بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 24
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا ﴿۲۴﴾
(تم کچھ نہیں کر سکتے) اِلّا یہ کہ اللہ چاہے اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو "امید ہے کہ میرا رب اِس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا"
مگر ساتھ ہی انشاءاللہ کہہ لینا۔ اور جب بھی بھولے، اپنے پروردگار کی یاد کر لیا کرنا اور کہتے رہنا کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیاده ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس سے نزدیک تو راستی کی راہ دکھائے،
مگر یہ کہ خدا چاہے (یعنی اس کے ساتھ انشاء اللہ کہا کرو) اور جب بھی بھول جائیں تو اپنے پروردگار کو یاد کریں۔ اور آپ کہہ دیجئے! کہ امید ہے کہ میرا پروردگار ایسی بات کی مجھے راہنمائی کرے جو رشد و ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر بھلائی کی ہدایت دے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ان شاء اللہ کہنے کا حکم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی ان شاءاللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہو گا؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کر لیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر [ ٧٢ ] ‏‏‏‏ تھیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہو گا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ اس وقت فرشتے نے کہا ان شاءاللہ کہہ مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا۔ اپنے ارادے کے مطابق وہ سب بیویوں کے پاس گئے، مگر سوائے ایک بیوی کے کسی کے ہاں بچہ نہ ہوا اور جس ایک کے ہاں ہوا بھی، وہ بھی آدھے جسم کا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو یہ ارادہ ان کا پورا ہوتا اور ان کی حاجت روائی ہو جاتی۔ اور یہ سب بچے جوان ہو کر راہ حق کے مجاہد بنتے۔ [صحیح بخاری:5242] ‏‏‏‏

اسی سورت کی تفسیر کے شروع میں اس آیت کا شان نزول بیان ہو چکا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا۔ ان شاءاللہ نہ کہا اس بنا پر پندرہ دن تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس حدیث کو پوری طرح ہم نے اس سورت کی تفسیر کے شروع میں بیان کر دیا ہے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ جب بھول جائے تب اپنے رب کو یاد کر، یعنی ان شاءاللہ کہنا اگر موقعہ پر یاد نہ آیا تو جب یاد آئے کہہ لیا کر۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو حلف کھائے کہ اسے پھر بھی ان شاءاللہ کہنے کا حق ہے گو سال بھر گزر چکا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کلام میں یا قسم میں ان شاءاللہ کہنا بھول گیا تو جب بھی یاد آئے کہہ لے، گو کتنی مدت گزر چکی ہو اور گو اس کا خلاف بھی ہو چکا ہو۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ اب اس پر قسم کا کفارہ نہیں رہے گا اور اسے قسم توڑنے کا اختیار ہے۔ یہی مطلب اس قول کا امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور یہی بالکل ٹھیک ہے۔ اسی پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کا کلام محمول کیا جا سکتا ہے، ان سے اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد ان شاءاللہ کہنا بھول جانا ہے۔ اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے، دوسرا کوئی تو اپنی قسم کے ساتھ ہی متصل طور پر ان شاءاللہ کہے تو معتبر ہے۔ یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جب کوئی بات بھول جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو کیونکہ بھول شیطانی حرکت ہے اور ذکر الٰہی یاد کا ذریعہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جائے کہ تجھے اس کا علم نہ ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لیا کر اور اس کی طرف توجہ کر تاکہ وہ تجھے ٹھیک بات اور ہدایت والی راہ بتا اور دکھا دے۔ اور بھی اقوال اس بارے میں مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی سے تین باتیں پوچھی تھیں، روح کی حقیقت کیا ہے اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کون تھے؟ کہتے ہیں کہ یہی سوال اس سورت کے نزول کا سبب بنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں کل جواب دونگا، لیکن اس کے بعد 15 دن تک جبرائیل وحی لے کر نہیں آئے۔ پھر جب آئے تو اللہ تعالیٰ نے انشاء اللہ کہنے کا یہ حکم دیا۔ آیت میں (غد) سے مراد مستقبل ہے یعنی جب بھی مستقبل قریب یا بعید میں کوئی کام کرنے کا عزم کرو تو انشاء اللہ ضرور کہا کرو۔ کیونکہ انسان کو تو پتہ نہیں کہ جس بات کا عزم کر رہا ہے، اس کی توفیق بھی اسے اللہ کی مشیت سے ملتی ہے یا نہیں۔ 24۔ 2 یعنی اگر کلام یا وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ، تو جس وقت یاد آجائے انشاء اللہ کہہ لیا کرو، یا پھر رب کو یاد کرنے کا مطلب، اس کی تسبیح وتحمید اور اس سے استفغار ہے۔ 24۔ 3 یعنی میں جس کا عزم ظاہر کر رہا ہوں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بہتر اور مفید کام کی طرف میری رہنمائی فرما دے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →