بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الكهف — Surah Kahf
آیت نمبر 34
کل آیات: 110
قرآن کریم الكهف آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ الكهف islamicurdubooks.com ↗
وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَنَا اَکۡثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿۳۴﴾
اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں"
الغرض اس کے پاس میوے تھے، ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیاده مالدار اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیاده مضبوط ہوں
اور وہ پھل رکھتا تھا تو اپنے ساتھی سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں
اور اس کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا۔ (ایک دن گھمنڈ میں آکر) اس نے اپنے (غریب) ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میں مال کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ (مالدار) ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تجھ سے زیادہ طاقتور ہوں۔
اور اس کے لیے بہت سا پھل تھاتو اس نے اپنے ساتھی سے، جب اس سے باتیں کررہا تھا، کہا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور نفری کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فخر و غرور ٭٭

[41-فصلت:50] ‏‏‏‏چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] ‏‏‏‏ اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] ‏‏‏‏ یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔

📖 احسن البیان

34۔ 1 یعنی باغوں کے مالک نے، جو کافر تھا، اپنے ساتھیوں سے کہا جو مومن تھا۔ 34۔ 2 نَفَر (جتھے) سے مراد اولاد اور نوکر چاکر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34){وَ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ …: ” ثَمَرٌ “ } کی تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی اس کے علاوہ بھی اس کے پاس بہت سا پھل تھا یا بہت نفع تھا، کیونکہ نفع کو بھی ثمر کہہ لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے کہ کھیتوں اور باغوں کے علاوہ اس کی اولاد بھی بہت تھی۔ اس کی دلیل آگے مومن کا قول ہے: «اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًا» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۳۹ ] ”اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔“ دوسرا آدمی مومن تھا مگر نادار تھا، اب اس کافر نے فخر سے گفتگو کرتے ہوئے اسے کہا، میرے پاس تم سے مال بھی زیادہ ہے اور آدمی بھی، یعنی اولاد، نوکر چاکر اور دوست۔ الغرض! اس بے ایمان نے اپنے مال و جاہ کے بھروسے پر مومن بھائی پر فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لیے ساتھ لے چلا۔ (کبیر)
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →