بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 8
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَیۡہَا صَعِیۡدًا جُرُزًا ؕ﴿۸﴾
آخرکار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں
اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں
اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے
اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے (ایک دن) چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔
اور بلاشبہ ہم جو کچھ اس پر ہے، اسے ضرور ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏‏‏‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏‏‏‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏‏‏‏ یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏‏‏‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 صعیدا۔ صاف میدان۔ جرز۔ بالکل ہموار۔ جس میں کوئی درخت وغیرہ نہ ہو، یعنی ایک وقت آئے گا کہ یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں سمیت فنا ہوجائے گی اور روئے زمین ایک چٹیل اور ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی، اس کے بعد ہم نیک و بد کو ان کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 8){وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا …: ” صَعِيْدًا “ } مٹی، کیونکہ وہ سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی ہے۔ {” صَعِدَ يَصْعَدُ “} چڑھنا۔{ ” جُرُزًا “ } چٹیل زمین، جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ {”جَرَزَتِ الْأَرْضُ“} قحط یا ٹڈی دل کی وجہ سے زمین پر کوئی اگی ہوئی چیز نہ رہ گئی۔ سورۂ سجدہ میں فرمایا: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ السجدۃ: ۲۷ ] ”اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ نہیں دیکھتے؟“ ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ کفار جن چیزوں پر اترا رہے ہیں وہ سب چند دن کے لیے زمین کی زینت ہیں، پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ نہ اس پر کوئی مکان رہے گا نہ باغ، نہ سبزہ، نہ جانور، نہ آدمی، یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہو جائے گی۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →