بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 39
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَوۡ لَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَکَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ۚ۳۹﴾
اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاءاللہ، لا قوة الّا باللہ؟ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے
تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے واﻻ ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے، اگر تو مجھے مال واوﻻد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے
اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ، ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا
اور تو جب اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا؟ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور خدا کی قوت کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے)۔ اور اگر تو مجھے مال و اولاد میں (اپنے سے) کمتر دیکھتا ہے۔
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو توُ نے یہ کیوں نہ کہا ’’جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘‘اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭

اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] ‏‏‏‏ میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] ‏‏‏‏ کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] ‏‏‏‏ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔

مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔

📖 احسن البیان

39۔ 1 اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بتلاتے ہوئے کہا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت سرکشی اور غرور کا مظاہرہ کرنے کی بجائے یہ کہا ہوتا، مَا شَاَءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلّا باللّٰہِ یعنی جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، وہ چاہے تو اسے باقی رکھے اور چاہے تو فنا کر دے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ جس کو کسی کا مال، اولاد یا حال اچھا لگے تو اسے مَا شَاَءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِ لّا باللّٰہِ پڑھنا چاہیے (تفسیر ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 39){وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ …:} اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی کوئی چیز اچھی لگے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہییں: «‏‏‏‏مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: [ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! أَفَلاَ أَدُلُّكَ عَلٰی كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْشِ، قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاكَ أَبِيْ وَ أُمِّيْ، قَالَ أَنْ تَقُوْلَ لَا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللّٰهِ، قَالَ أَبُوْ بَلْجٍ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ يَقُوْلُ أَسْلَمَ عَبْدِيْ وَاسْتَسْلَمَ، قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو قَالَ أَبُوْبَلْجٍ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِيْ هُرَيْرَةَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ فَقَالَ: لَا إِنَّهَا فِيْ سُوْرَةِ الْكَهْفِ: «وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏] [ مسند أحمد:335/2، ح: ۸۴۴۷ ] ”اے ابوہریرہ! کیا میں تمھیں عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: ”ہاں! آپ پر میرے ماں باپ قربان!“ فرمایا: ”تم کہو {”لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ“} ابوبلج راوی کہتے ہیں، میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ مطیع ہو گیا اور اس نے اپنا آپ میرے سپرد کر دیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگرد نے پوچھا: {”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ“} تو انھوں نے فرمایا: ”نہیں، یہ کلمہ سورۂ کہف میں ہے: «‏‏‏‏وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ» ‏‏‏‏“ شعیب ارنؤوط نے کہا کہ یہ روایت عرش کے لفظ کے بغیر صحیح ہے۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ نے {”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ“} کی یہی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [بخاری، القدر، باب لا حول ولا قوۃ إلا باللہ: ۶۶۱۰ ] باقی وہ روایات جن میں یہ کلمات پڑھنے سے نظر بد یا کسی بھی نقصان سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔ (البانی) مگر ان کی فضیلت کے لیے آیت ہی کافی ہے۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →