بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ آل عمران — Surah Imran
آیت نمبر 34
کل آیات: 200
قرآن کریم آل عمران آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ آل عمران islamicurdubooks.com ↗
ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾
یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے
یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے اور اللہ سنتا جانتا ہے،
جو ایک نسل ہے جن کے بعض بعض سے ہیں (یہ اولاد ہے ایک دوسرے کی) اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
ایسی نسل جس کا بعض بعض سے ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سب سے پہلے نبی ٭٭

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہرچیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لیے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہو گئی توسیدنا نوح علیہ السلام کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، سیدنا نوح علیہ السلام نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی توسیدنا نوح علیہ السلام کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔

خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کر لیا، عمران نام ہے مریم کے والد صاحب کا جو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن امون بن میثابن خرقیابن اخریق بن موثم بن عزار یا بن امیصا بن یاوش بن اجریھو بن یازم بن یھفا شاط بن ایشابن ایان بن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورۃ الانعام کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ الرحمن»

📖 احسن البیان

34۔ 1 یا دوسرے معنی ہیں دین میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34){ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ: } گویا سب انبیاء آدم علیہ السلام، پھر نوح علیہ السلام، پھر ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور چونکہ عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام اور پھر آل عمران سے تھے، لہٰذا وہ بھی انسان تھے، اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ یہاں سے اہل نجران اور دوسرے نصرانیوں کے عقیدے کے ابطال کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا قصہ شروع ہوتا ہے۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →