بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 154
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 154
آیت نمبر: 154 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ وَ طَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ وَ لِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾
اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ، "اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟" ان سے کہو "(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اِس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں" دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اُسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ، "اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے" ان سے کہہ دو کہ، "اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے" اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے
پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں سے ایک جماعت کو امن کی نیند آنے لگی۔ ہاں کچھ وه لوگ بھی تھے کہ انہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، وه اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے، یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے، کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے پھر بھی جن کی قمست میں قتل ہونا تھا وه تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے، اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا، اور اللہ تعالی سینوں کے بھید سے آگاه ہے
پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی اور ایک گروہ کو اپنی جان کی پڑی تھی اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے
پھر اس (خدا) نے رنج و غم کے بعد نیند کی صورت میں تم پر سکون و اطمینان اتارا۔ جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی۔ اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جسے صرف اپنی جانوں کی فکر تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق زمانۂ جاہلیت والے گمان کر رہا تھا وہ کہہ رہا تھا۔ کہ آیا اس معاملہ میں ہمیں بھی کچھ اختیار ہے؟ کہہ دیجیے۔ ہر امر کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں۔ جن کا آپ سے اظہار نہیں کرتے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ میں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ کہہ دیجیے! اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی جن کے لئے قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے مقتل کی طرف نکل کر جاتے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا) کہ خدا اسے آزمائے جو کچھ تمہارے سینوں کے اندر ہے اور نکھار کے سامنے لائے اس (کھوٹ) کو جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔
پھر اس غم کے بعد اس نے تم پر ایک امن نازل فرمایا، جو ایک اونگھ تھی، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی اور کچھ لوگ وہ تھے جنھیں ان کی جانوں نے فکر میں ڈال رکھا تھا، وہ اللہ کے بارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے، کہتے تھے کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے؟ کہہ دے بے شک معاملہ سب کا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ بات چھپاتے تھے جو تیرے لیے ظاہر نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے، کہہ دے اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں پر قتل ہونا لکھا جا چکا تھا اپنے لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل آتے اور تاکہ اللہ اسے آزمالے جو تمھارے سینوں میں ہے اور تاکہ اسے خالص کر دے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت «إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ» [8-الأنفال:11] ‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی کے وقت ان کی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، [صحیح بخاری:4068] ‏‏‏‏ ۱؎ ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے۔ [سنن ترمذي:3008،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ۱؎

پس اہل ایمان،اہل یقین،اہل ثبات، اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق، اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسواس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہو گیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن [ نعوذ باللہ ] ‏‏‏‏ اب بچ کر نہیں جائیں گے، اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے۔ کہ جہاں جیسا کہ آیت میں ہے کہ «بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا» [ 48-الفتح: 12 ] ‏‏‏‏ اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بد تر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔

ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے [تفسیر ابن جریر الطبری:8093:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎ اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بے نقاب کردے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہو گئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بے نقاب کر دیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہو گیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے، انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کر دیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا، حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔

مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آخر تم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا اس سے کہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر رضی اللہ عنہ ترک کی، ولید نے جا کر عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے «وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ» [3-آل عمران:155] ‏‏‏‏ یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کر دیا اس پر عذر لانا کیا؟ بدر والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری بیوی رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گئیں چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمٰن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔ [مسند احمد:68/1:حسن] ‏‏‏‏ ۱؎

📖 احسن البیان

154۔ 1 مذکورہ سراسیمگی کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اونگھ مسلط کردی۔ یہ اونگھ اللہ کی طرف سے نصرت کی دلیل تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ چھائی جا رہی تھی حتیٰ کہ میری تلوار کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے گری میں اسے پکڑتا وہ پھر گر جاتی، پھر پکڑتا پھر گر جاتی (صحیح بخاری) نعاسا امنۃ سے بدل ہے۔ طائفہ واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے (فتح القدیر) 154۔ 2 اس سے مراد منافقین ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کو اپنی جانوں کی فکر تھی۔ 154۔ 3 وہ یہ تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ باطل ہے، یہ جس دین کی دعوت دیتے ہیں، اس کا مستقبل مخدوش ہے، انہیں اللہ کی مدد ہی حاصل نہیں وغیرہ وغیرہ۔ 154۔ 4 یعنی کیا اب ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی فتح و نصرت کا امکان ہے؟ یا یہ کہ ہماری بھی کوئی بات چل سکتی ہے اور مانی جاسکتی ہے۔ 154۔ 5 تمہارے یا دشمن کے اختیار میں نہیں ہے، مدد بھی اسی کی طرف سے آئے گی اور کامیابی بھی اسی کے حکم سے ہوگی اور امر و نہی بھی اسی کا ہے۔ 154۔ 6 اپنے دلوں میں نفاق چھپائے ہوئے ہیں، ظاہر یہ کرتے ہیں، کہ رہنمائی کے طالب ہیں۔ 154۔ 7 یہ وہ آپس میں کہتے یا اپنے دل میں کہتے تھے۔ 154۔ 8 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ؟ موت تو ہر صورت میں آنی ہے اور اسی جگہ پر آنی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھ دی گئی۔ اگر تم گھروں میں بیٹھے ہوتے اور تمہاری موت کسی مقتل میں لکھی ہوتی تو تمہیں قضا ضرور وہاں کھینچ لے جاتی۔ 154۔ 9 یہ جو کچھ ہوا اس سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ تمہارے سینوں کے اندر جو کچھ ہے یعنی ایمان اسے آزمائے (تاکہ منافق الگ ہوجائیں) اور پھر تمہارے دلوں کو شیطانی وساوس سے پاک کر دے۔ 154۔ 10 یعنی اس کو تو علم ہے کہ مخلص مسلمان کون ہے اور نفاق کا لبادہ کس نے اوڑھ رکھا ہے؟ جہاد کی متعدد حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اس سے مومن اور منافق کھل کر سامنے آجاتے ہیں، جنہیں عام لوگ دیکھ اور پہچان لیتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 154) ➊ {ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ …:} ان پے درپے صدموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں موجود مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرمایا کہ ان پر اونگھ مسلط کر دی، جس سے انھیں امن و اطمینان حاصل ہو گیا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ہم پر اونگھ چھا گئی، جب کہ ہم احد کے دن اپنی صفوں میں کھڑے تھے، حالت یہ تھی کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گر جاتی تھی، میں اسے اٹھا لیتا تھا، وہ پھر گر جاتی تھی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا تھا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «أمنة نعاسًا» : ۴۵۶۲ ] ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہی بیان فرماتے ہیں: ”میں نے احد کے دن اپنا سر بلند کیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا تو(کیا دیکھتا ہوں کہ) ہر شخص اونگھ کی وجہ سے اپنے سر کو ڈھال کے نیچے جھکائے ہوئے ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب ہے: «ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا» [ ترمذی، أبواب التفسیر، باب ومن سورۃ آل عمران: ۳۰۰۷ ] ➋ {وَ طَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ:} ظاہر ہے کہ اس سے مراد منافقین اور ضعیف ایمان والے مسلمان ہیں۔ ایسے حالات میں انھیں تو اپنی جانوں ہی کی فکر تھی۔ ➌ {يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ …:} { ”ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ“ } یہ { ”غَيْرَ الْحَقِّ“ } سے بدل ہے، یعنی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اسلام اور اس کے حاملین بس اب ہلاک ہو گئے، مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں ہو گی اور یہ دعوت حق پروان نہیں چڑھے گی۔ ➍ {يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ:} یہ جملہ { ”يَظُنُّوْنَ“ } سے بدل ہے اور { ”مِنَ الْاَمْرِ“ } سے مراد فتح و نصرت ہے، یعنی بالکل مایوسی کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں کبھی فتح بھی نصیب ہو گی اور کچھ ملے گا بھی؟ یا { ”مِنَ الْاَمْرِ“ } سے مراد معاملے کا فیصلہ ہے کہ اس معاملے میں ہماری بات تو مانی ہی نہیں گئی، ہمیں مجبوراً ساتھ دینا پڑا، ورنہ ہم تو شہر سے باہر نکل کر لڑنے کے حق میں نہیں تھے۔ بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ ہم تو مجبور محض ہیں، ہمارا تو کچھ بھی اختیار نہیں۔ (فتح القدیر) ➎ {مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا:} مطلب یہ کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی کہ شہر کے اندر رہ کر ہی جنگ لڑی جائے تو آج ہمارا یہ جانی نقصان نہ ہوتا، مگر ہماری کسی نے نہ سنی۔ یہ بات یا تو ان منافقین نے کہی جو جنگ میں شریک تھے، جیسا کہ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میں معتب بن قُشَیر، جو بنو عمرو بن عوف سے تھا، اس کی بات سن رہا تھا، جب کہ اونگھ مجھے ڈھانپ رہی تھی، میں خواب کی طرح اس کی بات سن رہا تھا، جب وہ کہہ رہا تھا، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔“ [ المختارۃ، ح: ۸۶۴، ۸۶۵ ] اسے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں بھی حسن سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان منافقین نے کہی ہو جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ لوٹ آئے تھے، اس صورت میں {”هٰهُنَا“} (یہاں) کا اشارہ مدینہ کے قریب احد کی طرف ہو گا۔ (قرطبی، شوکانی) ➏ {قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ …:} اس سے ان کے خیال کی تردید مقصود ہے، یعنی اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تب بھی جن لوگوں کی قسمت میں قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے گھروں سے نکلتے اور جہاں اب مارے گئے ہیں، وہیں مارے جاتے، کیونکہ اللہ کی تقدیر سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ➐ {وَ لِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ …:} یہ جملہ محذوف کی علت ہے، یعنی جنگ احد میں جو کچھ ہوا اور جن حالات سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے کئی اور حکمتوں کے ساتھ مقصود یہ بھی تھا کہ تمھارے دلوں کی حالت ظاہر ہو جائے اور تمھارے دل و ساوس سے پاک ہو جائیں، یا یہ کہ منافقین کے دلوں کا نفاق باہر نکل آئے، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور احد کی لڑائی بگڑنے سے سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔
← پچھلی آیت (153) پوری سورۃ اگلی آیت (155) →