بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 21
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا ﴿۲۱﴾
اِس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آ کر رہے گی (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے کچھ لوگوں نے کہا "اِن پر ایک دیوار چن دو، ان کا رب ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے" مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا " ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے"
ہم نے اس طرح لوگوں کو ان کے حال سے آگاه کر دیا کہ وه جان لیں کہ اللہ کا وعده بالکل سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ جب کہ وه اپنے امر میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے کہنے لگے کہ ان کے غار پر ایک عمارت بنا لو۔ ان کا رب ہی ان کے حال کا زیاده عالم ہے۔ جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وه کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے
اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں، جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کیا تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچھا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ (بستی والے) لوگ ان (اصحافِ کہف) کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے (کہ کیا کیا جائے؟) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ ان کے معاملات پر غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد (عبادت گاہ) بنائیں گے۔
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان پر مطلع کر دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انھوں نے کہا ان پر ایک عمارت بنا دو۔ ان کا رب ان سے زیادہ واقف ہے، وہ لوگ جو ان کے معاملے پر غالب ہوئے انھوں نے کہا ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دوبارہ جینے کی حجت ٭٭

ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر آگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی، جسم کا اعادہ نہ ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کر دی اور عینی دلیل دے دی۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں، سارا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ اس شہر کا نام افسوس تھا۔ زمانے گزر چکے تھے، بستیاں بدل چکی تھیں، صدیاں بیت گئی تھیں اور یہ تو اپنے نزدیک یہی سمجھے ہوئے تھے کہ ہمیں یہاں پہنچے ایک آدھ دن گزرا ہے۔ یہاں انقلاب زمانہ اور کا اور ہو چکا تھا، جیسے کسی نے کہا ہے۔ «اما الدیار فانہا کدیارہم» «واری رجال الحی غیر رجالہ»

گھر گو انہی جیسے ہیں لیکن قبیلے کے لوگ تو سب اور ہی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ نہ تو شہر کی کوئی چیز اپنے حال پر ہے، نہ شہر کا کوئی بھی رہنے والا جان پہچان کا ہے، نہ یہ کسی کو جانیں نہ انہیں اور کوئی پہچانے۔ تمام عام خاص اور ہی ہیں۔ یہ اپنے دل میں حیران تھا۔ دماغ چکرا رہا تھا کہ کل شام ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئے ہیں، یہ دفعتا ہو کیا گیا؟ ہر چند سوچتا تھا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔ آخر خیال کرنے لگا کہ شاید میں مجنوں ہو گیا ہوں یا میرے حواس ٹھکانے نہیں رہے یا مجھے کوئی مرض لگ گیا ہے یا میں خواب میں ہوں۔ لیکن فوراً ہی یہ خیالات ہٹ گئے مگر کسی بات پر تسلی نہ ہو سکی اس لیے ارادہ کر لیا کہ مجھے سودا لے کر اس شہر کو جلد چھوڑ دینا چاہیئے۔ ایک دکان پر جا کر اسے دام دئیے اور سودا کھانے پینے کا طلب کیا۔ اس نے اس سکے کو دیکھ کر سخت تر تعجب کا اظہار کیا اپنے پڑوسی کو دیا کہ دیکھنا یہ سکہ کیا ہے؟ کب کا ہے؟ کسی زمانے کا ہے؟ اس نے دوسرے کو دیا اس سے کسی اور نے دیکھنے کو مانگ لیا۔ الغرض وہ تو ایک تماشہ بن گیا، ہر زبان سے یہی نکلنے لگا کہ اس نے کسی پرانے زمانے کا خزانہ پایا ہے، اس میں سے یہ لایا ہے اس سے پوچھو یہ کہاں کا ہے؟ کون ہے؟ یہ سکہ کہاں سے پایا؟

چنانچہ لوگوں نے اسے گھیر لیا مجمع لگا کر کھڑے ہو گئے اور اوپر تلے ٹیڑھے ترچھے سوالات شروع کر دئے۔ اس نے کہا میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں، کل شام کو میں یہاں سے گیا ہوں، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے۔ اب تو سب نے قہقہہ لگا کر کہا، بھئی یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا اس سے سوالات ہوئے اس نے تمام حال کہہ سنایا، اب ایک طرف بادشاہ اور دوسرے سب لوگ متحیر ایک طرف سے خود ششدر و حیران۔ آخر سب لوگ ان کے ساتھ ہوئے۔ اچھا ہمیں اپنے اور ساتھی دکھاؤ اور اپنا غار بھی دکھا دو۔ یہ انہیں لے کر چلے غار کے پاس پہنچ کر کہا تم ذرا ٹھیرو میں پہلے انہیں جا کر خبر کر دوں۔ ان کے الگ ہٹتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پر بے خبری کے پردے ڈال دئے۔ انہیں نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں گیا؟ اللہ نے پھر اس راز کو مخفی کر لیا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ یہ لوگ مع بادشاہ کے گئے، ان سے ملے، سلام علیک ہوئی، بغلگیر ہوئے۔ یہ بادشاہ خود مسلمان تھا، اس کا نام تندوسیس تھا۔ اصحاب کہف ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور محبت و انسیت سے ملے جلے، باتیں کیں، پھر واپس جا کر اپنی اپنی جگہ لیٹے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر لیا، رحمہم اللہ اجمعین۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، وہاں انہوں نے روم کے شہروں میں ایک غار دیکھا، جس میں ہڈیاں تھیں، لوگوں نے کہا یہ ہڈیاں اصحاب کہف کی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین سو سال گزر چکے کہ ان کی ہڈیاں کھوکھلی ہو کر مٹی ہو گئیں [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہو جائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے، لڑ جھگڑ رہے تھے، بعض قیامت کے قائل تھے، بعض منکر تھے۔ پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لیے دلیل بن گیا۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کر دیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جنہیں سرداری حاصل تھی، انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنا لیں گے۔ امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قائل کلمہ گو تھے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [ حدیث ] ‏‏‏‏ «لَعَنَ اللَّه الْيَهُود وَالنَّصَارَى اِتَّخَذُوا قُبُور أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِد» اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحیح بخاری:435] ‏‏‏‏ جو انہوں نے کیا، اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کر دیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کر دیا جائے۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے سلایا اور جگایا، اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کردیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ آگاہی اس طرح ہوئی جب اصحاب کہف کا ایک ساتھی چاندی کا سکہ لے کر شہر گیا، جو تین سو سال قبل کے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا تھا اور وہ سکہ اس نے ایک دکاندار کو دیا، تو وہ حیران ہوا، اس نے ساتھ والی دکان والے کو دکھایا، وہ دیکھ کر حیران ہوا، جب کہ اصحاب کہف کا ساتھی یہ کہتا رہا کہ میں اس شہر کا باشندہ ہوں اور کل ہی یہاں سے گیا ہوں، لیکن اس ' کل ' کو تین صدیاں گزر چکی تھیں، لوگ کس طرح اس کی بات مان لیتے؟ لوگوں کو شبہ گزرا کہ کہیں اس شخص کو مدفون خزانہ ملا ہو۔ یہ بات بادشاہ یا حاکم مجاز تک پہنچی اور اس ساتھی کی مدد سے وہ غار تک پہنچا اور اصحاب کہف سے ملاقات کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر وفات دے دی (ابن کثیر) 21۔ 2 یعنی اصحاب کہف کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے وقوع اور بعث بعد الموت کا وعدہ الٰہی سچا ہے، منکرین کے لئے اس واقعہ میں اللہ کی قدرت کا ایک نمونہ موجود ہے۔ 21۔ 3 اذ یا تو ظرف ہے اعثرنا کا، یعنی ہم نے انھیں اس وقت ان کے حال سے آگاہ کیا، جب وہ بعث بعد الموت یا واقعہ قیامت کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ 21۔ 4 یہ کہنے والے کون تھے، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت کے اہل ایمان تھے، بعض کہتے ہیں بادشاہ اور اس کے ساتھی تھے، جب جاکر انہوں نے ملاقات کی اور اس کے بعد اللہ نے انھیں پھر سلا دیا، تو بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ان کی حفاظت کے لئے ایک عمارت بنادی جائے۔ 21۔ 5 جھگڑا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی بابت صحیح علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ 21۔ 6 یہ غلبہ حاصل کرنے والے اہل ایمان تھے یا اہل کفر و شرک؟ شوکانی نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر نے دوسری رائے کو۔ کیونکہ صالحین کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا اللہ کو پسند نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لعن اللہ الیھود والنصٓاری اتخذوا قبور انبیائھم وصٓالحیھم مساجد۔ البخاری۔ مسلم۔ اللہ تعالیٰ بہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے پیغمبروں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا، حضرت عمر کی خلافت میں عراق میں حضرت دانیال ؑ کی قبر دریافت ہوئی تو آپ نے حکم دیا کہ اسے چھپا کر عام قبروں جیسا کردیا جا‏ئے تاکہ لوگوں کے علم میں نہ آئے کہ فلاں قبر فلاں پیغمبر کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) ➊ {وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ …:} یعنی جس طرح ہم نے انھیں ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقے سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہر والوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کر دیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے اور واقعہ کی صورت خود بخود بھی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے، لوگوں کی تہذیب، رہن سہن، زبان اور لباس ہر چیز بدل چکی ہے، اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہو گیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھانا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکاندار کو بلایا، بالآخر کچھ لوگ جمع ہو گئے اور انھیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں فلاں بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا، اس لیے اصحابِ کہف کو دیکھنے اور انھیں سلام کرنے کے لیے بادشاہ اور اس کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ شہر جانے والا ساتھی اندر داخل ہو گیا اور سارے ساتھی دوبارہ لیٹ گئے، اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کر لی۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وہاں تین سو نو (۳۰۹) سال ٹھہرنا بیان فرمایا ہے، اگر وہ اس کے بعد بھی زندہ ہوتے تو ان پر عمارت بنانے یا مسجد بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی کرامت دیکھنے والے خوش عقیدہ لوگ انھیں شہر لے جاتے اور ہر طرح ان کی خدمت بجا لاتے۔ ➋ اس آیت سے کئی ساتھیوں کا مال برابر جمع کرکے کھانے وغیرہ کے لیے اکٹھا خرچ کرنا ثابت ہوتا ہے، خواہ کوئی کم کھاتا ہو یا زیادہ اور یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنایا جا سکتا ہے۔ ➌ { لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ …:} یعنی ان پر مطلع ہونے والے شہر کے لوگوں کو یقین آ جائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ➍ {اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ …:} یعنی ہم نے شہر والوں کو ان پر اس وقت مطلع کیا جب وہ آپس میں اپنے معاملے میں جھگڑ رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ مر کر جی اٹھنا برحق ہے، کوئی اس کا انکار کرتا تھا، کوئی کہتا کہ حشر صرف روح کا ہو گا بدن کا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اصحابِ کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلا دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر بدن اور روح دونوں کا ہو گا۔ {”اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ “} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب شہر والے اصحابِ کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ یہ کون لوگ تھے؟ غار میں کب آئے؟ کتنی دیر سوئے رہے؟ اب ان کے مرنے پر ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ بعض نے کہا، ان پر دیوار بنا کر غار کا منہ بند کر دیں۔ بعض نے کہا، ان پر ایک عمارت ان کی یادگار کے طور پر بنا دیں۔ ➎ { رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ:} یعنی اصحابِ کہف اور شہر والوں کے احوال ان کا رب بہتر جانتا ہے۔ ➏ { قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ …:} جن لوگوں کے پاس غلبہ و اقتدار تھا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے اور اس طرح ان کی یاد گار کو باقی رکھیں گے۔ گزشتہ قوموں میں اسی راستے سے شرک داخل ہوتا رہا اور اب بھی شرک کے سب سے بڑے مراکز انھی قبروں پر تعمیر شدہ عمارتیں مثلاً خانقاہیں وغیرہ یا مسجدیں ہی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے: [ لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ] [ بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد…: ۱۳۳۰۔ مسلم: ۵۲۹ ] ”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔“ جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے فوت ہونے سے پانچ دن پہلے سنا، آپ نے فرمایا: [ أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوْا يَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيْهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ، إِنِّيْ أَنْهَاكُمْ عَنْ ذٰلِكَ ] [ مسلم، المساجد، باب النہي عن بناء المساجد علی القبور…: ۵۳۲ ] ”جان لو! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے، سن لو کہ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں۔“ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سب سے بدتر مخلوق قرار دیا، فرمایا: [ فَأُولٰئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، الصلاۃ، باب ھل تنبش قبور مشرکي الجاھلیۃ …: ۴۲۷۔ مسلم: ۵۲۸، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ] ان احادیث میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے مراد ان کے پاس مسجدیں بنانا ہے، کیونکہ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے ان کے انبیاء و اولیاء کی قبروں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ بعض مسلمانوں نے یہ تکلف بھی ختم کرکے اپنے بزرگوں کی قبریں عین مسجدوں کے اندر بنانا شروع کر دیں۔ ان لوگوں کی کوئی مسجد کم ہی کسی نہ کسی قبر سے خالی نظر آئے گی، ان کے مولویوں نے اس بدترین فعل کے جواز کے لیے زیر تفسیر آیت کو دلیل بنا لیا، حالانکہ اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ ان کے غالب اور بااثر لوگوں نے یہ کہا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے درست کہا یا غلط، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُّجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُّقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُّبْنٰی عَلَيْهِ ] [ مسلم، الجنائز، باب النھي عن تجصیص القبر…:۹۷۰ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر چونا گچ (سیمنٹڈ) بنائی جائے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جائے۔“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ابو الہیاج الاسدی، علی رضی اللہ عنہ کے داماد فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: [ أَلاَ أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِیْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ ] [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹ ] ”کیا میں تمھیں اس کام پر مقرر نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا؟ وہ یہ ہے کہ کوئی مورتی نہ چھوڑ جسے تو مٹا نہ دے اور نہ کوئی اونچی قبر جسے تو برابر نہ کر دے۔“ اللہ کی حکمت دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبریں برابر کرنے پر اس شخص کو مقرر فرمایا جس کے نام لیواؤں نے سب سے زیادہ قبروں کو پختہ اور اونچا بنانا تھا، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →