بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آل عمران
سورۃ آل عمران — 200 آیات — صفحہ 2 از 4
قرآن کریم Surah 3
اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ میرا رب بھی ہے او ر تمہارا رب بھی، لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو! میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو یہ ہے سیدھا راستہ،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس تم اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع سے بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے۔

بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا: «وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [ 43-الزخرف: 63 ] ‏‏‏‏ میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
51۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت کرنے میں اور اس کے سامنے ذلت و عاجزی کے اظہار میں میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ اس لئے سیدھا راستہ صرف یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی واحدانیت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
(آیت 51){اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ …: } عیسیٰ علیہ السلام نے معجزات پیش کرنے کے ساتھ ضروری سمجھا کہ اصل دین کی تاکید فرما دیں کہ میرا اور تمھارا داتا (رب) اللہ ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔ مگر افسوس کہ نصرانیوں نے مسیح علیہ السلام کو اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے کر رب اور نفع و نقصان کا مالک سمجھ لیا اور ان سے فریادیں کرنے لگے۔
فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب عیسیٰؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا "کون اللہ کی راہ میں میرا مدد گار ہوتا ہے؟" حواریوں نے جواب دیا، "ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے والے) ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی راه میں میری مدد کرنے واﻻ کون کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راه کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور آپ گواه رہئے کہ ہم تابعدار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) کی طرف سے کفر و انکار محسوس کیا۔ تو کہا کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان (فرمانبردار) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر محسوس کیا تو اس نے کہا کون ہیں جو اللہ کی طرف میرے مدد گار ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے اور گواہ ہو جا کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھانسی کون چڑھا؟ ٭٭

جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لیے میری تابعداری کرے [تفسیر ابن ابی حاتم:290/3] ‏‏‏‏ ۱؎ اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لیے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں [مسند احمد:339/3:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام رضی اللہ عنہم اس خدمت کے لیے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیر خواہی اور بے مثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیر خواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے «رضی الله عنهم وارضاهم»

اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔۱؎ [صحیح بخاری:2846] ‏‏‏‏ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:294/2] ‏‏‏‏، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے

پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن تھے۔ انہیں مروا دینے اور سولی دئیے جانے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانی کے بادشاہ کے کان میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ [ دروغ ] ‏‏‏‏ میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن [ روشن دان ] ‏‏‏‏ سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا ، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لیے سخت ہو گئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو گئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
52۔ 1 یعنی ایسی گہری سازش اور مشکوک حرکتیں جو کفر یعنی حضرت مسیح کی رسالت کے انکار پر مبنی تھیں۔ 52۔ 2 بہت سے نبیوں نے اپنی قوم کے ہاتھوں تنگ آ کر ظاہری اسباب کے مطابق اپنی قوم کے با شعور لوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ جس طرح خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ابتداء میں جب قریش آپ کی دعوت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے تو آپ موسم حج میں لوگوں کو اپنا ساتھی اور مددگار بننے پر آمادہ کرتے تھے تاکہ آپ رب کا کلام لوگوں تک پہنچا سکیں جس پر انصار نے لبیک کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انہوں نے قبل ہجرت مدد کی۔ اس طرح یہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے مدد طلب فرمائی یہ وہ مدد نہیں ہے جو مافوق الاسباب طریقے سے طلب کی جاتی ہے کیونکہ وہ تو شرک ہے اور ہر نبی شرک کے سدباب ہی کے لئے آتا رہا ہے پھر وہ خود شرک کا ارتکاب کس طرح کرسکتے تھے۔ لیکن قبر پرستوں کی غلط روش قابل ماتم ہے کہ وہ فوت شدہ اشخاص سے مدد مانگنے کے جواز کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ کے قول مَن انصاری الی اللہ سے استدلال کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائے (آمین) 52۔ 3 حواریوں حواری کی جمع ہے بمعنی انصار (مددگار) جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہر نبی کا کوئی مددگار خاص ہوتا ہے اور میرا مددگار زبیر ہے۔
(آیت 52) ➊ { فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ …:} یعنی صرف عقل سے نہیں سمجھا بلکہ حواس سے معلوم کر لیا، آنکھوں اور کانوں سے یہ حقیقت جان لی کہ یہود اور ان کے علماء اللہ کی دی ہوئی نشانیوں اور دلائل و معجزات کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں، مگر ماننے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے سازشیں کر رہے ہیں تو انھیں اپنے دنیا سے رخصت ہونے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انھیں فکر تھی تو یہ کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام رکنا نہیں چاہیے، چنانچہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے پوچھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور اس کے راستے پر چلنے اور چلانے میں میرا مددگار ہو؟ اللہ تعالیٰ نے چند لوگوں کو توفیق عطا فرمائی، وہ ایمان لائے اور پوری تن دہی کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کی مدد کرتے رہے اور یہی لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے حواری کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں سے مدد مانگ رہے ہیں، اگر وہ مختار کل ہوتے تو مدد مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمارے دور کے قبرپرست بھی عجیب ہیں، اس آیت سے استدلال کرکے فوت شدہ بزرگوں سے وہ چیزیں مانگتے ہیں جو ان کے اختیار میں نہیں اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بزرگوں نے چھوٹوں سے وہ مدد مانگی ہے جو ان کے اختیار میں تھی۔ ➋ عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ویسا ہی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے زمانۂ حج میں مختلف قبائل عرب سے فرمایا کرتے تھے کہ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش نے مجھے یہ پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے؟ تاآنکہ آپ کو انصار مل گئے، جنھوں نے آپ کو پناہ دی اور اپنی جان و مال سے آپ کی مدد کی۔ مگر آپ کے حواری (خاص جاں نثار و مددگار) صرف انصار ہی نہ تھے، مہاجر بھی تھے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دوران میں تین دفعہ پوچھا: ”کون ہے جو بنوقریظہ کی خبر لائے گا؟“ تینوں دفعہ زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں، میرا حواری زبیر ہے۔“ [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل طلحۃ …: ۲۴۱۵، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ]
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہا اے ہمارے پروردگار جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول (عیسیٰ) کی پیروی اختیار کی۔ لہٰذا ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں (کے دفتر) میں درج فرما۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمایا اور ہم رسول کے پیرو کار بن گئے، سو تو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھانسی کون چڑھا؟ ٭٭

جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لیے میری تابعداری کرے [تفسیر ابن ابی حاتم:290/3] ‏‏‏‏ ۱؎ اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لیے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں [مسند احمد:339/3:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام رضی اللہ عنہم اس خدمت کے لیے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیر خواہی اور بے مثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیر خواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے «رضی الله عنهم وارضاهم»

اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔۱؎ [صحیح بخاری:2846] ‏‏‏‏ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:294/2] ‏‏‏‏، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے

پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن تھے۔ انہیں مروا دینے اور سولی دئیے جانے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانی کے بادشاہ کے کان میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ [ دروغ ] ‏‏‏‏ میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن [ روشن دان ] ‏‏‏‏ سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا ، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لیے سخت ہو گئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو گئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر بنی اسرائیل (مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں (بنی اسرائیل) نے (عیسیٰ کے خلاف) مکاری کی اور اللہ نے بھی اپنی (جوابی) تدبیر و ترکیب کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر و ترکیب کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھانسی کون چڑھا؟ ٭٭

جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لیے میری تابعداری کرے [تفسیر ابن ابی حاتم:290/3] ‏‏‏‏ ۱؎ اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لیے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں [مسند احمد:339/3:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام رضی اللہ عنہم اس خدمت کے لیے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیر خواہی اور بے مثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیر خواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے «رضی الله عنهم وارضاهم»

اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔۱؎ [صحیح بخاری:2846] ‏‏‏‏ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:294/2] ‏‏‏‏، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے

پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن تھے۔ انہیں مروا دینے اور سولی دئیے جانے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانی کے بادشاہ کے کان میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ [ دروغ ] ‏‏‏‏ میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن [ روشن دان ] ‏‏‏‏ سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا ، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لیے سخت ہو گئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو گئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
54۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ باللہ بےباپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ (خیرُ الْماکِرِیْنَ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہوسکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہوسکتا ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو۔
(آیت 54) {وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ…:} شیخ شنقیطی نے فرمایا: ”یہاں نہ یہود کی خفیہ تدبیر کا ذکر ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا، مگر دوسری جگہ ان کی تدبیر کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ» [النساء: ۱۵۷ ] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا۔“ اور اللہ کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے: «وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ» [النساء: ۱۵۷ ] ”اور لیکن ان کے لیے (کسی کو اس مسیح کا)شبیہ بنا دیا گیا۔“ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ کو سولی دے کر سمجھ بیٹھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۵۷)۔
اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اُس نے کہا کہ، "اے عیسیٰؑ! اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے اُن سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے پھر تم سب کو آخر میرے پاس آنا ہے، اُس وقت میں اُن باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پیروؤں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا (اے عیسیٰ) میں تمہیں پورا قبض کرنے والا اور تمہیں اپنی جانب اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو کافروں پر قیامت تک غالب اور برتر کرنے والا ہوں۔ پھر تم سب کی بازگشت میری طرف ہے تو اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے قبض کرنے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اورتجھے ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جنھوں نے کفر کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے تیری پیروی کی، قیامت کے دن تک ان لوگوں کے اوپر کرنے والا ہوں جنھوں نے کفر کیا، پھر میری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے تو میں تمھارے درمیان اس چیز کے بارے میں فیصلہ کروں گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اظہار خودمختاری ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] ‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] ‏‏‏‏ «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا،۱؎ [صحیح بخاری:6312] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] ‏‏‏‏ تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ

پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2] ‏‏‏‏ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔

پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا

علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ‏‏‏‏ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔

(‏‏‏‏ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ‏‏‏‏ مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» ‏‏‏‏ [19-مريم:34] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ‏‏‏‏، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
55۔ 1 انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پر معطل کردیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ تجھے میں یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لونگا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر) 55۔ 2 اس سے مراد ان الزامات سے پاکیزگی ہے جن سے یہودی آپ کو متہم کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آپ کی صفائی دنیا میں پیش کردی جائے گی۔ 55۔ 3 اس سے مراد یا تو نصاریٰ کا دنیاوی غلبہ ہے جو یہودیوں پر قیامت تک رہے گا گو وہ اپنے غلط عقائد کی وجہ سے نجات اخروی سے محروم ہی رہیں گے یا امت محمدیہ کے افراد کا غلبہ ہے جو درحقیقت حضرت عیسیٰ ؑ اور دیگر تمام انبیاء کی تصدیق کرتے اور ان کے صحیح دین کی پیروی کرتے ہیں۔
(آیت55) ➊ {مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ:} { ” وَفَي يَفِيْ“ } کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ {”اِسْتَوْفَي“} اور {” تَوَفّٰي“ } کا معنی پورا لے لینا ہے۔ {” اِسْتَوْفَيْتُ مِنْهُ وَ تَوَفَّيْتُ“} کا معنی ہے ”میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔“ اس بنا پر {”مُتَوَفِّيْكَ“} کا معنی ہے ”میں تمھیں پورا لینے والا ہوں “ اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی ”(وقت پر) فوت کرنے والا ہوں “ کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے ”قبض کرنے والا ہوں۔“ اس میں دونوں معنی آ جاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں {” تَوَفِّيْ “} کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۶۰ ] ”اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا (سلا دیتا) ہے“ اور فرمایا: «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» ‏‏‏‏ [الزمر: ۴۲ ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں۔“ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے {” اَلْجَوَابُ الصَّحِيْحُ “} میں لکھا ہے کہ لغتِ عرب میں{ ”تَوَفِّيْ“} کے معنی {”اِسْتِيْفَاءٌ “} اور قبض کے آئے ہیں اور یہ نیند کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور موت کی صورت میں بھی اور یہ {” تَوَفِّي الرُّوْحِ مَعَ الْبَدَنِ جَمِيْعًا “} (روح اور بدن دونوں کو لے لینے) کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں «مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ» ‏‏‏‏ سے عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسم آسمان کی طرف اٹھایا جانا مراد ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ» ‏‏‏‏ ”اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور سولی کی نفی فرمائی اور {”تَوَفِّيْ“} کا لفظ استعمال کیے بغیر فرمایا: «بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۵۸] ”بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔“ ➋ {وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا:} عیسیٰ علیہ السلام کے اول تابع نصاریٰ تھے، ان کے بعد مسلمان ہیں، سو یہ ہمیشہ غالب رہے۔ (موضح) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان سے مراد صرف نصاریٰ بھی ہو سکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہود جو مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں ان پر نصاریٰ ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (ابن کثیر) اس سے مراد یہ بھی ہے کہ قیامت کے قریب جب مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان کے پیروکار مسلمان سب کفار پر غالب ہوں گے۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو کافر ہوئے میں انہیں دنیاو آخرت میں سخت عذاب کروں گا، اور انکا کوئی مددگار نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دوں گا۔ اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جن لوگوں نے تو کفر کیا سو میں انھیں دنیا اور آخرت میں عذاب دوں گا، بہت سخت عذاب اور کوئی ان کی مدد کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اظہار خودمختاری ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] ‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] ‏‏‏‏ «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا،۱؎ [صحیح بخاری:6312] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] ‏‏‏‏ تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ

پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2] ‏‏‏‏ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔

پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا

علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ‏‏‏‏ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔

(‏‏‏‏ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ‏‏‏‏ مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» ‏‏‏‏ [19-مريم:34] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ‏‏‏‏، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے انہیں اُن کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے اور خوب جان لے کہ ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ ان کا ﺛواب پورا پورا دے گا اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اللہ ان کا نیگ (انعام) انہیں بھرپور دے گا اور ظالم اللہ کو نہیں بھاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو خدا ان کو پورا پورا اجر و ثواب دے گا۔ اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو وہ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اظہار خودمختاری ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] ‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] ‏‏‏‏ «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا،۱؎ [صحیح بخاری:6312] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] ‏‏‏‏ تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ

پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2] ‏‏‏‏ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔

پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا

علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ‏‏‏‏ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔

(‏‏‏‏ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ‏‏‏‏ مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» ‏‏‏‏ [19-مريم:34] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ‏‏‏‏، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ذٰلِکَ نَتۡلُوۡہُ عَلَیۡکَ مِنَ الۡاٰیٰتِ وَ الذِّکۡرِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہم تم پر پڑھتے ہیں کچھ آیتیں اور حکمت والی نصیحت،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں (کتابِ الٰہی کی) آیات ہیں (یا خدا کی قدرت اور آپ کی حقانیت کی نشانیاں ہیں) اور وہ دانائی سے لبریز تذکرے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے جسے ہم آیات اور پرحکمت نصیحت میں سے تجھ پر پڑھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اظہار خودمختاری ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] ‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] ‏‏‏‏ «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا،۱؎ [صحیح بخاری:6312] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] ‏‏‏‏ تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ

پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2] ‏‏‏‏ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔

پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا

علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ‏‏‏‏ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔

(‏‏‏‏ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] ‏‏‏‏ مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» ‏‏‏‏ [19-مريم:34] ‏‏‏‏ «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ‏‏‏‏، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے نزدیک عیسیٰؑ کی مثال آدمؑ کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہو بہو آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہو جا! پس وه ہو گیا!
احمد رضا خان بریلوی
عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر حکم دیا کہ ہو جا سو وہ ہوگیا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے کہ اسے تھوڑی سی مٹی سے بنایا، پھر اسے فرمایا ہو جا، سو وہ ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭

حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ‏‏‏‏ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے

لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (‏‏‏‏اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (‏‏‏‏جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] ‏‏‏‏ آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ‏‏‏‏ ۱؎، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4382] ‏‏‏‏۱؎

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏ ۱؎، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی

اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا

اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] ‏‏‏‏ تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،

اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ‏‏‏‏ اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 59) ➊ { اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى …: } یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک (یعنی پہلی آیت سے ۵۹ تک) وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کے دوران عیسیٰ علیہ السلام کی {” بُنُوَّة “} (اللہ کا بیٹا ہونے) پر اس سے استدلال کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کا بیٹا ہونے کی دلیل ہو سکتا ہے تو آدم علیہ السلام جو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالاولیٰ اللہ کا بیٹا کہلانے کے حق دار ہیں، مگر یہ عقیدہ بالکل باطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی طرح مسیح علیہ السلام کو بھی {” كُنْ “} سے پیدا کرکے اپنی قدرتِ کاملہ کو ظاہر فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) ➋ {”مِنْ تُرَابٍ“} میں تنوین تقلیل یا تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”تھوڑی سی مٹی۔ “
اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رب کی طرف سے بتائی جا رہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو اس میں شک کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا
احمد رضا خان بریلوی
اے سننے والے! یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بات تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے، سو تو شک کرنے والوں سے نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭

حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ‏‏‏‏ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے

لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (‏‏‏‏اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (‏‏‏‏جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] ‏‏‏‏ آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ‏‏‏‏ ۱؎، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4382] ‏‏‏‏۱؎

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏ ۱؎، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی

اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا

اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] ‏‏‏‏ تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،

اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ‏‏‏‏ اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 60){اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ …:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تمھارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ {” اَلْحَقُّ “} میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے“ کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہر گز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)
فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ علم آ جانے کے بعد اب کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمدؐ! اس سے کہو، "آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس لئے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آو ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کواور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلالیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں
احمد رضا خان بریلوی
پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آ ؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے حجت بازی کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ (یعنی ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں)۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو شخص تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تیرے پاس علم آ چکا تو کہہ دے آئو! ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری ورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑگڑا کر دعا کریں ، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭

حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ‏‏‏‏ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے

لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (‏‏‏‏اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (‏‏‏‏جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] ‏‏‏‏ آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ‏‏‏‏ ۱؎، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4382] ‏‏‏‏۱؎

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏ ۱؎، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی

اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا

اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] ‏‏‏‏ تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،

اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ‏‏‏‏ اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ لیا اور عیسائیوں سے کہا کہ تم بھی اپنے اہل و عیال کو بلا لو اور پھر مل کر جھو ٹے پر لعنت کی بددعا کریں۔ عیسائیوں نے باہم مشورے کے بعد مباہلہ کرنے سے گریز کیا اور پیش کش کی کہ آپ ہم سے جو چاہتے ہیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر جزیہ مقرر فرمایا جس کی وصولی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امین امت کا خطاب عنایت فرمایا تھا ان کے ساتھ بھیجا (تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر وغیرہ) اس سے اگلی آیت میں اہل کتاب کو دعوت توحید دی جا رہی ہے۔
(آیت 61) ➊ { فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ:} سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح علیہ السلام کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا، اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو۔ ➋ مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ ” {بَهَلَ يَبْهَلُ} (ف)“ کا معنی لعنت کرنا ہے اور{ ” بَاهَلَ مُبَاهَلَةً “} اور {” اِبْتَهَلَ يَبْتَهِلُ “} کا معنی ایک دوسرے پر لعنت کی دعا کرنا ہے، چونکہ یہ دعا نہایت خلوص اور عاجزی سے ہوتی ہے، اس لیے {”اِبْتَهَلَ“} کا لفظ عاجزی سے دعا کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ➌ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ …» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، پھر فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ هٰؤُلاَءِ اَهْلِيْ ] ”اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔“ [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ: ۳۲؍۲۴۰۴ ] مگر اہل نجران مباہلہ سے ڈر گئے اور انھوں نے جزیہ دینا منظور کر لیا، جیسا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاقب اور السید نجران والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ آپ سے مباہلہ کا ارادہ رکھتے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے مباہلہ کر لیا تو نہ ہم کبھی فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل۔“ تو دونوں نے کہا: ”آپ نے ہم سے جو مطالبہ کیا ہے ہم آپ کو دیں گے اور آپ ہمارے ساتھ کوئی امین آدمی بھیج دیں اور کسی اور کو نہیں صرف امانت دار کو بھیجیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا میں تمھارے ساتھ ایک سچے پکے امانت دار کو بھیجوں گا۔“ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے گردنیں اٹھائیں (کہ کس پر آپ کی نظر پڑتی ہے) تو آپ نے فرمایا: ”اے ابوعبیدہ بن جراح! اٹھو۔“ جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کا امین ہے۔“ [بخاری، المغازی، باب قصۃ أہل نجران: ۴۳۸۰ ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اگر وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرتے تو اس حال میں واپس جاتے کہ نہ اپنے اہل کو پاتے اور نہ مال کو۔“ (طبری بسند حسن) ➍ اس آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ ضد میں آ کر حق سے انکار کرنے والے سے مباہلہ ہو سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو لعان بھی مباہلہ کی ایک صورت ہے۔ ➎ {وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ:} آیت مباہلہ میں اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کو بلانے کا ذکر ہے۔ { ”نِسَآءَ“ } (عورتوں) کا لفظ بیویوں پر استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ احزاب میں بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو { ”يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ“ } کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور انھیں اہل بیت کہہ کر خطاب کیا ہے۔ (دیکھیے احزاب: ۳۰ تا ۳۴) اولاد پر بیٹیوں کا لفظ آتا ہے نہ کہ عورتوں کا، ہاں، دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر ان پر بھی یہ لفظ آ سکتا ہے۔ یہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے فاطمہ، علی اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، آپ کے اہل بیت یہی تھے، بیویوں کو نہیں بلایا، حالانکہ کسی حدیث میں بیویوں کو نہ بلانے کا ذکر نہیں ہے اور یہ طے شدہ قاعدہ ہے کہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ احادیث میں تو دوسرے صحابہ کو بلانے کا یا ان کے آنے کا بھی ذکر نہیں، تو کیا وہاں اور کوئی بھی موجود نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے تو آپ کی بیویاں ہی تھیں، بیٹا کوئی زندہ نہ تھا، اس لیے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے آل علی کو اپنے اہل میں شامل کروایا، دلیل اس کی لفظ {”اَللَّهُمَّ“} ہے اور یہ تو معروف ہے کہ بیٹی کی اولاد کی نسبت اس کے خاوند اور خاوند کے آباء و اجداد کی طرف ہوتی ہے، نہ کہ نانا کی طرف۔ ہاں، یہ علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کی خصوصیت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے وہ بھی اہل بیت ہیں، مگر بیویوں کو جو اصل گھر والی ہیں انھیں گھر والوں ہی سے نکال دینا محض تعصب ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ انھیں گھر والیاں فرما رہا ہے، فرمایا: «لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۳۳ ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے اہل بیت!“ اور جبریل علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ علیہا السلام کو «رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ» کے الفاظ سے مخاطب کر رہے ہیں، یعنی ” اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے اہل بیت!“ [ہود: ۷۳ ]
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ بالکل صحیح واقعات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خداوند نہیں ہے، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کار فرما ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً صرف یہی سچا بیان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بے شک غالب اور حکمت واﻻ اللہ تعالیٰ ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہی بیشک سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
(جناب عیسیٰ کی) یہ برحق سرگزشت ہے (وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں بلکہ اس کے خاص بندے ہیں) اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ توانا اور بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یہ، یقینا یہی سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں اور بلاشبہ اللہ، یقینا وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭

حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ‏‏‏‏ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے

لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (‏‏‏‏اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (‏‏‏‏جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] ‏‏‏‏ آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ‏‏‏‏ ۱؎، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4382] ‏‏‏‏۱؎

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏ ۱؎، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی

اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا

اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] ‏‏‏‏ تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،

اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ‏‏‏‏ اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اگر یہ لوگ (اِس شرط پر مقابلہ میں آنے سے) منہ موڑیں تو (اُن کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فسادیوں کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اب اس کے بعد بھی یہ لوگ انحراف کریں تو خدا مفسدین کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ پھر جائیں تو بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭

حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ‏‏‏‏ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے

لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (‏‏‏‏اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (‏‏‏‏جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] ‏‏‏‏ آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ‏‏‏‏ ۱؎، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4382] ‏‏‏‏۱؎

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏ ۱؎، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی

اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا

اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] ‏‏‏‏ تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،

اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ‏‏‏‏ اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، "اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے" اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ، اے کتابیو! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کہیے اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک اور یکساں ہے (اور وہ یہ کہ) ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب (مالک و مختار) نہ بنائے۔ اور اگر یہ لوگ اس (دعوت) سے منہ موڑیں تو (اے مسلمانو) تم کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم مسلمان (خدا کے فرمانبردار و اطاعت گزار ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں اور نصرانیوں سے خطاب ٭٭

یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے، کلمہ کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے، جیسے یہاں کلمہ کہہ کر پھر «سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ» الخ کے ساتھ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ «سَوَاءٍ» کے معنی عدل و انصاف جیسے ہم کہیں ہم تم برابر ہیں، پھر اس کی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ ہم ایک اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی بت کو نہ پوجیں صلیب، تصویر، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نہ آگ کو نہ اور کسی چیز کو بلکہ تنہا اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کریں، یہی عبادت تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی تھی، جیسے فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ یعنی تجھ سے پہلے جس جس رسول کو ہم نے بھیجا سب کی طرف یہی وحی کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کیا کرو اور جگہ ارشاد ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ‏‏‏‏ یعنی ہر امت میں رسول بھیج کر ہم نے یہ اعلان کروایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا سب سے بچو۔ پھر فرماتا ہے کہ آپس میں بھی ہم اللہ جل جلالہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں، ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ایک دوسرے کی اطاعت نہ کریں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی کو سوائے اللہ تعالیٰ کے سجدہ نہ کریں، پھر اگر یہ لوگ اس حق اور عدل دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو انہیں تم اپنے مسلمان ہونے کا گواہ بنا لو۔

ہم نے بخاری کی شرح میں اس واقعہ کا مفصل ذکر کر دیا ہے جس میں ہے کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ جبکہ دربار قیصر میں بلوائے گئے اور شاہ قیصر روم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کا حال پوچھا تو انہیں کافر اور دشمن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے باوجود آپ کی خاندانی شرافت کا اقرار کرنا پڑا اور اسی طرح ہر سوال کا صاف اور سچا جواب دینا پڑا یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے اسی باعث قیصر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ (‏‏‏‏یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) بدعہدی کرتے ہیں؟ ابوسفیان نے کہا نہیں کرتے لیکن اب ایک معاہدہ ہمارا ان سے ہوا ہے نہیں معلوم اس میں وہ کیا کریں؟ یہاں صرف یہ مقصد ہے کہ ان تمام باتوں کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پیش کیا جاتا ہے جس میں بسم اللہ کے بعد یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ خط محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے جو اللہ کے رسول ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ہرقل کی طرف جو روم کا شاہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہو اسے جو ہدایت کا تابعدار ہو اس کے بعد اسلام قبول کر سلامت رہے گا، اسلام قبول کر اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر دے گا اور اگر تو نے منہ موڑا تو تمام رئیسوں کے گناہوں کا بوجھ تجھ پر پڑے گا پھر یہی آیت لکھی تھی، امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس سورت یعنی سورۃ آل عمران کو شروع سے لے کر «اننی» سے کچھ اوپر تک آیتیں وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہیں،

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی لوگوں نے ادا کیا ہے اور اس بات میں بھی مطلقاً اختلاف نہیں ہے کہ آیت جزیہ فتح مکہ کے بعد اتری ہے پس یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے تو پھر فتح سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خط میں ہرقل کو یہ آیت کیسے لکھی؟ اس کے جواب کئی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ ممکن ہے یہ آیت دو مرتبہ اتری ہو اول حدیبیہ سے پہلے اور فتح مکہ کے بعد، دوسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے شروع سورت سے لے کر اس آیت تک وفد نجران کے بارے میں اتری ہو یا یہ آیت اس سے پہلے اتر چکی ہو اس صورت میں ابن اسحاق رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ اسی(‏‏‏‏80)‏‏‏‏‏‏‏‏ کے اوپر اوپر کی کچھ آیتیں اسی وفد کے بارے میں اتری ہیں یہ محفوظ نہ ہو کیونکہ ابوسفیان والا واقعہ سراسر اس کے خلاف ہے، تیسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے وفد نجران حدیبیہ سے پہلے آیا ہو اور انہوں نے جو کچھ دینا منظور کیا ہو یہ صرف مباہلہ سے بچنے کے لیے بطور مصالحت کے ہو نہ کہ جزیہ دیا ہو اور یہ اتفاق کی بات ہو کہ آیت جزیہ اس واقعہ کے بعد اتری جس سے اس کا اتفاقاً الحاق ہو گیا۔

جیسے کہ عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ نے بدر سے پہلے غزوے کے مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور پانچواں حصہ باقی رکھ کر دوسرے حصے لشکر میں تقسیم کر دیئے، پھر اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کی آیتیں بھی اسی کے مطابق اتریں اور یہی حکم ہوا۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خط میں جو ہرقل کو بھیجا اس میں یہ بات اسی طرح بطور خود لکھی ہو پھر نبی کریم کے الفاظ ہی میں وحی نازل ہوئی ہو جیسے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پردے کے حکم کے بارے میں اسی طرح آیت اتری، اور بدوی قیدیوں کے بارے میں انہی کے ہم خیال فرمان باری نازل ہوا اسی طرح منافقوں کا جنازہ پڑھنے کی بابت بھی انہی کی بات قائم رکھی گئی، چنانچہ مقام ابراہیم کو مصلےٰ بنانے سے متعلق بھی اسی طرح وحی نازل ہوئی «وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] ‏‏‏‏ اور «عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰىِٕحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا» [66-التحريم:5] ‏‏‏‏ بھی انہی کے خیال سے متعلق آیت اتری، پس یہ آیت بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہی اتری ہو، یہ بہت ممکن ہے۔
64۔ 1 کسی بت نہ صلیب کو نہ آگ اور نہ کسی چیز کو بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ 64۔ 2 یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر ؑ کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ کھڑا کر رکھا ہے یہ غلط ہے وہ رب نہیں ہیں انسان ہیں دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے تم نے اپنے احبارو رہبان کو حلال یا حرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے یہ بھی ان کو رب بنانا ہے حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے (ابن کثیر و فتح القدیر) 64۔ 3 صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول اسلام کی دعوت دی اسے کہا تو مسلمان ہوجائے گا تو تجھے دوہرا اجر ملے گا ورنہ ساری رعایا کا گناہ تجھ پر ہوگا اسلام قبول کرلے سلامتی میں رہے گا کیونکہ رعایا کا عدم قبول اسلام کا سبب تو ہی ہوگا۔ اس آیت مذکورہ میں تین نکات 1۔ صرف اللہ کی عبادت کرنا۔ 2 اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ 3 اور کسی کو شریعت سازی کا خدائی مقام نہ دینا۔ لہذا اس امت کے شیرازہ کو جمع کرنے کے لئے بھی ان تینوں نکات اور اس کلمہ سواء کو بدرجہ اولیٰ اساس و بنیاد بنانا چاہیے۔
(آیت 64) ➊ { قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ …:} اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے:(1) اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔ (2) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ (3) اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود تورات تو اب بھی توحید سے اور شرک کی ممانعت سے لبریز ہے، انجیل میں بھی یہی تعلیم متفرق طور پر موجود ہے، جیسے: ”تو خداوند خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔“ [متّی: ۴: ۱۰ ] بلکہ یہ بھی ہے: ”زمین پر اللہ کے احکام پر عمل ہونا چاہیے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ [متّی: ۶: ۱۰ ] ➋ اہل کتاب تینوں باتوں کی مخالفت کر رہے تھے، یہود نے عزیر کو اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر ان کی پرستش شروع کر دی اور دونوں نے اپنے اپنے احبار و رہبان کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ کو حرام ٹھہرا کر انھیں رب ہونے کا درجہ دے دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۳۰، ۳۱) اور ان کے حواشی۔ ➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اہل کتاب کو اس مشترکہ عقیدہ کی دعوت دی، جو قریب تھے انھیں براہِ راست دعوت دی اور جو دور تھے انھیں خط لکھے، چنانچہ شاہ روم ہرقل کو خط لکھا تو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ زیر تفسیر آیت بھی لکھی، جیسا کہ صحیح بخاری ”کتاب التفسیر (۴۵۵۳)“ میں مذکور ہے۔ ➍ { فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ:} یعنی اگر اہل کتاب اس عقیدہ کے ماننے سے انحراف کریں تو تم اپنی طرف سے اس عقیدہ پر قائم رہنے کا اعلان کر دو۔ اس میں متنبہ کیا ہے کہ اہل کتاب اس عقیدہ سے منحرف ہو چکے ہیں، کیونکہ انھوں نے عزیر اور عیسیٰ علیہما السلام کو اللہ کے بیٹے قرار دے دیا تھا۔ علاوہ ازیں انھوں نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَتِ التَّوۡرٰىۃُ وَ الۡاِنۡجِیۡلُ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے اہل کتاب! تم ابراہیمؑ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیمؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو حاﻻنکہ تورات وانجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے؟
احمد رضا خان بریلوی
اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں (ہم سے) حجت بازی کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں کیا تم میں اتنی بھی عقل (سمجھ) نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ جب کہ تورات اور انجیل تو نازل ہی اس کے بعد کی گئی ہیں، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراہیم علیہ السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید ٭٭

یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہو گیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ،سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہیئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لیے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بے خبر ہو۔

دراصل اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت، اس آیت کی مثل ہے جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی «وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [2-البقرة:135] ‏‏‏‏ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام الصلٰوۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (‏‏‏‏ترمذی وغیرہ) [سنن ترمذي:2995،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
65۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی دونوں دعویٰ کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ ان کے دین پر تھے حالانکہ تورات جس پر یہودی ایمان رکھتے تھے اور انجیل جسے عیسائی مانتے تھے دونوں حضرت ابراہیم اور موسیٰ ؑ کے سینکڑوں برس بعد نازل ہوئیں پھر حضرت ابراہیم ؑ یہودی یا عیسائی کس طرح ہوسکتے ہیں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ؑ کے درمیان ایک ہزار سال کا حضرت ابراہیم و عیسیٰ ؑ کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ تھا (قرطبی)
(آیت 65) {يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ …:} یہود ابراہیم علیہ السلام کے یہودی ہونے کے دعوے دار تھے اور نصاریٰ ان کے نصرانی ہونے کے اور یہ بات ایسی تھی جو واضح طور پر غلط تھی۔ ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ موسیٰ علیہ السلام سے ہزاروں برس پہلے کا ہے، یہ تورات و انجیل ان کے بہت بعد نازل ہوئیں تو وہ یہودی یا نصرانی کیسے ہوئے؟ بھلا یہ کوئی ایسی بات ہے جس پر عقلمند لوگ باہمی جھگڑے میں مشغول ہوں۔ ہماری امت میں سے بھی اگر بعد میں بننے والا کوئی گروہ جو: { ”مَا اَنَا عَلَيْهِ وَ اَصْحَابِيْ“} پر قائم نہ ہو اور دعویٰ کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گروہ سے تھے تو اس سے یہی کہا جائے گا کہ تمھاری تو بنیاد ہی بعد میں رکھی گئی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو چکے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے گروہ میں کیسے شامل ہو گئے؟
ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ حَاجَجۡتُمۡ فِیۡمَا لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡمَا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو اُن میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب ان معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
سنو! تم لوگ اس میں جھگڑ چکے جس کا تمہیں علم تھا پھر اب اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں؟ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
احمد رضا خان بریلوی
سنتے ہو یہ جو تم ہو اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا تو اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
علامہ محمد حسین نجفی
تم وہی لوگ ہو۔ جو (ہم سے) ان باتوں کے بارے میں بحث و تکرار کرتے رہے جن کا تمہیں کچھ علم تھا۔ اب ان باتوں کے بارے میں کیوں حجت بازی کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں (حقیقت حال) صرف اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم نے اس بات میں جھگڑا کیا جس کے متعلق تمھیں کچھ علم تھا، تو اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراہیم علیہ السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید ٭٭

یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہو گیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ،سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہیئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لیے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بے خبر ہو۔

دراصل اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت، اس آیت کی مثل ہے جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی «وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [2-البقرة:135] ‏‏‏‏ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام الصلٰوۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (‏‏‏‏ترمذی وغیرہ) [سنن ترمذي:2995،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
66۔ 1 تمہارے علم اور دیانت کا تو یہ حال ہے کہ جن چیزوں کا تمہیں علم ہے۔ یعنی اپنے دین اور اپنی کتاب کا اس کی بابت تمہارے جھگڑے بےاصل بھی ہیں اور بےعقلی کا مظہر بھی تو پھر تم اس بات پر کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں سرے سے علم ہی نہیں یعنی حضرت ابراہیم ؑ کی شان اور ان کی ملت حنفیہ کے بارے میں جس کی اساس توحید و اخلاص پر ہے۔
(آیت 66){ لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ:} یعنی اس دین ابراہیمی سے متعلق۔ مراد یہ ہے کہ جب تم تورات و انجیل ہی کے مسائل میں بھٹکے اور کیسے بھٹکے، حالانکہ وہاں کچھ علم تمھیں حاصل تھا، تو اب دینِ ابراہیمی کے بارے میں کیوں کٹ حجتی پر تلے ہو، جس کے بارے میں تو تمھیں علم کا شائبہ بھی حاصل نہیں؟ (ماجدی) اس آیت میں نہ صرف غلط طور پر جھگڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے بلکہ مطلقاً جھگڑے سے گریز کی نصیحت بھی کی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)
مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابراہیمؑ نہ یہودی تھا نہ عیسائی، بلکہ وہ ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے بلکہ وه تو یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے، وه مشرک بھی نہیں تھے،
احمد رضا خان بریلوی
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے، اور مشرکوں سے نہ تھے
علامہ محمد حسین نجفی
ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو نرے کھرے خالص مسلمان (خدا کے فرمانبردار بندے) تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ نصرانی، بلکہ ایک طرف والا فرماں بردار تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراہیم علیہ السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید ٭٭

یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہو گیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ،سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہیئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لیے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بے خبر ہو۔

دراصل اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت، اس آیت کی مثل ہے جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی «وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [2-البقرة:135] ‏‏‏‏ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام الصلٰوۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (‏‏‏‏ترمذی وغیرہ) [سنن ترمذي:2995،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
67۔ 1 خالص مسلمان۔ یعنی شرک سے بیزار اور صرف خدائے واحد کے پرستار۔
(آیت 67) {مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّ لَا نَصْرَانِيًّا …:} اس آیت میں اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اپنے گروہ میں شمار کرتے ہیں، حالانکہ یہ مشرک ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنے مشائخ اور علماء کو رب اور ان کے اقوال کو شریعت بنا رکھا ہے اور عزیر و عیسیٰ علیہما السلام کو اللہ کا بیٹا اور نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجدیں بنائے ہوئے ہیں، جب کہ ابراہیم علیہ السلام ایک اللہ کی پرستش کرنے والے مسلم تھے، وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔ کچھ ایسا ہی حال اس امت کا بھی ہے کہ ہر فرقے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اپنے گروہ میں شامل کرتے ہیں، حالانکہ وہ سب گروہ بہت بعد میں بنے اور انھوں نے اپنے اپنے سربراہوں کے اقوال کو شریعت قرار دے کر ان سربراہوں کو اللہ کا درجہ دے دیا۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف {”مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ“} (اللہ کے نازل کر دہ دین) پر چلنے والے مسلم تھے اور ہر گز مشرک نہ تھے۔
اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں اللہ صرف اُنہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے،
احمد رضا خان بریلوی
بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے اور یہ نبی اور ایمان والے اور ایمان والوں کا ولی اللہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک تمام لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب اور زیادہ تعلق رکھنے والے وہ ہیں جنہوں نے اُن کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو (ان پر) ایمان لائے ہیں اور اللہ ایمان والوں کا ساتھی و سرپرست ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب یقینا وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اور اللہ ہی ایمان والوں کا دوست ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراہیم علیہ السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید ٭٭

یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہو گیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ،سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہیئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لیے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بے خبر ہو۔

دراصل اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت، اس آیت کی مثل ہے جو سورۃ البقرہ میں گزر چکی «وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [2-البقرة:135] ‏‏‏‏ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام الصلٰوۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (‏‏‏‏ترمذی وغیرہ) [سنن ترمذي:2995،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔
68۔ 1 اسی لئے قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے علاوہ ازیں حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہر نبی کے نبیوں میں سے دوست ہوتے ہیں، میرے ولی (دوست) ان میں سے میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم علیہ السلام) ہیں۔
(آیت 68) {اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ …:} مطلب یہ کہ اگر تم اس معنی میں ابراہیم علیہ السلام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہو کہ ان کی شریعت تمھاری شریعت سے ملتی جلتی ہے تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کے پیروکاروں کے بعد ان کے سب سے زیادہ قریب یہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر ایمان لانے والے ہیں۔ اس اعتبار سے مسلمانوں کو یہ کہنے کا حق تم سے زیادہ پہنچتا ہے کہ ہم اس طریقہ پر ہیں جس پر ابراہیم علیہ السلام تھے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلاَةً مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَ إِنَّ وَلِيِّيْ أَبِيْ وَ خَلِيْلُ رَبِّيْ ] ”ہر نبی کے لیے نبیوں میں سے کچھ دوست ہیں، جن سے اس کا خصوصی تعلق ہوتا ہے اور میرا (خاص تعلق والا) دوست میرا باپ اور میرے رب کا خلیل ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ آل عمران: ۲۹۹۵۔ صحیح ]
وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اے ایمان لانے والو) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے، حالانکہ در حقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمرا ہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراه کر دیں۔ دراصل وه خود اپنے آپ کو گمراه کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں، اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکے حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو بھی گمراہ نہیں کرتے مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اہل کتاب کی ایک جماعت نے چاہا کاش! وہ تمھیں گمراہ کر دیں۔ حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کر رہے اور وہ شعور نہیں رکھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کا حسد ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکر و فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گزرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہو گی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہو گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لیے ہم پر حجت بن جائیں
69۔ 1 یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح یہ خود ہی بےشعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔
(آیت 69) {وَدَّتْ طَّآىِٕفَةٌ …:} اس گروہ کی سازشوں کا ذکر اسی سورت (۷۲، ۷۳) میں آ رہا ہے۔ فرمایا یہ لوگ مسلمانوں کو یہودی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مسلمان ان کے بہکاوے میں کیا آئیں گے، وہ تو ایمان میں پختہ ہیں، یہ خود ہی مارے جائیں گے، مگر انھیں اس کا شعور ہی نہیں۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے اہل کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب تم (باوجود قائل ہونے کے پھر بھی) دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
اے کتابیو! اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہی ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہل کتاب تم آیاتِ الٰہیہ کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم خود گواہ ہو (کہ وہ آیاتِ الٰہیہ ہیں) اور برحق ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم خود گواہی دیتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کا حسد ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکر و فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گزرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہو گی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہو گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لیے ہم پر حجت بن جائیں
70۔ 1 قائل ہونے کا مطلب ہے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و حقانیت کا علم ہے۔
(آیت 70){لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ …:} اللہ کی آیات سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی وہ بشارتیں ہیں جو پہلے انبیاء سے منقول تھیں۔ یہود ان کو صحیح سمجھتے تھے مگر مانتے نہیں تھے۔ اللہ کی آیات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں پر مشتمل آیات کے ساتھ ساتھ عقائد و احکام وغیرہ پر مشتمل دوسری آیات بھی مراد ہو سکتی ہیں، یعنی وہ لوگ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہی نہیں، بلکہ دوسری آیات کو بھی اللہ کا کلام سمجھنے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لاتے تھے۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق وباطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
اے کتابیو! حق میں باطل کیوں ملاتے ہو اور حق کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہل کتاب! حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈمڈ کرتے ہو؟ اور حق کو کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ حق کیا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اے اہل کتاب! تم کیوں حق کو باطل سے خلط ملط کرتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کا حسد ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکر و فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گزرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہو گی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہو گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لیے ہم پر حجت بن جائیں
71۔ 1 اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشان دہی کر کے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے پہلا جرم حق وباطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق اور باطل واضح نہ ہو سکے دوسرا حق چھپانا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے انہیں لوگوں سے چھپانا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہو سکے اور یہ دونوں جرم جان بوجھ کر کرتے تھے۔ جس سے ان کی بدبختی دو چند ہوگئی تھی۔ ان کے جرائم کی نشان دہی سورة بقرہ میں بھی کی گئی ہے۔ اہل کتاب کے لفظ کو بعض مفسرین نے عام رکھا ہے جس میں یہود و نصاری دونوں شامل ہیں۔ یعنی دونوں کو ان جرائم مذکورہ سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف وہ قبائل یہود ہیں جو مدینے میں رہائش پذیر تھے۔ بنو قریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کا براہ راست انہی سے معاملہ تھا اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکالفت میں پیش پیش تھے۔
(آیت 71){لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ …:} اہل کتاب کی مذہبی بدبختیوں کی طرف اشارہ ہے، اس سے پہلی آیت میں علمائے یہود کی یہ بدبختی بیان کی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا پیغمبر ہونے کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں، اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی اپنی گمراہی کا بیان تھا، اس آیت میں دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔(رازی) مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۲)۔ یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے فرقہ پرست علماء اور تجدد زدہ حضرات بھی دنیوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید سے وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو تورات و انجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل صحیح فرمایا: [ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: ۳۴۵۶ ] ”تم لازماً پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے۔“
وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا کہ جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان ﻻؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ، تاکہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا وہ جو ایمان والوں پر اترا صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اہل کتاب کا ایک گروہ (اپنے لوگوں سے) کہتا ہے کہ جو کچھ مسلمانوں پر نازل ہوا ہے اس پر صبح کے وقت ایمان لے آؤ اور شام کے وقت انکار کر دو۔ شاید (اس ترکیب سے) وہ مسلمان (اپنے دین سے) پھر جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا تم دن کے شروع میں اس چیز پر ایمان لائو جو ان لوگوں پر نازل کی گئی ہے جو ایمان لائے ہیں اور اس کے آخر میں انکار کردو، تاکہ وہ واپس لوٹ آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کا حسد ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکر و فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گزرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہو گی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہو گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لیے ہم پر حجت بن جائیں
72۔ 1 یہ یہودیوں کے ایک اور مکر کا ذکر ہے۔ جس سے وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے باہم طے کیا کہ صبح کو مسلمان ہوجائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اپنے اسلام کے بارے میں شک پیدا ہو کہ یہ لوگ قبول اسلام کے بعد دوبارہ اپنے دین میں چلے گئے ہیں تو ممکن ہے کہ اسلام میں ایسے عیوب اور خامیاں ہوں جو ان کے علم میں آئی ہوں۔
(آیت 72) {لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ …:} کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے، یہ بھی اس سلسلہ کی ان کی ایک سازش کا بیان ہے کہ صبح کے وقت قرآن اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کر دو، ممکن ہے یہ طریقہ اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہو گئے ہیں تو آخر انھوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہو گا۔ (ابن کثیر، شوکانی)
وَ لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚۙ۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو اے نبیؐ! ان سے کہہ دو کہ، "اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے" اے نبیؐ! ان سے کہو کہ، "فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سوائے تمہارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو۔ آپ کہہ دیجئے کہ بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات کا بھی یقین نہ کرو) کہ کوئی اس جیسا دیا جائے جیسا تم دیئے گئے ہو، یا یہ کہ یہ تم سے تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے، آپ کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، وه جسے چاہے اسے دے، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ اورجاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (یقین کا ہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
خبردار۔ صرف اسی کی بات مانو جو تمہارے دین کی پیروی کرے۔ کہہ دیجیے کہ حقیقی ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے (اور یہ اسی کی دین ہے) کہ کسی کو ویسی ہی چیز مل جائے جو (کبھی) تم کو دی گئی تھی۔ یا وہ دلیل و حجت میں تمہارے پروردگار کے ہاں تم پر غالب آجائیں۔ کہہ دیجیے کہ بے شک فضل و کرم اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ وہ بڑی وسعت والا اور بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کسی کے بارے میں مت مانو، سوائے اس کے جو تمھارے دین کی پیروی کرے۔ کہہ دے اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے، (یہ مت مانو) کہ جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا، یا وہ تم سے تمھارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے۔ کہہ دے بے شک سب فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لیے آمادہ کر دیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بہ یک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہو جائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہو جائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے دے سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کیے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء علیہم السلہم پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
73۔ 1 یہ آپس میں انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ تم ظاہری طور پر تو اسلام کا اظہار ضرور کرو لیکن اپنے ہم مذہب (یہود) کے سوا کسی اور کی بات پر یقین مت رکھنا۔ 73۔ 2 یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا ما قبل اور ما بعد سے تعلق نہیں ہے صرف ان کے مکر و حیلہ کی اصل حقیقت اس سے واضح کرنا مقصود ہے کہ ان کے جملوں سے کچھ نہ ہوگا کیونکہ ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس کو ہدایت دے یا دینا چاہے، تمہارے حیلے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ 73۔ 3 یہ بھی یہودیوں کا قول ہے یعنی یہ بھی تسلیم مت کرو کہ جس طرح تمہارے اندر نبوت وغیرہ رہی ہے یہ کسی اور کو بھی مل سکتی ہے اور اس طرح یہودیت کے سوا کوئی اور دین بھی حق ہوسکتا ہے۔
(آیت 74،73) {وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ …:} یہ بھی ان گروہوں کا کلام ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں: «‏‏‏‏وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ» ‏‏‏‏ امام طبری نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اپنے ہم مشرب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو، نہ یہ تسلیم کرو کہ تمھاری طرح کسی اور کو بھی نبوت دی جا سکتی ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کر سکیں گے۔ اس صورت میں «قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ» ‏‏‏‏ جملہ معترضہ ہو گا اور اس کا ربط «‏‏‏‏قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ کے ساتھ ہو گا۔ (ابن کثیر، ابن جریر) یہاں تک ان کی دینی خیانت اور مذہبی تعصب کا بیان تھا، اب اگلی آیت میں ان کی مالی خیانت اور مسلمانوں سے بغض کا بیان ہے۔ (رازی)
یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کر لے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کر لیتا ہے اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لیے آمادہ کر دیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بہ یک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہو جائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہو جائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے دے سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کیے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء علیہم السلہم پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی
74۔ 1 اس آیت کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک یہ یہود کے بڑے بڑے علماء جب اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھتے ایمان لاؤ اور دن اترتے کفر کرو تاکہ جو لوگ فی الواقع مسلمان ہیں وہ بھی متذبذب ہو کر مرتد ہوجائیں تو ان شاگردوں کو مزید یہ تاکید کرتے تھے کہ دیکھو صرف ظاہرا مسلمان ہونا حقیقتاً اور واقعتًا مسلمان نہ ہوجانا بلکہ یہودی ہی رہنا اور یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ جیسا دین جیسی وحی و شریعت اور جیسا علم وفضل تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے یا تمہارے بجائے کوئی اور حق پر ہے جو تمہارے خلاف اللہ کے نزدیک حجت قائم کرسکتا ہے اور تمہیں غلط ٹھہرا سکتا ہے اس معنی کی رو سے جملہ معترضہ کو چھوڑ کر عند ربکم تک کل یہود کا قول ہوگا دوسرے معنی یہ ہیں کہ اے یہودیو! تم حق کو دبانے اور مٹانے کی یہ ساری حرکتیں اور سازشیں اس لیے کر رہے ہو کہ ایک تمہیں اس بات کا غم اور جلن ہے کہ جیسا علم وفضل وحی و شریعت اور دین تمہیں دیا گیا تھا اب ویسا ہی علم وفضل اور دین کسی اور کو کیوں دے دیا گیا۔ دوسرا تمہیں یہ اندیشہ اور خطرہ بھی ہے کہ اگر حق کی یہ دعوت پنپ گئی اور اس نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں تو نہ صرف یہ کہ تمہیں دنیا میں جو جاہ و وقار حاصل ہے وہ جاتا رہے گا بلکہ تم نے جو حق چھپا رکھا ہے اس کا پردہ بھی فاش ہوجائے گا اور اس بنا پر یہ لوگ اللہ کے نزدیک بھی تمہارے خلاف حجت قائم کر بیٹھیں گے۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دین و شریعت اللہ کا فضل ہے اور یہ کسی کی میراث نہیں بلکہ وہ اپنا فضل جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ یہ فضل کس کو دینا چاہیے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِقِنۡطَارٍ یُّؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِدِیۡنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ اِلَّا مَادُمۡتَ عَلَیۡہِ قَآئِمًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ اُن کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، "امیوں (غیر یہودی لوگوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے" اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے آخر کیوں اُن سے باز پرس نہ ہوگی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر انہیں تو خزانے کا امین بنا دے تو بھی وه تجھے واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں۔ ہاں یہ اوربات ہے کہ تو اس کے سر پر ہی کھڑا رہے، یہ اس لئے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہم پر ان جاہلوں (غیر یہودی) کے حق کاکوئی گناه نہیں، یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے۔ کہ اگر تم ڈھیر بھر روپیہ بھی بطور امانت اس کے پاس رکھو تو وہ تمہیں ادا کر دے گا۔ اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار (اشرفی) بھی بطور امانت رکھو تو جب تک تم اس کے سر پر کھڑے نہ رہو وہ تمہیں واپس نہیں کرے گا (یہ بدمعاملگی) اس وجہ سے ہے کہ ان کا قول ہے کہ ہم پر امیّون (ان پڑھ عربوں جوکہ اہل کتاب نہیں) کے بارے میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ منڈھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اہل کتاب میں سے بعض وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک خزانہ امانت رکھ دے وہ اسے تیری طرف ادا کر دے گا اور ان میں سے بعض وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک دینار امانت رکھے وہ اسے تیری طرف ادا نہیں کرے گا مگر جب تک تو اس کے اوپر کھڑا رہے، یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا ہم پر اَن پڑھوں کے بارے میں (گرفت کا) کوئی راستہ نہیں اور وہ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بددیانت یہودی ٭٭

اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودیوں کی خیانت پر تنبیہہ کرتا ہے کہ ان کے دھوکے میں نہ آ جائیں ان میں بعض تو امانتدار ہیں اور بعض بڑے خائن ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ خزانے کا خزانہ ان کی امانت میں ہو تو جوں کا توں حوالے کر دیں گے پھر چھوٹی موٹی چیز میں وہ بددیانتی کیسے کریں گے؟ اور بعض ایسے بددیانت ہیں کہ ایک دینار بھی واپس نہ دیں گے ہاں اگر ان کے سر ہو جاؤ تقاضا برابر جاری رکھو اور حق طلب کرتے رہو تو شاید امانت نکل بھی آئے ورنہ ہضم بھی کر جائیں جب ایک دینار پر بد دیانتی ہے تو بڑی رقم کو کیوں چھوڑنے لگے لفظ قنطار کی پوری تفسیر سورت کے اول میں ہی بیان ہو چکی ہے اور دینار تو مشہور ہی ہے، ابن ابی حاتم میں سیدنا مالک بن دینار رحمہ اللہ کا قول مروی ہے کہ دینار کو اس لیے دینار کہتے ہیں کہ وہ دین یعنی ایمان بھی ہے اور نار یعنی آگ بھی ہے، مطلب یہ ہے کہ حق کے ساتھ لو تو دین ناحق لو تو نار یعنی آتش دوزخ،

اس موقع پر اس حدیث کا بیان کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور کتاب الکفالہ میں بہت پوری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے کسی اور شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگے اس نے کہا گواہ لاؤ کہا اللہ کی گواہی کافی ہے اس نے کہا ضامن لاؤ اس نے کہا ضمانت بھی اللہ ہی دیتا ہوں وہ اس پر راضی ہو گیا اور وقت ادائیگی مقرر کر کے رقم دے دی وہ اپنے دریائی سفر میں نکل گیا جب کام کاج سے نپٹ گیا تو دریا کنارے کسی جہاز کا انتظار کرنے لگا تاکہ جا کر اس کا قرض ادا کر دے لیکن سواری نہ ملی تو اس نے ایک لکڑی لی اور اسے بیچ میں سے کھوکھلا کر کے اس میں ایک ہزار دینار رکھ دئیے اور ایک خط بھی اس کے نام رکھ دیا پھر منہ بند کر کے اسے دریا میں ڈال دیا اور کہا اے اللہ تو بخوبی جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے تیری شہادت پر اور تیری ضمانت پر اور اس نے بھی اس پر خوش ہو کر مجھے دے دئیے اب میں نے ہر چند کشتی ڈھونڈی کہ جا کر اس کا حق مدت کے اندر ہی اندر دے دوں لیکن نہ ملی پس اب عاجز آ کر تجھ پر بھروسہ کر کے میں اسے دریا میں ڈال دیتا ہوں تو اسے اس تک پہنچا دے یہ دعا کر کے لکڑی کو سمندر میں ڈال کر چلا آیا لکڑی پانی میں ڈوب گئی، یہ پھر بھی تلاش میں رہا کہ کوئی سواری ملے تو جائے اور اس کا حق ادا کر آئے ادھر قرض خواہ شخص دریا کے کنارے آیا کہ شاید مقروض کسی کشتی میں اس کی رقم لے کر آ رہا ہو جب دیکھا کہ کوئی کشتی نہیں آئی اور جانے لگا تو ایک لکڑی کو جو کنارے پر پڑی ہوئی تھی یہ سمجھ کر اٹھا لیا کہ جلانے کے کام آئے گی گھر جا کر اسے چیرا تو مال اور خط نکلا کچھ دنوں بعد قرض دینے والا شخص آیا اور کہا اللہ تعالیٰ جانتا ہے میں نے ہر چند کوشش کی کہ کوئی سواری ملے تو آپ کے پاس آؤں اور مدت گزرنے سے پہلے ہی آپ کا قرض ادا کر دوں

لیکن کوئی سواری نہ ملی اس لیے دیر لگ گئی اس نے کہا تو نے جو رقم بھیج دی تھی وہ اللہ نے مجھے پہنچا دی ہے تو اب اپنی یہ رقم واپس لے جا اور راضی خوشی لوٹا جا، [صحیح بخاری:2291] ‏‏‏‏ ۱؎ یہ حدیث بخاری شریف میں تعلیق کے ساتھ بھی ہے لیکن جزم کے صیغے کے ساتھ اور بعض جگہ اسناد کے حوالوں کے ساتھ بھی ہے۔ علاوہ ازیں اور کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ امانت میں خیانت کرنے حقدار کے حق کو نہ ادا کرنے پر آمادہ کرنے والا سبب ان کا یہ غلط خیال ہے کہ ان بددینوں ان پڑھوں کا مال کھا جانے میں ہمیں کوئی حرج نہیں ہم پر یہ مال حلال ہے، جس پر اللہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ پر الزام ہے اور اس کا علم خود انہیں بھی ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی ناحق مال کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ لیکن یہ بیوقوف خود اپنی من مانی اور دل پسند باتیں گھڑ کر شریعت کے رنگ میں انہیں رنگ لیتے ہیں،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے لوگ مسئلہ پوچھتے ہیں کہ ذمی یا کفار کی مرغی بکری وغیرہ کبھی غزوے کی حالت میں ہمیں مل جاتی ہے تو ہم تو سمجھتے ہیں کہ اسے لینے میں کوئی حرج نہیں تو آپ نے فرمایا ٹھیک یہی اہل کتاب بھی کہتے تھے کہ امتیوں کا مال لینے میں کوئی حرج نہیں، سنو جب وہ جزیہ ادا کر رہے ہیں تو ان کا کوئی مال تم پر حلال نہیں ہاں وہ اپنی خوشی سے دے دیں تو اور بات ہے [ عبدالرزاق ] ‏‏‏‏ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب سے حضور علیہ السلام نے یہ بات سنی تو فرمایا دشمنان الٰہ جھوٹے ہیں جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدموں تلے مٹ گئیں اور امانت تو ہر فاسق و فاجر کی بھی ادا کرنی پڑے گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7266-7267:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎
75۔ 1 (ان پڑھ۔ جاہل) سے مراد مشرکین عرب ہیں یہود کے بددیانت لوگ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ چونکہ مشرک ہیں اس لئے ان کا مال ہڑپ کرلینا جائز ہے اس میں کوئی گناہ نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ کس طرح کسی کا مال ہڑپ کر جانے کی اجازت دے سکتا ہے اور بعض تفسیری روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ سن کر فرمایا کہ ' اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا زمانہ جاہلیت کی تمام چیزیں میرے قدموں تلے ہیں سوائے امانت کے کہ وہ ہر صورت میں ادا کی جائے گی چاہے وہ کسی نیکوکار کی ہو یا بدکار کی۔ (ابن کثیر وفتح القدیر) افسوس ہے کہ یہود کی طرح آج بعض مسلمان بھی مشرکین کا مال ہڑپ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ دارالحرب کا سود ناجائز ہے اور حربی کے مال کے لیے کوئی عصمت نہیں۔
(آیت 75) ➊ {وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُّؤَدِّهٖۤ اِلَيْكَ:} اللہ تعالیٰ کا انصاف ملاحظہ فرمائیں کہ اہلِ کتاب کی مذمت کے دوران بھی اگر ان کے کچھ لوگوں میں کوئی خوبی تھی تو اس کا اعتراف فرمایا ہے، مذمت صرف ان کی فرمائی ہے جو اس کے حق دار تھے۔ ایک خزانہ امانت ادا کر دینے والوں کی بہترین مثال صحیح بخاری میں مذکور وہ تفصیلی واقعہ ہے جس میں بنی اسرائیل کے ایک شخص نے دوسرے اسرائیلی سے ایک ہزار دینار قرض مانگا، پھر پہنچانے کے لیے کشتی نہ ملنے پر لکڑی میں ڈال کر سمندر کے حوالے کر دیا، پھر بعد میں خود بھی لے کر حاضر ہوا۔ مگر دوسرے نے بھی امانت کا مظاہرہ کیا اور بتایا کہ مجھے تمھاری طرف سے لکڑی میں بھیجی ہوئی رقم مل گئی تھی۔ [بخاری، الکفالۃ، باب الکفالۃ فی القرض …: ۲۲۹۱ ] ➋ {وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِيْنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيْكَ …:} سر پر کھڑا رہنے کے بغیر ایک دینار بھی ادا نہ کرنے کی وجہ ان کے کہنے کے مطابق یہ ہے کہ اُمّی (عرب) لوگوں کا مال کھا جانے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کبھی امانت میں خیانت کا حکم نہیں دیا، خواہ وہ اسرائیلی ہو یا عرب، بلکہ اسلام نے تو کسی ذمی کے مال کو بھی بلا اجازت لینا جائز قرار نہیں دیا اور کسی حربی کافر کے مال کو بھی خیانت سے کھانے کی اجازت نہیں دی، چنانچہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا» ‏‏‏‏ [النساء: ۵۸ ] ”بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو۔“ افسوس کہ یہود کی طرح بعض مسلمان بھی کفار کے ممالک میں سود کے لین دین کے لیے کہتے ہیں کہ دار الحرب میں سود جائز ہے اور دار الحرب بھی اپنی مرضی کا بنایا ہوا ہے، خواہ ان سے جنگ ہو رہی ہو یا نہ۔ ➌ ہمارے ایک تاجر دوست نے اس آیت سے استدلال کیا کہ کوئی شخص کتنا بھی قرض واپس نہ کرنے والا ہو اگر آپ بار بار اس سے تقاضا کرتے رہیں گے تو آخر کار آپ کے پیسے نکل آئیں گے، بشرطیکہ آپ نہ اس سے لڑیں، نہ اسے لڑنے کا موقع دیں، کیونکہ پھر بار بار تقاضا ممکن نہیں رہتا۔ اس نے کہا یہ میرا تجربہ ہے۔
بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیوں نہیں (مواخذہ ہوگا) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے، تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے پرہیز گاروں سے محبت کرتاہے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بیشک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں جو شخص اپنے عہد و پیمان کو پورا کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے تو بے شک خدا پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیوں نہیں! جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور ڈرے تو یقینا اللہ ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متقی کون؟ ٭٭

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لیکن جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اہل کتاب ہو کر ڈرتا رہے پھر اپنی کتاب کی ہدایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اس عہد کے مطابق جو تمام انبیاء علیہم السلہم سے بھی ہو چکا ہے اور جس عہد کی پابندی ان کی امتوں پر بھی لازم ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے اس کی شریعت کی اطاعت کرے رسولوں کے خاتم اور انبیاء کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تابعداری کرے وہ متقی ہے اور متقی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔
76۔ 1 قرار پورا کرے کا مطلب وہ عہد پورا کرے جو اہل کتاب سے یا ہر نبی کے واسطے سے ان کی امتوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا ہے اور پرہیزگاری کرے یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچے اور ان باتوں پر عمل کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔ ایسے لوگ یقینا مواخذہ الٰہی سے نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ محبوب باری تعالیٰ ہونگے۔
(آیت 76) {”بَلٰى“} (کیوں نہیں) یعنی اس بدعہدی اور خیانت پر ضرور مؤاخذہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے (اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس شریعت کا اتباع کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشۡتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ اَیۡمَانِہِمۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَ لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ اُن سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ اُن کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ اللہ سے کئے گئے عہد و پیمان اور قسم اقسام کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ خدا قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت) کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں کی کثافت سے) پاک کرے گا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جھوٹی قسم کھانے والے ٭٭

یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان سے اللہ تعالیٰ کوئی پیار محبت کی بات کرے گا نہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا نہ انہیں ان کے گناہوں سے پاک صاف کرے گا بلکہ انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے گا اور وہاں وہ درد ناک سزائیں بھگتتے رہیں گے، اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں جن میں سے کچھ یہاں بھی ہم بیان کرتے ہیں۔

(‏‏‏‏١) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن سے تو نہ اللہ جل شانہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت سے دیکھے گا، اور نہ انہیں پاک کرے گا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا یہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ یہ تو بڑے گھاٹے اور نقصان میں پڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر جواب دیا کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا، جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا، دے کر احسان جتانے والا، مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح مسلم:106] ‏‏‏‏ ۱؎

(‏‏‏‏٢) مسند احمد میں ہے ابو احمس فرماتے ہیں میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں تو فرمایا سنو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ تو بول نہیں سکتا جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن لیا ہو تم کہو وہ حدیث کیا ہے؟ جواب دیا یہ کہ تین قسم کے لوگوں کو اللہ ذوالکرم دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو دشمن، تو فرمانے لگے ہاں یہ حدیث میں نے بیان کی ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے پوچھا کس کس کو دوست رکھتا ہے فرمایا ایک تو وہ جو مردانگی سے دشمنان اللہ سبحانہ کے مقابلے میں میدان جہاد میں کھڑا ہو جائے یا تو اپنا سینہ چھلنی کروا لے یا فتح کر کے لوٹے، دوسرا وہ شخص جو کسی قافلے کے ساتھ سفر میں ہے بہت رات گئے تک قافلہ چلتا رہا جب تھک کر چور ہو گئے پڑاؤ ڈالا تو سب سو گئے اور یہ جاگتا رہا اور نماز میں مشغول رہا یہاں تک کہ کوچ کے وقت سب کو جگا دیا۔ تیسرا وہ شخص جس کا پڑوسی اسے ایذاء پہنچاتا ہو اور وہ اس پر صبر و ضبط کرے یہاں تک کہ موت یا سفر ان دونوں میں جدائی کرے، میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہے فرمایا بہت قسمیں کھانے والا تاجر، اور تکبر کرنے والا فقیر اور وہ بخیل جس سے کبھی احسان ہو گیا ہو تو جتانے بیٹھے، [مسند احمد:151/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے

(‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کندہ قبیلے کے ایک شخص امروءالقیس بن عامر کا جھگڑا ایک حضرمی شخص سے زمین کے بارے میں تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ حضرمی اپنا ثبوت پیش کرے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو آپ نے فرمایا اب کندی قسم کھا لے تو حضرمی کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی قسم پر ہی فیصلہ ٹھہرا تو رب کعبہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم سے کسی کا مال اپنا کر لے گا تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اللہ اس سے ناخوش ہو گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو امروالقیس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام اگر تو کوئی چھوڑ دے تو اسے اجر کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا جنت تو کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہیے کہ میں نے وہ ساری زمین اس کے نام چھوڑی، یہ حدیث نسائی میں بھی ہے [نسائی فی السنن الکبری:5996:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎

(‏‏‏‏٤) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال چھین لے تو اللہ جل جلالہ سے جب ملے گا تو اللہ عزوجل اس پر سخت غضبناک ہو گا، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میرے ہی بارے میں یہ ہے ایک یہودی اور میری شرکت میں ایک زمین تھی اس نے میرے حصہ کی زمین کا انکار کر دیا میں اسے خدمت نبوی میں لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تیرے پاس کچھ ثبوت ہے میں نے کہا نہیں آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھا لے میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال لے جائے گا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:2356] ‏‏‏‏ ۱؎

(‏‏‏‏٥)‏‏‏‏‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی مرد مسلم کا مال بغیر حق کے لے لے وہ اللہ ذوالجلال سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا، وہیں سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آگے آئے اور فرمانے لگے ابوعبدالرحمٰن آپ کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ہم نے دوہرا دی تو فرمایا یہ حدیث میرے ہی بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے، میرا اپنے چچا کے لڑکے سے ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا جو اس کے قبضے میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہم اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ نے فرمایا تو اپنی دلیل اور ثبوت لا کہ یہ کنواں تیرا ہے ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں اور اگر اس قسم پر معاملہ رہا تو یہ تو میرا کنواں لے جائے گا میرا مقابل تو فاجر شخص ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان فرمائی اور اس آیت کی بھی تلاوت کی۔ [مسند احمد:212/5:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎

(‏‏‏‏٦) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ فرمایا اپنے ماں باپ سے بیزار ہونے والے اور ان سے بے رغبتی کرنے والی لڑکی اور اپنی اولاد سے بیزار اور الگ ہونے والا باپ اور وہ شخص کہ جس پر کسی قوم کا احسان ہے وہ اس سے انکار کر جائے اور آنکھیں پھیر لے اور ان سے یکسوئی کرے [مسند احمد:440/3:ضعیف] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٧) ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا سودا بازار میں رکھا اور قسم کھائی کہ وہ اتنا بھاؤ دیا جاتا تھا تاکہ کوئی مسلمان اس میں پھنس جائے، پس یہ آیت نازل ہوئی، صحیح بخاری میں بھی یہ روایت مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4551:صحیح] ‏‏‏‏

(‏‏‏‏٨) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین شخصوں سے جناب باری تقدس و تعالیٰ قیامت والے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ درد کے عذاب ہیں ایک وہ جس کے پاس بچا ہوا پانی ہے پھر وہ کسی مسافر کو نہیں دیتا دوسرا وہ جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے تیسرا وہ جو مسلمان بادشاہ سے بیعت کرتا ہے اس کے بعد اگر وہ اسے مال دے تو پوری کرتا ہے اگر نہیں دیتا تو نہیں کرتا ہے۔ [سنن ابوداود:3474،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
77۔ 1 مذکورہ افراد کے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے ہیں یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا نیز فرمایا تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ان میں ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنا سودا بیچتا ہے۔ متعدد احادیث میں یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ (ابن کثیرو فتح القدیر)
(آیت 77){ اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ …: } عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں کچھ سامانِ تجارت لا کر رکھا، پھر اس پر قسم کھا کر کہا کہ میں نے اس سامان کے اتنے روپے دیے، حالانکہ اس نے اتنے روپے نہیں دیے تھے (یا کہا کہ مجھے اس سامان کے اتنے روپے مل رہے تھے، حالانکہ اسے اتنے روپے نہیں مل رہے تھے) قسم کا مقصد یہ تھا کہ کسی مسلمان کو اس میں پھنسا لے تو اس پر یہ آیت اتری: «اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا» ‏‏‏‏ [بخاری، البیوع، باب ما یکرہ من الحلف فی البیع: ۲۰۸۸، ۴۵۵۱ ] یعنی جو لوگ بدعہدی، خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ایسا ناراض ہو گا کہ نہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ ہو گا، نہ اللہ ان سے کلام کرے گا، نہ انھیں (نظر رحمت سے) دیکھے گا، نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جھوٹی قسم کھائی، تاکہ اس کے ساتھ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غصے ہو گا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں (زیر تفسیر) یہ آیت اتاری۔ [بخاری، التفسیر، باب { إن الذين يشترون بعهد الله …:} ۴۵۴۹ ] ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا، نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ (وہ یہ ہیں) اپنے کپڑے کو لٹکانے والا، احسان کر کے جتلانے والا اور اپنے سودے کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“ [مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم الإسبال …: ۱۰۶، عن أبی ذر رضی اللہ عنہ ]
وَ اِنَّ مِنۡہُمۡ لَفَرِیۡقًا یَّلۡوٗنَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالۡکِتٰبِ لِتَحۡسَبُوۡہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مَا ہُوَ مِنَ الۡکِتٰبِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ مَا ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی، وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناًان میں ایسا گروه بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حاﻻنکہ دراصل وه کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حاﻻنکہ در اصل وه اللہ تعالی کی طرف سے نہیں، وه تو دانستہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان میں کچھ وہ ہیں جو زبان پھیر کر کتاب میں میل (ملاوٹ) کرتے ہیں کہ تم سمجھو یہ بھی کتاب میں ہے اور وہ کتاب میں نہیں، اور وہ کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے اور وہ اللہ کے پاس سے نہیں، اور اللہ پر دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ان (اہل کتاب) سے ایک گروہ ایسا بھی ہے۔ جو اپنی زبانوں کو کتاب (توراۃ وغیرہ) کے پڑھنے میں مروڑتا ہے اور کچھ کا کچھ پڑھتا ہے تاکہ تم یہ سمجھو کہ یہ (توڑ موڑ) بھی کتاب خدا میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے۔ اور کہتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے (آیا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے یہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ باندھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک ان میں سے یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب (پڑھنے) کے ساتھ اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، تاکہ تم اسے کتاب میں سے سمجھو، حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں اور اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غلط تاویل اور تحریف کرنے والے لوگ ٭٭

یہاں بھی انہی ملعون یہودیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کا ایک گروہ یہ بھی کرتا ہے کہ عبارت کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دیتا ہے، یعنی اللہ کی کتاب بدل دیتا ہے، اصل مطلب اور صحیح معنی خبط کر دیتا ہے اور جاہلوں کو اس چکر میں ڈال دیتا ہے کہ کتاب اللہ یہی ہے پھر یہ خود اپنی زبان سے بھی اسے کتاب اللہ کہہ کر جاہلوں کے اس خیال کو اور مضبوط کر دیتا ہے اور جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے اور جھوٹ بکتا ہے، زبان موڑنے سے مطلب یہاں تحریف کرنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ یہ لوگ تحریف اور ازالہ کر دیتے تھے مخلوق میں ایسا تو کوئی نہیں جو کسی اللہ کی کتاب کا لفظ بدل دے مگر یہ لوگ تحریف اور بیجا تاویل کرتے تھے، [صحیح بخاری:کتاب التوحید] ‏‏‏‏ ۱؎ وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توراۃ و انجیل اسی طرح ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اتاریں ایک حرف بھی ان میں سے اللہ نے نہیں بدلا لیکن یہ لوگ تحریف اور تاویل سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جو کتابیں انہوں نے اپنی طرف سے لکھ لی ہیں اور جسے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشہور کر رہے ہیں اور لوگوں کو بہکاتے ہیں حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں اللہ کی اصلی کتابیں تو محفوظ ہیں جو بدلتی نہیں (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

سیدنا وہب رحمہ اللہ کے اس فرمان کا اگر یہ مطلب ہو کہ ان کے پاس اب جو کتاب ہے تو ہم بالیقین کہتے ہیں کہ وہ بدلی ہوئی ہے اور محرف ہے اور زیادتی اور نقصان سے ہرگز پاک نہیں اور پھر جو عربی زبان میں ہمارے ہاتھوں میں ہے اس میں تو بڑی غلطیاں ہیں کہیں مضمون کو کم کر دیا گیا ہے کہیں بڑھا دیا گیا ہے اور صاف صاف غلطیاں موجود ہیں بلکہ دراصل اسے ترجمہ کہنا زیبا ہی نہیں وہ تو تفسیر اور وہ بھی بے اعتبار تفسیر ہے اور پھر ان سمجھداروں کی لکھی ہوئی تفسیر ہے جن میں اکثر بلکہ کل کے کل دراصل محض الٹی سمجھ والے ہیں اور اگر سیدنا وہب رحمہ اللہ کے فرمان کا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب جو درحقیقت اللہ کی کتاب ہے پس وہ بیشک محفوظ و سالم ہے اس میں کمی زیادتی ناممکن ہے۔
78۔ 1 یہ یہود کے ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے کتاب الٰہی (تورات) میں نہ صرف بددیانتی و تبدیلی کی بلکہ دو جرم بھی کئے ایک تو زبان کو مروڑ کر کتاب کے الفاظ پڑھتے جس سے عوام کو خلاف واقعہ تاثر دینے میں وہ کامیاب رہتے دوسرا وہ اپنی خود ساختہ باتوں میں عند اللہ باور کراتے بدقسمتی امت محمدیہ کے مذہبی پیشواؤں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی (تم اپنے سے پہلی امتوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے) کے مطابق بکثرت ایسے لوگ ہیں جو دینوی اغراض یا جماعتی تعصب یا فقہی جمود کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں پڑھتے قرآن کی آیت ہیں اور مسئلہ اپنا خود ساختہ بیان کرتے ہیں عوام سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحب نے مسئلہ قرآن سے بیان کیا ہے حالانکہ اس مسئلے کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا پھر آیات میں معنوی تبدیلی و طمع سازی سے کام لیا جاتا ہے تاکہ باور یہی کرایا جائے کہ یہ من عند اللہ ہے۔
(آیت 78){وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ …:} اس کا عطف پہلی آیت پر ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت بھی یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے (اگرچہ لفظ عام ہونے کی وجہ سے ایسے تمام لوگ اس میں داخل ہیں)۔ (رازی) اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ تورات و انجیل میں تحریف کرتے ہیں اور اس میں (خصوصاً ان آیات میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت مذکور ہے) کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا کر اس انداز اور لہجہ سے پڑھتے ہیں کہ سننے والا ان کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوئیں، پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ان کی بے خوفی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کے اللہ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں اور جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ افسوس، امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی بہت سے لوگ اسی راہ پر چل رہے ہیں اور وہ اپنی دنیاوی اغراض یا مذہبی فرقہ پرستی کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ یہ معاملہ کبھی لفظی اور کبھی معنوی تحریف کے ساتھ کرتے ہیں، عوام بے چارے اسے اللہ کا حکم سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ مولوی صاحب یا ان کے کسی پیشوا کی بات ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: ”یقینًا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چل پڑو گے۔“ [بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : لتتبعن سنن …: ۷۳۲۰ ]
مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ وہ تو یہی کہے گا کہ سچے ربانی بنو جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب وحکمت اور نبوت دے، یہ ﻻئق نہیں کہ پھر بھی وه لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وه تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ، تمہارے کتاب سکھانے کے باعﺚ اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔
احمد رضا خان بریلوی
کسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ ہاں یہ کہے گا کہ اللہ والے ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کسی ایسے انسان کو یہ بات زیب نہیں دیتی جسے خدا کتاب، حکمت (یا اقتدار) اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ (میری عبادت کرو) بلکہ (وہ تو یہ کہے گا کہ) تم اللہ والے ہو جاؤ۔ اس بنا پر کہ تم کتابِ الٰہی کی تعلیم دیتے ہو۔ اور اسے پڑھتے بھی رہتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو اور لیکن رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقصد نبوت ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو رافع قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے“آئیس“ کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے؟ اور یہی دعوت ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا معاذاللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں نہ کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:7694:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ کہ کسی انسان کو کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت پا لینے کے بعد یہ لائق ہی نہیں کہ اپنی پرستش کی طرف لوگوں کو بلائے، جب انبیائے کرام کا جو اتنی بڑی بزرگی فضیلت اور مرتبے والے ہیں یہ منصب نہیں تو کسی اور کو کب لائق ہے کہ اپنی پوجا پاٹ کرائے، اور اپنی بندگی کی تلقین لوگوں کو کرے، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ادنی مومن سے بھی یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں کو اپنی بندگی کی دعوت دے، یہاں یہ اس لیے فرمایا یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ہی ایک دوسرے کو پوجتے تھے

قرآن شاہد ہے جو فرماتا ہے «اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ» [9-التوبة:31] ‏‏‏‏ یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔ مسند ترمذی کی وہ حدیث بھی آ رہی ہے کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں؟ وہ ان پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیتے تھے اور یہ ان کی مانتے چلے جاتے تھے یہی ان کی عبادت تھی [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ پس جاہل درویش اور بےسمجھ علماء اور مشائخ اس مذمت اور ڈانٹ ڈپٹ میں داخل ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اتباع کرنے والے علماء کرام اس سے یکسو ہیں اس لیے کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جن سے انبیاء کرام روک گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء تو خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کی امانت احتیاط کے ساتھ بندگان رب عالم کو پہنچا دیتے ہیں نہایت بیداری، مکمل ہوشیاری، کمال نگرانی اور پوری حفاظت کے ساتھ وہ ساری مخلوق کے خیرخواہ ہوتے ہیں وہ احکام رب رحمٰن کے پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ رسولوں کی ہدایت تو لوگوں کو ربانی بننے کی ہوتی ہے کہ وہ حکمتوں والے علم والے اور حلم والے بن جائیں سمجھدار، عابد و زاہد، متقی اور پارسا ہیں۔ سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنے والوں پر حق ہے کہ وہ با سمجھ ہوں «تَعلَمُونَ» اور «تُعَلِّمُونَ» دونوں قرأت ہیں پہلے کے معنی ہیں معنی سمجھنے کے دوسرے کے معنی ہیں تعلیم حاصل کرنے کے، «تَدْرُسُونَ» کے معنی ہیں الفاظ یاد کرنے کے۔

پھر ارشاد ہے کہ وہ یہ حکم نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو خواہ وہ نبی ہو بھیجا ہوا خواہ فرشتہ ہو قرب الہ والا، یہ تو وہی کر سکتا ہے جو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی دعوت دے اور جو ایسا کرے وہ کافر ہو اور کفر نبیوں کا کام نہیں ان کا کام تو ایمان لانا ہے اور ایمان نام ہے اللہ واحد کی عبادت اور پرستش کا، اور یہی نبیوں کی دعوت ہے، جیسے خود قرآن فرماتا ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ‏‏‏‏ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں تم سب میری عبادت کرتے رہو اور فرمایا «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] ‏‏‏‏ یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا ہر کسی کی عبادت سے بچو، ارشاد ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:43] ‏‏‏‏ تجھ سے پہلے تمام رسولوں سے پوچھ لو کیا ہم نے اپنی ذات رحمان کے سوا ان کی عبادت کے لیے کسی اور کو مقرر کیا تھا؟ فرشتوں کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ «وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ ان میں سے اگر کوئی کہ دے کہ میں معبود ہوں بجز اللہ تو اسے بھی جہنم کی سزا دیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔
79۔ 1 یہ عیسائیوں کے ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک انسان تھے جنہیں کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔ ایسا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے پجاری اور بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہتا ہے کہ رب والے بن جاؤ رَبَّانِیُّ رب کی طرف منسوب ہے، الف اور نون کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (فتح القدیر) 79۔ 2 یعنی کتاب اللہ کی تعلیم و تدریس کے نتیجے میں رب کی شناخت اور رب سے خصوصی ربط وتعلق قائم ہونا چاہئے، اسی طرح کتاب اللہ کا علم رکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بھی قرآن کی تعلیم دے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ جب اللہ کے پیغمبروں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیں، تو کسی اور کو یہ کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔ (ابن کثیر)
(آیت 79) ➊ { مَا كَانَ لِبَشَرٍ …: } تورات و انجیل میں اہل کتاب کی تحریف بیان کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کے دعویٰ کی خاطر بھی تحریف کی گئی ہے، ورنہ نبی تو بشر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت ایسی صفات سے مشرف ہونے کے بعد ان کی طرف سے اپنے الٰہ (خدا) ہونے کا دعویٰ محال ہے۔ (رازی) ➋ پھر جب نبی کا یہ حق نہیں کہ لوگ اس کی عبادت کریں تو دوسرے مشائخ اور ائمہ اس مرتبے پر کیسے فائز ہو سکتے ہیں اور انھیں یہ حق کیسے حاصل ہو گیا کہ اپنے مریدوں کو چوبیس گھنٹے اپنی صورت آنکھوں اور ذہن کے سامنے رکھنے کا حکم دیں اور ان سے یہ عہد لیں کہ میری ہر بات تمھیں ماننا ہو گی، صحیح معلوم ہو یا غلط اور جب مصیبت پیش آئے تو ہمیں یاد کرو گے۔ بتائیے خدائی اور کیا ہوتی ہے؟ نبی ہونے کی حیثیت سے انبیاء کی پیروی اور ان کا ہر حکم ماننا واجب ہوتا ہے، مشائخ اور ائمہ تو واجب الاتباع بھی نہیں ہوتے۔ ➌ {كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ: } اس سے معلوم ہوا کہ عبد المسیح یا عبد الرسول یا عبد المصطفٰی نام رکھنا جائز نہیں۔ ➍ { ”اَلرَّبَّانِيُّ“ } لفظ ”رب“ پر الف نون بڑھا کر یاء نسبت کی لگا دی گئی ہے اور اس کے معنی عالم باعمل کے ہیں۔ مبرّد فرماتے ہیں کہ یہ {”رَبَّهُ يَرُبُّهُ فَهُوَ رَبَّانُ “} ہے، یعنی صیغہ صفت۔ {”رَبَّانُ “ } کے ساتھ ”یاء “ ملائی گئی ہے۔(فتح البیان) صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، آیت: «كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ» ‏‏‏‏ کا معنی ہے حکماء، فقہاء بنو اور کہا: ”کہا جاتا ہے ”الربانی“ وہ ہے جو علم کی بڑی باتوں سے پہلے اس کی چھوٹی باتوں کے ساتھ لوگوں کی تربیت کرے۔“ [بخاری، العلم، باب العلم قبل القول والعمل …، بعد ح: ۶۷ ] ➎ { بِمَا كُنْتُمْ:} اس میں ”باء“ برائے سببیت ہے، چونکہ تم تعلیم و دراست کا مشغلہ رکھتے ہو، اس لیے تمھیں عالم باعمل اور اللہ کے عبادت گزار بندے بننا چاہیے۔ (بیضاوی) ➏ { كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ہاں، تم کو (اے اہل کتاب!) یہ کہنا ہے کہ تم میں جو آگے دین داری تھی، یعنی کتاب کا پڑھنا اور سکھانا، وہ اب نہیں رہی اب میری صحبت میں پھر وہی کمال حاصل کرو۔“ (موضح) اور یہ بات اب قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ➐ کسی شخص میں اگر علم اور کتب الٰہیہ کے پڑھنے پڑھانے سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی خصلت پیدا نہیں ہوتی تو یہ مشغلہ وقت ضائع کرنا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے، آپ دعا کیا کرتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ ] [مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الأدعیۃ: ۲۷۲۲ ] ”اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔“ (فتح البیان)
وَ لَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿٪۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اورنبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے، کیا وه تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کبھی تمہیں یہ حکم نہیں دے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو اپنا پروردگار بنا لو۔ بھلا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا۔ اس کے بعد کہ تم مسلمان ہو؟ ۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ یہ (حق ہے) کہ تمھیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو، کیا وہ تمھیں کفر کا حکم دے گا، اس کے بعد کہ تم مسلم ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مقصد نبوت ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو رافع قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے“آئیس“ کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے؟ اور یہی دعوت ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا معاذاللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں نہ کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:7694:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ کہ کسی انسان کو کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت پا لینے کے بعد یہ لائق ہی نہیں کہ اپنی پرستش کی طرف لوگوں کو بلائے، جب انبیائے کرام کا جو اتنی بڑی بزرگی فضیلت اور مرتبے والے ہیں یہ منصب نہیں تو کسی اور کو کب لائق ہے کہ اپنی پوجا پاٹ کرائے، اور اپنی بندگی کی تلقین لوگوں کو کرے، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ادنی مومن سے بھی یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں کو اپنی بندگی کی دعوت دے، یہاں یہ اس لیے فرمایا یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ہی ایک دوسرے کو پوجتے تھے

قرآن شاہد ہے جو فرماتا ہے «اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ» [9-التوبة:31] ‏‏‏‏ یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔ مسند ترمذی کی وہ حدیث بھی آ رہی ہے کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں؟ وہ ان پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیتے تھے اور یہ ان کی مانتے چلے جاتے تھے یہی ان کی عبادت تھی [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ پس جاہل درویش اور بےسمجھ علماء اور مشائخ اس مذمت اور ڈانٹ ڈپٹ میں داخل ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اتباع کرنے والے علماء کرام اس سے یکسو ہیں اس لیے کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جن سے انبیاء کرام روک گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء تو خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کی امانت احتیاط کے ساتھ بندگان رب عالم کو پہنچا دیتے ہیں نہایت بیداری، مکمل ہوشیاری، کمال نگرانی اور پوری حفاظت کے ساتھ وہ ساری مخلوق کے خیرخواہ ہوتے ہیں وہ احکام رب رحمٰن کے پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ رسولوں کی ہدایت تو لوگوں کو ربانی بننے کی ہوتی ہے کہ وہ حکمتوں والے علم والے اور حلم والے بن جائیں سمجھدار، عابد و زاہد، متقی اور پارسا ہیں۔ سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنے والوں پر حق ہے کہ وہ با سمجھ ہوں «تَعلَمُونَ» اور «تُعَلِّمُونَ» دونوں قرأت ہیں پہلے کے معنی ہیں معنی سمجھنے کے دوسرے کے معنی ہیں تعلیم حاصل کرنے کے، «تَدْرُسُونَ» کے معنی ہیں الفاظ یاد کرنے کے۔

پھر ارشاد ہے کہ وہ یہ حکم نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو خواہ وہ نبی ہو بھیجا ہوا خواہ فرشتہ ہو قرب الہ والا، یہ تو وہی کر سکتا ہے جو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی دعوت دے اور جو ایسا کرے وہ کافر ہو اور کفر نبیوں کا کام نہیں ان کا کام تو ایمان لانا ہے اور ایمان نام ہے اللہ واحد کی عبادت اور پرستش کا، اور یہی نبیوں کی دعوت ہے، جیسے خود قرآن فرماتا ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ‏‏‏‏ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں تم سب میری عبادت کرتے رہو اور فرمایا «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] ‏‏‏‏ یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا ہر کسی کی عبادت سے بچو، ارشاد ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:43] ‏‏‏‏ تجھ سے پہلے تمام رسولوں سے پوچھ لو کیا ہم نے اپنی ذات رحمان کے سوا ان کی عبادت کے لیے کسی اور کو مقرر کیا تھا؟ فرشتوں کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ «وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] ‏‏‏‏ ان میں سے اگر کوئی کہ دے کہ میں معبود ہوں بجز اللہ تو اسے بھی جہنم کی سزا دیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔
80۔ 1 یعنی نبیوں اور فرشتوں (یا کسی اور کو) رب والی صفات کا حامل باور کرانا یہ کفر ہے۔ تمہارے مسلمان ہوجانے کے بعد ایک نبی یہ کام بھلا کس طرح کرسکتا ہے؟ کیونکہ نبی کا کام تو ایمان کی دعوت دینا ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا نام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ اس بات سے ہے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کریں یا کسی کو اس کا حکم دیں اللہ نے مجھے نہ اس لئے بھیجا ہے نہ اس کا حکم ہی دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ بحوالہ سیرۃ ابن ہشام)
(آیت 80) ➊ { وَ لَا يَاْمُرَكُمْ …:} اور نہ نبی کا یہ حق ہے کہ تمھیں اس بات کا حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ یہ کام تو صریح کفر ہے، پھر ایک پیغمبر تمھارے مسلمان ہونے کے بعد تمھیں کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ ➋ اس آیت میں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل پر چوٹ ہے، جنھوں نے انبیاء اور فرشتوں کی تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ ان کو رب تعالیٰ کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ انبیاء اور صالحین کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان میں ان کی تصویریں بنا ڈالیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک کنیسہ (گرجے) کا ذکر کیا، جو انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی ہوتا اور وہ فوت ہو جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ساری مخلوق سے بدتر ہوں گے۔“ [بخاری، مناقب الأنصار، باب ھجرۃ الحبشۃ: ۳۸۷۳ ] اب آپ کو مسلمانوں کے ہر شہر اور تقریباً ہر محلے میں یہی نقشہ نظر آئے گا۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو چونا گچ کرنے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر (مجاور بن کر) بیٹھنے سے منع فرمایا۔ [مسلم، الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر والبناء علیہ: ۹۷۰، عن جابر رضی اللہ عنہ ] بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو۔ [مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹ ] استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس آیت: «اَيَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ» سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نبی یا فرشتے کی پرستش صریح کفر ہے اور کوئی ایک تعلیم یا فلسفہ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھائے یا اللہ کے کسی نبی یا بزرگ کو رب تعالیٰ کے مقام پر بٹھائے وہ ہر گز اللہ تعالیٰ یا اس کے نبی کی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ {”اَيَاْمُرُكُمْ“} میں استفہام انکاری ہے، یعنی یہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ انبیاء تو لوگوں کو عبادتِ الٰہی کی تعلیم دینے اور مسلمان بنانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں نہ کہ الٹا کافر بنانے کے لیے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ، "آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی" یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا، "کیا تم اِس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟" اُنہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں اللہ نے فرمایا، "اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (یاد کرو) جب خدا نے تمام پیغمبروں سے یہ عہد و اقرار لیا تھا کہ میں نے جو تمہیں کتاب و حکمت عطا کی ہے۔ اس کے بعد جب تمہارے پاس ایک عظیم رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیزوں (کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہو تو تم اس پر ضرور ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا ارشاد ہوا۔ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اور اس پر میرے عہد و پیمان کو قبول کرتے ہو اور یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد ہوا۔ تم سب گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اللہ نے سب نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ میں کتاب و حکمت میں سے جو کچھ تمھیں دوں، پھر تمھارے پاس کوئی رسول آئے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمھارے پاس ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لائو گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری عہد قبول کیا؟ انھوں نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو گواہ رہو اور تمھارے ساتھ میں بھی گواہوں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء سے عہد و میثاق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے تمام انبیاء کرام علیہم السلہم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آ جائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہو گا۔ یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو پھر جائے وہ قطعی فاسق، بیحکم اور بدکار ہے ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں٠ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے، طاؤس، حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لیے سیدنا طاؤس رحمہ اللہ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بھی مروی ہے۔

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک دوست قریظی یہودی سے کہا تھا کہ وہ تورات کی جامع باتیں مجھے لکھ دے اگر آپ فرمائیں تو میں انہیں پیش کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے چہرہ کا کیا حال ہے؟ تو عمر کہنے لگے میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد کے رسول ہونے پر خوش ہوں (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دور ہوا اور فرمایا قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر موسیٰ تم میں آ جائیں اور تم ان کی تابعداری میں لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم سب گمراہ ہو جاؤ تمام امتوں میں سے میرے حصے کی امت تم ہو اور تمام نبیوں میں سے تمہارے حصے کا نبی میں ہوں۔ [مسند احمد:266/4:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎

مسند ابو یعلیٰ میں لکھا ہے اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو وہ خود گمراہ ہیں تو تمہیں راہ راست کیسے دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے تم کسی باطل کی تصدیق کر لو یا حق کی تکذیب کر بیٹھو اللہ کی قسم اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تم میں زندہ موجود ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے اور کچھ حلال نہ تھا، [مسند احمد:338/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا، [کسی بھی حدیث میں عیسٰی کا ذکر نہیں، صرف موسٰی کا ہی ذکر ہے جیسا کہ سابقہ حدیث میں ہے] ‏‏‏‏ ۱؎ پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء علیہم السلہم کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلہم کے امام آپ ہی بنائے گئے، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے درود و سلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین۔
81۔ 1 یعنی ہر نبی سے یہ وعدہ لیا گیا کہ اس کی زندگی اور دور نبوت میں اگر دوسرا نبی آئے گا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہوگا جب نبی کی موجودگی میں آنے والے نئے نبی پر خود اس نبی کو ایمان لانا ضروری ہے تو ان کی امتوں کے لئے تو اس نئے نبی پر ایمان لانا بطریق اولیٰ ضروری ہے بعض مفسرین نے اس کا یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تمام نبیوں سے عہد لیا گیا کہ اگر ان کے دور میں وہ آجائیں تو اپنی نبوت ختم کر کے ان پر ایمان لانا ہوگا لیکن یہ واقعہ ہے پہلے معنی میں ہی یہ دوسرا مفہوم از خود آجاتا ہے اس لئے الفاظ قرآن کے اعتبار سے پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے اس مفہوم کے لحاظ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ نبوت محمدی کے سراج منیر کے بعد کسی بھی نبی کا چراغ نہیں جل سکتا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ تورات کے اوراق پڑھ رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر غضب ناک ہوئے اور فرمایا کہ " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ اگر موسیٰ ؑ بھی زندہ ہو کر آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیچھے لگ جاؤ تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ (مسند احمد بحوالہ ابن کثیر) بہرحال اب قیامت تک واجب الاتباع صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور نجات انہی کی اطاعت میں منحصر ہے نہ کہ کسی امام کی اندھی تقلید یا کسی بزرگ کی بیعت میں۔ جب کسی پیغمبر کا سکہ اب نہیں چل سکتا تو کسی اور کی ذات غیر مشروط اطاعت کی مستحق کیوں کر ہوسکتی ہے؟ اصر بمعنی عہد اور ذمہ ہے۔
(آیت 81) ➊ {وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ …:} ان آیات سے مقصود ایسے دلائل کی وضاحت ہے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور ان کے بعد ہر نبی سے عہد لیا کہ وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق اور اس کی مدد کرے گا اور اس بارے میں کسی قسم کی گروہ بندی اور عصبیت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اگر وہ نبی اس کی زندگی میں آ جائے تو بذات خود اس پر ایمان لائے گا اور اگر اس کی وفات کے بعد آئے تو وہ اپنی امت کو بعد میں آنے والے نبی پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کا حکم دے کر جائے گا۔ اس اعتبار سے گویا موسیٰ علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام پر اور عیسیٰ علیہ السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا ہے۔ طبری اور ابن ابی حاتم میں حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری زندگی میں آ جائیں تو تم ان پرایمان لاؤ گے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر کوئی الگ نہیں بلکہ پہلی تفسیر ہی میں شامل ہے۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور واجب الاتباع ہیں، اب آپ کے سوا کسی اور نبی کی اتباع جائز نہیں۔ ➋ { ”اِصْرٌ“ } کسی چیز کے باندھنے اور زبردستی بند کرنے کو کہتے ہیں، یعنی بھاری بوجھ۔ اسی طرح مؤکد عہد کو بھی {”اِصْرٌ“} کہتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کو باندھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء سے یہ عہد اور اقرار لیا، انھیں اس کی شہادت کا حکم دیا اور خود بھی شہادت دی۔
فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وه یقیناً پورے نافرمان ہیں۔
احمد رضا خان بریلوی
تو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اب جو کوئی بھی اس (عہد) سے منہ پھیرے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو اس کے بعد پھر جائے تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء سے عہد و میثاق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے تمام انبیاء کرام علیہم السلہم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آ جائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہو گا۔ یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں۔ اب اس عہد و میثاق سے جو پھر جائے وہ قطعی فاسق، بیحکم اور بدکار ہے ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں٠ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے، طاؤس، حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لیے سیدنا طاؤس رحمہ اللہ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بھی مروی ہے۔

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک دوست قریظی یہودی سے کہا تھا کہ وہ تورات کی جامع باتیں مجھے لکھ دے اگر آپ فرمائیں تو میں انہیں پیش کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے چہرہ کا کیا حال ہے؟ تو عمر کہنے لگے میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد کے رسول ہونے پر خوش ہوں (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دور ہوا اور فرمایا قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر موسیٰ تم میں آ جائیں اور تم ان کی تابعداری میں لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم سب گمراہ ہو جاؤ تمام امتوں میں سے میرے حصے کی امت تم ہو اور تمام نبیوں میں سے تمہارے حصے کا نبی میں ہوں۔ [مسند احمد:266/4:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎

مسند ابو یعلیٰ میں لکھا ہے اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو وہ خود گمراہ ہیں تو تمہیں راہ راست کیسے دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے تم کسی باطل کی تصدیق کر لو یا حق کی تکذیب کر بیٹھو اللہ کی قسم اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تم میں زندہ موجود ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے اور کچھ حلال نہ تھا، [مسند احمد:338/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا، [کسی بھی حدیث میں عیسٰی کا ذکر نہیں، صرف موسٰی کا ہی ذکر ہے جیسا کہ سابقہ حدیث میں ہے] ‏‏‏‏ ۱؎ پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء علیہم السلہم کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلہم کے امام آپ ہی بنائے گئے، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے درود و سلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین۔
82۔ 1 یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور دیگر اہل مذہب کو تنبہہ ہے کہ بعثت محمدی کے بعد بھی ان پر ایمان لانے کے بجائے اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا اس عہد کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے واسطے سے ہر امت سے لیا اور اس عہد سے انحراف کفر ہے۔ فسق یہاں کفر کے معنی میں ہے کیونکہ نبوت محمدی سے انکار صرف فسق نہیں سراسر کفر ہے۔
(آیت 82) {فَمَنْ تَوَلّٰى …:} اس آیت میں اہل کتاب کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لا کر دراصل اس عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمھارے انبیاء سے اور ان کے ذریعے تم سے لیا گیا ہے، اب بتاؤتمھارے فاسق ہونے میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے؟ (رازی)
اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللّٰہِ یَبۡغُوۡنَ وَ لَہٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار و نا چار اللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم) ہیں اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حاﻻنکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے سے مجبوری سے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ اللہ کے دین (اسلام) کے سوا کسی اور (دین) کو تلاش کرتے ہیں حالانکہ جو آسمانوں میں ہیں یا زمین میں ہیں سب خوشی سے یا ناخوشی سے (چار و ناچار) اسی کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور بالآخر سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کچھ اور تلاش کرتے ہیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے خوشی اور نا خوشی سے اسی کا فرماں بردار ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسلامی اصول اور روز جزا ٭٭

اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [13-الرعد:15] ‏‏‏‏ یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩» [16-النحل:48] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گزار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے، [طبرانی کبیر:11473:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ ۱؎ ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:3010] ‏‏‏‏ ۱؎ اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے «وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» [31-لقمان:25] ‏‏‏‏ اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔

پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب علیہم السلہم پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام کی نسل میں سے تھے یہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو توراۃ دی گئی تھی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام علیہم السلہم اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔

پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہو گا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے [صحیح مسلم:1718] ‏‏‏‏ ۱؎ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آ کر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آ کر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہو گا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] ‏‏‏‏ یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے [مسند احمد:362/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ اور اس کے راوی حسن کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
83۔ 1 جب آسمان اور زمین کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے باہر نہیں چاہے خوشی سے چاہے ناخوشی سے۔ تو پھر تم اس کے سامنے قبول اسلام سے کیوں گریز کرتے ہو؟ اگلی آیت میں ایمان لانے کا طریقہ بتلا کر (کہ ہر نبی اور ہر مُنَزل کتاب پر بغیر تفریق کے ایمان لانا ضروری ہے) پھر کہا جا رہا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہوگا کسی اور دین کے پیروکاروں کے حصے میں سوائے کھانے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔
(آیت 83) ➊ {طَوْعًا وَّ كَرْهًا:} اگر کوئی کہے کہ بہت سے انسان اللہ کے فرماں بردار ہیں ہی نہیں تو جواب یہ ہے کہ وہ بھی فرماں بردار ہونے میں بے بس ہیں، ورنہ اپنا سانس یا دل کی دھڑکن یا بھوک و پیاس یا پیشاب و پاخانہ روک کر دکھائیں، ہاں اعمال سے متعلق انسان کو ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اور اسی سے متعلق باز پرس ہو گی۔ ➋ { اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ:} یعنی جب آسمان و زمین کی ہر چیز، فرشتے، جن و انس وغیرہ اللہ کے قانون فطرت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں اور اختیاری و غیر اختیاری طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت {”دِيْنِ اللّٰهِ“} کو چھوڑ کر دوسرا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اگر آخرت میں نجات چاہتے ہیں تو اللہ کا دین جو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں اسے اختیار کر لیں۔ نیز دیکھیے سورۂ آل عمران (۸۵)۔
قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی وَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۪ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ! کہو کہ "ہم اللہ کو مانتے ہیں، اُس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اُن تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ پر نازل ہوئی تھیں اور اُن ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان (مسلم) ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اوران کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے، ان سب پر ایمان ﻻئے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کہہ دیجئے! کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہم پر اتارا اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط پر اتارا گیا۔ اور اس پر بھی جو کچھ موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو جو کچھ ان کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم (بحیثیت نبی ہونے کے) ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ اور ہم اسی (خدائے یکتا) کے مسلمان (اطاعت گزار بندے) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسلامی اصول اور روز جزا ٭٭

اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [13-الرعد:15] ‏‏‏‏ یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩» [16-النحل:48] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گزار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے، [طبرانی کبیر:11473:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ ۱؎ ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:3010] ‏‏‏‏ ۱؎ اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے «وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» [31-لقمان:25] ‏‏‏‏ اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔

پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب علیہم السلہم پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام کی نسل میں سے تھے یہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو توراۃ دی گئی تھی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام علیہم السلہم اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔

پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہو گا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے [صحیح مسلم:1718] ‏‏‏‏ ۱؎ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آ کر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آ کر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہو گا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] ‏‏‏‏ یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے [مسند احمد:362/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ اور اس کے راوی حسن کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
84۔ 1 یعنی تمام سچے نبیوں پر ایمان لانا کہ وہ اپنے اپنے وقت میں اللہ کی طرف سے مبعوث تھے نیز ان پر جو الہامی کتابیں نازل ہوئیں ان کی بابت بھی عقیدہ رکھنا کہ وہ آسمانی کتابیں تھیں اور واقعۃً اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں ضروری ہے۔ گو اب عمل صرف قرآن کریم پر ہی ہوگا کیونکہ قرآن نے پچھلی کتابوں کو منسوخ کردیا۔
(آیت 84){ قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ …: } اس آیت کی تشریح کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۳۶) دیکھیے۔
وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین اختیار کرے گا تو اس کا دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسلامی اصول اور روز جزا ٭٭

اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [13-الرعد:15] ‏‏‏‏ یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩» [16-النحل:48] ‏‏‏‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گزار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے، [طبرانی کبیر:11473:موضوع و باطل] ‏‏‏‏ ۱؎ ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری:3010] ‏‏‏‏ ۱؎ اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے «وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» [31-لقمان:25] ‏‏‏‏ اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔

پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب علیہم السلہم پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام کی نسل میں سے تھے یہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو توراۃ دی گئی تھی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام علیہم السلہم اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔

پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہو گا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے [صحیح مسلم:1718] ‏‏‏‏ ۱؎ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آ کر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آ کر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہو گا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] ‏‏‏‏ یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے [مسند احمد:362/2:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ اور اس کے راوی حسن کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 85) {وَ مَنْ يَّبْتَغِ …:} یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہو جانے کے بعد جو شخص آپ کی فرماں برداری اور اطاعت کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا، یا کسی پہلے راستے پر چلتا رہے گا وہ چاہے کتنا توحید پرست کیوں نہ ہو اور پچھلے انبیاء پر ایمان رکھنے والا ہو، اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی دین داری اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہو گی اور وہ آخرت میں نامراد و ناکام ہو گا۔ واضح رہے کہ اگرچہ تمام انبیاء کا دین اسلام تھا، مگر آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اسلام صرف آپ کی پیروی کا نام ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں بھی اب اسلام سے یہی مراد ہوتا ہے، اس معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ] [مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ …: 1718/18، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ] ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔“
کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ وَ شَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّ جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پا لینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آ چکی ہیں اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان ﻻنے اور رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد کافر ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راه راست پرنہیں ﻻتا
احمد رضا خان بریلوی
کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا خدا ان لوگوں کو کیوں کر ہدایت دے گا (منزل مقصود پر پہنچائے گا) جو ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہوگئے۔ حالانکہ وہ گواہی دے چکے تھے کہ رسول برحق ہے۔ اور ان کے پاس آیات بینات (واضح معجزات) بھی آچکے تھے۔ بے شک خدا ظلم و جور کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ اور قبولیت ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہو گیا [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:247/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سویدرضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا۔ «بینات» سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہو جانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کر لے میں بھی اس سے در گزر کر لیتا ہوں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 86تا88) ➊ یعنی جو لوگ حق کے پوری طرح واضح ہو جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا نبی ہونے کے روشن دلائل دیکھنے کے باوجود محض کبر و حسد اور مال و جاہ کی محبت کی بنا پر کفر کی روش پر قائم رہے، یا ایک مرتبہ اسلام قبول کر لینے کے بعد پھر مرتد ہو گئے تو وہ سراسر ظالم و بدبخت ہیں، ایسے لوگوں کو راہِ ہدایت دکھانا اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد شخص کافر سے زیادہ مجرم ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ➋ حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک اور آیت کے ساتھ اس کی بہترین تفسیر فرمائی کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اپنی کتابوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود پاتے تھے، ان کی آمد پر ان کے ذریعے سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے (گویا آپ پر ایمان رکھتے تھے) جب آپ تشریف لائے تو انھوں نے آپ کے ساتھ کفر اختیار کیا، جیسا کہ ارشاد فرمایا: «‏‏‏‏كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ» [البقرۃ: ۸۹ ] ”حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آ گئی جسے انھوں نے پہچان لیا تو انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔“ (طبری بسند حسن)
اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ اَنَّ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃَ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو
احمد رضا خان بریلوی
ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی،
علامہ محمد حسین نجفی
ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ، فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ! ان کی جزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ اور قبولیت ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہو گیا [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:247/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سویدرضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا۔ «بینات» سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہو جانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کر لے میں بھی اس سے در گزر کر لیتا ہوں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ انہیں مہلت دی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
ہمیشہ اس میں رہیں، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ہمیشہ اس لعنت (پھٹکار) میں گرفتار رہیں گے۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف (کمی) کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ اور قبولیت ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہو گیا [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:247/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سویدرضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا۔ «بینات» سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہو جانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کر لے میں بھی اس سے در گزر کر لیتا ہوں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡا ۟ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اِس کے بعد توبہ کر کے اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مگرجو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کر لی تو بے شک خدا بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توبہ اور قبولیت ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہو گیا [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:247/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سویدرضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا۔ «بینات» سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہو جانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کر لے میں بھی اس سے در گزر کر لیتا ہوں۔
89۔ 1 انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا لیکن جلدی ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پیغام بھجوایا کہ میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق پہچاننے کے بعد بغض اور عناد اور سرکشی سے حق سے انکار کیا تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اس کی توبہ قابل قبول ہے۔
(آیت89) ➊ {اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا …:} اس سے معلوم ہوا کہ اگر مشرک صدقِ دل سے توبہ کر لے اور دوبارہ اسلام لے آئے تو اللہ تعالیٰ اس کی پچھلی غلطی کو معاف کر دیتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”انصار میں سے ایک آدمی اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا اور مشرکوں سے جا ملا، پھر وہ پشیمان ہوا اور اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے کہلا بھیجا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ آیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (اس کے بھائی نے) اسے یہ آیت بھیج دی اور وہ دوبارہ مسلمان ہو گیا۔ [نسائی، تحریم الدم، باب توبۃ المرتد …:۴۰۷۳ وقال الالبانی صحیح ] اس شخص کا نام حارث بن سوید تھا۔ (طبری) ➋ کسی شخص کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جائے گا، فرمایا: «لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ [البقرة: ۲۵۶] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ مگر کوئی مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو، پھر ارتداد سے توبہ نہ کرے تو اس کی سزا قتل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ ] ”جو اپنا دین (یعنی اسلام) بدل لے اسے قتل کر دو۔“ [بخاری، استتابۃ المرتدین و المعاندین وقتالہم، باب إثم من أشرک …: ۶۹۱۸ ]
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴿۹۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بےشک جو لوگ اپنے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں، ان کی توبہ ہرگز ہرگز قبول نہ کی جائے گی، یہی گمراه لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور یہی لوگ حقیقی گمراہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا، پھر کفر میں بڑھ گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور وہی لوگ سراسر گمراہ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہو گی ٭٭

ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہو گی جیسے اور جگہ ہے «وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا» [4-النساء:18] ‏‏‏‏ آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہو گی اور یہی لوگ وہ ہیں جو راہ حق سے بھٹک کر باطل راہ پر لگ گئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے پھر مرتد ہو گئے پھر اسلام لائے پھر مرتد ہو گئے پھر اپنی قوم کے پاس آدمی بھیج کر بچھوایا کہ کیا اب ہماری توبہ ہے؟ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس پر یہ آیت اتری [ بزار ] ‏‏‏‏ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ کفر پر مرنے والوں کی کوئی نیکی قبول نہیں گو اس نے زمین بھر کر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن جدعان جو بڑا مہمان نواز غلام آزاد کرنے والا اور کھانا پینا دینے والا شخص تھا کیا اسے اس کی یہ نیکی کام آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی «رَبِّ اغْفِر لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّين» نہیں کہا [صحیح مسلم:214] ‏‏‏‏ ۱؎ یعنی اے میرے رب میری خطاؤں کو قیامت والے دن بخش جس طرح اس کی خیرات نامقبول ہے اسی طرح فدیہ اور معاوضہ بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ» [2-البقرة:123] ‏‏‏‏ ان سے نہ بدلہ مقبول نہ انہیں سفارش کا نفع اور فرمایا «لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ» [14-إبراهيم:31] ‏‏‏‏ اس دن نہ خرید فروخت نہ موت و محبت اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [5-المائدة:36] ‏‏‏‏ یعنی اگر کافروں کے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو پھر وہ اس سب کو قیامت کے عذابوں کے بدلے فدیہ دیں تو بھی نامقبول ہے ان تکلیف والے الم ناک عذابوں کو سہنا پڑے گا، یہی مضمون یہاں بھی بیان فرمایا گیا ہے بعض نے «وَلَوِ افْتَدَى» کی واؤ کو زائد کہا ہے لیکن واؤ کو عطف کی ماننا اور وہ تفسیر کرنا جو ہم نے کی بہت بہتر ہے واللہ اعلم، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے کفار کو کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی چاہے وہ بڑے نیک اور نہایت سخی ہوں گو زمین بھربھر کر سونا راہ اللہ لٹائیں یا پہاڑوں اور ٹیلوں کی مٹی اور ریت نرم زمین اور سخت زمین کی خشکی اور تری کے ہم وزن سونا عذاب کے بدلے دینا چاہیں یا دیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ زمین پر جو کچھ ہے اگر تیرا ہو جائے تو کیا تو اس کو ان سزاؤں کے بدلے اپنے فدیے میں دے ڈالے گا۔ وہ کہے گا ہاں تو جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ میں نے تجھ سے بہ نسبت اس کے بہت ہی کم چاہا تھا، میں نے تجھ سے اس وقت وعدہ لیا تھا جب تو اپنے باپ آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شرک نہ بنانا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ رہا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی دوسری سند کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:3334] ‏‏‏‏ ۱؎

مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہو تم نے کیسی جگہ پائی؟ وہ جواب دے گا اللہ بہت ہی بہتر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اور کچھ مانگنا ہو تو مانگو دل میں جو تمنا ہو کہو تو یہ کہے گا باری تعالیٰ میری صرف یہی تمنا ہے اور میرا یہی ایک سوال ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے میں تیری راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ ہو جاؤں پھر شہید کیا جاؤں دس مرتبہ ایسا ہی ہو کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت اور شہید کے مرتبے دیکھ چکا ہو گا اسی طرح ایک جہنمی کو بلایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنی جگہ کیسی پائی؟ وہ کہے گا اللہ بہت ہی بری۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا ساری زمین بھر کر سونا دے کر ان عذابوں سے چھوٹنا تجھے پسند ہے؟ وہ کہے گا ہاں اے باری تعالیٰ اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے میں نے تو اس سے بہت ہی کم اور بالکل آسان چیز تجھ سے طلب کی تھی لیکن تو نے اسے بھی نہ کیا چنانچہ وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا، [مسند احمد:207/3:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ پس یہاں فرمایا ان کے لیے تکلیف دہ عذاب ہیں اور ایسا نہیں جو ان عذابوں سے اپنے آپ کو چھڑا سکے یا کوئی ان کی کس طرح مدد کر سکے [ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے نجات دے۔ آمین ] ‏‏‏‏
90۔ 1 اس آیت میں ان کی سزا بیان کی جا رہی ہے جو مرتد ہونے کے بعد توبہ کی توفیق سے محروم رہیں اور کفر پر انتقال ہو۔ 90۔ 2 اس سے وہ توبہ مراد ہے جو موت کے وقت ہو۔ ورنہ توبہ کا دروازہ تو ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بھی قبولیت توبہ کا اثبات ہے۔ علاوہ ازیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار توبہ کی اہمیت اور قبولیت کو بیان فرمایا ہے۔ (وہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ۔) " الشوری۔ 25 " کیا انہوں نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور احادیث میں بھی یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے اس لیے اس آیت سے مراد آخری سانس کی توبہ ہے جو نامقبول ہے جیسا کہ قرآن کریم کے ایک اور مقام پر ہے (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ) 4:18 ان کی توبہ قبول نہیں ہے جو برائی کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے ایک کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے میری توبہ۔ حدیث میں بھی ہے ان اللہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر۔ مسند احمد، ترمذی۔ بحوالہ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر۔ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اسے موت کا اچھو نہ لگے یعنی جان کنی کے وقت کی توبہ قبول نہیں۔
(آیت 90)یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے کہ یہ یقینًا نبی ہے لیکن جب ان سے معاملہ ہوا تو وہ منکر ہو گئے۔(موضح) اور ایسے لوگ بھی اس کا مصداق ہیں جو اسلام سے مرتد ہونے کے بعد موت کے وقت تک کفر پر قائم رہتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ حالت نزع میں اگر یہ لوگ توبہ کریں گے بھی تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ ] [ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل التوبۃ …: ۳۵۳۷۔ حسنہ الألبانی ] ”یقینًا اللہ تبارک و تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک روح حلق تک نہ پہنچے۔“ نیز دیکھیے سورۂ نساء (۱۸) اور {”الضَّآلُّوْنَ“} سے مراد ”کامل درجہ کے گمراہ ہیں۔“ (رازی)
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِہِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَہَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰی بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ وَّ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿٪۹۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقین رکھو، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی اُن میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اُسے قبول نہ کیا جائے گا ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور و ہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے، گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے واﻻ عذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر کفر ہی کی حالت میں مر گئے تو ان میں سے کسی ایک سے ساری زمین بھر سونا بطور فدیہ و معاوضہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، سو ان کے کسی ایک سے زمین بھرنے کے برابر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیے میں دے۔ یہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہو گی ٭٭

ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہو گی جیسے اور جگہ ہے «وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا» [4-النساء:18] ‏‏‏‏ آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہو گی اور یہی لوگ وہ ہیں جو راہ حق سے بھٹک کر باطل راہ پر لگ گئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے پھر مرتد ہو گئے پھر اسلام لائے پھر مرتد ہو گئے پھر اپنی قوم کے پاس آدمی بھیج کر بچھوایا کہ کیا اب ہماری توبہ ہے؟ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس پر یہ آیت اتری [ بزار ] ‏‏‏‏ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ کفر پر مرنے والوں کی کوئی نیکی قبول نہیں گو اس نے زمین بھر کر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن جدعان جو بڑا مہمان نواز غلام آزاد کرنے والا اور کھانا پینا دینے والا شخص تھا کیا اسے اس کی یہ نیکی کام آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی «رَبِّ اغْفِر لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّين» نہیں کہا [صحیح مسلم:214] ‏‏‏‏ ۱؎ یعنی اے میرے رب میری خطاؤں کو قیامت والے دن بخش جس طرح اس کی خیرات نامقبول ہے اسی طرح فدیہ اور معاوضہ بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ» [2-البقرة:123] ‏‏‏‏ ان سے نہ بدلہ مقبول نہ انہیں سفارش کا نفع اور فرمایا «لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ» [14-إبراهيم:31] ‏‏‏‏ اس دن نہ خرید فروخت نہ موت و محبت اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [5-المائدة:36] ‏‏‏‏ یعنی اگر کافروں کے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو پھر وہ اس سب کو قیامت کے عذابوں کے بدلے فدیہ دیں تو بھی نامقبول ہے ان تکلیف والے الم ناک عذابوں کو سہنا پڑے گا، یہی مضمون یہاں بھی بیان فرمایا گیا ہے بعض نے «وَلَوِ افْتَدَى» کی واؤ کو زائد کہا ہے لیکن واؤ کو عطف کی ماننا اور وہ تفسیر کرنا جو ہم نے کی بہت بہتر ہے واللہ اعلم، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے کفار کو کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی چاہے وہ بڑے نیک اور نہایت سخی ہوں گو زمین بھربھر کر سونا راہ اللہ لٹائیں یا پہاڑوں اور ٹیلوں کی مٹی اور ریت نرم زمین اور سخت زمین کی خشکی اور تری کے ہم وزن سونا عذاب کے بدلے دینا چاہیں یا دیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ زمین پر جو کچھ ہے اگر تیرا ہو جائے تو کیا تو اس کو ان سزاؤں کے بدلے اپنے فدیے میں دے ڈالے گا۔ وہ کہے گا ہاں تو جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ میں نے تجھ سے بہ نسبت اس کے بہت ہی کم چاہا تھا، میں نے تجھ سے اس وقت وعدہ لیا تھا جب تو اپنے باپ آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شرک نہ بنانا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ رہا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی دوسری سند کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:3334] ‏‏‏‏ ۱؎

مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہو تم نے کیسی جگہ پائی؟ وہ جواب دے گا اللہ بہت ہی بہتر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اور کچھ مانگنا ہو تو مانگو دل میں جو تمنا ہو کہو تو یہ کہے گا باری تعالیٰ میری صرف یہی تمنا ہے اور میرا یہی ایک سوال ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے میں تیری راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ ہو جاؤں پھر شہید کیا جاؤں دس مرتبہ ایسا ہی ہو کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت اور شہید کے مرتبے دیکھ چکا ہو گا اسی طرح ایک جہنمی کو بلایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنی جگہ کیسی پائی؟ وہ کہے گا اللہ بہت ہی بری۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا ساری زمین بھر کر سونا دے کر ان عذابوں سے چھوٹنا تجھے پسند ہے؟ وہ کہے گا ہاں اے باری تعالیٰ اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے میں نے تو اس سے بہت ہی کم اور بالکل آسان چیز تجھ سے طلب کی تھی لیکن تو نے اسے بھی نہ کیا چنانچہ وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا، [مسند احمد:207/3:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ پس یہاں فرمایا ان کے لیے تکلیف دہ عذاب ہیں اور ایسا نہیں جو ان عذابوں سے اپنے آپ کو چھڑا سکے یا کوئی ان کی کس طرح مدد کر سکے [ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے نجات دے۔ آمین ] ‏‏‏‏
1۔ 19 حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرے پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا تو اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا؟ وہ کہے گا " ہاں " اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا مگر تو شرک سے باز نہیں آیا (مسند احمد وھکذا اخرجہ البخاری ومسلم۔ ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے اس نے اگر دنیا میں کچھ اچھے کام بھی کیے ہوں گے تو کفر کی وجہ سے وہ بھی ضائع ہی جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عبد اللہ بن جدعان کی بابت پوچھا گیا کہ وہ مہمان نواز، غریب پرور تھا اور غلاموں کو آزاد کرنے والا تھا کیا یہ اعمال سے نفع دیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نہیں " کیونکہ اس نے ایک دن بھی اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی (صحیح مسلم۔ کتاب الایمان) اسی طرح اگر کوئی شخص وہاں زمین بھر سونا بطور فدیہ دے کر یہ چاہے کہ وہ عذاب جہنم سے بچ جائے تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔ اول تو وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا؟ اور اگر بالفرض اس کے پاس دنیا بھر کے خزانے ہوں اور انہیں دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہے تو یہ بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے وہ معاوضہ یا فدیہ قبول ہی نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا (وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ) 2:123 اس سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی سفارش اسے فائدہ دے گی۔ (لابیع فیہ ولا خلال) اس دن میں کوئی خریدو فروخت ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔
(آیت 91) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں اور کفر ہی کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والے جہنمی سے پوچھے گا: ”اگر دنیا میں جو بھی چیز ہے تمھاری ہو جائے تو کیا تم اسے (اپنی جان بچانے کے لیے) فدیہ میں دے دو گے؟“ وہ کہے گا: ”ہاں! “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم کی پشت میں تھے اس سے بہت زیادہ آسان بات کا تقاضا کیا تھا کہ شرک نہ کرنا تو میں تمھیں دوزخ میں داخل نہیں کروں گا، لیکن تم نہ مانے اور شرک کرتے رہے۔“ [مسلم، صفات المنافقین، باب طلب الکافر الفداء …: ۲۸۰۵، عن أنس رضی اللہ عنہ ]
لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب تک تم اپنی پسندیده چیز سے اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
لوگو! تم ہرگز اس وقت تک نیکی (کو حاصل) نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ راہِ خدا میں خرچ نہ کرو۔ اور تم (راہِ خدا میں) جو کچھ خرچ کرتے ہو خدا اس کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تم پوری نیکی ہر گز حاصل نہیں کرو گے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو بے شک اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے زیادہ پیاری چیز اور صدقہ ٭٭

سیدنا عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «بر» سے مراد جنت ہے، یعنی اگر تم اپنی پسند کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے رہو گے تو تمہیں جنت ملے گی، مسند احمد میں ہے کہ ابوطلحہ مالدار صحابی تھے مسجد کے سامنے ہی بیئرحاء نامی آپ کا ایک باغ تھا جس میں کبھی کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا فرمائے اور اپنے پاس اسے میرے لیے ذخیرہ کرے آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اسے تقسیم کر دیں آپ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا تم اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو چنانچہ ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا، [صحیح بخاری:1461] ‏‏‏‏ ۱؎ بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ مرغوب مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے میں اسے راہ اللہ دینا چاہتا ہوں فرمائیے کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اسے وقف کر دو اصل روک لو اور پھل وغیرہ راہ اللہ کر دو۔ [صحیح بخاری:2737] ‏‏‏‏ ۱؎ مسند بزاز میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اس لونڈی کو راہ للہ آزاد کر دیا، اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے نام پردے کر پھر لوٹا لینا جائز ہو تو میں کم از کم اس سے نکاح کر لیتا۔
92۔ 1 بر (نیکی بھلائی) سے مراد عمل صالح یا جنت ہے (فتح القدیر) حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ جو مدینہ کے اصحاب حیثیت میں سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بیرحا کا باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو ' چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے سے انہوں نے اسے اپنے اقارب اور عم زادوں میں تقسیم کردیا، اچھی چیز صدقہ کی جائے، یہ افضل اور اکمل درجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمتر چیز یا اپنی ضرورت سے زائد فالتو چیز یا استعمال شدہ پرانی چیز کا صدقہ نہیں کیا جاسکتا یا اس کا اجر نہیں ملے گا۔ اس قسم کی چیزوں کا صدقہ کرنا بھی یقینا جائز اور باعث اجر ہے گو کمال و افضلیت محبوب چیز کے خرچ کرنے میں ہے۔ 92۔ 2 تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اچھی یا بری چیز، اللہ اسے جانتا ہے، اس کے مطابق جزا سے نوازے گا۔
(آیت 92) ➊ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ …:} { ”الْبِرَّ“ } ”کامل نیکی “، {”مِمَّا تُحِبُّوْنَ“} (اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو) عام ہے، یعنی جان و مال، اولاد و اقارب، جاہ و عزت، غرض ہر چیز کو شامل ہے۔ یہ خطاب مسلمانوں کو بھی ہے اور یہود کو بھی۔ مسلمانوں سے خطاب کی مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ پچھلی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ کافر کو خرچ کرنے سے کچھ بھی نفع نہیں ہو گا، اب اس آیت میں مومنوں کو خرچ کرنے کی کیفیت بتلائی، جس سے آخرت میں انھیں نفع ہو گا۔ ➋ {وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ …:} مقصد یہ کہ انسان جو کچھ بھی فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور انسان کو (بشرطیکہ مسلمان ہو اور اخلاص سے خرچ کرے) اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اس لیے معمولی چیز خرچ کرنے کو بھی عار نہ سمجھے۔مگر نیکی میں کامل درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزیز ترین چیز صرف کی جائے۔ یہ آیت سن کر اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری جائداد میں سے مجھے سب سے محبوب {”بَيْرُحَاء“ } باغ ہے (جو عین مسجد نبوی کے سامنے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا نفیس پانی پیا کرتے تھے) اور اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ» ‏‏‏‏ سو میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الأقارب …: ۱۴۶۱، مختصرًا ] عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے بڑھ کر نفیس مال مجھے آج تک حاصل نہیں ہوا، میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کے راستے میں تقسیم کر دو۔“ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وقف کر دیا۔ [ بخاری، الشروط، باب الشروط فی الوقف: ۲۷۳۷۔ ابن ماجہ:۲۳۹۶، ۲۳۹۷ ] ➌ یہود سے خطاب کی صورت میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شاید یہود کے ذکر میں یہ آیت اس واسطے ذکر فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست بہت عزیز تھی، جس کے تھامنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نہ ہوتے تھے، تو جب وہی نہ چھوڑیں تو اللہ کی راہ میں درجۂ ایمان نہ پائیں۔“ (موضح) ➍ {مِمَّا تُحِبُّوْنَ:} اللہ کا کرم دیکھیے، بندوں سے ان کی محبوب چیزیں ساری نہیں مانگیں، بلکہ اس میں سے کچھ خرچ کرنے ہی کو کامل نیکی قرار دے دیا ہے۔
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِیۡلُ عَلٰی نَفۡسِہٖ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تُنَزَّلَ التَّوۡرٰىۃُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰىۃِ فَاتۡلُوۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدیؐ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان سے کہو، اگر تم (ا پنے اعتراض میں) سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت
مولانا محمد جوناگڑھی
توراة کے نزول سے پہلے (حضرت) یعقوب (علیہ السلام) نے جس چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کے سوا تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے، آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو توراة لے آو اور پڑھ کر سناؤ
احمد رضا خان بریلوی
سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تورات نازل ہونے سے پہلے کھانے کی سب چیزیں (جو اسلام میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں۔ سوائے اس کے جو اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھی (یہود سے) کہو کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔
عبدالسلام بن محمد
کھانے کی ہر چیز بنی اسرائیل کے لیے حلال تھی مگر جو اسرائیل نے اپنے آپ پر حرام کر لی، اس سے پہلے کہ تورات اتاری جائے، کہہ دے تو لائو تورات، پھر اسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کر لینے میں کوئی عذر نہ ہو گا انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے؟ اور فرشتوں میں سے کون سا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفاء یاب ہو گئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آ جائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] ‏‏‏‏، نازل ہوئی- [مسند احمد:278/1:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ ۱؎

اور روایت میں ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے میکائیل علیہ السلام آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ [سنن ترمذي:3117،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل علیہ السلام نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کر دی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں، جیسے فرمایا آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ» [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ اور فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76-الإنسان:8] ‏‏‏‏ باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کے باطل عقیدے کی تردید میں ارشاد ہو رہا ہے ان کی کتاب میں صاف موجود تھا جب سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر اترے تا ان پر تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اور دودھ اپنے اوپر حرام کر لیا تو ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چنانچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے؟

سیدنا آدم علیہ السلام کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کر دیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ پر سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا سیدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہو گیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل علیہ السلام نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لیے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لیے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقیناً تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ اے نبی تم کہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
93۔ 1 یہ اور ما بعد دو آیتیں یہود کے اس اعتراض پر نازل ہوئیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اونٹ کا گوشت بھی کھاتے ہیں جب کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ دین ابراہیمی میں حرام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہود کا دعوی غلط ہے حضرت ابراہیم کے دین میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں۔ ہاں البتہ بعض چیزیں اسرائیل (حضرت یعقوب ؑ نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں اور وہ یہی اونٹ کا گوشت اور دودھ تھا (اس کی ایک وجہ نذر یا بیماری تھی اور حضرت یعقوب ؑ کا یہ فعل بھی نزول تورات سے پہلے کا ہے۔ اس لیے کہ تورات تو حضرت ابراہیم ؑ و حضرت یعقوب ؑ کے بہت بعد نازل ہوئی ہے۔ پھر تم کس طرح مزکورہ دعویٰ کرسکتے ہو؟ علاوہ ازیں تورات میں بعض چیزیں تم (یہودیوں) پر تمہارے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ (سورۃ الانعام 46۔ النساء۔ 160) اگر تمہیں یقین نہیں ہے تو تورات لاؤ اور اسے پڑھ کر سناؤ جس سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں اور تم پر بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں تو اس کی وجہ تمہاری ظلم و زیادتی تھی یعنی ان کی حرمت بطور سزا تھی۔ (ایسرالتفاسیر)
(آیت 94،93){كُلُّ الطَّعَامِ …:} اوپر کی آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات میں دلائل پیش کیے اور اہل کتاب پر الزامات قائم کیے ہیں۔ اب یہاں سے ان کے شبہات کا جواب ہے، جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر پیش کرتے تھے۔ (رازی) جب قرآن نے بیان کیا کہ یہود کے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے بہت سی وہ چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں [ النساء: ۱۶۰۔ الانعام: ۱۴۶] جو ابراہیم علیہ السلام کے عہدِ نبوت میں حلال تھیں، تو یہود نے ان آیات کو جھٹلایا اور کہنے لگے کہ یہ چیزیں تو ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حرام چلی آئی ہیں، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔(شوکانی) بعض مفسرین نے ان آیات (94،93) کی شانِ نزول میں لکھا ہے کہ یہود تورات میں نسخ کے قائل نہیں تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہود نے اسی لیے جھٹلا دیا تھا کہ وہ تورات میں بعض حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور اسی لیے انھوں نے قرآن کے ناسخ و منسوخ پر بھی اعتراض کیا تو ان کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں کہ یہ نسخ تو خود تمھاری شریعت میں بھی موجود ہے کہ جب تک تورات نازل نہیں ہوئی تھی تو کھانے کی تمام چیزیں تمھارے لیے حلال تھیں، جن میں اونٹ کا گوشت اور دودھ بھی شامل ہے، پھر جب یعقوب علیہ السلام عرق النساء کے مرض میں مبتلا ہوئے تو انھوں نے صحت یاب ہونے پر بطور نذر اونٹ کا گوشت حرام قرار دے لیا۔ پھر جب تورات نازل ہوئی تو اس میں اونٹ کا گوشت اور دودھ حرام قرار دے دیا گیا۔ (ابن کثیر، الکشاف) حلال کو حرام قرار دے لینے کی یہ نذر ان کی شریعت میں جائز تھی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک واقعہ میں شہد پینے کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا، گو یہ نذر نہ تھی مگر قرآن نے اس قسم کی نذر سے اور حلال کو حرام کرنے سے منع فرما دیا اور کفارہ مقرر فرما دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ تحریم۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سلسلہ میں یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ یہ پیغمبر خود کو ملتِ ابراہیمی کے اتباع کا دعوے دار بتاتا ہے اور اونٹ کا گوشت کھاتا ہے، حالانکہ یہ گوشت ملتِ ابراہیمی میں حرام ہے، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ تورات کے اترنے سے پہلے تو یہ سب چیزیں حلال تھیں، پھر ملتِ ابراہیمی میں یہ کیسے حرام ہو سکتی ہیں، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تورات میں دکھا ؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ پر اس قسم کے بہتان گھڑنے سے باز رہو۔ (ابن کثیر) مسند احمد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہود کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار سوال اور ان کے جواب مذکور ہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ کھانے کی وہ کون سی چیزیں تھیں جنھیں یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے لیے حرام قرار دے لیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسرائیل یعنی یعقوب علیہ السلام جب سخت بیمار ہو گئے تھے، ان کی بیماری بہت طول اختیار کر گئی تو انھوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ انھیں شفا عطا فرما دے تو وہ اپنے پسندیدہ کھانے اور پسندیدہ مشروب کو ترک کر دیں گے اور ان کا پسندیدہ کھانا اونٹ کا گوشت اور پسندیدہ مشروب اونٹ کا دودھ تھا۔ یہ بات سن کر یہود نے آپ کی تصدیق کی، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو ان پر گواہ ہو جا۔“ [ أحمد: 278/1، ح: ۲۵۱۸، و حسنہ و صححہ أحمد شاکر و الحاکم و وافقہ الذھبی۔ المعجم الکبیر للطبرانی: 191،190/12، ح: ۱۳۰۱۲ ] اس واقعہ کی «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ» سے مناسبت بھی ظاہر ہے۔
فَمَنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿؃۹۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے بعد بھی جولو گ اپنی جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں و ہی در حقیقت ظالم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھیں وہی ﻇالم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے تو وہی ظالم ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کے بعد جو شخص خدا پر بہتان باندھے۔ تو (سمجھ لو کہ) ایسے لوگ ہی ظالم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جس نے اس کے بعد اللہ پر جھوٹ باندھا تو وہی ظالم ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کر لینے میں کوئی عذر نہ ہو گا انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے؟ اور فرشتوں میں سے کون سا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفاء یاب ہو گئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آ جائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] ‏‏‏‏، نازل ہوئی- [مسند احمد:278/1:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ ۱؎

اور روایت میں ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے میکائیل علیہ السلام آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ [سنن ترمذي:3117،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل علیہ السلام نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کر دی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں، جیسے فرمایا آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ» [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ اور فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76-الإنسان:8] ‏‏‏‏ باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کے باطل عقیدے کی تردید میں ارشاد ہو رہا ہے ان کی کتاب میں صاف موجود تھا جب سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر اترے تا ان پر تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اور دودھ اپنے اوپر حرام کر لیا تو ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چنانچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے؟

سیدنا آدم علیہ السلام کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کر دیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ پر سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا سیدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہو گیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل علیہ السلام نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لیے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لیے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقیناً تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ اے نبی تم کہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ ۟ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے، تم کو یکسو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے، اور ابراہیمؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے تم سب ابراہیم حنیف کے ملت کی پیروی کرو، جو مشرک نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجیے خدا نے سچ فرمایا! پس تم ملت (دین) ابراہیم کی پیروی کرو جو باطل سے کنارہ کش ہوکر صرف اللہ کا ہو رہا تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اللہ نے سچ فرمایا، سو تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو، جو ایک طرف کا تھا اور وہ شرک کرنے والوں سے نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کر لینے میں کوئی عذر نہ ہو گا انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے؟ اور فرشتوں میں سے کون سا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفاء یاب ہو گئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آ جائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام، بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] ‏‏‏‏، نازل ہوئی- [مسند احمد:278/1:حسن بالشواھد] ‏‏‏‏ ۱؎

اور روایت میں ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے میکائیل علیہ السلام آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ [سنن ترمذي:3117،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل علیہ السلام نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کر دی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں، جیسے فرمایا آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ» [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ اور فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76-الإنسان:8] ‏‏‏‏ باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں، دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کے باطل عقیدے کی تردید میں ارشاد ہو رہا ہے ان کی کتاب میں صاف موجود تھا جب سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر اترے تا ان پر تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اور دودھ اپنے اوپر حرام کر لیا تو ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چنانچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے؟

سیدنا آدم علیہ السلام کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کر دیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ پر سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا سیدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہو گیا اسی کو نسخ کہتے ہیں اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل علیہ السلام نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لیے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لیے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقیناً تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔ اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [6-الأنعام:161] ‏‏‏‏ اے نبی تم کہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 95) {قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کا بیان صدق پر مبنی ہے کہ کھانے کی یہ قسم پہلے حلال تھی، اس کے بعد اسرائیل اور ان کی اولاد پر حرام کر دی گئی، لہٰذا ”نسخ“ صحیح ہے اور تمھارا شبہ باطل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، یہ عین ملتِ ابراہیم علیہ السلام کے مطابق ہے۔ لہٰذا تم بھی دینِ اسلام میں داخل ہو جا ؤ، جو اصول و فروع کے اعتبار سے عین دین ابراہیم کے مطابق ہے۔ (ابن کثیر)
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت وہدایت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا یقینا وہی ہے جو مکہ میں ہے بڑی برکت والا اور عالمین کے لیے مرکز ہدایت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، یقینا وہی ہے جو بکہ میں ہے، بہت با برکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج ٭٭

یعنی لوگوں کی عبادت،قربانی،طواف، نماز،اعتکاف وغیرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے ہے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [ مسند احمد وبخاری مسلم ] ‏‏‏‏۔ [صحیح بخاری:3366] ‏‏‏‏ ۱؎

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورۃ البقرہ کی آیت «وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [2-البقرة:125] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حواء نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ ”مکہ“ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”فج“ سے ”تنعیم“ تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحاء تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو «بکہ» کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کوثا البلدہ البینۃ و الکعبہ۔ اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت «‏‏‏‏اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 29۔ العنکبوت: 67 ] ‏‏‏‏، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت «‏‏‏‏فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ‏‏‏‏ [ 106-قريش: 3، 4 ] ‏‏‏‏، ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «‏‏‏‏وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» ‏‏‏‏ [ 2-البقرہ: 125 ] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آیاتِ بینات میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے باقی اور ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:26/7] ‏‏‏‏ ۱؎ سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7] ‏‏‏‏ ۱؎ کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67] ‏‏‏‏کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4] ‏‏‏‏ ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «‏‏‏‏وَعَھِدْنَا» ‏‏‏‏ [2-البقرة:125] ‏‏‏‏ الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، [سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔

آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي» [2-البقرة:196] ‏‏‏‏، والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہو جاتا پھر بجا نہ لا سکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھرمار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ [مسند احمد:508/2:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ [ مسند احمد ] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف [صحیح مسلم:1337] ‏‏‏‏ ۱؎ کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ [سنن ابوداود:1721،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎

ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» [5-المائدة:101] ‏‏‏‏، یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی [مسند احمد:113/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ [ مسند احمد ] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ [ ابن ماجہ ] ‏‏‏‏ ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا، [صحیح بخاری:2505] ‏‏‏‏ ۱؎ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا، [سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔

ایک اور شخص نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری [سنن ترمذي:813،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ ۱؎، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2897،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کر لیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، [مسند احمد:214/1:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ ابوداؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کر لینا چاہیئے۔ [مسند احمد:225/1:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے [سنن ترمذي:812،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۱؎ اس کے راوی پر بھی کلام ہے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [ حافظ ابوبکر اسماعیلی ] ‏‏‏‏ [الحلیہ لابی نعیم:252/9] ‏‏‏‏۱؎ مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
96۔ ا یہ یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا؟ اس کے جواب میں اور اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے۔
(آیت 96) {اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ …:} یہ یہود کے دوسرے شبہ کا جواب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے شام کی طرف ہجرت کی اور ان کی اولاد میں سے تمام انبیاء شام میں ہوئے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا اور مسلمانوں نے اس قدیم قبلہ کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ بنا لیا ہے، پھر یہ ملتِ ابراہیم کے متبع کیسے ہو سکتے ہیں؟ قرآن نے بتایا کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ تو کعبہ ہے، جو ”بکہ“ میں ہے۔ بکہ مکہ ہی کا نام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرفِ قبولیت بخشا۔ اس پر بہت سے واضح دلائل موجود ہیں۔ جن میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ دورِ جاہلیت سے یہ محترم چلا آ رہا ہے کہ اگر کسی کے باپ کا قاتل بھی اس میں داخل ہو جائے تو وہ اس سے تعرض نہیں کرتا، نیز اس میں مقامِ ابراہیم، یعنی وہ پتھر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بانی ابراہیم علیہ السلام ہیں اور یہ کہ یہی ابراہیمی قبلہ ہے، کیونکہ بیت المقدس کی تعمیر کعبۃ اللہ سے چالیس برس بعد ہوئی۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”اے اللہ کے رسول! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟“ آپ نے فرمایا: ”مسجد حرام۔“ پوچھا: ”پھر کون سی؟“ آپ نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ پوچھا: ”ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”چالیس سال۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، بابٌ: ۳۳۶۶ ]
فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام د نیا والوں سے بے نیاز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اس میں جو آ جائے امن واﻻ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس گھر میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں (منجملہ ان کے ایک) مقام ابراہیم ہے۔ اور جو اس میں داخل ہوا اسے امن مل گیا۔ اور لوگوں پر واجب ہے کہ محض خدا کے لیے اس گھر کا حج کریں جو اس کی استطاعت (قدرت) رکھتے ہیں اور جو (باوجود قدرت) کفر کرے (انکار کرے) تو بے شک خدا تمام عالمین سے بے نیاز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں واضح نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو کوئی اس میں داخل ہوا امن والا ہوگیا اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے اور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بہت بے پروا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج ٭٭

یعنی لوگوں کی عبادت،قربانی،طواف، نماز،اعتکاف وغیرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے ہے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [ مسند احمد وبخاری مسلم ] ‏‏‏‏۔ [صحیح بخاری:3366] ‏‏‏‏ ۱؎

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورۃ البقرہ کی آیت «وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [2-البقرة:125] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حواء نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ ”مکہ“ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”فج“ سے ”تنعیم“ تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحاء تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو «بکہ» کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کوثا البلدہ البینۃ و الکعبہ۔ اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت «‏‏‏‏اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 29۔ العنکبوت: 67 ] ‏‏‏‏، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت «‏‏‏‏فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» ‏‏‏‏ [ 106-قريش: 3، 4 ] ‏‏‏‏، ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «‏‏‏‏وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» ‏‏‏‏ [ 2-البقرہ: 125 ] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آیاتِ بینات میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے باقی اور ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:26/7] ‏‏‏‏ ۱؎ سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7] ‏‏‏‏ ۱؎ کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67] ‏‏‏‏کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4] ‏‏‏‏ ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «‏‏‏‏وَعَھِدْنَا» ‏‏‏‏ [2-البقرة:125] ‏‏‏‏ الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، [سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔

آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي» [2-البقرة:196] ‏‏‏‏، والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہو جاتا پھر بجا نہ لا سکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھرمار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ [مسند احمد:508/2:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ [ مسند احمد ] ‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف [صحیح مسلم:1337] ‏‏‏‏ ۱؎ کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ [سنن ابوداود:1721،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎

ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» [5-المائدة:101] ‏‏‏‏، یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی [مسند احمد:113/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ [ مسند احمد ] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ [ ابن ماجہ ] ‏‏‏‏ ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا، [صحیح بخاری:2505] ‏‏‏‏ ۱؎ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا، [سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔

ایک اور شخص نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری [سنن ترمذي:813،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ ۱؎، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2897،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کر لیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، [مسند احمد:214/1:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ ابوداؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کر لینا چاہیئے۔ [مسند احمد:225/1:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے [سنن ترمذي:812،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۱؎ اس کے راوی پر بھی کلام ہے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [ حافظ ابوبکر اسماعیلی ] ‏‏‏‏ [الحلیہ لابی نعیم:252/9] ‏‏‏‏۱؎ مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
97۔ 1 اس میں قتال، خون ریزی، شکار حتٰی کہ درخت تک کاٹنا ممنوع ہے۔ 97۔ 2 راہ پاسکتے ہوں کا مطلب زاد راہ کی استطاعت اور فراہمی ہے۔ یعنی اتنا خرچ کہ سفر کے اخراجات پورے ہوجائیں۔ علاوہ ازیں استطاعت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ راستہ پر امن ہو اور جان و مال محفوظ رہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ صحت اور تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو نیز عورت کے لئے محرم بھی ضروری ہے۔ یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لئے وجوب حج کی دلیل ہے اور احادیث سے امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ عمر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ 97۔ 3 استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کو قرآن نے کفر سے تعبیر کیا ہے جس سے حج کی فرضیت میں اور اس کی تاکید میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ احادیث میں بھی ایسے شخص کے لئے وعید آئی ہے۔
(آیت 97) ➊ {وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کی (شہادت) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [ بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم: ۸، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما] ہر عاقل و بالغ مسلمان پر جو کعبہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے، اس پر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ [ مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر: ۱۳۳۷ ] ➋ {مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا:} استطاعت کی تفسیر حدیث میں زادِ راہ اور سواری سے کی گئی ہے۔ [ ترمذی، الحج، باب ما جاء من التغلیظ…: ۸۱۲، عن علی رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب میں اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ [ ہدایۃ المستنیر ] استطاعت کے مفہوم میں راستے کا پر امن ہونا، جان و مال کے تلف ہونے کا اندیشہ نہ ہونا بھی شامل ہے اور عورت کے لیے محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مالی استطاعت ہو مگر جسمانی نہ ہو تو کوئی دوسرا اس کی جگہ حج کرلے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی، اس نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو فریضۂ حج ہے، وہ میرے والد پر اس حال میں آیا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہے، سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟“ فرمایا: ”ہاں!“ اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ [ بخاری، جزاء الصید، باب حج المرأۃ عن الرجل: ۱۸۵۵ ] اسی طرح اگر کسی صاحب پر حج فرض تھا، جو سستی سے رہ گیا اور وہ فوت ہو گیا تو اس کی میراث میں سے حج ادا کیا جائے گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَاقْضِ اللّٰهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ] ”اللہ کا قرض ادا کرو، کیونکہ وہ پورا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب من مات و علیہ نذر: ۶۶۹۹۔ مسلم: ۱۱۴۸ ] ایک صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کی طرف سے وہ شخص حج کرے جو پہلے اپنا حج کر چکا ہو۔ [ أبو داوٗد، المناسک، باب الرجل یحج عن غیرہ: ۱۸۱۱، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ] ➌ {وَ مَنْ كَفَرَ:} اس سے معلوم ہوا کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا کفر ہے اور جو کفر کرے تو اس بے چارے کی کیا اوقات ہے، اللہ تعالیٰ تو سارے جہانوں سے بے پروا ہے۔ اسلام کی پانچ بنیادوں کے ترک اور دوسری چیزوں کے ترک کا یہی فرق ہے کہ ان پانچوں میں سے کسی کے ترک سے اسلام کی بنیاد ڈھے جاتی ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابو بکر اسماعیلی الحافظ رحمہ اللہ کی سند سے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”جو شخص حج کی طاقت رکھے اور پھر حج نہ کرے تو اس پر برابر ہے کہ یہودی ہونے کی حالت میں مرے یا نصرانی ہونے کی حالت میں۔“ امام ابن کثیر نے فرمایا: ”یہ سند عمر رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے۔“
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو؟ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس پر گواه ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! اے اہل کتاب تم آیاتِ الٰہیہ کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم جو کچھ کرتے ہو خدا اس کا گو اہ ہے (سب کچھ دیکھ رہا ہے) ۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے ہو، جب کہ اللہ اس پر پوری طرح شاہد ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا انجام ٭٭

اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 99،98) {قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ …:} اہل کتاب کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اب انھیں ڈانٹ پلائی جا رہی ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور شوشے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ {”تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا“} کا مطلب ہے: { ”تَبْغُوْنَ فِيْهَا عِوَجًا“ } (تم اس دین میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو) اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو تمھارے یہ کرتوت خوب معلوم ہیں، تمھیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ { ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ } سے مراد یہاں اسلام ہے۔
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا وَّ اَنۡتُمۡ شُہَدَآءُ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہو، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اُسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر) گواہ ہو تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان اہل کتاب سے کہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی راه سے لوگوں کو کیوں روکتے ہو؟ اور اس میں عیب ٹٹولتے ہو، حاﻻنکہ تم خود شاہد ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کہیے۔ اے اہل کتاب! آخر تم اس شخص کو جو ایمان لانا چاہتا ہے کیوں خدا کی راہ سے روکتے ہو؟ اور چاہتے ہو کہ اس راہ (راست) کو ٹیڑھا بنا دو حالانکہ تم خود گواہ ہو (کہ سیدھی راہ یہی ہے) اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے بے خبر نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اے اہل کتاب! تم اللہ کے راستے سے اس شخص کو کیوں روکتے ہو جو ایمان لے آیا، تم اس (راستے) میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو، حالانکہ تم گواہ ہو اور اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں جو تم کر رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا انجام ٭٭

اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔
99۔ 1 یعنی تم جانتے ہو کہ یہ دین اسلام حق ہے، اس کے داعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں کیونکہ یہ باتیں ان کتابوں میں درج ہیں جو تمہارے انبیاء پر اتریں اور جنہیں تم پڑھتے ہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوۡا فَرِیۡقًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ یَرُدُّوۡکُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وه تمہیں تمہارے ایمان ﻻنے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے۔
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اگر تم نے اہل کتاب میں سے کسی گروہ کی بات مان لی تو یہ تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹا دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان میں سے کچھ لوگوں کا کہنا مانو گے، جنھیں کتاب دی گئی ہے، تو وہ تمھیں تمھارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کا انحصار کس پر ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ» [2-البقرة:109] ‏‏‏‏، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آ جانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہے۔

جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ» [57-الحديد:8] ‏‏‏‏ تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے [طبرانی:3537:ضعیف] ‏‏‏‏۱؎ (‏‏‏‏امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کر دیا ہے فالحمدللہ) پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔
10۔ 1 یہودیوں کے مکرو فریب اور ان کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی ان کی سازشوں سے ہوشیار رہو اور قرآن کی تلاوت کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود ہونے کے باوجود کہیں یہود کے جال میں نہ پھنس جانا۔ اس کا پس منظر تفسیری روایات میں اسطرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ انصار کے دو قبیلے اوس اور خزرج ایک مجلس میں اکھٹے بیٹھے باہم گفتگو کر رہے تھے کہ شاس بن قیس یہودی ان کے پاس سے گزرا اور ان کا باہمی پیار دیکھ کر جل بھن گیا پہلے یہ ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے اب اسلام کی برکت سے باہم شیرو شکر ہوگئے ہیں۔ اس نے ایک نوجوان کے ذمے یہ کام لگایا کہ وہ ان کے درمیان جنگ بعاث کا تذکرہ کرے جو ہجرت سے ذرا پہلے ان کے درمیان ہوئی تھی انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف رزمیہ اشعار کہے تھے وہ ان کو سنائے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا، جس سے ان دونوں قبیلوں کے درمیان جذبات بھڑک اٹھے اور ایک دوسرے کو گالی گلوچ دینے لگے یہاں تک کے ہتھیار اٹھانے کے لئے للکار اور پکار شروع ہوگئی اور قریب تھا کہ ان کا باہم قتال بھی شروع ہوجائے کہ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور انہیں سمجھایا اور وہ باز آگئے اس پر یہ آیت بھی اور جو آگے آرہی ہیں وہ بھی نازل ہوئیں (ابن کثیر)
(آیت 100) ➊ {اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا …:} اوپر کی دو آیتوں میں اہل کتاب کو وعید سنائی گئی جو لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، اب یہاں سے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی جا رہی ہے کہ ان سے ہوشیار رہیں اور ان کی بات کسی صورت نہ مانیں، ورنہ وہ گمراہ ہو جائیں گے۔ ➋ {يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ …:} ایمان کے بعد پھر کافر بنا دینے میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کا کام آپس میں لڑانا ہے۔ اگر ان کی بات مانو گے تو آپس کے اتفاق اور محبت سے محروم ہو جا ؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے بعد پھر کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [ بخاری، المغازی، باب حجۃ الوداع: ۴۴۰۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ] یاد رہے کہ اس کفر سے مراد اسلام میں رہ کر کفر ہے، مرتد ہونا نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دو لڑنے والے گروہوں میں سے دونوں کو مومن قرار دے کر ان کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجرات (۹، ۱۰)۔