بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 3
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ اَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾
اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے، جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے
جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے، اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا
اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری،
اسی نے آپ پر حق کے ساتھ وہ کتاب اتاری ہے جو اس سے پہلے موجود (آسمانی کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے۔
اس نے تجھ پر یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آیت الکرسی اور اسمِ اعظم ٭٭

آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور «الم» کی تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت «‏‏‏‏اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔ یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لیے کہ ان میں جو اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ اسی نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری، وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔ اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا ربیع بن انس رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرقان سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لیے یہاں فرقان فرمایا، ابوصالح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اس لیے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔ قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔

📖 احسن البیان

3۔ 1 یعنی اس کی منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4،3) ➊ یہاں { ”الْكِتٰبَ“ } سے مراد قرآن مجید ہے، گویا کتاب کامل یہی ہے۔ الف لام عہد کا ہونے کی مناسبت سے ”یہ کتاب“ ترجمہ کیا ہے۔{ ” نَزَّلَ “ } کا معنی آہستہ آہستہ اتارنا ہے۔ دوسری آسمانی کتابوں کے برعکس قرآن تیئیس(۲۳) برس میں مکمل نازل ہوا۔ اس کی حکمتوں کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان (۳۲)۔ {”بِالْحَقِّ“} سے اس کا سچا اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہونا مراد ہے۔ ➋ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ:} اس کے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلی کتابوں میں جو خبریں اور بشارتیں مذکور ہیں اس میں بھی وہی خبریں اور بشارتیں ہیں، اگر یہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتیں تو ان میں بہت اختلاف ہوتا۔ ایک خبر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول بنا کر بھیجے گا اور بشارت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر قرآن نازل فرمائے گا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۵۷) اور سورۂ صف (۶) تو جب تم ان کتابوں کو مانتے ہو جن کی تصدیق ہو رہی ہے تو تصدیق کرنے والی کتاب کو بھی مانو۔ (ابن کثیر، رازی) ➌ { وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ:} تورات سے مراد وہ کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی۔ اس وقت یہ دونوں کتابیں اصل شکل میں موجود نہیں ہیں۔ تورات بائبل کے عہد قدیم کی پہلی پانچ کتابوں کا نام ہے اور انجیل بائبل کے عہد جدید کی پہلی چار کتابوں میں متفرق طور پر درج ہے۔ یہود و نصاریٰ نے انھیں بڑی حد تک بدل ڈالا ہے اور ان میں اپنی طرف سے تشریحات ملا کر خلط ملط کر دیا ہے۔ یہ کتابیں پہلے زمانے میں لوگوں کے لیے ہدایت کا کام کرتی تھیں، مگر جب ان کے اندر باطل شامل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی کتاب قرآن مجید اتاری اور اسی لحاظ سے اس کا نام {” الْفُرْقَانَ “} رکھا۔ اب اسے سچا مانے بغیر ہدایت حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ اس میں نازل شدہ آیات کا انکار کرنے والوں کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ پر یہ کچھ مشکل نہیں، وہ سب پر غالب بھی ہے اور انتقام لینے والا بھی ہے۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →