عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے اللہ کے ساتھ اُن کو خدائی میں شریک ٹھیرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ان ﻇالموں کی بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،
علامہ محمد حسین نجفی
(تم پریشان نہ ہو) ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس لئے کہ انہوں نے خدائی میں ان بتوں کو شریک بنایا ہے۔ جن کے بارے میں خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور ان کا انجام جہّنم ہوگا اور وہ ظالمین کا بدترین ٹھکانہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم عنقریب ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دیں گے، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ ظالموں کا برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335] ۱؎
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ] ۱؎ ،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف] ۱؎
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152] ۱؎ یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] ۱؎ [ مسند ]
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043] ۱؎ صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065] ۱؎
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف] ۱؎ یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699] ۱؎
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7] ۱؎ عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح] ۱؎ مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎ صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063] ۱؎
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725] ۱؎ آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306] ۱؎ ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789] ۱؎
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789] ۱؎
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف] ۱؎
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073] ۱؎ اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] ۱؎ عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] ۱؎ عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
151۔ 1 مسلمانوں کی شکست دیکھتے ہوئے بعض کافروں کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ موقع مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے بڑا اچھا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا پھر انہیں اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ نہ ہوا (فتح القدیر)۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ " نصرت بالرعب مسیرۃ شھر " دشمن کے دل میں ایک مہینے کی مسافت پر میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔ " اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب مستقل طور پر دشمن کے دل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے۔ گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے لرزاں و ترساں رہتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہوئی ہے، دشمن ان سے مرعوب ہونے کی بجائے، وہ دشمنوں سے مرعوب ہیں۔
(آیت 151) ➊ { سَنُلْقِيْ …:} یہ آیت اپنے سیاق کے اعتبار سے اوپر کے بیان کو مکمل کر رہی ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف وجوہ سے جہاد کی ترغیب دی ہے اور کفار کے خوف کو دلوں سے نکالا ہے۔ یہاں فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھو گے اور اسی سے مدد مانگو گے تو اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں میں تمھارا خوف ڈال دے گا، اس طرح تمھیں ان پر غلبہ حاصل ہو جائے گا، کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں، لہٰذا {”بِمَاۤ اَشْرَكُوْا“} میں باء برائے سببیت ہے۔ (قرطبی) ➋ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مشرک اللہ تعالیٰ کے چور ہیں اور چور کے دل میں ڈر ہوتا ہے۔“ (موضح) چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہوا اور کافر احد میں باوجود غالب ہونے کے چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ واپسی کے وقت راستے میں انھوں نے دوبارہ مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا مگر مرعوب ہو گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزوں میں مجھے پہلے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔“ [ بخاری، التیمم، بابٌ: ۳۳۵۔ مسلم: ۵۲۱، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار کے دل میں رعب ڈالنے کا وعدہ احد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے۔ ➌ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی امت، یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے، گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے ڈرتا اور لرزتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں گرفتار ہوئی، تقریباً ہر شہر اور محلہ میں پختہ قبریں اور غیر اللہ کے آستانے بن گئے اور غیر اللہ سے استغاثہ اور مدد مانگنا شروع ہو گئے، تو وہی رعب جو شرک کی وجہ سے کفار کے دل میں تھا، ڈیڑھ ارب کے قریب تعداد ہونے کے باوجود مسلمانوں کے دلوں میں پڑ گیا۔ ہاں، توحید والے اس رعب سے محفوظ ہیں اور قیامت تک کفار سے جہاد جاری رکھیں گے اور ان کا رعب کفار کے دلوں میں کفار کے مشرکانہ عقائد و اعمال کی وجہ سے رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يَّبْرَحَ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰي تَقُوْمَ السَّاعَةُ ] [ مسلم، الأمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۲، عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ ] ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو۔“
اللہ نے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پورا کر دیا ابتدا میں اُس کے حکم سے تم ہی اُن کو قتل کر رہے تھے مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعده سچا کر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا اراده آخرت کا تھا تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے اور یقیناً اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرما دیا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
خدا نے (جنگ احد میں) اپنا وعدہ (نصرت) اس وقت سچا کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے ان (کافروں) کا قلع قمع کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی تو تم نے حکم عدولی کی۔ (یہ اس لئے کہ) تم میں کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور کچھ آخرت کے طلبگار تھے پھر اس نے تمہیں ان کے مقابلے میں پسپا کر دیا تاکہ تمہارے ایمان و اخلاص کی آزمائش کرے۔ اور (پھر بھی) تمہیں معاف کر دیا۔ اور اللہ اہل ایمان پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دیا، جب تم انھیں اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے ہمت ہار دی اور تم نے حکم کے بارے میں آپس میں جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تمھیں وہ چیز دکھا دی جسے تم پسند کرتے تھے۔ تم میں سے کچھ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے، پھر اس نے تمھیں ان سے پھیر دیا، تاکہ تمھیں آزمائے اور بلاشبہ یقینا اس نے تمھیں معاف کر دیا اور اللہ مومنوں پر بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335] ۱؎
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ] ۱؎ ،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف] ۱؎
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152] ۱؎ یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] ۱؎ [ مسند ]
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043] ۱؎ صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065] ۱؎
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف] ۱؎ یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699] ۱؎
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7] ۱؎ عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح] ۱؎ مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎ صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063] ۱؎
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725] ۱؎ آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306] ۱؎ ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789] ۱؎
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789] ۱؎
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف] ۱؎
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073] ۱؎ اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] ۱؎ عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] ۱؎ عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
152۔ 1 اس وعدے پر بعض مفسرین نے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کا نزول مراد لیا ہے۔ لیکن یہ رائے سرے سے صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ فرشتوں کا نزول صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص تھا۔ باقی رہا وہ وعدہ جو اس آیت میں مذکور ہے تو اس سے مراد فتح و نصرت کا وہ عام وعدہ ہے جو اہل اسلام کے لئے اور اس کے رسول کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جا چکا حتٰی کہ بعض آیتیں مکہ میں نازل ہوچکی تھیں۔ اور اس کے مطابق ابتدائے جنگ میں مسلمان غالب و فاتح رہے جس کی طرف (اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ) 3:152 سے اشارہ کیا گیا ہے۔ 152۔ 2 اس تنازع اور عصیان سے مراد 50 تیر اندازوں کا وہ اختلاف ہے جو فتح و غلبہ دیکھ کر ان کے اندر واقع ہوا اور جس کی وجہ سے کافروں کو پلٹ کر دوبارہ حملہ آور ہونے کا موقع ملا۔ 152۔ 3 اس سے مراد وہ فتح ہے جو ابتدا میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی۔ 152۔ 4 یعنی مال غنیمت، جس کے لئے انہوں نے وہ پہاڑی چھوڑ دی جس کے نہ چھوڑنے کی انہیں تاکید کی گئی تھی۔ 152۔ 5 وہ لوگ ہیں جنہوں نے مورچہ چھوڑنے سے منع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اسی جگہ ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ 152۔ 6 یعنی غلبہ عطا کرنے کے بعد پھر تمہیں شکست دے کر ان کافروں سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ 152۔ 7 اس میں صحابہ کرام ؓ کے اس شرف اور فضل کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ نے ان پر فرمایا۔ یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کر کے آئندہ اس کا اعادہ نہ کریں، اللہ نے ان کے لئے معافی کا اعلان کردیا تاکہ کوئی بد باطن ان پر زبان طعن دراز نہ کرے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن کریم میں ان کے لئے عفو عام کا اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لئے طعن وتشنیع کی گنجائش کہاں رہ گئی صحیح بخاری میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک حج کے موقع پر ایک شخص نے حضرت عثمان ؓ پر بعض اعتراضات کیے کہ وہ جنگ بدر میں بیعت رضوان میں شریک نہیں ہوئے۔ نیز یوم احد میں فرار ہوگئے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ جنگ بدر میں تو انکی اہلیہ (بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھیں، بیعت رضوان کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر بن کر مکہ گئے ہوئے تھے اور یوم احد کے فرار کو اللہ نے معاف فرمادیا ہے۔ (ملخصا۔ صحیح بخاری، غزوہ احد)
(آیت 152) ➊ {وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ …:} جنگ احد میں پہلے پہل اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال رہی اور وہ مشرکین کو اللہ کے حکم سے خوب کاٹتے رہے، حتیٰ کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے اور مشرکین اور ان کی عورتوں نے بھاگنا شروع کر دیا تو پچاس تیر انداز، جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک پہاڑی پر متعین کیا تھا، تاکہ ادھر سے مشرک حملہ آور نہ ہوں، انھوں نے مال غنیمت دیکھ کر باہم جھگڑنا شروع کر دیا۔ پچاس آدمیوں میں سے اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر کے اپنی جگہ چھوڑکر مال غنیمت کی طرف دوڑ پڑے، اس سبب سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن کثیر) جنگ کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ مصیبت ہم پر کیسے آگئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا، پھر جو کچھ ہوا یہ تمھارے ہمت ہارنے اور آپس میں جھگڑنے اور تمھاری نافرمانی کا نتیجہ تھا۔ (قرطبی) ➋ {ثُمَّ صَرَفَكُمْ …:} یعنی غلبہ کے بعد ان کے مقابلہ میں تمھیں پسپائی دلائی، تاکہ تمھاری آزمائش ہو کہ کون سچا مسلمان ہے اور کون کمزور ایمان والا اور جھوٹا۔ (قرطبی) ➌ {وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ:} یعنی گو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور جنگ سے فرار کی راہ اختیار کر کے نہایت سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا، جس کی تمھیں سخت سزا دی جا سکتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمھارا سارا قصور معاف فرما دیا۔ اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس شرف کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمایا، یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کر کے، تاکہ آئندہ ان کا اعادہ نہ کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے معافی کا عام اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لیے ان پر طعن و تشنیع کی کیا گنجائش رہ گئی۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس عثمان رضی اللہ عنہ پر بعض اعتراضات کیے، ایک ان میں سے یہ تھا کہ وہ احد کے دن فرار ہو گئے تھے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرما دیا۔“ [ بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالٰی: «إن الذین تولوا منکم…» : ۴۰۶۶ ]
یاد کرو جب تم بھاگے چلے جا رہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا، اور رسولؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا اُس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے اور کسی طرف توجہ تک نہیں کرتے تھے اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے، بس تمہیں غم پر غم پہنچا تاکہ تم فوت شده چیز پر غمگین نہ ہو اور نہ پہنچنے والی (تکلیف) پر اداس ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کو یاد کرو) جب تم بے تحاشا بھاگے چلے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ حالانکہ پیغمبر(ص) تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے۔ (تمہاری اس روش کی وجہ سے) خدا نے تمہیں ثواب کے بدلے رنج پر رنج دیا۔ تاکہ (آئندہ) جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر ملول نہ ہو اور جو مصیبت درپیش ہو اس پر رنج نہ کرو۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خوب باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب تم دور چلے جاتے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول تمھاری پچھلی جماعت میں تمھیں بلا رہا تھا تو اس نے بدلے میں تمھیں غم کے ساتھ اور غم دیا، تاکہ تم نہ اس پر غم زدہ ہو جو تمھارے ہاتھ سے نکل گیا اور نہ اس پر جو تمھیں مصیبت پہنچی اور اللہ اس کی پوری خبر رکھنے والا ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335] ۱؎
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ] ۱؎ ،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف] ۱؎
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔ شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152] ۱؎ یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] ۱؎ [ مسند ]
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043] ۱؎ صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065] ۱؎
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف] ۱؎ یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699] ۱؎
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7] ۱؎ عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح] ۱؎ مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎ صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063] ۱؎
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725] ۱؎ آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306] ۱؎ ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789] ۱؎
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789] ۱؎
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف] ۱؎
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073] ۱؎ اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] ۱؎ عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] ۱؎ عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
153۔ 1 کفار کے یکبارگی اچانک حملے سے مسلمانوں میں جو بھگدڑ مچی اور مسلمانوں کی اکثریت نے راہ فرار اختیار کی یہ اس کا نقشہ بیان کیا جا رہا ہے۔ 153۔ 2 نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے اور مسلمانوں کو پکارتے رہے، اللہ کے بندو! میرے طرف لوٹ کر آؤ، اللہ کے بندو! میری طرف لوٹ کے آؤ۔ لیکن سراسیمگی کے عالم میں یہ پکار کون سنتا۔ 153۔ 3 فَاَثاَبَکُمْ تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم دیا، غما بغم بمعنی غما علی غم ابن جریر اور ابن کثیر کے اختیار کردہ راجح قول کے مطابق پہلے غم سے مراد، مال غنیمت اور کفار پر فتح و ظفر سے محرومی کا غم اور دوسرے غم سے مراد ہے مسلمانوں کی شہادت، ان کے زخمی ہونے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر شہادت سے پہنچنے والا غم۔ 153۔ 4 یعنی یہ غم پہ غم اس لئے دیا تاکہ تمہارے اندر شدائد برداشت کرنے کی قوت اور عزم و حوصلہ پیدا ہو۔ جب یہ قوت اور حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے تو پھر انسان کو فوت شدہ چیز پر غم اور پہنچنے والے شدائد پر ملال نہیں ہوتا۔
(آیت 153) ➊ {اِذْ تُصْعِدُوْنَ …:} یہ بھاگتے ہوئے مسلمانوں کی کیفیت کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھاری پچھلی جماعت میں، جو ثابت قدم رہی تھی، تمھیں پکار رہے تھے کہ اے اللہ کے بندو! میری طرف آ ؤ، میں یہاں ہوں، مگر تم دور دوڑے جا رہے تھے اور کسی کو نہ مڑ کر دیکھتے تھے، نہ کسی کی سنتے تھے۔ ➋ {فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ:} یعنی تمھاری کوتاہی کے بدلے میں تمھیں غم پر غم پہنچایا، ایک شکست کا غم اور دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ کا صدمہ، جو پہلے غم سے زیادہ سخت تھا، پس {”بِغَمٍّ“} کے معنی {”عَلٰي غَمٍّ “} ہیں اور بعض نے باء کو سببیت کے لیے مانا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغموم کرنے کی وجہ سے تمھیں غم پہنچایا، مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔(ابن کثیر، شوکانی) ➌ {لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا …:} یعنی تمھیں دوہرے غم میں مبتلا کر دیا، تاکہ نہ تو تمھیں مال غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم ہو اور نہ زخمی و شہید ہونے اور شکست کا غم ہو، کیونکہ متواتر غم خصوصاً بڑے غم کے آنے کے ساتھ پہلے غم ہلکے ہو جاتے ہیں اور انسان سختیاں برداشت کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔
اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ، "اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟" ان سے کہو "(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اِس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں" دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اُسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ، "اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے" ان سے کہہ دو کہ، "اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے" اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں سے ایک جماعت کو امن کی نیند آنے لگی۔ ہاں کچھ وه لوگ بھی تھے کہ انہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، وه اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے، یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے، کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے پھر بھی جن کی قمست میں قتل ہونا تھا وه تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے، اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا، اور اللہ تعالی سینوں کے بھید سے آگاه ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی اور ایک گروہ کو اپنی جان کی پڑی تھی اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس (خدا) نے رنج و غم کے بعد نیند کی صورت میں تم پر سکون و اطمینان اتارا۔ جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی۔ اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جسے صرف اپنی جانوں کی فکر تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق زمانۂ جاہلیت والے گمان کر رہا تھا وہ کہہ رہا تھا۔ کہ آیا اس معاملہ میں ہمیں بھی کچھ اختیار ہے؟ کہہ دیجیے۔ ہر امر کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں۔ جن کا آپ سے اظہار نہیں کرتے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ میں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ کہہ دیجیے! اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی جن کے لئے قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے مقتل کی طرف نکل کر جاتے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا) کہ خدا اسے آزمائے جو کچھ تمہارے سینوں کے اندر ہے اور نکھار کے سامنے لائے اس (کھوٹ) کو جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس غم کے بعد اس نے تم پر ایک امن نازل فرمایا، جو ایک اونگھ تھی، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی اور کچھ لوگ وہ تھے جنھیں ان کی جانوں نے فکر میں ڈال رکھا تھا، وہ اللہ کے بارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے، کہتے تھے کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے؟ کہہ دے بے شک معاملہ سب کا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ بات چھپاتے تھے جو تیرے لیے ظاہر نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے، کہہ دے اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں پر قتل ہونا لکھا جا چکا تھا اپنے لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل آتے اور تاکہ اللہ اسے آزمالے جو تمھارے سینوں میں ہے اور تاکہ اسے خالص کر دے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت «إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ» [8-الأنفال:11] یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی کے وقت ان کی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، [صحیح بخاری:4068] ۱؎ ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے۔ [سنن ترمذي:3008،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
پس اہل ایمان،اہل یقین،اہل ثبات، اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق، اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسواس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہو گیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن [ نعوذ باللہ ] اب بچ کر نہیں جائیں گے، اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے۔ کہ جہاں جیسا کہ آیت میں ہے کہ «بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا» [ 48-الفتح: 12 ] اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بد تر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔
ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے [تفسیر ابن جریر الطبری:8093:حسن] ۱؎ اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بے نقاب کردے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہو گئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بے نقاب کر دیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہو گیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے، انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کر دیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا، حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔
مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آخر تم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا اس سے کہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر رضی اللہ عنہ ترک کی، ولید نے جا کر عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے «وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ» [3-آل عمران:155] یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کر دیا اس پر عذر لانا کیا؟ بدر والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری بیوی رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گئیں چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمٰن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔ [مسند احمد:68/1:حسن] ۱؎
154۔ 1 مذکورہ سراسیمگی کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اونگھ مسلط کردی۔ یہ اونگھ اللہ کی طرف سے نصرت کی دلیل تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ چھائی جا رہی تھی حتیٰ کہ میری تلوار کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے گری میں اسے پکڑتا وہ پھر گر جاتی، پھر پکڑتا پھر گر جاتی (صحیح بخاری) نعاسا امنۃ سے بدل ہے۔ طائفہ واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے (فتح القدیر) 154۔ 2 اس سے مراد منافقین ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کو اپنی جانوں کی فکر تھی۔ 154۔ 3 وہ یہ تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ باطل ہے، یہ جس دین کی دعوت دیتے ہیں، اس کا مستقبل مخدوش ہے، انہیں اللہ کی مدد ہی حاصل نہیں وغیرہ وغیرہ۔ 154۔ 4 یعنی کیا اب ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی فتح و نصرت کا امکان ہے؟ یا یہ کہ ہماری بھی کوئی بات چل سکتی ہے اور مانی جاسکتی ہے۔ 154۔ 5 تمہارے یا دشمن کے اختیار میں نہیں ہے، مدد بھی اسی کی طرف سے آئے گی اور کامیابی بھی اسی کے حکم سے ہوگی اور امر و نہی بھی اسی کا ہے۔ 154۔ 6 اپنے دلوں میں نفاق چھپائے ہوئے ہیں، ظاہر یہ کرتے ہیں، کہ رہنمائی کے طالب ہیں۔ 154۔ 7 یہ وہ آپس میں کہتے یا اپنے دل میں کہتے تھے۔ 154۔ 8 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ؟ موت تو ہر صورت میں آنی ہے اور اسی جگہ پر آنی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھ دی گئی۔ اگر تم گھروں میں بیٹھے ہوتے اور تمہاری موت کسی مقتل میں لکھی ہوتی تو تمہیں قضا ضرور وہاں کھینچ لے جاتی۔ 154۔ 9 یہ جو کچھ ہوا اس سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ تمہارے سینوں کے اندر جو کچھ ہے یعنی ایمان اسے آزمائے (تاکہ منافق الگ ہوجائیں) اور پھر تمہارے دلوں کو شیطانی وساوس سے پاک کر دے۔ 154۔ 10 یعنی اس کو تو علم ہے کہ مخلص مسلمان کون ہے اور نفاق کا لبادہ کس نے اوڑھ رکھا ہے؟ جہاد کی متعدد حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اس سے مومن اور منافق کھل کر سامنے آجاتے ہیں، جنہیں عام لوگ دیکھ اور پہچان لیتے ہیں۔
(آیت 154) ➊ {ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ …:} ان پے درپے صدموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں موجود مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرمایا کہ ان پر اونگھ مسلط کر دی، جس سے انھیں امن و اطمینان حاصل ہو گیا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ہم پر اونگھ چھا گئی، جب کہ ہم احد کے دن اپنی صفوں میں کھڑے تھے، حالت یہ تھی کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گر جاتی تھی، میں اسے اٹھا لیتا تھا، وہ پھر گر جاتی تھی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا تھا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «أمنة نعاسًا» : ۴۵۶۲ ] ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہی بیان فرماتے ہیں: ”میں نے احد کے دن اپنا سر بلند کیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا تو(کیا دیکھتا ہوں کہ) ہر شخص اونگھ کی وجہ سے اپنے سر کو ڈھال کے نیچے جھکائے ہوئے ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب ہے: «ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا» [ ترمذی، أبواب التفسیر، باب ومن سورۃ آل عمران: ۳۰۰۷ ] ➋ {وَ طَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ:} ظاہر ہے کہ اس سے مراد منافقین اور ضعیف ایمان والے مسلمان ہیں۔ ایسے حالات میں انھیں تو اپنی جانوں ہی کی فکر تھی۔ ➌ {يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ …:} { ”ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ“ } یہ { ”غَيْرَ الْحَقِّ“ } سے بدل ہے، یعنی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اسلام اور اس کے حاملین بس اب ہلاک ہو گئے، مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں ہو گی اور یہ دعوت حق پروان نہیں چڑھے گی۔ ➍ {يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ:} یہ جملہ { ”يَظُنُّوْنَ“ } سے بدل ہے اور { ”مِنَ الْاَمْرِ“ } سے مراد فتح و نصرت ہے، یعنی بالکل مایوسی کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں کبھی فتح بھی نصیب ہو گی اور کچھ ملے گا بھی؟ یا { ”مِنَ الْاَمْرِ“ } سے مراد معاملے کا فیصلہ ہے کہ اس معاملے میں ہماری بات تو مانی ہی نہیں گئی، ہمیں مجبوراً ساتھ دینا پڑا، ورنہ ہم تو شہر سے باہر نکل کر لڑنے کے حق میں نہیں تھے۔ بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ ہم تو مجبور محض ہیں، ہمارا تو کچھ بھی اختیار نہیں۔ (فتح القدیر) ➎ {مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا:} مطلب یہ کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی کہ شہر کے اندر رہ کر ہی جنگ لڑی جائے تو آج ہمارا یہ جانی نقصان نہ ہوتا، مگر ہماری کسی نے نہ سنی۔ یہ بات یا تو ان منافقین نے کہی جو جنگ میں شریک تھے، جیسا کہ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میں معتب بن قُشَیر، جو بنو عمرو بن عوف سے تھا، اس کی بات سن رہا تھا، جب کہ اونگھ مجھے ڈھانپ رہی تھی، میں خواب کی طرح اس کی بات سن رہا تھا، جب وہ کہہ رہا تھا، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔“ [ المختارۃ، ح: ۸۶۴، ۸۶۵ ] اسے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں بھی حسن سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان منافقین نے کہی ہو جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ لوٹ آئے تھے، اس صورت میں {”هٰهُنَا“} (یہاں) کا اشارہ مدینہ کے قریب احد کی طرف ہو گا۔ (قرطبی، شوکانی) ➏ {قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ …:} اس سے ان کے خیال کی تردید مقصود ہے، یعنی اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تب بھی جن لوگوں کی قسمت میں قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے گھروں سے نکلتے اور جہاں اب مارے گئے ہیں، وہیں مارے جاتے، کیونکہ اللہ کی تقدیر سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ➐ {وَ لِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ …:} یہ جملہ محذوف کی علت ہے، یعنی جنگ احد میں جو کچھ ہوا اور جن حالات سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے کئی اور حکمتوں کے ساتھ مقصود یہ بھی تھا کہ تمھارے دلوں کی حالت ظاہر ہو جائے اور تمھارے دل و ساوس سے پاک ہو جائیں، یا یہ کہ منافقین کے دلوں کا نفاق باہر نکل آئے، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور احد کی لڑائی بگڑنے سے سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔
تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے اُن کی ا ِس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے اللہ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مدبھیڑ ہوئی تھی یہ لوگ اپنے بعض کرتوتوں کے باعﺚ شیطان کے پھسلانے میں آگئے لیکن یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اللہ تعالیٰ ہے بخشنے واﻻ اور تحمل واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگو ں نے دو جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن پیٹھ پھرائی (اس کا سبب یہ تھا) کہ ان کی بعض بدعملیوں کے نتیجہ میں جو وہ کر بیٹھے تھے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگائے تھے اور بے شک اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ یقینا اللہ بڑا بخشنے والا نہایت بردبار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں بھڑیں، شیطان نے انھیں ان بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقینا اللہ نے انھیں معاف کر دیا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت «إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ» [8-الأنفال:11] یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی کے وقت ان کی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، [صحیح بخاری:4068] ۱؎ ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے۔ [سنن ترمذي:3008،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
پس اہل ایمان،اہل یقین،اہل ثبات، اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق، اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسواس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہو گیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن [ نعوذ باللہ ] اب بچ کر نہیں جائیں گے، اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے۔ کہ جہاں جیسا کہ آیت میں ہے کہ «بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا» [ 48-الفتح: 12 ] اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بد تر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔
ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے [تفسیر ابن جریر الطبری:8093:حسن] ۱؎ اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بے نقاب کردے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہو گئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بے نقاب کر دیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہو گیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے، انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کر دیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا، حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔
مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آخر تم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا اس سے کہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر رضی اللہ عنہ ترک کی، ولید نے جا کر عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے «وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ» [3-آل عمران:155] یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کر دیا اس پر عذر لانا کیا؟ بدر والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری بیوی رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گئیں چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمٰن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔ [مسند احمد:68/1:حسن] ۱؎
155۔ 1 یعنی احد میں مسلمانوں سے جو لغزش اور کوتاہی ہوئی اس کی وجہ ان کی پچھلی کمزوریاں تھیں جس کی وجہ سے شیطان بھی انہیں پھسلانے میں کامیاب ہوگیا۔ جس طرح بعض سلف کا قول ہے کہ " نیکی کا بدلہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مذید نیکی کی تو فیق ملتی ہے اور برائی کا بدلہ یہ ہے کہ اس بعد مذید برائی کا راستہ کھلتا اور ہموار ہوتا ہے۔ 155۔ 2 اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کی لغزشوں، ان کے نتائج اور حکمتوں کے بیان کے بعد پھر بھی اپنی طرف سے ان کی معافی کا اعلان فرما رہا ہے۔ جس سے ایک تو ان کا محبوب بارگاہ الٰہی میں ہونا واضح ہے اور دوسرے، عام مومنین کو تنبیہ ہے کہ ان کے مومنین صادقین کو جب اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا تو اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ ہدف ملامت یا نشانہ تنقید بنائے۔
(آیت 155) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا …:} یعنی احد کے دن جو مسلمان میدان جنگ سے ہٹ گئے، وہ شیطان کے پھسلانے کے سبب ہٹے، مگر شیطان کو انھیں پھسلانے کا موقع انھی کے کچھ گزشتہ گناہوں کی وجہ سے ملا۔ جن میں سے بعض کا ایک گناہ یہ بھی تھا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی تھی۔ سلف سے مروی ہے کہ ایک نیک کام کرنے سے دوسرے نیک کام کی توفیق ملتی ہے اور ایک گناہ دوسرے گناہ کے ارتکاب کا سبب بنتا ہے۔ (ابن کثیر) مقصد یہ کہ بعض مخلص مسلمان جو اس دن بھاگ کھڑے ہوئے وہ اس وجہ سے نہیں بھاگے کہ وہ اسلام سے پھر گئے تھے، یا منافق تھے، بلکہ شامت نفس اور سیئات اعمال کی وجہ سے شیطان کو انھیں بہکانے کا موقع ملا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے: [وَ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ] ”ہم اپنے نفس کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔“ [ ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح: ۱۸۹۲، وصححہ الألبانی ] یہ بھی معلوم ہوا کہ نفس کا شر ہو یا اعمال کی شامت، ان کے ساتھ شیطان کا گمراہ کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ ➋ {وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ:} اس سے تین آیات پہلے بھی {”وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ“} کہہ کر ان کی معافی کی نوید سنائی گئی ہے۔ اب پھر مزید اطمینان اور تسلی کے لیے دوبارہ خوش خبری سنائی جا رہی ہے کہ بلاشبہ یقینا اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کر دیا ہے، یعنی جو واقعی دل میں اخلاص رکھتے تھے ان کی توبہ اور معذرت کے سبب اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کر دیا، اب نہ ان پر کوئی گناہ ہے اور نہ کسی کو طعن کا حق ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے آل عمران (۱۵۲) کے حواشی۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دو چار ہو جاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت و اندوہ کا سبب بنا دیتا ہے، ورنہ دراصل مارنے اور جِلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری حرکات پر وہی نگراں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کفر کیا اور اپنے بھائیوں کے حق میں جب کہ وه سفر میں ہوں یا جہاد میں ہوں، کہا کہ اگر یہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس خیال کو اللہ تعالیٰ ان کی دلی حسرت کا سبب بنا دے، اللہ تعالیٰ جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! کافروں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے ان بھائی بندوں کے بارے میں کہتے ہیں جو سفر میں گئے۔ یا جہاد کے لیے نکلے (اور وہاں وفات پا گئے) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ (طبعی موت) مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ یہ لوگ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ خدا اسے ان کے دلوں میں رنج و حسرت کا باعث بنا دے۔ حالانکہ اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے کفر کیا اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا جب انھوں نے زمین میں سفر کیا، یا وہ لڑنے والے تھے، اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے، تاکہ اللہ اسے ان کے دلوں میں حسرت بنا دے اور اللہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
156۔ 1 اہل ایمان کو اس فساد عقیدہ سے روکا جا رہا ہے جس کے حامل کفار اور منافقین تھے کیونکہ یہ عقیدہ بذدلی کی بنیاد ہے اس کے برعکس جب یہ عقیدہ ہو کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نیز یہ کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے تو اس سے انسان کے اندر عزم اور حوصلہ اور اللہ کی راہ میں لڑنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ 156۔ 2 مذکورہ فساد عقیدہ دلی حسرت کا ہی سبب بنتا ہے کہ اگر وہ سفر میں یا میدان جنگ میں نہ جاتے بلکہ گھر میں ہی رہتے تو موت کی آغوش میں جانے سے بچ جاتے۔ درآنحالیکہ موت تو مضبوط قلعوں کے اندر بھی آجاتی ہے۔ اس لئے اس حسرت سے مسلمان ہی بچ سکتے ہیں جن کے عقیدے صحیح ہیں۔
(آیت 156) {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا …:} {” غُزًّى “} یہ{” غَازٍ“} کی جمع ہے، جو {” غَزَا يَغْزُوْ “} سے اسم فاعل ہے، بمعنی لڑنے والے، جیسے{ ” رَاكِعٌ “} کی جمع {” رُكَّعٌ “} آتی ہے۔ مسلمانوں کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جا ؤ جو اپنے نفاق کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ گندہ عقیدہ صرف دل ہی میں نہیں رکھتے بلکہ برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہمارے جو بھائی جہاد کے سفر میں فوت ہو گئے یا لڑتے ہوئے مارے گئے، اگر ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے۔ ان کا یہ عقیدہ اور قول اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں حسرت و افسوس کا باعث بنائے رکھے گا۔ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے اس لیے روکا کہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بزدلی کا باعث بنتا ہے، جب کہ موت و حیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا وقت مقرر ہے۔ یہی عقیدہ مسلمان کی قوت کا باعث ہے، اس لیے حکم دیا کہ دل مضبوط رکھو، موت اپنے وقت سے ایک لمحہ بھی پہلے نہیں آ سکتی۔ اگر مگر کے الفاظ شیطان کو دخل اندازی کا موقع دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوی مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضعیف سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں کوئی نہ کوئی بھلائی ہے، اس چیز کی حرص کرو جو تمھیں نفع دے اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز مت ہو جا ؤ اور اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو، اگر میں ایسا اور ایسا کرتا (تو مجھے یہ مصیبت نہ پہنچتی) بلکہ یوں کہو کہ اللہ نے جو مقدر کیا اور جو چاہا کر دیا، اس لیے کہ {”لَوْ“} (اگر کا لفظ) شیطان کے کام (کا راستہ) کھول دیتا ہے۔“ [ مسلم، القدر، باب الإیمان بالقدر والاذعان لہ: ۲۶۶۴، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ]
اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ اُن ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے اگر اللہ تعالیٰ کی راه میں شہید کئے جاؤ یا اپنی موت مرو تو بے شک اللہ تعالیٰ کی بخشش ورحمت اس سے بہتر ہے جسے یہ جمع کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم راہِ خدا میں قتل کئے جاؤ۔ یا اپنی موت سے مر جاؤ۔ تو بے شک اللہ کی بخشش اور اس کی رحمت بہت ہی بہتر ہے اس (مال و دولت) سے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیے جاؤ، یا فوت ہو جاؤ تو یقینا اللہ کی طرف سے تھوڑی سی بخشش اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
157۔ 1 موت تو ہر صورت آنی ہے لیکن اگر موت ایسی آئے کہ جس کے بعد انسان اللہ کی مغفرت و رحمت کا مستحق قرار پائے تو یہ دنیا کے مال اسباب سے بہت بہتر ہے جس کے جمع کرنے میں انسان عمر کھپا دیتا ہے اس لئے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے گریز نہیں، اس میں رغبت اور شوق ہونا چاہیے کہ اس طرح رحمت و مغفرت الٰہی یقینی ہوجاتی ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔
(آیت 157)یعنی اگر تمھارا مرنا یا قتل ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقینا تمھارے لیے مغفرت اور رحمت کا سبب بنے گا اور یہ مغفرت و رحمت اس مال و متاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں، یہ ان کے شبہ کا دوسرا جواب ہے۔ { ”لَمَغْفِرَةٌ“ } اور {”وَ رَحْمَةٌ“} میں تنوین تقلیل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” تھوڑی سی بخشش اور رحمت“ کیا گیا ہے۔
اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہر حال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بالیقین خواہ تم مر جاؤ یا مار ڈالے جاؤ جمع تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہی کئے جاؤ گے۔
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم اپنی موت مرو۔ یا قتل کئے جاؤ۔ بہرحال اللہ کے ہی حضور میں محشور کئے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ اگر تم مر جاؤ، یا قتل کیے جاؤ تو یقینا تم اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 158) {وَ لَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ …:} اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت، یعنی فی سبیل اللہ کا ذکر تھا، جس پر رحمت و مغفرت کی خوش خبری تھی، اب یہاں عمومی موت اور قتل کا ذکر ہے (جس طرح بھی واقع ہو) مطلب یہ کہ تمھیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے، اگر تمھاری زندگی اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور اسی کی راہ میں موت ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پا ؤ گے۔
(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے اِن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعا ئے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے اتنے نرم مزاج ہو۔ ورنہ اگر تم درشت مزاج اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ انہیں معاف کر دیا کریں۔ ان کے لیے دعائے مغفرت کیا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ بھی لے لیا کریں۔ مگر جب کسی کام کے کرنے کا حتمی ارادہ ہو جائے تو پھر خدا پر بھروسہ کریں بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو ان کے لیے نرم ہوگیا ہے اور اگر تو بد خلق، سخت دل ہوتا تو یقینا وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے درگزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر، پھر جب تو پختہ ارادہ کر لے تو اللہ پر بھروسا کر، بے شک اللہ بھروسا کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] ۱؎ میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838] ۱؎ ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952] ۱؎ اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757] ۱؎ اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎ [ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎ [ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] ۱؎ [ ابن مردویہ ] ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ] پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] ۱؎ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح] ۱؎
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎ امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎ وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
159۔ 1 نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحب خلق عظیم تھے، اللہ تعالیٰ اپنے اس پیغمبر پر ایک احسان کا ذکر فرما رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور یہ نرمی دعوت و تبلیغ کے لئے نہایت ضروری ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ نہ ہوتی بلکہ اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تندخو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور بھاگتے۔ اس لئے آپ درگزر سے ہی کام لیتے رہئیے۔ 159۔ 2 یعنی مسلمانوں کی طیب خاطر کے لئے مشورہ کرلیا کریں۔ اس آیت سے مشاورت کی اہمیت، افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ مشاورت کا یہ حکم بعض کے نزدیک وجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے (ابن کثیر) امام شوکانی لکھتے ہیں ' حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انہیں علم نہیں ہے۔ یا ان کے بارے میں انہیں اشکال ہیں۔ فوج کے سربراہوں سے فوجی معاملات میں، سربرآوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام و والیان سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے سلسلے میں مشورہ کریں "۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ ایسے حکمران کے وجوب عزل پر کوئی اختلاف نہیں ہے جو اہل علم و اہل دین سے مشورہ نہیں کرتا "۔ یہ مشورہ صرف ان معاملات تک محدود ہوگا جن کی بابت شریعت خاموش ہے یا جن کا تعلق انتظامی امور سے ہے۔ (فتح القدیر) 159۔ 3 یعنی مشاورت کے بعد جس پر آپ کی رائے پختہ ہوجائے، پھر اللہ پر توکل کرکے اسے کر گزریئے۔ اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ مشاورت کے بعد بھی آخری فیصلہ حکمران کا ہی ہوگا نہ کہ ارباب مشاورت یا ان کی اکثریت کا جیسا کہ جمہوریت میں ہے۔ دوسری یہ کہ سارا اعتماد و توکل اللہ کی ذات پر ہو نہ کہ مشورہ دینے والوں کی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں بھی توکل علی اللہ کی مذید تاکید ہے۔
(آیت 160،159) ➊ {فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ:} یہاں جار مجرور { ”بِرَحْمَةٍ“ } پہلے آنے ہی سے تاکید پیدا ہو گئی تھی، پھر {”مَا“} لا کر {”فَبِمَا رَحْمَةٍ“} میں تاکید مزید ہو گئی۔ {” رَحْمَةٍ “} پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی رحمت“ کیا ہے۔ ➋ {وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ …:} احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ تھا۔ (قرطبی) معلوم ہوا دعوت دین کے لیے نرمی اور حسن اخلاق نہایت ضروری چیزیں ہیں، بدخلقی، درشتی اور سخت دلی سے لوگ کبھی قریب نہیں آ سکتے۔ ➌ {فَاعْفُ عَنْهُمْ …:} یعنی جنگ میں ان سے جو غلطیاں ہوئیں وہ انھیں معاف کر دیں، اللہ سے بھی ان کے لیے استغفار کریں اور مشورے سے محروم نہ کریں بلکہ برابر مشورہ کرتے رہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مسلمانوں سے خفا ہوا ہو گا اور چاہا ہو گا کہ اب ان سے مشورہ نہ پوچھیے، سو حق تعالیٰ نے تلقین فرمائی کہ اول مشورہ کر لینا بہتر ہے، جب ایک بات طے ہو جائے پھر پس و پیش نہ کرے۔“ (موضح) اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب کبھی جنگ یا انتظامی قسم کا کوئی ایسا معاملہ در پیش ہو، جس میں ہماری طرف سے بذریعۂ وحی کوئی متعین حکم نہ دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر لیا کرو، تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور انھیں بعد میں باہمی مشورہ سے مل کر کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر اہم امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورے فرمائے اور ان پر عمل بھی ہوا۔ (دیکھیے ابن کثیر زیر بحث آیت) اس کے بعد خلفائے راشدین بھی اس سنت پر پوری طرح کار بند رہے۔ پھر اگر مشورے کے بعد کسی چیز کا فیصلہ کر لیا جائے تو اسے پوری دل جمعی سے کر گزرنے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ چنانچہ مذکور ہے کہ جنگ اُحد کے موقع پر کھلے میدان میں لڑائی کرنے کے فیصلے کے بعد جب آپ مسلح ہو کر تشریف لے آئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آپ کی رائے کے مطابق شہر ہی میں رہ کر مقابلہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ لِنَبِيٍّ اِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَّضَعَهَا حَتّٰي يُقَاتِلَ ] [ مسند أحمد: ۳؍۳۵۱، ح: ۱۴۷۹۹ ] ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب اپنا اسلحہ پہن لے تو لڑنے سے پہلے اسے اتار دے۔“ یہ آیت اور آیت: «وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُم» [ الشوریٰ: ۳۸ ] اسلامی طرزِ حکومت کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سے معاملات میں مشورہ کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”(جنگ بدر کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بات کی تو آپ نے ان سے اعراض کیا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: ”شاید آپ ہم (انصار) سے پوچھنا چاہتے ہیں، اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں گے اور اگر آپ حکم دیں کہ گھوڑوں کو برک الغماد (مدینہ سے بہت دور ایک جگہ) تک لے جائیں تو ہم ضرور لے جائیں گے۔“ [ مسلم، الجہاد والسیر، باب غزوۃ بدر: ۱۷۷۹ ] جنگ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ کرنے پر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کی رائے دی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مشورے میں بہت برکت پیدا فرمائی۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء برابر دیانت دار اہل علم سے مشورہ لیتے رہے۔“(قرطبی) آج کل بہت سے لوگ مشورے اور ووٹ کو ایک چیز سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو اسلامی شوریٰ قرار دیتے ہیں، حالانکہ موجودہ جمہوریت اور اسلامی شوریٰ الگ الگ چیزیں ہیں، کیونکہ جمہوریت ایک مستقل دین ہے۔ اس میں: (1) ہر اہل اور نا اہل کا ووٹ برابر ہے۔ (2) اس میں عوام کی اکثریت فیصلہ کن ہے، فیصلوں میں انھی کو اللہ اور رسول کا مقام حاصل ہے، خواہ وہ سود کو حلال کر دیں، یا زنا اور قوم لوط کے عمل کو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی کوئی شرط نہیں، اگر کہیں ہے بھی تو دھوکا دینے کے لیے۔ (3) اس میں فیصلہ اکثریت کے نمائندوں کی اکثریت کا ہوتا ہے، صدر اس فیصلے کا پابند ہے، خواہ اسے غلط سمجھتا ہو یا صحیح۔ (4) ان کے ہاں مشورے کا معنی اکثریت ہے۔ جب کہ اسلام میں: (1) امیر مشورہ لینے کا پابند ہے، مگر صرف ان امور میں جو قرآن و سنت میں مذکور نہ ہوں، بلکہ تدبیری اور انتظامی قسم کے ہوں۔ (2) امیر مشورہ ان لوگوں سے لے گا جو اس معاملے میں رائے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انھیں علم نہیں ہے، یا ان کے بارے میں انھیں اشکال ہے، فوج کے سربراہوں سے فوجی معاملات میں، سربرآوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام و والیان سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے متعلق مشورہ کریں۔“ (3) مشورے کے بعد آخری فیصلہ امیر کا ہو گا، فرمایا: «فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [ آل عمران: ۱۵۹ ] اگر وہ مناسب سمجھے تو اکثریت کے فیصلے پر عمل کرے اور اگر کم لوگوں میں زیادہ اہلیت والے لوگ ہونے کی وجہ سے ان کی رائے کو بہتر سمجھے تو اس پر فیصلہ کرے، کیونکہ فیصلوں کے نتائج کا آخری ذمہ دار امیر ہو گا، اکثریت نہیں اور وہ بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے فیصلے پر عمل کرے گا، نہ کہ مشورہ دینے والوں کی یا اپنی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید ہے۔
اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے
احمد رضا خان بریلوی
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگر اللہ تمہاری مدد کرے۔ تو کوئی بھی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (مدد نہ کرے) تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے اور اہل ایمان کو صرف خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمھارا ساتھ چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مدد کرے گا اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] ۱؎ میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838] ۱؎ ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952] ۱؎ اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757] ۱؎ اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎ [ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎ [ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] ۱؎ [ ابن مردویہ ] ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ] پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] ۱؎ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح] ۱؎
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎ امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎ وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کر جائے اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے ہر خیانت کرنے واﻻ خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وه ﻇلم نہ کئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
کسی نبی کی یہ شان اور کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو خیانت کرے گا۔ وہ اپنی خیانت کردہ چیز سمیت قیامت کے دن حاضر ہو جائے گا۔ پھر ہر ایک شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کسی نبی کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ وہ خیانت کرے، اور جو خیانت کرے گا قیامت کے دن لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کی، پھر ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] ۱؎ میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838] ۱؎ ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952] ۱؎ اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757] ۱؎ اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎ [ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎ [ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] ۱؎ [ ابن مردویہ ] ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ] پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] ۱؎ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح] ۱؎
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎ امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎ وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
161۔ 1 جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال دوسرے لپیٹ کرلے جائیں گے اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا کیا تمہیں قائد غزوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں۔ یاد رکھو کہ ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں کیونکہ خیانت، نبوت کے منافی ہے۔ اگر نبی ہی خائن ہو تو پھر اس کی نبوت پر یقین کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔
(آیت161) ➊ {وَ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ …:} اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب ہے اور اس آیت میں جہاد کے احکام کا بیان ہے۔ ➋ جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے توسارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کر لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کر لیا کہ اس مال میں سے تمھارا حصہ تمھیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں؟ یاد رکھو! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی ”تقسیم میں نا انصافی“ کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی غلول ہے کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے کوئی چیز بلا اجازت اٹھا لی جائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”طمع کے کام تو ادنیٰ نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہو سکتے (چہ جائیکہ سید الانبیاء سے)۔“ (موضح)
بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اُس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانا جہنم ہو جو بدترین ٹھکانا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پس وه شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے درپے ہے، اس شخص جیسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے؟ اور جس کی جگہ جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی،
علامہ محمد حسین نجفی
بھلا وہ شخص جو ہمیشہ خدا کی رضا پر چلنے والا ہو۔ وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو خدا کے غضب میں گھر گیا ہو۔ اور جس کا آخری ٹھکانہ دوزخ ہو اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟ ۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ شخص جو اللہ کی رضا کے پیچھے چلا اس شخص جیسا ہے جو اللہ کی طرف سے سخت ناراضی لے کر لوٹا اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] ۱؎ میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838] ۱؎ ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952] ۱؎ اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757] ۱؎ اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎ [ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎ [ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] ۱؎ [ ابن مردویہ ] ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ] پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] ۱؎ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح] ۱؎
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎ امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎ وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے الگ الگ درجے ہیں اور ان کے تمام اعمال کو اللہ بخوبی دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(ان دو قسم کے لوگوں کے) اللہ کے یہاں (مختلف درجے ہیں)۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ اللہ کے نزدیک مختلف طبقے ہیں اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] ۱؎ میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838] ۱؎ ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952] ۱؎ اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757] ۱؎ اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎ [ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎ [ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] ۱؎ [ ابن مردویہ ] ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ] پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] ۱؎ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح] ۱؎
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎ امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎ وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان پر یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا۔ جو ان کے سامنے آیات الٰہی کی تلاوت کرتا ہے۔ ان کو پاکیزہ کرتا ہے (ان کی اصلاح کرتا ہے) اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] ۱؎ میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] ۱؎ «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838] ۱؎ ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف] ۱؎
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952] ۱؎ اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757] ۱؎ اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح] ۱؎ [ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف] ۱؎ [ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] ۱؎ [ ابن مردویہ ] ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ] پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] ۱؎ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد] ۱؎ یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833] ۱؎
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح] ۱؎
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح] ۱؎ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114] ۱؎
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف] ۱؎ امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] ۱؎ امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں، ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2] ۱؎ وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
164۔ 1 نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالیٰ ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور قریب ہونگے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس لئے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 12:19 ' ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ مرد تھے جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ) (25:20" ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے تھے "۔ اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ) (حٰم السجدۃ:6) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے میں بھی تو تمہاری طرح ٖصرف بشر ہی ہوں البتہ مجھ پر وحی کا نزول ہوتا ہے "۔ آج بہت سے افراد اس چیز کو نہیں سمجھتے اور انحراف کا شکار ہیں۔ 164۔ 2 اس آیت میں نبوت کے تین اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں 1۔ تلاوت 2۔ تزکیہ 3۔ تعلیم کتاب و حکمت تعلیم کتاب میں تلاوت از خود آجاتی ہے، تلاوت کی ساتھ ہی تعلیم ممکن ہے، تلاوت کے بغیر تعلیم کا تصور ہی نہیں، اس کے باوجود تلاوت کو الگ ایک مقصد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے اس نقطے کی وضاحت مقصود ہے کہ تلاوت بجائے خود ایک مقدس اور اور نیک عمل ہے، چاہے پڑھنے والا اس کا مفہوم سمجھے نہ سمجھے۔ قرآن کے معنی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرنا یقینا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو یا اتنی فہم استعداد بہم نہ پہنچ جائے، تلاوت قرآن سے اعراض یا غفلت جائز نہیں۔ تزکیے سے مراد عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شرک سے ہٹا کر توحید پر لگایا اسی طرح نہایت بد اخلاق اور بد اطوار قوم کو اخلاق اور کردار کی رفعتوں سے ہمکنار کردیا، حکمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک حدیث ہے۔ 164۔ 2 یہ ان مخففۃ من المثقلۃ ہے یعنی (انّ) (تحقیق، یقینا بلاشبہ) کے معنی ہیں۔
(آیت 164) ➊ {لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ …:} اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے اور انسانوں ہی میں سے ہونے کو ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے ہی میں اللہ کا پیغام پہنچائے گا، جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہو گا، دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس سے قریب ہوں گے اور تیسرے انسان کے لیے انسان، یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے، لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں، نہ فرشتوں میں وہ کمزوریاں اور ضرورتیں پائی جاتی ہیں جو انسان میں ہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری ضروریات سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لیے لازمی ہیں، اس لیے جتنے انبیاء بھی آئے سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن مجید نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۹)، سورۂ فرقان (۲۰)، سورۂ حم السجدہ (۶) اور سورۂ کہف کی آخری آیت۔ ➋ اوپر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ غلول اور خیانت ایک نبی کی شان سے بعید ہے، نبوت و خیانت جمع نہیں ہو سکتے، تو اب اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پاکیزہ اور اعلیٰ نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے، جو یہ ہے کہ تم پر اس کی آیات پڑھے، تمھیں کتاب و حکمت (سنت) کی تعلیم دے اور رذائل سے پاک کرے، پھر ایسی پاکیزہ ہستی کی طرف، جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر مبعوث ہوئی ہو، کوئی عقل مند آدمی غلول کی نسبت کیسے کر سکتا ہے، یا کسی کے دل میں یہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ آپ خیانت جیسے کبیرہ اور مذموم فعل کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں اس گناہ کو کبیرہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ ابن لتبیہ والی حدیث میں حکام کے ہدیوں (تحائف) کو بھی غلول شمار کیا۔ [ بخاری، الحیل، باب احتیال العامل…: ۶۹۷۹ ] { ”وَ اِنْ كَانُوْا“ } یہ اصل میں { ”وَ اِنَّهُمْ كَانُوْا“ } تھا، دلیل اس کی {”لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“} پر لام تاکید کا آنا ہے۔
اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آ پڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟ حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے د و گنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (فریق مخالف پر) پڑ چکی ہے اے نبیؐ! اِن سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو! تمہارا کیا حال ہے) کہ جب تم پر (جنگ احد میں) کوئی ایسی مصیبت آپڑی جس سے دگنی مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقینا اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] ۱؎ [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] ۱؎ [ ترمذی نسائی ]
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192] ۱؎
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7] ۱؎
165۔ 1 یعنی احد میں تمہارے ستّر آدمی شہید ہوئے تو بدر میں تم نے ستّر کافر قتل کئے تھے اور ستّر قیدی بنائے تھے۔ 165۔ 2 یعنی تمہاری اس غلطی کی وجہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی حکم کے باوجود پہاڑی مورچہ چھوڑ کر تم نے کی تھی۔ جیسا کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے کافروں کے ایک دستے کو اس درے سے دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔
(آیت 165) ➊ {اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ …:} یعنی احد میں تمھارے ستر آدمی شہید ہو گئے تو بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید کیے تھے اور قیدی بھی مقتول کے حکم میں ہوتا ہے کہ جب گرفتار کرنے والے کی مرضی ہو اسے قتل کر ڈالے۔ ➋ {هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ:} یعنی تمھارے گناہوں کی وجہ سے، یا خود تمھارے پسند کرنے کی وجہ سے۔ (فتح القدیر) پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ تمھاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وجہ سے، جس کا ارتکاب تیر اندازوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ کر کیا۔ (قرطبی) دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمھارے فدیہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ کو اختیار دیا تھا کہ اگر تم فدیہ لینا چاہتے ہو تو اس کے بدلے میں آئندہ تمھارے ستر آدمی شہید ہوں گے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے منظور کر لیا تھا، قرآن نے یہاں «هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ» کے الفاظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [ ابن کثیر۔ طبری۔ أحمد: 30/1، ۳۱، ح: ۲۰۹ ]
جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہیں جو کچھ اس دن پہنچا جس دن دو جماعتوں میں مڈ بھیڑ ہوئی تھی، وه سب اللہ کے حکم سے تھا اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ﻇاہری طور پر جان لے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ مصیبت جو تم پر آئی جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو دو جماعتوں کی مڈبھیڑ والے دن (جنگ احد میں) تم پر جو مصیبت آئی وہ خدا کے اذن سے آئی تاکہ اللہ دیکھ لے (مخلص) مؤمن کون ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو مصیبت تمھیں اس دن پہنچی جب دو جماعتیں بھڑیں تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور تاکہ وہ ایمان والوں کو جان لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] ۱؎ [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] ۱؎ [ ترمذی نسائی ]
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192] ۱؎
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7] ۱؎
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 166) {وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ …:} یعنی جنگ احد میں تمھیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہو جائے۔
اور منافق کون، وہ منافق کہ جب اُن سے کہا گیا آؤ، اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم (اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو، تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور ساتھ چلتے یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اُس وقت وہ ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں، اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور منافقوں کو بھی معلوم کر لے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راه میں جہاد کرو، یا کافروں کو ہٹاو، ٴ تو وه کہنے لگے کہ اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے، وه اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت قریب تھے، اپنے منھ سے وه باتیں بناتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وه چھپاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس لئے کہ پہچان کرادے، ان کی جو منافق ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور منافق کون؟ جن سے جب کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو۔ یا (کم از کم) دفاع ہی کرو۔ تو انہوں نے کہا۔ کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ جنگ ہوگی تو تمہارے پیچھے آتے جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے اس وقت وہ بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تا کہ وہ ان لوگوں کو جان لے جنھوں نے منافقت کی اور جن سے کہا گیا آئو اللہ کے راستے میں لڑو، یا مدافعت کرو تو انھوں نے کہا اگر ہم کوئی لڑائی معلوم کرتے تو ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ وہ اس دن اپنے ایمان (کے قریب ہونے) کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے، اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] ۱؎ [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] ۱؎ [ ترمذی نسائی ]
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192] ۱؎
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7] ۱؎
167۔ 1 یعنی احد میں جو تمہیں نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کماحقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔ 167۔ 2 لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ واقع آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے مگر آپ تو لڑائی کی بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکنے جا رہے ہو۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبد اللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبد اللہ بن حرام انصاری ؓ انہیں سمجھا بجھا کر شریک جنگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ (قدرے تفصیل گزرچکی ہے) 167۔ 3 اپنے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں۔ 167۔ 4 یعنی زبان سے تو ظاہر کیا جو مذکور ہوا لیکن دل میں تھا کہ ہماری علٰیحدگی سے ایک تو مسلمانوں کے اندر بھی ضعف پیدا ہوگا۔ دوسرے کافروں کو فائدہ ہوگا۔ مقصد اسلام، مسلمانوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانا تھا۔
(آیت 167) ➊ {اَوِ ادْفَعُوْا:} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر احد کی طرف چلے، مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے لوٹ آیا۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کر سکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ رہو، تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرأت نہ کریں۔ اکثر مفسرین نے {”اَوِ ادْفَعُوْا“} کے یہی معنی کیے ہیں، مگر بعض نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ اپنے گھر کی عورتوں اور بچوں کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو۔ (یہ معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے) الغرض! لوگوں نے ہر طرح سے انھیں واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب دیا جو آگے آ رہا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر) ➋ {قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا …:} وہ کہنے لگے، کوئی لڑائی وڑائی نہیں ہو گی، اگر ہمیں واقعی لڑائی کی توقع ہوتی تو ہم ضرور تمھارا ساتھ دیتے، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی ڈھب کی جنگ ہوتی اور فریقین میں کچھ تناسب ہوتا تو ہم ضرور شرکت کرتے، مگر اُدھر تین ہزار کا مسلح لشکر ہے اور اِدھر ایک ہزار بے سروسامان آدمی ہیں، یہ کوئی جنگ ہے!؟ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، اس بنا پر ہم ساتھ نہیں دے سکتے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا اور مطلب یہ تھا کہ مسلمان فنون حرب سے بالکل نا آشنا ہیں، ورنہ ہماری رائے مان لی جاتی تو مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جاتی۔“ (موضح) ➌ {هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِيْمَانِ:} یعنی اس سے قبل تو وہ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے، گو ان کے باطن میں کفر تھا، مگر علانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے، لیکن اس روز انھوں نے ایمان کو چھوڑ کر علانیہ کفر اختیار کر لیا، یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انھیں ایمان کی بہ نسبت کفر کا مفاد زیادہ عزیز تھا اور انھوں نے واپس ہو کر مسلمانوں کو کمزور کیا اور کفر کو تقویت بخشی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا، پس اس لفظ کی وجہ سے وہ کفر کے قریب اور ایمان سے دور ہو گئے۔“ (موضح) ➍ {يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ …:} یعنی بظاہر یہ کلمہ کہہ کر عذر لنگ اور بہانہ بناتے ہیں، مگر جو جذبات ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ہیں ان کا صاف طور پر اظہار نہیں کرتے، دراصل یہ مسلمانوں کی ہلاکت کے متمنی ہیں، لیکن انھیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتوں سے خوب واقف ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے او ران کے جو بھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ ا گروہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اُسے ٹال کر دکھا دینا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وه لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی بابت کہا کہ اگر وه بھی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ کہہ دیجئے! کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا دو
احمد رضا خان بریلوی
وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں جو خود تو (گھروں میں) بیٹھے رہے مگر اپنے (شہید ہونے والے) بھائی بندوں کے بارے میں کہا کہ اگر یہ لوگ ہماری پیروی کرتے (اور جہاد کرنے نہ جاتے) تو مارے نہ جاتے۔ (اے رسول) ان سے کہو۔ کہ اگر تم سچے ہو تو جب خود تمہاری موت آئے تو اسے ٹال کر دکھا دینا۔
عبدالسلام بن محمد
جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور خود بیٹھے رہے، اگر وہ ہمارا کہنا مانتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دے پھر اپنے آپ سے موت کو ہٹا دینا، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] ۱؎ [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] ۱؎ [ ترمذی نسائی ]
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192] ۱؎
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7] ۱؎
168۔ 1 یہ منافقین کا قول ہے ' اگر ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے ' اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت ٹال کر دکھاؤ ' مطلب یہ کہ تقدیر سے کسی کو مفر نہیں۔ موت بھی جہاں اور جیسے اور جس جگہ آنا ہے ہر صورت میں آکر رہے گی۔ اس لئے جہاد اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے گریز و فرار یہ کسی کو موت کے شکنجے سے نہیں بچا سکتا۔
(آیت 168)جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین نے اس قسم کا اظہار کیا، تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جا سکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمھیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذرا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھا ؤ۔
جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
169۔ 1 شہداء کی زندگی حقیقی ہے یا مجازی، یقینا حقیقی ہے لیکن اس کا شعور اہل دنیا کو نہیں، جیسا کہ قرآن نے وضاحت کردی ہے۔ ملاحظہ ہو (سورۃ بقرہ آیت نمبر 154) پھر اس زندگی کا مطلب کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ قبروں میں ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہاں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جنت کے پھلوں کی خوشبوئیں انہیں آتی ہیں جن سے ان کے مشام جان معطر رہتے ہیں۔ لیکن حدیث سے ایک تیسری شکل معلوم ہوتی ہے اس لئے وہی صحیح، وہ یہ کہ ان کی روحیں سبز پرندوں کے جوف یا سینوں میں داخل کردی جاتی ہیں اور وہ جنت میں کھاتی پھرتی اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں (فتح القدیر بحوالہ صحیح مسلم)
(آیت 169)اس آیت میں منافقین کے اس شبہ کی کہ ”جہاد میں شامل ہونا خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے“ ایک دوسرے طریقے سے تردید کی ہے۔ فرمایا، نہیں بلکہ اس سے دائمی زندگی حاصل ہوتی ہے، شہداء کو اللہ کے ہاں بلند درجے ملتے ہیں، پروردگار کے ہاں انھیں ہر قسم کی نعمت اور لذت حاصل ہوتی ہے، یہ زندگی حقیقی زندگی ہے مگر دنیا والی زندگی نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو تمھاری نگاہ سے اوجھل ہے، جسے ”برزخ“ کہتے ہیں اور جو تمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتی، فرمایا: «وَ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ» [ البقرۃ: ۱۵۴ ] ”اور لیکن تم (اس زندگی کو) نہیں سمجھتے۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کریمہ «وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا» سے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان (شہداء) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرشِ الٰہی کے ساتھ قندیلیں معلق ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں سے چاہتی ہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر عرش کے نیچے لٹکی ہوئی انھی قندیلوں میں آکر رہتی ہیں۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب بیان أن أرواح الشھداء فی الجنۃ…: ۱۸۸۷ ]
جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان انکے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل جو انہیں دے رکھا ہے اس سے بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو اب تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں، اس پر کہ انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وه غمگین ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ اس پر خوش و خرم ہیں۔ اور اپنے ان پسماندہ گان کے بارے میں بھی جو ہنوز ان کے پاس نہیں پہنچے خوش اور مطمئن ہیں کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔ اور نہ کوئی حزن و ملال ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس پر بہت خوش ہیں جو انھیں اللہ نے اپنے فضل سے دیا ہے اور ان کے بارے میں بھی بہت خوش ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ ان کے پیچھے سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
170۔ 1 یعنی وہ اہل اسلام جو ان کے پیچھے دنیا میں زندہ ہیں یا مصروف جہاد ہیں، ان کی بابت وہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی شہادت سے ہمکنار ہو کر یہاں ہم جیسی پر لطف زندگی اختیار کریں۔ شہدائے احد نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہمارے وہ مسلمان بھائی جو دنیا میں زندہ ہیں، انہیں ہمارے حالات اور پر مسرت زندگی سے کوئی مطلع کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہاری یہ بات ان تک پہنچا دیتا ہوں ' اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد) علاوہ ازیں متعدد احادیث سے شہادت کی فضیلت ثابت ہے۔ مثلا ایک حدیث میں فرمایا (مامن نفس تموت، لھا عند اللہ حیر، یسرہ ان ترجع الی الدنیا الا الشہید، فانہ یسرہ ان یرجع الی الدنیا فیقتل مرۃ اخریٰ لما یریٰ من فضل الشہادۃ) (مسند احمد، صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ) کوئی مرنے والی جان، جس کو اللہ کے ہاں اچھا مقام حاصل ہے دنیا میں لوٹنا پسند نہیں کرتی۔ البتہ شہید دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے یہ آرزو وہ اس لیے کرتا ہے کہ شہادت کی فضیلت کا وہ مشاہدہ کرلیتا ہے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تیرے باپ کو زندہ کیا اور اس سے کہا کہ مجھ سے اپنی کسی آرزو کا اظہار کر (تاکہ میں اسے پورا کر دوں) تیرے باپ نے جواب دیا کہ میری تو صرف یہی آرزو ہے کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ تو ممکن نہیں ہے اس لیے کہ میرا فیصلہ ہے کہ یہاں آنے کے بعد کوئی دنیا میں واپس نہیں جاسکتا۔
(آیت 171،170) {وَ يَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ …:} یعنی اپنے جن مسلمان بھائیوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بے خوف و خطر زندگی حاصل ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمھارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پروندں کے قالبوں میں ڈال دیا، جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، جنت کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں کے پاس ٹھہر جاتی ہیں، جب انھوں نے اپنے پاکیزہ کھانے اور پینے کو دیکھا اور اپنے حسن انجام کو ملاحظہ کیا تو کہنے لگے: ”اے کاش! ہمارے بھائیوں کو بھی یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کیا اچھا سلوک فرمایا ہے، تاکہ وہ جہاد سے غافل ہو کر جنگ سے منہ نہ موڑیں۔“ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تمھارا یہ پیغام میں پہنچا دیتا ہوں۔“ تو یہ آیات نازل فرمائیں: «وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَآءٌ» [ أحمد: 265/1، ۲۶۶ح: ۲۳۸۸، عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما و صححہ أحمدشاکر فی المسند: ۲۳۸۹ ] {” يَسْتَبْشِرُوْنَ“} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ” بہت خوش ہوتے ہیں“ کیا ہے۔
وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
وه خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس سے بھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے اجر کو برباد نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اللہ کے فضل و انعام پر خوش اور شاداں ہیں اور اس بات پر فرحاں ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے اجر و ثواب کو ضائع و برباد نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل پر بہت خوش ہوتے ہیں اور (اس بات پر) کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
171۔ 1 یہ استبشار پہلے استبشار کی تاکید اور اس بات کا بیان ہے کہ ان کی خوشی محض خوف و حزن کے فقدان کی ہی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں اور اس کے بےپایاں فضل و کرم کی وجہ سے بھی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے پہلی خوشی کا تعلق دنیا میں رہ جانے والے بھائیوں کی وجہ سے اور یہ دوسری خوشی اس انعام و اکرام کی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خود ان پر ہوا (فتح القدیر)
جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا اُن میں جو اشخاص نیکوکار اور پرہیز گار ہیں اُن کے لیے بڑا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں پورے زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیزگاری برتی ان کے لئے بہت زیاده اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہی۔ ان میں سے جو نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لیے بڑا اجر و ثواب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جنھوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا، اس کے بعد کہ انھیں زخم پہنچا، ان میں سے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اور متقی بنے بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
172۔ 1 جب مشرکین جنگ احد سے واپس ہوئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ ہم نے تو ایک سنہری موقع ضائع کردیا۔ مسلمان شکست خوردنی کی وجہ سے خوف زدہ اور بےحوصلہ تھے ہمیں اس سے فائدہ اٹھا کر مدینہ پر بھرپور حملہ کردینا چاہیے تھا تاکہ اسلام کا یہ پودا اپنی سر زمین (مدینہ) سے ہی نیست و نابود ہوجاتا۔ ادھر مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اندیشہ ہوا کہ شاید وہ پلٹ کر آئیں لہذا آپ نے صحابہ کرام کو لڑنے کے لئے آمادہ کیا اور صحابہ کرام تیار ہوگئے۔ مسلمانوں کا یہ قافلہ جب مدینہ سے 8 میل واقع ' حمراء الاسد ' پر پہنچا تو مشرکین کو خوف محسوس ہوا چناچہ ان کا ارادہ بدل گیا اور وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی بجائے مکہ واپس چلے گئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء بھی مدینہ واپس آگئے۔ آیت میں مسلمانوں کے اسی جذبہ اطاعت اللہ و رسول کی تعریف کی گئی ہے۔ بعض نے اس کا سبب نزول حضرت ابو سفیان کی اس دھمکی کو بتلایا ہے کہ آئندہ سال بدر صغریٰ میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہوگا۔ (ابوسفیان ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) جس پر مسلمانوں نے بھی اللہ و رسول کی اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاد میں بھرپور حصہ لینے کا عزم کرلیا۔ (ملخص از فتح القدیر و ابن کثیر مگر یہ آخری قول سیاق سے میل نہیں کھاتا)
(آیت 172)یہ حمراء الاسد، یعنی جنگ احد سے اگلے روز کا واقعہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ احد سے پلٹ کر جب مشرکین چند منزل دور چلے گئے تو آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا حماقت کی کہ مسلمانوں کا پوری طرح خاتمہ کیے بغیر واپس چلے آئے۔ چنانچہ وہ مدینے پر دوبارہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے لگے، ادھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ نے مسلمانوں کو مشرکین کے تعاقب میں نکلنے کا حکم دیا، تاکہ وہ واقعی پلٹ کر مدینہ پر حملہ نہ کر دیں۔ اس وقت اگرچہ شرکائے احد میں سے اکثر لوگ سخت زخمی اور تھکے تھے لیکن اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ جب مدینہ سے تقریباً آٹھ میل کے فاصلے پر حمراء الاسد (نامی جگہ) پہنچے تو مشرکین کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی اور انھوں نے آپس میں کہا کہ اس مرتبہ تو واپس چلتے ہیں، اگلے سال پھر آئیں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ چنانچہ آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں کو بشارت ہے۔ (ابن کثیر) عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے عروہ سے کہا: ”اے میرے بھانجے! تیرے دونوں باپ زبیر (والد) اور ابو بکر (نانا) بھی ان میں شامل تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد میں وہ تکالیف پہنچیں جو پہنچیں اور مشرکین واپس چلے گئے تو آپ نے خوف محسوس کیا کہ وہ پلٹ نہ آئیں تو فرمایا: ”ان کے پیچھے کون جائے گا؟“ تو ان میں سے ستر آدمیوں نے لبیک کہا، ان میں ابوبکر اور زبیر بھی تھے۔“ [ بخاری، المغازی، باب: «الذین استجابوا للہ والرسول» : ۴۰۷۷، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ]
اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، "تماررے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو"، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف بڑا لشکر جمع کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ لوگوں نے تمھارے لیے (فوج) جمع کر لی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس (بات) نے انھیں ایمان میں زیادہ کر دیا اور انھوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
173۔ 1 کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان نے بعض لوگوں کو معاوضہ دے کر یہ افواہ پھیلائی کہ مشرکین مکہ لڑائی کے لئے بھرپور تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں، لیکن مسلمان اس قسم کی افواہیں سن کر خوف زدہ ہونے کی بجائے مذید عزم اور ولولہ سے سرشار ہوگئے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان جامد قسم کی چیز نہیں بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔ اسی لئے حدیث میں حسبنا اللّٰہ و نَعْم الْوکِیْل پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے (فتح القدیر)۔
(آیت 173) ➊ {اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ …:} یہ آیت بھی واقعہ حمراء الاسد ہی سے متعلق ہے اور وہ اس طرح کہ جب ابوسفیان کو جو اس وقت مشرکین کی قیادت کر رہا تھا، مسلمانوں کے تعاقب کی اطلاع ملی تو اس نے ایک تجارتی قافلے کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیلنج بھیجا کہ میں نے بڑا لا ؤ لشکر جمع کر لیا ہے اور میں مدینہ پر پھر سے حملہ کرنے والا ہوں، یہ سن کر مسلمانوں میں خوف اور کمزوری کے بجائے مزید ایمانی قوت پیدا ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے کہا: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔“ (ابن کثیر) ➋ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» کا کلمہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا جب انھیں آگ میں ڈالا گیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا جب لوگوں نے کہا: «اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا» ”بے شک لوگوں نے تمھارے لیے (فوج) جمع کر لی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انھیں ایمان میں زیادہ کر دیا“ اور انھوں نے کہا: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «الذین قال لہم الناس…» : ۴۵۶۳ ] ➌ {فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا:} اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا ایمان مشرکین کے چیلنج کرنے سے بڑھ گیا، ظاہر ہے وہ پہلے نسبتاً کم تھا، تب ہی بڑھا۔ اس سے ایمان کی کمی بیشی ثابت ہوتی ہے اور ان لوگوں کی تردید ہو گئی جو کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان جبریل علیہ السلام اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایمان جیسا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان جس قدر بڑھتا ہے جذبۂ جہاد بھی بڑھتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نہ جنگ کی نہ اپنے دل سے جنگ کی بات کی، وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب ذم من مات و لم یغز … ۱۹۱۰۔ أبو داوٗد، الجہاد، باب کراھیۃ ترک الغزو: ۲۵۰۲، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]
آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہو گیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(نتیجہ یہ ہوا کہ) اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے اور اللہ بڑے فضل والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پس یہ لوگ اللہ کی عنایت اور اس کے فضل و کرم سے اس طرح (اپنے گھروں کی طرف) لوٹے کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نے چھوا بھی نہیں تھا۔ اور وہ رضاءِ الٰہی کے تابع رہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
174۔ 1 نِعْمَۃ، سے مراد سلامتی ہے اور فضل سے مراد نفع ہے جو بدر صغریٰ تجارت کے ذریعے حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر صغریٰ میں ایک گزرنے والے قافلے سے سامان تجارت خرید کر فروخت کیا جس سے نفع حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں تقسیم کردیا (ابن کثیر)
(آیت 174)اس آیت سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے کلمہ «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہ کر اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اس لیے ہر مصیبت کے وقت اس وظیفہ کے معنی کا خیال کرتے ہوئے دل اور زبان کو ایک کر کے اسے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا رہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ خبر دینے واﻻ صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
دراصل یہ تمہارا شیطان تھا جو تمہیں اپنے حوالی موالی (دوستوں) سے ڈراتا ہے۔ اور تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو۔ اگر سچے مؤمن ہو۔
عبدالسلام بن محمد
یہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، تو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] ۱؎ [ محمد بن جریر ]
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887] ۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد] ۱؎ ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ۱؎ ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن] ۱؎ دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090] ۱؎ وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083] ۱؎
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077] ۱؎ یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243] ۱؎
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564] ۱؎ تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] ۱؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف] ۱؎
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ
175۔ 1 یعنی تمہیں اس وسوسے اور وہم میں ڈالتا ہے کہ وہ بڑے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ 175۔ 2 یعنی جب وہ تمہیں اس وہم میں مبتلا کرے تو تم صرف مجھ پر ہی بھروسہ رکھو اور میری ہی طرف رجوع کرو میں تمہیں کافی ہوجاؤں گا اور تمہارا ناصر ہوں گا، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ) 39:36 کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔
(آیت 175)وہ شخص جو یہ افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے کافر اور منافق دوستوں سے ڈرا رہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر دل میں نہ لائیں۔ حقیقی شیطان بھی اپنے انسانی دوست شیطانوں کے دلوں میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے نئے سے نئے طریقے ڈالتا رہتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۲) آج کل اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ جھوٹ پھیلانے اور خوف زدہ کرنے کے لیے شیطان کے آلات ہیں۔ مومن کو ان کی خبروں سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے اور { ”اَلْحَرْبُ خُدْعَةٌ“} کے تحت ان کا علاج بھی کرنا چاہیے۔
(اے پیغمبرؐ) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، اور بالآخر ان کو سخت سزا ملنے والی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ تجھے غمناک نہ کریں، یقین مانو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اللہ تعالیٰ کا اراده ہے کہ ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے، اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ تمہیں غمزدہ نہ کریں یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اللہ کا ارادہ ہے کہ آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہ رکھے۔ اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ تجھے غم زدہ نہ کریں جو کفر میں جلدی کرتے ہیں، بے شک وہ اللہ کو ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے، اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565] ۱؎
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد] ۱؎ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] ۱؎ [ ابن جریر ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
176۔ 1 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر اس بات کی شدید خواہش تھی کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، اسی لئے ان کے انکار اور تکذیب سے آپ کو سخت تکلیف پہنچی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں، یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اپنی ہی آخرت برباد کر رہے ہیں۔
(آیت 176)کافر اور منافق مختلف طریقوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے رہتے، جس سے آپ طبعی طور پر رنجیدہ خاطر بھی ہو جاتے، خصوصاً غزوۂ احد کے واقعہ کو منافقین نے بہت ہوا دی اور مسلمانوں کو اللہ کی نصرت سے مایوس کرنے کی کوشش کی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی کہ اس قسم کی مخالفتوں سے کفار اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اس قسم کا رویہ اختیار کر کے خود ہی آخرت کے حصے سے محروم ہو رہے ہیں۔
جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر رہے ہیں، اُن کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان ہی کے لئے المناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب (تیار) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کو ایمان کے بدلے خریدا، وہ ہر گز اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565] ۱؎
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد] ۱؎ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] ۱؎ [ ابن جریر ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 177)یعنی یہ لوگ ایمان کے بجائے کفر اختیارکر کے خود اپنا برا کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے۔
یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں، پھر اُن کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لئے ہے کہ وه گناہوں میں اور بڑھ جائیں، ان ہی کے لئے ذلیل کرنے واﻻ عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر یہ ہرگز خیال نہ کریں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں (ان کی رسی دراز رکھتے ہیں) یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے یہ ڈھیل تو ہم صرف اس لئے انہیں دے رہے ہیں کہ وہ زیادہ گناہ کر لیں۔ (آخرکار) ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہر گز گمان نہ کریں کہ جو مہلت ہم انھیں دے رہے ہیں وہ ان کی جانوں کے لیے بہتر ہے، ہم تو انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565] ۱؎
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد] ۱؎ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] ۱؎ [ ابن جریر ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
178۔ 1 اس میں اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے) کا بیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق کافروں کو مہلت عطا فرماتا ہے، وقتی طور پر انہیں دنیا کی فراغت و خوش حالی سے، فتوحات سے، مال اولاد سے نوازتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ان پر اللہ کا فضل ہو رہا ہے لیکن اگر اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے والے نیکی اور اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو یہ دنیاوی نعمتیں، فضل الٰہی نہیں، مہلت الٰہی ہے۔ جس سے ان کے کفر و فسوق میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ بالآخر وہ جہنم کے دائمی عذاب کے مستحق قرار پاجاتے ہیں۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ مثلاً (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَــيْرٰتِ ۭ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ 56) 23:55، 56 " کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کے مال و اولاد میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ہم ان کے لیے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں؟ نہیں بلکہ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ "
(آیت 178)فرمایا، ہم جو کافروں کی عمریں لمبی کرتے چلے جا رہے ہیں اور انھیں ان کے حال پر چھوٹ دے رہے ہیں، مال، اولاد اور دنیا کی نعمتیں وافر دے رہے ہیں، توکیا یہ سب کچھ ان کے لیے بہتر ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے، کیونکہ اس سے ان کے گناہوں میں اضافہ ہو گا، ان کے خلاف حجت مضبوط ہو گی، بلکہ دنیا میں بھی یہ سب کچھ ان کے لیے عذاب کا باعث بنے گا، دیکھیے سورۂ مومنون (۵۵، ۵۶)، سورۂ قلم (۴۴) اور سورۂ توبہ (۵۵)۔
اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کر کے رہے گا مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کر دے غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے لہٰذا (امور غیب کے بارے میں) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اگر تم ایمان اور خدا ترسی کی روش پر چلو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑ دے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک کو الگ الگ نہ کر دے، اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاه کردے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے، اس لئے تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اگر تم ایمان ﻻؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو جب تک جدا نہ کردے گندے کو ستھرے سے اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ مؤمنوں کو اس حال پر نہیں چھوڑے گا جس حال پر تم اب ہو۔ جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کرے۔ البتہ اللہ (غیب کی باتیں بتانے کے لیے) اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔ سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر تم ایمان لاؤ۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا اجر و ثواب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کبھی ایسا نہیں کہ ایمان والوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر تم ہو، یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھیں غیب پر مطلع کرے اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے، پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لے آؤ اور متقی بنو تو تمھارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565] ۱؎
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد] ۱؎ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] ۱؎ [ ابن جریر ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
179۔ 1 اس لئے اللہ تعالیٰ ابتلا کی بھٹی سے ضرور گزارتا ہے تاکہ اس کے دوست واضح اور دشمن ذلیل ہوجائیں۔ مومن صابر، منافق سے الگ ہوجائے، جس طرح احد میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آزمایا جس سے ان کے ایمان، صبر و ثبات اور اطاعت کا اظہار ہوا اور منافقین نے اپنے اوپر جو نفاق کا پردہ ڈال رکھا تھا وہ بےنقاب ہوگیا۔ 179۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ اس طرح ابتلا کے ذریعہ سے لوگوں کے حالات اس طرح ابتلا کے ذریعہ سے ظاہر اور باطن نمایاں نہ کرے تو تمہارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں منکشف ہوجائیں اور تم جان سکو کہ کون منافق ہے اور کون مومن خالص۔ 179۔ 3 ہاں البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے، غیب کا علم عطا فرماتا ہے جس سے بعض دفعہ ان پر منافقین کا اور ان کے حالات اور ان کی سازشوں کا راز فاش ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ بھی کسی کسی وقت اور کسی کسی نبی پر ہی ظاہر کیا جاتا ہے۔ ورنہ عام طور پر نبی بھی (جب تک اللہ نہ چاہے) منافقین کے اندرونی نفاق اور ان کے مکرو فریب سے بیخبر ہی رہتا ہے (جس طرح کہ سورة توبہ کی آیت نمبر 11 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اعراب اور اہل مدینہ جو منافق ہیں، اے پیغمبر! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نہیں جانتے) اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ غیب کا علم ہم صرف اپنے رسولوں کو ہی عطا کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی منصبی ضرورت ہے۔ اس وحی الٰہی اور امور غیبیہ کے ذریعے سے ہی وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں اور اپنے کو اللہ کا رسول ثابت کرتے ہیں؟ اس مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا 26ۙ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) 72:26، 27 " عالم الغیب (اللہ تعالیٰ ہے) اور وہ اپنے غیب سے پنسدیدہ رسولوں کو ہی خبردار کرتا ہے " ظاہر بات ہے یہ امور غیبیہ وہی ہوتے ہیں جن کا تعلق منصب و فرائض رسالت کی ادائیگی سے ہوتا ہے نہ کہ ماکان ومایکون (جو کچھ ہوچکا اور آئندہ قیامت تک جو ہونے والا ہے) ' کا علم۔ جیسا کہ بعض اہل باطل اس طرح کا علم غیب انبیاء (علیہم السلام) کے لیے اور کچھ اپنے " آئمہ معصومین کے لیے باور کراتے ہیں۔
(آیت 179) ➊ {مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ …:} چنانچہ جنگ احد میں کفر و نفاق اور ایمان و اخلاص الگ ہو کر سامنے آگئے۔ رازی لکھتے ہیں: ”اس آیت کا تعلق بھی قصۂ احد سے ہے۔ چنانچہ اس حادثہ میں قتل و ہزیمت اور پھر اس کے بعد ابو سفیان کے چیلنج کے جواب میں مسلمانوں کا نکلنا وغیرہ، سب ایسے واقعات تھے جن سے کفر و نفاق اور ایمان و اخلاص الگ الگ ہو کر سامنے آگئے اور مومن اور منافق میں امتیاز ہوگیا۔ چونکہ منافقین کا مومنوں کے ساتھ ملا جلا رہنا حکمت الٰہی کے خلاف تھا، اس لیے یہ تمام واقعات پیش آئے۔“ ➋ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ:} یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس طرح آزمائش کے ذریعے سے مخلص مومنوں اور منافقین کے حالات اور ان کے ظاہر و باطن کو نمایاں نہ کرے تو تمھارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں ظاہر ہو جائیں اور تم جان سکو کہ کون مومن ہے اور کون منافق؟ اور نہ تم میں سے ہر ایک کو غیب کی بات پر اطلاع دی جا سکتی ہے اور نہ تم میں سے کسی کو بھی پورے غیب کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔ ➌ {وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ …:} ہاں، البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کی جتنی بات چاہتا ہے اس کی اطلاع دے دیتا ہے، جو نہیں چاہتا نہیں بتاتا۔ اب منافقین میں سے بعض کا بتا دیا اور بعض کا نہیں بتایا، چنانچہ فرمایا: «وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِيْنَةِ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ» [ التوبۃ: ۱۰۱] ”اور ان لوگوں میں سے جو تمھارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے رسولوں کو غیب کی کچھ باتوں کی اطلاع دیتا ہے، جن کی انھیں نبوت کی دلیل کے طور پر ضرورت ہوتی ہے، مگر وہ اس سے عالم الغیب نہیں بنتے، عالم الغیب ایک اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۵۹)، سورۂ نمل(۶۵) اور سورۂ جن (۲۶تا ۲۸)۔ ➍ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ رسول سے اپنی مرضی کی غیب کی باتیں بتانے کا مطالبہ کریں۔ ان کا کام اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے اور اگر وہ ایمان لا کر تقویٰ اختیار کریں گے تو ان کے لیے اجر عظیم ہے۔
جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وه اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وه ان کے لئے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے، آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل و کرم سے (بہت کچھ) دے رکھا ہے۔ اور وہ بخل کرتے ہیں وہ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ (بخل) ان کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن اس مال کا طوق انہیں پہنایا جائے گا جس میں وہ بخل کر رہے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب خبردار ہے ۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، ہر گز گمان نہ کریں کہ وہ ان کے لیے اچھا ہے، بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے، عنقریب قیامت کے دن انھیں اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس میں انھوں نے بخل کیا اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] ۱؎ سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565] ۱؎
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد] ۱؎ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] ۱؎ [ ابن جریر ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
180۔ 1 اس میں اس بخیل کا بیان کیا گیا ہے جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا حتی کہ اس میں سے فرض زکوٰۃ بھی نہیں نکالتا، صحیح بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اس کے مالک کو ایک زہریلا اور نہایت خوف ناک سانپ بنا کر طوق کی طرح اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا، وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
(آیت 180) ➊ {وَ لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ …:} اوپر ترغیب جہاد کے سلسلے میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو جان بچانے کی خاطر اس سے فرار اختیار کرتے ہیں ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جا رہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان منافقین کو اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے اور جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں، قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی اور وہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اس کی دونوں باچھوں سے پکڑے گا اور اس سے کہے گا: ”میں ہوں تمھارا مال، میں ہوں تمھارا خزانہ۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «ولایحسبن الذین یبخلون…» : ۴۵۶۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➋ بخل ان حقوق کو ادا نہ کرنے کا نام ہے جو انسان پر واجب ہوں، مثلاً گھر والوں کا نان و نفقہ، مہمان نوازی، جہاد کی تیاری، زکوٰۃ و عشر وغیرہ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ وَ اَيُّ دَائٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ] ”بخل سے بڑی بیماری کیا ہو سکتی ہے؟“ [ بخاری، المغازی، باب قصۃ عمان والبحرین: ۴۳۸۳ ] ➌ {وَ لِلّٰهِ مِيْرَاثُ …:} یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظاہر تم وارث بنائے گئے ہو، اس میں بخل کیوں کرتے ہو؟ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ وارث ہے، آخر تم مر جا ؤ گے اور مال اسی کا ہو رہے گا، تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پا ؤ۔“ (موضح)
اللہ نے اُن لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے (جب فیصلہ کا وقت آئے گا اُس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے۔ اور ان کا انبیا کو بلا وجہ قتل کرنا بھی، اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے واﻻ عذاب چکھو!
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی اور ہم غنی اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ نے ان لوگوں (یہودیوں) کا قول سن لیا ہے جنہوں نے کہا کہ خدا مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں سو ان کی یہ باتیں ہم لکھ لیں گے نیز ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا بھی لکھ لیں گے۔ اور (فیصلے کے وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ اب آتش دوزخ کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنھوں نے کہا بے شک اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں، ہم ضرور لکھیں گے جو انھوں نے کہا اور ان کا نبیوں کو کسی حق کے بغیر قتل کرنا بھی اور ہم کہیں گے جلنے کا عذاب چکھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت «لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فنحاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فنحاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فنحاص نے جواب میں کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا؟
اس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فنحاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بد نصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فنحاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی آپ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا؟ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کیا لیکن فنحاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8300:ضعیف] ۱؎ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
پھر ان کو ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لیے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھا جائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس و لحاظ نہیں لہٰذا تم حق کے ساتھی نہ ہو، نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقیناً جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اوالوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لیے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کر دینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کر دینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے «زبر» سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور «مُنِيرِ» سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
181۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) 57:11 کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے! تو یہود نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرا رب فقیر ہوگیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 181۔ 2 یعنی مذکورہ قول جس میں اللہ کی شان میں گستاخی ہے اور اسی طرح ان کے (اسلاف) کا انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنا، ان کے سارے جرائم اللہ کی بارگاہ میں درج ہیں، جن پر وہ جہنم کی آگ میں داخل ہونگے۔
(آیت 181) ➊ {لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ …:} اوپر کی آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر زور دیا، اب ان آیات میں یہود کے اعتراضات کا بیان اور ان کا جواب دینا مقصود ہے۔ دراصل یہود یہ اعتراضات نبوت پر طعن کی غرض سے کرتے تھے۔ کتب تفسیر میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا» [ البقرۃ: ۲۴۵ ] (کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض) تو بعض یہود نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: ” لو جی، اللہ تعالیٰ بھی فقیر ہو گئے ہیں اور بندوں سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔“ تو ان کے جواب میں یہ آیت اتری۔ (ابن کثیر) دراصل اس قسم کے اعتراضا ت وہ عوام کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متنفر کرنے کی غرض سے کرتے تھے، ورنہ وہ بھی خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے الفاظ کہنا کتنی بڑی گستاخی اور کفر ہے۔ (قرطبی) ➋ {سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا:} یعنی ان کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گستاخی اور رسولوں کو ناحق قتل کرنا، سب ان کے نامۂ اعمال میں درج کیا جا رہا ہے۔ قیامت کے دن ایسے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور وہ عذاب حریق کی سزا میں گرفتار ہوں گے۔
یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تمہارے پیش کرده اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے (زاد سفر کے طور پر) آگے بھیجا ہے اور یقینا اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اس لیے کہ اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت «لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فنحاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فنحاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فنحاص نے جواب میں کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا؟
اس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فنحاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بد نصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فنحاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی آپ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا؟ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کیا لیکن فنحاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8300:ضعیف] ۱؎ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
پھر ان کو ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لیے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھا جائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس و لحاظ نہیں لہٰذا تم حق کے ساتھی نہ ہو، نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقیناً جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اوالوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لیے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کر دینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کر دینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے «زبر» سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور «مُنِيرِ» سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 182) {وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ {”ظَلاَّمٌ“} مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی بہت ظلم کرنے والا ہے۔ بظاہر معنی یہ ہوا کہ ”اللہ بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں“ گویا کم ظلم کر سکتا ہے۔ اس کا ایک جواب استاذ مرحوم مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ نے دیا ہے: ”اس مبالغے کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ظلم کی نفی کے یہ معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (نعوذ باللہ) رتی برابر بھی ظلم صادر ہو تو وہ { ”ظَلاَّمٌ“ } ٹھہرے گا اور اللہ تعالیٰ کی ذات ظلم سے منزہ ہے۔“ یہ جواب بھی اچھا ہے، مگر اس سے قوی جواب یہ ہے کہ بعض اوقات مبالغے کے صیغے پر نفی آئے تو اس سے مراد مبالغہ کی نفی نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ ہوتا ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ” اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔“ جیسا کہ طرفہ نے کہا ہے: {وَلَسْتُ بِحَلاَّلِ التِّلَاعِ مَخَافَةً وَلٰكِنْ مَتٰي يَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ أَرْفِدِ} ظاہر الفاظ کے مطابق ترجمہ یہ ہو گا ”اور میں خوف کی وجہ سے ٹیلوں پر بہت زیادہ چڑھنے والا نہیں، بلکہ قوم جب مجھ سے عطیہ مانگے تو میں عطیہ دیتا ہوں۔“ مگر یہاں یہ معنی نہیں کہ میں بہت زیادہ چڑھنے والا نہیں، بلکہ معنی ہے کہ میں بالکل ٹیلوں پر نہیں چڑھتا۔ دلیل یہ ہے کہ میں عطیہ مانگنے پر دیتا ہوں۔ دیکھیے ” البحر المحیط “ اور ” اللباب“ وغیرہ۔
جو لوگ کہتے ہیں "اللہ نے ہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آکر) آگ کھا لے "، اُن سے کہو، "تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آ چکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتے ہو، پھر اگر (ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں) تم سچے ہو تو اُن رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وه ہمارے پاس ایسی قربانی نہ ﻻئے جسے آگ کھا جائے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو مجھ سے پہلے تمہارے پاس جو رسول دیگر معجزوں کے ساتھ یہ بھی ﻻئے جسے تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے انہیں کیوں مار ڈاﻻ؟
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد و اقرار لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں۔ جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے (غیبی) آگ آکر کھا لے۔ ان سے کہیئے۔ مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے رسول(ص) روشن نشانیاں (معجزے) لے کر اور وہ (نشانی) بھی جو تم کہتے ہو لے کر آئے۔ تو اگر تم (اس شرط میں) سچے ہو تو تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا؟ ۔
عبدالسلام بن محمد
جنھوں نے کہا اللہ نے ہمیں تاکیدی حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کی بات کا یقین نہ کریں، یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لائے جسے آگ کھا جائے، کہہ دے بے شک مجھ سے پہلے کئی رسول تمھارے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے اور وہ چیز لے کر بھی جو تم نے کہی ہے، پھر تم نے انھیں کیوں قتل کیا، اگر تم سچے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت «لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فنحاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فنحاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فنحاص نے جواب میں کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا؟
اس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فنحاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بد نصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فنحاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی آپ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا؟ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کیا لیکن فنحاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8300:ضعیف] ۱؎ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
پھر ان کو ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لیے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھا جائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس و لحاظ نہیں لہٰذا تم حق کے ساتھی نہ ہو، نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقیناً جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اوالوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لیے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کر دینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کر دینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے «زبر» سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور «مُنِيرِ» سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
183۔ 1 اس میں یہود کی ایک اور بات کی تکذیب کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ تم صرف اس رسول کو ماننا جس کی دعا پر آسمان سے آگ آئے اور قربانی اور صدقات کو جلا ڈالے۔ مطلب یہ تھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ذریعے سے اس معجزے کا چونکہ صدور نہیں ہوا۔ اس لئے حکم الٰہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانا ہمارے لئے ضروری نہیں حالانکہ پہلے نبیوں میں ایسے نبی بھی آئے ہیں جن کی دعا سے آسمان سے آگ آتی اور اہل ایمان کے صدقات اور قربانیوں کو کھا جاتی۔ جو ایک طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ اللہ کی راہ میں پیش کردہ صدقہ یا قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی۔ دوسری طرف اس بات کی دلیل ہوتی کہ یہ نبی برحق ہے۔ لیکن ان یہودیوں نے ان نبیوں اور رسولوں کی بھی تکذیب ہی کی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر تم نے ایسے پیغمبروں کو کیوں جھٹلایا اور انہیں قتل کیا جو تمہاری طلب کردہ نشانی ہی لے کر آئے تھے۔
(آیت 183) ➊ {اَلَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَاۤ …:} یہ ان کا دوسرا اعتراض ہے جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں پیش کیا کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا ہے کہ اگر کوئی نبی یہ معجزہ پیش نہ کرے تو اس پر ایمان نہ لائیں۔ (رازی) حالانکہ ان کی کسی کتاب میں یہ حکم نہیں اور ان کے تمام انبیاء کو یہ معجزہ عطا بھی نہیں ہوا تھا، جیسا کہ اسی آیت میں اشارہ ہے: «قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ» یہاں {”رُسُلٌ“} نکرہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تمام انبیاء کو نہیں، بلکہ بعض کو یہ معجزہ عطا ہوا کہ جب کوئی سوختنی (جلائی جانے والی) قربانی (نذر) پیش کی جاتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، اس قربانی (نذر) کی قبولیت کی علامت کے طور پر آسمان سے آگ اترتی، جو اسے جلا ڈالتی، جیسا کہ ایلیاء اور سلیمان علیہما اسلام کے متعلق مذکور ہے۔ (ابن کثیر) ➋ {قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ …:} یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے، جو اوپر ذکر ہوا کہ اگر واقعی تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تمھارے آباء و اجداد نے ان بہت سے انبیاء کو قتل کیوں کر ڈالا جو اپنی نبوت کے صدق پر دوسری واضح دلیلوں کے ساتھ یہ معجزہ بھی لے کر آئے جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو؟
اب اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جا چکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے گئے ہیں جو روشن دلیلیں صحیفے اور منور کتاب لے کر آئے
احمد رضا خان بریلوی
تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں اور صحیفے اور چمکتی کتاب لے کر آئے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (آزردہ خاطر نہ ہوں) آپ سے پہلے بہت سے رسول(ص) جھٹلائے جا چکے ہیں جو معجزات، صحیفے اور روشن کتاب (آئین حیات) لے کر آئے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو بے شک کئی رسول تجھ سے پہلے جھٹلائے گئے، جو واضح دلیلیں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت «لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فنحاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فنحاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فنحاص نے جواب میں کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا؟
اس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فنحاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بد نصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فنحاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی آپ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا؟ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کیا لیکن فنحاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8300:ضعیف] ۱؎ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
پھر ان کو ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لیے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھا جائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس و لحاظ نہیں لہٰذا تم حق کے ساتھی نہ ہو، نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقیناً جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اوالوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لیے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کر دینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کر دینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے «زبر» سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور «مُنِيرِ» سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔
184۔ 1 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی ان کٹ حجتیوں سے بددل نہ ہوں، ایسا معاملہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوچکا ہے۔
(آیت 184) یہود کے تمسخر اور اعتراضات کا جواب دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اس قسم کے شبہات پیدا کر کے اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ غم کی بات نہیں، کیونکہ آپ سے پہلے بہت سے انبیاء کے ساتھ وہ یہ سلوک کر چکے ہیں۔ { ”بِالْبَيِّنٰتِ“ } سے دلائل عقلیہ اور معجزات دونوں مراد ہیں۔ { ”الزُّبُرِ“ } یہ زبور کی جمع ہے، اس سے وہ چھوٹے چھوٹے صحیفے مراد ہیں جن میں نیکی کی نصیحت، برائی سے روکنے اور حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی تھیں۔ دا ؤ د علیہ السلام کو جو کتاب دی گئی تھی، قرآن نے اسے بھی ”زبور“ کہا ہے، کیونکہ اس میں بھی انھی چیزوں کا پہلو نمایاں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں {”الْكِتٰبِ“} سے مراد وہ بڑی کتاب ہے جس میں مسائل و احکام اور دوسری سب چیزیں ہوں، مگر ان کتابوں میں قرآن مجید کے سوا کسی کتاب کو اعجازی حیثیت حاصل نہیں ہوئی (کہ اس کی کسی سورت کے مقابلے میں اس جیسی ایک سورت لانے کا چیلنج ہو)۔
آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہر جاندار نے (انجام کار) موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور تم سب کو قیامت کے دن تمہیں (اپنے اعمال کا) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا پس جو شخص (اس دن) جہنم سے بچا لیا گیا۔ اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان اور سرمایہ فریب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت و حیات اور یوم حساب ٭٭
تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:27] یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی اللہ وحدہ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی فنا نہ ہو گا، جن، انسان کل کے کل مرنے والے ہیں اسی طرح فرشتے اور حاملان عرش بھی مر جائیں گے اور صرف اللہ وحدہ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے گا پہلے بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے گا، جب سب مر جائیں گے مدت ختم ہو جائے گی صلب آدم سے جتنی اولاد ہونے والی تھی ہو چکی اور پھر سب موت کے گھاٹ اتر گئے مخلوقات کا خاتمہ ہو گیا اس وقت اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے گا اور مخلوق کو ان کے کل اعمال کے چوٹے بڑے چھپے کھلے صغیرہ کبیرہ سب کی جزا سزا ملے گی کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا یہی اس کے بعد کے جملہ میں فرمایا جا رہا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی آ رہا ہے ہمیں پاؤں کی چاپ سنائی دیتی تھی لیکن کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا تھا اس نے آ کر کہا اے اہل بیت! تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت، ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے تم سب کو تمہارے اعمال کا بدلہ پورا پورا قیامت کے دن دیا جائے گا۔ ہر مصیبت کی تلافی اللہ کے پاس ہے، ہر مرنے والے کا بدلہ ہے اور ہر فوت ہونے والے کا اپنی گمشدہ چیز کو پا لینا ہے اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اسی سے بھلی امیدیں رکھو سمجھ لو کہ سچ مچ مصیبت زدہ وہ شخص جو ثواب سے محروم رہ جائے تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں [ ابن ابی حاتم ] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یہ خضر علیہ السلام تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:4609/3:موضوع باطل] ۱؎
حقیقت یہ ہے کہ پورا کامیاب وہ انسان ہے جو جہنم سے نجات پا لے اور جنت میں چلا جائے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ مل جانا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو آیت «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] آخری ٹکڑے کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے [سنن ترمذي:3013،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور کچھ زیادہ الفاظ کے ساتھ ابن حبان میں ہے [صحیح ابن حبان:7417:صحیح] ۱؎ اور ابن مردویہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس کی خواہش آگ سے بچ جانے اور جنت میں داخل ہو جانیکی ہو اسے چاہیئے کہ مرتے دم تک اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جسے خود اپنے پسند کرتا ہو [مسند احمد:192/2:صحیح] ۱؎ یہ حدیث پہلے آیت «وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ» [3-آل عمران:102] کی تفسیر میں گزر چکی ہے، مسند احمد میں بھی اور وکیع بن جراح کی تفسیر میں بھی یہی حدیث ہے۔ اس کے بعد دنیا کی حقارت اور ذلت بیان ہو رہی ہے کہ یہ نہایت ذلیل فانی اور زوال پذیر چیز ہے ارشاد ہے آیت «بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى» [87-الأعلى:16] یعنی تم تو دنیا کی زندگی پر ریجھے جاتے ہو حالانکہ دراصل بہتری اور بقاء والی چیز آخرت ہے، دوسری آیت میں ہے «وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ» [13-الرعد:26] تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے یہ تو حیات دنیا کا فائدہ ہے اس کی بہترین زینت اور باقی رہنے والی تو وہ زندگی ہے جو اللہ کے پاس ہے۔
حدیث شریف میں ہے اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں صرف ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو لے اس انگلی کے پانی کو سمندر کے پانی کے مقابلہ میں کیا نسبت ہے آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہی ہے [صحیح مسلم:2858] ۱؎، سیدنا قتادہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے دنیا کیا ہے ایک یونہی دھوکے کی جگہ ہے جسے چھوڑ چھاڑ کر تمہیں چل دینا ہے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کہ یہ تو عنقریب تم سے جدا ہونے والی اور برباد ہونے والی چیز ہے پس تمہیں چاہیئے کہ ہوش مندی برتو اور یہاں اللہ کی اطاعت کر لو اور طاقت بھر نیکیاں کما لو اللہ کی دی ہوئی طاقت کے بغیر کوئی کام نہیں بنتا۔
آزمائش لازمی ہے صبر و ضبط بھی ضروری ٭٭
پھر انسانی آزمائش کا ذکر ہو رہا ہے جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ» [2-البقرة:155] مطلب یہ ہے کہ مومن کا امتحان ضرور ہوتا ہے کبھی جانی، کبھی مالی، کبھی اہل و عیال میں کبھی اور کسی طرح یہ آزمائش دینداری کے انداز کے مطابق ہوتی ہے، سخت دیندار کی ابتلاء بھی سخت اور کمزور دین والے کا امتحان بھی کمزور، پھر پروردگار جل شانہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دیتا ہے کہ بدر سے پہلے مدینہ میں تمہیں اہل کتاب سے اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں اور سرزنش سننی پڑے گی، پھر تسلی دیتا ہوا طریقہ سکھاتا ہے کہ تم صبرو ضبط کر لیا کرو اور پرہیزگاری پر تو یہ بڑا بھاری کام ہے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم مشرکین سے اور اہل کتاب سے بہت کچھ در گزر فرمایا کرتے تھے اور ان کی ایذاؤں کو برداشت کر لیا کرتے تھے اور رب کریم کے اس فرمان پر عامل تھے یہاں تک کہ جہاد کی آیتیں اتریں۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے بنو حارث بن خزرج کے قبیلے میں تشریف لے چلے یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے یہودی بھی تھی۔ مشرکین بھی تھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ بھی اب تک کفر کے کھلے رنگ میں تھا۔ مسلمانوں میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے گردوغبار جو اڑا تو عبداللہ بن ابی سلول نے ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے لگا غبار نہ اڑاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس پہنچ ہی چکے تھے سواری سے اتر آئے سلام کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبداللہ بول پڑا سنئے صاحب آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں ایذاء دیں اپنے گھر جائیے جو آپ کے پاس آئے اسے سنائیے۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا اور قریب تھا کہ کھڑے ہو کر لڑنے لگیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے بجھانے سے آخر امن و امان ہو گیا اور سب خاموش ہو گئے۔
آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابو حباب عبداللہ بن ابی سلول نے آج تو اس طرح کیا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانے دیجئیے معاف کیجئے اور در گزر کیجئے قسم اللہ کی جس نے آپ پر قرآن اتارا اسے آپ سے اس لیے بے حد دشمنی ہے اور ہونی چاہیئے کہ یہاں کے لوگوں نے اسے سردار بنانا چاہا تھا اسے چودھراہٹ کی پگڑی بندھوانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا لوگوں نے آپ کو نبی مانا اس کی سرداری جاتی رہی جس کا اسے رنج ہے اسی باعث یہ اپنے جلے دل کے پھپولے پھوڑ رہا ہے جو کہ دیا کہ دیا آپ اسے اہمیت نہ دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درذگر کر لیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کی بھی، یہودیوں سے مشرکوں سے درذگر فرماتے سنی ان سنی کر دیا کرتے اور اس فرمان پر عمل کرتے، یہی حکم آیت «وَدَّ كَثِيرٌ» [2-البقرة:109] ۱؎ میں ہے جو حکم عفو و درگزر کا اس آیت «وَلَتَسْمَعُنَّ» میں ہے۔
بعد ازاں آپ کو جہاد کی اجازت دی گئی اور پہلا غزوہ بدر کا ہوا جس میں لشکر کفار کے سرداران قتل و غارت ہوئے یہ حالت اور شوکت اسلام دیکھ کر اب عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی گھبرائے بجز اس کے کوئی چارہ کار انہیں نظر نہ آیا کہ بیعت کر لیں اور بظاہر مسلمان جائیں۔ [صحیح بخاری:4566] ۱؎ پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر حق والے پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے روکتا رہے اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں اسے چاہیئے کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے کام لے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے اسی سے مدد طلب کرتا رہے اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اسی کی طرف رکھے۔
185۔ 1 اس آیت میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے مفر نہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا میں جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، تیسرا کامیابی کا معیار بتایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کرلیا جس کے نتیجے میں جہنم سے دور اور جنت میں داخل کردیا گیا، چوتھا یہ کہ دنیا کی زندگی سامان فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا، وہ خوش نصیب ہے اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام اور نامراد ہے۔
(آیت 185)بخیلوں کا حال اور ان کا کفر بیان کرنے کے بعد یہاں بتایا کہ دنیا کے جس مال و متاع کے جمع کرنے کے لیے انسان بخل کرتا ہے، یہ سب کچھ فانی ہے اور باقی نہ رہنے والا ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور ابدی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ آخرت کی فکر کرے اور اس میں کامیابی کی کوشش کرتا رہے۔ اور یہ جو فرمایا: ” تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے“ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دنیا یا برزخ میں بھی کچھ نہ کچھ اعمال کا بدلہ ملتا ہے، مگر پورا بدلہ یعنی پورا ثواب و عقاب قیامت کے دن ہی ملے گا، اس سے پہلے ممکن نہیں۔ اور دنیا کی زندگی محض {”مَتَاعُ الْغُرُوْرِ“} (دھوکے کا سامان) ہے، اس کی ظاہری زیب و زینت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ [ لاَ عَیْشَ اِلاَّ عَیْشُ الْآخِرَہْ ]
مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تمہارے مالوں اور جانوں سے تمہاری آزمائش کی جائے گی اور یہ بھی یقین ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور مشرکوں کی بہت سی دکھ دینے والی باتیں بھی سننی پڑیں گی اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقیناً یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(مسلمانو) ضرور تمہیں تمہارے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمایا جائے گا اور تمہیں اہل کتاب مشرکین سے بڑي دل آزار باتیں سننا پڑیں گی۔ اور اگر تم صبر و ضبظ سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو۔ تو بے شک یہ بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جائو گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت و حیات اور یوم حساب ٭٭
تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» [55-الرحمن:27] یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی اللہ وحدہ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی فنا نہ ہو گا، جن، انسان کل کے کل مرنے والے ہیں اسی طرح فرشتے اور حاملان عرش بھی مر جائیں گے اور صرف اللہ وحدہ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے گا پہلے بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے گا، جب سب مر جائیں گے مدت ختم ہو جائے گی صلب آدم سے جتنی اولاد ہونے والی تھی ہو چکی اور پھر سب موت کے گھاٹ اتر گئے مخلوقات کا خاتمہ ہو گیا اس وقت اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے گا اور مخلوق کو ان کے کل اعمال کے چوٹے بڑے چھپے کھلے صغیرہ کبیرہ سب کی جزا سزا ملے گی کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا یہی اس کے بعد کے جملہ میں فرمایا جا رہا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی آ رہا ہے ہمیں پاؤں کی چاپ سنائی دیتی تھی لیکن کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا تھا اس نے آ کر کہا اے اہل بیت! تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت، ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے تم سب کو تمہارے اعمال کا بدلہ پورا پورا قیامت کے دن دیا جائے گا۔ ہر مصیبت کی تلافی اللہ کے پاس ہے، ہر مرنے والے کا بدلہ ہے اور ہر فوت ہونے والے کا اپنی گمشدہ چیز کو پا لینا ہے اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اسی سے بھلی امیدیں رکھو سمجھ لو کہ سچ مچ مصیبت زدہ وہ شخص جو ثواب سے محروم رہ جائے تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں [ ابن ابی حاتم ] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یہ خضر علیہ السلام تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:4609/3:موضوع باطل] ۱؎
حقیقت یہ ہے کہ پورا کامیاب وہ انسان ہے جو جہنم سے نجات پا لے اور جنت میں چلا جائے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ مل جانا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو آیت «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] آخری ٹکڑے کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے [سنن ترمذي:3013،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ اور کچھ زیادہ الفاظ کے ساتھ ابن حبان میں ہے [صحیح ابن حبان:7417:صحیح] ۱؎ اور ابن مردویہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس کی خواہش آگ سے بچ جانے اور جنت میں داخل ہو جانیکی ہو اسے چاہیئے کہ مرتے دم تک اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جسے خود اپنے پسند کرتا ہو [مسند احمد:192/2:صحیح] ۱؎ یہ حدیث پہلے آیت «وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ» [3-آل عمران:102] کی تفسیر میں گزر چکی ہے، مسند احمد میں بھی اور وکیع بن جراح کی تفسیر میں بھی یہی حدیث ہے۔ اس کے بعد دنیا کی حقارت اور ذلت بیان ہو رہی ہے کہ یہ نہایت ذلیل فانی اور زوال پذیر چیز ہے ارشاد ہے آیت «بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى» [87-الأعلى:16] یعنی تم تو دنیا کی زندگی پر ریجھے جاتے ہو حالانکہ دراصل بہتری اور بقاء والی چیز آخرت ہے، دوسری آیت میں ہے «وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ» [13-الرعد:26] تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے یہ تو حیات دنیا کا فائدہ ہے اس کی بہترین زینت اور باقی رہنے والی تو وہ زندگی ہے جو اللہ کے پاس ہے۔
حدیث شریف میں ہے اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں صرف ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو لے اس انگلی کے پانی کو سمندر کے پانی کے مقابلہ میں کیا نسبت ہے آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہی ہے [صحیح مسلم:2858] ۱؎، سیدنا قتادہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے دنیا کیا ہے ایک یونہی دھوکے کی جگہ ہے جسے چھوڑ چھاڑ کر تمہیں چل دینا ہے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کہ یہ تو عنقریب تم سے جدا ہونے والی اور برباد ہونے والی چیز ہے پس تمہیں چاہیئے کہ ہوش مندی برتو اور یہاں اللہ کی اطاعت کر لو اور طاقت بھر نیکیاں کما لو اللہ کی دی ہوئی طاقت کے بغیر کوئی کام نہیں بنتا۔
آزمائش لازمی ہے صبر و ضبط بھی ضروری ٭٭
پھر انسانی آزمائش کا ذکر ہو رہا ہے جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ» [2-البقرة:155] مطلب یہ ہے کہ مومن کا امتحان ضرور ہوتا ہے کبھی جانی، کبھی مالی، کبھی اہل و عیال میں کبھی اور کسی طرح یہ آزمائش دینداری کے انداز کے مطابق ہوتی ہے، سخت دیندار کی ابتلاء بھی سخت اور کمزور دین والے کا امتحان بھی کمزور، پھر پروردگار جل شانہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دیتا ہے کہ بدر سے پہلے مدینہ میں تمہیں اہل کتاب سے اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں اور سرزنش سننی پڑے گی، پھر تسلی دیتا ہوا طریقہ سکھاتا ہے کہ تم صبرو ضبط کر لیا کرو اور پرہیزگاری پر تو یہ بڑا بھاری کام ہے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم مشرکین سے اور اہل کتاب سے بہت کچھ در گزر فرمایا کرتے تھے اور ان کی ایذاؤں کو برداشت کر لیا کرتے تھے اور رب کریم کے اس فرمان پر عامل تھے یہاں تک کہ جہاد کی آیتیں اتریں۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے بنو حارث بن خزرج کے قبیلے میں تشریف لے چلے یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے یہودی بھی تھی۔ مشرکین بھی تھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ بھی اب تک کفر کے کھلے رنگ میں تھا۔ مسلمانوں میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے گردوغبار جو اڑا تو عبداللہ بن ابی سلول نے ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے لگا غبار نہ اڑاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس پہنچ ہی چکے تھے سواری سے اتر آئے سلام کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبداللہ بول پڑا سنئے صاحب آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں ایذاء دیں اپنے گھر جائیے جو آپ کے پاس آئے اسے سنائیے۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا اور قریب تھا کہ کھڑے ہو کر لڑنے لگیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے بجھانے سے آخر امن و امان ہو گیا اور سب خاموش ہو گئے۔
آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابو حباب عبداللہ بن ابی سلول نے آج تو اس طرح کیا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانے دیجئیے معاف کیجئے اور در گزر کیجئے قسم اللہ کی جس نے آپ پر قرآن اتارا اسے آپ سے اس لیے بے حد دشمنی ہے اور ہونی چاہیئے کہ یہاں کے لوگوں نے اسے سردار بنانا چاہا تھا اسے چودھراہٹ کی پگڑی بندھوانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا لوگوں نے آپ کو نبی مانا اس کی سرداری جاتی رہی جس کا اسے رنج ہے اسی باعث یہ اپنے جلے دل کے پھپولے پھوڑ رہا ہے جو کہ دیا کہ دیا آپ اسے اہمیت نہ دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درذگر کر لیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کی بھی، یہودیوں سے مشرکوں سے درذگر فرماتے سنی ان سنی کر دیا کرتے اور اس فرمان پر عمل کرتے، یہی حکم آیت «وَدَّ كَثِيرٌ» [2-البقرة:109] ۱؎ میں ہے جو حکم عفو و درگزر کا اس آیت «وَلَتَسْمَعُنَّ» میں ہے۔
بعد ازاں آپ کو جہاد کی اجازت دی گئی اور پہلا غزوہ بدر کا ہوا جس میں لشکر کفار کے سرداران قتل و غارت ہوئے یہ حالت اور شوکت اسلام دیکھ کر اب عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی گھبرائے بجز اس کے کوئی چارہ کار انہیں نظر نہ آیا کہ بیعت کر لیں اور بظاہر مسلمان جائیں۔ [صحیح بخاری:4566] ۱؎ پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر حق والے پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے روکتا رہے اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں اسے چاہیئے کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے کام لے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے اسی سے مدد طلب کرتا رہے اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اسی کی طرف رکھے۔
186۔ 1 اہل ایمان کو ان کے ایمان کے مطابق آزمانے کا بیان ہے، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 155 میں گزر چکا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے ابھی اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور جنگ بدر بھی نہیں ہوئی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عباد ؓ کی عیادت کے لئے بنی حارث بن خزرج میں تشریف لے گئے۔ راستے میں ایک مجلس میں مشرکین، یہود اور عبد اللہ بن ابی وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی جو گرد اٹھی، اس نے اس پر بھی ناگواری کا اظہار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹھہر کر قبول اسلام کی دعوت بھی دی جس پر عبد اللہ بن ابی نے گستاخانہ کلمات بھی کہے۔ وہاں بعض مسلمان بھی تھے، انہوں نے اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحسین فرمائی، قریب تھا کہ ان کے مابین جھگڑا ہوجائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو خاموش کرایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد ؓ کے پاس پہنچے تو انہیں بھی یہ واقعہ سنایا، جس پر انہوں نے فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی یہ باتیں اس لئے کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے سے قبل، یہاں کے باشندوں کو اس کی تاج پوشی کرنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے اس کی سرداری کا یہ حسین خواب ادھورا رہ گیا، جس کا اسے سخت صدمہ ہے اور اس کی یہ باتیں اس کے اس بغض وعناد کا مظہر ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم در گزر ہی سے کام لیں (صحیح بخاری) 186۔ 2 اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مختلف انداز سے طعن وتشنیع کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مشرکین عرب کا حال تھا۔ علاوہ ازیں مدینہ میں آنے کے بعد منافقین بالخصوص ان کا رئیس عبد اللہ بن ابی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استخفاف کرتا رہتا تھا۔ آپ کے مدینہ آنے سے قبل اہل مدینہ اسے اپنا سردار بنانے لگے تھے اور اس کے سر پر تاج سیادت رکھنے کی تیاری مکمل ہوچکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے اس کا یہ سارا خواب بکھر کر رہ گیا، جس کا اسے شدید صدمہ تھا چناچہ انتقام کے طور پر بھی یہ شخص آپ کے خلاف کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا (جیسا کہ صحیح بخاری کے حوالے سے اس کی ضروری تفصیل گزشتہ حاشیہ میں ہی بیان کی گئی ہے) ان حالات میں مسلمانوں کو عفو و درگزر اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ داعیانِ حق کا اذیتوں اور مشکلات سے دو چار ہونا اس راہ حق کے ناگزیر مرحلوں میں سے ہے اور اس کا علاج صبر فی اللہ، استعانت باللہ اور رجوع الی اللہ کے سوا کچھ نہیں (ابن کثیر)
(آیت 186)یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور عام مسلمانوں سے ہے کہ آئندہ بھی جان و مال میں تمھاری آزمائش ہو گی اور تمھیں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی، جیسے اموال کا تلف ہو جانا اور بیمار پڑ جانا وغیرہ۔ اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے تمھیں انتہائی دل آزار اور جگر خراش طعن و تشنیع، بے ہودہ گفتگو اور جھوٹے الزامات سننا پڑیں گے، جیسا کہ منافقین نے ہر طرح ستایا۔ سورۂ منافقون اور سورۂ توبہ میں تفصیل دیکھ لیں، نیز کعب بن اشرف یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہجو کی اور اپنے قصائد میں مسلمان خواتین کا نام لے کر عشقیہ اشعار کہے۔ مگر ان کا علاج یہ ہے کہ تم صبر، یعنی ثابت قدمی اور استقلال سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اپنے دلوں میں رکھو۔ اگر صبر اور تقویٰ سے ان آزمائشوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ نہایت ہمت، حوصلے اور اولو العزمی کا کام ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ صبر اور تقویٰ سے کام لیتے رہے، حتیٰ کہ حالت جنگ میں بھی نہ ان کی طرح بد زبانی سے کام لیا اور نہ عملاً اس طرح زیادتی کی جس طرح انھوں نے کی تھی۔
اِن اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا مگر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اُسے بیچ ڈالا کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں، تو پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈاﻻ۔ ان کا یہ بیوپار بہت برا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے تو کتنی بری خریداری ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو۔ جب خدا نے اہل کتاب سے عہد و پیمان لیا تھا کہ تم اسے ضرور لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کروگے۔ اور اسے ہرگز نہیں چھپاؤگے مگر انہوں نے اسے اپنے پس پشت ڈال دیا۔ اور اس کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کرلی۔ کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپائو گے تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی۔ سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین خرید و فروخت! ٭٭
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آ جائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہو جائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپا لیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خرید و فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہو گی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی۔ علماء کرام کو چاہیئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کر سکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔ [سنن ابوداود:3658،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۱؎
دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا، [صحیح مسلم:110] ۱؎ بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے، [صحیح بخاری:5219] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہو گا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:183] آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہو گی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4568] ۱؎
اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4567] ۱؎
تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھوایا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت؟ تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف ہیں مروان نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا علم سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بھی ہے جو مجلس میں موجود تھے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے؟سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کر دی تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہی پہلے ہوا تھا۔
اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو، واللہ اعلم، سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ [مستدرک حاکم:234/3:حسن] ۱؎ «تَحْسَبَنَّهُمْ» کو «یَحْسَبَنَّهُمْ» بھی پڑھا گیا ہے۔
پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہو گا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کر لو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا۔
187۔ 1 اس میں اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ ان سے اللہ نے یہ عہد لیا تھا کہ کتاب الٰہی (تورات اور انجیل) میں جو باتیں درج ہیں اور آخری نبی کی جو صفات ہیں، انہیں لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور انہیں چھپائیں گے نہیں، لیکن انہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے اللہ کے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا، یہ گویا اہل علم کو تلقین و تنبیہ ہے کہ ان کے ہاں جو علم نافع ہے، جس سے لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوسکتی ہو، وہ لوگوں تک ضرور پہنچانا چاہیے اور دنیاوی اغراض و مفادات کی خاطر ان کو چھپانا بہت بڑا جرم ہے، قیامت والے دن ایسے لوگوں کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی (کما فی الحدیث)
(آیت 187)یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیے گئے ہیں اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں، ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہیں کریں گے، مگر انھوں نے دنیا طلبی میں پڑ کر اس عہد کی کوئی پروا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا، «فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ» ”سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔“ اس آیت میں ضمناً مسلمان علماء کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے ہوئے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں۔ حدیث میں متعدد سندوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے: [ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ اُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ ] [ ترمذی، العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم: ۲۶۴۹، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔“
تم اُن لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف اُنہیں حاصل ہو جو فی الواقع انہوں نے نہیں کیے ہیں حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھٹکارا میں نہ سمجھئے ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ ان لوگوں کے بارے میں خیال کریں جو اپنی کارستانیوں پر اتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریف و ستائش کی جائے۔ ان کے بارے میں خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے محفوظ ہیں (نہیں بلکہ) ان کے لیے دردناک عذاب (تیار) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں کو ہر گز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہر گز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین خرید و فروخت! ٭٭
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آ جائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہو جائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپا لیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خرید و فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہو گی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی۔ علماء کرام کو چاہیئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کر سکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔ [سنن ابوداود:3658،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۱؎
دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا، [صحیح مسلم:110] ۱؎ بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے، [صحیح بخاری:5219] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہو گا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:183] آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہو گی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4568] ۱؎
اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4567] ۱؎
تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھوایا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت؟ تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف ہیں مروان نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا علم سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بھی ہے جو مجلس میں موجود تھے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے؟سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کر دی تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہی پہلے ہوا تھا۔
اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو، واللہ اعلم، سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ [مستدرک حاکم:234/3:حسن] ۱؎ «تَحْسَبَنَّهُمْ» کو «یَحْسَبَنَّهُمْ» بھی پڑھا گیا ہے۔
پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہو گا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کر لو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا۔
188۔ 1 ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو صرف اپنے واقعی کارناموں پر ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے کھاتے میں وہ کارنامے بھی درج یا ظاہر کئے جائیں جو انہوں نے نہیں کئے ہوتے۔ یہ بیماری جس طرح عہد رسالت کے بعض لوگوں میں تھی جن کے پیش نظر آیات کا نزول ہوا۔ اسی طرح آج بھی جاہ پسند قسم کے لوگوں اور پراپیگنڈے اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سے بننے والے لیڈروں میں یہ بیماری عام ہے، آیت کے سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی کتاب الٰہی میں تحریف کے مجرم تھے مگر وہ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہوتے تھے، یہی حال باطل گروہوں کا بھی ہے وہ بھی لوگوں کو گمراہ کر کے، غلط رہنمائی کرکے اور آیات الٰہی میں معنوی تحریف و تبدیل کر کے بڑے خوش ہوتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اہل حق ہیں اور یہ کہ انکی فریب کاری کی انہیں داد دی جائے۔ (قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 30) 9:30
(آیت 188)یعنی جو کام انھوں نے کیے ہیں ان پر اتراتے چلے جاتے ہیں اور جو کام انھوں نے نہیں کیے ان کے متعلق بھی چاہتے ہیں کہ انھیں ان کے کارناموں میں شمار کیا جائے، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے چھوٹ جائیں گے۔ یہ آیت دراصل یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے کوئی بات دریافت کی تو انھوں نے اس کا غلط جواب دیا، پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطمئن کر دیا، اب انھیں ہماری تعریف کرنی چاہیے۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «لا تحسبن الذین یفرحون بما أتوا» : ۴۵۶۸ ] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو بعض منافقین آپ کے ساتھ نہ جاتے اور آپ کے جانے کے بعد (اپنے گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بہت خوش ہوا کرتے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تو عذر اور بہانے پیش کرتے اور (ان عذر بہانوں پر) قسم کھاتے اور چاہتے کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے نہیں کیا، چنانچہ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا» [بخاری، التفسیر، باب: «ولا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا» : ۴۵۶۷ ] مگر یہ حکم اہل کتاب اور مسلمانوں کے لیے عام ہے، جو بھی خوشامد پسند ہو گا اور اس قسم کا ذہن رکھے گا کہ اس کے ناکردہ کارناموں پر اس کی تعریف کی جائے اس کے لیے وہ وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ (شوکانی)
زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی حکومت (اور وہی ان کا مالک ہے) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بدترین خرید و فروخت! ٭٭
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آ جائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہو جائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپا لیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خرید و فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہو گی جو ان کو ملی اور انہیں بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے گی جو انہوں نے اٹھائی۔ علماء کرام کو چاہیئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کر سکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔ [سنن ابوداود:3658،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۱؎
دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے زیادہ مال کمانا چاہے اسے اللہ تعالیٰ اور کم کر دے گا، [صحیح مسلم:110] ۱؎ بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے، [صحیح بخاری:5219] ۱؎ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہو گا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:183] آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہو گی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4568] ۱؎
اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تشریف لے جاتے تو منافقین اپنے گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے ساتھ نہ جاتے پھر خوشیاں مناتے کہ ہم لڑائی سے بچ گئے اب جب اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹتے تو یہ باتیں بناتے جھوٹے سچے عذر پیش کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنے معذور ہونے کا آپ کو یقین دلاتے اور چاہتے کہ نہ کئے ہوئے کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4567] ۱؎
تفسیر ابن مردویہ میں ہے کہ مروان نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھوایا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان مناقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے وقت بیٹھ جاتے اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے اس پر مروان نے کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت؟ تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف ہیں مروان نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ نے بھی اس کی تصدیق کی پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا علم سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بھی ہے جو مجلس میں موجود تھے اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں چھین لیں گے باہر نکل کر زید نے کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں کرتے؟سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے سچی شہادت ادا کر دی تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہی پہلے ہوا تھا۔
اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے کہ مروان نے اس آیت کی بابت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پچھوایا تھا تو یاد رہے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آیت عام ہے اس میں بھی شامل ہے اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے پہلے ان دونوں صاحبوں نے جواب دیئے پھر مزید تشفی کے طور پر حبر الامہسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروان نے بذریعہ اپنے آدمی کے سوال کیا ہو، واللہ اعلم، سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ [مستدرک حاکم:234/3:حسن] ۱؎ «تَحْسَبَنَّهُمْ» کو «یَحْسَبَنَّهُمْ» بھی پڑھا گیا ہے۔
پھر فرمان ہے کہ تو انہیں عذاب سے نجات پانے والے خیال نہ کر انہیں عذاب ضرور ہو گا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے اسے کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا پس تم اس سے ڈرتے رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کرو اس کے عذابوں سے اپنا بچاؤ کر لو نہ تو کوئی اس سے بڑا نہ اس سے زیادہ قدرت والا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 189) {وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} جب حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے تو یہ حقیقت اگر تم ہر وقت اپنے سامنے رکھو تو شاید ایک نافرمانی کی جرأت بھی نہ کر سکو۔
زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کی ادل بدل میں صاحبانِ عقل کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس سیدنا عیسیٰ [ علیہ اسلام ] کیا نشانیاں لائے تھے؟ جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔ اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری [طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف] ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جا ٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ، کیا یہ سب آیاتِ قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ـ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ» [12-يوسف:105] وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، [صحیح بخاری:1117] ۱؎ یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا چپ رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے، سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ، پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو! تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر، اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کی وجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں،سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے کار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بے کار بنائے اے خالق کائنات، اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے، اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ! جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آ سکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء اٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہو گا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ! ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لیے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ [مسند احمد:225/3:ضعیف جداً] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔ [مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً] ۱؎ [ ابو یعلیٰ ] اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورۃ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری یہ ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ میمونہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4569] ۱؎ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4571] ۱؎
ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم آج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو؟ میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْس» پڑھی پھر سورۃ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف] ۱؎ [ ابن مردویہ ] یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎
اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا عطاء رحمہ اللہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ سیدنا عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لیے کہ کسی شاعر کا قول ہے «زرغبا تزد دحبا» یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎
عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں «عَذَابَ النَّارِ» تک آپ نے تلاوت کی، [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎ ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔ [الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف] ۱؎
190۔ 1 یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انہیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرمانروا کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرہ برابر خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور اس کی تدبیر کر رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ آگے انہی اہل دانش کی صفات کا تذکرہ ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّماوَاتِ سے لے کر آخر سورت تک آیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو پڑھتے اور اس کے بعد وضو کرتے (صحیح بخاری، کتاب التفسیر۔ صحیح مسلم۔ کتاب صلوٰۃ المسا فرین)۔
(آیت 190) ➊ {اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} اس آیت سے آخر سورت تک آیات کی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو ان آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «ربنا إنک من تدخل النار» : ۴۵۷۰، ۴۵۷۱، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ] ➋ {لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ: ”الْاَلْبَابِ“ } یہ {” لُبٌّ “} کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے، اس لیے ترجمہ ” عقلوں والوں“ کیا ہے۔ یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انھیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرماں روا کی پہچان ہو جاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرا خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ اس میں عقلوں والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اکیلے مالک ہونے کی، اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کاریگری کی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حاکمیت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیانی فاصلے، ان کے باہمی تعلقات و تاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب و اوقات، ان کے طلوع و غروب اور نور و حرارت وغیرہ کے قاعدے و ضابطے، غرض اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو اس کی شکل و صورت، اس کی پیمائش، اس کے پہاڑ اور سمندر، اس کی معدنیات، اس کی کشش، اس کی ہوا ؤ ں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک فن بھی پوری طرح کافی نہ ہوا، بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فزیالوجی، میٹرالوجی اور آرکیالوجی، اللہ جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے چلے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی کاریگر ی کے اندازے اور تخمینے ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔ اب {”اُوْلُوْا الْاَلْبَابِ“} کے بجائے غیر مسلم قومیں ان چیزوں پر غور میں مصروف ہیں اور چونکہ ان کا ہدف ہی دنیا ہے، اس لیے دنیا کے بے شمار فائدے حاصل کر رہے ہیں، بلکہ انھی فنون کے ذریعے سے انھوں نے مسلمانوں کو مغلوب کر رکھا ہے، ہدف کی غلطی کی وجہ سے انھیں ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کاش! مسلمان ان فنون میں پوری طرح حصہ لیتے تو یہ سارے علوم دین کی سربلندی اور توحید کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنتے اور دنیا پر غلبے کے کام آتے، کیونکہ مسلمان تو «رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ» کا ہدف سامنے رکھتا ہے۔
جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بو ل اٹھتے ہیں) "پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں وزمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے
احمد رضا خان بریلوی
جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو اٹھتے، بیٹھتے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے (برابر) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں و زمین کی تخلیق و ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (اور بے ساختہ بول اٹھتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ فضول و بیکار پیدا نہیں کیا۔ تو (عبث کام کرنے سے) پاک ہے ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں، اے ہمارے رب! تو نے یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس سیدنا عیسیٰ [ علیہ اسلام ] کیا نشانیاں لائے تھے؟ جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔ اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری [طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف] ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جا ٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ، کیا یہ سب آیاتِ قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ـ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ» [12-يوسف:105] وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، [صحیح بخاری:1117] ۱؎ یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا چپ رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے، سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ، پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو! تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر، اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کی وجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں،سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے کار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بے کار بنائے اے خالق کائنات، اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے، اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ! جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آ سکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء اٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہو گا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ! ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لیے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ [مسند احمد:225/3:ضعیف جداً] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔ [مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً] ۱؎ [ ابو یعلیٰ ] اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورۃ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری یہ ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ میمونہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4569] ۱؎ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4571] ۱؎
ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم آج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو؟ میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْس» پڑھی پھر سورۃ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف] ۱؎ [ ابن مردویہ ] یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎
اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا عطاء رحمہ اللہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ سیدنا عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لیے کہ کسی شاعر کا قول ہے «زرغبا تزد دحبا» یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎
عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں «عَذَابَ النَّارِ» تک آپ نے تلاوت کی، [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎ ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔ [الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف] ۱؎
191۔ 1 ان دس آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کی چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ نشانیاں ضرور ہیں لیکن کن کے لئے؟ اہل عقل و دانش کے لئے، اس کا مظلب یہ ہوا کہ ان عجائبات تخلیق اور قدرت الٰہی کو دیکھ کر بھی جس شخص کو باری تعالیٰ کا عرفان حاصل نہ ہو وہ اہل دانش ہی نہیں۔ لیکن یہ المیہ بھی بڑا عجیب ہے کہ عالم اسلام میں ' دانشور ' سمجھا ہی اس کو جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کا شکار ہو، دوسری آیت میں اہل دانش کے ذوق ذکر الٰہی اور ان کا آسمان اور زمین کی تخلیق میں غورو فکر کرنے کا بیان ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو، بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو کروٹ کے بل لیٹے لیٹے ہی نماز پڑھ لو۔ (صحیح بخاری کتاب الصلٰوۃ) اس کے بعد والی تین آیات میں بھی مغفرت اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی دعائیں ہیں۔
(آیت 191) ➊ {الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ …:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے خالق اور رب ہونے کا ذکر تھا، اب اس اکیلے کی عبادت کا ذکر ہے، یعنی وہ {”أُوْلُوا الْاَلْبَابِ“} دل، زبان اور دوسرے سب اعضا سے کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ روزی کماتے وقت اللہ کے حکم کا خیال رکھنا بھی اس کی یادہے، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر اسے نہ بھولنا بھی یاد ہے، نظر کو بے لگام نہ ہونے دینا بھی اس کا ذکر ہے، اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کی تیاری میں مصروف ہونا بھی اس کی یاد ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے صرف نماز اور تسبیح و تحمید کو ذکر سمجھ لیا اور اللہ کی جس یاد اور ملاقات کے شوق سے صحابہ و تابعین کے سینے روشن تھے اور وہ موت کو موت کی جگہوں میں ڈھونڈتے پھرتے تھے، اس کو اپنے شب و روز سے نکال دیا، حالانکہ یہ ذکر اسلام کے بنیادی ارکان کے بعد تمام اذکار سے کہیں افضل ہے۔ فرمایا: «اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ» [التوبۃ: ۱۹ ] ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنْ قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ ] ” ایک گھڑی اللہ کے راستے (جہاد) میں رہنا حجر اسود کے پاس لیلۃ القدر کے قیام سے افضل ہے۔ “ [ابن حبان: ۴۶۰۳ و صححہ الألبانی، الصحیحۃ: ۴۵۸۴ ] ➋ {وَ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی زمین و آسمان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمت رکھی ہے وہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ علوم ہیئت فلکیات اور ریاضی کو اگر دینی نقطۂ نظر سے پڑھا جائے تو فی الجملہ عبادت میں داخل ہے۔ ➌ {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا:} یعنی بے مقصد نہیں بنایا، بلکہ اس عالم کی انتہا دوسرے عالم میں ہو رہی ہے، جس میں حساب کتاب ہو گا۔(موضح) اس میں مادہ پرستوں اور دہریوں کا رد ہے جو کائنات کو محض اتفاق کا نتیجہ سمجھتے ہیں، یعنی غور و فکر سے ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ کائنات کا یہ سارا نظام یونہی پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اجر و ثواب پائے اور نافرمانی کرے تو آخرت میں عذاب بھگتے، اس لیے وہ آگ سے محفوظ رہنے کی دعا کرتے رہتے ہیں۔
تو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسے در حقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے یقیناً تو نے اسے رسوا کیا، اور ﻇالموں کا مددگار کوئی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہمارے پروردگار! بے شک جسے تو نے دوزخ میں داخل کر دیا اسے تو نے ذلیل و رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کے لئے کوئی یار و مددگار نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! بلاشبہ تو جسے آگ میں ڈالے سو یقینا تو نے اسے رسوا کر دیا اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس سیدنا عیسیٰ [ علیہ اسلام ] کیا نشانیاں لائے تھے؟ جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔ اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری [طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف] ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جا ٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ، کیا یہ سب آیاتِ قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ـ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ» [12-يوسف:105] وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، [صحیح بخاری:1117] ۱؎ یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا چپ رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے، سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ، پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو! تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر، اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کی وجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں،سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے کار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بے کار بنائے اے خالق کائنات، اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے، اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ! جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آ سکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء اٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہو گا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ! ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لیے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ [مسند احمد:225/3:ضعیف جداً] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔ [مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً] ۱؎ [ ابو یعلیٰ ] اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورۃ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری یہ ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ میمونہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4569] ۱؎ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4571] ۱؎
ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم آج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو؟ میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْس» پڑھی پھر سورۃ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف] ۱؎ [ ابن مردویہ ] یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎
اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا عطاء رحمہ اللہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ سیدنا عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لیے کہ کسی شاعر کا قول ہے «زرغبا تزد دحبا» یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎
عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں «عَذَابَ النَّارِ» تک آپ نے تلاوت کی، [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎ ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔ [الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف] ۱؎
مالک! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی، پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے واﻻ بآواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان ﻻئے۔ یا الٰہی اب تو ہمارے گناه معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیاں مٹا اور دور فرما اور نیکوکاروں کے ساتھ ہمارا خاتمہ فرما۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! بے شک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آئو تو ہم ایمان لے آئے، اے ہمارے رب! پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس سیدنا عیسیٰ [ علیہ اسلام ] کیا نشانیاں لائے تھے؟ جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔ اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری [طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف] ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جا ٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ، کیا یہ سب آیاتِ قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ـ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ» [12-يوسف:105] وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، [صحیح بخاری:1117] ۱؎ یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا چپ رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے، سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ، پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو! تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر، اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کی وجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں،سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے کار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بے کار بنائے اے خالق کائنات، اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے، اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ! جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آ سکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء اٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہو گا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ! ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لیے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ [مسند احمد:225/3:ضعیف جداً] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔ [مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً] ۱؎ [ ابو یعلیٰ ] اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورۃ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری یہ ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ میمونہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4569] ۱؎ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4571] ۱؎
ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم آج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو؟ میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْس» پڑھی پھر سورۃ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف] ۱؎ [ ابن مردویہ ] یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎
اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا عطاء رحمہ اللہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ سیدنا عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لیے کہ کسی شاعر کا قول ہے «زرغبا تزد دحبا» یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎
عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں «عَذَابَ النَّارِ» تک آپ نے تلاوت کی، [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎ ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔ [الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف] ۱؎
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 193) ➊ {رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا …: ”مُنَادِيًا“} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا قرآن یا پھر ہر وہ شخص مراد ہو سکتا ہے جو دعوتِ حق پیش کرے۔ ➋ {رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا:} اس میں اپنے ایمان لانے کے عمل کے وسیلے سے گناہوں کی مغفرت کی دعا ہے اور یہ مسنون ہے۔
خداوندا! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وه دے جس کا وعده تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقیناً تو وعده خلافی نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
پروردگارا! تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عطا فرما قیامت کے دن ہم کو رسوا نہ فرما تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس سیدنا عیسیٰ [ علیہ اسلام ] کیا نشانیاں لائے تھے؟ جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔ اب یہ قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، اتری [طبرانی کبیر:12322/12:ضعیف] ۱؎ یعنی نشان قدرت دیکھنے والوں کیلئے اسی میں بڑی نشانیاں ہیں یہ اسی میں غورو فکر کریں گے تو ان قدرتوں والے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے۔
لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان جیسی بلندر اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے پھرنے والے اور ایک جا ٹھہرنے والے ستارے اور زمین کی بڑی بڑی پیدوارا مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے والے اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے اور مختلف خواص والے میوے وغیرہ، کیا یہ سب آیاتِ قدرت ایک سوچ سمجھ والے انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں کر سکتیں؟ جو اور نشانیاں دیکھنے کی ضرورت باقی رہے پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز وحلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں جو پاک نفس والے ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے کے عادی ہیں اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے اور کان کے بہرے نہیں جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ـ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ» [12-يوسف:105] وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور غورو فکر نہیں کرتے، ان میں اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے کے پھر بھی شرک سے نہیں بچ سکے۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا نام لیا کرتے ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی سہی، [صحیح بخاری:1117] ۱؎ یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے ہیں اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت، علم و حکمت، اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا شیخ سلیمان درانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گھر سے نکل کر جس جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک نعمت مجھ پر موجود ہے اور میرے لیے وہ باعثِ عبرت ہے، سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ساعت غورو فکر کرنا رات بھر کے قیام کرنے سے افضل ہے، سیدنا فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ غورو فکر اور مراقبہ ایک آئینہ ہے جو تیرے سامنے تیری برائیاں بھلائیاں پیش کردے گا، سیدنا سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں غوروفکر ایک نور ہے جو تیرے دل پر اپنا پر تو ڈالے گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے۔ «اذا المراء کانت لہ فکرۃ» «ففی کل شئی لہ عبرۃ» یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادث پڑ گئی اسے ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا چپ رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غورو فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جس قدر یہ بڑھ جائے اسی قدر راستے انسان پر وہ کھل جاتے ہیں جو اسے جنت میں پہنچا دیں گے، سیدنا وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتناعلم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے اور اللہ کی نعمتوں میں غوروفکر افضل عبادت ہے، سیدنا مغیث اسود رحمہ اللہ مجلس میں بیٹھے ہوئے فرماتے کہ لوگو! قبرستان ہر روز جایا کرو تاکہ تمہیں انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوتا ہے اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے اپنے دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے بدن کو بھی وہیں حاضر جان لو جہنم کو اپنے سامنے دیکھو اس کے ہتھوڑوں کو، اس کی آگ کے قید خانوں کو اپنے سامنے لاؤ اتنا فرماتے ہی دھاڑیں مارمار کر رونے لگتے ہیں یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک راہب سے ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ، پاخانہ پیشاب ڈالنے کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے کہا اے بندہ حق اس وقت تیرے پاس دو خزانے ہیں ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے کی جگہ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھنڈرات پر جاتے اور کسی ٹوٹے پھوٹے دروازے پر کھڑے رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے اے اجڑے ہوئے گھرو! تمہارے رہنے والے کہاں گئے؟ پھر خود فرماتے سب زیر زمین چلے گئے سب فنا کا جام پی چکے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے دو رکعتیں جو دل بستگی کے ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے افضل ہیں جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی،
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن آدم اپنے پیٹ کے تیسرے حصے میں کھا تیسرے حصے میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر، اپنے انجام پر اور اپنے اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے بغیر نظر ڈالتا ہے اس غفلت کی وجہ سے اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں،سیدنا بشر بن حارث حافی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال کرتے تو ہر گز ان سے نافرمانیاں نہ ہوتیں۔ سیدنا عامر بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ابن آدم اے ضعیف انسان! جہاں کہیں تو ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے دل کو غور و فکر کرنے والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر۔
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے ہوئے رو دیئے لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں نے دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے اس میں عبرت و نصیحت ہے اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اپنے اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں۔
مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے ہیں زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے کار نہیں بنایا بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں تو اس سے منزہ ہے کہ کسی چیز کو بے کار بنائے اے خالق کائنات، اے عدل و انصاف سے کائنات کو سجانے والے، اے نقصان اور عیبوں سے پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے ہم تیرے عذابوں سے نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ! جسے تو جہنم میں لے گیا اسے تو نے برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے سامنے اسے رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں انہیں نہ کوئی چھڑا سکے نہ بچا سکے نہ تیرے ارادے کے درمیان آ سکے، اے رب ہم نے پکارنے والے کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے اور تابعداری بجا لائے پس ہمارے ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے تو نے ہم سے جو وعدے اپنے نبیوں کی زبانی کئے ہیں انہیں پورے کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے عسقلان دو عروس میں سے ایک ہے یہیں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء اٹھائیں گے جو وفد بن کر اللہ کے پاس جائیں گے یہیں شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں ان کے کٹے ہوئے سر ہوں گے ان کی گردن کی رگوں سے خون جاری ہو گا یہ کہتے ہوں گے اے اللہ! ہم سے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت تو نے کئے ہیں انہیں پورے کر ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے یہ بندے سچے ہیں اور انہیں نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے جس غسل کے بعد پاک صاف گورے چٹے رنگ کے ہو کر نکلیں گے اور ساری جنت ان کے لیے مباح ہو گی جہاں چاہیں جائیں آئیں جو چاہیں کھائیں پئیں۔ [مسند احمد:225/3:ضعیف جداً] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے اور بعض تو کہتے ہیں موضوع ہے واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے دن تمام لوگوں کے مجمع میں رسوا نہ کر تیرے وعدے سچے ہیں تو نے جو کچھ خبریں اپنے رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں سب اٹل ہیں قیامت کا روز ضرور آنا ہے پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندے پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر کے اسے قائل معقول کیا جائے گا کہ وہ چاہے گا کہ کاش مجھے جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا۔ [مستدرک حاکم:577/4:ضعیف جداً] ۱؎ [ ابو یعلیٰ ] اس حدیث کی سند بھی غریب ہے۔
احادیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کیلئے جب اٹھتے تب سورۃ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے چنانچہ بخاری شریف میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری یہ ام المؤمنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آئے تو تھوڑی دیر تک آپ میمونہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» سے آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4569] ۱؎ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے کہ بسترے کے عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا لیٹیں آدھی رات کے قریب کچھ پہلے یا کچھ بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے پانی لے کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے کھڑا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرے کان کو پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحیح بخاری:4571] ۱؎
ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم آج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے گئے میں بیٹھا رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے ہوئے ہو؟ میں نے کہا والد صاحب کا حکم ہے کہ رات آپ کے گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر آپ جاگے اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا «سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْس» پڑھی پھر سورۃ آل عمران کے خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ آیتوں کی تلاوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ وَاجْعَلْ مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا یوم القیامتہ» [طبرانی کبیر:12349/12:ضعیف] ۱؎ [ ابن مردویہ ] یہ دعا بعض صحیح طریق سے بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:6316] ۱؎
اس آیت کی تفسیر کے شروع میں طبرانی کے حوالے سے جو حدیث گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے جو ابن مردویہ میں ہے کہ سیدنا عطاء رحمہ اللہ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبید بن عمیر رحمہ اللہ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا عبید تم کیوں نہیں آیا کرتے؟ سیدنا عبید نے جواب دیا اماں جان صرف اس لیے کہ کسی شاعر کا قول ہے «زرغبا تزد دحبا» یعنی کم کم آؤ تاکہ محبت بڑھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہم یہ پوچھنے کیلئے حاضر ہوئے ہیں کہ سب سے زیادہ عجیب بات جو آپ نے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں۔سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمانے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے ساتھ سوئے پھر مجھ سے فرمانے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اپنے رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے جانے دے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے ہوئے اور ایک مشک میں سے پانی لے کر آپ نے ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے میں گئے اور اس قدر روئے کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے بل لیٹ گئے اور روتے ہی رہے یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کیلئے بلایا اور آپ کے آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے آیت «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ» ، افسوس ہے اس شخص کیلئے جو اسے پڑھے اور پھر اس میں غورو تدبر نہ کرے۔ [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎
عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ہم نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے اپنے نام بتائے اور آخر میں یہ بھی ہے کہ نماز کے بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے رخسار تلے ہاتھ رکھا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جواب میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور آیتوں کے نازل ہونے کے بارے میں «عَذَابَ النَّارِ» تک آپ نے تلاوت کی، [الدار المنشور للسیوطی:195/2:ضعیف] ۱؎ ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں۔ [الدار المنشور للسیوطی:204/2:ضعیف] ۱؎
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 194) ➊ {رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا:} یعنی تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت میں جس نصرت اور اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ہمیں عطا فرما۔ ➋ {اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ:} یعنی ہمیں یہ ڈر تو نہیں کہ تو وعدہ خلافی کرے گا، بلکہ ہمیں ڈر اپنے ہی اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں، کہیں ہماری رسوائی کا باعث نہ بنیں، اگر تو اپنی رحیمی و کریمی اور غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما دے اور ہمیں رسوائی سے بچا لے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندۂ نوازی ہے۔ پس کلمہ «اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» سے مقصد عاجزی، خشوع اور بندگی کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ خلافی تو محال ہے، پھر مومن اس کا تصور کیسے کر سکتے ہیں۔ (رازی) دعا اور اس کی قبولیت کا یہ وعدہ ایمان اور عمل صالح پر ہے، دعا میں اس کا وسیلہ بھی پیش کر سکتے ہیں، جیسا کہ غار میں پھنس جانے والے تین آدمیوں نے کیا تھا، البتہ دعا کی قبولیت کے لیے کسی نیک ہستی کو وسیلہ بنانا کہ یا اللہ! فلاں کے طفیل میری یہ مشکل حل فرما دے، قرآن و حدیث میں مذکور دعا ؤ ں کے خلاف ہے۔ ہاں، کسی زندہ آدمی سے دعا کروائی جا سکتی ہے اور یہ سنت سے ثابت ہے۔
جواب میں ان کے رب نے فرمایا، "میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میر ی راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کر دوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ اُن کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواه وه مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، اس لئے وه لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راه میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے، میں ضرور ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا اور بالیقین انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہ ہے ﺛواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین ﺛواب ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو ان کے پروردگار نے ان کی دعا و پکار کو قبول کر لیا (اور فرمایا) میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت کبھی ضائع نہیں کرتا۔ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہی تو ہو۔ سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے۔ اور میری راہ میں انہیں ایذائیں دی گئیں۔ اور (دین کی خاطر) لڑے اور مارے گئے، تو میں ان کی برائیاں مٹا دوں گا اور ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ہے اللہ کے ہاں ان کی جزا۔ اور اللہ کے پاس بہترین ثواب و جزاء ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کروں گا، مرد ہو یا عورت، تمھارا بعض بعض سے ہے۔ تو وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور انھیں میرے راستے میں ایذا دی گئی اور وہ لڑے اور قتل کیے گئے، یقینا میں ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کروں گا اور ہر صورت انھیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، اللہ کے ہاں سے بدلے کے لیے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا بدلہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ؟ ٭٭
یہاں «اسْتَجَابَ» کے معنی میں «اجَابَ» کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصار کا بیان ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلی مہاجرہ عورت جو ہودج میں آئیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔ [مستدرک حاکم:300/2:ضعیف] ۱؎ ام المومنین سے یہ بھی مروی ہے کہ صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں جن کا ذکر پہلے کی آیتوں میں تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی ان کی منہ مانگی مراد انہیں عطا فرمائی، اسی لیے اس آیت کو «ف» سے شروع کیا، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ» [2-البقرة:186] ، یعنی میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہ دے کہ میں تو ان کے بہت ہی نزدیک ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار کو قبول فرما لیتا ہوں پس انہیں بھی چاہیئے کہ میری مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں ممکن ہے کہ وہ رشد و ہدایت پالیں۔
پھر قبولیت دعا کی تفسیر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ میں کسی عامل کے عمل کو رائیگاں نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو پورا پورا بدلہ عطا فرماتا ہوں خواہ مرد ہو خواہ عورت، ہر ایک میرے پاس ثواب میں اور اعمال کے بدلے میں یکساں ہے، پس جو لوگ شرک کی جگہ کو چھوڑیں اور ایمان کی جگہ آ جائیں دارالکفر سے ہجرت کریں، بھائیوں دوستوں پڑوسیوں اور اپنوں کو اللہ کے نام پر ترک کر دیں، مشرکوں کی ایذائیں سہہ سہہ کر تھک کر بھی عاجز آ کر بھی ایمان کو نہ چھوڑیں بلکہ اپنے پیارے وطن سے منہ موڑ لیں جبکہ لوگوں کا انہوں نے کوئی نقصان نہیں کیا تھا جس کے بدلے میں انہیں ستایا جاتا بلکہ ان کا صرف یہ قصور تھا کہ میری راہ پہ چلنے والے تھے صرف میری توحید کو مان کر دنیا کی دشمنی مول لے لی تھی، میری راہ پر چلنے کے باعث طرح طرح سے ستائے جاتے تھے جیسے اور جگہ ہے «يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ رَبِّكُمْ» [60-الممتحنة:1] یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور تمہیں صرف اس بنا وطن سے نکال دیتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا رب ہے، اور ارشاد ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [86-الطارق:8] ان سے دشمنی اسی وجہ سے ہے کہ اللہ عزیز و حمید پر ایمان لائے ہیں پھر فرماتا ہے انہوں نے جہاد بھی کئے اور یہ شہید بھی ہوئے یہ سب سے اعلیٰ اور بلند مرتبہ ہے ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کی سواری کٹ جاتی ہے منہ خاک و خون میں مل جاتا ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں صبر کے ساتھ نیک نیتی سے، دلیری سے، پیچھے نہ ہٹ کر اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میری خطائیں معاف فرما دے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں پھر دوبارہ آپ نے اس سے سوال کیا کہ ذرا پھر کہنا تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے دوبارہ اپنا سوال دھرا دیا آپ نے فرمایا ہاں مگر قرض معاف نہ ہو گا یہ بات جبرائیل ابھی مجھ سے کہہ گئے۔ [صحیح مسلم:1885] ۱؎ پس یہاں فرمایا ہے کہ میں ان کی خطا کاریاں معاف فرما دوں گا اور انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن میں چاروں طرف نہریں بہہ رہی ہیں جن میں کسی میں دودھ ہے، کسی میں شہد، کسی میں شراب، کسی میں صاف پانی اور وہ نعمتیں ہوں گی جو نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی انسانی دل میں کبھی خیال گزرا۔ یہ ہے بدلہ اللہ کی طرف سے ظاہر ہے کہ جو ثواب اس شہنشاہ عالی کی طرف سے ہو وہ کس قدر زبردست اور بے انتہا ہو گا؟
جیسے کسی شاعر کا قول ہے کہ اگر وہ عذاب کرے تو وہ بھی مہلک اور برباد کر دینے والا اور اگر انعام دے تو وہ بھی بے حساب قیاس سے بڑھ کر کیونکہ اس کی ذات بےپرواہ ہے، نیک اعمال لوگوں کو بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے، سیدنا شداد بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو! اللہ تعالیٰ کی قضاء پر غمگین اور بے صبرے نہ ہو جایا کرو سنو! مومن پر ظلم وجور نہیں ہوتا اگر تمہیں خوشی اور راحت پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرو اور اگر برائی پہنچے تو صبر و ضبط کرو اور نیکی اور ثواب کی تمنا رکھو اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین بدلے اور پاکیزہ ثواب ہیں۔
195۔ 1 فَا سْتَجَاب یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر) 195۔ 2 مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔ 195۔ 3 یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم مرد اور عورت ایک جیسے ہی ہو۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے سلسلے میں عورتوں کا نام نہیں لیا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر طبری، ابن کثیر و فتح القدیر)
(آیت 195) ➊ {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ …:} یعنی انھوں نے اس طرح دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرما دیا کہ باری تعالیٰ کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہیں، کیونکہ ان کا بعض بعض سے ہے، وہ کوئی الگ الگ مخلوق نہیں ہیں۔ اخروی نجات اور اللہ کے ہاں درجات حاصل کرنے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں، ہاں، مرد و عورت کی جداگانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطرتاً ان کی صلاحیتوں میں فرق ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۳۲، ۳۴)۔ ➋ {فَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا …:} یعنی جنھوں نے دین کی خاطر اپنی خوشی سے ہجرت کی، اپنے وطن اور مال و منال کو خیر باد کہہ کر مرکز اسلامی میں پہنچ گئے اور وہ لوگ جن پر کفار نے ظلم و ستم ڈھائے، انھیں سخت اذیتیں دے کر گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا، انھیں کسی طرح چین سے نہ بیٹھنے دیا اور انھیں محض اس لیے تکالیف کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے دین اسلام کی راہ اختیار کی، جیساکہ دوسرے مقام پر فرمایا: «يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ» [ الممتحنۃ: ۱ ] ”یہ کافر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اور تمھیں گھروں سے محض اس جرم کی پاداش میں نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔“ نیز فرمایا: «وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [ البروج: ۸ ] ”اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔“
اے نبیؐ! دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے،
احمد رضا خان بریلوی
اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) کافروں کا مختلف شہروں میں چلنا پھرنا (اور دندناتے پھرنا) تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے۔
عبدالسلام بن محمد
تجھے ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے جنھوں نے کفر کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش، ان کی راحت و آرام، ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً «مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ» [40-غافر:4] اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-يونس:69] ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے۔
ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے اور جگہ ہے «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17] کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے «أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ» [28-القصص:61] کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہو سکتے ہیں؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لیے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہو گا، ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انہیں * ابرار* اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے۔ [الدار المنشور للسیوطی:199/2] ۱؎ واللہ اعلم۔
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو، خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت «وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» [3-آل عمران:198] ہے اور دوسری کی دلیل آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ» [3-آل عمران:178] ، ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہیں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:496/7] ۱؎
196۔ 1 خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مخاطب پوری امت ہے، شہروں میں چلنے پھرنے سے مراد تجارت اور کاروبار کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ہے، یہ تجارتی سفر وسائل دنیا کی فراوانی اور کاروبار کے وسعت و فروغ کی دلیل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ سب کچھ عارضی اور چند روزہ فائدہ ہے، اس سے اہل ایمان کو دھوکا میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اصل انجام پر نظر رکھنی چاہئے، جو ایمان میں محرومی کی صورت میں جہنم کا دائمی عذاب ہے جس میں دولت دنیا سے مالا مال یہ کافر مبتلا ہونگے۔ یہ مضمون بھی متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلا (مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ) 40:4 اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں، پس ان کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ " (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69 مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِيْقُھُمُ الْعَذَاب الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ 70) 10:69، 70 (نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24) 31:24
(آیت196تا198) {لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} اوپر کی آیات میں مومنوں کے گناہ بخشنے اور ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا، حالانکہ وہ فقر و فاقہ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کے بالمقابل کفار نہایت عیش و نعمت میں تھے، انھیں دیکھ کر بعض اوقات مسلمان غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے اور مختلف خیالات کی دنیا میں چلے جاتے، لہٰذا ان آیات میں مسلمانوں کا ذہن صاف کرنے کے لیے کفار کا انجام بیان فرمایا اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نیکی کے معاملہ میں مومن کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا، اسے اس نیکی کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی اور کافر جو نیکیاں اللہ کے لیے کرتا ہے اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں پورا دے دیا جاتا ہے، پھر جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہو گی کہ اس کا بدلہ اسے دیا جائے۔“ [ مسلم، صفات المنافقین، باب جزاء المؤمن…: ۲۸۰۸ ] مقصد یہ ہے کہ شہروں میں کفار کے تجارتی کاروبار، ان کی خوش حالی اور مال و دولت کی فراوانی کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں کسی قسم کا حزن و غم نہیں آنا چاہیے، نہ ان کو نا امیدی کا شکار ہونا چاہیے، نہ منافقین کا سا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے، جو سختی اور خوف کے وقت پکار اٹھتے ہیں: «مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا» [ الأحزاب: ۱۲ ] ”اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا دینے کے لیے وعدہ کیا تھا۔“ کفار کی دنیوی خوشحالی سے کفر کے حق ہونے پر استدلال نہیں کرنا چاہیے، یہ چند روزہ زندگی کا قلیل سا سامان اور عارضی بہار ہے، مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس کے مخاطب بظاہر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر مراد امت ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں مومنین کی جزا کا ذکر فرمایا، تاکہ مزید تشفی حاصل ہو اور یہ چونکہ کفار کے مقابلے میں بیان کی جا رہی ہے، اس لیے {” لٰكِنِ “} کا لفظ بطور استدراک ذکر فرمایا۔ (المنار)
یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ تو بہت ہی تھوڑا فائده ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وه بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ صرف چند روزہ فائدہ (بہار) ہے۔ پھر ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیسی بُری آرام گاہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا بچھوناہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش، ان کی راحت و آرام، ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً «مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ» [40-غافر:4] اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-يونس:69] ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے۔
ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے اور جگہ ہے «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17] کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے «أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ» [28-القصص:61] کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہو سکتے ہیں؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لیے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہو گا، ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انہیں * ابرار* اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے۔ [الدار المنشور للسیوطی:199/2] ۱؎ واللہ اعلم۔
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو، خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت «وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» [3-آل عمران:198] ہے اور دوسری کی دلیل آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ» [3-آل عمران:178] ، ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہیں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:496/7] ۱؎
197۔ 1 یعنی دنیا کے وسائل، آسائش اور سہولتیں بظاہر کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، درحقیقت متاع قلیل ہی ہیں کیونکہ بالاخر انہیں فنا ہونا ہے اور ان کے بھی فنا ہونے سے پہلے وہ حضرات خود فنا ہوجائیں گے، جو ان کے حصول کی کوششوں میں اللہ کو بھی فراموش کئے رکھتے ہیں اور ہر قسم کے اخلاقی ضابطوں اور اللہ کی حدوں کو بھی پامال کرتے ہیں۔
برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ کی طرف سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لیے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان میں وه ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور نیک کاروں کے لئے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وه بہت ہی بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا (واجبات ادا کئے اور محرمات سے اجتناب کیا) ان کے لیے ایسے بہشت ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کی طرف سے ان کی مہمان نوازی ہوگی اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں، اللہ کے پاس سے مہمانی کے طور پر اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش، ان کی راحت و آرام، ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً «مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ» [40-غافر:4] اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-يونس:69] ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے۔
ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے اور جگہ ہے «فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا» [86-الطارق:17] کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے «أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ» [28-القصص:61] کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہو سکتے ہیں؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لیے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہو گا، ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انہیں * ابرار* اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے۔ [الدار المنشور للسیوطی:199/2] ۱؎ واللہ اعلم۔
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو، خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت «وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» [3-آل عمران:198] ہے اور دوسری کی دلیل آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ» [3-آل عمران:178] ، ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہیں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:496/7] ۱؎
198۔ 1 ان کے برعکس جو تقویٰ اور خداوندی کی زندگی گزار کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگے۔ گو دنیا میں ان کے پاس خدا فراموشوں کی طرح دولت کے انبار اور رزق کی فروانی نہ رہی ہوگی، مگر وہ اللہ کے مہمان ہونگے جو تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے اور وہاں ان ابرار (نیک لوگوں) کو جو اجر و صلہ ملے گا، وہ اس سے بہتر ہوگا جو دنیا میں کافروں کو عارضی طور پر ملتا ہے۔
اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناًاہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً اہل کتاب میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ پر اور ان باتوں پر جو ہماری طرف اور جو ان کی طرف اتاری گئی ہیں پر ایمان رکھتے ہیں اللہ کے سامنے (نیازمندی سے) جھکے ہوئے ہیں اور آیاتِ الٰہیہ کو تھوڑی قیمت پر فروخت بھی نہیں کرتے یہ وہ ہیں جن کا اجر اپنے پروردگار کے پاس ہے بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ یقینا ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر بھی جو تمھاری طرف نازل کیا گیا اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا، اللہ کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں، وہ اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہیں لیتے۔ یہی لوگ ہیںجن کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز ٭٭
اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی سورۃ قصص میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے آیت «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [28-القصص:52] جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہ کتاب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو صاف کہ دیتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ برحق کتاب ہمارے رب کی ہے ہم تو پہلے سے ہی اسے مانتے تھے انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا اور جگہ ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] جنہیں ہم نے کتاب دی اور جسے وہ اسے صحیح طور پر پڑھتے ہیں وہ تو اس قرآن پر بھی فوراً ایمان لاتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:159] سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے بھی ایک جماعت حق کی ہدایت کرنے والی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی ہے۔
دوسرے مقام پر بیان ہے آیت «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ» [3-آل عمران:113] ، یعنی اہل کتاب سب یکساں نہیں ان میں ایک جماعت راتوں کے وقت بھی اللہ کی کتاب پڑھنے والی ہے اور سجدے کرنے والی ہے۔ اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩» [17-الإسراء:109] اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم کہو کہ لوگوں تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں پہلے سے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اس کلام مجید کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اپنے چہروں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے یقیناً اس کا وعدہ سچا ہے اور سچا ہو کر رہنے والا ہے یہ لوگ روتے ہوئے منہ کے بل گرتے ہیں اور خشوع و خضوع میں بڑھ جاتے ہیں، یہ صفتیں یہودیوں میں پائی گئیں گو بہت کم لوگ ایسے تھے مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور آپ ہی جیسے اور با ایمان یہودی علماء لیکن ان کی گنتی دس تک نہیں پہنچتی ہاں نصرانی اکثر ہدایت پر آگئے اور حق کے فرمانبردار ہوگئے جیسے اور جگہ ہے آیت «لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا» سے «جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا» [5-المائدة: 85-82] آخر آیت تک، مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے عداوت اور دشمنی رکھنے میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے یہود ہیں اور مشرک۔ اور ایمان والوں سے محبت رکھنے میں پیش پیش نصرانی ہیں۔
اب فرماتا ہے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم کے مستحق ہیں، حدیث میں یہ بھی آ چکا ہے کہ سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے جب سورۃ مریم کی تلاوت شاہ نجاشی کے دربار میں بادشاہ اراکین سلطت اور علماء نصاریٰ کے سامنے کی اور اس میں آپ پر رقت طاری ہوئی تو سب حاضرین دربار مع بادشاہ رو دیئے اور اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں، [سیرۃ ابن ھشام:357/1:صحیح] ۱؎ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نجاشی کے انتقال کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دی اور فرمایا کہ تمہارا بھائی حبشہ میں انتقال کر گیا ہے اور اس کے جنازے کی نماز ادا کرو اور میدان میں جا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفیں مرتب کر کے آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ [صحیح بخاری:1317] ۱؎ ابن مردویہ میں ہے کہ جب نجاشی فوت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو تو بعض لوگوں نے کہا دیکھئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس نصرانی کیلئے استغفار کرنے کا حکم دیتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی اوسط:2677:حسن] ۱؎ گویا اس کے مسلمان ہونے شہادت قرآن کریم نے دی
گویا اس کے مسلمان ہونے کی شہادت قرآن کریم نے دی۔ ابن جریر میں ہے کہ ان کی موت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی کہ تمہارا بھائی اصحمہ انتقال کر گیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور جس طرح جنازے کی نماز پڑھاتے تھے اسی طرح چار تکبیروں سے نماز جنازہ پڑھائی اس پر منافقوں نے وہ اعتراض کیا اور یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8376] ۱؎ ابوداؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نجاشی کے انتقال کے بعد ہم یہی سنتے رہے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے، [سنن ابوداود:2523،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎ مستدرک حاکم میں ہے کہ نجاشی کا ایک دشمن اس کی سلطنت پر حملہ آور ہوا تو مہاجرین نے کہا کہ آپ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے چلئے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں آپ ہماری بہادری کے جوہر دیکھ لیں گے اور جو حسن سلوک آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے اس کا بدلہ بھی اتر جائے گا لیکن نجاشی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی امداد کے ساتھ بچاؤ کرنے سے اللہ کی امداد کا بچاؤ بہتر ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [مستدرک حاکم:300/2:ضعیف] ۱؎
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اہل کتاب کے مسلمان لوگ ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:499/7] ۱؎ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے اسلام کو پہچانتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا بھی شرف انہیں حاصل ہوا تو انہیں اجر بھی دوہرا ملا ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے ایمان کا دوسرا اجر آپ پر ایمان لانے کا، بخاری مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے جن میں سے ایک اہل کتاب کا وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا اور باقی دو کو بھی ذکر کیا، [صحیح بخاری:97] ۱؎ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہیں بیچتے یعنی اپنے پاس علمی باتوں کو چھپاتے نہیں جیسے کہ ان میں سے ایک رذیل جماعت کا شیوہ تھا بلکہ یہ لوگ تو اسے پھیلاتے اور خوب ظاہر کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے یعنی جلد سمیٹنے اور گھیرنے اور شمار کرنے والا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسلام جیسے میری پسندیدہ دین پر جمے رہو شدت اور نرمی کے وقت مصیبت اور راحت کے وقت غرض کسی حال میں بھی اسے نہ چھوڑو یہاں تک کہ دم نکلے تو اسی پر نکلے اور اپنے ان دشمنوں سے بھی صبر سے کام لو جو اپنے دین کو چھپاتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:502/7] ۱؎ امام حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ علماء سلف نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔
«مرابطۃ» مرابطہٰ کہتے ہیں عبادت کی جگہ میں ہمیشگی کرنے کو اور ثابت قدمی سے جم جانے کو اور کہا گیا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو، یہی قول ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اور محمد بن کعب قرضی رحمہ اللہ کا۔ صحیح مسلم شریف اور نسائی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کس چیز سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجوں کو بڑھاتا ہے، تکلیف ہوتے ہوتے بھی کامل وضو کرنا، دور سے چل کر مسجدوں میں آنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی مرابط ہے یہی اللہ تعالیٰ کی راہ کی مستعدی ہے، [صحیح مسلم:251] ۱؎ ابن مردویہ میں ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے میرے بھتیجے جانتے ہو اس آیت کا شان نزول کیا ہے؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں آپ نے فرمایا سنو اس وقت کوئی غزوہ نہ تھا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مسجدوں کو آباد رکھتی تھی اور نمازوں کو ٹھیک وقت پر ادا کرتے تھے پھر اللہ کا ذکر کرتے تھے انہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تم پانچوں نمازوں پر جمے رہو اور اپنے نفس کو اور اپنی خواہش کو روکے رکھو اور مسجدوں میں بسیرا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یہی اعمال موجب ایمان ہیں، [مستدرک حاکم:301/2] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں ناپسندیدگی کے وقت کامل وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تمہاری مستعدی اسی میں ہونی چاہیئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8395:ضعیف] ۱؎ اور حدیث میں زیادہ قدم رکھ کر چل کر مسجد میں آنا بھی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8396:ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ گناہوں کی معافی کے ساتھ ہی درجے بھی ان اعمال سے بڑھتے رہتے ہیں اور یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ [الدار المنشور للسیوطی:201/2:ضعیف] ۱؎ لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہاں «رَابِطُوا» سے مطلب انتظار نماز ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8394:ضعیف] ۱؎ لیکن اوپر بیان ہو چکا ہے کہ یہ فرمان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «رَابِطُوا» سے مراد دشمن سے جہاد کرنا، اسلامی ملک کی حدود کی نگہبانی کرنا اور دشمنوں کو اسلامی شہروں میں نہ گھسنے دینا ہے اس کی ترغیب میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں اور اس پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے ایک دن کی یہ تیاری ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے افضل ہے، [صحیح بخاری:2794] ۱؎ مسلم شریف کی حدیث میں ہے ایک دن رات کی جہاد کی تیاری ایک ماہ کے کامل روزوں اور ایک ماہ کی تمام شب بیداری سے افضل ہے اور اسی تیاری کی حالت میں موت آ جائے تو جتنے اعمال صالحہ کرتا تھا سب کا ثواب پہنچتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور فتنوں سے امن پاتا ہے، [صحیح مسلم:1913] ۱؎ مسند احمد میں ہے ہر مرنے والے کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ کی تیاری میں ہو اور اسی حالت میں مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے فتنہ قبر سے نجات ملتی ہے [سنن ابوداود:2500،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن اسے امن ملے گا، [سنن ابن ماجہ:2767،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے اسے صبح شام جنت سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور قیامت تک اس کے مرابط کا اجر ملتا رہتا ہے، [مسند احمد:404/2:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند احمد میں ہے جو شخص مسلمانوں کی سرحد کے کسی کنارے پر تین دن تیاری میں گزارے اسے سال بھر تک کی اور جگہ کی اس اس تیاری کا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد:362/6:صحیح بالشواھد] ۱؎
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنی ہوئی بات سناتا ہوں میں نے اب تک ایک خاص خیال سے اسے نہیں سنایا آپ نے فرمایا ہے اللہ جل شانہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ایک ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے جو تمام راتیں قیام میں اور تمام دن صیام میں گزارے جائیں۔ [مسند احمد:61/1:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں اس حدیث کو اب تک بیان نہ کرنے کی وجہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ اس فضیلت کو حاصل کرنے کیلئے کہیں تم سب مدینہ چھوڑ کر میدان جنگ میں نہ چل دو اب میں سنا دیتا ہوں ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو بات اپنے لیے پسند کرتا ہے اس کا پابند ہو جائے۔ [سنن ابن ماجہ:2766،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہنچا دی لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اے جناب باری تعالیٰ تو گواہ رہ، [مسند احمد:62/1:صحیح بالشواھد] ۱؎ ترمذی شریف میں ہے کہ سیدنا شرحبیل بن سمط محافظت سرحد میں تھے اور زمانہ زیادہ گزر جانے کے بعد کچھ تنگ دل ہو رہے تھے کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا آؤ میں تجھے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناؤں آپ نے فرمایا ہے ایک دن سرحد کی حفاظت ایک مہینہ کے صیام و قیام سے افضل ہے اور جو اسی حالت میں مر جائے وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال قیامت تک جاری رہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1665،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن ماجہ میں ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینا تاکہ مسلمان امن سے رہیں ہاں نیت نیک ہو گو وہ رات رمضان کی نہ ہو ایک سو سال کی عبادت سے افضل ہے جس کے دن روزے میں اور جس کی راتیں تہجد میں گزری ہوں اور ایک دن کی رب العزت کی راہ میں تیاری تاکہ مسلمان باحفاظت رہیں طلبِ ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کے روزوں اور تہجد سے افضل ہے،اب اگر یہ غازی سلامتی اور زندگی کے ساتھ اپنے والوں میں آگیا تو ایک ہزار سال کی پرائیاں اسکے نامہ اعمال میں نہیں لکھی جائیں گی اور نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس مرابط کا اجر قیامت تک اسے ملتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجہ:2768،قال الشيخ الألباني:موضوع] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے اس کے ایک راوی عمرو بن صبح متہم ہیں، ابن ماجہ کی ایک اور غریب حدیث میں ہے کہ ایک رات کی مسلم لشکر کی چوکیداری ایک ہزار سال کی راتوں کے قیام اور دنوں کے صیام سے افضل ہے ہر سال کے تین سو ساٹھ دن اور ہر دن مثل ایک ہزار سال کے۔ [سنن ابن ماجہ:2770،قال الشيخ الألباني:موضوع] ۱؎ اس کے راوی سعید بن خالد ابوزرعہ رحمہ اللہ وغیرہ ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے بلکہ امام حاکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کی روایت سے موضع حدیثیں بھی ہیں، ایک منقطع حدیث میں ہے لشکر اسلام کے چوکیدار پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو۔ [سنن ابن ماجہ:2769،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ]
سیدنا سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین والے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے شام کی نماز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اتنے میں ایک گھوڑا سوار آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آگے نکل گیا تھا اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر میں نے نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ میدان میں جمع ہو گئے ہیں یہاں تک کہ ان کی اونٹنیاں، بکریاں، عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا ان شاءاللہ یہ سب کل مسلمانوں کی مال غنیمت ہو گا پھر فرمایا بتاؤ آج کی رات پہرہ کون دے گا؟ سیدنا انس بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا جاؤ سواری لے کر آؤ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس گھاٹی پر چلے جاؤ اور اس پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاؤ خبردار! تمہاری طرف سے ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ صبح تک نہ ہو، صبح جس وقت نماز کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے دو سنتیں ادا کیں اور لوگوں سے پوچھا کہو تمہارے پہرے دار سوار کی تو کوئی آہٹ نہیں سنی لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز شروع کی آپ کا خیال اسی گھاٹی کی طرف تھا نماز سے سلام پھیرتے ہی آپ نے فرمایا خوش ہو جاؤ تمہارا گھوڑے سوار آ رہا ہے ہم نے جھاڑیوں میں جھانک کر دیکھا تو تھوڑی دیر میں ہمیں بھی دکھائی دے گئے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وادی کے اوپر کے حصے پر پہنچ گیا اور ارشاد کے مطابق وہیں رات گزاری صبح میں نے دوسری گھاٹی بھی دیکھ ڈالی لیکن وہاں بھی کوئی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا رات کو وہاں سے تم نیچے بھی اترے تھے؟ جواب دیا نہیں صرف نماز کیلئے اور قضائے حاجت کیلئے تو نیچے اترا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اپنے لیے جنت واجب کر لی اب تم اس کے بعد کوئی عمل نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں، [سنن ابوداود:2501،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ [ ابوداؤد و نسائی ]
مسند احمد میں ہے ایک غزوہ کے موقعہ پر ایک رات کو ہم بلند جگہ پر تھے اور سخت سردی تھی یہاں تک کہ لوگ زمین میں گڑھے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈھالیں لے لے کر پڑے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت آواز دی کہ کوئی ہے جو آج کی رات ہماری چوکیداری کرے اور مجھ سے بہترین دعا لے تو ایک انصاری کھڑا ہو گیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تیار ہوں آپ نے اسے پاس بلا کر نام دریافت کر کے اس کے لیے بہت دعا کی ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ یہ دعائیں سن کر آگے بڑھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی پہرہ دوں گا آپ نے مجھے بھی پاس بلا لیا اور نام پوچھ کر میرے لیے بھی دعائیں کیں لیکن اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے یہ دعا کم تھی پھر آپ نے فرمایا اس آنکھ پر جہنم کی آنچ حرام ہے جو اللہ کے ڈر سے روئے اور اس آنکھ پر بھی جو راہ اللہ میں شب بیداری کرے، [مسند احمد:134/4:حسن لغیرہ] ۱؎ مسند حمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں کے پیچھے سے ان کا پہرہ دے اپنی خوشی سے بغیر سلطان کی اجرت و تنخواہ کے وہ اپنی آنکھوں سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری ہونے کے لیے جو اس آیت میں ہے «وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» » [19-مريم:70] یعنی تم سب اس پر وارد ہو گئے۔ [مسند احمد:437/3:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری میں ہے دینار کا بندہ برباد ہوا اور کپڑوں کا بندہ اگر مال دیا جائے تو خوش ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہے، یہ بھی برباد ہوا اور خراب ہوا اگر اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالنے کی کوشش بھی نہ کی جائے خوش نصیب ہوا اور پھلا خوب پھولا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے بکھرے ہوئے بال ہیں اور گرد آلود قدم ہیں اگر چوکیداری پر مقرر کر دیا گیا ہے تو چوکیداری کر رہا ہے اور اگر لشکر کے اگلے حصے میں مقرر کر دیا گیا ہے تو وہیں خوش ہے لوگوں کی نظروں میں اتنا گرا پڑا ہے کہ اگر کہیں جانا چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول نہ ہو، [صحیح بخاری:2887] ۱؎ الحمداللہ اس آیت کے متعلق خاصی حدیثیں بیان ہو گئیں اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم پر ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر گزاری سے رہتی دنیا تک فارغ نہیں ہو سکتے۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو میدان جنگ سے ایک خط لکھا اور اس میں رومیوں کی فوج کی کثرت، ان کی آلات حرب کی حالت اور ان کی تیاریوں کی کیفیتیں بیان کی اور لکھا کہ سخت خطرہ کا موقعہ ہے، یہاں سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا جواب گیا جس میں حمد و ثنا کے بعد تحریر تھا کہ کبھی کبھی مومن بندوں پر سختیاں بھی آ جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بعد آسانیاں بھیج دیتا ہے۔ سنو! ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی سنو پروردگار عالم کا فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا» [3-آل عمران:200] عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے سن ١٧٠ یا ١٧٧ھ میں شہر طرسوس میں محمد بن ابراہیم بن سکینہ رحمہ اللہ کو جبکہ وہ ان کو الوداع کرنے آئے تھے اور یہ جہاد کو جا رہے تھے یہ اشعار لکھوا کر سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ کو بھجوائے۔
«یا عابد الحرمین لو ابصرتنا» «لعلمت انک فی العبادۃ تلعب» «من کان یخضب خدہ بلموعہ» «فنحورنا بلمائنا تتخضب» «من کان یتعب خلیہ فی باطل» «فنخیولنا یوم الصبیحتہ تتعب» «ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا» «رھج السنابک والغبار الاطیب» «ولقد اتانا من مقال نبینا» «قول صحیح صادق لا یکذب» «لا یستوی غبار خیل اللہ فی» «انف امری ودخان نار تلھب» «ھذا کتاب اللہ ینطق بیننا» «لیس الشھید بمیت لا یکذب»
اے مکہ مدینہ میں رہ کر عبادت کرنے والے اگر تو ہم مجاہدین کو دیکھ لیتا تو بالیقین تجھے معلوم ہو جاتا کہ تیری عبادت تو ایک کھیل ہے، ایک وہ شخص ہے جس کے آنسو اس کے رخساروں کو تر کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو اپنی گردن اللہ کی راہ میں کٹوا کر اپنے خون میں آپ نہا لیتے ہیں۔ ایک وہ شخص ہے جس کا گھوڑا باطل اور بے کار کام میں تھک جاتا ہے اور ہمارے گھوڑے حملے اور لڑائی کے دن ہی تھکتے ہیں۔ اگر کی خوشبوئیں تمہارے لیے ہیں اور ہمارے لیے اگر کی خوشبو گھوڑوں کے ٹاپوں کی خاک اور پاکیزہ گرد و غبار ہے۔ یقین مانو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچ چکی ہے جو سراسر راستی اور درستی والی بالکل سچی ہے کہ جس کسی کے ناک میں اس اللہ تعالیٰ کے لشکر کی گرد بھی پہنچ گئی اس کے ناک میں شعلے مارنے والی جہنم کی آگ کا دھواں بھی نہ جائے گا اور لو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب جو ہم میں موجود ہے اور صاف کہہ رہی ہے اور سچ کہہ رہی ہے کہ شہید مردہ نہیں۔
محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب میں نے مسجد الحرام میں پہنچ کر سیدنا فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کو یہ اشعار دکھائے تو آپ پڑھ کر زار زار روئے اور فرمایا ابوعبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں صحیح اور سچ فرمایا اور مجھے نصیحت کی اور میری بے حد خیر خواہی کی، پھر مجھ سے فرمایا کیا تم حدیث لکھتے ہو میں نے کہا جی ہاں کہا اچھا تم جو یہ نصحیت نامہ میرے پاس لائے اس کے بدلے میں تمہیں ایک حدیث لکھواتا ہوں وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائے جس سے میں مجاہد کا ثواب پالوں؟ آپ نے فرمایا کیا تجھ میں یہ طاقت ہے کہ نماز ہی پڑھتا رہے اور تھکے نہیں اور روزے رکھتا چلا جائے اور کبھی بے روزہ نہ رہے اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت کہاں؟ میں اس سے بہت ہی ضعیف ہوں آپ نے فرمایا اگر تجھ میں اتنی طاقت ہوتی اور تو ایسا کر بھی سکتا تو بھی مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے کو نہ پہنچ سکتا، تو یہ بھی جانتا ہے کہ مجاہد کے گھوڑے کی رسی دراز ہو جائے اور وہ ادھر ادھر چر جائے تو اس پر بھی مجاہد کو نیکیاں ملتی ہیں۔ [مسند احمد:236/5:صحیح] ۱؎
اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر حال، میں ہر وقت، ہر معاملہ میں اللہ کا خوف کیا کرو۔ جناب رسول اکرم محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا اے معاذ! جہاں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھ اور اگر تجھ سے کوئی برائی ہو جائے تو فوراً کوئی نیکی بھی کر لے تاکہ وہ برائی مٹ جائے اور لوگوں سے خلق و مروت کے ساتھ پیش آیا کر۔ [سنن ترمذي:1987،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ پھر فرماتا ہے کہ یہ چاروں کام کر لینے سے تم اپنے مقصد میں کامیاب اور بامراد ہو جاؤ گے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات پالو گے۔ سیدنا محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے تم میرا لحاظ رکھو میرے خوف سے کانپتے رہو مجھ سے ڈرتے رہو میرے اور اپنے معاملہ میں متقی رہو تو کل جبکہ تم مجھ سے ملو گ
199۔ 1 اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کردیا، جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، آیات الٰہی میں تحریف و تبدیل کرنا اور دنیا کے عارضی اور فانی مفادات کے لئے کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں۔ حافظ ابن کثیرنے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہودیوں کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی البتہ عیسائی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے اور انہوں نے دین حق کو اپنایا۔ (تفسیر ابن کثیر)
(آیت 199) {وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ …: } اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اس گروہ کا ذکر ہے جو سچے دل سے مسلمان ہو گئے تھے، ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے انھیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز فرما دیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، پہلی کتابوں اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیات کے بدلے دنیاوی مفاد حاصل نہیں کرتے، ان کے لیے اللہ کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہے، بلکہ دوہرا اجر ہے، جیسا کہ سورۂ حدید (۲۸) میں ہے۔ یہ صفات یہود میں بہت کم تھیں۔ علمائے یہود میں سے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے ان صفات کے حامل چند لوگ ہی تھے، جن کی تعداد دس سے زیادہ نہ تھی، البتہ نصرانیوں میں سے بہت سے لوگوں نے ایمان قبول کیا، جن میں حبشہ کے بادشاہ اصحمہ نجاشی بھی شامل تھے، ان کی موت کی خبر آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ان پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب موت النجاشی: ۳۸۷۷، عن جابر رضی اللہ عنہ ]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پا مردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم ﺛابت قدم رہو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! صبر و تحمل سے کام لو۔ اور (کفار کے) مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ اور (خدمت دین کے لیے) کمربستہ رہو۔ تاکہ تم فوز و فلاح پاؤ (اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ)۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز ٭٭
اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی سورۃ قصص میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے آیت «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [28-القصص:52] جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہ کتاب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو صاف کہ دیتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ برحق کتاب ہمارے رب کی ہے ہم تو پہلے سے ہی اسے مانتے تھے انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا اور جگہ ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] جنہیں ہم نے کتاب دی اور جسے وہ اسے صحیح طور پر پڑھتے ہیں وہ تو اس قرآن پر بھی فوراً ایمان لاتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:159] سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے بھی ایک جماعت حق کی ہدایت کرنے والی اور حق کے ساتھ عدل کرنے والی ہے۔
دوسرے مقام پر بیان ہے آیت «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَھُمْ يَسْجُدُوْنَ» [3-آل عمران:113] ، یعنی اہل کتاب سب یکساں نہیں ان میں ایک جماعت راتوں کے وقت بھی اللہ کی کتاب پڑھنے والی ہے اور سجدے کرنے والی ہے۔ اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩» [17-الإسراء:109] اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم کہو کہ لوگوں تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں پہلے سے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اس کلام مجید کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اپنے چہروں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے یقیناً اس کا وعدہ سچا ہے اور سچا ہو کر رہنے والا ہے یہ لوگ روتے ہوئے منہ کے بل گرتے ہیں اور خشوع و خضوع میں بڑھ جاتے ہیں، یہ صفتیں یہودیوں میں پائی گئیں گو بہت کم لوگ ایسے تھے مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور آپ ہی جیسے اور با ایمان یہودی علماء لیکن ان کی گنتی دس تک نہیں پہنچتی ہاں نصرانی اکثر ہدایت پر آگئے اور حق کے فرمانبردار ہوگئے جیسے اور جگہ ہے آیت «لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا» سے «جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا» [5-المائدة: 85-82] آخر آیت تک، مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے عداوت اور دشمنی رکھنے میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے یہود ہیں اور مشرک۔ اور ایمان والوں سے محبت رکھنے میں پیش پیش نصرانی ہیں۔
اب فرماتا ہے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم کے مستحق ہیں، حدیث میں یہ بھی آ چکا ہے کہ سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے جب سورۃ مریم کی تلاوت شاہ نجاشی کے دربار میں بادشاہ اراکین سلطت اور علماء نصاریٰ کے سامنے کی اور اس میں آپ پر رقت طاری ہوئی تو سب حاضرین دربار مع بادشاہ رو دیئے اور اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں، [سیرۃ ابن ھشام:357/1:صحیح] ۱؎ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نجاشی کے انتقال کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دی اور فرمایا کہ تمہارا بھائی حبشہ میں انتقال کر گیا ہے اور اس کے جنازے کی نماز ادا کرو اور میدان میں جا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفیں مرتب کر کے آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ [صحیح بخاری:1317] ۱؎ ابن مردویہ میں ہے کہ جب نجاشی فوت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو تو بعض لوگوں نے کہا دیکھئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس نصرانی کیلئے استغفار کرنے کا حکم دیتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [طبرانی اوسط:2677:حسن] ۱؎ گویا اس کے مسلمان ہونے شہادت قرآن کریم نے دی
گویا اس کے مسلمان ہونے کی شہادت قرآن کریم نے دی۔ ابن جریر میں ہے کہ ان کی موت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی کہ تمہارا بھائی اصحمہ انتقال کر گیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور جس طرح جنازے کی نماز پڑھاتے تھے اسی طرح چار تکبیروں سے نماز جنازہ پڑھائی اس پر منافقوں نے وہ اعتراض کیا اور یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8376] ۱؎ ابوداؤد میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نجاشی کے انتقال کے بعد ہم یہی سنتے رہے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے، [سنن ابوداود:2523،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎ مستدرک حاکم میں ہے کہ نجاشی کا ایک دشمن اس کی سلطنت پر حملہ آور ہوا تو مہاجرین نے کہا کہ آپ اس سے مقابلہ کرنے کیلئے چلئے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں آپ ہماری بہادری کے جوہر دیکھ لیں گے اور جو حسن سلوک آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے اس کا بدلہ بھی اتر جائے گا لیکن نجاشی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی امداد کے ساتھ بچاؤ کرنے سے اللہ کی امداد کا بچاؤ بہتر ہے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [مستدرک حاکم:300/2:ضعیف] ۱؎
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اہل کتاب کے مسلمان لوگ ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:499/7] ۱؎ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے اسلام کو پہچانتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا بھی شرف انہیں حاصل ہوا تو انہیں اجر بھی دوہرا ملا ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے ایمان کا دوسرا اجر آپ پر ایمان لانے کا، بخاری مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے جن میں سے ایک اہل کتاب کا وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا اور باقی دو کو بھی ذکر کیا، [صحیح بخاری:97] ۱؎ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہیں بیچتے یعنی اپنے پاس علمی باتوں کو چھپاتے نہیں جیسے کہ ان میں سے ایک رذیل جماعت کا شیوہ تھا بلکہ یہ لوگ تو اسے پھیلاتے اور خوب ظاہر کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے یعنی جلد سمیٹنے اور گھیرنے اور شمار کرنے والا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اسلام جیسے میری پسندیدہ دین پر جمے رہو شدت اور نرمی کے وقت مصیبت اور راحت کے وقت غرض کسی حال میں بھی اسے نہ چھوڑو یہاں تک کہ دم نکلے تو اسی پر نکلے اور اپنے ان دشمنوں سے بھی صبر سے کام لو جو اپنے دین کو چھپاتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:502/7] ۱؎ امام حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ علماء سلف نے یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔
«مرابطۃ» مرابطہٰ کہتے ہیں عبادت کی جگہ میں ہمیشگی کرنے کو اور ثابت قدمی سے جم جانے کو اور کہا گیا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو، یہی قول ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اور محمد بن کعب قرضی رحمہ اللہ کا۔ صحیح مسلم شریف اور نسائی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کس چیز سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجوں کو بڑھاتا ہے، تکلیف ہوتے ہوتے بھی کامل وضو کرنا، دور سے چل کر مسجدوں میں آنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی مرابط ہے یہی اللہ تعالیٰ کی راہ کی مستعدی ہے، [صحیح مسلم:251] ۱؎ ابن مردویہ میں ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے میرے بھتیجے جانتے ہو اس آیت کا شان نزول کیا ہے؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں آپ نے فرمایا سنو اس وقت کوئی غزوہ نہ تھا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مسجدوں کو آباد رکھتی تھی اور نمازوں کو ٹھیک وقت پر ادا کرتے تھے پھر اللہ کا ذکر کرتے تھے انہیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تم پانچوں نمازوں پر جمے رہو اور اپنے نفس کو اور اپنی خواہش کو روکے رکھو اور مسجدوں میں بسیرا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یہی اعمال موجب ایمان ہیں، [مستدرک حاکم:301/2] ۱؎ ابن جریر کی حدیث میں ہے کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں ناپسندیدگی کے وقت کامل وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تمہاری مستعدی اسی میں ہونی چاہیئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8395:ضعیف] ۱؎ اور حدیث میں زیادہ قدم رکھ کر چل کر مسجد میں آنا بھی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8396:ضعیف] ۱؎ اور روایت میں ہے کہ گناہوں کی معافی کے ساتھ ہی درجے بھی ان اعمال سے بڑھتے رہتے ہیں اور یہی اس آیت کا مطلب ہے۔ [الدار المنشور للسیوطی:201/2:ضعیف] ۱؎ لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہاں «رَابِطُوا» سے مطلب انتظار نماز ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8394:ضعیف] ۱؎ لیکن اوپر بیان ہو چکا ہے کہ یہ فرمان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «رَابِطُوا» سے مراد دشمن سے جہاد کرنا، اسلامی ملک کی حدود کی نگہبانی کرنا اور دشمنوں کو اسلامی شہروں میں نہ گھسنے دینا ہے اس کی ترغیب میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں اور اس پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے ایک دن کی یہ تیاری ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے افضل ہے، [صحیح بخاری:2794] ۱؎ مسلم شریف کی حدیث میں ہے ایک دن رات کی جہاد کی تیاری ایک ماہ کے کامل روزوں اور ایک ماہ کی تمام شب بیداری سے افضل ہے اور اسی تیاری کی حالت میں موت آ جائے تو جتنے اعمال صالحہ کرتا تھا سب کا ثواب پہنچتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور فتنوں سے امن پاتا ہے، [صحیح مسلم:1913] ۱؎ مسند احمد میں ہے ہر مرنے والے کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ کی تیاری میں ہو اور اسی حالت میں مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے فتنہ قبر سے نجات ملتی ہے [سنن ابوداود:2500،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن اسے امن ملے گا، [سنن ابن ماجہ:2767،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ مسند کی اور حدیث میں ہے اسے صبح شام جنت سے روزی پہنچائی جاتی ہے اور قیامت تک اس کے مرابط کا اجر ملتا رہتا ہے، [مسند احمد:404/2:حسن بالشواھد] ۱؎ مسند احمد میں ہے جو شخص مسلمانوں کی سرحد کے کسی کنارے پر تین دن تیاری میں گزارے اسے سال بھر تک کی اور جگہ کی اس اس تیاری کا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد:362/6:صحیح بالشواھد] ۱؎
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنی ہوئی بات سناتا ہوں میں نے اب تک ایک خاص خیال سے اسے نہیں سنایا آپ نے فرمایا ہے اللہ جل شانہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ایک ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے جو تمام راتیں قیام میں اور تمام دن صیام میں گزارے جائیں۔ [مسند احمد:61/1:حسن بالشواھد] ۱؎ دوسری روایت میں اس حدیث کو اب تک بیان نہ کرنے کی وجہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ اس فضیلت کو حاصل کرنے کیلئے کہیں تم سب مدینہ چھوڑ کر میدان جنگ میں نہ چل دو اب میں سنا دیتا ہوں ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو بات اپنے لیے پسند کرتا ہے اس کا پابند ہو جائے۔ [سنن ابن ماجہ:2766،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہنچا دی لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اے جناب باری تعالیٰ تو گواہ رہ، [مسند احمد:62/1:صحیح بالشواھد] ۱؎ ترمذی شریف میں ہے کہ سیدنا شرحبیل بن سمط محافظت سرحد میں تھے اور زمانہ زیادہ گزر جانے کے بعد کچھ تنگ دل ہو رہے تھے کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا آؤ میں تجھے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناؤں آپ نے فرمایا ہے ایک دن سرحد کی حفاظت ایک مہینہ کے صیام و قیام سے افضل ہے اور جو اسی حالت میں مر جائے وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال قیامت تک جاری رہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:1665،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
ابن ماجہ میں ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینا تاکہ مسلمان امن سے رہیں ہاں نیت نیک ہو گو وہ رات رمضان کی نہ ہو ایک سو سال کی عبادت سے افضل ہے جس کے دن روزے میں اور جس کی راتیں تہجد میں گزری ہوں اور ایک دن کی رب العزت کی راہ میں تیاری تاکہ مسلمان باحفاظت رہیں طلبِ ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے بغیر اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کے روزوں اور تہجد سے افضل ہے،اب اگر یہ غازی سلامتی اور زندگی کے ساتھ اپنے والوں میں آگیا تو ایک ہزار سال کی پرائیاں اسکے نامہ اعمال میں نہیں لکھی جائیں گی اور نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس مرابط کا اجر قیامت تک اسے ملتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجہ:2768،قال الشيخ الألباني:موضوع] ۱؎ یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے اس کے ایک راوی عمرو بن صبح متہم ہیں، ابن ماجہ کی ایک اور غریب حدیث میں ہے کہ ایک رات کی مسلم لشکر کی چوکیداری ایک ہزار سال کی راتوں کے قیام اور دنوں کے صیام سے افضل ہے ہر سال کے تین سو ساٹھ دن اور ہر دن مثل ایک ہزار سال کے۔ [سنن ابن ماجہ:2770،قال الشيخ الألباني:موضوع] ۱؎ اس کے راوی سعید بن خالد ابوزرعہ رحمہ اللہ وغیرہ ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے بلکہ امام حاکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کی روایت سے موضع حدیثیں بھی ہیں، ایک منقطع حدیث میں ہے لشکر اسلام کے چوکیدار پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو۔ [سنن ابن ماجہ:2769،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎ [ ابن ماجہ ]
سیدنا سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین والے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے شام کی نماز میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اتنے میں ایک گھوڑا سوار آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آگے نکل گیا تھا اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر میں نے نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ میدان میں جمع ہو گئے ہیں یہاں تک کہ ان کی اونٹنیاں، بکریاں، عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا ان شاءاللہ یہ سب کل مسلمانوں کی مال غنیمت ہو گا پھر فرمایا بتاؤ آج کی رات پہرہ کون دے گا؟ سیدنا انس بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا جاؤ سواری لے کر آؤ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس گھاٹی پر چلے جاؤ اور اس پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاؤ خبردار! تمہاری طرف سے ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ صبح تک نہ ہو، صبح جس وقت نماز کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے دو سنتیں ادا کیں اور لوگوں سے پوچھا کہو تمہارے پہرے دار سوار کی تو کوئی آہٹ نہیں سنی لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اب تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز شروع کی آپ کا خیال اسی گھاٹی کی طرف تھا نماز سے سلام پھیرتے ہی آپ نے فرمایا خوش ہو جاؤ تمہارا گھوڑے سوار آ رہا ہے ہم نے جھاڑیوں میں جھانک کر دیکھا تو تھوڑی دیر میں ہمیں بھی دکھائی دے گئے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وادی کے اوپر کے حصے پر پہنچ گیا اور ارشاد کے مطابق وہیں رات گزاری صبح میں نے دوسری گھاٹی بھی دیکھ ڈالی لیکن وہاں بھی کوئی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا رات کو وہاں سے تم نیچے بھی اترے تھے؟ جواب دیا نہیں صرف نماز کیلئے اور قضائے حاجت کیلئے تو نیچے اترا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اپنے لیے جنت واجب کر لی اب تم اس کے بعد کوئی عمل نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں، [سنن ابوداود:2501،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ [ ابوداؤد و نسائی ]
مسند احمد میں ہے ایک غزوہ کے موقعہ پر ایک رات کو ہم بلند جگہ پر تھے اور سخت سردی تھی یہاں تک کہ لوگ زمین میں گڑھے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈھالیں لے لے کر پڑے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت آواز دی کہ کوئی ہے جو آج کی رات ہماری چوکیداری کرے اور مجھ سے بہترین دعا لے تو ایک انصاری کھڑا ہو گیا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تیار ہوں آپ نے اسے پاس بلا کر نام دریافت کر کے اس کے لیے بہت دعا کی ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ یہ دعائیں سن کر آگے بڑھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی پہرہ دوں گا آپ نے مجھے بھی پاس بلا لیا اور نام پوچھ کر میرے لیے بھی دعائیں کیں لیکن اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے یہ دعا کم تھی پھر آپ نے فرمایا اس آنکھ پر جہنم کی آنچ حرام ہے جو اللہ کے ڈر سے روئے اور اس آنکھ پر بھی جو راہ اللہ میں شب بیداری کرے، [مسند احمد:134/4:حسن لغیرہ] ۱؎ مسند حمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص مسلمانوں کے پیچھے سے ان کا پہرہ دے اپنی خوشی سے بغیر سلطان کی اجرت و تنخواہ کے وہ اپنی آنکھوں سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری ہونے کے لیے جو اس آیت میں ہے «وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» » [19-مريم:70] یعنی تم سب اس پر وارد ہو گئے۔ [مسند احمد:437/3:ضعیف] ۱؎
صحیح بخاری میں ہے دینار کا بندہ برباد ہوا اور کپڑوں کا بندہ اگر مال دیا جائے تو خوش ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہے، یہ بھی برباد ہوا اور خراب ہوا اگر اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالنے کی کوشش بھی نہ کی جائے خوش نصیب ہوا اور پھلا خوب پھولا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے بکھرے ہوئے بال ہیں اور گرد آلود قدم ہیں اگر چوکیداری پر مقرر کر دیا گیا ہے تو چوکیداری کر رہا ہے اور اگر لشکر کے اگلے حصے میں مقرر کر دیا گیا ہے تو وہیں خوش ہے لوگوں کی نظروں میں اتنا گرا پڑا ہے کہ اگر کہیں جانا چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول نہ ہو، [صحیح بخاری:2887] ۱؎ الحمداللہ اس آیت کے متعلق خاصی حدیثیں بیان ہو گئیں اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم پر ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر گزاری سے رہتی دنیا تک فارغ نہیں ہو سکتے۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو میدان جنگ سے ایک خط لکھا اور اس میں رومیوں کی فوج کی کثرت، ان کی آلات حرب کی حالت اور ان کی تیاریوں کی کیفیتیں بیان کی اور لکھا کہ سخت خطرہ کا موقعہ ہے، یہاں سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا جواب گیا جس میں حمد و ثنا کے بعد تحریر تھا کہ کبھی کبھی مومن بندوں پر سختیاں بھی آ جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بعد آسانیاں بھیج دیتا ہے۔ سنو! ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی سنو پروردگار عالم کا فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا» [3-آل عمران:200] عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے سن ١٧٠ یا ١٧٧ھ میں شہر طرسوس میں محمد بن ابراہیم بن سکینہ رحمہ اللہ کو جبکہ وہ ان کو الوداع کرنے آئے تھے اور یہ جہاد کو جا رہے تھے یہ اشعار لکھوا کر سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ کو بھجوائے۔
«یا عابد الحرمین لو ابصرتنا» «لعلمت انک فی العبادۃ تلعب» «من کان یخضب خدہ بلموعہ» «فنحورنا بلمائنا تتخضب» «من کان یتعب خلیہ فی باطل» «فنخیولنا یوم الصبیحتہ تتعب» «ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا» «رھج السنابک والغبار الاطیب» «ولقد اتانا من مقال نبینا» «قول صحیح صادق لا یکذب» «لا یستوی غبار خیل اللہ فی» «انف امری ودخان نار تلھب» «ھذا کتاب اللہ ینطق بیننا» «لیس الشھید بمیت لا یکذب»
اے مکہ مدینہ میں رہ کر عبادت کرنے والے اگر تو ہم مجاہدین کو دیکھ لیتا تو بالیقین تجھے معلوم ہو جاتا کہ تیری عبادت تو ایک کھیل ہے، ایک وہ شخص ہے جس کے آنسو اس کے رخساروں کو تر کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جو اپنی گردن اللہ کی راہ میں کٹوا کر اپنے خون میں آپ نہا لیتے ہیں۔ ایک وہ شخص ہے جس کا گھوڑا باطل اور بے کار کام میں تھک جاتا ہے اور ہمارے گھوڑے حملے اور لڑائی کے دن ہی تھکتے ہیں۔ اگر کی خوشبوئیں تمہارے لیے ہیں اور ہمارے لیے اگر کی خوشبو گھوڑوں کے ٹاپوں کی خاک اور پاکیزہ گرد و غبار ہے۔ یقین مانو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچ چکی ہے جو سراسر راستی اور درستی والی بالکل سچی ہے کہ جس کسی کے ناک میں اس اللہ تعالیٰ کے لشکر کی گرد بھی پہنچ گئی اس کے ناک میں شعلے مارنے والی جہنم کی آگ کا دھواں بھی نہ جائے گا اور لو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب جو ہم میں موجود ہے اور صاف کہہ رہی ہے اور سچ کہہ رہی ہے کہ شہید مردہ نہیں۔
محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب میں نے مسجد الحرام میں پہنچ کر سیدنا فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کو یہ اشعار دکھائے تو آپ پڑھ کر زار زار روئے اور فرمایا ابوعبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں صحیح اور سچ فرمایا اور مجھے نصیحت کی اور میری بے حد خیر خواہی کی، پھر مجھ سے فرمایا کیا تم حدیث لکھتے ہو میں نے کہا جی ہاں کہا اچھا تم جو یہ نصحیت نامہ میرے پاس لائے اس کے بدلے میں تمہیں ایک حدیث لکھواتا ہوں وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائے جس سے میں مجاہد کا ثواب پالوں؟ آپ نے فرمایا کیا تجھ میں یہ طاقت ہے کہ نماز ہی پڑھتا رہے اور تھکے نہیں اور روزے رکھتا چلا جائے اور کبھی بے روزہ نہ رہے اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت کہاں؟ میں اس سے بہت ہی ضعیف ہوں آپ نے فرمایا اگر تجھ میں اتنی طاقت ہوتی اور تو ایسا کر بھی سکتا تو بھی مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے کو نہ پہنچ سکتا، تو یہ بھی جانتا ہے کہ مجاہد کے گھوڑے کی رسی دراز ہو جائے اور وہ ادھر ادھر چر جائے تو اس پر بھی مجاہد کو نیکیاں ملتی ہیں۔ [مسند احمد:236/5:صحیح] ۱؎
اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر حال، میں ہر وقت، ہر معاملہ میں اللہ کا خوف کیا کرو۔ جناب رسول اکرم محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا اے معاذ! جہاں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھ اور اگر تجھ سے کوئی برائی ہو جائے تو فوراً کوئی نیکی بھی کر لے تاکہ وہ برائی مٹ جائے اور لوگوں سے خلق و مروت کے ساتھ پیش آیا کر۔ [سنن ترمذي:1987،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ پھر فرماتا ہے کہ یہ چاروں کام کر لینے سے تم اپنے مقصد میں کامیاب اور بامراد ہو جاؤ گے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات پالو گے۔ سیدنا محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے تم میرا لحاظ رکھو میرے خوف سے کانپتے رہو مجھ سے ڈرتے رہو میرے اور اپنے معاملہ میں متقی رہو تو کل جبکہ تم مجھ سے ملو گ
20۔ 1 صبر کرو یعنی طاعت کے اختیار کرنے اور شہوات اور لذات ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو، جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، یہ صبر کی سخت ترین صورت ہے اس لئے اسے علٰیحدہ بیان فرمایا محاذ جنگ میں مورچہ بند ہو کر ہمہ وقت چوکنا اور جہاد کے لئے تیار رہنا مرابطہ ہے۔ یہ بھی بڑے عزم ولولہ کا کام ہے، اسی لئے حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے (رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیھا) (صحیح بخاری، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ) اللہ کے راستے (جہاد) میں ایک سن پڑاؤ ڈالنا۔ (یعنی مورچہ بند ہونا) دنیا ومافیہا سے بہتر ہے " علاوہ ازیں حدیث میں مکارہ (یعنی ناگواری کے حالات میں) مکمل وضو کرنے، مسجدوں میں زیادہ دور سے چل کر جانے اور نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کرنے کو بھی رباط کہا گیا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الطہارۃ)
(آیت 200) { ”اصْبِرُوْا“ } یعنی دین اسلام پر ثابت قدمی سے جمے رہو۔ { ”صَابِرُوْا“ } یہ باب مفاعلہ سے ہے جس میں مقابلہ کا معنی پایا جاتا ہے، یعنی کافروں کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ {”وَ رَابِطُوْا“} یعنی دشمنوں سے جہاد کے مورچوں پر ڈٹے رہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن سرحدوں پر پہرا دینا دنیا اور دنیا میں جو کچھ موجود ہے، اس سب سے بہتر ہے۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ: ۲۸۹۲، عن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہترہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کے مطابق اس کا رزق بھی جاری رہے گا، نیز وہ آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عز وجل: ۱۹۱۳، عن سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ ] احادیث میں سختی اور تکلیف کے اوقات میں پوری طرح وضو کرنے، مسجد کی طرف چل کر آنے اور پھر ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے {”رِبَاطٌ “} فرمایا ہے۔ [ مسلم، الطہارۃ، باب فضل إسباغ الوضوء علی المکارہ: ۲۵۱ ] ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس مقام پر اللہ کی راہ میں مورچہ بند ہونے اور پہرا دینے کی بہت سی احادیث جمع فرمائی ہیں۔ [ فَجَزَاہُ اللّٰہُ خَیْرًا ]