آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور «الم» کی تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرة:255] کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لیے کہ ان میں جو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا ربیع بن انس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لیے یہاں فرقان فرمایا، ابوصالح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لیے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
تفسیر احسن البیان
سورۂ آل عمران کی فضیلت سورۂ بقرہ کی فضیلت کے ساتھ بیان ہو چکی ہے۔ اس سورت کے مدنی ہونے پر مفسرین کا اتفاق ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کی پہلی ۸۳ آیتیں وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو ۹ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ (فتح القدیر) مگر ابن عاشور کی تحقیق یہ ہے کہ یہ وفد تقریباً ۳ ھ میں آیا ہے، کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ یہ سورت مدنی سورتوں کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔ نزول کے اعتبار سے کل سورتوں میں اس کا نمبر ۴۸ واں ہے۔ ۹ ھ میں نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی غلطی کا باعث یہ ہے کہ وفود اس سال آئے تھے، جبکہ وفد نجران پہلے آ چکا تھا۔ [التحریر والتنویر] یہ وفد ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا، جن میں چودہ ان کے معزز افراد بھی شامل تھے۔ تین آدمی ان سب میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا امیر عاقب تھا جس کا نام عبد المسیح تھا۔ دوسرا ”سید“ تھا اس کا نام الایہم تھا، یہ اس کا مشیر اور بہت سمجھدار تھا۔ تیسرا ابوحارثہ بن علقمہ الکبریٰ تھا، یہ ان کا لاٹ پادری تھا۔ ان سے دوسری باتوں کے علاوہ مسیح علیہ السلام کے خدا ہونے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مناظرہ ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”مسیح فنا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ہی ” حی “ یعنی ہمیشہ زندہ ہے اور رہے گا۔“ آپ نے یہ اور دوسرے دلائل پیش کیے جس پر وہ خاموش ہو گئے، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ بقیہ تفصیل کے لیے دیکھیے آیت مباہلہ ”۶۱“۔ (معالم، ابن کثیر) (آیت 1){ الٓمَّۤ۔} حروف مقطعات کی تشریح سورۂ بقرہ کی ابتدا میں گزر چکی ہے۔
اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زنده اور سب کا نگہبان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں آپ زندہ اور ونکا قائم رکھنے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ ہی (کی ذات) ہے جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ زندہ (جاوید) ہے جو (ساری کائنات کا) بندوبست کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیت الکرسی اور اسمِ اعظم ٭٭
آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور «الم» کی تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرة:255] کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لیے کہ ان میں جو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا ربیع بن انس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لیے یہاں فرقان فرمایا، ابوصالح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لیے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
2۔ 1 حَیُّ اور قَیُوم اللہ تعالیٰ کی خاص صفات ہیں جن کا مطلب وہ ازل سے ابد تک رہے گا اسے موت اور فنا نہیں قیوم کا مطلب سارے کائنات کا قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللہ یا ابن اللہ یا تین میں سے ایک مانتے تھے گویا ان کو کہا جا رہا ہے جب حضرت عیسیٰ ؑ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا زمانہ ولادت بھی تخلیق کائنات سے بہت عرصہ بعد کا ہے تو پھر وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہوسکتے ہیں نیز ان پر موت بھی نہیں آنی چاہیے تھی لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ موت سے بھی ہمکنار ہوں گے اور عیسائیوں کے بقول ہمکنار ہوچکے۔ احادیث میں آتا ہے کہ تین آیتوں میں اللہ کا اسم اعظم ہے جس کے ذریعے سے دعا کی جائے تو رد نہیں ہوتی۔ ایک یہ آل عمران کی آیت۔ دوسری آیت الکرسی اور تیسری سورة طہٰ (ابن کثیر تفسیر آیت الکرسی)
(آیت2) ➊ { اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} یہ اس سورت کا دعویٰ ہے اور وفد نجران کو دعوت کی مناسبت سے اس کے اثبات پر زور دیا گیا ہے۔ ➋ { الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ:} یہ اسمائے حسنیٰ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ حیات اور قیومیت اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ میں سے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اسے موت اور فنا نہیں۔ {”الْقَيُّوْمُ“} کا مطلب ہے ساری کائنات قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ یا اللہ کا بیٹا یا تین میں سے ایک مانتے تھے۔ گویا ان سے کہاجا رہا ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کی پیدائش کا زمانہ بھی کائنات کے پیدا ہونے سے بہت بعد کا ہے، پھر ان پر موت بھی آئے گی اور عیسائیوں کے بقول تو ان پر موت آ چکی، تو جب نہ ان کی حیات ہمیشہ، نہ انھیں قیومیت حاصل تو وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا کیسے بن گئے؟
اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے، جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے، اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا
احمد رضا خان بریلوی
اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی نے آپ پر حق کے ساتھ وہ کتاب اتاری ہے جو اس سے پہلے موجود (آسمانی کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے تجھ پر یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیت الکرسی اور اسمِ اعظم ٭٭
آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور «الم» کی تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرة:255] کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لیے کہ ان میں جو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا ربیع بن انس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لیے یہاں فرقان فرمایا، ابوصالح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لیے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
3۔ 1 یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
(آیت 4،3) ➊ یہاں { ”الْكِتٰبَ“ } سے مراد قرآن مجید ہے، گویا کتاب کامل یہی ہے۔ الف لام عہد کا ہونے کی مناسبت سے ”یہ کتاب“ ترجمہ کیا ہے۔{ ” نَزَّلَ “ } کا معنی آہستہ آہستہ اتارنا ہے۔ دوسری آسمانی کتابوں کے برعکس قرآن تیئیس(۲۳) برس میں مکمل نازل ہوا۔ اس کی حکمتوں کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان (۳۲)۔ {”بِالْحَقِّ“} سے اس کا سچا اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہونا مراد ہے۔ ➋ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ:} اس کے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلی کتابوں میں جو خبریں اور بشارتیں مذکور ہیں اس میں بھی وہی خبریں اور بشارتیں ہیں، اگر یہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتیں تو ان میں بہت اختلاف ہوتا۔ ایک خبر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول بنا کر بھیجے گا اور بشارت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر قرآن نازل فرمائے گا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور سورۂ صف (۶) تو جب تم ان کتابوں کو مانتے ہو جن کی تصدیق ہو رہی ہے تو تصدیق کرنے والی کتاب کو بھی مانو۔ (ابن کثیر، رازی) ➌ { وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ:} تورات سے مراد وہ کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی۔ اس وقت یہ دونوں کتابیں اصل شکل میں موجود نہیں ہیں۔ تورات بائبل کے عہد قدیم کی پہلی پانچ کتابوں کا نام ہے اور انجیل بائبل کے عہد جدید کی پہلی چار کتابوں میں متفرق طور پر درج ہے۔ یہود و نصاریٰ نے انھیں بڑی حد تک بدل ڈالا ہے اور ان میں اپنی طرف سے تشریحات ملا کر خلط ملط کر دیا ہے۔ یہ کتابیں پہلے زمانے میں لوگوں کے لیے ہدایت کا کام کرتی تھیں، مگر جب ان کے اندر باطل شامل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی کتاب قرآن مجید اتاری اور اسی لحاظ سے اس کا نام {” الْفُرْقَانَ “} رکھا۔ اب اسے سچا مانے بغیر ہدایت حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ اس میں نازل شدہ آیات کا انکار کرنے والوں کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ پر یہ کچھ مشکل نہیں، وہ سب پر غالب بھی ہے اور انتقام لینے والا بھی ہے۔
اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق د کھانے والی ہے) اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے پہلے، لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر، اور قرآن بھی اسی نے اتارا، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، بدلہ لینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا، بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی نے اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات و انجیل نازل کی۔ اور (حق و باطل کا) فیصلہ کن کلام نازل کیا۔ بلاشبہ جو لوگ آیاتِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے لیے بڑا سخت عذاب ہے۔ خدا زبردست ہے (اور برائی کا) بدلہ لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس سے پہلے، لوگوں کی ہدایت کے لیے۔ اور اس نے (حق و باطل میں) فرق کرنے والی (کتاب) اتاری، بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیت الکرسی اور اسمِ اعظم ٭٭
آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور «الم» کی تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرة:255] کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لیے کہ ان میں جو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا ربیع بن انس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لیے یہاں فرقان فرمایا، ابوصالح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لیے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔
4۔ 1 اس سے پہلے انبیاء پر جو کتابیں نازل ہوئیں یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے یعنی جو باتیں ان میں درج تھیں ان کی صداقت اور ان میں بیان کردہ پیشن گوئیوں کا اعتراف کرتی ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں یہ قرآن کریم بھی اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پہلے بہت سی کتابیں نازل فرمائیں۔ اگر یہ کسی اور کی طرف سے یا انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا ان میں باہم مطابقت کی بجائے مخالفت ہوتی۔ 4۔ 2 یعنی اپنے وقت میں تورات اور انجیل بھی یقینا لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ تھیں اسلئے کہ ان کے اتارنے کا مقصد ہی یہی تھا۔ تاہم اس کے بعد دوبارہ کہہ کر وضاحت فرما دی کہ اب تورات و انجیل کا دور ختم ہوگیا اب قرآن نازل ہوچکا ہے وہ فرقان ہے اور اب صرف وہی حق و باطل کی پہچان ہے اس کو سچا مانے بغیر عند اللہ کوئی مسلمان اور مومن نہیں۔
یقیناً اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیده نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ پر کچھ چھپا ہوا نہیں زمین میں نہ آسمان میں،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک خدا پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے زمین میں اور نہ آسمان میں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ وہ ہے جس پر کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہتی ہے اور نہ آسمان میں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالقِ کل ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے «يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ» [39۔ الزمر:6] وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6،5) ➊ یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کے «عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامِ» ہونے کے لیے بھی دلیل ہیں اور سورت کے دعویٰ «اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ» کے لیے بھی۔ یہاں پہلے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی، ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے، حالانکہ وہ عرش معلیٰ پر ہے اور پھر اس طرف اشارہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ایک بندے ہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا، پھر وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں کا غلط عقیدہ ہے۔ ➋ {هُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ:} یعنی مذکر و مؤنث، سرخ یا سیاہ، کامل یا ناقص اور خوش قسمت یا بدقسمت، حتیٰ کہ عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ [دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ: ۳۲۰۸] آخر میں پھر وہی دعویٰ {”لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ“} والا دہرا دیا اور اس کی مزید دلیلیں بھی دیں کہ کائنات کا یہ سارا سلسلہ اس اکیلے کے غلبہ و قوت اور حکمت و دانائی کے ساتھ چل رہا ہے، اس کے سوا کسی میں یہ صفات نہیں، سو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے، وہ نہ مسیح کا حق ہے، نہ ان کی والدہ کا اور نہ کسی اور کا۔
وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں، جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے اُس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (خدا) وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے، تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جو رحموں میں تمھاری صورت بناتا ہے، جس طرح چاہتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خالقِ کل ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے «يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ» [39۔ الزمر:6] وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔
6۔ 1 خوب صورت یا بد صورت، مذکر یا مونث نیک بخت یا بدبخت، ناقص الخلقت یا تام الخلقت جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کس طرح ہوسکتے ہیں جو خود بھی اسی مرحلہ تخلیق سے گزر کر دنیا میں آئے ہیں جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا۔
وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے اِس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات جن لوگوں کے دلو ں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا بخلا ف اِس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ "ہمارا اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں" اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اوربعض متشابہ آیتیں ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تواس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حاﻻنکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان ﻻچکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جس میں کچھ آیتیں تو محکم ہیں۔ جو کتاب کی اصل و بنیاد ہیں اور کچھ متشابہ ہیں اب جن لوگوں کے دلوں میں کجی (ٹیڑھ) ہے۔ تو وہ فتنہ برپا کرنے اور من مانی تاویلیں کرنے کی خاطر متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ حالانکہ خدا اور ان لوگوں کے سوا جو علم میں مضبوط و پختہ کار ہیں اور کوئی ان کی تاویل (اصل معنی) کو نہیں جانتا۔ جو کہتے ہیں کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے ہیں یہ سب (آیتیں) ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت کا اثر صرف عقل والے ہی لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہماری سمجھ سے بلند آیات ٭٭
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام لحکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے «قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» [6-الأنعام:151] اور اس کے بعد کے احکامات والی اور «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں۔
سیدنا ابو فاختہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں اس لیے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی فرمان ہے مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» [39-الزمر:23] اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذِکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لیے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کر سکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہیئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا نہیں چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے کہ جن کے دِلوں میں کجی، ٹیڑھ پن، گمراہی اور حق سے باطل کی طرف پھرنا ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لیے کوئی دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، یعنی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ،» [3-آل عمران:59] یعنی عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہو جا، وہ ہو گیا، چنانچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لیے گئے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4547] یہ حدیث مختلف طرق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں ۱؎ [مسند احمد:5/262:حسن] پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لیے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذوالخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر صاف کہا کہ عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو، اس کی جنس سے ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا،۱؎ [صحیح مسلم:1064-1066] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہو گئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہو گئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے۔
ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ۱؎ [مستدرک حاکم:1/129: ضعیف] ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہو گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، ۱؎ [الدرالمنشور:2/9:ضعیف] پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذاتِ الٰہی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:1/57] یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہو گا اور آپس کی لڑائی شروع ہو گی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہو گا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کر دیں گے، ۱؎ [طبرانی کبیر:3442،قال امام ہیثمی:ضعیف] یہ حدیث بالکل غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لیے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ [ابن مردویہ] ۱؎ [مجمع الزوائد:1/171،قال الشيخ زبیرعلی زئی:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور سیدنا مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو «الا اللہ» پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور «فی العلم» پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے ایسی بات کہنی ٹھیک نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2/203] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، محمد بن جعفر بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہو جاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہو جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کیلئے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم دے}۔ ۱؎ [مسند احمد:1/266-314:صحیح] بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے «يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» [12۔یوسف:100] میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے۔ اور جگہ ہے «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» [7۔الاعراف:53] کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہو گا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہو گی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو «إِلَّا اللَّـهُ» پر وقف ضروری ہے اس لیے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو «وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» مبتدا ہو گا اور «يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ» خبر ہو گی اور یہ جملہ بالکل الگ ہو گا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئے کی تعبیر دوسری شئے سے ہوتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے «نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ» [12۔یوسف:36] ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو «فِي الْعِلْمِ» پر وقف کرنا چاہیئے، اس لیے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر «آمَنَّا بِهِ» حال ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو۔ جیسے اور جگہ ہے «لِلْفُقَرَاءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ» [59۔الحشر:8] ، سے «يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59۔ الحشر:10] تک دوسری جگہ ہے «وَّجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [89۔الفجر:22] یعنی «وجاء الملائکۃ صفوفاً صفوفاً» اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے۔
پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [4۔النسآء:82] یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دِل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرمگاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6635:ضعیف جداً] اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کر کے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو [مسند احمد] ۱؎ [مسند احمد:2/185:حسن صحیح] اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو۔ جل جلالہ۔ [ایویعلیٰ] ۱؎ [مسند احمد:2/300: صحیح]
راسخ فی العلم کون؟ ٭٭
نافع بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دِلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دِلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراطِ مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دِلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے [حدیث] «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دِلوں کے پھیرنے والے میرے دِل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا «رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» پڑھتے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6647:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑتھے تھے «اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دِل الٹ پلٹ ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دِل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے،۱؎ [مسند احمد:6/302:صحیح] ہماری دعا ہے ہمارا رب دِلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لیے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ [حدیث] «اللَّهُمَّ ربَّ محمد النبی اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَ اَجِرْنَیْ مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6649:ضعیف] اے اللہ اے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دِل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی دعا «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» سن کر اسماء رضی اللہ عنہا کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی،۱؎ [طبرانی اوسط:1553: قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:2654]
اور نسائی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے [حدیث] «لا اِلـهَ إلاّ اَنْتَ سُبْحانَكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنبِی و أَسْأَلُكَ رَحمَۃً اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلاَ تُزِغْ قَلبِی بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» ۱؎ [سنن ابوداود:5061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دِل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمد شریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورۃ الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابوعبداللہ ضابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا [عبدالرزاق] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں «قل ھو اللہ» پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیر المؤمنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
7۔ 1 محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر ونواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا اس کے برعکس آیات متشابھات ہیں مثلا اللہ کی ہستی قضا و قدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماوراء عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اس لئے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ ؑ کو عبد اللہ اور نبی کہا یہ واضح اور محکم بات ہے لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدال کرتے ہیں یہی حال اہل بدعت کا ہے قرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے ہیں وہ انہیں متشابہات کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور بسا اوقات محکمات کو بھی اپنے فلسفیانہ استدلال کے گورکھ دھندے سے متشابھات بنا دیتے ہیں اعاذنا اللہ منہ۔ ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور متشابھات کے مفہوم کو بھی اگر اس میں اشتباہ ہو محکمت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ قرآن نے انہی اصل کتاب قرار دیا ہے۔ جس سے وہ فتنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور عقائد گمراہی سے بھی جعلنا اللہ منہم 7۔ 2 تاویل کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت اس معنی کے اعتبار سے الْا اللّٰہُ پر وقف ضروری ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طور پر صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاویل کے دوسرے معنی ہیں کسی چیز کی تفسیر و تعبیر اور بیان، اس اعتبار سے الْا اللّہ پر وقف کے بجائے (وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ) 3۔ آل عمران:7) پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر کا علم رکھتے ہیں تاویل کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں (ملخص از ابن کثیر)
(آیت 7) ➊ ایک جگہ قرآن مجید کی تمام آیات کو محکم کہا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «الٓرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ» [ھود: ۱ ] ”{ الٓرٰ}، ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں۔“ اور دوسری جگہ تمام آیات کو متشابہ، چنانچہ فرمایا: «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا» [الزمر: ۲۳ ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ اور یہاں بعض آیات کو متشابہ قرار دیا ہے، بعض کو محکم، مگر اس میں کوئی تعارض نہیں۔ تمام آیات کے محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پورے قرآن میں کوئی کمی یا خرابی نہیں، نہایت مضبوط اور محکم ہے اور متشابہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام آیات فصاحت و بلاغت اور مضامین و معانی میں ایک دوسری سے ملتی جلتی ہیں۔ اس جگہ جو فرمایا کہ بعض محکم ہیں اور بعض متشابہ، تو محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح اور صریح ہے، ان میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ان کو {” اُمُّ الْكِتٰبِ “} قرار دیا ہے، یعنی اصل اور بنیاد۔ انھی آیات میں لوگوں کو دین کی طرف دعوت دی گئی ہے اور انھی میں دین کے بنیادی عقائد، عبادات اور احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں مذکور نصیحتیں اور عبرتیں بھی ان میں شامل ہیں، انسانی گمراہیوں کی نشاندہی بھی ان آیات میں کی گئی ہے۔ جبکہ متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جو ملتے جلتے کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں، اس لیے ان کا اصل مرادی معنی سمجھنے میں لوگوں کو اشتباہ ہو جاتا ہے، یا ان میں تاویل کی گنجائش نکل سکتی ہے، یا جن میں ایسے حقائق کا بیان ہے جن پر مجمل طور پر ایمان لانا تو ضروری ہے لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا نہ انسان کے لیے ضروری ہے اور نہ عقلی استعداد کے ساتھ ممکن ہے۔ تفسیر وحیدی میں لکھا ہے: ”صفاتِ الٰہیہ کے منکرین تو اللہ تعالیٰ کے استواء (عرش پر ہونے کو) اور اس کے ید (ہاتھ) اور اس کے نزول (ہر رات آسمان دنیا پر اور قیامت کے دن زمین پر اترنے) کو متشابہات قرار دے کر ان کے معنی سمجھنے ہی کو ناممکن قرار دیتے ہیں، مگر اہل حدیث انھیں محکم مانتے ہیں، ان کے معانی کو واضح سمجھتے ہیں، البتہ کیفیت کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔“ ➋ اس آیت میں نصاریٰ کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق { ”كَلِمَتُهٗ“ } اور { ”رُوْحٌ مِّنْهُ“ } وغیرہ آیات سے عیسیٰ علیہ السلام کے الٰہ ہونے اور اللہ کا بیٹا ہونے پر تو استدلال کرتے ہیں مگر دوسری آیات: «اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ» [الزخرف: ۵۹ ] ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا۔“ اور «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ» [آل عمران: ۵۹ ] ”بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے “ ان پر اور ان جیسی دیگر آیات پر دھیان نہیں دیتے۔ (ابن کثیر) ➌ { فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ:} یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اور جن کا مشغلہ ہی محض فتنہ جوئی ہوتا ہے وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں اور چونکہ وہ کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں اس لیے وہ ان سے وہ معنی نکالتے ہیں جو قرآن کی صیح اور محکم آیات کے خلاف ہوتے ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور اپنے خیال میں اس کی اصل مراد تلاش کرنے کے لیے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو { ”اُولُوا الْاَلْبَابِ“ } تک پڑھا اور پھر فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے، سو تم ان سے بچو۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «منہ آیات محکمات» : ۴۵۴۷ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔“ [أبو داوٗد، السنۃ، باب النہی عن الجدال: ۴۶۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، صحیح ] پس ضروری ہے کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو متشابہ ہے اس پر جوں کا توں ایمان رکھا جائے اور تفصیلات سے بحث نہ کی جائے۔ (فتح البیان، ابن کثیر) ➍ {وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ:} اکثر ائمہ لفظ { ”اللّٰهُ“ } پر وقف کر کے { ”وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ“ } سے نیا کلام شروع سمجھتے ہیں، یعنی متشابہات کی اصل مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور راسخ فی العلم لوگ کہتے ہیں کہ محکم و متشابہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں، ہم متشابہات کی اصل مراد نہ جانتے ہوئے بھی ان کے من عند اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ کچھ ائمہ کا کہنا ہے: { ”وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ“ } کا لفظ { ”اللّٰهُ“ } پر عطف ہے، یعنی اہل زیغ متشابہ آیات کا پیچھا فتنے کی تلاش کے لیے اور ان سے فاسد معنی مراد لینے کے لیے کرتے ہیں اور ایسے معنی نکالتے ہیں جو قرآن وحدیث کی نصوص کے خلاف ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل معنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا پختہ علم والے جو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اس لیے ان کا ایسا معنی مراد ہو ہی نہیں سکتا جو دوسری آیات و احادیث کے خلاف ہو۔ ➎ {وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ: ”الْاَلْبَابِ“ ” لُبٌّ “ } کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے۔ (راغب) جس عقل میں خواہش پرستی، بدعت یا شرک کی آمیزش ہو وہ {” لُبٌّ “} نہیں کہلاتی۔ مقصد یہ ہے کہ متشابہ کے اصل معنی تک رسائی کی توفیق اہل علم کو بھی ہوتی ہے مگر صرف ان اہل علم کو جن کی عقل ہر قسم کی خواہش پرستی، بدعت اور شرک سے پاک ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے دعا فرمائی: [ اَللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ وَ عَلِّمْهُ التَّأْوِيْلَ ] ”اے اللہ! اسے دین میں سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل کا علم عطا فرما۔“ [مستدرک حاکم: 534/3، ح: ۶۲۸۰ مسند أحمد: 266/1، ح ۲۴۰۱، صحیح ] معلوم ہوا تاویل کا علم راسخ فی العلم لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔ ➏ احسن البیان میں ہے، تاویل کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت، اس معنی کے لحاظ سے {”اِلَّا اللّٰهُ“} پر وقف ضروری ہے، کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طور پر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ تاویل کے دوسرے معنی ہیں، کسی چیز کی تفسیر اور بیان و توضیح، اس اعتبار سے{ ” اِلَّا اللّٰهُ “} پر وقف کے بجائے {” وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ “} پر بھی وقف کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر و توضیح کا علم رکھتے ہیں۔ تاویل کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص از ابن کثیر)
وہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ: "پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
(جو دعا کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! ہمیں سیدھے راستے پر لگانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے اور ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا فرما۔ یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بے حد عطا کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہماری سمجھ سے بلند آیات ٭٭
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام لحکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے «قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» [6-الأنعام:151] اور اس کے بعد کے احکامات والی اور «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں۔
سیدنا ابو فاختہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں اس لیے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی فرمان ہے مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» [39-الزمر:23] اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذِکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لیے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کر سکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہیئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا نہیں چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے کہ جن کے دِلوں میں کجی، ٹیڑھ پن، گمراہی اور حق سے باطل کی طرف پھرنا ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لیے کوئی دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، یعنی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ،» [3-آل عمران:59] یعنی عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہو جا، وہ ہو گیا، چنانچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لیے گئے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4547] یہ حدیث مختلف طرق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں ۱؎ [مسند احمد:5/262:حسن] پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لیے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذوالخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر صاف کہا کہ عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو، اس کی جنس سے ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا،۱؎ [صحیح مسلم:1064-1066] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہو گئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہو گئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے۔
ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ۱؎ [مستدرک حاکم:1/129: ضعیف] ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہو گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، ۱؎ [الدرالمنشور:2/9:ضعیف] پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذاتِ الٰہی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:1/57] یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہو گا اور آپس کی لڑائی شروع ہو گی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہو گا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کر دیں گے، ۱؎ [طبرانی کبیر:3442،قال امام ہیثمی:ضعیف] یہ حدیث بالکل غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لیے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ [ابن مردویہ] ۱؎ [مجمع الزوائد:1/171،قال الشيخ زبیرعلی زئی:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور سیدنا مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو «الا اللہ» پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور «فی العلم» پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے ایسی بات کہنی ٹھیک نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2/203] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، محمد بن جعفر بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہو جاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہو جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کیلئے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم دے}۔ ۱؎ [مسند احمد:1/266-314:صحیح] بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے «يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» [12۔یوسف:100] میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے۔ اور جگہ ہے «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» [7۔الاعراف:53] کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہو گا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہو گی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو «إِلَّا اللَّـهُ» پر وقف ضروری ہے اس لیے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو «وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» مبتدا ہو گا اور «يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ» خبر ہو گی اور یہ جملہ بالکل الگ ہو گا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئے کی تعبیر دوسری شئے سے ہوتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے «نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ» [12۔یوسف:36] ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو «فِي الْعِلْمِ» پر وقف کرنا چاہیئے، اس لیے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر «آمَنَّا بِهِ» حال ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو۔ جیسے اور جگہ ہے «لِلْفُقَرَاءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ» [59۔الحشر:8] ، سے «يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59۔ الحشر:10] تک دوسری جگہ ہے «وَّجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [89۔الفجر:22] یعنی «وجاء الملائکۃ صفوفاً صفوفاً» اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے۔
پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [4۔النسآء:82] یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دِل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرمگاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6635:ضعیف جداً] اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کر کے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو [مسند احمد] ۱؎ [مسند احمد:2/185:حسن صحیح] اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو۔ جل جلالہ۔ [ایویعلیٰ] ۱؎ [مسند احمد:2/300: صحیح]
راسخ فی العلم کون؟ ٭٭
نافع بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دِلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دِلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراطِ مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دِلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے [حدیث] «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دِلوں کے پھیرنے والے میرے دِل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا «رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» پڑھتے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6647:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑتھے تھے «اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دِل الٹ پلٹ ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دِل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے،۱؎ [مسند احمد:6/302:صحیح] ہماری دعا ہے ہمارا رب دِلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لیے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ [حدیث] «اللَّهُمَّ ربَّ محمد النبی اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَ اَجِرْنَیْ مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6649:ضعیف] اے اللہ اے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دِل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی دعا «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» سن کر اسماء رضی اللہ عنہا کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی،۱؎ [طبرانی اوسط:1553: قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:2654]
اور نسائی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے [حدیث] «لا اِلـهَ إلاّ اَنْتَ سُبْحانَكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنبِی و أَسْأَلُكَ رَحمَۃً اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلاَ تُزِغْ قَلبِی بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» ۱؎ [سنن ابوداود:5061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دِل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمد شریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورۃ الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابوعبداللہ ضابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا [عبدالرزاق] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں «قل ھو اللہ» پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیر المؤمنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9،8)یہ وہ دعا ہے جو راسخ فی العلم حضرات اللہ تعالیٰ کے حضور کرتے رہتے ہیں، ہدایت پر ثابت قدمی کی دعا کے ساتھ قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین بھی ہر وقت ان کے پیش نگاہ رہتا ہے، ان کی اصل کوشش اور دعا دنیا کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے لیے ہوتی ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: [ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰي دِيْنِكَ ] ”اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ترمذی، الدعوات، باب دعاء یا مقلب القلوب! …: ۳۵۲۲، وصححہ الألبانی ]
پروردگار! تو یقیناً سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں تو ہرگز اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کوایک دن جمع کرنے واﻻ ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہمارے پروردگار! بے شک تو ایک دن سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے۔ بلاشبہ خدا کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! بے شک تو سب لوگوں کو اس دن کے لیے جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں، بے شک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہماری سمجھ سے بلند آیات ٭٭
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام لحکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے «قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» [6-الأنعام:151] اور اس کے بعد کے احکامات والی اور «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں۔
سیدنا ابو فاختہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں اس لیے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی فرمان ہے مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» [39-الزمر:23] اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذِکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لیے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کر سکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہیئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا نہیں چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے کہ جن کے دِلوں میں کجی، ٹیڑھ پن، گمراہی اور حق سے باطل کی طرف پھرنا ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لیے کوئی دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، یعنی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ،» [3-آل عمران:59] یعنی عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہو جا، وہ ہو گیا، چنانچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لیے گئے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4547] یہ حدیث مختلف طرق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں ۱؎ [مسند احمد:5/262:حسن] پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لیے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذوالخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر صاف کہا کہ عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو، اس کی جنس سے ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا،۱؎ [صحیح مسلم:1064-1066] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہو گئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہو گئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے۔
ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ۱؎ [مستدرک حاکم:1/129: ضعیف] ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہو گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، ۱؎ [الدرالمنشور:2/9:ضعیف] پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذاتِ الٰہی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:1/57] یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہو گا اور آپس کی لڑائی شروع ہو گی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہو گا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کر دیں گے، ۱؎ [طبرانی کبیر:3442،قال امام ہیثمی:ضعیف] یہ حدیث بالکل غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لیے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ [ابن مردویہ] ۱؎ [مجمع الزوائد:1/171،قال الشيخ زبیرعلی زئی:حسن] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور سیدنا مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو «الا اللہ» پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور «فی العلم» پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے ایسی بات کہنی ٹھیک نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2/203] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، محمد بن جعفر بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہو جاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہو جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کیلئے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم دے}۔ ۱؎ [مسند احمد:1/266-314:صحیح] بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے «يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» [12۔یوسف:100] میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے۔ اور جگہ ہے «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» [7۔الاعراف:53] کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہو گا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہو گی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو «إِلَّا اللَّـهُ» پر وقف ضروری ہے اس لیے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو «وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» مبتدا ہو گا اور «يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ» خبر ہو گی اور یہ جملہ بالکل الگ ہو گا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئے کی تعبیر دوسری شئے سے ہوتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے «نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ» [12۔یوسف:36] ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو «فِي الْعِلْمِ» پر وقف کرنا چاہیئے، اس لیے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر «آمَنَّا بِهِ» حال ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو۔ جیسے اور جگہ ہے «لِلْفُقَرَاءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ» [59۔الحشر:8] ، سے «يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59۔ الحشر:10] تک دوسری جگہ ہے «وَّجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [89۔الفجر:22] یعنی «وجاء الملائکۃ صفوفاً صفوفاً» اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے۔
پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [4۔النسآء:82] یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دِل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرمگاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6635:ضعیف جداً] اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کر کے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو [مسند احمد] ۱؎ [مسند احمد:2/185:حسن صحیح] اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو۔ جل جلالہ۔ [ایویعلیٰ] ۱؎ [مسند احمد:2/300: صحیح]
راسخ فی العلم کون؟ ٭٭
نافع بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دِلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دِلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراطِ مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دِلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے [حدیث] «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دِلوں کے پھیرنے والے میرے دِل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا «رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» پڑھتے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6647:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑتھے تھے «اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دِل الٹ پلٹ ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دِل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے،۱؎ [مسند احمد:6/302:صحیح] ہماری دعا ہے ہمارا رب دِلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لیے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ [حدیث] «اللَّهُمَّ ربَّ محمد النبی اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَ اَجِرْنَیْ مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6649:ضعیف] اے اللہ اے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دِل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی دعا «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» سن کر اسماء رضی اللہ عنہا کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی،۱؎ [طبرانی اوسط:1553: قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:2654]
اور نسائی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے [حدیث] «لا اِلـهَ إلاّ اَنْتَ سُبْحانَكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنبِی و أَسْأَلُكَ رَحمَۃً اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلاَ تُزِغْ قَلبِی بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» ۱؎ [سنن ابوداود:5061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دِل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمد شریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورۃ الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابوعبداللہ ضابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا [عبدالرزاق] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں «قل ھو اللہ» پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیر المؤمنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔
جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
کافروں کوان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنم کا ایندھن ہی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ اللہ کے یہاں ان کے مال اور اولاد ہرگز ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے مال اور ان کی اولاد انھیں اللہ (کی پکڑ) سے ہرگز کچھ کام نہ آئیں گے اور وہی آگ کا ایندھن ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا ایندھن کون لوگ؟ ٭٭
فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، «يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ» [9-التوبة:85] تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [3-آلعمران:196،197] کافروں کا شہروں میں گھومنا گھامنا تجھے فریب میں نہ ڈال دے، یہ تو مختصر سا فائدہ ہے، پھر ان کی جگہ جہنم ہی ہے جو بدترین بچھونا ہے، اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کی کتابوں کو جھٹلانے والے اس کے رسولوں کے منکر اس کی کتاب کے مخالف اس کی وحی کے نافرمان اپنی اولاد اور اپنے مال سے کوئی بھلائی کی توقع نہ رکھیں، یہ جہنم کی لکڑیاں ہیں جن سے جہنم سلگائی اور بھڑکائی جائے گی، جیسے اور جگہ ہے «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» [21۔الانبیاء:98] تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ مکہ شریف میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور باآواز بلند فرمانے لگے، لوگو! کیا میں نے اللہ کی باتیں تم تک پہنچا دیں؟ لوگو! کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا؟ لوگو! کیا میں وحدانیت و رسالت کا مطلب تمہیں سمجھا چکا؟ سیدناعمررضی اللہ عنہ فرمانے لگے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ نے اللہ کا دین ہمیں پہنچایا پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم اسلام غالب ہو گا اور خوب پھیلے گا، یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ جا چھپے گا، مسلمان اسلام اپنے قول و عمل میں لیے سمندروں کو چیرتے پھاڑتے نکل جائیں گے اور اسلام کی اشاعت کریں گے، یاد رکھو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لوگ قرآن کو سیکھیں گے پڑھیں گے [پھر تکبر برائی اور اندھے پن کے طور پر] کہنے لگیں گے ہم قاری ہیں، عالم ہیں، کون ہے جو ہم سے بڑھ چڑھ کر ہو؟ کیا ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی ہو گی؟
لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں، آپ نے فرمایا وہ تم ہی مسلمانوں میں سے ہوں گے لیکن خیال رہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/90:ضعیف] ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم آپ نے بڑی حرص اور چاہت سے تبلیغ کی، آپ نے پوری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کی، آپ نے ہماری زبردست خیر خواہی کی اور بہتری چاہی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:25/27-28:ضعیف منقطع] پھر فرماتا ہے جیسا حال فرعونیوں کا تھا اور جیسے کرتوت ان کے تھے، لفظ «دَأْبِ» ہمزہ کے جزم سے بھی آتا ہے اور ہمزہ کے زبر سے بھی آتا ہے، جیسا «نَھرُ» اور «نَھَرُ» ، اس کے معنی شان عادت حال طریقے کے آتے ہیں، امرا القیس کے شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مطلب اس آیت شریف کا یہ ہے کہ کفار کا مال و اولاد اللہ کے ہاں کچھَ کام نہ آئے گا جیسے فرعونیوں اور ان سے اگلے کفار کو کچھ کام نہ آیا، اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کا عذاب درد ناک ہے، کوئی کسی طاقت سے بھی اس سے بچ نہیں سکتا نہ اسے روک سکتا ہے، وہ اللہ جو چاہے کرتا ہے، ہرچیز اس کے سامنے حقیر ہے، نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ رَب۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11،10) {”كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ“} اس کی ترکیب کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۵۲، ۵۴) یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور پہلی امتوں کو رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب ان اموال و اولاد والے کفار کو دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران، یہود، مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہو سکتے ہیں۔ (شوکانی)
اُن کا انجام ویسا ہی ہوگا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور اُن سے پہلے کے نافرمانوں کا ہو چکا ہے کہ اُنہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جیسا آل فرعون کاحال ہوا، اور ان کا جو ان سے پہلے تھے، انہوں نے ہماری آیتوں کوجھٹلایا، پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ، انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کا حال (معاملہ بھی وہی ہے) کہ جو فرعونی گروہ اور اس سے پہلے لوگوں کا تھا کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ تو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو گرفت میں لے لیا اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(ان کاحال) فرعون کی قوم اور ان لوگوں کے حال کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور اللہ بہت سخت عذاب والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہنم کا ایندھن کون لوگ؟ ٭٭
فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، «يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ» [9-التوبة:85] تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [3-آلعمران:196،197] کافروں کا شہروں میں گھومنا گھامنا تجھے فریب میں نہ ڈال دے، یہ تو مختصر سا فائدہ ہے، پھر ان کی جگہ جہنم ہی ہے جو بدترین بچھونا ہے، اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کی کتابوں کو جھٹلانے والے اس کے رسولوں کے منکر اس کی کتاب کے مخالف اس کی وحی کے نافرمان اپنی اولاد اور اپنے مال سے کوئی بھلائی کی توقع نہ رکھیں، یہ جہنم کی لکڑیاں ہیں جن سے جہنم سلگائی اور بھڑکائی جائے گی، جیسے اور جگہ ہے «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» [21۔الانبیاء:98] تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ مکہ شریف میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور باآواز بلند فرمانے لگے، لوگو! کیا میں نے اللہ کی باتیں تم تک پہنچا دیں؟ لوگو! کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا؟ لوگو! کیا میں وحدانیت و رسالت کا مطلب تمہیں سمجھا چکا؟ سیدناعمررضی اللہ عنہ فرمانے لگے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ نے اللہ کا دین ہمیں پہنچایا پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم اسلام غالب ہو گا اور خوب پھیلے گا، یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ جا چھپے گا، مسلمان اسلام اپنے قول و عمل میں لیے سمندروں کو چیرتے پھاڑتے نکل جائیں گے اور اسلام کی اشاعت کریں گے، یاد رکھو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لوگ قرآن کو سیکھیں گے پڑھیں گے [پھر تکبر برائی اور اندھے پن کے طور پر] کہنے لگیں گے ہم قاری ہیں، عالم ہیں، کون ہے جو ہم سے بڑھ چڑھ کر ہو؟ کیا ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی ہو گی؟
لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں، آپ نے فرمایا وہ تم ہی مسلمانوں میں سے ہوں گے لیکن خیال رہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/90:ضعیف] ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم آپ نے بڑی حرص اور چاہت سے تبلیغ کی، آپ نے پوری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کی، آپ نے ہماری زبردست خیر خواہی کی اور بہتری چاہی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:25/27-28:ضعیف منقطع] پھر فرماتا ہے جیسا حال فرعونیوں کا تھا اور جیسے کرتوت ان کے تھے، لفظ «دَأْبِ» ہمزہ کے جزم سے بھی آتا ہے اور ہمزہ کے زبر سے بھی آتا ہے، جیسا «نَھرُ» اور «نَھَرُ» ، اس کے معنی شان عادت حال طریقے کے آتے ہیں، امرا القیس کے شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مطلب اس آیت شریف کا یہ ہے کہ کفار کا مال و اولاد اللہ کے ہاں کچھَ کام نہ آئے گا جیسے فرعونیوں اور ان سے اگلے کفار کو کچھ کام نہ آیا، اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کا عذاب درد ناک ہے، کوئی کسی طاقت سے بھی اس سے بچ نہیں سکتا نہ اسے روک سکتا ہے، وہ اللہ جو چاہے کرتا ہے، ہرچیز اس کے سامنے حقیر ہے، نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ رَب۔
پس اے محمدؐ! جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، اُن سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کافروں سے کہہ دیجئے! کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے اور وه برا ٹھکانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمادو، کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہوگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بہت ہی برا بچھونا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول!) کافروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم (اہل اسلام کے مقابلہ میں) مغلوب ہوگے اور جہنم کی طرف محشور ہوگے اور وہ کیا بری آرام گاہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا کہ تم جلد ہی مغلوب کیے جائو گے اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائو گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولین معرکہ حق و باطل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بد ترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا: اے یہودیو! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کر لو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنونِ جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتا دیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [سیرۃ ابن ھشام:2/427:مرسل ضعیف] اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کر دیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کی اطاعت گزار امت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔ دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہو گئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی، یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دُگنے نظر آتے تھے،
مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آ کر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دَ س اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔ لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہو سکتا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا بہت ہیں، آپ نے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں، اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس، آپ نے فرمایا بس تو ان کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:2/195:مرسل ضعیف] پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنے تھے «واللہ اعلم»
لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا» [8۔ الانفال:44] یعنی جب آمنے سامنے آ گئے تو اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں کے سامنے کم کر کے دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں زیادہ کر کے دکھایا تاکہ جو کام کرنے کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا وہ ہو جائے۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دُگنے نظر آئے۔ تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/236]
اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہو جائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دِلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے، پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دِل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کر دے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آ جائے۔ مومنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ» [3-آل عمران:123] یعنی البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے، پھر فرماتا ہے «وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» [3-آل عمران:13] اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح و سالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کی اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔
12۔ 1 یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اور یہ پیش گوئی جلدی پوری ہوگئی۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نفیر جلا وطن کئے گئے بنو قریظہ قتل کئے گئے پھر خیبر فتح ہوگیا اور تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا (فتح القدیر)
(آیت 12){قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: } یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد بنو قریظہ کے قتل، بنو نضیر کے جلاوطن اور خیبر کے فتح ہو جانے سے قرآن کی یہ پیشین گوئی بحمد اللہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئی۔ (شوکانی)
تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ کی راه میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروه کافروں کا تھا وه انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے۔ یقیناً اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کافر کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں، اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے لیے ان دو گروہوں (کے حالات) میں جن کی (میدانِ بدر میں) مڈبھیڑ ہوئی تھی (صداقت رسول(ص) کی) ایک بڑی نشانی (معجزہ) موجود ہے۔ ایک گروہ خدا کی راہ میں جنگ کر رہا تھا۔ اور دوسرا گروہ کافر تھا جن کو (مسلمان) اپنی آنکھوں سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد سے جس کی چاہتا ہے، تائید و تقویت کرتا ہے بے شک اس (واقعہ) میں بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ نگاہ (عبرت رکھنے) والوں کے لیے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تمھارے لیے ان دو جماعتوں میں عظیم نشانی تھی جو ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں، ایک جماعت اللہ کے راستے میں لڑتی تھی اور دوسری کافر تھی، یہ ان کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی مدد کے ساتھ قوت بخشتا ہے، بلاشبہ اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اولین معرکہ حق و باطل ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بد ترین بچھونا ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ جب بدر کی جنگ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا: اے یہودیو! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کر لو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنونِ جنگ سے ناآشنا تھے، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتا دیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [سیرۃ ابن ھشام:2/427:مرسل ضعیف] اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کر دیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کی اطاعت گزار امت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔ دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہو گئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی، یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دُگنے نظر آتے تھے،
مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آ کر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دَ س اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔ لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہو سکتا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور نے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا بہت ہیں، آپ نے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں، اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس، آپ نے فرمایا بس تو ان کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:2/195:مرسل ضعیف] پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنے تھے «واللہ اعلم»
لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا» [8۔ الانفال:44] یعنی جب آمنے سامنے آ گئے تو اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں کے سامنے کم کر کے دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں زیادہ کر کے دکھایا تاکہ جو کام کرنے کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا وہ ہو جائے۔ پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دُگنے نظر آئے۔ تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/236]
اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہو جائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دِلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے، پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دِل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کر دے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آ جائے۔ مومنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ» [3-آل عمران:123] یعنی البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے، پھر فرماتا ہے «وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» [3-آل عمران:13] اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح و سالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کی اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔
13۔ 1 یعنی ہر فریق دوسرے فریق کو اپنے سے دوگنا دیکھتا ہے کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی انہیں مسلمان دو ہزار کے قریب دکھائی دیتے تھے مقصد اس سے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھانا تھا اور مسلمانوں کی تعداد تین سو سے کچھ اوپر (یا 313) تھی انہیں کافر 60 اور 70 کے درمیان نظر آتے تھے۔ دراں حالانکہ ان کی اصل تعداد ہزار کے قریب (3 گنا) تھی مقصد اس سے مسلمانوں کا عزم و حوصلہ میں اضافہ کرنا تھا۔ اپنے سے تین گنا دیکھ کر ممکن تھا مسلمان مرغوب ہوجاتے جب وہ تین گنا کی بجائے دو گنا نظر آئے تو ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا لیکن یہ دوگنا دیکھنے کی کیفیت ابتدا میں تھی پھر جب دونوں گروہ آمنے سامنے صف آرا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے برعکس دونوں کو ایک دوسرے کی نظروں میں کم کر کے دکھایا تاکہ کوئی بھی فریق لڑائی سے گریز نہ کرے بلکہ ہر ایک پیش قدمی کی کوشش کرے (ابن کثیر) یہ تفصیل (وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۭوَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ 44) 8:44 میں بیان کی گئی ہے۔ یہ جنگ بدر کا واقعہ ہے جو ہجرت کے بعد دوسرے سال مسلمانوں اور کافروں کے درمیان پیش آیا یہ کئی لحاظ سے نہایت اہم جنگ تھی ایک تو اس لئے کہ یہ پہلی جنگ تھی دوسرے یہ جنگی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئی مسلمان ابو سفیان کے قافلے کے لئے نکلے تھے جو شام سے سامان تجارت لے کر مکہ جارہا تھا مگر اطلاع مل جانے کی وجہ سے وہ اپنا قافلہ بچا کرلے گیا لیکن کفار مکہ اپنی طاقت و کثرت کے گھمنڈ میں مسلمانوں پر چڑھ دوڑے اور مقام بدر پر یہ پہلا معرکہ برپا ہوا تیسرے اس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی چوتھے اس میں کافروں کو عبرت ناک شکست ہوئی جس سے آئندہ کے لئے کافروں کے حوصلے پست ہوگئے۔
(آیت 13) ➊ {قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ …:} یعنی اوپر جو پیشین گوئی (یہودی) کافروں کے مغلوب اور جہنم واصل ہونے کی ذکر ہوئی ہے اس کے سچ ہونے کے لیے معرکۂ بدر میں بہت بڑی آیت (دلیل) موجود تھی۔ ➋ {يَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ: } اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ مسلمان کفار کو اپنے سے صرف دگنا دیکھ رہے تھے، حالانکہ وہ ان سے تین گنا تھے، تاکہ مسلمان ثابت قدم رہیں، چنانچہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ دوسرا یہ کہ کفار مسلمانوں کو اپنے سے دگنا دیکھ رہے تھے، حالانکہ ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی اور مسلمان کل ۳۱۳ تھے، مگر مسلمان دگنا اس لیے نظرآتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت کے لیے فرشتے بھیج دیے تھے اور اللہ اپنی نصرت کے ساتھ جسے چاہے قوت بخشتا ہے۔ اکثر مفسرین نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے دوسرے کو۔ (ابن کثیر، شوکانی) مزید دیکھیے سورۂ انفال (۴۳، ۴۴)۔
لوگوں کے لیے مرغوبات نفس، عورتیں، اولا د، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی او ر زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے، وہ تو اللہ کے پاس ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے
احمد رضا خان بریلوی
لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتوں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندے کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا
علامہ محمد حسین نجفی
لوگوں کے لیے خوش نما بنا دی گئی ہے عورتوں، بیٹوں اور ڈھیروں سونے و چاندی پر مشتمل مال کی محبت اور (عمدہ) گھوڑے، چوپائے اور کھیتی باڑی۔ یہ سب (چیزیں) دنیاوی زندگی کا اثاثہ اور متاع ہیں۔ جبکہ (آخرت کا) اچھا ٹھکانہ اور بہترین انجام خدا کے یہاں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
لوگوں کے لیے نفسانی خواہشوں کی محبت مزین کی گئی ہے، جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانیاور نشان لگائے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لیے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5096] ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کر کے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5069] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کر دے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1469] دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3392،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3393،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لیے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لیے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔
حدیث شریف میں ہے محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو۔ قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:3/158:صحیح] ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر اس کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کے لیے ہے تو بے حد بری چیز ہے۔ اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔ «قِنْطَار» کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/250] اور اقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے۔ ۱؎ [مسند احمد:2/263:حسن] غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا [واللہ اعلم] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح ابن جریر میں معاذ بن جبل اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر رحمہ اللہ کی ایک مرفوع حدیث میں بارہ سو اوقیہ آئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6698:ضعیف] لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہو جیسے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے۔ ۱؎ [طبرانی:1/268:ضعیف] مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6725:ضعیف] امام حاکم رحمہ اللہ اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔
بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا، طبرانی وغیرہ میں ہے ایک ہزار دینار۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/111:ضعیف] حسن بصری رحمہ اللہ سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں۔ بعض بارہ ہزار کا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/115] یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے۔ گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر و ثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت «وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ» [8-الأنفال:60] کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ۔
«مُسَوَّمَۃ» کے معنی چرنے والا ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/252] اور پنج کلیان [یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان] وغیرہ کے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دِل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے، ۱؎ [مسند احمد:5/170:صحیح] «انعام» سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/468:ضعیف] پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دِل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی، پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضا مندی انہیں حاصل ہو جائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لیے سورۃ برات کی آیت میں فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [9-التوبة:72] کی تھوڑی سی رضا مندی کا حاصل ہو جانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔
14۔ 1 شَھَوَات سے مراد یہاں مشتبھات ہیں یعنی وہ چیزیں جو طبعی طور پر انسان کو مرغوب اور پسندیدہ ہیں اس لئے ان میں رغبت اور ان کی محبت ناپسندیدہ نہیں ہے بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے۔ ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ ہر بالغ انسان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے زیادہ مرغوب بھی۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک عورت کو دنیا کی سب سے بہتر متاع قرار دیا ہے اس لئے اس کی محبت شریعت کے دائرے سے تجاوز نہ کرے تو یہ بہترین رفیق زندگی بھی ہے اور زاد آخرت بھی ورنہ یہی عورت مرد کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے میرے بعد جو فتنے رونما ہونگے ان میں مردوں کے لئے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کا ہے۔ اسی طرح بیٹوں کی محبت ہے اگر اس مقصد کے لئے مسلمانوں کی قوت میں اضافہ اور بقا و تکثیر نسل ہے تو محمود ہے ورنہ مزموم۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان (بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو اس لئے کہ میں قیامت والے دن دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا) اس آیت سے رھبانیت کی تردید اور تحریک خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ثابت ہوتی ہے مال ودولت سے بھی مقصود قیام معیشت صلہ رحمی صدقہ و خیرات اور امور پر خرچ کرنا اور سوال سے بچنا ہے تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو اس کی محبت بھی عین مطلوب ہے ورنہ مذموم۔ گھوڑوں سے مقصد جہاد کی تیاری دیگر جانوروں سے کھیتی باڑی اور بار برداری کا کام لینا اور زمین سے اس کی پیداوار حاصل کرنا ہو تو یہ سب پسندیدہ ہیں اور اگر مقصود محض دنیا کمانا اور پھر اس پر فخر اور غرور کا اظہار کرنا اور یاد الٰہی سے غافل ہو کر عیش و عشرت سے زندگی گزارنا ہے تو سب مفید چیزیں اس کے لئے وبال جان ثابت ہونگی۔ خزانے یعنی سونے چاندی اور مال و دولت کی فروانی اور کثرت اور وہ گھوڑے جو چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں یا جہاد کے لئے تیار کئے گئے ہوں یا نشان زدہ، جن پر امتیاز کے لئے نشان یا نمبر لگا دیا جائے (فتح القدیر و ابن کثیر)
(آیت 14) ➊ { ”الشَّهَوٰتِ“ } یہ {” شَهْوَةٌ “} کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”کسی مرغوب چیز کی طرف نفس کا کھچ جانا“ یہاں { ”الشَّهَوٰتِ“ } سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبیعت کو مرغوب ہیں، یعنی مصدر بمعنی اسم مفعول{ ” مُشْتَهَيَاتٌ “} ہے اور { ”مِنَ النِّسَآءِ“ } میں {”مِنْ“} بیانیہ ہے، یعنی وہ چیزیں یہ ہیں۔ { ”وَ الْقَنَاطِيْرِ“ } کا واحد{ ” قِنْطَارٌ “} ہے، اس کی مقدار میں مختلف اقوال ہیں، مگر سب کا حاصل یہ ہے کہ مال کثیر کو {” قِنْطَارٌ“} کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ہماری زبان میں اس کا ترجمہ ”خزانے“ ہو سکتا ہے۔ { ”مَتَاعُ“ } اس سامان کو کہا جاتا ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ حاصل یہ کہ انسان ان چیزوں کی محبت میں پھنس کر اللہ اور اس کے دین سے غافل ہو جائے اور انھیں تفاخر و زینت کا ذریعہ سمجھے اور غرور وتکبر پر اتر آئے تو یہ تمام چیزیں مذموم ہیں، ورنہ اگر ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت خیال کرتے ہوئے ذریعۂ آخرت بنایا جائے اور شریعت کی حدود میں رہ کر ان سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ مذموم و مبغوض نہیں بلکہ نہایت مرغوب و محمود ہیں۔ اصل چیز نیت اور عمل ہے، اس لیے حدیث میں ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یہ ہے: ”میرے بعد مردوں کے لیے کوئی فتنہ عورتوں سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں۔“ [بخاری، النکاح، باب ما یتقی من شؤم المرأۃ …: ۵۰۹۶، عن أسامۃ رضی اللہ عنہ ] اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”دنیا متاع (فائدہ اٹھانے کا سامان) ہے اور اس کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔“ [مسلم، النکاح، باب خیر متاع الدنیا … ۱۴۶۹، عن ابن عمرورضی اللہ عنہما] اور یہ بھی فرمایا: ”دنیا میں سے عورت اور خوشبو میرے لیے پسندیدہ بنا دی گئی ہیں۔“ [نسائی، عشرۃ النساء، باب حب النساء: ۳۳۹۱، عن أنس رضی اللہ عنہ، قال الألبانی حسن صحیح ] آیت کے آخر میں ان کو دنیاوی زندگی کا سامان قرار دے کر دنیاوی زندگی سے بے رغبتی اور آخرت میں رغبت پر زور دیا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ➋ { ”الْخَيْلِ}“ یہ اسم جمع ہے،{ ”خُيَلاَءٌ “} سے مشتق ہے، جس کا معنی تکبر ہے۔ گھوڑے کی چال میں ایک طرح کا تکبر پایا جاتا ہے۔ { ”الْمُسَوَّمَةِ“ } یہ{”سِيْمَا “} یا {”سِيْمِيَاءُ “} سے مشتق ہو تو نشان لگائے ہوئے اور {” سَوْمٌ “ } سے مشتق ہو تو چرنے کے لیے چھوڑے ہوئے گھوڑے۔ {”الْاَنْعَامِ“} یہ {”نَعَمٌ “} کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بکریاں وغیرہ اور اکثر اونٹوں پر بولا جاتا ہے۔
کہو: میں تمہیں بتاؤں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں، اُن کے لیے ان کے رب کے پا س باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہوگی، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے اللہ اپنے بندوں کے رویے پر گہری نظر رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز بتاؤں؟ تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزه بیویاں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ کی نگاه میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتادوں پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور ستھری بیبیاں اور اللہ کی خوشنودی اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہو۔ کیا میں تمہیں ان سب سے بہتر چیز بتاؤں؟ جن لوگوں نے پرہیزگاری اختیار کی ان کے لئے ان کے پروردگار کے یہاں ایسے بہشت ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ان کے علاوہ) پاک و پاکیزہ بیویاں ہیں اور (سب سے بڑی نعمت) خدا کی خوشنودی ہے۔ اور خدا (اپنے) بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتائوں، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لیے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5096] ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کر کے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5069] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کر دے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1469] دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3392،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3393،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لیے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لیے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔
حدیث شریف میں ہے محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو۔ قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:3/158:صحیح] ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر اس کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کے لیے ہے تو بے حد بری چیز ہے۔ اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔ «قِنْطَار» کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/250] اور اقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے۔ ۱؎ [مسند احمد:2/263:حسن] غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا [واللہ اعلم] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح ابن جریر میں معاذ بن جبل اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر رحمہ اللہ کی ایک مرفوع حدیث میں بارہ سو اوقیہ آئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6698:ضعیف] لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہو جیسے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے۔ ۱؎ [طبرانی:1/268:ضعیف] مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6725:ضعیف] امام حاکم رحمہ اللہ اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔
بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا، طبرانی وغیرہ میں ہے ایک ہزار دینار۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/111:ضعیف] حسن بصری رحمہ اللہ سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں۔ بعض بارہ ہزار کا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/115] یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے۔ گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر و ثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت «وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ» [8-الأنفال:60] کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ۔
«مُسَوَّمَۃ» کے معنی چرنے والا ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/252] اور پنج کلیان [یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان] وغیرہ کے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دِل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے، ۱؎ [مسند احمد:5/170:صحیح] «انعام» سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/468:ضعیف] پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دِل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی، پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضا مندی انہیں حاصل ہو جائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لیے سورۃ برات کی آیت میں فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [9-التوبة:72] کی تھوڑی سی رضا مندی کا حاصل ہو جانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔
15۔ 1 اس آیت میں اہل ایمان کو بتلایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مذکورہ چیزوں میں ہی مت کھو جانا بلکہ ان سے بہتر وہ زندگی اور نعمتیں ہیں جو رب کے پاس ہیں جن کے مستحق اہل تقویٰ ہی ہونگے اس لئے تم تقویٰ اختیار کرو اگر یہ تمہارے اندر پیدا ہوگیا تو یقینا تم دین دنیا کی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لو گے۔ 15۔ 2 پاکیزہ یعنی وہ دنیاوی میل کچیل حیض و نفاس اور دیگر آلودگیوں سے پاک ہوں گی اور پاک دامن ہونگی۔ اس سے اگلی دو آیات میں اہل تقویٰ کی صفات کا تذکرہ ہے۔
(آیت 15) دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور لفظ { ”رِضْوَانٌ“ ” رَضِيَ يَرْضَي (س)“} ناقص واوی سے مصدر ہے، اس کا مصدر {”رِضًا “} بھی آتا ہے، مگر {”رِضْوَانٌ“} میں حروف زیادہ ہونے اور تنوین برائے تعظیم ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عظیم خوشنودی “ کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمت جنت کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ ہے، اللہ نے فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [التوبۃ: ۷۲ ] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔“
یہ وہ لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ "مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچا لے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے اس لئے ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو کہتے ہیں ے رب ہمارے! ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
علامہ محمد حسین نجفی
(ان متقیوں کی صفت یہ ہے کہ) کہتے ہیں (دعا کرتے ہیں) ہمارے پروردگار! بے شک ہم ایمان لائے ہیں تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آتش دوزخ کے عذاب سے بچا۔
عبدالسلام بن محمد
جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متقیوں کا تعارف ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں۔ کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ داری کا پاس رکھنے میں برائیوں کے روکنے آپس میں ہمدردی اور خیر خواہی کرنے میں حاجت مندوں، مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے میں سخاوت سے کام لیتے ہیں اور سحری کے وقت پچھلی رات کو اٹھ اٹھ کر استغفار کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت استغفار افضل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہی فرمایا تھا کہ «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ» ۱؎ [12-يوسف:98] میں ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، اس سے مراد بھی سحری کا وقت ہے، اپنی اولاد سے فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت میں تمہارے لیے استغفار کروں گا۔
بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں جو بہت سے صحابیوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آخری تہائی باقی رہتے ہوئے آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی سائل ہے؟ جسے میں دوں، کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اسے بخشوں؟ [صحیح بخاری:1145] حافظ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں حدیث کی تمام سندوں کو اور اس کے کل الفاظ کو وارد کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول رات درمیانی اور آخری رات میں وتر پڑھے ہیں، سب سے آخری وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا سحری تک تھا۔ [صحیح بخاری:996] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو تہجد پڑھتے رہتے اور اپنے غلام نافع سے پوچھتے کیا سحر ہو گئی، جب وہ کہتے ہاں تو آپ صبح صادق کے نکلنے کی دعا استغفار میں مشغول رہتے، [تفسیر ابن ابی حاتم:2/145] سیدنا حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں سحری کے وقت میں نے سنا کہ کوئی شخص مسجد کے کسی گوشہ میں کہہ رہا ہے اے اللہ تو نے مجھے حکم کیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے مجھے بخش دے، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں حکم کیا جاتا تھا کہ ہم جب تہجد کی نماز پڑھیں تو سحری کے آخری وقت ستر مرتبہ استغفار کریں اللہ سے بخشش کی دعا کریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6754]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ { اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے، جنھیں آخرت میں مذکورہ نعمتیں حاصل ہوں گی، وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں اور جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جن کا اگلی آیت میں ذکر آ رہا ہے۔ ➋ { اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا:} اس دعا میں اپنے ایمان لانے کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے، اس سے دعا کے لیے عمل کا وسیلہ پیش کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ «اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» میں ہے۔
یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راه میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں (قول و فعل میں) سچ بولنے والے، اطاعت کرنے والے، راہِ خدا میں خیرات کرنے والے اور سحر کے وقت طلب مغفرت کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو صبر کرنے والے اور سچ کہنے والے اور حکم ماننے والے اور خرچ کرنے والے اور رات کی آخری گھڑیوں میں بخشش مانگنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متقیوں کا تعارف ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں۔ کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ داری کا پاس رکھنے میں برائیوں کے روکنے آپس میں ہمدردی اور خیر خواہی کرنے میں حاجت مندوں، مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے میں سخاوت سے کام لیتے ہیں اور سحری کے وقت پچھلی رات کو اٹھ اٹھ کر استغفار کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت استغفار افضل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہی فرمایا تھا کہ «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ» ۱؎ [12-يوسف:98] میں ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، اس سے مراد بھی سحری کا وقت ہے، اپنی اولاد سے فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت میں تمہارے لیے استغفار کروں گا۔
بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں جو بہت سے صحابیوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آخری تہائی باقی رہتے ہوئے آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی سائل ہے؟ جسے میں دوں، کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اسے بخشوں؟ [صحیح بخاری:1145] حافظ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں حدیث کی تمام سندوں کو اور اس کے کل الفاظ کو وارد کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول رات درمیانی اور آخری رات میں وتر پڑھے ہیں، سب سے آخری وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا سحری تک تھا۔ [صحیح بخاری:996] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو تہجد پڑھتے رہتے اور اپنے غلام نافع سے پوچھتے کیا سحر ہو گئی، جب وہ کہتے ہاں تو آپ صبح صادق کے نکلنے کی دعا استغفار میں مشغول رہتے، [تفسیر ابن ابی حاتم:2/145] سیدنا حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں سحری کے وقت میں نے سنا کہ کوئی شخص مسجد کے کسی گوشہ میں کہہ رہا ہے اے اللہ تو نے مجھے حکم کیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے مجھے بخش دے، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں حکم کیا جاتا تھا کہ ہم جب تہجد کی نماز پڑھیں تو سحری کے آخری وقت ستر مرتبہ استغفار کریں اللہ سے بخشش کی دعا کریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6754]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) ➊ {”اَلصّٰبِرِيْنَ“} نیکی کرنے پر، گناہ سے بچنے پر، مصیبتیں آنے پر صبر کرنے والے۔ صبر کی یہ تین قسمیں ہیں۔ {” وَ الصّٰدِقِيْنَ “ } نیت، قول اور فعل میں سچے، حکم ماننے والے، اپنا مال و جان، اپنی اولاد اور اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت خرچ کرنے والے اور یہ سب کچھ کرنے کے باوجود سحریوں (رات کی آخری گھڑیوں) میں اپنی عبادت پر مغرور ہونے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کے لیے استغفار کرنے والے۔ ➋ اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ (دیکھیے ذاریات: ۱۵ تا ۱۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، فرماتا ہے: ”کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخشوں؟“ [بخاری، التہجد، باب الدعاء …: ۱۱۴۵، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ]
اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، او ر (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے وہ انصاف پر قائم ہے اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
خود اللہ، اس کے ملائکہ اور صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ قائم و برقرار ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے جو زبردست، حکمت والا (دانا) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد ٭٭
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی محتاج ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصیت۔
«قَائِمًا» کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور «الْحَكِيمُ» تک پڑھ کر فرمایا «وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:1/166:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا «وأنا أشهد أي رَبِّ» ۱؎ [طبرانی:250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] طبرانی میں ہے سیدنا غالب قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور سیدنا اعمش رحمہ اللہ کے قریب ٹھہرا، رات کو سیدنا اعمش رحمہ اللہ تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا تو فرمایا «وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ» یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے۔ پھر کئی دفعہ «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا، میں نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہو گی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد رحمہ اللہ کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو باربار پڑھتے رہے؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں؟ میں نے کہا میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے سُن مجھ سے ابووائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10453:ضعیف جداً]
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہو گئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کر دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ» ہے اور «إِنَّ الْإِسْلَامَُ» ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں «إِنَّ» زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض و عناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔
پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [12-يوسف:108] یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوت دے رہے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» [21-الأنبياء:23] اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے؟ اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا۔
دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے «يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [7-الأعراف:158] لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25-الفرقان:1] بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:65] مسند عبدالرزاق میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے گا تو قطعاً جہنمی ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:153] مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:521]
ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:335] مسند احمد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں «لا الہٰ الا اللہ» کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی خاموش ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابوالقاسم کی مان لے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس بچے نے کہا «اشھد ان لا الہٰ الا اللہ وانک رسول اللہ» وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5657] یہی حدیث صحیح بخاری میں سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
18۔ 1 شہادت کے معنی بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعے سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔ (فتح القدیر) فرشتے اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے ناموں کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب اور سنت کے علم سے بہرہ ور ہیں۔ (فتح القدیر)
(آیت 18) ➊ {شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر دین اسلام ہے، جیسا کہ آئندہ آیت میں آ رہا ہے اور اسلام کی بنیاد توحید الٰہی پر ہے۔ اس حقیقت سے وفد نجران اور تمام دنیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ { ”شَهِدَ“ } کا معنی {” بَيَّنَ وَ اَعْلَمَ “} یعنی بیان کیا اور آگاہ کیا ہے۔ (فتح القدیر) شاہد وہ ہے جو اپنے یقینی علم کے ساتھ آگاہ کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق اور ساری کائنات میں موجود بے شمار دلائل اور نشانیوں کے ساتھ اور اپنے رسولوں کے ذریعے سے پیغام بھیج کر شہادت دی اور آگاہ کیا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس حال میں کہ وہ اپنی مخلوق کے تمام معاملات و احوال میں عدل پر قائم ہے اور اس سے بڑھ کر کس کی شہادت ہو سکتی ہے اور اس کے پاک فرشتوں اور اہل علم نے بھی یہ شہادت دی ہے۔ آیت کے آخر میں پھر وہی دعویٰ { ”لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ“ } دہرایا اور اس کی دو مزید دلیلیں پیش فرمائیں کہ وہ سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، کوئی اس پر غالب نہیں اور کمال حکمت والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ کوئی ہے تو لاؤ پیش کرو۔ ➋ { قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ:} یہ لفظ {”اللّٰهُ“} سے حال ہے۔
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے، جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا اور جو کوئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی مگر اس کے کہ انہیں علم آچکا اپنے دلو ں کی جلن سے اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک خدا کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے (دین حق میں) اختلاف نہیں کیا مگر اپنے پاس علم آجانے (اور اصل حقیقت معلوم ہو جانے) کے بعد۔ محض آپس کی شرارت و ضد اور ناحق کوشی کی بنا پر اور جو بھی آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرے گا تو یقینا خدا بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا، آپس میں ضد کی وجہ سے اور جو اللہ کی آیات کا انکار کرے تو بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد ٭٭
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی محتاج ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصیت۔
«قَائِمًا» کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور «الْحَكِيمُ» تک پڑھ کر فرمایا «وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:1/166:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا «وأنا أشهد أي رَبِّ» ۱؎ [طبرانی:250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] طبرانی میں ہے سیدنا غالب قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور سیدنا اعمش رحمہ اللہ کے قریب ٹھہرا، رات کو سیدنا اعمش رحمہ اللہ تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا تو فرمایا «وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ» یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے۔ پھر کئی دفعہ «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا، میں نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہو گی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد رحمہ اللہ کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو باربار پڑھتے رہے؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں؟ میں نے کہا میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے سُن مجھ سے ابووائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10453:ضعیف جداً]
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہو گئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کر دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ» ہے اور «إِنَّ الْإِسْلَامَُ» ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں «إِنَّ» زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض و عناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔
پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [12-يوسف:108] یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوت دے رہے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» [21-الأنبياء:23] اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے؟ اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا۔
دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے «يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [7-الأعراف:158] لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25-الفرقان:1] بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:65] مسند عبدالرزاق میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے گا تو قطعاً جہنمی ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:153] مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:521]
ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:335] مسند احمد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں «لا الہٰ الا اللہ» کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی خاموش ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابوالقاسم کی مان لے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس بچے نے کہا «اشھد ان لا الہٰ الا اللہ وانک رسول اللہ» وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5657] یہی حدیث صحیح بخاری میں سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
19۔ 1 اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے نبی آخرزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں توحید و رسالت اور آخرت پر اس طرح یقین و ایمان رکھنا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے یا کچھ اچھے عمل کرلینا یہ اسلام نہیں نہ اس سے نجات آخرت ملے گی۔ ایمان و اسلام اور دین عند اللہ قبول نہیں ہوگا۔ (الفرقان) برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ جہانوں کا ڈرانے والا ہو اور حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو یہودی یا نصرانی مجھ پر ایمان لائے بغیر فوت ہوگیا وہ جہنمی ہے۔ (صحیح مسلم) اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت کے تمام سلاطین اور بادشاہوں کو خطوط تحریر فرمائے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی (بحوالہ ابن کثیر) 19۔ 2 ْ ان کے اس باہمی اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو ایک ہی دین کے ماننے والوں نے آپس میں برپا کر رکھا تھا مثلاً یہودیوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندیاں اسی طرح عیسائیوں کے باہمی اختلا فات اور فرقہ بندیاں پھر وہ اختلافات بھی مراد ہے جو اہل کتاب کے درمیان آپس میں تھا جس کی بنا پر یہودی نصرانیوں کو اور نصرانی یہودیوں کو کہا کرتے تھے تم کسی چیز پر نہیں ہو نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور نبوت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اختلاف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اختلافات دلائل کی بنیاد پر نہیں تھے محض حسد اور بغض وعناد کی وجہ سے تھے یعنی وہ لوگ حق کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود محض اپنے خیالی دنیاوی مفاد کے چکر میں غلط بات پر جمے رہتے۔ افسوس آج مسلمان علماء کی ایک بڑی تعداد ٹھیک ان ہی کے غلط مقاصد کے لئے غلط ڈگر پر چل رہی ہے۔ 19۔ 3 یہاں آیتوں سے مراد وہ آیات ہیں جو اسلام کے دین الہی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
(آیت 19) ➊ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، یعنی اپنے آپ کو اللہ کے احکام کے تابع کر دینا، جو اس کے رسول مختلف اوقات میں لے کر آتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے آخر میں خاتم الانبیاء کو مبعوث فرمایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے سوا اپنے تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا۔ اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے سوا کوئی اور دین لے کر اللہ کے پاس جائے گا تو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا، فرمایا: «وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [آل عمران: ۸۵ ] ”اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔“ اب جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا قائل نہیں اور نہ آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنا عمل اور عقیدہ ہی درست کرتا ہے تو اس کا دین اللہ کے ہاں معتبر نہیں، خواہ وہ توحید کا قائل اور دوسرے ایمانیات کا اقرار کرتا ہو۔ ➋ { وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …: } یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء بھیجے ان سب کا دین یہی اسلام تھا۔ اہل کتاب نے یہ حقیقت جان لینے کے بعد کہ دین حق اسلام ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول اور آخری نبی ہیں، محض باہمی بغض و عناد کی بنا پر اسلام سے انحراف کیا ہے۔ آج بھی ان کے لیے صحیح روش یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور دین اسلام کو اختیار کریں۔ ➌ { سَرِيْعُ الْحِسَابِ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد محاسبہ ہونے والا ہے اور آیاتِ الٰہی سے کفر کی سزا مل کر رہے گی۔
اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، توا ن سے کہو: "میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے" پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھو: "کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟" اگر کی تو وہ راہ راست پا گئے، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں توآپ کہہ دیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے اور اہل کتاب سے اور انپڑھ لوگوں سے کہہ دیجیئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟ پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہداہت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اے محبوب! اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جومیرے پیرو ہوئے اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ کیا تم نے گردن رکھی پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے اور اللہ بندوں کو کو دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اگر یہ لوگ آپ سے خواہ مخواہ حجت بازی کریں۔ تو کہہ دو کہ میں نے اور میری پیروی کرنے والوں نے تو اپنا سر خدا کے سامنے جھکا دیا ہے (اپنے کو اس کے سپرد کر دیا ہے) اور اہل کتاب اور جو کسی کتاب کے پڑھنے والے نہیں ہیں سے کہو: کیا تم بھی اسلام لائے ہو؟ پس اگر انہوں نے اسلام کا اقرار کر لیا تو گویا ہدایت پا گئے اور اگر (اس سے) منہ موڑا تو آپ کا فرض تو صرف پہنچا دینا ہے (منوانا نہیں ہے)۔ اور اللہ (اپنے) بندوں کو خوب دیکھنے (اور پہچاننے والا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے میں نے اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دیااور اس نے بھی جس نے میری پیروی کی، اور ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کیا تم تابع ہوگئے؟ پس اگر وہ تابع ہو جائیں تو بے شک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ وحدہ لاشریک اپنی وحدت کا خود شاہد ٭٭
اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی محتاج ہے، وہ سب سے بے نیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» [4-النساء:166] یعنی لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس کتاب کے جو وہ تیری طرف اپنے علم سے اتار رہا ہے، گواہی دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے، پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصیت۔
«قَائِمًا» کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے، پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور «الْحَكِيمُ» تک پڑھ کر فرمایا «وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ» ۔ ۱؎ [مسند احمد:1/166:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا «وأنا أشهد أي رَبِّ» ۱؎ [طبرانی:250،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] طبرانی میں ہے سیدنا غالب قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور سیدنا اعمش رحمہ اللہ کے قریب ٹھہرا، رات کو سیدنا اعمش رحمہ اللہ تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا تو فرمایا «وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ» یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے۔ پھر کئی دفعہ «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ» [3-آل عمران:19] پڑھا، میں نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہو گی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد رحمہ اللہ کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو باربار پڑھتے رہے؟ کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں؟ میں نے کہا میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے سُن مجھ سے ابووائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10453:ضعیف جداً]
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہو گئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں جیسے اور جگہ ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کر دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ» ہے اور «إِنَّ الْإِسْلَامَُ» ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے، جمہور کی قرأت میں «إِنَّ» زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض و عناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔
پھر فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے امتی ہیں میرے دین پر ہیں۔ ان سب کا قول بھی یہی ہے، جیسے اور جگہ فرمایا «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [12-يوسف:108] یعنی میری راہ یہی ہے میں خوب سوچ سمجھ کر دیکھ بھال کر تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں، میں بھی اور میرے تابعدار بھی یہی دعوت دے رہے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے، اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے «لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ» [21-الأنبياء:23] اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے؟ اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا۔
دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں، قرآن پاک میں ایک جگہ ہے «يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [7-الأعراف:158] لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25-الفرقان:1] بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بن جائے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:65] مسند عبدالرزاق میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے گا تو قطعاً جہنمی ہو گا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:153] مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:521]
ایک اور حدیث میں ہے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:335] مسند احمد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی لڑکا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں «لا الہٰ الا اللہ» کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی خاموش ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابوالقاسم کی مان لے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس بچے نے کہا «اشھد ان لا الہٰ الا اللہ وانک رسول اللہ» وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5657] یہی حدیث صحیح بخاری میں سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔
20۔ 1 ان پڑھ لوگوں سے مراد مشرکین عرب ہیں جو اہل کتاب کے مقابلے میں بلعموم ان پڑھ تھے۔
(آیت 20) ➊ { فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ: } اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدق ثابت ہو جانے کے باوجود بھی اگر اہل کتاب کفر و عناد کی راہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو اپنا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور یہی حال میری پیروی کرنے والے مسلمانوں کا بھی ہے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور اُمی لوگوں، یعنی مشرکین عرب، سب سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو صراط مستقیم پر گامزن ہو جاؤ گے اور اگر روگردانی کرو گے تو میرا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب تو تمھیں اللہ ہی کو دینا ہو گا۔ ➋ اس آیت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام ملوک و امراء کو دعوتی خطوط لکھے اور اپنی عمومی رسالت کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اس امت میں سے اگر کوئی بھی یہودی ہو یا نصرانی، وہ میرے بارے میں سنے اور اس پر ایمان نہ لائے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ اصحاب النار میں سے ہو گا۔“ [مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ …: ۱۵۳ ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سرخ و سیاہ (یعنی عرب و عجم) کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ [مسند أحمد: 145/5، ح: ۲۱۳۵۷، عن أبی ذر رضی اللہ عنہ ] نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ [بخاری، التیمم، باب: ۳۳۵ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیامت تک اور تمام لوگوں کی طرف رسول ہونے پر کتاب و سنت میں بکثرت دلائل موجود ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۸) اور سبا (۲۸) حتیٰ کہ جنوں کی طرف بھی۔ دیکھیے احقاف (۳۱)۔
جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اورناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل وانصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں، تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبردے دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درناک عذاب کی،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کا مژدہ سناؤ۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو کسی حق کے بغیر قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے جو انصاف کرنے کا حکم دیتے ہیں انھیں قتل کرتے ہیں، سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل ٭٭
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بیدریغ تہ تیغ کر دیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے ۱؎ [صحیح مسلم:91] مسند ابوحاتم میں ہے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا ”اے ابوعبیدہ! بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/162:ضعیف]
ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کر دیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لیے تیار ہیں، اسی لیے فرمایا کہ انہیں درد ناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہو گا۔
21۔ 1 یعنی ان کی سرکشی و بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالا جو عدل و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت و فضیلت بھی واضح کردی۔
(آیت 22،21){اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ …:} اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے، جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے نہ صرف احکام الٰہی پر عمل کرنے سے انکار کیا بلکہ انبیاء اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جنھوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ تکبر کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: ”ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔ “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا، یا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔“ [مسند أحمد: 407/1، ح: ۳۸۶۷، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ۔ الصحیحۃ: ۲۸۱ ]
یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے، اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے اعمال دنیا وآخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہیں وہ جنکے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں اور ان کا کوئی مددگار نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ (بدنصیب) ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت و برباد ہوگئے۔ اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور ان کی مدد کرنے والے کوئی نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل ٭٭
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بیدریغ تہ تیغ کر دیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے ۱؎ [صحیح مسلم:91] مسند ابوحاتم میں ہے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا ”اے ابوعبیدہ! بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/162:ضعیف]
ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کر دیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لیے تیار ہیں، اسی لیے فرمایا کہ انہیں درد ناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہو گا۔
تم نے دیکھا نہیں جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے، اُن کا حال کیا ہے؟اُنہیں جب کتاب الٰہی کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے، تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیر جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں ایک حصہ کتاب کا دیا گیا ہے وه اپنے آپس کے فیصلوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں، پھر بھی ایک جماعت ان کی منھ پھیر کر لوٹ جاتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے انہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے روگرداں ہوکر پھر جاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے ان (علماءِ یہود) کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (تورات کے علم) سے تھوڑا سا حصہ ملا ہے جب انہیں کتابِ خدا کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے اس پر ان کا ایک گروہ پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ درآنحالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا، انھیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، پھر ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے، اس حال میں کہ وہ منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹے دعوے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بیجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کر دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہے، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہو گا؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔
23۔ 1 ان اہل کتاب سے مراد مدینے کے یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام مسلمانوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مکر و سازشوں میں مصروف رہے تاآنکہ ان کے دو قبیلے جلا وطن اور ایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔
(آیت 23){اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا …:} اس آیت میں {”كِتٰبِ اللّٰهِ“} سے مراد تورات اور انجیل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب انھیں خود ان کی کتابوں کی طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انھی کو حکم مان لو اور بتاؤ کہ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے انھیں کسی چیز کا علم ہی نہیں۔
ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں "آتش دوزخ تو ہمیں مس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز" اُن کے خود ساختہ عقیدوں نے اُن کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی وجہ ان کا یہ کہنا کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی، ان کی گڑھی گڑھائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ جرأت انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (انداز) اس لئے ہے کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ گنتی کے چند دنوں کے سوا ہمیں آتش جہنم چھوئے گی بھی نہیں۔ یہ لوگ جو افتراء پردازیاں کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ان کو دین کے بارے میں دھوکہ دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ہمیں آگ ہر گز نہ چھوئے گی، مگر چند گنے ہوئے دن اور انھیں ان کے دین میں ان باتوں نے دھوکا دیا جو وہ گھڑا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹے دعوے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بیجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کر دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہے، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہو گا؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔
24۔ 1 یعنی کتاب اللہ کے ماننے سے گریز و اعتراض کی وجہ کا یہ زعم باطل ہے کہ اول تو وہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں اور گئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے اور انہی من گھڑت باتوں نے انہی دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا ہے۔
(آیت 24){ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ …:} یعنی جس چیز نے انھیں حق سے کھلم کھلا انحراف اور بڑے سے بڑے گناہ کا بے شرمی سے ارتکاب کر لینے پر دلیر و جری بنا دیا ہے وہ یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور سزا کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے آباء و اجداد انھیں طرح طرح کی خام خیالیوں اور جھوٹی تمناؤں میں مبتلا کر گئے ہیں، کبھی وہ اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں(مائدہ: ۱۸) کبھی کہتے ہیں کہ جنت بنی ہی ہمارے لیے ہے [بقرہ: ۱۱۱ ] اور کبھی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں تھوڑی بہت سزا ہوئی بھی تو چند دن سے زیادہ نہیں ہو گی، ہمارے بزرگوں کا، جن کے ہم نام لیوا ہیں اور جن کا ہم دامن پکڑے ہوئے ہیں ان کا اللہ پر اتنا زور ہے کہ وہ چاہے بھی تو ہمیں سزا نہیں دے سکے گا۔ (مزید دیکھیے بقرہ: ۷۸ تا ۸۰) اور نصاریٰ نے تو مسئلۂ کفارہ گھڑ کے گناہوں پر سزا کا سارا معاملہ ہی ختم کر دیا ہے۔ یعنی مسیح علیہ السلام اپنی امت کے گناہوں کی پاداش میں صلیب پر چڑھ گئے جس سے امت کے تمام گناہ معاف ہو گئے۔ اب اتنا ہی کافی ہے کہ عیسائی ہو جاؤ پھر جو مرضی کرتے رہو، مسیح علیہ السلام سب گناہوں کا کفارہ ادا کر چکے ہیں۔ یہی حال اب بہت سے مسلمانوں کا ہو گیا، کوئی شیخ جیلانی کو زبردستی موت کے فرشتے سے روحیں چھین لینے والا بنا بیٹھا ہے اور کوئی حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اپنے نام لیواؤں کے گناہوں کا کفارہ سمجھ بیٹھا ہے۔ [فَإِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ]
مگر کیا بنے گی اُن پر جب ہم انہیں اُس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائیگا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس کیا حال ہوگا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کرینگے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص اپنا اپنا کیا پورا پورا دیاجائے گا اور ان پر ﻇلم نہ کیاجائے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر (بالکل پوری) دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
اس وقت ان کی کیا حالت ہوگی جب ہم ان کو ایک دن (بروزِ قیامت) اکٹھا کریں گے جس (کے آنے) میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا حال ہوگا جب ہم انھیں اس دن کے لیے جمع کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹے دعوے ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بیجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کر دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہے، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہو گا؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔
25۔ 1 قیامت والے دن ان کے یہ دعوے اور غلط عقائد کچھ کام نہ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ بےلاگ انصاف کے ذریعے سے ہر نفس کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔
(آیت 25) یعنی انھیں جان لینا چاہیے کہ قیامت کے روز جب ہمارے حضور جمع ہوں گے تو ان کا بہت برا حال ہو گا، ان کے یہ من گھڑت عقیدے ان کے کسی کام نہیں آ سکیں گے اور نہ انھیں اپنے بزرگوں سے جھوٹی محبت اور دامن گیری اللہ کے عذاب سے بچا سکے گی۔ کوئی نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کر سکے گا۔ (ترجمان)
کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جسے چاہے، چھین لے جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
یوں عرض کر، اے اللہ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے، بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)!) کہو: اے خدا تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے، ہر قسم کی بھلائی تیرے قبضہ میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لیے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا۔
اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاءعلیہم السلام کی خوبیاں آپ میں جمع کر دیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء علیہم السلام بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ کے دین اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کر دیا، اللہ تعالیٰ کا درود و سلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش باقی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین
پس فرمایا: کہو! اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، «وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ» [43-الزخرف:31] جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا «أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» ۱ ؎ [43-الزخرف:32] کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے؟ جیسے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [6-الأنعام:124] جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے۔ اور جگہ فرمایا «انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ [17-الإسراء:21] دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کر دیتا ہے، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کو گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہٰ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس «قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ» میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12796:ضعیف جداً]
26۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قوت وطاقت کا اظہار ہے شاہ کو گدا بنا دے، گدا کو شاہ بنا دے، تمام اختیارات کا مالک ہے یعنی تمام بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں تیرے سوا کوئی بھلائی دینے والا نہیں شرکاء خالق بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن ذکر صرف خیر کا کیا گیا ہے شر کا نہیں اس لئے کہ خیر اللہ کا فضل محض ہے بخلاف شر کے یہ انسان کے اپنے عمل کا بدلہ ہے جو اسے پہنچتا ہے یا اسلئے کہ شر بھی اس کے قضا وقدر کا حصہ ہے جو خیر کو متضمن ہے اس اعتبار سے اس کے تمام افعال خیر ہیں (فتح القدیر)
(آیت 26) ➊ {قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ:} سیبویہ اور خلیل نے کہا { ”اللّٰهُمَّ“ } اصل میں { ”يَااللّٰهُ“ } تھا، شروع سے ”یا“ کو حذف کیا تو آخر میں میم مشدد لگا دی۔ { ”مٰلِكَ الْمُلْكِ“ } سے پہلے بھی ”یا“ پوشیدہ ہے، اس لیے لفظ { ”مٰلِكَ“ } منصوب ہے۔ (شوکانی) گویا اس دعا میں اللہ کے ذاتی اور صفاتی دونوں ناموں سے دعا کرنا سکھایا گیا ہے۔ ➋ یہودی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حُکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمیشہ ان میں رہے گا، دوسری قوم اس کا حق نہیں رکھتی، مگر جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ایک اُمی قوم بنی اسماعیل سے مبعوث ہو گئے تو ان کے غیظ و غضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی والا اور ساری بادشاہی کا مالک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نواز دیتا ہے۔ لہٰذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا پسند فرما لیا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمھیں اس دنیا میں غلبہ و اقتدار حاصل ہو گا اور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے، لہٰذا تمھیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ۔ ➌ { ”الْخَيْرُ“ } میں الف لام استغراق کا ہے اور {”بِيَدِكَ“} خبر پہلے آنے سے تخصیص پیدا ہو گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے “کیا گیا ہے۔
رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے اور بے جان میں سے جاندار کو اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے، تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو دن کا حصّہ رات میں ڈالے اور رات کا حصہ دن میں ڈالے اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے اور جسے چاہے بے گنتی دے،
علامہ محمد حسین نجفی
تو ہی رات کو (بڑھا کر) دن میں اور دن کو (بڑھا کر) رات میں داخل کرتا ہے اور تو جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی عطا کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور تو مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لیے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا۔
اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاءعلیہم السلام کی خوبیاں آپ میں جمع کر دیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء علیہم السلام بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ کے دین اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کر دیا، اللہ تعالیٰ کا درود و سلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش باقی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین
پس فرمایا: کہو! اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، «وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ» [43-الزخرف:31] جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا «أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» ۱ ؎ [43-الزخرف:32] کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے؟ جیسے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [6-الأنعام:124] جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے۔ اور جگہ فرمایا «انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ [17-الإسراء:21] دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کر دیتا ہے، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کو گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہٰ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس «قُلِ اللَّـهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ» میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12796:ضعیف جداً]
27۔ 1 رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مطلب موسمی تغیرات ہیں رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہوجاتا ہے اور دوسرے موسم میں اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یعنی کبھی رات کا حصہ دن میں اور کبھی دن کا حصہ رات میں داخل کردیتا ہے جس سے رات اور دن چھوٹے بڑے ہوجاتے ہیں۔ 27۔ 2 جیسے نطفہ (مردہ) پہلے زندہ انسان سے نکلتا ہے۔ پھر اس مردہ (نطفہ) سے انسان اسی طرح مردہ انڈے سے پہلے مرغی پھر زندہ مرغی سے انڈہ (مردہ) یا کافر سے مومن اور مومن سے سے کافر پیدا فرماتا ہے بعض روایات میں ہے کہ معاذ ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آیت (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 3:26 پڑھا کرو یہ دعا کرو (رَحْمَان الدُنْیَا وَلْاآخِرَۃِو رحیمھما تعطی من تشاء منھما رتمنع من تشاء ارحمنی رحمۃ تغنینی بھا عن رحمۃ من سواک اللھم اغننی من الفقر واقض عنی الدین)۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ ایسی دعا ہے کہ تم پر احد پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا تمہارے لئے انتظام فرما دے گا۔ (مجمع الزوائد)
(آیت 27) ➊ { تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ:} اس سے موسموں کے اعتبار سے رات اور دن کے بڑھنے اور گھٹنے کی طرف اشارہ ہے، ایک ہی وقت کبھی رات کا حصہ بن جاتا ہے اور کبھی دن کا۔ اس طرح رات دن میں داخل ہو جاتی ہے اور دن رات میں۔ ➋ {وَ تُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ …:} مردہ سے زندہ، یعنی کافر سے مسلمان، جیسے آزر سے ابراہیم علیہ السلام، نطفہ سے حیوان، انڈے سے پرندہ اور زندہ سے مردہ جیسے نوح علیہ السلام سے کنعان اور حیوان اور پرندے سے نطفہ اور انڈا۔ ➌ طبرانی کی ایک روایت میں اس آیت کے اندر اسم اعظم ہونے کا ذکر ہے۔ {”هداية المستنير“} میں اس روایت کو ایک راوی محمد بن زکریا غلابی کی وجہ سے موضوع کہا گیا ہے اور ”الضعیفہ (۲۷۷۲)“ سے {”ضَعِيْفٌ جِدًّا“} کا حکم نقل کیا گیا ہے۔
مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرز عمل اختیار کر جاؤ مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جوایسا کرے گا وه اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(خبردار) اہل ایمان، اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست (اور سرپرست) نہ بنائیں۔ اور جو ایسا کرے گا۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق اور سروکار نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ تمہیں ان (کافروں) سے خوف ہو تو پھر (بقصد تقیہ اور بچاؤ) ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور خدا تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایمان والے مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں مگر یہ کہ تم ان سے بچو، کسی طرح بچنا اور اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ترک موالات کی وضاحت ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ ترک موالات کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا» [4-النساء:144] مسلمانوں کو کفار سے دوستی اور محض محبت کرنا مناسب نہیں بلکہ انہیں آپس میں ایمان داروں سے میل ملاپ اور محبت رکھنی چاہیئے، پھر انہیں حکم سناتا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس سے اللہ بالکل بیزار ہو جائے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ» [60-الممتحنة:1] یعنی مسلمانوں میرے اور اپنے دشمنوں سے دوستی نہ کیا کرو۔ اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ» [5-المائدة:51] مومنو یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہے۔ دوسری جگہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ» [8-الأنفال:73] پروردگار عالم نے مہاجر انصار اور دوسرے مومنوں کے بھائی چارے کا ذکر کر کے فرمایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست ہیں تم بھی آپس میں اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیل جائے گا اور زبردست فساد برپا ہو گا۔ البتہ ان لوگوں کو رخصت دے دی گئی جو کسی شہر میں کسی وقت ان کی بدی اور برائی سے ڈر کر دفع الوقتی کے لیے بظاہر کچھ میل ملاپ ظاہر کریں لیکن دل میں ان کی طرف رغبت اور ان سے حقیقی محبت نہ ہو، جیسے صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بعض قوموں سے کشادہ پیشانی سے ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6131] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہار کرے لیکن عمل میں ان کا ساتھ ایسے وقت میں بھی ہرگز نہ دے، یہی بات اور مفسرین سے بھی مروی ہے اور اسی کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے۔ «مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ» [16-النحل:106] جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے ان مسلمانوں کے جن پر زبردستی کی جائے مگر ان کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔
بخاری میں ہے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6940] ۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔ یعنی اپنے دبدبے اور اپنے عذاب سے اس شخص کو خبردار کئے دیتا ہے جو اس کے فرمان کی مخالفت کر کے اس کے دشمنوں سے دوستی رکھے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کرے۔ پھر فرمایا اللہ کی طرف لوٹنا ہے ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ وہیں ملے گا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے بنی اود! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں جان لو کہ اللہ کی طرف پھر کر سب کو جانا ہے پھر یا تو جنت ٹھکانا ہو گا یا جہنم۔
28۔ 1 اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اہل ایمان کا ولی قرار دیا ہے۔ (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2:257 یعنی اللہ اہل ایمان کا ولی ہے مطلب یہ ہوا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کیساتھ خصوصی تعلق ہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی (دوست) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی دشمن ہیں۔ تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہوسکتا ہے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات (دوستی) اور ان سے خصوصی تعلق قائم کرنے سے گریز کریں۔ البتہ حسب ضرورت و مصلحت ان سے صلح و معاہدہ بھی ہوسکتا ہے اور تجارتی لین دین بھی۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے دشمن نہ ہوں ان سے حسن سلوک اور مدارات کا معاملہ بھی جائز ہے (جس کی تفصیل سورة ممتحنہ میں ہے) کیونکہ یہ سارے معاملات، موالات (دوستی و محبت) سے مختلف ہے۔ 28۔ 2 یہ اجازت ان مسلمانوں کے لئے ہے جو کسی کافر کی حکومت میں رہتے ہوں کہ ان کے لئے اگر کسی وقت اظہار دوستی کے بغیر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو تو وہ زبان سے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں۔
(آیت 28) ➊ {لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ …:} جب اکیلا اللہ تعالیٰ ہی بادشاہی کا مالک، عزت و ذلت دینے والا اور ہر خیر والا ہے تو ایمان والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھیں، کسی فائدے کی امید پر اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ رکھیں اور جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی دوستی میں سے ذرہ برابر حصہ بھی نہیں ہو گا۔ ہاں، ان کے شر سے کسی طرح بچنے کے لیے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار جائز ہے، جب کہ دل میں ان کے کفر کی وجہ سے نفرت ہو۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے خلاف نہ لڑتے ہوں اور نہ کسی لڑنے والے کی مدد کرتے ہوں تو ان سے حسن سلوک اور مدارات جائز ہے۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ (۸، ۹)۔ ➋ {اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً:} لفظ {”تُقٰىةً“ ” وَقٰي يَقِيْ“} سے مصدر ہے، تنوین کی وجہ سے ”کسی طرح بچنا“ ترجمہ کیا ہے۔ ”تقیہ“ بھی اس کا ہم معنی ہے۔ طبری اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مومنوں کو منع کیا ہے کہ وہ کافروں سے دلی دوستی رکھیں، الا یہ کہ کافر ان پر غالب ہوں تو ان کے لیے نرمی کا اظہار کریں، مگر دین میں ان کی مخالفت کریں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۵۱، ۵۶) اور تقیہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۱۰۶)۔ ان آیات سے کسی مسلمان کے لیے مسلمانوں کے ملک کو چھوڑ کر کفار کے ملک میں رہنے کی کراہت بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ وہاں مسلمان کے لیے کفار سے دوستی کے عملی ثبوت کے بغیر رہنا اور اپنے اور اہل و عیال کے دین کو بچانا مشکل ہے، اس لیے اگر کوئی مسلمان کہیں مغلوب ہے تو اسے جان بچانے کے لیے دوستی کا اظہار تو جائز ہے، مگر وہاں سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے علاقے میں آنا لازم ہے۔ ہاں، بے بس ہو تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات مسلم حکومتوں کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتی ہیں اور انفرادی معاملات میں مدارات کی بھی، جیسا کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم بعض لوگوں کے سامنے مسکراتے ہیں، جب کہ ہمارے دل ان پر لعنت کر رہے ہوتے ہیں۔“ [بخاری، الأدب، باب المداراۃ مع الناس …، قبل ح: ۶۱۳۱ ]
اے نبیؐ! لوگوں کو خبردار کر دو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اُسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ بہرحال اسے جانتا ہے، زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اُس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ خواه تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواه ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ (بہرحال) جانتا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیجئے! جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے، تم اسے چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو، بہرحال خدا اسے جانتا ہے۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر تم اسے چھپائو جو تمھارے سینوں میں ہے، یا اسے ظاہر کرو اللہ اسے جان لے گا اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں، پہاڑوں میں، سمندروں میں، آسمانوں میں، ہواؤں میں، سوراخوں میں، غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیئے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیئے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیئے، وہ عالم بھی ہے اور قادر بھی ہے ممکن ہے کسی کو ڈھیل دیدے لیکن جب پکڑے گا تب دبوچ لے گا پھر نہ مہلت ملے گی نہ رخصت، ایک دن آنے والا ہے جس دن تمام عمر کے برے بھلے سب کام سامنے رکھ دئیے جائیں گے، نیکیوں کو دیکھ کر خوشی ہو گی اور برائیوں پر نظریں ڈال کر دانت پیسے گا اور حسرت و افسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں ان سے کوسوں دور رہتا اور پرے ہی پرے رہتا۔
قرآن نے اور جگہ فرمایا «يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] سب گزری ہوئی باتیں اس دن پیش کر دی جائیں گی، شیطان جو اس کے ساتھ دنیا میں رہتا تھا اور اسے برائیوں پر اکساتا تھا اس سے بھی اس دن بیزاری کرے گا اور کہے گا «يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ» [43-الزخرف:38] کیا اچھا ہوتا کہ اے شیطان میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا وہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اپنے نیک بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اس کے لطف و کرم سے کبھی ناامید نہ ہوں وہ نہایت ہی مہربان بہت رحم اور پیار رکھنے والا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی اس کی سراسر مہربانی و لطف و محبت ہے کہ اس نے اپنے سے نہیں بلکہ اپنے عذاب سے اپنے بندوں کو ڈرایا، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/202] یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم بندوں کو بھی چاہے کہ صراط مستقیم سے قدم نہ ہٹائیں دین پاک کو نہ چھوڑیں رسول اللہ کی فرمانبرداری سے منہ نہ موڑیں۔
وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا برائی اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ہر جان نے جو بھلا کیا حاضر پائے گی اور جو برا کام کیا، امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن کو یاد کرو جب ہر شخص اس بھلائی کو اپنے سامنے پائے گا جو اس نے کی ہوگی۔ اور برائی کو بھی (جنہیں دیکھ کر) خواہش کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے برے اعمال کے درمیان بڑا فاصلہ ہوتا۔ اور خدا تمہیں اپنی ذات (اپنے عذاب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہر شخص حاضر کیا ہوا پائے گا جو اس نے نیکی میں سے کیا اور وہ بھی جو اس نے برائی میں سے کیا، چاہے گا کاش! اس کے درمیان اور اس کے درمیان بہت دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں سے بے حد نرمی کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں، پہاڑوں میں، سمندروں میں، آسمانوں میں، ہواؤں میں، سوراخوں میں، غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیئے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیئے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیئے، وہ عالم بھی ہے اور قادر بھی ہے ممکن ہے کسی کو ڈھیل دیدے لیکن جب پکڑے گا تب دبوچ لے گا پھر نہ مہلت ملے گی نہ رخصت، ایک دن آنے والا ہے جس دن تمام عمر کے برے بھلے سب کام سامنے رکھ دئیے جائیں گے، نیکیوں کو دیکھ کر خوشی ہو گی اور برائیوں پر نظریں ڈال کر دانت پیسے گا اور حسرت و افسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں ان سے کوسوں دور رہتا اور پرے ہی پرے رہتا۔
قرآن نے اور جگہ فرمایا «يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] سب گزری ہوئی باتیں اس دن پیش کر دی جائیں گی، شیطان جو اس کے ساتھ دنیا میں رہتا تھا اور اسے برائیوں پر اکساتا تھا اس سے بھی اس دن بیزاری کرے گا اور کہے گا «يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ» [43-الزخرف:38] کیا اچھا ہوتا کہ اے شیطان میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا وہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اپنے نیک بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اس کے لطف و کرم سے کبھی ناامید نہ ہوں وہ نہایت ہی مہربان بہت رحم اور پیار رکھنے والا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی اس کی سراسر مہربانی و لطف و محبت ہے کہ اس نے اپنے سے نہیں بلکہ اپنے عذاب سے اپنے بندوں کو ڈرایا، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/202] یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم بندوں کو بھی چاہے کہ صراط مستقیم سے قدم نہ ہٹائیں دین پاک کو نہ چھوڑیں رسول اللہ کی فرمانبرداری سے منہ نہ موڑیں۔
اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ، "اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میر ی پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول! میری محبت کے دعویداروں سے) کہہ دیں کہ اگر تم خدا سے (سچی) محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گااور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹا دعویٰ ٭٭
اس آیت نے فیصلہ کر دیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمد یہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والابن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین صرف اللہ کے لیے محبت اور اسی کے لیے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہو جائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہو سکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ» [3-آل عمران:81] کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
31۔ 1 یہود اور نصاری دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ کو ہم سے محبت ہے بالخصوص عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ و مریم علہما السلام کی تعظیم و محبت میں اتنا غلو کیا کہ انہیں درجہ الوہیت پر فائز کردیا اس کی بابت بھی ان کا خیال تھا کہ ہم اس طرح اللہ کا قرب اور اس کی رضا و محبت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے دعو وں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی پیروی کرو۔ اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کردیا ہے کہ محبت الہٰی کا طالب اگر اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر تو یقینا وہ کامیاب ہے اور اپنے دعوی میں سچا ہے ورنہ وہ جھوٹا بھی ہے اور اس مقصد کے حصول میں ناکام بھی رہے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان " جس نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا معاملہ نہیں ہے یعنی ہمارے بتلائے ہوئے طریقے سے مختلف ہے تو وہ مسترد ہے "۔ 31۔ 2 یعنی پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ہونگے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاؤ گے۔ اور یہ کتنا اونچا مقام ہے کہ بارگاہ الٰہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے۔
(آیت 31){قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ …: } یہود و نصاریٰ اور مشرکین سبھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ رکھتے تھے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو اب اس دعویٰ کے سچا ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ مجھے نبی مان کر میری پیروی اختیار کرو، اس سے نہ صرف تمھاری اللہ سے محبت قبول ہو گی بلکہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا، تم اللہ کے محبوب بن جاؤ گے اور وہ تمھارے گناہ بھی بخش دے گا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جو کوئی کسی کی محبت کا دعویٰ کرے تو اس طرح محبت کرے جس طرح محبوب چاہے، نہ کہ جس طرح اپنا جی چاہے اور اسی طرح چاہے تو محبوب اس کو چاہے۔“ (موضح) اس خطاب کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے کہ اگر تم کو اللہ کی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لیے زبانی اظہار محبت کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے تمام اقوال و افعال میں میری پیروی اختیار کرو۔ اپنے پاس سے گھڑے ہوئے طریقوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہو سکتی، اسی لیے حدیث میں بدعت کی شدید مذمت آئی ہے۔
اُن سے کہو کہ "اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو" پھر تم اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منھ پھیر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر،
علامہ محمد حسین نجفی
کہہ دیں خدا اور رسول(ص) کی اطاعت و فرماں برداری کرو اور اگر روگردانی کریں تو بے شک خدا کافروں (نافرمانوں) کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اللہ اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹا دعویٰ ٭٭
اس آیت نے فیصلہ کر دیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمد یہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والابن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین صرف اللہ کے لیے محبت اور اسی کے لیے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہو جائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہو سکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ» [3-آل عمران:81] کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
32۔ 1 اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر تاکید کر کے واضح کردیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعوے دار ہوں۔ اس آیت میں پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گریز کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(آیت 32) ➊ {قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:} پچھلی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کا حکم تھا جس کا معنی آپ کے نقش قدم پر چلنا، آپ کی پیروی کرنا ہے، اگرچہ اتباع میں حکم ماننا بھی آ جاتا ہے مگر اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا خاص طور پر الگ ذکر فرمایا، جس کا معنی حکم ماننا ہے۔ آگے فرمایا کہ اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ ایسے کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔ یہاں بات صاف سمجھ میں آ رہی ہے کہ بات مختصر کر دی گئی ہے، جو اس طرح تھی کہ اگر وہ منہ پھیر لیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ایسے کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ { ”الْكٰفِرِيْنَ“ } میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”ایسے کافروں“ کیا گیا ہے۔ ➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ { ”الرَّسُوْلَ“ } یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا مستقل حیثیت سے حکم دیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد {”الرَّسُوْلَ“} کی اطاعت سنت کی پیروی ہی سے ہو سکتی ہے۔ بعض لوگ غلط فہمی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں کہ حدیث وہی حجت ہو گی جو قرآن کے مطابق ہو، حالانکہ قرآن نے متعدد مواقع پر حدیث کو مستقل دلیل اور شریعت کے ماخذ کی حیثیت دی ہے، لہٰذا قانون کا ماخذ قرآن و حدیث دونوں قرار پائیں گے۔ حدیث میں قرآن سے زائد حکم تو ہو سکتے ہیں مگر کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہے، اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے تو یہ اس کی عقل و فہم کا قصور ہے، یا اس کی نیت کا فتور۔ مزید دیکھیے سورۂ نجم (۴)۔ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اور اس کے پاس میرے حکم میں سے کوئی حکم آئے، ان چیزوں میں سے جن کا میں نے حکم دیا ہے، یا میں نے منع کیا تو وہ کہے، ہم نہیں جانتے، ہم اللہ کی کتاب میں جو پائیں گے اسی کی پیروی کریں گے۔“ [أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ: ۴۶۰۵، عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ ]
اللہ نے آدمؑ اور نوحؑ اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے) منتخب کیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو، ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرما لیا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آ ل اولاد اور عمران کی آ ل کو سارے جہاں سے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ نے آدم، نو ح، خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو سارے جہانوں سے منتخب کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ نے آدم اور نوح کو اور ابراہیم کے گھرانے اور عمران کے گھرانے کو جہانوں پر چن لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے پہلے نبی ٭٭
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہرچیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لیے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہو گئی توسیدنا نوح علیہ السلام کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، سیدنا نوح علیہ السلام نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی توسیدنا نوح علیہ السلام کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔
خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کر لیا، عمران نام ہے مریم کے والد صاحب کا جو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن امون بن میثابن خرقیابن اخریق بن موثم بن عزار یا بن امیصا بن یاوش بن اجریھو بن یازم بن یھفا شاط بن ایشابن ایان بن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورۃ الانعام کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ الرحمن»
33۔ 1 انبیاء ؑ کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم ؑ کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم ؑ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم ؑ کی والدہ کا نام مفسرین نے حنّہ بنت فاقوذ لکھا ہے (تفسیر قرظبی و ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی ان میں پہلے حضرت آدم ؑ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ دوسرے حضرت نوح ؑ ہیں انہیں اس وقت کا رسول بنا کر بھیجا گیا جب لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا انہیں عمر طویل عطا کی گئی انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی لیکن چند افراد کے سوا کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ بالآخر آپ کی بددعا سے اہل ایمان کے سوا دوسرے تمام لوگوں کو غرق کردیا گیا آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی گئی کہ ان میں انبیاء و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے حتیٰ کہ کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے اسماعیل ؑ کی نسل سے ہوئے۔
(آیت 33){اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى …:} اوپر کی آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اطاعت کا حکم دیا ہے، اب اس آیت میں آپ کی رسالت کے اثبات کے سلسلہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی اس خاندان نبوت سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے (کیونکہ آپ آل ابراہیم سے ہیں)۔ (شوکانی) عمران نام کی دو شخصیتیں گزری ہیں، ایک موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے والد اور دوسرے مریم علیھا السلام کے والد۔ اکثر مفسرین نے یہاں دوسرے عمران مراد لیے ہیں، کیونکہ انھی کی آل (مریم و عیسیٰ علیہما السلام) کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر، رازی) غالباً اس سورت کا نام بھی اسی قصہ کی بنا پر رکھا گیا ہے۔
یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے اور اللہ سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو ایک نسل ہے جن کے بعض بعض سے ہیں (یہ اولاد ہے ایک دوسرے کی) اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسی نسل جس کا بعض بعض سے ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے پہلے نبی ٭٭
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہرچیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لیے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہو گئی توسیدنا نوح علیہ السلام کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، سیدنا نوح علیہ السلام نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی توسیدنا نوح علیہ السلام کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔
خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کر لیا، عمران نام ہے مریم کے والد صاحب کا جو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن امون بن میثابن خرقیابن اخریق بن موثم بن عزار یا بن امیصا بن یاوش بن اجریھو بن یازم بن یھفا شاط بن ایشابن ایان بن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورۃ الانعام کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ الرحمن»
34۔ 1 یا دوسرے معنی ہیں دین میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار۔
(آیت 34){ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ: } گویا سب انبیاء آدم علیہ السلام، پھر نوح علیہ السلام، پھر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور چونکہ عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام اور پھر آل عمران سے تھے، لہٰذا وہ بھی انسان تھے، اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ یہاں سے اہل نجران اور دوسرے نصرانیوں کے عقیدے کے ابطال کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا قصہ شروع ہوتا ہے۔
(وہ اُس وقت سن رہا تھا) جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ، "میرے پروردگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا میری اس پیشکش کو قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مانی، تو میری طرف سے قبول فرما! یقیناً تو خوب سننے واﻻ اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے رب میرے! میں تیرے لئے منت مانتی ہو جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تو تو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی سنتا جانتا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کو یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اسے میں (دنیا کے کاموں سے) آزاد کرکے (خانہ کعبہ کی) جاروب کشی اور تیری عبادت کے لئے تیری بارگاہ میں نذر کرتی ہوں تو میری (نذر) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے رب ! بے شک میں نے تیرے لیے اس کی نذر مانی ہے جو میرے پیٹ میں ہے کہ آزاد چھوڑا ہوا ہو گا، سو مجھ سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم بنت عمران علیہا السلام ٭٭
عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا سیدہ مریم علیہما السلام کی والدہ تھیں محمد اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہو گیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے، اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہو گا یا لڑکی جب بچہ پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لیے تو لڑکا ہونا چاہیئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کر چکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، «وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ» بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی سیدہ حنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی اور ”تا“ کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے، اور فرماتی ہے کہ مرد عورت برابر نہیں، میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا۔ اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا ملاحظہ ہو بخاری مسلم، ۱؎ [صحیح مسلم:2315] انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا، یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے۱؎ [صحیح بخاری:5470]
ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں؟ فرمایا عبدالرحمٰن نام رکھو ۱؎ [صحیح بخاری:6189] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہو گئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو [یعنی ڈرا دینے والا] ۱؎ [صحیح بخاری:6191] ۔ مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم،۔ لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی۔ «واللہ اعلم»
مریم علیہما السلام کی والدہ صاحبہ پھر اپنی بچی کو اور اس کی ہونے والی اولاد کو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ام مریم ڑجی اللہ عنہما کی اس دعا کو قبول فرمایا۔ چنانچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن مریم اور عیسیٰ اس سے بچے رہے، اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ» [3-آل عمران:36] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے۔ یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4548] کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6887] ایک حدیث میں صرف عیسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3286]
35۔ 1 مُحَرّرَا (تیرے نام آزاد) کا مطلب تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لئے وقف۔
(آیت 35) تفاسیر میں عمران کی بیوی کا نام {”حَنَّه “} مذکور ہے اور یہ کہ دمشق کے بیرونی حصے میں ان کی قبر ہے، مگر ان دونوں باتوں کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اس زمانے میں دستور تھا کہ بعض لڑکوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کرکے اللہ تعالیٰ کی نذر کر دیتے اور عبادت خانے کے سپرد کر دیتے۔ عمران کی بیوی حاملہ تھیں، انھوں نے بھی یہی نذر مانی۔ {”مُحَرَّرًا“} کے معنی ہیں کہ وہ صرف مسجد کی خدمت ہی کے لیے وقف رہے گا۔ (قرطبی)
پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا "مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی اور لڑکا لڑ کی کی طرح نہیں ہوتا خیر، میں نے اس کا نام مریمؑ رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب بچی کو جنا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی، اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اوﻻد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں میں نے اس کا نام مریم رکھا، میں اسے اور اس کی اوﻻد کو شیطان مردود سے تیری پناه میں دیتی ہوں
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب اسے جنا بولی، اے رب میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ جو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی، اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب اس کے یہاں وہ (بچی) پیدا ہوئی۔ تو اس نے کہا: اے میرے پروردگار! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے (میں تو یہ لڑکی جنی ہوں) حالانکہ خدا خود خوب جانتا ہے کہ وہ کیا جنی ہے۔ اور وہ جانتا ہے کہ لڑکا، لڑکی یکساں نہیں ہوتے۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم (کے شر) سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب اس نے اسے جنا تو کہا اے میرے رب! یہ تو میں نے لڑکی جنی ہے اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو اس نے جنا اور لڑکا اس لڑکی جیسا نہیں، اور بے شک میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مریم بنت عمران علیہا السلام ٭٭
عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا سیدہ مریم علیہما السلام کی والدہ تھیں محمد اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہو گیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے، اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہو گا یا لڑکی جب بچہ پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لیے تو لڑکا ہونا چاہیئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کر چکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، «وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ» بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی سیدہ حنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی اور ”تا“ کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے، اور فرماتی ہے کہ مرد عورت برابر نہیں، میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا۔ اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا ملاحظہ ہو بخاری مسلم، ۱؎ [صحیح مسلم:2315] انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا، یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے۱؎ [صحیح بخاری:5470]
ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں؟ فرمایا عبدالرحمٰن نام رکھو ۱؎ [صحیح بخاری:6189] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہو گئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو [یعنی ڈرا دینے والا] ۱؎ [صحیح بخاری:6191] ۔ مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم،۔ لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی۔ «واللہ اعلم»
مریم علیہما السلام کی والدہ صاحبہ پھر اپنی بچی کو اور اس کی ہونے والی اولاد کو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ام مریم ڑجی اللہ عنہما کی اس دعا کو قبول فرمایا۔ چنانچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن مریم اور عیسیٰ اس سے بچے رہے، اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ» [3-آل عمران:36] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے۔ یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4548] کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6887] ایک حدیث میں صرف عیسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3286]
36۔ 1 اس جملے میں حسرت کا اظہار بھی ہے اور عذر کا بھی۔ حسرت اس طرح کہ میری امید کے برعکس لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لئے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا اور یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتا تھا۔ اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے (فتح القدیر) 36۔ 2 حافظ ابن کثیر نے اس سے اور حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے بچے کا نام ولادت کے پہلے روز رکھنا چاہیے اور ساتویں دن نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دے دیا۔ لیکن حافظ ابن القیم نے تمام احادیث پر بحث کر کے آخر میں لکھا ہے کہ پہلے روز، تیسرے روز یا ساتویں روز نام رکھا جاسکتا ہے، اس مسئلے میں گنجائش ہے۔ 36۔ 3 اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی چناچہ حدیث صحیح میں ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو مس کرتا ہے (چھوتا) ہے۔ جس سے وہ چیختا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مس شیطان سے حضرت مریم (علیہا السلام) کو اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو محفوظ رکھا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر)
(آیت 36) ➊ {وَ لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى:} بظاہر تو کہنا چاہیے تھا کہ لڑکی لڑکے جیسی نہیں مگر الٹ فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ لڑکا جو عمران کی بیوی کے ذہن میں تھا اس لڑکی جیسا نہیں ہو سکتا جو انھیں عطا کی گئی۔ { ”الذَّكَرُ“ } اور {”اَلْاُنْثٰى“} میں الف لام عہد ذہنی کا ہے۔ ➋ { وَ اِنِّيْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ:} اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے ساتھ ہی نام رکھا جا سکتا ہے، ساتویں دن کا انتظار ضروری نہیں، بلکہ ساتواں دن نام رکھنے کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے گھر بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اپنے باپ (ابراہیم علیہ السلام) کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔“ [مسلم، الفضائل، باب رحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبیان …:۲۳۱۵، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ➌ { وَ اِنِّيْۤ اُعِيْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ:} چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے چھوتا ہے، شیطان کے اسے چھونے کی وجہ سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے، سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔“ [بخاری،التفسیر، باب قول اللہ تعالٰی: «واذکر فی الکتاب مریم …» : ۳۴۳۱، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ]
آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا، اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریاؑ کوا س کا سرپرست بنا دیا زکریاؑ جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا پوچھتا مریمؑ! یہ تیرے پا س کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے واﻻ زکریا (علیہ السلام) کو بنایا، جب کبھی زکریا (علیہ السلام) ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے، وه پوچھتے اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وه جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزی دے
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے
علامہ محمد حسین نجفی
تو اس کے پروردگار نے اس لڑکی (مریم) کو احسن طریقہ سے قبول فرما لیا۔ اور اچھی طرح اس کی نشوونما کا انتظام کیا (یعنی) جناب زکریا کو اس کا کفیل (اور سرپرست) بنایا۔ جب بھی زکریا محرابِ عبادت میں اس (مریم) کے پاس آتے تھے تو اس کے پاس کھانے کی کوئی چیز موجود پاتے۔ (اور) پوچھتے: اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے؟ وہ جواب دیتی۔ یہ خدا کے یہاں سے آیا ہے۔ بے شک خدا جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس کے رب نے اسے اچھی قبولیت کے ساتھ قبول کیا اور اچھی نشو و نما کے ساتھ اس کی پرورش کی اور اس کا کفیل زکریا کو بنا دیا۔ جب کبھی زکریا اس کے پاس عبادت خانے میں داخل ہوتا، اس کے پاس کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز پاتا، کہا اے مریم! یہ تیرے لیے کہاں سے ہے؟ اس نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زکریا علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کر دیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، زکریا علیہ السلام کو ان کا کفیل بنا دیا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ مریم علیہما السلام یتیم ہو گئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ زکریا علیہ السلام نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں۔ «واللہ اعلم» ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3887] ۔ ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصطلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہا کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2699] ۔ اب اللہ تعالیٰ مریم رضی اللہ عنہما کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بے موسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔ مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابوالشعشاء، ابراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ، ربیع بن انس، عطیہ عوفی، سدی رحمہ اللہ علیہم اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/227]
مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں رزق سے مراد علم اور وہ صحیفے ہیں جن میں علمی باتیں ہوتی تھیں لیکن اول قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔ زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے۔ مسند حافظ ابویعلیٰ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گزر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ اے اللہ کے رسول کچھ بھی نہیں، اللہ کے نبی «اللھم صلی وسلم علیہ» وہاں سے نکلے ہی تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت فاطمہ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گزار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دوں گی، پھر حسن یا حسین کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں ملے اور ساتھ ہو لیے، آپ آئے تو کہنے لگیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ نے کچھ بھجوا دیا ہے جسے میں نے آپ کے لیے چھپا کر رکھ دیا ہے، آپ نے فرمایا میری پیاری بچی لے آؤ، اب جو طشت کھولا تو دیکھتی ہے کہ روٹی سالن سے ابل رہا ہے دیکھ کر حیران ہو گئیں لیکن فوراً سمجھ گئیں کہ اللہ کی طرف سے اس میں برکت نازل ہو گئی ہے، اللہ کا شکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پر درود پڑھا اور آپ کے پاس لا کر پیش کر دیا آپ نے بھی اسے دیکھ کر اللہ کی تعریف کی اور دریافت فرمایا کہ بیٹی یہ کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بیحساب روزی دے، آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے پیاری بچی تجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا۔ انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ نے علی رضی اللہ عنہ نے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اور حسین رضی اللہ عنہ نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ ۱؎ [الدار االمسشور اللسیوطی:2/36:ضعیف جداً]
37۔ 1 حضرت زکریا ؑ حضرت مریم (علیہا السلام) کے خالو بھی تھے علاوہ ازیں اپنے وقت کے پیغمبر ہونے کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر کفیل بن سکتے تھے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کی مادی ضروریات اور علمی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کا صحیح اہتمام کرسکتے تھے۔ 37۔ 2 محرابُ سے مراد حجرہ ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) رہائش پذیر تھیں رزق سے مراد پھل یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی کے موسم میں ان کے کمرے میں موجود ہوتے، دوسرے حضرت زکریا ؑ یا اور کوئی شخص لا کردینے والا نہیں تھا اس لئے حضرت زکریا ؑ نے ازراہ تعجب و حیرت سے پوچھا یہ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔ گویا یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کرامت تھی۔ معجزہ اور کرامت خرق عادت امور کو کہا جاتا ہے یعنی جو ظاہر اسباب کے خلاف ہو۔ یہ کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ اور کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے یہ دونوں برحق ہیں۔ تاہم ان کا صدور اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے نبی یا ولی کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ معجزہ اور کرامت جب چاہے صادر کر دے۔ اس لیے معجزہ اور کرامت اس بات کی تو دلیل ہوتی ہے کہ یہ حضرات اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ ان مقبولین بارگاہ کے پاس کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اہل بدعت اولیاء کی کرامتوں سے عوام کو یہی کچھ باور کرا کے انہیں شرکیہ عقیدوں میں مبتلا کردیتے ہیں اس کی مزید وضاحت بعض معجزات کے ضمن میں آئے گی۔
(آیت 37) ➊ { وَ كَفَّلَهَا زَكَرِيَّا:} عام قول کے مطابق زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ وہ مریم علیھا السلام کے بہنوئی تھے۔ اس کی دلیل حدیث معراج ہے جس میں دوسرے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات کا ذکر ہے اور صراحت ہے کہ وہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ [بخاری، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ: «ذکر رحمۃ ربک…» : ۳۴۳۰ ] ➋ { الْمِحْرَابَ:} اس سے مراد معروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنایا جاتا ہے، بلکہ اس کا معنی اس کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ (دیکھیے سبا: ۱۳) یہودو نصاریٰ عبادت خانے سے الگ کچھ بلندی پر یہ محراب بناتے تھے، جس میں مسجد کے عبادت گزار رہتے تھے۔ ➌ { وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا:} اسلوب کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رزق بطور کرامت مریم علیہا السلام کے پاس پہنچ رہا تھا۔ اکثر تابعین سے منقول ہے کہ زکریا علیہ السلام جب بھی مریم علیہا السلام کے حجرے میں جاتے تو ان کے ہاں بے موسم کے تازہ پھل پاتے۔ (ابن جریر، ابن کثیر) تابعین کا یہ فرمان آیت کے الفاظ کی تشریح ہو جیسا کہ ظاہر ہے تو اس رزق کے بطور کرامت ملنے کی تائید ہے اور اگر اسرائیلی نقل ہو تو اسے سچایا جھوٹا کہنے کی اجازت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اسباب کے بغیر رزق عطا ہونا کچھ بعید نہیں اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیاء و شہداء کو یہ کرامت اور عزت افزائی ملنا صحیح سند سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبیب رضی اللہ عنہ کی سولی کا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، مکہ کے جس گھر میں انھیں قید رکھا گیا اس گھر والی بنت الحارث کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر قیدی کبھی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! میں نے ایک دن انھیں انگور کا گچھا کھاتے ہوئے دیکھا، جو ان کے ہاتھ میں تھا، جب کہ وہ لوہے کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، حالانکہ مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ (بنت الحارث) کہتی تھیں کہ یقینا وہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے خبیب کو دیا تھا۔ [بخاری، الجہاد والسیر، باب ھل یستأسر الرجل …: ۳۰۴۵ ] مگر کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی کہ وہ جو چاہے کرے، ورنہ خبیب رضی اللہ عنہ زنجیریں توڑ کر آزاد ہو جاتے، حتیٰ کہ نبی بھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ» [إِبراہیم: ۱۱ ]
یہ حال دیکھ کر زکریاؑ نے اپنے رب کو پکارا "پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزه اوﻻد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب! میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد، بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اس موقع پر زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور عرض کیا اے میرے پروردگار! مجھے اپنی طرف سے پاک و پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ بے شک تو (ہر ایک کی) دعا کا سننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، کہا اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے ایک پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا کو بہت سننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاصل دعا یحییٰ علیہ السلام ٭٭
سیدنا زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سیدہ مریم علیہما السلام کو بے موسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بے موسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لیے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے «نِدَآءً خَفِیًّا» [19-مريم:3] یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ علیہ السلام رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہو گی، [تفسیر ابن ابی حاتم:235/2] ۱؎ وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہیں، جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی والدہ مریم علیہ السلام سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی یحییٰ علیہ السلام کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے۔
سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں، «حصور» کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آ سکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا [تفسیر ابن ابی حاتم:246/2:ضعیف] ۱؎، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حصور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور سیدنا یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6977: ضعیف] ۱؎
اس کے بعد سیدنا زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آ چکی تب زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ، وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38){هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ:} زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے اور ابھی تک بے اولاد تھے، بیوی بانجھ تھی، بظاہر انھیں اولاد کی کوئی امید نہ تھی، لیکن یہ دیکھ کر کہ کس طرح مریم علیھا السلام کو خرق عادت کے طور پر بے موسم کا رزق پہنچ رہا ہے، ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ بے موسم کا رزق پہنچانے والا مایوسی کے عالم میں اولاد بھی عطا فرما سکتا ہے، چنانچہ اسی جگہ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کی دعا کی۔ بعض علماء نے مریم علیہا السلام کو خرق عادت میوے پہنچنے کا انکار کیا اور کہا ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ خدا رسیدہ لوگ ہر نعمت کو (من عند اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، مگر زکریا علیہ السلام کا اس حالت کو دیکھ کر اظہار تعجب اور دعا کرنا بتا رہا ہے کہ رزق خرق عادت (بطور کرامت) ہی مل رہا تھا۔ پچھلی آیت کے حاشیہ میں خبیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں اور زکریا علیہ السلام کا واقعہ سورۂ مریم کے شروع میں ملاحظہ کریں۔
جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، کہ "اللہ تجھے یحییٰؑ کی خوش خبری دیتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے و الا بن کر آئے گا اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہوگی کمال درجہ کا ضابط ہوگا نبوت سے سرفراز ہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس فرشتوں نے انہیں آواز دی، جب کہ وه حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، کہ اللہ تعالیٰ تجھے یحيٰ کی یقینی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کرنے واﻻ، سردار، ضابط نفس اور نبی ہے نیک لوگوں میں سے
احمد رضا خان بریلوی
تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا بیشک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا اور سردار اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے
علامہ محمد حسین نجفی
تو فرشتوں نے انہیں اس حالت میں آواز دی جب کہ وہ محراب میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ کہ خدا آپ کو یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمہ (عیسیٰ) کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ سردار، ضبط نفس کرنے والا پارسا اور نیکوکار جماعت میں سے نبی ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
تو فرشتوں نے اسے آواز دی، جب کہ وہ عبادت خانے میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے، جو اللہ کے ایک کلمے (عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا اور سردار اور اپنے آپ پر بہت ضبط رکھنے والا اور نبی ہوگا نیک لوگوں میں سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاصل دعا یحییٰ علیہ السلام ٭٭
سیدنا زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سیدہ مریم علیہما السلام کو بے موسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بے موسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لیے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے «نِدَآءً خَفِیًّا» [19-مريم:3] یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ علیہ السلام رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہو گی، [تفسیر ابن ابی حاتم:235/2] ۱؎ وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہیں، جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی والدہ مریم علیہ السلام سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی یحییٰ علیہ السلام کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے۔
سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں، «حصور» کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آ سکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا [تفسیر ابن ابی حاتم:246/2:ضعیف] ۱؎، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حصور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور سیدنا یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6977: ضعیف] ۱؎
اس کے بعد سیدنا زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آ چکی تب زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ، وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
39۔ 1 بےموسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا ؑ کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چناچہ بےاختیار دعا کے لئے ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھ گئے جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ 39۔ 2 اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کی تصدیق ہے گویا حضرت یحییٰ ؑ حضرت عیسیٰ ؑ سے بڑے ہوئے دونوں آپس میں خالہ زاد تھے دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ حصوراً کے معنی ہیں گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکے بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت کے طور پر کیا گیا ہے۔
(آیت 39) ➊ {فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …: } عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے دوران ہی فرشتوں نے انھیں یحییٰ نامی بیٹے کی خوش خبری دی۔ معلوم ہوا پیدائش سے پہلے بھی اولاد کا نام رکھا جا سکتا ہے۔ ➋ { بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ:} یہ عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے، اگرچہ ہر شخص ہی اللہ تعالیٰ کے کلمۂ کن سے پیدا ہوا ہے، مگر عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر انھیں بطور شرف یہ لقب دیا گیا، جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ، اگرچہ ہر مسجد اور ہر اونٹنی اللہ ہی کی ہے۔یحییٰ علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے، تبھی انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی۔ ➌ ”{حَصُوْرًا“} سے مراد ایسا شخص ہے جسے اپنی جنسی خواہشوں پر پوری طرح قابو حاصل ہو۔ (فتح البیان) بعض لوگوں نے معنی کیا ہے جو عورت کے پاس نہ جا سکتا ہو، مگر یہ نہ کوئی خوبی ہے نہ یہاں مراد ہے۔
زکریاؑ نے کہا، "پروردگار! بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا، میں تو بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے" جواب ملا، "ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے، فرمایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو پہنچ گیا بڑھا پا اور میری عورت بانجھ فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے
علامہ محمد حسین نجفی
جناب زکریا نے (یہ خوشخبری سن کر) کہا: اے پروردگار! میرے یہاں لڑکا کس طرح ہوگا جبکہ میرا بڑھاپا آگیا۔ اور میری بیوی بانجھ ہے؟ ارشاد ہوا اسی طرح (خدا) جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ مجھے تو بڑھاپا آ پہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرمایا اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
يحيىٰ علیہ السلام، ایک معجزہ ٭٭
اس کے بعد زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا۔ یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی۔ جب بشارت آ گئی تو زکریا علیہ السلام کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں، میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے۔ اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل، نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40){قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ......:} دعا کی فوری قبولیت اور بظاہر ناممکن کام کی بشارت پر انھیں تعجب ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود ہی دعا کر رہے ہیں اور پھر خود ہی انھیں اتنا تعجب ہو رہا ہے کہ یہ کیسے ہو گا؟ جو اب ملا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔
عرض کیا "مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے" کہا، "نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے (یا نہ کرسکو گے) اِس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہنا"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگے پروردگار! میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دے، فرمایا، نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، صرف اشارے سے سمجھائے گا، تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح وشام اسی کی تسبیح بیان کرتا ره!
احمد رضا خان بریلوی
عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کردے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر اور کچھ دن رہے اور تڑکے اس کی پاکی بول،
علامہ محمد حسین نجفی
عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے (اطمینانِ قلب) کیلئے کوئی علامت مقرر فرما فرمایا: تمہاری علامت یہ ہے کہ تم تین دن رات تک لوگوں سے اشارہ کے سوا بات نہیں کر سکوگے۔ (شکرانۂ نعمت کے طور پر) اپنے پروردگار کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور صبح و شام اسی کی تسبیح کرو۔
عبدالسلام بن محمد
کہا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی بنادے؟ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہیں کرے گا مگر اشارے سے اور اپنے رب کو بہت زیادہ یاد کر اور شام اور صبح تسبیح کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
يحيىٰ علیہ السلام، ایک معجزہ ٭٭
اس کے بعد زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا۔ یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی۔ جب بشارت آ گئی تو زکریا علیہ السلام کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں، میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے۔ اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل، نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
41۔ 1 بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن تیری زبان بند ہو جائیگی۔ جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تو اس خاموشی میں کثرت سے صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کیا کر تاکہ اس نعمت الٰہی کا جو تجھے ملنے والی ہے شکر ادا ہو یہ گویا سبق دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری طلب کے مطابق تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے تو اسی حساب سے اس کا شکر بھی زیادہ سے زیادہ کرو۔
(آیت 41){قَالَ رَبِّ اجْعَلْ …: } زکریا علیہ السلام کا تعجب اس حد تک بڑھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی نشانی کی درخواست کر دی، فرمایا کہ تمھارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باوجود (ہاتھ یا ابرو وغیرہ کے) اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کر سکو گے، لہٰذا اس دوران تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔
پھر وہ وقت آیا جب مریمؑ سے فرشتوں نے آکر کہا، "اے مریمؑ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیده کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاک و پاکیزہ بنایا ہے۔ اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے برگزیدہ بنا دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سب جہانوں کی عورتوں پر تجھے چن لیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تین افضل ترین عورتیں ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہما السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت، ان کی دنیا کی بے رغبتی، ان کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرما دیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، سیدہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں [صحیح مسلم:2527] ۱؎، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت سیدہ مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں رضی اللہ عنہا [صحیح بخاری:3432] ۱؎ ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں رضی اللہ عنھن [سنن ترمذي:3878،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:7025:صحیح بالشواھد] ۱؎ اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنھمن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر [صحیح بخاری:3411] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں «وللہ الحمد والمنۃ» پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم رضی اللہ عنہا تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لیے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہیئے،
قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:261/2:ضعیف] ۱؎ یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آ جاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا، سیدنا اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، [ضعیف] ۱؎ «رضی اللہ عنھا و ارضاھا» ۔
یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ سیدہ مریمرضی اللہ عنہا کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں، سیدنا عمران علیہ السلام یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لیے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے سیدنا زکریاعلیہ السلام نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیئے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ سیدنا زکریا علیہ السلام کے نام نکلا [تفسیر ابن جریر الطبری:351/6] ۱؎ اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ سیدہ مریم علیھا السلام کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام بلکہ نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو سیدہ مریم علیھا السلام سونپ دی گئیں۔
42۔ 1 حضرت مریم (علیہا السلام) کا یہ شرف و فضل اپنے زمانے کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح حدیث میں حضرت مریم (علیہا السلام) کے ساتھ حضرت خدیجہ کو بھی سب عورتوں میں بہتر کہا گیا ہے اور بعض احادیث میں چار عورتوں کو کامل قرار دیا گیا ہے حضرت مریم، حضرت آسیہ (فر عون کی بیوی) حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ ؓ کی بابت کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت دیگر عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ (ابن کثیر) اور ترمذی کی روایت میں حضرت فاطمہ ؓ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فضیلت والی عورتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) اس کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ مذکورہ خواتین ان چند عورتوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دیگر عورتوں پر فضیلت اور بزرگی عطا فرمائی یا یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں فضیلت رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم۔
(آیت 42) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ …: } اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے مریم علیہا السلام کو چننے کا ذکر دو مرتبہ آیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محض تاکید کے لیے ہو، یا پہلے چننے سے مراد بچپن میں مریم علیہا السلام کو شرف قبولیت بخشنا ہو، جو آیت: «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ» میں مذکور ہے اور دوسرے چننے سے مراد اللہ تعالیٰ کا انھیں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے لیے منتخب فرمانا اور خصوصی فضیلت عطا کرنا ہو۔ ➋ { عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ:} سب جہانوں کی عورتوں سے مراد صرف اس زمانے کی عورتیں ہیں، کیونکہ احادیث میں مریم علیہا السلام کی طرح خدیجہ، فاطمہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن کی فضیلت میں بھی اسی قسم کے الفاظ مذکور ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں سے آسیہ زوجۂ فرعون اور مریم بنت عمران ہی کامل ہوئی ہیں اور عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و ضرب اللہ مثلاً…» : ۳۴۱۱، عن أبی موسیٰ الأشعری رضی اللہ عنہ ] انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام جہانوں کی عورتوں میں تمھارے لیے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد اور آسیہ زوجۂ فرعون کافی ہیں۔“ [ترمذی، المناقب، باب فضل خدیجۃ: ۳۸۷۸ ]
اے مریمؑ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود ہو، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر اور سجده کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر
احمد رضا خان بریلوی
اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو اور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر،
علامہ محمد حسین نجفی
اے مریم۔ اپنے پروردگار کی اطاعت کرو۔ اور سجدہ کرو۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے مریم! اپنے رب کی فرماںبردار بن اور سجدہ کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تین افضل ترین عورتیں ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہما السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت، ان کی دنیا کی بے رغبتی، ان کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرما دیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، سیدہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں [صحیح مسلم:2527] ۱؎، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت سیدہ مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں رضی اللہ عنہا [صحیح بخاری:3432] ۱؎ ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں رضی اللہ عنھن [سنن ترمذي:3878،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:7025:صحیح بالشواھد] ۱؎ اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنھمن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر [صحیح بخاری:3411] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں «وللہ الحمد والمنۃ» پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم رضی اللہ عنہا تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لیے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہیئے،
قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:261/2:ضعیف] ۱؎ یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آ جاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا، سیدنا اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، [ضعیف] ۱؎ «رضی اللہ عنھا و ارضاھا» ۔
یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ سیدہ مریمرضی اللہ عنہا کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں، سیدنا عمران علیہ السلام یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لیے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے سیدنا زکریاعلیہ السلام نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیئے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ سیدنا زکریا علیہ السلام کے نام نکلا [تفسیر ابن جریر الطبری:351/6] ۱؎ اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ سیدہ مریم علیھا السلام کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام بلکہ نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو سیدہ مریم علیھا السلام سونپ دی گئیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43){ وَ ارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ: } مریم علیہا السلام چونکہ بیت المقدس کے ساتھ محراب میں رہتی تھیں اور بیت المقدس کی خادمہ تھیں اس لیے انھیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔
اے محمدؐ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجود نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریمؑ کا سر پرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے، اور نہ تم اُس وقت حاضر تھے، جب اُن کے درمیان جھگڑا برپا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں، تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ وه اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا
احمد رضا خان بریلوی
یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) یہ (خبر) غیب کی خبروں میں سے ایک ہے جو وحی کے ذریعہ ہم آپ کی طرف بھیج رہے ہیں اور آپ ان (دعویداران سرپرستی) کے پاس موجود نہ تھے جب وہ (قرعہ اندازی کیلئے) اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کی کفالت کون کرے؟ اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، ہم اسے تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا جب وہ اپنے قلم پھینک رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے اور نہ تو اس وقت ان کے پاس تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تین افضل ترین عورتیں ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہما السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت، ان کی دنیا کی بے رغبتی، ان کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرما دیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، سیدہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں [صحیح مسلم:2527] ۱؎، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت سیدہ مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں رضی اللہ عنہا [صحیح بخاری:3432] ۱؎ ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں رضی اللہ عنھن [سنن ترمذي:3878،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:7025:صحیح بالشواھد] ۱؎ اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنھمن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر [صحیح بخاری:3411] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں «وللہ الحمد والمنۃ» پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم رضی اللہ عنہا تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لیے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہیئے،
قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:261/2:ضعیف] ۱؎ یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آ جاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا، سیدنا اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، [ضعیف] ۱؎ «رضی اللہ عنھا و ارضاھا» ۔
یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ سیدہ مریمرضی اللہ عنہا کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں، سیدنا عمران علیہ السلام یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لیے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے سیدنا زکریاعلیہ السلام نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیئے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ سیدنا زکریا علیہ السلام کے نام نکلا [تفسیر ابن جریر الطبری:351/6] ۱؎ اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ سیدہ مریم علیھا السلام کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام بلکہ نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو سیدہ مریم علیھا السلام سونپ دی گئیں۔
44۔ 1 آجکل کے اہل بدعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر اور ناظر ہونے کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اس آیت سے ان دونوں عقیدوں کی واضح تردید ہوتی ہے۔ اگر آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہوتے تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی خبریں آپ کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو اس کو اس طرح نہیں کہا جاتا اور اس طرح اور ناظر کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب لوگ قرعہ اندازی کے لئے قلم ڈال رہے تھے۔ قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے اور بھی کئی خواہش مند تھے۔ (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ) 3:44 سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی صداقت کا اثبات بھی ہے جس میں یہودی اور عیسائی شک کرتے تھے کیونکہ وحی شریعت پیغمبر پر ہی آتی ہے غیر پیغمبر پر نہیں۔
(آیت 44) ➊ {ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ …: } اس آیت سے پانچ مسئلے واضح طور پر ثابت ہوئے، پہلا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے، ورنہ انھیں غیب کی یہ خبریں وحی کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ تو اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ تیسرا یہ کہ اولیاء اور دوسرے انبیاء بھی غیب دان نہیں، ورنہ بیت المقدس کے خدام اور وقت کے پیغمبر زکریا علیہ السلام کو قرعہ ڈالنے کی ضرورت نہ تھی۔ چوتھا یہ کہ جب چیز ایک ہو اور اس کے حق دار کئی ہوں تو اس وقت قرعہ کے ذریعے سے فیصلہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الشَّهَادَاتِ“} میں باب باندھا ہے: {” بَابُ الْقُرْعَةِ فِي الْمُشْكِلاَتِ “} ”مشکل معاملات میں قرعہ اندازی کا بیان “ اور اس میں کئی احادیث لائے ہیں۔ بعض لوگوں نے قرعہ کو جوا قرار دیا ہے، یہ ان کی غلطی ہے۔ ہاں، اگر اس مقصد کے لیے قرعہ ڈالا جائے کہ یہ کام کروں یا نہ کروں تو یہ قرعہ نہیں بلکہ فال نکالنا ہے جو حرام ہے۔ [ديكهيے سورهٔ مائده:۹۰] پانچواں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس واقعہ کے وقت نہ موجود تھے، نہ اسے جانتے تھے، آپ کا وحی الٰہی سے اس واقعہ کو بیان کرنا آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔ ➋ { اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ:} اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مریم علیہا السلام یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمران کی بیٹی تھیں، جب ان کی والدہ نے انھیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے خدام میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، تو انھوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ زکریا علیہ السلام کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
اور جب فرشتوں نے کہا، "اے مریمؑ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک خدا آپ کو اپنے کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ جو دنیا و آخرت میں عزت و آبرو والا ہوگا۔ اور (خدا کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے، جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے، دنیا اور آخرت میں بہت مرتبے والا اور مقرب لوگوں سے ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] ۱؎ اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436] ۱؎
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
45۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کو کلمہ یعنی کلمۃ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس باپ کے بغیر ہوئی اور اللہ کی خاص قدرت اس کے کلمہ کن کی تخلیق ہے۔ 45۔ 2 مسیح مسح سے ہے یعنی کثرت سے زمین کی سیاحت کرنے والا یا اس کے معنی ہاتھ پھیرنے والا ہے کیونکہ آپ ہاتھ پھیر کر مریضوں کو باذن اللہ شفایاب فرماتے تھے ان دونوں معنوں کے اعتبار سے فعیلْ بمعنی فاعل ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے یا تو بمعنی مفعول (یعنی اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی) کے اعتبار سے ہے یا وہ بھی چونکہ کثرت سے دنیا میں پھرے گا اور مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ پہنچے گا (بخاری مسلم) اور بعض روایات میں بیت المقدس کا بھی ذکر ہے اس لیے اسے بھی المسیح الدجال کہا جاتا ہے۔ عام اہل تفسیر نے عموماً یہی بات درج کی ہے۔ کچھ اور محققین کہتے ہیں کہ مسیح یہود و نصاری کی اصطلاح میں بڑے مامور من اللہ پیغمبر کو کہتے ہیں یعنی ان کی یہ اصطلاح تقریبا اولوالعزم پیغمبر کے ہم معنی ہے دجال کو مسیح اس لیے کہا گیا ہے کہ یہود کو جس انقلاب آفریں مسیح کی بشارت دی گئی ہے اور جس کے وہ غلط طور پر اب بھی منتظر ہیں دجال اسی مسیح کے نام پر آئے گا یعنی اپنے آپ کو وہی مسیح قرار دے گا مگر وہ اپنے اس دعوی سمیت تمام دعو وں میں دجل و فریب کا اتنا بڑا پیکر ہوگا کہ اولین و آخرین میں اس کی کوئی مثال نہ ہوگی اس لیے وہ الدجال کہلائے گا۔ اور عیسیٰ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عربی ہے اور عاس یعوس سے مشتق ہے جس کے معنی سیاست و قیادت کے ہیں۔ (قرطبی و فتح القدیر)
(آیت 46،45) ➊ {اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ......:} اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت(۳۸) کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ فرشتوں نے مریم علیہا السلام سے بالمشافہہ یہ بات کی، جیسا کہ سورۂ مریم (۱۷) میں ہے کہ جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں ان سے ہم کلام ہوئے۔ {” الْمَسِيْحُ “} لفظ{ ” مَسَحَ “} سے مشتق ہے، جس کے معنی ہاتھ پھیرنے یا زمین کی مساحت کے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تندرست ہو جاتے تھے، یا اس بنا پر کہ آپ ہر وقت زمین میں سفر کرتے رہتے تھے۔ (ابن کثیر) ➋ یہاں مسیح علیہ السلام کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) { ” وَجِيْهًا “ } یعنی بہت وجاہت والا ہو گا۔ چہرہ آدمی کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اونچے مرتبے کو وجاہت کہتے ہیں۔ (2) مقرب لوگوں میں سے ہو گا۔ (3) گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں حکیمانہ کلام کرے گا۔ گہوارے میں ان کا کلام سورۂ مریم (۳۰ تا ۳۳) میں نقل ہوا ہے اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے میں ان کے دوبارہ اترنے کی طر ف بھی اشارہ ہے۔ (4) صالحین سے ہو گا۔ صالح وہ ہے جس کے سارے کام درست ہوں، اس لیے سلیمان علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر نے صالح بندوں میں داخل کیے جانے کی دعا کی۔ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱) اور سورۂ نمل (۱۹)۔
لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وه نیک لوگوں میں سے ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ گہوارے میں بھی لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور نیکوکاروں میں سے ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں سے گہوارے میں بات کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور نیک لوگوں سے ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] ۱؎ اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436] ۱؎
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
46۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کے (گہوارے) میں گفتگو کرنے کا ذکر خود قرآن کریم کی سورة مریم میں موجود ہے اس کے علاوہ صحیح حدیث میں دو بچوں کا ذکر اور ہے ایک صاحب جریج اور ایک اسرائیلی عورت کا بچہ (صحیح بخاری) ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ جب وہ بڑے ہو کر وحی اور رسالت سے سرفراز کئے جائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ کا قیامت کے قریب جب آسمان سے نزول جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے جو صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے تو اس وقت جو وہ اسلام کی تبلیغ کریں گے وہ کلام مراد ہے۔ (تفسیر ابن کثیر و قرطبی)
یہ سن کر مریمؑ بولی، "پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا" جواب ملا، "ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگیں الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حاﻻنکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا، فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وه کسی کام کو کرنا جاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا! تو وه ہو جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ بشارت سن کر) مریم نے کہا: اے میرے پروردگار! میرے یہاں بچہ کہاں سے ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی انسان (مرد) نے ہاتھ تک نہیں لگایا؟ ارشاد ہوا: بات اسی طرح ہے مگر خدا جو چاہتا ہے (بلا اسباب بھی) پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہو جا تو بس وہ ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، حالانکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا؟ فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] ۱؎ اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436] ۱؎
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
47۔ 1 تیرا تعجب بجا لیکن قدرت الٰہی کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے وہ تو جب چاہے اسباب عادیہ و ظاہریہ کا سلسلہ ختم کر کے حکم کن سے پلک جھپکتے میں جو چاہے کر دے۔
(آیت 47) {اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّ لَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ:} مریم علیہا السلام کو جب لڑکے کی خوشخبری دی گئی تو انھوں نے تعجب کا اظہار کیا، تعجب کا اظہار اس کے ناممکن ہونے پر نہیں بلکہ کس طرح ہونے پر کیا، کیونکہ ظاہری اسباب موجود نہیں۔ کہنے لگیں، مجھے تو آج تک کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا، پھر میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا!؟ فرمایا: ”اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔“ زکریا علیہ السلام کے قصے میں{ ” يَفْعَلُ “} اور یہاں {” يَخْلُقُ “} فرمایا۔ پہلا لفظ عام ہے، کیونکہ وہاں میاں بیوی دونوں موجود تھے، گو بوڑھے تھے۔{ ” يَخْلُقُ “ } خاص ہے، کیونکہ مرد کے بغیر اسباب ہی مکمل نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۲۰، ۲۱)۔
(فرشتوں نے پھر سلسلئہ کلام میں کہا) "اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ اسے لکھنا اور حکمت اور توراة اورانجیل سکھائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل،
علامہ محمد حسین نجفی
اور خدا اس (بچہ) کو کتاب و حکمت اور توراۃ و انجیل کی تعلیم دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کا مریم علیہا السلام سے خطاب ٭٭
فرشتے سیدہ مریم علیہا السلام سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی پر اتری، چنانچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لیے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا،سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، «اکمه» اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا «اکمه» اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لیے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، «ابرص» سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اچھے کر دیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کر دیا کرتے تھے۔
اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات جناب باری تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہو گئی اور انہیں کامل یقین ہو گیا کہ یہ تو الہ واحد و قہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چنانچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کر دینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کر دینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بے جان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کر لیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کو کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑ گئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہو گیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر، بتا بتا کر، سنا سنا کر، منادی کر کے باربار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی؟
جو اس جیسا کلام کہہ سکے؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں، ہمتیں پست ہو گئیں، گلے خشک ہو گئے۔زبان گنگ ہو گئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق؟
پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ نہیں کئے ہیں
البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا «وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [43-الزخرف:63] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
48۔ 1 کتاب سے مراد کتابت ہے جیسا کہ ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے یا انجیل و تورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا (قرطبی) یا تورات و انجیل (الکتاب وحکمۃ) کی تفسیر ہے۔
(آیت 48) {وَ يُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ:} عیسیٰ علیہ السلام کو تورات اور ہر کتاب بغیر پڑھے آتی تھی اور یہ سب معجزے تھے۔ (موضح) بعض مفسرین نے {”الْكِتٰبَ“} کا معنی لکھنا کیا ہے۔
اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا" (اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) "میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت میں ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی ﻻیا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرنده بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وه اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرنده بن جاتاہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مرددوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیره کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان ﻻنے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مور ت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مُردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسے بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنائے گا۔ (اور جب وہ مبعوث ہوگا تو کہے گا کہ) میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندہ کی صورت بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ اور میں خدا کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاتے ہو۔ اور اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو وہ تمہیں بتاتا ہوں بے شک اس میں تمہارے لئے (خدا کی قدرت اور میری نبوت کی) بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا کہ میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے عظیم نشانی لے کر آیا ہوں کہ میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل کی مانند بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتی ہے اور میں اللہ کے حکم سے پیدائشی اندھے اور برص والے کو تندرست کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں اور تمھیں بتا دیتا ہوں جو کچھ تم اپنے گھروں میں کھاتے ہو اور جو ذخیرہ کرتے ہو، بے شک اس میں تمھارے لیے ایک نشانی ہے، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتوں کا مریم علیہا السلام سے خطاب ٭٭
فرشتے سیدہ مریم علیہا السلام سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی پر اتری، چنانچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لیے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا،سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، «اکمه» اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا «اکمه» اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لیے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، «ابرص» سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اچھے کر دیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کر دیا کرتے تھے۔
اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات جناب باری تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہو گئی اور انہیں کامل یقین ہو گیا کہ یہ تو الہ واحد و قہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چنانچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کر دینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کر دینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بے جان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کر لیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کو کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑ گئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہو گیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر، بتا بتا کر، سنا سنا کر، منادی کر کے باربار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی؟
جو اس جیسا کلام کہہ سکے؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں، ہمتیں پست ہو گئیں، گلے خشک ہو گئے۔زبان گنگ ہو گئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق؟
پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ نہیں کئے ہیں
البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا «وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [43-الزخرف:63] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
49۔ 1 اخلق لکم۔ یعنی خلق یہاں پیدائش کے معنی میں نہیں ہے، اس پر تو صرف اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے کیونکہ وہی خالق ہے یہاں اس کے معنی ظاہر شکل و صورت گھڑنے اور بنانے کے ہیں۔ 49۔ 2 دوبارہ باذن اللہ (اللہ کے حکم سے) کہنے سے مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ میں خدائی صفات یا اختیارات کا حامل ہوں نہیں میں تو اس کا عاجز بندہ ہوں اور رسول ہی ہوں یہ جو کچھ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہا ہے معجزہ ہے جو محض اللہ کے حکم سے صادر ہو رہا ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے زمانے کے حالات کے مطابق معجزے عطا فرمائے تاکہ اس کی صداقت ہو اور بالاتری نمایاں ہو سکے حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادوگری کا زور تھا انہیں ایسا معجزہ عطا فرمایا کہ جس کے سامنے بڑے بڑے جادوگر اپنا کرتب دکھانے میں ناکام رہے حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں طب کا بڑا چرچہ تھا چناچہ انہوں نے ٰمردہ کو زندہ کردینے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردینے کا ایسا معجزہ عطا فرمایا گیا کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا طبیب اپنے فن کے ذریعے سے کرنے پر قادر نہیں تھا۔ ہمارے پیغمبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور شعر وادب اور فصاحت اور بلاغت کا دور تھا چناچہ انہیں قرآن جیسا فصیح وبلیغ اور پر اعجاز کلام عطا فرمایا گیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا بھر کے بلغا اور شعرا عاجز رہے اور چلینج کے باوجود آج تک عاجز ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے (ابن کثیر)
(آیت 49) ➊ {اَنِّيْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} یعنی جب وہ رسول بن کر آئیں گے تو ان کی دعوت یہ ہو گی جو آگے بیان ہوئی ہے۔ ➋ { اَنِّيْۤ اَخْلُقُ: } یہاں {” خَلَقَ “} کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا: [ اَحْيُوْا مَا خَلَقْتُمْ ] ”تم نے جو خلق کیا اسے زندہ کرو۔“ [بخاری، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ…: ۲۱۰۵ ] پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ➌ { بِاِذْنِ اللّٰهِ:} یہاں {”بِاِذْنِ اللّٰهِ“} کا لفظ بار بار لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو عیسیٰ علیہ السلام یہ معجزات نہ دکھا سکتے اور یہی ہر نبی کے معجزات کا حال ہے کہ وہ اللہ ہی کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ ➍ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی کو اس کے زمانے کے مناسب حال معجزات عطا فرمائے۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو اور جادوگروں کا زور تھا، سو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ معجزات دے کر بھیجا جن سے تمام جادوگر دنگ رہ گئے اور ان کی عقل چکرا گئی، بالآخر وہ جادوگر از خود مسلمان ہوئے اور اسلام کی راہ میں سولی چڑھنے تک کے لیے تیار ہو گئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں طب اور علوم طبعیہ (سائنس) کا چرچا تھا، سو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ معجزات عطا فرمائے جن کے سامنے تمام اطباء اور سائنسدان اپنے عاجز اور درماندہ ہونے کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فصاحت وبلاغت اور شعر و ادب کا ڈنکا بجتا تھا، سو اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ کتاب نازل فرمائی جس نے تمام فصحاء و بلغاء کی گردنیں خم کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تین طرح کا چیلنج دیا، پہلے پورے قرآن کی مثل لانے کا (بنی اسرائیل: ۸۸) پھر دس سورتیں اس جیسی لانے کا (ہود: ۱۳) پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لانے کا (یونس: ۳۸) مگر وہ بار بار چیلنج سننے کے باوجود اس جیسی دس سورتیں تو کجا، اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہ کر سکے۔ کیوں؟ اس لیے کہ پروردگار کا کلام مخلوق کے کلام سے مماثلت نہیں رکھتا۔ (ابن کثیر، رازی)
اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تورات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے اوراس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں دیکھو، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میر ی اطاعت کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میں توراة کی تصدیق کرنے واﻻ ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وه چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی ﻻیا ہوں، اس لئے تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو!
احمد رضا خان بریلوی
اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلے کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں اور میں تمہارے پاس پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو مجھ سے پہلے (توراۃ) موجود ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور (میرے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ) میں تمہارے لئے ان چیزوں میں سے بعض کو حلال کروں جو تم پر حرام تھیں۔ اور میں تمہارے پروردگار کی طرف سے اعجاز کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہوں۔ لہٰذا اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات سے ہے اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں اور میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے عظیم نشانی لے کر آیا ہوں، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع سے بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے۔
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا: «وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [ 43-الزخرف: 63 ] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
50۔ 1 اس سے مراد یا تو وہ بعض چیزیں ہیں جو بطور سزا اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردی تھیں یا پھر وہ چیزیں جو ان کے علماء نے اجتہاد کے ذریعے سے حرام کیں تھیں اور اجتہاد میں ان سے غلطی کا ارتکاب ہوا حضرت عیسیٰ ؑ نے اس غلطی کا ازالہ کر کے انہیں حلال قرار دیا۔ (ابن کثیر)
(آیت 50) {وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ …:} عیسیٰ علیہ السلام کے وقت تورات میں سے کئی حکم جو مشکل تھے موقوف ہوئے، باقی وہی تورات کا حکم تھا۔ (موضح) عیسیٰ علیہ السلام اپنی کوئی الگ مستقل شریعت لے کر مبعوث نہیں ہوئے تھے، بلکہ موسوی شریعت کی تائید و تصدیق کرنے اور بنی اسرائیل کو تورات پر عمل کی دعوت دینے کے لیے آئے تھے، البتہ تورات میں بعض چیزیں جو بطور تشدید ان پر حرام کر دی گئی تھیں ان کو اللہ کے حکم سے حلال قرار دینا بھی ان کے مقصد بعثت میں شامل تھا، جیسے اونٹ کا گوشت اور حلال جانوروں کی چربی وغیرہ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے صرف ان چیزوں کو حلال قرار دیا جنھیں یہود نے آپس کے اختلافات اور موشگافیوں کی وجہ سے حرام قرار دے لیا تھا۔ لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ انھوں نے بعض چیزوں کی حرمت کو منسوخ بھی کیا ہے۔ (ابن کثیر)