بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 89
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 89
آیت نمبر: 89 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡا ۟ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾
البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اِس کے بعد توبہ کر کے اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مگرجو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
مگر وہ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کر لی تو بے شک خدا بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کر لی تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

توبہ اور قبولیت ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک انصار مرتد ہو کر مشرکین میں جا ملا پھر پچھتانے لگا اور اپنی قوم سے کہلوایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ ان کے دریافت کرنے پر یہ آیتیں اتریں اس کی قوم نے اسے کہلوا بھیجا وہ پھر توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو کر حاضر ہو گیا [ ابن جریر ] ‏‏‏‏ نسائی حاکم اور ابن حبان میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:247/1:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎ امام حاکم اسے صحیح الاسناد کہتے ہیں، مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حارث بن سویدرضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا پھر قوم میں مل گیا اور اسلام سے پھر گیا اس کے بارے میں یہ آیتیں اتریں اس کی قوم کے ایک شخص نے یہ آیتیں اسے پڑھ کر سنائیں تو اس نے کہا جہاں تک میرا خیال ہے اللہ کی قسم تو سچا ہے اور اللہ کے نبی تو تجھ سے بہت ہی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے اسلام لائے اور بہت اچھی طرح اسلام کو نبھایا۔ «بینات» سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر حجتوں اور دلیلوں کا بالکل واضح ہو جانا ہے پس جو لوگ ایمان لائے رسول کی حقانیت مان چکے دلیلیں دیکھ چکے پھر شرک کے اندھیروں میں جا چھپے یہ لوگ مستحق ہدایت نہیں کیونکہ آنکھوں کے ہوتے ہوئے اندھے پن کو انہوں نے پسند کیا اللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں میں رہبری نہیں کرتا، انہیں اللہ لعنت کرتا ہے اور اس کی مخلوق بھی ہمیشہ لعنت کرتی ہے نہ تو کسی وقت ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی نہ موقوفی۔ پھر اپنا لطف و احسان رافت و رحمت کا بیان فرماتا ہے کہ اس بدترین جرم کے بعد بھی جو میری طرف جھکے اور اپنے بداعمال کی اصلاح کر لے میں بھی اس سے در گزر کر لیتا ہوں۔

📖 احسن البیان

89۔ 1 انصار میں سے ایک مسلمان مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا لیکن جلدی ہی اسے ندامت ہوئی اور اس نے لوگوں کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پیغام بھجوایا کہ میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں ان آیات سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا اگرچہ بہت سخت ہے کیونکہ اس نے حق پہچاننے کے بعد بغض اور عناد اور سرکشی سے حق سے انکار کیا تاہم اگر کوئی خلوص دل سے توبہ اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اس کی توبہ قابل قبول ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت89) ➊ {اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا …:} اس سے معلوم ہوا کہ اگر مشرک صدقِ دل سے توبہ کر لے اور دوبارہ اسلام لے آئے تو اللہ تعالیٰ اس کی پچھلی غلطی کو معاف کر دیتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”انصار میں سے ایک آدمی اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا اور مشرکوں سے جا ملا، پھر وہ پشیمان ہوا اور اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے کہلا بھیجا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ آیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (اس کے بھائی نے) اسے یہ آیت بھیج دی اور وہ دوبارہ مسلمان ہو گیا۔ [نسائی، تحریم الدم، باب توبۃ المرتد …:۴۰۷۳ وقال الالبانی صحیح ] اس شخص کا نام حارث بن سوید تھا۔ (طبری) ➋ کسی شخص کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جائے گا، فرمایا: «لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ [البقرة: ۲۵۶] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ مگر کوئی مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو، پھر ارتداد سے توبہ نہ کرے تو اس کی سزا قتل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ ] ”جو اپنا دین (یعنی اسلام) بدل لے اسے قتل کر دو۔“ [بخاری، استتابۃ المرتدین و المعاندین وقتالہم، باب إثم من أشرک …: ۶۹۱۸ ]
← پچھلی آیت (88) پوری سورۃ اگلی آیت (90) →