بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 61
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 61
آیت نمبر: 61 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾
یہ علم آ جانے کے بعد اب کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمدؐ! اس سے کہو، "آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خد ا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اُس پر خدا کی لعنت ہو"
اس لئے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آو ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کواور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلالیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں
پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آ ؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں
(اے پیغمبر(ص)) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے حجت بازی کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ (یعنی ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں)۔
پھر جو شخص تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے، اس کے بعد کہ تیرے پاس علم آ چکا تو کہہ دے آئو! ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری ورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑگڑا کر دعا کریں ، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭

حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ‏‏‏‏ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے

لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف] ‏‏‏‏ یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (‏‏‏‏اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (‏‏‏‏جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم) اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں، ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] ‏‏‏‏ آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ‏‏‏‏ ۱؎، صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4382] ‏‏‏‏۱؎

مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ‏‏‏‏ ۱؎، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی

اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا

اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] ‏‏‏‏ تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،

اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ‏‏‏‏ اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] ‏‏‏‏ ۱؎ مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔

📖 احسن البیان

61۔ 1 یہ آیت مباہلہ کہلاتی ہے۔ مباہلہ کے معنی ہیں دو فریق کا ایک دوسرے پر لعنت یعنی بدعا کرنا مطلب یہ ہے کہ جب دو فریقین میں کسی معاملے کے حق یا باطل ہونے میں اختلاف ہو اور دلائل سے وہ ختم ہوتا نظر نہ آتا ہو تو دونوں بارگاہ الہٰی میں یہ دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو وہ غلو آمیز عقائد رکھتے تھے اس پر مناظرہ کرنے لگا۔ بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن، حسین ؓ کو بھی ساتھ لیا اور عیسائیوں سے کہا کہ تم بھی اپنے اہل و عیال کو بلا لو اور پھر مل کر جھو ٹے پر لعنت کی بددعا کریں۔ عیسائیوں نے باہم مشورے کے بعد مباہلہ کرنے سے گریز کیا اور پیش کش کی کہ آپ ہم سے جو چاہتے ہیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر جزیہ مقرر فرمایا جس کی وصولی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امین امت کا خطاب عنایت فرمایا تھا ان کے ساتھ بھیجا (تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر وغیرہ) اس سے اگلی آیت میں اہل کتاب کو دعوت توحید دی جا رہی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 61) ➊ { فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ:} سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح علیہ السلام کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا، اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو۔ ➋ مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمھاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمھیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ ” {بَهَلَ يَبْهَلُ} (ف)“ کا معنی لعنت کرنا ہے اور{ ” بَاهَلَ مُبَاهَلَةً “} اور {” اِبْتَهَلَ يَبْتَهِلُ “} کا معنی ایک دوسرے پر لعنت کی دعا کرنا ہے، چونکہ یہ دعا نہایت خلوص اور عاجزی سے ہوتی ہے، اس لیے {”اِبْتَهَلَ“} کا لفظ عاجزی سے دعا کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ➌ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ …» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، پھر فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ هٰؤُلاَءِ اَهْلِيْ ] ”اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔“ [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ: ۳۲؍۲۴۰۴ ] مگر اہل نجران مباہلہ سے ڈر گئے اور انھوں نے جزیہ دینا منظور کر لیا، جیسا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاقب اور السید نجران والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ آپ سے مباہلہ کا ارادہ رکھتے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے مباہلہ کر لیا تو نہ ہم کبھی فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل۔“ تو دونوں نے کہا: ”آپ نے ہم سے جو مطالبہ کیا ہے ہم آپ کو دیں گے اور آپ ہمارے ساتھ کوئی امین آدمی بھیج دیں اور کسی اور کو نہیں صرف امانت دار کو بھیجیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا میں تمھارے ساتھ ایک سچے پکے امانت دار کو بھیجوں گا۔“ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے گردنیں اٹھائیں (کہ کس پر آپ کی نظر پڑتی ہے) تو آپ نے فرمایا: ”اے ابوعبیدہ بن جراح! اٹھو۔“ جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کا امین ہے۔“ [بخاری، المغازی، باب قصۃ أہل نجران: ۴۳۸۰ ] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اگر وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرتے تو اس حال میں واپس جاتے کہ نہ اپنے اہل کو پاتے اور نہ مال کو۔“ (طبری بسند حسن) ➍ اس آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ ضد میں آ کر حق سے انکار کرنے والے سے مباہلہ ہو سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو لعان بھی مباہلہ کی ایک صورت ہے۔ ➎ {وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ:} آیت مباہلہ میں اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کو بلانے کا ذکر ہے۔ { ”نِسَآءَ“ } (عورتوں) کا لفظ بیویوں پر استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ احزاب میں بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو { ”يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ“ } کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور انھیں اہل بیت کہہ کر خطاب کیا ہے۔ (دیکھیے احزاب: ۳۰ تا ۳۴) اولاد پر بیٹیوں کا لفظ آتا ہے نہ کہ عورتوں کا، ہاں، دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر ان پر بھی یہ لفظ آ سکتا ہے۔ یہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے فاطمہ، علی اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، آپ کے اہل بیت یہی تھے، بیویوں کو نہیں بلایا، حالانکہ کسی حدیث میں بیویوں کو نہ بلانے کا ذکر نہیں ہے اور یہ طے شدہ قاعدہ ہے کہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ احادیث میں تو دوسرے صحابہ کو بلانے کا یا ان کے آنے کا بھی ذکر نہیں، تو کیا وہاں اور کوئی بھی موجود نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے تو آپ کی بیویاں ہی تھیں، بیٹا کوئی زندہ نہ تھا، اس لیے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے آل علی کو اپنے اہل میں شامل کروایا، دلیل اس کی لفظ {”اَللَّهُمَّ“} ہے اور یہ تو معروف ہے کہ بیٹی کی اولاد کی نسبت اس کے خاوند اور خاوند کے آباء و اجداد کی طرف ہوتی ہے، نہ کہ نانا کی طرف۔ ہاں، یہ علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کی خصوصیت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے وہ بھی اہل بیت ہیں، مگر بیویوں کو جو اصل گھر والی ہیں انھیں گھر والوں ہی سے نکال دینا محض تعصب ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ انھیں گھر والیاں فرما رہا ہے، فرمایا: «لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۳۳ ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے اہل بیت!“ اور جبریل علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ علیہا السلام کو «رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ» کے الفاظ سے مخاطب کر رہے ہیں، یعنی ” اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے اہل بیت!“ [ہود: ۷۳ ]
← پچھلی آیت (60) پوری سورۃ اگلی آیت (62) →