بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 157
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 157
آیت نمبر: 157 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾
اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ اُن ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں
قسم ہے اگر اللہ تعالیٰ کی راه میں شہید کئے جاؤ یا اپنی موت مرو تو بے شک اللہ تعالیٰ کی بخشش ورحمت اس سے بہتر ہے جسے یہ جمع کر رہے ہیں
اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے،
اور اگر تم راہِ خدا میں قتل کئے جاؤ۔ یا اپنی موت سے مر جاؤ۔ تو بے شک اللہ کی بخشش اور اس کی رحمت بہت ہی بہتر ہے اس (مال و دولت) سے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔
اور بلاشبہ یقینا اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیے جاؤ، یا فوت ہو جاؤ تو یقینا اللہ کی طرف سے تھوڑی سی بخشش اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔ دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!

📖 احسن البیان

157۔ 1 موت تو ہر صورت آنی ہے لیکن اگر موت ایسی آئے کہ جس کے بعد انسان اللہ کی مغفرت و رحمت کا مستحق قرار پائے تو یہ دنیا کے مال اسباب سے بہت بہتر ہے جس کے جمع کرنے میں انسان عمر کھپا دیتا ہے اس لئے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے گریز نہیں، اس میں رغبت اور شوق ہونا چاہیے کہ اس طرح رحمت و مغفرت الٰہی یقینی ہوجاتی ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 157)یعنی اگر تمھارا مرنا یا قتل ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقینا تمھارے لیے مغفرت اور رحمت کا سبب بنے گا اور یہ مغفرت و رحمت اس مال و متاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں، یہ ان کے شبہ کا دوسرا جواب ہے۔ { ”لَمَغْفِرَةٌ“ } اور {”وَ رَحْمَةٌ“} میں تنوین تقلیل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” تھوڑی سی بخشش اور رحمت“ کیا گیا ہے۔
← پچھلی آیت (156) پوری سورۃ اگلی آیت (158) →