے یہ پجاری کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر اور میرے بندوں کی عبادت کر کے ان کی حمایت سے میرے عذاب سے بچ جائیں گے؟ یہ ناممکن ہے، ہم نے تو ان کافروں کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں جانے سے ان کو وہ بندے نہیں روک سکیں گے جن کی یہ عبادت کرتے اور ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔
(آیت 102) ➊ {اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بتانے والوں کو ڈرانے اور اصحابِ کہف کے اعلانِ توحید کے ذکر سے ہوئی تھی، آخر میں پھر وہی بات دہرائی، یعنی کیا ان کفار نے میرے خاص بندوں، جیسے مسیح، عزیر، روح القدس اور فرشتوں وغیرہ کو اپنا معبود بنا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں میرے مقابلے میں لا کھڑا کریں گے اور اپنا حمایتی بنا لیں گے۔ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ گمان سراسر غلط ہے، بلکہ وہ سب ان کی عبادت سے بے زاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۸۲) اور احقاف (۵، ۶) اگرچہ {” عِبَادِيْ “} سے نیک و بد سبھی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں (دیکھیے مریم: ۹۳) مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ”میرے بندے“ کہہ کر اپنا بنا لینے میں جو عزت افزائی ہے وہ خاص بندوں ہی کا حصہ ہے۔ ➋ {اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا: ” نُزُلًا “} کا معنی وہ چیزیں ہیں جو مہمان نوازی کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ جہنم بطور مہمانی کفار کو مذاق ہے۔ {” نُزُلًا “} کا ایک معنی منزل بھی ہے، یعنی ہم نے جہنم کو کافروں کی منزل کے طور پر تیار کررکھا ہے۔
اے محمدؐ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) آپ کہہ دیجئے (اے لوگو) کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔
جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ۔ [صحیح بخاری:4729]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔
وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جن کی دنیا کی زندگی کی تمام سعی و کوشش اکارت ہوگئی حالانکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔
جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ۔ [صحیح بخاری:4729]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔
14۔ 1 یعنی اعمال ان کے ایسے ہیں جو اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں، لیکن بزم خویش سمجھتے یہ ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ اس سے مراد کون ہیں بعض کہتے ہیں، یہود و انصار ہیں، بعض کہتے ہیں مخالفین اور دیگر اہل بدعت ہیں، بعض کہتے ہیں کہ مشرکین ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جس میں ہر وہ فرد اور گروہ شامل ہے جس کے اندر مذکورہ صفات ہوں گی۔ آگے ایسے ہی لوگوں کی بابت مزید سزا دینے کے وعدے بیان کیے جا رہے ہیں۔
(آیت 104){ اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ …:} یعنی جتنے نیک اعمال انھوں نے کیے سب کفر کی شامت سے رائگاں گئے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۸)، نور (۳۹، ۴۰) اور فرقان (۲۳) یہ مطلب بھی درست ہے کہ ”جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی“ یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کا اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا انکار کیا پس ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ اس لئے ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے، سو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔
جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ۔ [صحیح بخاری:4729]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔
15۔ 1 رب کی آیات سے مراد توحید کے وہ دلائل ہیں جو کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ آیات شرعی ہیں اور جو اس نے اپنی کتابوں میں نازل کیں اور پیغمبروں نے تبلیغ وتوضیع کی۔ اور رب کی ملاقات سے کفر کا مطلب آخرت کی زندگی اور دوبارہ جی اٹھنے سے انکار ہے۔ 15۔ 2 یعنی ہمارے ہاں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی یا یہ مطلب ہے کہ ہم ان کے لئے میزان کا اہتمام ہی نہیں کریں گے کہ جس میں ان کے اعمال تولے جائیں، اس لئے کہ اعمال تو خدا کو ایک ماننے والوں کے تولے جائیں گے جن کے نامہ اعمال میں نیکیاں اور برائیاں دونوں ہونگی، جب کہ ان کے نامہ اعمال نیکیوں سے بالکل خالی ہوں گے جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ' قیامت والے دن موٹا تازہ آدمی آئے گا، اللہ کے ہاں اس کا اتنا وزن نہیں ہوگا جتنا مچھر کے پر کا ہوتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ (صحیح بخاری۔ سورة کہف)
(آیت 105){اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات اور آخرت کو مانتے ہی نہ تھے، سو انھوں نے اس کے لیے کچھ بھی نہ کیا، نیکیوں کے پلڑے میں کچھ ہے ہی نہیں تو صرف ایک پلڑے کا وزن کیا کیا جائے؟
ان کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
حال یہ ہے کہ ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق میں اڑایا
احمد رضا خان بریلوی
یہ ان کا بدلہ ہے جہنم، اس پر کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ان کی سزا ہے جہنم۔ ان کے کفر کرنے اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑانے کی پاداش میں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ان کی جزا جہنم ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔
جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ۔ [صحیح بخاری:4729]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔
البتّہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے تو ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے فردوس کے باغ مہمانی ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت الفردوس کا تعارف ٭٭
اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے، ان کی باتوں پر عمل کرنے والے بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔ یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے، اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] یہی ان کا مہمان خانہ ہو گی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں، نہ نکلنے کا خیال آئے، نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ، نہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے۔ روز بروز رغبت ومحبت، انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لیے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔
17۔ 1 جنت الفردوس، جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جب بھی تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو، اس لئے کہ وہ جنت کا اعلیٰ حصہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ' (البخاری کتاب التوحید)
(آیت 107){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} کفار کے بعد ان کے مقابل اہل ایمان کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ فردوس کا معنی وہ باغ ہے جس میں تمام باغوں کے درخت، پھول اور پودے ہوں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَسْئَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ] ”جب تم اللہ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور جنت کا سب سے اونچا مقام ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ [ بخاري، التوحید، باب: وکان عرشہ علی الماء: ۷۴۲۳ ]
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جہاں وه ہمیشہ رہا کریں گے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی ان کا اراده ہی نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہاں سے منتقل ہونا پسند نہیں کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، وہ اس سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت الفردوس کا تعارف ٭٭
اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے، ان کی باتوں پر عمل کرنے والے بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔ یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے، اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] یہی ان کا مہمان خانہ ہو گی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں، نہ نکلنے کا خیال آئے، نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ، نہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے۔ روز بروز رغبت ومحبت، انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لیے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔
18۔ 1 یعنی اہل جنت، جنت اور اس کی نعمتوں سے کبھی نہ اکتائیں گے کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل ہونے کی خواہش ظاہر کریں۔
(آیت 108){ لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا:} ایک جگہ زیادہ دیر رہنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، مگر جنتی جنت سے کبھی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے، کیونکہ اس سے بہتر عیش کی کوئی جگہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (31) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۱، ۳۲ ] ”اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ یہ بے حد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔“ اور حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ] [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ…: ۳۲۴۴۔ مسلم: ۲۸۲۴ ] ”میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“ اور ان سب نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گی، پھر جنت کی نعمتیں ہر آن نئی سے نئی ہوتی رہیں گی، نہ ختم ہوں گی نہ کہیں رکیں گی، کیونکہ وہ اللہ کے کلمۂ کن سے وجود میں آئیں گی اور اللہ کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں، دیکھیے اس سے اگلی آیت۔
اے محمدؐ، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وه بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! کہ اگر میرے پروردگار کے کلمات لکھنے کیلئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے گا قبل اس کے کہ میرے پروردگار کے کلمات ختم ہوں اگرچہ ہم اس کی مدد کیلئے ویسا ہی ایک سمندر لے آئیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کی عظمتوں کا شمار ناممکن ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی عظمت سمجھانے کے لیے دنیا میں اعلان کر دیجئیے کہ اگر روئے زمین کے سمندروں کی سیاہی بن جائے اور پھر اللہ کے کلمات، اللہ کی قدرتوں کے اظہار، اللہ کی باتیں، اللہ کی حکمتیں لکھنی شروع کی جائیں تو یہ تمام سیاہی ختم ہو جائے گی لیکن اللہ کی تعریفیں ختم نہ ہوں گی۔ گو پھر ایسے ہی دریا لائے جائیں اور پھر لائے جائیں اور پھر لائے جائیں لیکن ناممکن کہ اللہ کی قدرتیں، اس کی حکمتیں، اس کی دلیلیں ختم ہو جائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کا فرمان ہے «وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ 31- لقمان: 27 ] یعنی روئے زمین کے درختوں کی قلمیں بن جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہیاں بن جائیں پھر ان کے بعد سات سمندر اور بھی لائے جائیں لیکن ناممکن ہے کہ کلمات الٰہی پورے لکھ لیے جائیں۔ اللہ کی عزت اور حکمت، اس کا غلبہ اور قدرت وہی جانتا ہے۔ تمام انسانوں کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں اتنا بھی نہیں جتنا سمندر کے مقابلے میں قطرہ۔ تمام درختوں کی قلمیں گھس گھس کر ختم ہو جائیں، تمام سمندروں کی سیاہیاں ختم ہو جائیں لیکن کلمات الٰہی ویسے ہی رہ جائیں گے جیسے تھے، وہ ان گنت ہیں، بےشمار ہیں۔ کون ہے جو اللہ کی صحیح اور پوری قدر و عزت جان سکے؟ کون ہے جو اس کی پوری ثنا و صفت بجا لا سکے؟ بیشک ہمارا رب ویسا ہی ہے جیسا وہ خود فرما رہا ہے۔ بیشک ہم جو تعریفیں اس کی کریں، وہ ان سب سے سوا ہے اور ان سب سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ یاد رکھو جس طرح ساری زمین کے مقابلے پر ایک رائی کا دانہ ہے اسی طرح جنت کی اور آخرت کی نعمتوں کے مقابل تمام دنیا کی نعمتیں ہیں۔
19۔ 1 کَلِمَاَت سے مراد، اللہ تعالیٰ کا علم محیط، اس کی حکمتیں اور وہ دلائل وبرائین ہیں جو اس کی واحدنیت پر دال ہیں۔ انسانی عقلیں ان سب کا احا طہ نہیں کرسکتیں اور دنیا بھر کے درختوں کے قلم بن جائیں اور سارے سمندر بلکہ ان کی مثل اور بھی سمندر ہوں، وہ سب سیاہی میں بدل جائیں، قلم گھس جائیں گے اور سیاہی ختم ہوجائے گی، لیکن رب کے کلمات اور اس کی حکمتیں ضبط تحریر میں نہیں آسکیں گی۔
(آیت 109) ➊ { قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا …:} کیونکہ سمندر مخلوق ہے جس کی حد اور انتہا ہے، جب کہ اللہ کا کلام اس کی صفت ہے، مخلوق نہیں، نہ اللہ کی ذات کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی صفات کی۔ اگر اللہ کے کلمات لکھنے کے لیے سارے سمندر سیاہی بن جائیں اور زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں، پھر اتنی سیاہی ہم اور لے آئیں، بلکہ مزید سات سمندر سیاہی بن جائیں تو سب ختم ہو جائیں گے، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ (دیکھیے لقمان: ۲۷) کیونکہ محدود چیز لا متناہی اور غیر محدود کا احاطہ کبھی نہیں کر سکتی۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اسی طرح اس کی دوسری صفات کی طرح صفت کلام بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ جب چاہے، جس سے چاہے، جو چاہے کلام کرتا ہے، اس کے کلام کی کوئی انتہا نہیں، وہ ہمیشہ کلام پر قادر رہے گا، جیسے رسولوں کے متعلق فرمایا: «{ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ }» [ البقرۃ: ۲۵۳ ] ”ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام فرمایا۔“ اور فرمایا: «وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» [ النساء: ۱۶۴] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ }» [ التوبۃ: ۶ ] ”اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اتنی واضح آیات کے باوجود مسلمانوں کے بہت سے گمراہ فرقے اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کے منکر ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا کلام وہ معانی ہیں جو اس کی ذات میں ہیں۔ وہ بول نہیں سکتا، نہ اس کے الفاظ ہیں نہ آواز۔ الفاظ اور آواز کو اس نے پیدا کیا ہے، اس لیے یہ قرآن بھی مخلوق ہے، اللہ کا کلام نہیں۔ صرف اس کا مفہوم و معنی اللہ کی صفت ہے۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے کہا کہ نماز میں قرآنی آیت کا مفہوم عربی الفاظ کے بجائے فارسی، اردو یا کسی اور زبان میں ادا کر دیا جائے تو نماز ہو جائے گی، کیونکہ قرآن کی تلاوت ہو گئی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قرآن عربی ہے۔ دیکھیے سورۂ یوسف (۳) وغیرہ۔ امام اہل السنہ احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے انھی گمراہ فرقوں کی طرف سے بے شمار عذاب برداشت کیے، مگر قرآن کو اللہ کا کلام کہتے رہے، اسے مخلوق نہیں مانا اور امت کو صراط مستقیم سے ہٹنے نہیں دیا۔ بھلا کوئی شخص اپنے آپ کو تو کلام پر قادر سمجھے اور اپنے لیے گونگا ہونے کو عیب جانے، حالانکہ گونگے کے دل میں بھی معانی موجود ہوتے ہیں، مگر تمام صفات حسنہ کے مالک کے متعلق کہے کہ وہ نہ بولتا ہے نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے، نہ کوئی اس کا کلام سن سکتا ہے۔ ایسا عاجز رب انھی کو مبارک ہو قرآن و حدیث میں مذکور ہمارا رب تو بولتا بھی ہے، سنتا بھی اور وہ تمام صفات کمال کا مالک ہے۔ بعض پیغمبروں نے خود اس کا کلام سنا، بعض کو فرشتے کے ذریعے سے پہنچا، رسولوں کی معرفت آیا ہوا کلام ہم پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی۔ [ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی نِعَمِہِ الشَّامِلَۃِ وَ آلَائِہِ الْکَامِلَۃِ ] ➌ یہاں انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ان عقل پرستوں نے صفات کا انکار کیوں کیا؟ پھر قرآن کے الفاظ کو مخلوق کہنے پر اتنا اصرار کیوں کیا کہ جو بھی قرآن کو مخلوق نہ کہے وہ ہر قسم کے سرکاری عہدے سے معزول ہے، حتیٰ کہ وہ نہ کسی مسجد کا خطیب ہو سکتا ہے نہ امام، نہ اپنے طور پر کسی مسجد میں پڑھا سکتا ہے، نہ درس دے سکتا ہے اور اہل السنہ، خصوصاً ان کے امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے اس کے انکار میں اتنی شدت کیوں کی اور اتنا عذاب کیوں جھیلا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ خیر القرون گزرنے کے بعد عملی کمزوریوں کی وجہ سے طبائع قرآن و سنت پر عمل کی پابندیوں کو بوجھ سمجھنے لگیں، حکمرانوں کی مطلق العنانی میں بھی یہ دونوں چیزیں رکاوٹ تھیں، جیسا کہ ہم آج کل کے اکثر حکمرانوں اور ان کی اسلامی نظریاتی کونسلوں کے علماء کو دیکھتے ہیں۔ چنانچہ علمائے سوء نے عقل کا نام لے کر آزادی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہر چیز کو راستے سے ہٹا دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔ انھی دنوں مامون الرشید نے یونانی کتابوں کے تراجم کروائے تھے۔ دنیاوی معاملات میں اپنے پیش رو لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، مگر ساتھ ہی یونانی فلسفے کا بھی ترجمہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی ان کے عقائد ان لوگوں پر اثر انداز ہوئے۔ چنانچہ معتزلہ، یعنی عقل پرستوں نے ان کے کچھ بنیادی اصول تسلیم کر لیے، مثلاً ایک سے ایک ہی چیز کا صدور ہو سکتا ہے۔ محلِ حوادث حادث ہوتا ہے، یعنی جس سے کوئی نئی چیز وجود میں آئے وہ ذات قدیم، یعنی اللہ تعالیٰ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نہ دیکھتا ہے، نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے، نہ حرکت کر سکتا ہے، نہ وہ عرش پر ہے، نہ آسمان پر اترتا ہے، نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا، کیونکہ یہ سب حوادث ہیں۔ یہ عقائد قرآن و حدیث کا صاف انکار تھے، کیونکہ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی سے نئی حالت میں ہے، فرمایا: «{ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ }» [ الرحمٰن: ۲۹ ] ”ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ وہ سمیع ہے، بصیر ہے، قیامت کے دن زمین پر آئے گا وغیرہ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں مسلم علماء میں سے ایک تو متکلمین اٹھے جنھوں نے ان کا جواب دیا، مگر بدقسمتی سے ان کے اصول مان بیٹھے، چنانچہ انھوں نے فلاسفہ کے اصول بچانے کے لیے قرآن و حدیث کی تاویل بلکہ تحریف کی۔ کلام بھی چونکہ حادث ہے، یعنی ہر لفظ پہلے کے بعد نئے سے نیا آتا ہے اور ان کے بقول اللہ تعالیٰ ایسی چیزوں کا محل نہیں، لہٰذا انھوں نے اللہ کے کلام کا انکار کرنے کے لیے تاویل کا سہارا لیا اور کہا کہ قرآن کے معانی قدیم ہیں، وہ تو اللہ کی ذات میں ہیں، مگر الفاظ مخلوق ہیں، اصل مفہوم جس زبان اور جن الفاظ میں بھی ادا ہو جائے وہی قرآن ہے۔ حدیث سے وہ پہلے ہی یہ کہہ کر جان چھڑا چکے تھے کہ حدیث سے قرآن پر اضافہ نہیں ہو سکتا اور یہ کہ ان کے کہنے کے مطابق غیر فقیہ صحابی کی روایت کردہ حدیث قیاس کے خلاف ہو تو رد کر دی جائے گی۔ رہا قرآن تو اس میں من مانی تبدیلی کے لیے اس کے الفاظ کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کر دیا، صرف معنی و مفہوم کو قرآن قرار دیا۔ یہود و نصاریٰ میں بھی تحریف کا دروازہ یہیں سے کھلا کہ تورات و انجیل کے تراجم کو اللہ کا کلام کہہ دیا گیا، حتیٰ کہ اصل زبان والی کتابیں دنیا سے مفقود ہو گئیں۔ تراجم میں تبدیلی کچھ مشکل نہ تھی، لہٰذا اب وہ کتب اس قابل ہی نہیں رہیں کہ ان پر اعتماد کیا جا سکے۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ ان کے عقلی ڈھکوسلوں کے مقابلے میں کہتے تھے کہ کوئی آیت یا حدیث پڑھو جس میں ہو کہ قرآن مخلوق ہے، ہم مان لیں گے۔ امام صاحب اسی پر قائم رہے۔ قرآن کے الفاظ ہی کو اللہ کا کلام کہنے پر ڈٹے رہے، جس کے نتیجے میں قرآن محفوظ رہا اور حدیث بھی حجت رہی۔ یہ «{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ }» [ الحجر: ۹ ] کے وعدے کی تکمیل تھی۔ ان لوگوں نے مسلمانوں سے ان کی معنوی قوت ختم کرنے کے لیے ایمان کو بھی صرف دل کا فعل قرار دیا، اقرار کو بھی صرف مسلمان تسلیم ہونے کے لیے ضروری قرار دیا، اقرار نہ بھی کرے تو لوگوں کے نزدیک نہ سہی اللہ کے ہاں پکا مومن ہے۔ اقرار کر لے، عمل نہ بھی کرے تو اللہ کے ہاں اور مسلمانوں کے ہاں پکا مومن ہے۔ یہ اہل سنت محدثین ہی تھے جنھوں نے اسلام پر ان حملوں کا دفاع کیا اور جو سختی بھی ان پر گزری اسے برداشت کیا۔ کتنے ہی اس امتحان میں ناکام ہوئے، کتنے شہادت پا کر سرخرو ہوئے۔ اب بھی قرآن و حدیث پر قائم رہنے والوں کا ایسے لوگوں سے مقابلہ جاری ہے جو قرآن کے الفاظ کو اللہ کا کلام نہیں مانتے، اللہ تعالیٰ کی صفات، سننے، دیکھنے، رحم کرنے، اترنے، چڑھنے، عرش پر ہونے کو نہیں مانتے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام کے ٹھیکیدار بھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ قرآن و سنت پر قائم علماء صریح دلائل سے ان لوگوں کے عقائد کا باطل ہونا بیان کرتے رہتے ہیں اور قرآن و حدیث پر ذرہ برابر آنچ آنے دیتے ہیں نہ ان میں کوئی لفظی یا معنوی تحریف برداشت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَرِثُ هٰذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُوْلُهُ يَنْفُوْنَ عَنْهُ تَأْوِيْلَ الْجَاهِلِيْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِيْنَ وَ تَحْرِيْفَ الْغَالِيْنَ ] [ السنن الکبریٰ للبیھقی: 209/10، ح: ۲۱۴۳۹ ] ”قرآن و حدیث کے اس علم کے وارث بعد میں آنے والے تمام لوگوں میں سے ان کے وہ عادل لوگ ہوں گے جو اس سے جاہلوں کی تاویل، باطل پرستوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ اور غلو کرنے والوں کی تحریف کو دور کریں گے۔“ [ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ]
اے محمدؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے
احمد رضا خان بریلوی
تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! کہ میں (بھی) تمہاری طرح ایک بشر (انسان) ہوں البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے پس جو کوئی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا امیدوار ہے۔ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا ایک قرآن تم بھی بنا کر پیش کر دو۔ دیکھو میں کوئی غیب داں تو نہیں، تم نے مجھ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کیا، اصحاب کہف کا قصہ پوچھا تو میں نے ان کے صحیح واقعات تمہارے سامنے بیان کر دئیے جو نفس الامر کے مطابق ہیں۔ اگر میرے پاس اللہ کی وحی نہ آتی تو میں ان گزشتہ واقعات کو جس طرح وہ ہوئے ہیں، تمہارے سامنے کس طرح بیان کر سکتا؟ سنو تمام تر وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تم موحد بن جاؤ۔ شرک کو چھوڑ دو۔ میری دعوت یہی ہے جو بھی تم میں سے اللہ سے مل کر اجر و ثواب لینا چاہتا ہو، اسے شریعت کے مطابق عمل کرنے چاہئیں اور شرک سے بالکل بچنا چاہیئے۔ ان دونوں ارکان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، خلوص ہو اور مطابقت سنت ہو۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ بہت سے نیک کاموں میں باوجود مرضی الٰہی کی تلاش کے میرا ارادہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ میری نیکی دیکھیں تو میرے لیے کیا حکم ہے، آپ خاموش رہے اور یہ آیت اتری، یہ حدیث مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23427:مرسل] سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک شخص نماز، روزہ، صدقہ، خیرات، حج زکوٰۃ کرتا ہے، اللہ کی رضا مندی بھی ڈھونڈتا ہے اور لوگوں میں نیک نامی اور بڑائی بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی کل عبادت اکارت ہے، اللہ تعالیٰ شرک سے بیزار ہے، جو اس کی عبادت میں اور نیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ فرما دیتا ہے کہ یہ سب اسی دوسرے کو دے دو مجھے اس کی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/16:ضعیف]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آتے، رات گزارتے، کبھی آپ کو کوئی کام ہوتا تو فرما دیتے۔ ایسے لوگ بہت زیادہ تھے۔ ایک شب ہم آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا یہ کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟ ہم نے جواب دیا، یا رسول اللہ ہماری توبہ ہے ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے اور دل ہمارے خوفزدہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجہ:4204،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نے فرمایا، میں تمہیں اس سے بھی زیادہ دہشت ناک بات بتاؤں؟ وہ پوشیدہ شرک ہے کہ انسان دوسرے انسان کو دکھانے کے لیے نماز پڑھے۔
مسند احمد میں ہے، ابن غنم کہتے ہیں، میں اور ابودرداء جابیہ کی مسجد میں گئے، وہاں ہمیں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، بائیں ہاتھ سے تو انہوں نے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا اور اپنے داہنے ہاتھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ تھام لیا اور اسی طرح ہم تینوں وہاں سے باتیں کرتے ہوئے نکلے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے، دیکھو اگر تم دونوں یا تم میں سے جو بھی زندہ رہا تو ممکن ہے اس وقت کو بھی وہ دیکھ لے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن سیکھا ہوا بھلا آدمی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا اور ہر حکم کو مناسب جگہ رکھنے والا آئے اور اس کی قدرو منزلت لوگوں میں ایسی ہو جیسی مردہ گدھے کی سر کی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما آ گئے اور بیٹھتے ہی شداد رضی اللہ عنہا نے فرمایا، لوگو مجھے تو تم پر سب سے زیادہ اس کا ڈر ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یعنی پوشیدہ خواہش اور شرک کا۔ اس پر عبادہ رضی اللہ عنہما اور ابودرداء رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ معاف فرمائے، ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا ہے کہ اس جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔ ہاں پوشیدہ شہوات تو یہی خواہش کی چیزیں عورتیں وغیرہ ہیں لیکن یہ شرک ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔
حضرت شداد رضی اللہ عنہما فرمانے لگے، اچھا بتاؤ تو ایک آدمی دوسروں کے دکھانے کے لیے نماز، روزہ، صدقہ، خیرات کرتا ہے۔ اس کا حکم تمہارے نزدیک کیا ہے؟ کیا اس نے شرک کیا؟ سب نے جواب دیا، بیشک ایسا شخص مشرک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھے وہ مشرک ہے، جو دنیا کو دکھانے کے لیے روزے رکھے وہ مشرک ہے، جو لوگوں میں اپنی سخاوت جتانے کے لیے صدقہ خیرات کرے وہ بھی مشرک ہے۔ اس پر عوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے کہا، کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسے اعمال میں جو اللہ کے لیے ہو، اللہ اسے قبول فرمالے اور جو دوسرے کے لیے ہو، اسے رد کر دے؟ شداد رضی اللہ عنہما نے جواب دیا، یہ ہرگز نہیں ہونے کا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہے کہ میں سب سے بہتر حصے والا ہوں، جو بھی میرے ساتھ کسی عمل میں دوسرے کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہوں۔ اور نہایت بےپرواہی سے جز کل سب کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہما ایک دن رونے لگے، ہم نے پوچھا، آپ کیسے رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے ایک حدیث یاد آ گئی اور اس نے رلا دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرک اور پوشیدہ شہوت کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں سنو وہ سورج چاند، پتھر، بت کو نہ پوجے گی بلکہ اپنے اعمال میں ریا کاری کرے گی۔ پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ صبح روزے سے ہے اور کوئی خواہش سامنے آئی، روزہ چھوڑ دیا [مسند احمد:124/4:ضعیف] ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں تمام شریکوں سے بہتر ہوں۔ میرے ساتھ جو بھی کسی کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی کو دے دیتا ہوں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:2764،صحیح] اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عمل میں میرے ساتھ دوسرے کو ملا لے، میں اس سے بری ہوں اور اس کا وہ پورا عمل اس غیر کے لیے ہی ہے۔ [مسند احمد:301/2:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے، مجھے تمہاری نسبت سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا، وہ چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا ریاکاری۔ قیامت کے دن ریاکاروں کو جواب ملے گا کہ جاؤ جن کے لیے عمل کئے تھے، انہی کے پاس جزا مانگو۔ دیکھو پاتے بھی ہو؟ [مسند احمد:428/5:صحیح]
ابوسعید بن ابو فضالہ انصاری صحابی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا، جس دن کے آنے میں کوئی شک شبہ نہیں، اس دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے اپنے جس عمل میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو ملایا ہو، اسے چاہیئے کہ اپنے اس عمل کا بدلہ اس دوسرے سے مانگ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ ساجھے سے بہت ہی بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن] سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ریاکار کو عذاب بھی سب کو دکھا کر ہو گا اور نیک اعمال لوگوں کو سنانے والے کو عذاب بھی سب کو سنا کر ہو گا [ مسند احمد 45/5:صحیح لغیرہ] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ [مسند احمد:40/3:صحیح] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اپنے نیک اعمال اچھالنے والے کو اللہ تعالیٰ ضرور رسوا کرے گا، اس کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور وہ لوگوں کی نگاہوں میں حقیر و ذلیل ہو گا۔ یہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما رونے لگے۔ [مسند احمد:162/2:صحیح] انس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، قیامت کے دن انسان کے نیک اعمال کے مہر شدہ صحیفے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ جناب باری عزوجل فرمائے گا، اسے پھینک دو، اسے قبول کرو، اسے قبول کرو، اسے پھینک دو۔ اس وقت فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم تو اس شخص کے اعمال نیک ہی جانتے ہیں، جواب ملے گا کہ جن کو میں پھینکوا رہا ہوں یہ وہ اعمال ہیں جن میں صرف میری ہی رضا مندی مطلوب نہ تھی بلکہ ان میں ریاکاری تھی۔ آج میں تو صرف ان اعمال کو قبول کروں گا جو صرف میرے لیے ہی کئے گئے ہوں۔ [الدر المنثور للسیوطی:460/4:ضعیف]
ارشاد ہے کہ جو دکھاوے سناوے کے لیے کھڑا ہوا ہو، وہ جب تک نہ بیٹھے اللہ کے غصے اور غضب میں ہی رہتا ہے۔ [مجمع الزوائد:223/10:ضعیف] ابو یعلیٰ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جو شخص لوگوں کے دیکھتے ہوئے تو ٹھہر ٹھہر کر اچھی کر کے نماز پڑھے اور تنہائی میں بری طرح جلدی جلدی بے دلی سے ادا کرے، اس نے اپنے پروردگار عزوجل کی توہین کی۔ [مسند ابویعلیٰ:5117:ضعیف] پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس آیت کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہما قرآن کی آخری آیت بتاتے ہیں۔ [ضعیف] لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں کیونکہ سورۃ الکہف پوری کی پوری مکے شریف میں نازل ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد مدینے میں برابر دس سال تک قرآن کریم اترتا رہا تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہو کہ یہ آیت آخری ہے یعنی کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہوئی۔ اس میں جو حکم ہے وہ آخر تک بدلا نہیں گیا۔ اس کے بعد کوئی ایسی آیت نہیں اتری جو اس میں تبدیلی وتغیر کرے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک بہت ہی غریب حدیث حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص آیت «فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا» [ الکھف: 110 ] ، کو رات کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے اتنا بڑا نور عطا فرمائے گا جو عدن سے مکے شریف تک پہنچے۔ [مستدرک حاکم371/2:ضعیف]
110۔ 1 اس لئے میں بھی رب کی باتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ 110۔ 2 البتہ مجھے یہ امتیاز حاصل ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ اسی وحی کی بدولت میں نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق اللہ کی طرف سے نازل کردہ وہ باتیں بیان کی ہیں جن پر مرور ایام کی دبیز تہیں پڑی ہوئی تھیں یا ان کی حقیقت افسانوں میں گم ہوگئی تھی۔ علاوہ ازیں اس وحی میں سب سے اہم حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود صرف ایک ہے۔ 110۔ 3 عمل صالح وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو، یعنی جو اپنے رب کی ملاقات کا یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ ہر عمل سنت نبوی کے مطابق کرے اور دوسرا اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اس لئے کہ بدعت اور شرک دونوں ہی ضبط اعمال کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ہر مسلمان کو مفوظ رکھے۔ ہجرت حبشہ کے واقعات میں بیان کیا گیا کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور اس کے مصاحبین اور امرا کے سامنے جب سورة مریم کا ابتدائی حصہ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے پڑھ کر سنایا تو ان سب کی ڈاڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور نجاشی نے کہا کہ یہ قرآن اور حضرت عیسیٰ ؑ جو لے کر آئے ہیں، یہ سب ایک ہی مشعل کی کرنیں ہیں (فتح القدیر)۔
(آیت 110) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ …:} اللہ کے کبھی ختم نہ ہونے والے کلمات میں سے تمام پیغمبر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کلمات لے کر آئے کفار نے ان پر ایمان لانے سے اس لیے انکار کر دیا کہ انھیں لانے والے بشر تھے۔ ان کے خیال میں بشر اللہ کا رسول نہیں ہو سکتا تھا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۱) اور بنی اسرائیل (۹۴) کی تفسیر۔ عقل کے ان اندھوں کو دیکھو کہ احسن تقویم والے انسان کو اللہ کا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں، مگر بے جان پتھروں کو معبود مان رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمھاری طرح ایک بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں، نہ میں رب ہوں، نہ رب ہونے میں میرا کوئی حصہ ہے، نہ عالم الغیب ہوں، نہ اپنے یا تمھارے لیے کسی نفع یا نقصان کا مالک ہوں، بلکہ میں تمھاری طرح صرف ایک بشر ہوں، آدم علیہ السلام کی اولاد ہوں۔ میرے والدین بھی ہیں، بیوی بچے بھی، کھانے پینے کی اور دوسری بے شمار اشیاء کی محتاجی میں بھی تمھارا شریک ہوں۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپے، تندرستی، بیماری اور وفات سب میں تمھاری طرح ہوں، ہاں اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے اپنے کلمات پہنچانے کے لیے مجھے وحی کا شرف عطا فرمایا ہے، جس کا اصل الاصول ایک اللہ کی عبادت ہے۔ سو تم میری نبوت مانو اور اللہ کی توحیدپر ایمان لے آؤ۔ واضح رہے کہ قرآن مجید کے مطابق رسول بشر ہوتا ہے، جسے اللہ رسالت کے لیے چن لیتا ہے۔ کوئی یہ کہے کہ بشر رسول نہیں ہو سکتا، یا یہ کہے کہ رسول بشر نہیں ہو سکتا، دونوں کا عقیدہ ایک ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ”ان مشرکین سے جو آپ کی رسالت کو جھٹلاتے ہیں، کہہ دیجیے کہ میں محض تمھارے جیسا ایک بشر ہوں، پھر جو شخص سمجھتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں تو جیسا کلام میں لے کر آیا ہوں وہ لے کر آئے، دیکھو میں نے عالم الغیب نہ ہوتے ہوئے ماضی کے جو واقعات (اصحاب کہف، ذوالقرنین وغیرہ کے) عین واقعہ کے مطابق تمھیں بتائے ہیں اگر اللہ تعالیٰ مجھے اطلاع نہ دیتا تو میں تمھیں کبھی نہ بتا سکتا۔“ یہ تفسیر بھی اچھی ہے۔ ➋ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ …: ” يَرْجُوْا “ ”رَجَاءٌ“} کا معنی امید ہے، اس کے ضمن میں خوف بھی ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ امید پوری نہ ہو۔ غرض اس کے معنی امید اور خوف دونوں کر لیے جاتے ہیں۔ بندے اور اس کے رب کے تعلق کو نمایاں کرکے فرمایا کہ جو اپنے رب کی ملاقات اور دیدار کی امید رکھتا ہے، یا اس سے ملاقات کے وقت اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو کام ضروری ہیں، پہلا یہ کہ وہ صالح عمل کرے اور صالح عمل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے سے بتایا ہے، اس کے علاوہ سب بدعت اور گمراہی ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے، نہ کسی دوسرے کی عبادت کرکے اور نہ ریا کاری کرکے، کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری (دکھاوا) شرک اصغر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَنَا أَغْنَی الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً أَشْرَكَ فِيْهِ مَعِيَ غَيْرِيْ تَرَكْتُهُ وَ شِرْكَهُ ] [ مسلم، الزھد، باب تحریم الریاء: ۲۹۸۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمام حصے داروں سے کہیں زیادہ (ہر قسم کے) حصے سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے سوا کسی اور کو حصے دار بنایا تو میں اس عمل کو اور اس کے حصے کو چھوڑ دیتا ہوں۔“ یعنی میں وہ حصہ بھی قبول نہیں کرتا جو اس عمل میں سے اس نے میرے لیے کیا ہے، کیونکہ اس میں دوسرا بھی حصے دار ہوتا ہے، تو میں اپنا حصہ بھی چھوڑ کر اسی کو دے دیتا ہوں، اب وہ اس کا اجر اسی سے لے، میں تو صرف وہ عمل قبول کرتا ہوں جو سارے کا سارا میرے لیے ہو، کسی دوسرے کا اس میں حصہ نہ ہو۔ جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰهُ بِهِ، وَ مَنْ يُرَائِيْ يُرَائِي اللّٰهُ بِهِ ] ”جو شخص سنانے (شہرت) کی خاطر عمل کرے اللہ تعالیٰ (اس کی بدنیتی) سب کو سنا دے گا اور جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔“ [ بخاری، الرقاق، باب الریاء والسمعۃ: ۶۴۹۹ ] ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے، جو عیسائی تھا، جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”جو کتاب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہوئی ہے اس کا کوئی حصہ تمھیں یاد ہے تو مجھے پڑھ کر سناؤ۔“ چنانچہ جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، اللہ کی قسم! اسے سن کر نجاشی رونے لگا، حتیٰ کہ اس کی ڈاڑھی تر ہو گئی اور جتنے پادری اس کے پاس بیٹھے تھے وہ بھی رونے لگے، یہاں تک کہ ان کی کتابیں تر ہو گئیں، پھر نجاشی نے کہا: [ إِنَّ هٰذَا وَاللّٰهِ! وَالَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسَی لَيَخْرُجُ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ ] [ مسند أحمد: 202/1، ۲۰۳، ح: ۱۷۴۵، حسنہ محققوہ ] ”اللہ کی قسم! یہ کلام اور وہ کلام جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ایک ہی مشکاۃ(روشنی کے طاق) سے نکل رہا ہے۔“