بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 10
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾
جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے
کافروں کوان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنم کا ایندھن ہی ہیں
بیشک وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں،
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ اللہ کے یہاں ان کے مال اور اولاد ہرگز ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہیں۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے مال اور ان کی اولاد انھیں اللہ (کی پکڑ) سے ہرگز کچھ کام نہ آئیں گے اور وہی آگ کا ایندھن ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جہنم کا ایندھن کون لوگ؟ ٭٭

فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں، «يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ان ظالموں کو اس دن کوئی عذر معذرت ان کے کام نہ آئے گی، ان پر لعنت ہے، اور ان کیلئے برا گھر ہے، ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے، جیسا اور جگہ فرمایا «وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ» ‏‏‏‏ [9-التوبة:85] ‏‏‏‏ تو ان کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنا اس کی وجہ سے اللہ کا ارادہ انہیں دنیا میں بھی عذاب دینا ہے، ان کی جانیں کفر میں ہی نکلیں گی، اسی طرح ارشاد ہے «‏‏‏‏لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [3-آلعمران:196،197] ‏‏‏‏ کافروں کا شہروں میں گھومنا گھامنا تجھے فریب میں نہ ڈال دے، یہ تو مختصر سا فائدہ ہے، پھر ان کی جگہ جہنم ہی ہے جو بدترین بچھونا ہے، اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کی کتابوں کو جھٹلانے والے اس کے رسولوں کے منکر اس کی کتاب کے مخالف اس کی وحی کے نافرمان اپنی اولاد اور اپنے مال سے کوئی بھلائی کی توقع نہ رکھیں، یہ جہنم کی لکڑیاں ہیں جن سے جہنم سلگائی اور بھڑکائی جائے گی، جیسے اور جگہ ہے «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» [21۔الانبیاء:98] ‏‏‏‏تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو۔

ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ مکہ شریف میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور باآواز بلند فرمانے لگے، لوگو! کیا میں نے اللہ کی باتیں تم تک پہنچا دیں؟ لوگو! کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا؟ لوگو! کیا میں وحدانیت و رسالت کا مطلب تمہیں سمجھا چکا؟ سیدناعمررضی اللہ عنہ فرمانے لگے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ نے اللہ کا دین ہمیں پہنچایا پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم اسلام غالب ہو گا اور خوب پھیلے گا، یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ جا چھپے گا، مسلمان اسلام اپنے قول و عمل میں لیے سمندروں کو چیرتے پھاڑتے نکل جائیں گے اور اسلام کی اشاعت کریں گے، یاد رکھو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لوگ قرآن کو سیکھیں گے پڑھیں گے [پھر تکبر برائی اور اندھے پن کے طور پر] ‏‏‏‏ کہنے لگیں گے ہم قاری ہیں، عالم ہیں، کون ہے جو ہم سے بڑھ چڑھ کر ہو؟ کیا ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی ہو گی؟

لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں، آپ نے فرمایا وہ تم ہی مسلمانوں میں سے ہوں گے لیکن خیال رہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/90:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم آپ نے بڑی حرص اور چاہت سے تبلیغ کی، آپ نے پوری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کی، آپ نے ہماری زبردست خیر خواہی کی اور بہتری چاہی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:25/27-28:ضعیف منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جیسا حال فرعونیوں کا تھا اور جیسے کرتوت ان کے تھے، لفظ «دَأْبِ» ہمزہ کے جزم سے بھی آتا ہے اور ہمزہ کے زبر سے بھی آتا ہے، جیسا «نَھرُ» اور «نَھَرُ» ، اس کے معنی شان عادت حال طریقے کے آتے ہیں، امرا القیس کے شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مطلب اس آیت شریف کا یہ ہے کہ کفار کا مال و اولاد اللہ کے ہاں کچھَ کام نہ آئے گا جیسے فرعونیوں اور ان سے اگلے کفار کو کچھ کام نہ آیا، اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کا عذاب درد ناک ہے، کوئی کسی طاقت سے بھی اس سے بچ نہیں سکتا نہ اسے روک سکتا ہے، وہ اللہ جو چاہے کرتا ہے، ہرچیز اس کے سامنے حقیر ہے، نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ رَب۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11،10) {”كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ“} اس کی ترکیب کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۵۲، ۵۴) یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور پہلی امتوں کو رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب ان اموال و اولاد والے کفار کو دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران، یہود، مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہو سکتے ہیں۔ (شوکانی)
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →