بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 1
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾
الف لام میم
الم
الم،
الف۔ لام۔ میم۔
الۤمۤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آیت الکرسی اور اسمِ اعظم ٭٭

آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور «الم» کی تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت «‏‏‏‏اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لیے کہ ان میں جو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا ربیع بن انس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لیے یہاں فرقان فرمایا، ابوصالح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لیے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔

📖 احسن البیان

تفسیر احسن البیان

📖 القرآن الکریم

سورۂ آل عمران کی فضیلت سورۂ بقرہ کی فضیلت کے ساتھ بیان ہو چکی ہے۔ اس سورت کے مدنی ہونے پر مفسرین کا اتفاق ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کی پہلی ۸۳ آیتیں وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو ۹ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ (فتح القدیر) مگر ابن عاشور کی تحقیق یہ ہے کہ یہ وفد تقریباً ۳ ھ میں آیا ہے، کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ یہ سورت مدنی سورتوں کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔ نزول کے اعتبار سے کل سورتوں میں اس کا نمبر ۴۸ واں ہے۔ ۹ ھ میں نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی غلطی کا باعث یہ ہے کہ وفود اس سال آئے تھے، جبکہ وفد نجران پہلے آ چکا تھا۔ [التحریر والتنویر] یہ وفد ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا، جن میں چودہ ان کے معزز افراد بھی شامل تھے۔ تین آدمی ان سب میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا امیر عاقب تھا جس کا نام عبد المسیح تھا۔ دوسرا ”سید“ تھا اس کا نام الایہم تھا، یہ اس کا مشیر اور بہت سمجھدار تھا۔ تیسرا ابوحارثہ بن علقمہ الکبریٰ تھا، یہ ان کا لاٹ پادری تھا۔ ان سے دوسری باتوں کے علاوہ مسیح علیہ السلام کے خدا ہونے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مناظرہ ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”مسیح فنا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ہی ” حی “ یعنی ہمیشہ زندہ ہے اور رہے گا۔“ آپ نے یہ اور دوسرے دلائل پیش کیے جس پر وہ خاموش ہو گئے، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ بقیہ تفصیل کے لیے دیکھیے آیت مباہلہ ”۶۱“۔ (معالم، ابن کثیر) (آیت 1){ الٓمَّۤ۔} حروف مقطعات کی تشریح سورۂ بقرہ کی ابتدا میں گزر چکی ہے۔
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →