فرماتا ہے کہ ’یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے‘۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ» ۱؎ [16-النحل:102] ’ اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:192-194] ’ روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ‘، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-ھود:1] ، ’ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ‘۔ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ’ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے۔ کفار کو ڈراتا ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں۔ مسند عبد بن حمید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعر و شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں۔(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں۔
چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبداللہ؟“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد صاحب)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ ”تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبدالمطلب؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کردیا۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے۔ قریشیوں میں کاہن ہے۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں۔“ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کہہ چکے؟ } اس نے کہا ”ہاں“! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میری سنو! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورۃ کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع «مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] تک پڑھا }،اتنا سن کر عتبہ بول پڑا ”بس کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا ”سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا۔“ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا؟ عتبہ نے جواب دیا کہ ”میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا۔“ ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:295/14:اسنادہ ضعیف]
بغوی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے، وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں۔ اسے ٹھیک کر لوں گا۔ وہاں جا کر ابوجہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کر کے تیری حالت ٹھیک کر دیں، تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا۔ وہ جب اس سورۃ کو پڑھتے ہوئے آیت «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں۔۱؎ [بغوی فی التفسیر:1863]
سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریق پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کر لیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں }۔ اس نے کہا ”سنو! اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کراتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔“ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی سب بات کہہ چکے؟ } کہا ہاں، فرمایا: { اب میری سنو }۔ وہ متوجہ ہو گیا۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، فرمایا ابوالولید! میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے }۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابوالولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:ضعیف]
تفسیر احسن البیان
”سورهٔ حم السجده“ کا ایک نام ”سورهٔ فصلت “ بھی ہے۔ (آیت 1) {حٰمٓ:} حروف مقطعات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
یہ (قرآن) رحمٰن و رحیم خدا کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس بے حد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر معجزۂ قرآن کے باوجود ہدایت نہ پائی ٭٭
فرماتا ہے کہ ’یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے‘۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ» ۱؎ [16-النحل:102] ’ اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:192-194] ’ روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ‘، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-ھود:1] ، ’ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ‘۔ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ’ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے۔ کفار کو ڈراتا ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں۔ مسند عبد بن حمید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعر و شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں۔(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں۔
چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبداللہ؟“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد صاحب)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ ”تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبدالمطلب؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کردیا۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے۔ قریشیوں میں کاہن ہے۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں۔“ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کہہ چکے؟ } اس نے کہا ”ہاں“! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میری سنو! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورۃ کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع «مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] تک پڑھا }،اتنا سن کر عتبہ بول پڑا ”بس کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا ”سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا۔“ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا؟ عتبہ نے جواب دیا کہ ”میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا۔“ ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:295/14:اسنادہ ضعیف]
بغوی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے، وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں۔ اسے ٹھیک کر لوں گا۔ وہاں جا کر ابوجہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کر کے تیری حالت ٹھیک کر دیں، تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا۔ وہ جب اس سورۃ کو پڑھتے ہوئے آیت «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں۔۱؎ [بغوی فی التفسیر:1863]
سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریق پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کر لیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں }۔ اس نے کہا ”سنو! اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کراتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔“ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی سب بات کہہ چکے؟ } کہا ہاں، فرمایا: { اب میری سنو }۔ وہ متوجہ ہو گیا۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، فرمایا ابوالولید! میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے }۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابوالولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2) ➊ { تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ: ” تَنْزِيْلٌ “} کا معنی ”تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا“ ہے۔ قرآن مجید کو ایک ہی دفعہ نازل کرنے کے بجائے تیئیس (۲۳) برس میں نازل کرنے کی حکمتوں کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۱۰۶) کی تفسیر۔ {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کا مفہوم اور باہمی فرق سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں دیکھیے۔ کفار قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب نہیں مانتے تھے، بلکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود ساختہ کلام کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں یقین دلانے کے لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس بات کو متعدد مقامات پر مختلف انداز سے بیان فرمایا۔ پچھلی سورت میں یہ بات اپنی صفات ”عزيز و عليم“ کے ذکر کے ساتھ بیان فرمائی، یہاں ”رحمان و رحیم “ کے ساتھ ذکر فرمائی۔ ➋ {” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “} کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ساری مخلوق محتاج ہے، جس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا رحمان و رحیم ہے۔ وہ سب ضعیف اور بیمار ہیں، ان کی غذا اور ہر ضرورت کا اہتمام اور ان کی بیماریوں اور کمزوریوں کا مداوا وہی کرتا ہے جو رحمان ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں اور رحیم بھی ہے کہ اس کی رحمت دائمی ہے، جسے کبھی زوال نہیں۔ اس نے رحم کرتے ہوئے یہ کتاب نازل فرمائی ہے، تاکہ لوگ ضلالت کی تاریکیوں سے ہدایت کی روشنی میں آ جائیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں اس بہت بڑی ہلاکت سے بچ جائیں جو مشرکین کا مقدر ہے، جس کا ذکر آیت (۶) میں آ رہا ہے۔ کتاب کا اتارنا اس کی صفت رحمت کا اظہار ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۵۷) اور سورۂ عنکبوت (۵۱)۔
ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(ایسی) کتاب ہے جس کی آیتوں کی واضح تفصیل کی گئی ہے، (اس حال میں کہ) قرآن عربی زبان میں ہے اس قوم کے لیے جو جانتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
ایک کتاب ہے جس کی آیتیں مفصل فرمائی گئیں عربی قرآن عقل والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں تفصیل سے بیان کر دی گئی ہیں ان لوگوں کیلئے جو علم رکھتے ہیں عربی زبان کے قرآن کی صورت میں۔
عبدالسلام بن محمد
ایسی کتاب جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن ہے، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر معجزۂ قرآن کے باوجود ہدایت نہ پائی ٭٭
فرماتا ہے کہ ’یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے‘۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ» ۱؎ [16-النحل:102] ’ اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:192-194] ’ روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ‘، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-ھود:1] ، ’ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ‘۔ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ’ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے۔ کفار کو ڈراتا ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں۔ مسند عبد بن حمید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعر و شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں۔(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں۔
چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبداللہ؟“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد صاحب)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ ”تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبدالمطلب؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کردیا۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے۔ قریشیوں میں کاہن ہے۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں۔“ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کہہ چکے؟ } اس نے کہا ”ہاں“! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میری سنو! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورۃ کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع «مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] تک پڑھا }،اتنا سن کر عتبہ بول پڑا ”بس کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا ”سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا۔“ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا؟ عتبہ نے جواب دیا کہ ”میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا۔“ ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:295/14:اسنادہ ضعیف]
بغوی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے، وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں۔ اسے ٹھیک کر لوں گا۔ وہاں جا کر ابوجہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کر کے تیری حالت ٹھیک کر دیں، تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا۔ وہ جب اس سورۃ کو پڑھتے ہوئے آیت «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں۔۱؎ [بغوی فی التفسیر:1863]
سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریق پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کر لیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں }۔ اس نے کہا ”سنو! اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کراتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔“ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی سب بات کہہ چکے؟ } کہا ہاں، فرمایا: { اب میری سنو }۔ وہ متوجہ ہو گیا۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، فرمایا ابوالولید! میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے }۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابوالولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:ضعیف]
3۔ 1 یعنی کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ یا طاعت کیا ہیں اور معاصی کیا؟ یا ثواب والے کام کون سے ہیں اور عقاب والے کون سے؟ 3۔ 2 یہ حال ہے۔ یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی مفصل اور واضح ہیں۔ 3۔ 3 یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی و مفا ہیم اور اس کے اسرار و اسلوب کو جانتی ہے۔
(آیت 3) ➊ {كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ:” فُصِّلَتْ “} کا کچھ بیان سورۂ ہود کی پہلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح اندازمیں بیان کیے گئے ہیں۔“ (اشرف الحواشی) یہ {” كِتٰبٌ “} کی پہلی صفت ہے۔ ➋ { قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا:} یہ دوسری صفت ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۲) اور سورۂ شعراء (۱۹۵)۔ ➌ { لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ:} یہ تیسری صفت ہے۔ {” لِقَوْمٍ “} کا لام {” تَنْزِيْلٌ “} کے متعلق بھی ہو سکتا ہے اور {” فُصِّلَتْ “} کے بھی۔ یعنی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نازل کی گئی ہے اور انھی کے لیے اس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں جو جانتے ہیں، یا جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ گویا یہ ان کے لیے ہے ہی نہیں جو علم کے بجائے اپنی خواہشِ نفس یا آبا و اکابر کی تقلید کے پیروکار ہیں، کیونکہ ان کا عناد اور تعصب انھیں سوچنے سمجھنے حتیٰ کہ سننے کی بھی اجازت نہیں دیتا (دیکھیے حم السجدۃ: ۲۶) اور نہ سننا اور نہ سمجھنا ہی لوگوں کو جہنم میں لے جائے گا، جیسا کہ سورۂ ملک میں ہے: «وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [ الملک: ۱۰ ] ” اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“ یہی بات متعدد آیات میں بیان فرمائی، فرمایا: «وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ» [ العنکبوت: ۴۳ ] ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔“ اور فرمایا: «بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ» [ العنکبوت: ۴۹ ] ”بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے۔“ اور فرمایا: «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ» [ الروم: ۲۲ ] ”بے شک اس میں جاننے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔“ اور فرمایا: «اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ» [یوسف: ۲ ] ”بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔“
بشارت دینے والا اور ڈرا دینے والا مگر اِن لوگوں میں سے اکثر نے اس سے رو گردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
خوش خبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منھ پھیر لیا اور وه سنتے ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا تو ان میں اکثر نے منہ پھیرا تو وہ سنتے ہی نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (قرآن) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے مگر اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی ہے۔ پس وہ سنتے ہی نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، تو ان کے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ نہیں سنتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر معجزۂ قرآن کے باوجود ہدایت نہ پائی ٭٭
فرماتا ہے کہ ’یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے‘۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ» ۱؎ [16-النحل:102] ’ اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:192-194] ’ روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ‘، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-ھود:1] ، ’ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ‘۔ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ’ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے۔ کفار کو ڈراتا ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں۔ مسند عبد بن حمید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعر و شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں۔(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں۔
چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبداللہ؟“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد صاحب)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ ”تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبدالمطلب؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کردیا۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے۔ قریشیوں میں کاہن ہے۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں۔“ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کہہ چکے؟ } اس نے کہا ”ہاں“! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میری سنو! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورۃ کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع «مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] تک پڑھا }،اتنا سن کر عتبہ بول پڑا ”بس کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا ”سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا۔“ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا؟ عتبہ نے جواب دیا کہ ”میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا۔“ ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:295/14:اسنادہ ضعیف]
بغوی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے، وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں۔ اسے ٹھیک کر لوں گا۔ وہاں جا کر ابوجہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کر کے تیری حالت ٹھیک کر دیں، تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا۔ وہ جب اس سورۃ کو پڑھتے ہوئے آیت «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں۔۱؎ [بغوی فی التفسیر:1863]
سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریق پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کر لیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں }۔ اس نے کہا ”سنو! اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کراتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔“ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی سب بات کہہ چکے؟ } کہا ہاں، فرمایا: { اب میری سنو }۔ وہ متوجہ ہو گیا۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، فرمایا ابوالولید! میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے }۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابوالولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:ضعیف]
4۔ 1 ایمان اور اعمال صالح کے حاملین کو کامیابی اور جنت کی خوشخبری سنانے والا اور مشرکین و مکذبین کو عذاب نار سے ڈرانے والا۔ 4۔ 2 یعنی غور و فکر اور تدبر و تعقل کی نیت سے نہیں سنتے کہ جس سے انہیں فائدہ ہو۔ اسی لئے ان کی اکثریت ہدایت سے محروم ہے۔
(آیت 4) ➊ { بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا:} یہ چوتھی اور پانچویں صفت ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں بہترین انجام کی بشارت دیتی ہے اور جھٹلانے والوں کو دنیا اور آخرت کے بدترین انجام سے ڈراتی ہے۔ ➋ { فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ:} قرآن مجید کی صفات بیان کرنے کے بعد اس پر لوگوں کا رد عمل بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ سنتے ہی نہیں۔ اکثر سے مراد یہاں کفار ہیں۔ نہ سننے سے مراد یہ ہے کہ وہ سرے سے سنتے ہی نہیں، بلکہ مجلس سے اٹھ جاتے ہیں (دیکھیے ص: ۶) یا کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں اور کپڑے اوڑھ لیتے ہیں۔ (دیکھیے نوح: ۷) یا شور و غل ڈال کر نہ خود سنتے ہیں نہ کسی کو سننے دیتے ہیں، جیسا کہ اسی سورۂ حم السجدہ کی آیت (۲۶) میں ہے اور نہ سننے سے مراد یہ بھی ہے کہ وہ اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ جب ماننا ہی نہیں تو سننا نہ سننا برابر ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ» [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں، یہی ہیں جو بالکل بے خبر ہیں۔“ اور اسی سورت کی اگلی آیت: «وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ وَ فِيْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۵ ] ” اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔“ ➌ قرآن مجید نے لوگوں کی اکثریت کے متعلق فرمایا: «اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» [ البقرۃ: ۱۰۰ ] ” ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔“ اور فرمایا: «اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ الأنعام: ۳۷ ] ” ان کے اکثر نہیں جانتے۔“ اور فرمایا: «اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» [الأنعام: ۱۱۱ ] ”ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ» [الأعراف: ۱۷ ] ”اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔“ اور فرمایا: «وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِيْنَ» [ الأعراف: ۱۰۲ ] ”اور بے شک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔“ اور فرمایا: «وَ مَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا» [ یونس: ۳۶ ] ”اور ان کے اکثر پیروی نہیں کرتے مگر ایک گمان کی۔“ اور فرمایا: «وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ» [ یونس: ۶۰ ] ”اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔“ اور فرمایا: «وَ مَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ» [ یوسف: ۱۰۶ ] ”اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔“ اور فرمایا: «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [ الشعراء: ۸ ] ”بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔“ جب کہ ایمان والوں اور شکر گزار بندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بہت تھوڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِيْلٌ مَّا هُمْ» [ صٓ: ۲۴ ] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ» [ سبا: ۱۳ ] ”اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ ان آیات سے کفار کے رائج کر دہ نظامِ جمہوریت کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے، جس کی بنیاد ہی عوام کی اکثریت پر ہے، وہ مسلم ہوں یا کافر، متقی ہوں یا فاسق۔ پھر اس اکثریت کو دستور اور قانون سازی کا بھی اختیار ہے، خواہ وہ اللہ کے دین کے مطابق ہو یا اس سے متصادم۔ اس لیے دنیا بھر کے کفار تمام مسلمان ملکوں میں جمہوریت رائج کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اسی کے ذریعے سے وہ ان ملکوںمیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو نافذ ہونے سے روک سکتے ہیں اور اپنا دخل جاری رکھ سکتے ہیں۔
کہتے ہیں "جس چیز کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہو گئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے کہا کہ تو جس کی طرف ہمیں بلا رہا ہے ہمارے دل تو اس سے پردے میں ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہم میں اور تجھ میں ایک حجاب ہے، اچھا تو اب اپنا کام کیے جا ہم بھی یقیناً کام کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ آپ(ص) جس چیز کی طرف ہمیں دعوت دیتے ہیں اس سے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہمارے تمہارے درمیان پردہ حائل ہے آپ اپنا کام کیجئے ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہر معجزۂ قرآن کے باوجود ہدایت نہ پائی ٭٭
فرماتا ہے کہ ’یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے‘۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ» ۱؎ [16-النحل:102] ’ اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:192-194] ’ روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ‘، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-ھود:1] ، ’ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ‘۔ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ’ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے۔ کفار کو ڈراتا ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں۔ مسند عبد بن حمید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعر و شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں۔(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں۔
چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبداللہ؟“ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد صاحب)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ ”تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبدالمطلب؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کردیا۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے۔ قریشیوں میں کاہن ہے۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں۔“ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کہہ چکے؟ } اس نے کہا ”ہاں“! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میری سنو! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورۃ کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع «مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] تک پڑھا }،اتنا سن کر عتبہ بول پڑا ”بس کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا ”سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا۔“ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا؟ عتبہ نے جواب دیا کہ ”میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا۔“ ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:295/14:اسنادہ ضعیف]
بغوی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے، وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں۔ اسے ٹھیک کر لوں گا۔ وہاں جا کر ابوجہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کر کے تیری حالت ٹھیک کر دیں، تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا۔ وہ جب اس سورۃ کو پڑھتے ہوئے آیت «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں۔۱؎ [بغوی فی التفسیر:1863]
سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریق پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کر لیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں }۔ اس نے کہا ”سنو! اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کراتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔“ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی سب بات کہہ چکے؟ } کہا ہاں، فرمایا: { اب میری سنو }۔ وہ متوجہ ہو گیا۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، فرمایا ابوالولید! میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے }۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابوالولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:ضعیف]
5۔ 1 اکنہ کنان کی جمع ہے۔ پردہ۔ یعنی ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں کہ ہم تیری توحید و ایمان کی دعوت کو سمجھ سکیں۔ 5۔ 2 وَقْر کے اصل معنی بوجھ کے ہیں، یہاں مراد بہرا پن ہے، جو حق کے سننے میں مانع تھا۔ 5۔ 3 یعنی ہمارے اور تیرے درمیان ایسا پردہ حائل ہے کہ تو جو کہتا ہے، وہ سن نہیں سکتے اور جو کرتا ہے، اسے دیکھ نہیں سکتے، اس لئے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم تجھے تیرے حال پر چھوڑ دیں، تو ہمارے دین پر عمل نہیں کرتا، ہم تیرے دین پر عمل نہیں کرسکتے۔
(آیت 5) ➊ {وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ …:” اَكِنَّةٍ “ ” كِنَانٌ “} کی جمع ہے، پردہ، جیسا کہ {” غِطَاءٌ“} کی جمع {” أَغْطِيَةٌ “} ہے۔ ترکش، یعنی تیروں کا تھیلا جس میں تیر چھپے ہوتے ہیں{ ” كِنَانَةٌ “ } کہلاتا ہے۔ {” وَقْرٌ “} کا اصل معنی ”بوجھ“ ہے، مراد بہرا پن ہے۔ ➋ فرمایا، کفار کا آیاتِ الٰہی سے اعراض اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ صرف یہ نہیں کہ وہ سنتے نہیں یا منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں، بلکہ ان کی نفرت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ انھوں نے واشگاف الفاظ میں اس کا اظہار کیا اور اس کی تین وجہیں بیان کیں۔ پہلی یہ کہ تم ہمیں جس بات کی طرف دعوت دیتے ہو ہمارے دل اس سے بھاری پردوں میں محفوظ ہیں۔ ({اَكِنَّةٍ} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) وہ دعوت ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ دوسری یہ کہ ہمارے کانوں میں بھاری بوجھ ہے۔ ({وَقْرٌ} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) وہ تمھاری بات سننے سے شدید بہرے ہیں اور تیسری یہ کہ ہمارے اور تمھارے درمیان بھاری پردہ ہے۔ غرض، ہماری آنکھیں یا کان یا دل تمھاری کوئی بھی بات سننے یا سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ کفار نے یہ بات اپنی خوبی کے طور پر بیان کی۔ سورۂ بقرہ میں ہے: «وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ» [ البقرۃ: ۸۸ ] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل غلاف میں (محفوظ) ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔“ ➌ { وَ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ:} بقاعی نے اس {” مِنْ“} سے تبعیض کا مفہوم اخذ کیا ہے کہ ہمارے اور تمھارے درمیان کے بعض معاملات میں ایک پردہ ہے، یعنی ایک دوسرے کے دنیوی معاملات تو ہم دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر دین کے معاملات میں ہمارے اور تمھارے درمیان بھاری پردہ ہے، لہٰذا تم اپنے دین پر عمل کرو اور ہم اپنے دین پر عمل کرنے والے ہیں۔ ➍ دوسری جگہ فرمایا کہ ان کے دلوں، آنکھوں اور کانوں پر یہ پردے ہم نے ڈالے ہیں اور اس کی وجہ خود ان کا اعراض اور گریز ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا» [ الکہف: ۵۷ ] ”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور اسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے بنا دیے ہیں، اس سے کہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انھیں سیدھی راہ کی طرف بلائے تو اس وقت وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔“ اور ضد اور عناد کی وجہ سے مخالفت پر ڈٹ جانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے، فرمایا: «وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا» [ النساء: ۱۱۵ ] ”اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت خوب واضح ہو چکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔“ اور فرمایا: «فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ» [ الصف: ۵ ] ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے۔“ ➎ {فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ:} بار بار دعوت اور نصیحت سے امید ہوتی ہے کہ شاید کسی وقت ہی اثر کر جائے، اس لیے کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح مایوس کرنے کے لیے یہ جملہ کہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ کفار کو {” لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ “} (تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے) کہہ کر اس بات سے پوری طرح مایوس کر دیں کہ آپ ان کے معبودوں کی کبھی کسی صورت میں بھی عبادت کر سکتے ہیں۔ (دیکھیے کافرون: ۶)
اے نبیؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے! کہ میں تو تم ہی جیسا انسان ہوں مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے سو تم اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو، اور ان مشرکوں کے لیے (بڑی ہی) خرابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور خرابی ہے شرک والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ میں بھی تمہاری ہی طرح بشر ہوں (مگر فرق یہ ہے) کہ مجھے وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا الٰہ (خدا) بس ایک ہی الٰہ (خدا) ہے تو تم سیدھے اسی کی طرف رخ رکھو اور اس سے مغفرت طلب کرو اور بربادی ہے ان مشرکوں کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے میں تو تمھارے جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، سو اس کی طرف سیدھے ہو جائو اور اس سے بخشش مانگو اور مشرکوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حصول نجات اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئیے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے ‘۔ یعنی بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» ۱؎ [91-الشمس:9-10] یعنی ’ اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ اور وہ ہلاک ہوا جس نے اسے دبا دیا ‘۔ اور آیت میں فرمایا «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:15،14] یعنی ’ اس نے نجات حاصل کر لی جس نے پاکیزگی کی اور اپنے رب کا نام ذکر کیا پھر نماز ادا کی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى» ۱؎ [79-النازعات:18] ’ کیا تجھے پاک ہونے کا خیال ہے؟ ‘ ان آیتوں میں زکوٰۃ یعنی پاکی سے مطلب نفس کو بے ہودہ اخلاق سے دور کرنا ہے اور سب سے بڑی اور پہلی قسم اس کی شرک سے پاک ہونا ہے، اسی طرح آیت مندرجہ بالا میں بھی زکوٰۃ نہ دینے سے توحید کا نہ ماننا مراد ہے۔ مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت سے پاک کر دیتی ہے۔ اور زیادتی اور برکت اور کثرت مال کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کی توفیق ہوتی ہے۔ لیکن امام سعدی، معاویہ بن قرہ، قتادہ رحمہ اللہ علیہم اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مال زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو مختار کہتے ہیں۔
لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مدینے میں جا کر ہجرت کے دوسرے سال۔ اور یہ آیت اتری ہے مکے شریف میں۔ زیادہ سے زیادہ اس تفسیر کو مان کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صدقے اور زکوٰۃ کی اصل کا حکم تو نبوت کی ابتداء میں ہی تھا، جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے «وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ’ جس دن کھیت کاٹو اس کا حق دے دیا کرو ‘۔ ہاں وہ زکوٰۃ جس کا نصاب اور جس کی مقدار من جانب اللہ مقرر ہے وہ مدینے میں مقرر ہوئی۔ یہ قول ایسا ہے جس سے دونوں باتوں میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے۔ خود نماز کو دیکھئیے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ابتداء نبوت میں ہی فرض ہو چکی تھی۔ لیکن معراج والی رات ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے پانچوں نمازیں باقاعدہ شروط و ارکان کے ساتھ مقرر ہو گئیں۔ اور رفتہ رفتہ اس کے تمام متعلقات پورے کر دیئے گئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے کہ ’ اللہ کے ماننے والوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزاروں کیلئے وہ اجر و ثواب ہے جو دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا» ۱؎ [18-الكهف:3] ’ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ‘ اور فرماتا ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] ’ انہیں جو انعام دیا جائے گا وہ نہ ٹوٹنے والا اور مسلسل ہے ‘۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں گویا وہ ان کا حق ہے جو انہیں دیا گیا نہ کہ بطور احسان ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ اہل جنت پر بھی اللہ کا احسان یقیناً ہے۔ خود قرآن میں ہے «بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] یعنی ’ بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ وہ تمہیں ایمان کی ہدایت کرتا ہے ‘۔ جنتیوں کا قول ہے «فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:27] ’ پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور آگ کے عذاب سے بچا لیا ‘۔ رسول اللہ علیہ افضل اصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں { مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں لے لے اور اپنے فضل و احسان میں }۔
6۔ 1 یعنی میرے اور تمہارے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے بجز وحی الہی کے پھر یہ بعد وحجاب کیوں؟ علاوہ ازیں میں جو دعوت توحید پیش کر رہا ہوں وہ بھی ایسے نہیں کہ عقل وفہم میں نہ آسکے پھر اس سے اعراض کیوں؟
(آیت 7،6) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ:} یعنی مجھ سے تمھاری اس قدر دوری کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ نہ تو میں فرشتہ یا جن یا نظر نہ آنے والی کوئی اور مخلوق ہوں کہ میرے اور تمھارے درمیان کوئی پردہ ہو، جس کی وجہ سے تم مجھے دیکھ نہ سکو یا میری بات سن نہ سکو، بلکہ میں ایک بشر ہی ہوں جو تم میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور نبوت سے سرفراز ہوا۔ نہ یہ بات ہے کہ میری زبان تم سے مختلف ہے، بلکہ تمھاری طرح عرب ہوں، کھانے پینے، سونے جاگنے، تندرستی، بیماری، شادی، غمی اور آل اولاد، غرض تمام انسانی صفات میں تمھارے جیسا ہوں، پھر مجھ سے یہ اجتناب اور ایسی دوری کیوں؟ ➋ { يُوْحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ:} دوری کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ میں اپنی کوئی ذاتی بات تمھارے سامنے پیش کرکے اسے منوانا چاہتا ہوں۔ ایسا بھی نہیں، بلکہ میں تو تمھارے پاس وحی الٰہی کی بات لے کر آیا ہوں اور یہی میرا امتیاز ہے، اور یہ بھی نہیں کہ وہ وحی الٰہی کوئی پیچیدہ یا عقل میں نہ آنے والی بات ہو، یا اس کے تم سے بے شمار مطالبات ہوں جنھیں پورا کرنے سے تم قاصر ہو، بلکہ وہ صاف، سچی اور عقل کے عین مطابق ہے اور وہ ہے صرف ایک مختصر سی بات کہ تمھاری عبادت کا حق دار صرف ایک معبود ہے۔ ایسی واضح اور مختصر بات نہ سننے یا نہ سمجھنے کا اور اس کے کہنے والے کو نہ دیکھنے کا تمھارے پاس کوئی عذر نہیں، تمھیں روکنے والی چیز صرف تمھارا کفر پر اصرار ہے۔ سو اسے چھوڑو، تاکہ تم بھی وہ حقیقت سمجھ سکو جو تمھارے جیسا ایک بشر ہو کر میں سمجھتا ہوں اور تمھیں سمجھا رہا ہوں، لہٰذا اپنا رخ اپنے واحد معبود کی طرف بالکل سیدھا کر لو۔ ➌ {فَاسْتَقِيْمُوْۤا اِلَيْهِ:} استقامت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۲)۔ یعنی جب تمھاری عبادت کا حق دار صرف ایک معبود ہے تو تمام معبودان باطلہ سے منہ پھیر کر اپنا رخ پوری طرح اس کی طرف سیدھا کر لو اور صرف اسی کی عبادت کرو، جیسا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے کہا تھا: «اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ الأنعام: ۷۹ ] ”بے شک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔“ ➍ {وَ اسْتَغْفِرُوْهُ:} یعنی اس سے پہلے اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کرتے رہے ہو اس کی اس سے معافی مانگو اور اس کا حق ادا کرنے میں جو کوتاہی پہلے ہوئی یا آئندہ ہو گی سب کی بخشش کی دعا کرتے رہو۔ ➎ آیت کی جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے یہ بقاعی اور کچھ اور مفسرین کے مطابق ہے۔ ایک اور تفسیر یہ ہے: ”میں تو تمھارے جیسا ایک انسان ہوں، تمھارے کانوں اور آنکھوں کو کھولنا اور دلوں کے پردے دور کرنا نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ ہی میں اس کا مکلف ہوں، میری ذمہ داری وہ وحی الٰہی تم تک پہنچا دینا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے میری طرف کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمھارا سچا معبود بس ایک ہے۔ سو اس کی طرف پوری طرح سیدھے ہو جاؤ اور اپنی گزشتہ اور موجودہ نافرمانیوں اور لغزشوں کی اس سے معافی مانگو۔“ (ابن عاشور) یہ تفسیر بھی بہت عمدہ ہے۔ ➏ { وَ وَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِيْنَ (6) الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ:} یعنی جو لوگ اللہ واحد اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے ان کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے۔ اگرچہ ان کی ہلاکت کے بے شمار اسباب ہیں، مگر یہاں ان میں سے تین بنیادی اسباب ذکر فرمائے، کیوں کہ سعادت کے بنیادی اسباب بھی تین ہیں، یعنی اللہ کا حق ادا کرنا، مخلوق کا حق ادا کرنا اور آخرت کا یقین رکھ کر اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے تیاری رکھنا۔ جس طرح سب سے اونچے اعمال یہ ہیں اسی طرح سب سے بڑی خست اور کمینگی بھی ان کا ادا نہ کرنا ہے۔ فرمایا، ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جو مشرک ہیں، اپنے مالک کے غدار ہیں، اللہ کی طرف سے مخلوق کے لیے عائد ہونے والا کم از کم فریضہ بھی ادا نہیں کرتے اور آخرت کے سرے ہی سے منکر ہیں، جس میں حساب ہو گا اور جس کے بعد زندگی دائمی اور ابدی ہے۔ ➐ یہاں ایک سوال ہے کہ یہ سورت مکی ہے، جب کہ زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی۔ اس کے جواب میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ زکوٰۃ کا لفظی معنی پاکیزگی ہے، اس لیے یہاں توحید کے اقرار کے ساتھ نفس کی پاکیزگی مراد ہے کہ مشرک کلمۂ توحید کے ساتھ اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے۔ مگر اس میں یہ اشکال ہے کہ اگر آیت کے الفاظ {”لَا يَأْتُوْنَ الزَّكَاةَ“} ہوتے تو اس معنی کی گنجائش تھی، {” لَا يُؤْتُوْنَ “} میں اس کی گنجائش مشکل ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ”وہ زکوٰۃ نہیں دیتے۔“ اس لیے طبری اور اکثر مفسرین رحمھم اللہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے کہ وہ زکوٰۃ نہیں دیتے۔ رہا یہ سوال کہ مکہ میں تو زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہوئی تھی، تو جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ زکوٰۃ کا نصاب اور دورانیہ مدینہ میں مقرر ہوا مگر اصل زکوٰۃ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ابتدائے اسلام ہی میں فرض تھا۔ ہرقل نے جب ابوسفیان سے پوچھا کہ وہ نبی تمھیں کیا حکم دیتا ہے تو انھوں نے کہا تھا: [ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ ] [ بخاري، الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ، قبل ح: ۱۳۹۵ٰ، تعلیقاً ] ”وہ نبی ہمیں نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاک دامنی کا حکم دیتا ہے۔“ اور ظاہر ہے کہ ابوسفیان نے وہی احکام ذکر کیے جو مکہ میں اس نے سنے۔ علاوہ ازیں مکی سورتوں میں جا بجا صدقے، زکوٰۃ اور کھیتی میں سے حق ادا کرنے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ» [ الأنعام: ۱۴۱ ] ”اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن ادا کرو۔“ اور فرمایا: «وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى (17) الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى» [ اللیل: ۱۷، ۱۸ ] ”اور عنقریب اس سے وہ بڑا پرہیز گار دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال (اس لیے) دیتا ہے کہ پاک ہو جائے۔“ اور فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ (24) لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ» [ المعارج: ۲۴،۲۵] ”اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حصہ ہے۔ سوال کرنے والے کے لیے اور (اس کے لیے) جسے نہیں دیا جاتا۔“ اور فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ المؤمنون: ۶۰ ] ”اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ اور یہ تمام آیات مکی سورتوں کی ہیں۔ سورۂ مزمل ابتدا میں اترنے والی مکی سورت ہے، اس کی آخری آیت میں اس کا صراحتاً ذکر ہے۔ معلوم ہوا کہ کفار توحید و رسالت پر ایمان کے علاوہ زکوٰۃ اور دوسرے احکام پر عمل کے بھی مکلف ہیں اور ان کی عدم ادائیگی پر بھی ان کو عذاب ہو گا۔ رہی یہ بات کہ ان کی نماز اور زکوٰۃ تو ایمان لانے کے بعد ہی معتبر ہو گی، پہلے اس کا فائدہ ہی نہیں، تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھیں نماز یا زکوٰۃ کا حکم نہیں، جیسا کہ نماز اسی وقت درست ہو گی جب وضو ہو گا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تک وضو نہ ہو نماز کا حکم ہی نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مدثر (۳۹ تا ۴۸) کی تفسیر۔
جو زکوٰة نہیں دیتے اورآخرت کے بھی منکر ہی رہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو زکوٰة نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہ قیامت کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرنے والے بھی وہی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حصول نجات اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئیے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے ‘۔ یعنی بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» ۱؎ [91-الشمس:9-10] یعنی ’ اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ اور وہ ہلاک ہوا جس نے اسے دبا دیا ‘۔ اور آیت میں فرمایا «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:15،14] یعنی ’ اس نے نجات حاصل کر لی جس نے پاکیزگی کی اور اپنے رب کا نام ذکر کیا پھر نماز ادا کی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى» ۱؎ [79-النازعات:18] ’ کیا تجھے پاک ہونے کا خیال ہے؟ ‘ ان آیتوں میں زکوٰۃ یعنی پاکی سے مطلب نفس کو بے ہودہ اخلاق سے دور کرنا ہے اور سب سے بڑی اور پہلی قسم اس کی شرک سے پاک ہونا ہے، اسی طرح آیت مندرجہ بالا میں بھی زکوٰۃ نہ دینے سے توحید کا نہ ماننا مراد ہے۔ مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت سے پاک کر دیتی ہے۔ اور زیادتی اور برکت اور کثرت مال کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کی توفیق ہوتی ہے۔ لیکن امام سعدی، معاویہ بن قرہ، قتادہ رحمہ اللہ علیہم اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مال زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو مختار کہتے ہیں۔
لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مدینے میں جا کر ہجرت کے دوسرے سال۔ اور یہ آیت اتری ہے مکے شریف میں۔ زیادہ سے زیادہ اس تفسیر کو مان کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صدقے اور زکوٰۃ کی اصل کا حکم تو نبوت کی ابتداء میں ہی تھا، جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے «وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ’ جس دن کھیت کاٹو اس کا حق دے دیا کرو ‘۔ ہاں وہ زکوٰۃ جس کا نصاب اور جس کی مقدار من جانب اللہ مقرر ہے وہ مدینے میں مقرر ہوئی۔ یہ قول ایسا ہے جس سے دونوں باتوں میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے۔ خود نماز کو دیکھئیے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ابتداء نبوت میں ہی فرض ہو چکی تھی۔ لیکن معراج والی رات ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے پانچوں نمازیں باقاعدہ شروط و ارکان کے ساتھ مقرر ہو گئیں۔ اور رفتہ رفتہ اس کے تمام متعلقات پورے کر دیئے گئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے کہ ’ اللہ کے ماننے والوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزاروں کیلئے وہ اجر و ثواب ہے جو دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا» ۱؎ [18-الكهف:3] ’ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ‘ اور فرماتا ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] ’ انہیں جو انعام دیا جائے گا وہ نہ ٹوٹنے والا اور مسلسل ہے ‘۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں گویا وہ ان کا حق ہے جو انہیں دیا گیا نہ کہ بطور احسان ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ اہل جنت پر بھی اللہ کا احسان یقیناً ہے۔ خود قرآن میں ہے «بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] یعنی ’ بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ وہ تمہیں ایمان کی ہدایت کرتا ہے ‘۔ جنتیوں کا قول ہے «فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:27] ’ پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور آگ کے عذاب سے بچا لیا ‘۔ رسول اللہ علیہ افضل اصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں { مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں لے لے اور اپنے فضل و احسان میں }۔
7۔ 1 یہ سورت مکی ہے۔ زکوٰۃ ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوئی اس لئے اس سے مراد یا تو صدقات ہیں جس کا حکم مسلمانوں کو مکہ میں ہی دیا جاتا رہا، جس طرح پہلے صبح وشام کی نماز تھا، پھر ہجرت سے ڈیڑھ سال قبل لیلۃ الاِسراء کو پانچ فرض نمازوں کا حکم ہوا۔ یا پھر زکوٰۃ سے مراد کلمہ شہادت ہے، جس سے نفس انسانی شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر)
رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک اعمال کیے، اُن کے لیے یقیناً ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئیں اور بھلے کام کریں ان کے لیے نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے وہ اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے ختم نہ کیا جانے والا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حصول نجات اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ’ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئیے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے ‘۔ یعنی بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ہے «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا» ۱؎ [91-الشمس:9-10] یعنی ’ اس نے فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔ اور وہ ہلاک ہوا جس نے اسے دبا دیا ‘۔ اور آیت میں فرمایا «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:15،14] یعنی ’ اس نے نجات حاصل کر لی جس نے پاکیزگی کی اور اپنے رب کا نام ذکر کیا پھر نماز ادا کی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى» ۱؎ [79-النازعات:18] ’ کیا تجھے پاک ہونے کا خیال ہے؟ ‘ ان آیتوں میں زکوٰۃ یعنی پاکی سے مطلب نفس کو بے ہودہ اخلاق سے دور کرنا ہے اور سب سے بڑی اور پہلی قسم اس کی شرک سے پاک ہونا ہے، اسی طرح آیت مندرجہ بالا میں بھی زکوٰۃ نہ دینے سے توحید کا نہ ماننا مراد ہے۔ مال کی زکوٰۃ کو زکوٰۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت سے پاک کر دیتی ہے۔ اور زیادتی اور برکت اور کثرت مال کا باعث بنتی ہے۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کی توفیق ہوتی ہے۔ لیکن امام سعدی، معاویہ بن قرہ، قتادہ رحمہ اللہ علیہم اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مال زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو مختار کہتے ہیں۔
لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ فرض ہوتی ہے مدینے میں جا کر ہجرت کے دوسرے سال۔ اور یہ آیت اتری ہے مکے شریف میں۔ زیادہ سے زیادہ اس تفسیر کو مان کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صدقے اور زکوٰۃ کی اصل کا حکم تو نبوت کی ابتداء میں ہی تھا، جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے «وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ» ۱؎ [6-الأنعام:141] ’ جس دن کھیت کاٹو اس کا حق دے دیا کرو ‘۔ ہاں وہ زکوٰۃ جس کا نصاب اور جس کی مقدار من جانب اللہ مقرر ہے وہ مدینے میں مقرر ہوئی۔ یہ قول ایسا ہے جس سے دونوں باتوں میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے۔ خود نماز کو دیکھئیے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ابتداء نبوت میں ہی فرض ہو چکی تھی۔ لیکن معراج والی رات ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے پانچوں نمازیں باقاعدہ شروط و ارکان کے ساتھ مقرر ہو گئیں۔ اور رفتہ رفتہ اس کے تمام متعلقات پورے کر دیئے گئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے کہ ’ اللہ کے ماننے والوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزاروں کیلئے وہ اجر و ثواب ہے جو دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّاكِثِيْنَ فِيْهِ اَبَدًا» ۱؎ [18-الكهف:3] ’ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ‘ اور فرماتا ہے «عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» ۱؎ [11-ھود:108] ’ انہیں جو انعام دیا جائے گا وہ نہ ٹوٹنے والا اور مسلسل ہے ‘۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں گویا وہ ان کا حق ہے جو انہیں دیا گیا نہ کہ بطور احسان ہے۔ لیکن بعض ائمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ اہل جنت پر بھی اللہ کا احسان یقیناً ہے۔ خود قرآن میں ہے «بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [49-الحجرات:17] یعنی ’ بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ وہ تمہیں ایمان کی ہدایت کرتا ہے ‘۔ جنتیوں کا قول ہے «فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَاب السَّمُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:27] ’ پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور آگ کے عذاب سے بچا لیا ‘۔ رسول اللہ علیہ افضل اصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں { مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں لے لے اور اپنے فضل و احسان میں }۔
8۔ 1 اجر غیر ممنون کا وہی مطلب ہے جو عطاء غیر مجذوذ ہود کا ہے یعنی نہ ختم ہونے والا اجر۔
(آیت 8){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:” مَمْنُوْنٍ “ ”مَنَّ يَمُنُّ مَنًّا “} (ن) {” الْحَبْلَ“} رسی کو کاٹ دینا۔ کفار کے ساتھ ہی ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم یا کم ہونے والی نہیں، بلکہ دائمی اور ہر دن زیادہ ہونے والی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ» [ الواقعۃ: ۳۳ ] ”(جنت کے پھل) نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہو گی۔“ اور فرمایا: «عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ» [ ھود: ۱۰۸ ] ”ایسا عطیہ جو قطع کیا جانے والا نہیں۔“ اور فرمایا: «اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ» [ صٓ: ۵۴ ] ”بلاشبہ یقینا یہ ہمارا رزق ہے، جس کے لیے کسی صورت ختم ہونا نہیں ہے۔“ بعض مفسرین نے اس لفظ کو {”مَنَّ يَمُنُّ مَنًّا“} (احسان جتانا) سے قرار دے کر مطلب یہ کیا ہے کہ جنت کی نعمتوں کا ان پر احسان نہیں جتایا جائے گا۔ مگر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ معنی درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو احسان جتلاتا ہے اور جتلائے گا اور یہ اس کا حق ہے، کیونکہ ایمان کی ہدایت اور توفیق اس نے عطا فرمائی، فرمایا: «بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [ الحجرات: ۱۷ ] ”کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کے لیے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔“ اور جنتی کہیں گے: «فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ» [الطور: ۲۷ ] ”پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔“
اے نبیؐ! اِن سے کہو، کیا تم اُس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اُس کا ہمسر ٹھیراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنا دیا؟ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی، سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو وہ ہے سارے جہان کا رب
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو پیدا کیا اور دوسروں کو اس کا ہمسر قرار دیتے ہو؟ وہی تو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ کیا بے شک تم واقعی اس کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے لیے شریک بناتے ہو؟ وہی سب جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر ٭٭
ہر چیز کا خالق ہرچیز کا مالک ہرچیز پر حاکم ہرچیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کر دیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ» ۱؎ [7-الأعراف:54] میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا حصہ اور چھت بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ کلام اللہ شریف کی ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ» ۱؎ [2-البقرة:29] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین میں جو کچھ ہے پیدا کر کے پھر آسمانوں کی طرف توجہ فرمائی اور انہیں ٹھیک سات آسمان بنا دیئے ‘۔ ہاں سورۃ النازعات میں «أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ» ۱؎ [79-النازعات:27-33] ہے پہلے آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے کہ زمین کو اس کے بعد بچھایا۔ اس سے مراد زمین میں سے پانی چارہ نکالنا اور پہاڑوں کا گاڑنا ہے جیسے کہ اس کے بعد کا بیان ہے۔ یعنی پیدا پہلے زمین کی گئی پھر آسمان پھر زمین کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ لہٰذا دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عباس سے پوچھا کی بعض آیتوں میں مجھے کچھ اختلاف سا نظر آتا ہے چنانچہ ایک آیت میں ہے «فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ قیامت کے دن آپس کے نسب نہ ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کرے گا ‘۔ دوسری آیت میں ہے «وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:27] یعنی ’ بعض آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھ گچھ کریں گے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ [4-النسآء:42] یعنی ’ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں ‘ }۔
{ دوسری آیت میں ہے کہ مشرکین کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ’ اللہ کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا ‘۔ ایک آیت میں ہے زمین کو آسمان کے بعد بچھایا «وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:30] دوسری آیت «قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ» ۱؎ [3-آل عمران:15] ، میں پہلے زمین کی پیدائش پھر آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے۔ ایک تو ان آیتوں کا صحیح مطلب بتائے جس سے اختلاف اٹھ جائے۔ دوسرے یہ جو فرمایا ہے «وَكَانَ اللَّه غَفُورًا رَحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:96] ، «عَزِيزًا حَكِيمًا» ۱؎ [4-النساء:56] ، «سَمِيعًا بَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:58] تو کیا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسا تھا؟ اس کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”جن دو آیتوں میں سے ایک میں آپس کا سوال جواب ہے اور ایک میں ان کا انکار ہے۔ یہ دو وقت ہیں صور میں دو نفخے پھونکے جائیں گے ایک کے بعد آپس کی پوچھ گچھ کچھ نہ ہو گی ایک کے بعد آپس میں ایک دوسرے سے سوالات ہوں گے۔ جن دو دوسری آیتوں میں ایک میں بات کے نہ چھپانے کا اور ایک میں چھپانے کا ذکر ہے یہ بھی دو موقعے ہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحدوں کے گناہ بخش دیئے گئے تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب منہ پر مہر لگ جائیں گی اور اعضاء بدن گواہی دینے لگیں گے تو اب کچھ بھی نہ چھپے گا۔ اور خود اپنے کرتوت کے اقراری ہو جائیں گے اور کہنے لگیں گے کاش کے ہم زمین کے برابر کر دیئے جاتے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کی ترتیب بیان میں بھی دراصل کچھ اختلاف نہیں پہلے دو دن میں زمین بنائی گئی پھر آسمان کو دو دن میں بنایا گیا پھر زمین کی چیزیں پانی، چارہ، پہاڑ، کنکر، ریت، جمادات، ٹیلے وغیرہ دو دن میں پیدا کئے یہی معنی لفظ «دَحَاھَا» کے ہیں۔ پس زمین کی پوری پیدائش چار دن میں ہوئی۔ اور دو دن میں آسمان۔ اور جو نام اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے مقرر کئے ہیں ان کا بیان فرمایا ہے وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ اللہ کا کوئی ارادہ پورا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ پس قرآن میں ہرگز اختلاف نہیں۔ اس کا ایک ایک لفظ اللہ کی طرف سے ہے“ }۔
{ زمین کو اللہ تعالیٰ نے دو دن میں پیدا کیا ہے یعنی اتوار اور پیر کے دن، اور زمین میں زمین کے اوپر ہی پہاڑ بنا دیئے اور زمین کو اس نے بابرکت بنایا، تم اس میں بیج بوتے ہو درخت اور پھل وغیرہ اس میں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور اہل زمین کو جن چیزوں کی احتیاج ہے وہ اسی میں سے پیدا ہوتی رہتی ہیں زمین کی یہ درستگی منگل بدھ کے دن ہوئی۔ چار دن میں زمین کی پیدائش ختم ہوئی۔ جو لوگ اس کی معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے انہیں پورا جواب مل گیا۔ زمین کے ہر حصے میں اس نے وہ چیز مہیا کر دی جو وہاں والوں کے لائق تھی۔ مثلاً عصب یمن میں۔ سابوری میں ابور میں۔ طیالسہ رے میں۔ یہی مطلب آیت کے آخری جملے کا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس کی جو حاجت تھی اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے مہیا کر دی۔ اس معنی کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ» ۱؎ [14-ابراھیم:34] ’ تم نے جو جو مانگا اللہ نے تمہیں دیا ‘ }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جناب باری نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی وہ دھویں کی شکل میں تھا، زمین کے پیدا کئے جانے کے وقت پانی کے جو بخارات اٹھے تھے۔ اب دونوں سے فرمایا کہ ’ یا تو میرے حکم کو مانو اور جو میں کہتا ہوں ہو جاؤ خوشی سے یا ناخوشی سے ‘، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مثلاً آسمانوں کو حکم ہوا کہ سورج چاند ستارے طلوع کرے زمین سے فرمایا اپنی نہریں جاری کر اپنے پھل اگا وغیرہ۔ دونوں فرمانبرداری کیلئے راضی خوشی تیار ہو گئے۔ اور عرض کیا کہ ہم مع اس تمام مخلوق کے جسے تو رچانے والا ہے تابع فرمان ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ انہیں قائم مقام کلام کرنے والوں کیلئے کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین کے اس حصے نے کلام کیا جہاں کعبہ بنایا گیا ہے اور آسمان کے اس حصے نے کلام کیا جو ٹھیک اس کے اوپر ہے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر آسمان و زمین اطاعت گزاری کا اقرار نہ کرتے تو انہیں سزا ہوتی جس کا احساس بھی انہیں ہوتا۔ پس دو دن میں ساتوں آسمان اس نے بنا دیئے یعنی جمعرات اور جمعہ کے دن۔ اور ہر آسمان میں اس نے جو جو چیزیں اور جیسے جیسے فرشتے مقرر کرنے چاہے مقرر فرما دیئے اور دنیا کے آسمان کو اس نے ستاروں سے مزین کر دیا جو زمین پر چمکتے رہتے ہیں اور جو ان شیاطین کی نگہبانی کرتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کیلئے اوپر چڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ تدبیرو اندازہ اس اللہ کا قائم کردہ ہے جو سب پر غالب ہے جو کائنات کے ایک ایک چپے کی ہر چھپی کھلی حرکت کو جانتا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے { یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان و زمین کی پیدائش کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اتوار اور پیر کے دن اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور جتنے نفعات اس میں ہیں اور بدھ کے دن درختوں کو پانی کو شہروں کو اور آبادی اور ویرانے کو پیدا کیا تو یہ چار دن ہوئے۔ اسے بیان فرما کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جمعرات والے دن آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں کو اور سورج چاند کو اور فرشتوں کو پیدا کیا تین ساعت کے باقی رہنے تک۔ پھر دوسری ساعت میں ہرچیز میں آفت ڈالی جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور تیسری میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا انہیں جنت میں بسایا ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ اور آخری ساعت میں وہاں سے نکال دیا }۔ یہودیوں نے کہا اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ فرمایا: { پھر عرش پر مستوی ہو گیا } انہوں نے کہا سب تو ٹھیک کہا لیکن آخری بات یہ کہی کہ پھر آرام حاصل کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور یہ آیت اتری «وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» ۱؎ [50-ق:38-39] یعنی ’ ہم نے آسمان و زمین اور جو ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکان نہیں ہوئی، تو ان کی باتوں پر صبر کر ‘ }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30429:] یہ حدیث غریب ہے۔ اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میرا ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے روز پیدا کیا اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن رکھا درخت پیر والے دن پیدا کئے مکروہات کو منگل کے دن نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جانوروں کو زمین میں جمعرات کے دن پھیلا دیا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد جمعہ کی آخری ساعت آدم کو پیدا کیا اور کل مخلوقات پوری ہوئی } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2789] مسلم اور نسائی میں یہ حدیث ہے لیکن یہ بھی غرائب صحیح میں سے ہے۔ اور امام بخاری نے تاریخ میں اسے معلل بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ اسے بعض راویوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اسے کعب احبار رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
9۔ 1 قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا یہاں اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی گئی ہے فرمایا زمین کو دو دن میں بنایا اس سے مراد ہیں یوم الاحد اتوار اور یوم الاثنین سورة نازعات میں کہا گیا ہے والارض بعد ذلک دحہا جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو آسمان کے بعد بنایا گیا ہے جب کہ یہاں زمین کی تخلیق کا ذکر آسمان کی تخلیق سے پہلے کیا گیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ تخلیق اور چیز ہے اور دحی جو اصل میں دحو ہے بچھانا یا پھیلانا اور چیز زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی جیسا کہ یہاں بھی بیان کیا گیا اور دحو کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کے قابل بنانے کے لیے اس میں پانی کے ذخائر رکھے گئے اسے پیداواری ضروریات کا مخزن بنایا گیا۔ (اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا وَمَرْعٰىهَا) 79۔ النازعات:31) اس میں پہاڑ ٹیلے اور جمادات رکھے گئے یہ عمل آسمان کی تخلیق کے بعد دوسرے دو دنوں میں کیا گیا یوں زمین اور اس کے متعلقات کی تخلیق پورے چار دنوں میں مکمل ہوئی۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورة حم) السجدۃ
(آیت 9) ➊ { قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ …:} مشرکین کا آخرت کا انکار ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس پر قادر ہونے، بلکہ ہر چیز پر قادر ہونے کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا اور دلیل میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا جو ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں اور جن کا خالق وہ خود اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ بات کا آغاز ہمزۂ استفہام، {”إِنَّ“} اور لام کی تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔ اس میں ان کے شرک پر تعجب اور ڈانٹ بھی ہے اور اس بات کا اظہار بھی کہ یقینا تم شرک کی کمینی حرکت کرتے ہو، حالانکہ کوئی عقل مند سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی انسان زمین و آسمان کے خالق کے ساتھ کفر کرے گا اور اس کے ساتھ شریک بنائے گا۔ تعجب اور ڈانٹ کے ساتھ ساتھ زمین و آسمان کی تخلیق کی تاریخ بھی بیان فرما دی ہے۔ ہمزۂ استفہام اور تاکید کے دونوں حرفوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے: ”کہہ کیا بے شک تم واقعی اس کا انکار کرتے ہو…۔“ ➋ { لَتَكْفُرُوْنَ:} یہاں ماضی کا صیغہ {” كَفَرْتُمْ “} (تم نے انکار کیا) لانے کے بجائے فعل مضارع {” لَتَكْفُرُوْنَ “} کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ صرف یہ نہیں کہ تم اس سے پہلے کفر کر بیٹھے جو کر بیٹھے، بلکہ اتنے دلائل دیکھ اور سن کر بھی کفر سے باز نہیں آئے، بلکہ کفر کرتے ہی چلے جاتے ہو۔ ➌ { بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ:} جب زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس وقت سورج کا وجود ہی نہیں تھا جس سے دن رات وجود میں آتے ہیں، تو پھر دو دنوں سے کیا مراد ہے؟ اس کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف کی آیت (۵۴) کی تفسیر۔
اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد) اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کر دیا یہ سب کام چار دن میں ہو گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اوراس میں برکت رکھ دی اوراس میں (رہنے والوں کی) غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی (صرف) چار دن میں، ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر
احمد رضا خان بریلوی
اور اس میں اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں برکت رکھ دی اور اس میں تمام طلبگاروں کی ضرورت کے برابر چار دن کی مدت میں صحیح انداز سے سامانِ معیشت مہیا کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے اس میں اس کے اوپر سے گڑے ہوئے پہاڑ بنائے اور اس میں بہت برکت رکھی اور اس میں اس کی غذائیں اندازے کے ساتھ رکھیں، چار دن میں، اس حال میں کہ سوال کرنے والوں کے لیے برابر (جواب) ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر ٭٭
ہر چیز کا خالق ہرچیز کا مالک ہرچیز پر حاکم ہرچیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کر دیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ» ۱؎ [7-الأعراف:54] میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا حصہ اور چھت بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ کلام اللہ شریف کی ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ» ۱؎ [2-البقرة:29] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین میں جو کچھ ہے پیدا کر کے پھر آسمانوں کی طرف توجہ فرمائی اور انہیں ٹھیک سات آسمان بنا دیئے ‘۔ ہاں سورۃ النازعات میں «أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ» ۱؎ [79-النازعات:27-33] ہے پہلے آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے کہ زمین کو اس کے بعد بچھایا۔ اس سے مراد زمین میں سے پانی چارہ نکالنا اور پہاڑوں کا گاڑنا ہے جیسے کہ اس کے بعد کا بیان ہے۔ یعنی پیدا پہلے زمین کی گئی پھر آسمان پھر زمین کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ لہٰذا دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عباس سے پوچھا کی بعض آیتوں میں مجھے کچھ اختلاف سا نظر آتا ہے چنانچہ ایک آیت میں ہے «فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ قیامت کے دن آپس کے نسب نہ ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کرے گا ‘۔ دوسری آیت میں ہے «وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:27] یعنی ’ بعض آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھ گچھ کریں گے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ [4-النسآء:42] یعنی ’ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں ‘ }۔
{ دوسری آیت میں ہے کہ مشرکین کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ’ اللہ کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا ‘۔ ایک آیت میں ہے زمین کو آسمان کے بعد بچھایا «وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:30] دوسری آیت «قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ» ۱؎ [3-آل عمران:15] ، میں پہلے زمین کی پیدائش پھر آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے۔ ایک تو ان آیتوں کا صحیح مطلب بتائے جس سے اختلاف اٹھ جائے۔ دوسرے یہ جو فرمایا ہے «وَكَانَ اللَّه غَفُورًا رَحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:96] ، «عَزِيزًا حَكِيمًا» ۱؎ [4-النساء:56] ، «سَمِيعًا بَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:58] تو کیا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسا تھا؟ اس کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”جن دو آیتوں میں سے ایک میں آپس کا سوال جواب ہے اور ایک میں ان کا انکار ہے۔ یہ دو وقت ہیں صور میں دو نفخے پھونکے جائیں گے ایک کے بعد آپس کی پوچھ گچھ کچھ نہ ہو گی ایک کے بعد آپس میں ایک دوسرے سے سوالات ہوں گے۔ جن دو دوسری آیتوں میں ایک میں بات کے نہ چھپانے کا اور ایک میں چھپانے کا ذکر ہے یہ بھی دو موقعے ہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحدوں کے گناہ بخش دیئے گئے تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب منہ پر مہر لگ جائیں گی اور اعضاء بدن گواہی دینے لگیں گے تو اب کچھ بھی نہ چھپے گا۔ اور خود اپنے کرتوت کے اقراری ہو جائیں گے اور کہنے لگیں گے کاش کے ہم زمین کے برابر کر دیئے جاتے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کی ترتیب بیان میں بھی دراصل کچھ اختلاف نہیں پہلے دو دن میں زمین بنائی گئی پھر آسمان کو دو دن میں بنایا گیا پھر زمین کی چیزیں پانی، چارہ، پہاڑ، کنکر، ریت، جمادات، ٹیلے وغیرہ دو دن میں پیدا کئے یہی معنی لفظ «دَحَاھَا» کے ہیں۔ پس زمین کی پوری پیدائش چار دن میں ہوئی۔ اور دو دن میں آسمان۔ اور جو نام اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے مقرر کئے ہیں ان کا بیان فرمایا ہے وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ اللہ کا کوئی ارادہ پورا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ پس قرآن میں ہرگز اختلاف نہیں۔ اس کا ایک ایک لفظ اللہ کی طرف سے ہے“ }۔
{ زمین کو اللہ تعالیٰ نے دو دن میں پیدا کیا ہے یعنی اتوار اور پیر کے دن، اور زمین میں زمین کے اوپر ہی پہاڑ بنا دیئے اور زمین کو اس نے بابرکت بنایا، تم اس میں بیج بوتے ہو درخت اور پھل وغیرہ اس میں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور اہل زمین کو جن چیزوں کی احتیاج ہے وہ اسی میں سے پیدا ہوتی رہتی ہیں زمین کی یہ درستگی منگل بدھ کے دن ہوئی۔ چار دن میں زمین کی پیدائش ختم ہوئی۔ جو لوگ اس کی معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے انہیں پورا جواب مل گیا۔ زمین کے ہر حصے میں اس نے وہ چیز مہیا کر دی جو وہاں والوں کے لائق تھی۔ مثلاً عصب یمن میں۔ سابوری میں ابور میں۔ طیالسہ رے میں۔ یہی مطلب آیت کے آخری جملے کا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس کی جو حاجت تھی اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے مہیا کر دی۔ اس معنی کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ» ۱؎ [14-ابراھیم:34] ’ تم نے جو جو مانگا اللہ نے تمہیں دیا ‘ }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جناب باری نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی وہ دھویں کی شکل میں تھا، زمین کے پیدا کئے جانے کے وقت پانی کے جو بخارات اٹھے تھے۔ اب دونوں سے فرمایا کہ ’ یا تو میرے حکم کو مانو اور جو میں کہتا ہوں ہو جاؤ خوشی سے یا ناخوشی سے ‘، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مثلاً آسمانوں کو حکم ہوا کہ سورج چاند ستارے طلوع کرے زمین سے فرمایا اپنی نہریں جاری کر اپنے پھل اگا وغیرہ۔ دونوں فرمانبرداری کیلئے راضی خوشی تیار ہو گئے۔ اور عرض کیا کہ ہم مع اس تمام مخلوق کے جسے تو رچانے والا ہے تابع فرمان ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ انہیں قائم مقام کلام کرنے والوں کیلئے کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین کے اس حصے نے کلام کیا جہاں کعبہ بنایا گیا ہے اور آسمان کے اس حصے نے کلام کیا جو ٹھیک اس کے اوپر ہے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر آسمان و زمین اطاعت گزاری کا اقرار نہ کرتے تو انہیں سزا ہوتی جس کا احساس بھی انہیں ہوتا۔ پس دو دن میں ساتوں آسمان اس نے بنا دیئے یعنی جمعرات اور جمعہ کے دن۔ اور ہر آسمان میں اس نے جو جو چیزیں اور جیسے جیسے فرشتے مقرر کرنے چاہے مقرر فرما دیئے اور دنیا کے آسمان کو اس نے ستاروں سے مزین کر دیا جو زمین پر چمکتے رہتے ہیں اور جو ان شیاطین کی نگہبانی کرتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کیلئے اوپر چڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ تدبیرو اندازہ اس اللہ کا قائم کردہ ہے جو سب پر غالب ہے جو کائنات کے ایک ایک چپے کی ہر چھپی کھلی حرکت کو جانتا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے { یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان و زمین کی پیدائش کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اتوار اور پیر کے دن اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور جتنے نفعات اس میں ہیں اور بدھ کے دن درختوں کو پانی کو شہروں کو اور آبادی اور ویرانے کو پیدا کیا تو یہ چار دن ہوئے۔ اسے بیان فرما کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جمعرات والے دن آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں کو اور سورج چاند کو اور فرشتوں کو پیدا کیا تین ساعت کے باقی رہنے تک۔ پھر دوسری ساعت میں ہرچیز میں آفت ڈالی جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور تیسری میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا انہیں جنت میں بسایا ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ اور آخری ساعت میں وہاں سے نکال دیا }۔ یہودیوں نے کہا اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ فرمایا: { پھر عرش پر مستوی ہو گیا } انہوں نے کہا سب تو ٹھیک کہا لیکن آخری بات یہ کہی کہ پھر آرام حاصل کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور یہ آیت اتری «وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» ۱؎ [50-ق:38-39] یعنی ’ ہم نے آسمان و زمین اور جو ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکان نہیں ہوئی، تو ان کی باتوں پر صبر کر ‘ }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30429:] یہ حدیث غریب ہے۔ اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میرا ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے روز پیدا کیا اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن رکھا درخت پیر والے دن پیدا کئے مکروہات کو منگل کے دن نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جانوروں کو زمین میں جمعرات کے دن پھیلا دیا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد جمعہ کی آخری ساعت آدم کو پیدا کیا اور کل مخلوقات پوری ہوئی } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2789] مسلم اور نسائی میں یہ حدیث ہے لیکن یہ بھی غرائب صحیح میں سے ہے۔ اور امام بخاری نے تاریخ میں اسے معلل بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ اسے بعض راویوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اسے کعب احبار رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
10۔ 1 یعنی پہاڑوں کو زمین میں سے ہی پیدا کر کے ان کو اس کے اوپر گاڑ دیا تاکہ زمین ادھر یا ادھر نہ ڈولے۔ 10۔ 2 یہ اشارہ ہے پانی کی کثرت، انواع و اقسام کے رزق، معدنیات اور دیگر اسی قسم کی اشیاء کی طرف یہ زمین کی برکت ہے، کثرت خیر کا نام ہی برکت ہے 10۔ 3 اقوات، قوت غذا، خوراک کی جمع ہے یعنی زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات کی خوارک اس میں مقدر کردی ہے یا بندوبست کردیا ہے اور رب کی اس تقدیر یا بندوبست کا سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی زبان اسے بیان نہیں کرسکتی کوئی قلم اسے رقم نہیں کرسکتا اور کوئی کیلکولیٹر اسے گن نہیں سکتا بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہر زمین کے دوسرے حصوں میں پیدا نہیں ہوسکتیں تاکہ ہر علاقے کی یہ مخصوص پیداوار ان ان علاقوں کی تجارت و معیشت کی بنیادیں بن جائیں چناچہ یہ مفہوم بھی اپنی جگہ صحیح اور بالکل حقیقت ہے۔ 10۔ 4 یعنی تخلیق کے پہلے دو دن اور وحی کے دو دن سارے دن ملا کر یہ کل چار دن ہوئے، جن میں یہ سارا عمل تکمیل کو پہنچا۔ 10۔ 5 سوآء کا مطلب ہے۔ ٹھیک چار دن میں ہوا۔ یعنی پوچھنے والوں کو بتلا دو کہ یہ عمل ٹھیک چار دن میں ہوا۔ یا پورا یا برابر جواب ہے سائلین کے لئے۔
(آیت 10) ➊ { وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ: ” رَوَاسِيَ “ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۱۹) اور سورۂ انبیاء (۳۱)۔ ➋ { مِنْ فَوْقِهَا:} اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پورے کے پورے زمین کے اندر گاڑ دینے کے بجائے ان کا ایک حصہ زمین کے اوپر رکھا۔ اس میں بے شمار حکمتیں اور آدمی کے لیے فائدے ہیں، کیونکہ اگر پہاڑ پورے ہی زمین کے اندر ہوتے تو آدمی برف کے ان ذخیروں سے فیض یاب نہ ہو سکتا جو پہاڑ محفوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی جنگلوں اور دریاؤں کے یہ سلسلے ہوتے۔ اس کے علاوہ بے شمار سونے، چاندی اور دوسری دھاتوں، گیسوں اور ہیرے جواہرات سے محروم رہتا جو وہ پہاڑوں کے زمین سے اوپر ہونے کی وجہ سے نکالتا ہے۔ ➌ { وَ بٰرَكَ فِيْهَا:} یعنی اس میں خیر کی بے شمار اشیاء کے خزانے رکھ دیے، جن میں درخت اور پودے بھی شامل ہیں۔ مٹی، پتھر، دھاتیں، گیسیں اور دوسرے وہ بے شمار عناصر بھی جو زمین میں موجود ہیں۔ چرند پرند، درندے اور آبی جانور بھی، پوری زمین کو گھیرے ہوئے ہوا بھی اور اس کے تقریباً ستر (۷۰) فی صد حصے پر مشتمل پانی بھی، جن پر زندگی کا دارو مدار ہے اور جن پر ہزاروں لاکھوں سال گزرنے کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ ہر دن نئی سے نئی برکت کا ظہور ہوتا ہے۔ بتاؤ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے ان میں سے ایک ہی چیز پیدا کی ہو، جس کی وجہ سے تم نے اسے اپنا حاجت روا اور خدا بنا لیا؟ ➍ {وَ قَدَّرَ فِيْهَاۤ اَقْوَاتَهَا: ”أَقْوَاتٌ“ ”قُوْتٌ“} کی جمع ہے، غذا، خوراک اور روزی۔ زمین کی غذاؤں سے مراد اس میں رہنے والی تمام مخلوقات کی غذائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے اس کے حسب حال اس کی ضرورت کے مطابق پورے اندازے کے ساتھ رکھ دیں، کسی مخلوق کی غذا کی کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورۂ حجر (۱۹ تا ۲۱)۔ ➎ { فِيْۤ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ:} یہاں ایک سوال ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش چھ دنوںمیں ہوئی ہے۔ (دیکھیے اعراف: ۵۴۔ یونس: ۳۔ ہود: ۷۔ فرقان: ۵۹۔ سجدہ: ۴۔ ق: ۳۸۔ حدید: ۴) جب کہ ان آیات سے ان کی پیدائش آٹھ دنوںمیں ظاہر ہو رہی ہے، اس لیے کہ پہلے زمین کو دو دنوں میں پیدا کرنے کا ذکر فرمایا، پھر چار دنوں میں اس کے اوپر پہاڑ گاڑنے اور اس میں غذائیں رکھنے کا ذکر فرمایا، اس کے بعد والی آیات میں دو دنوں میں آسمانوں کو پورا کرنے کا ذکر فرمایا، تو یہ کل آٹھ دن بنتے ہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ زیر تفسیر آیت میں مذکور {” اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ “} (چار دن) میں پہلے دو دن بھی شامل ہیں، یعنی زمین کی پیدائش اور اس میں پہاڑ گاڑنے اور غذائیں رکھنے کا کام کل چار دن میں ہوا۔ اس کے بعد دو دنوں میں آسمانوں کی پیدائش کا کام پورا ہوا، یہ کل چھ دن بنتے ہیں۔ مفسر شنقیطی نے فرمایا: ”اس آیت کی یہ تفسیر جو ہم نے کی ہے اس کے علاوہ کوئی تفسیر کسی طرح بھی درست نہیں۔“ ➏ { سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِيْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے روزی کا سوال کرنے والوں کے لیے، خواہ وہ زبان حال سے مانگیں یا زبان قال سے، ان کی خوراکیں پورے اندازے کے ساتھ زمین میں رکھ دی ہیں اور اس کا اندازہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ مزید دیکھیے سورۂ ابراہیم کی آیت (۳۴): «وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ» کی تفسیر۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اپنی ہر ضرورت کا سوال اللہ تعالیٰ سے کر رہی ہے اور وہ ہر لمحے اسے پورا کر رہا ہے، جیساکہ فرمایا: «يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» [ الرحمن: ۲۹ ] ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا "وجود میں آ جاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو" دونوں نے کہا "ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھوئیں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا کہ تم خوشی سے آؤ یا نخوشی سے تو دونوں نے کہا ہم خوشی خوشی آتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات کا مرحلہ وار ذکر ٭٭
ہر چیز کا خالق ہرچیز کا مالک ہرچیز پر حاکم ہرچیز پر قادر صرف اللہ ہے۔ پس عبادتیں بھی صرف اسی کی کرنی چاہئیں۔ اس نے زمین جیسی وسیع مخلوق کو اپنی کمال قدرت سے صرف دو دن میں پیدا کر دیا ہے۔ تمہیں نہ اس کے ساتھ کفر کرنا چاہے نہ شرک۔ جس طرح سب کا پیدا کرنے والا وہی ایک ہے۔ ٹھیک اسی طرح سب کا پالنے والا بھی وہی ایک ہے۔ یہ تفصیل یاد رہے کہ اور آیتوں «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ» ۱؎ [7-الأعراف:54] میں زمین و آسمان کا چھ دن میں پیدا کرنا بیان ہوا ہے۔ اور یہاں اس کی پیدائش کا وقت الگ بیان ہو رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی۔ عمارت کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے بنیادیں اور نیچے کا حصہ تیار کیا جاتا ہے پھر اوپر کا حصہ اور چھت بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ کلام اللہ شریف کی ایک اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ» ۱؎ [2-البقرة:29] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین میں جو کچھ ہے پیدا کر کے پھر آسمانوں کی طرف توجہ فرمائی اور انہیں ٹھیک سات آسمان بنا دیئے ‘۔ ہاں سورۃ النازعات میں «أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ» ۱؎ [79-النازعات:27-33] ہے پہلے آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے کہ زمین کو اس کے بعد بچھایا۔ اس سے مراد زمین میں سے پانی چارہ نکالنا اور پہاڑوں کا گاڑنا ہے جیسے کہ اس کے بعد کا بیان ہے۔ یعنی پیدا پہلے زمین کی گئی پھر آسمان پھر زمین کو ٹھیک ٹھاک کیا۔ لہٰذا دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عباس سے پوچھا کی بعض آیتوں میں مجھے کچھ اختلاف سا نظر آتا ہے چنانچہ ایک آیت میں ہے «فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101] یعنی ’ قیامت کے دن آپس کے نسب نہ ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کرے گا ‘۔ دوسری آیت میں ہے «وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:27] یعنی ’ بعض آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھ گچھ کریں گے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ [4-النسآء:42] یعنی ’ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں ‘ }۔
{ دوسری آیت میں ہے کہ مشرکین کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ’ اللہ کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا ‘۔ ایک آیت میں ہے زمین کو آسمان کے بعد بچھایا «وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:30] دوسری آیت «قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ» ۱؎ [3-آل عمران:15] ، میں پہلے زمین کی پیدائش پھر آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے۔ ایک تو ان آیتوں کا صحیح مطلب بتائے جس سے اختلاف اٹھ جائے۔ دوسرے یہ جو فرمایا ہے «وَكَانَ اللَّه غَفُورًا رَحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:96] ، «عَزِيزًا حَكِيمًا» ۱؎ [4-النساء:56] ، «سَمِيعًا بَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:58] تو کیا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسا تھا؟ اس کے جواب میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”جن دو آیتوں میں سے ایک میں آپس کا سوال جواب ہے اور ایک میں ان کا انکار ہے۔ یہ دو وقت ہیں صور میں دو نفخے پھونکے جائیں گے ایک کے بعد آپس کی پوچھ گچھ کچھ نہ ہو گی ایک کے بعد آپس میں ایک دوسرے سے سوالات ہوں گے۔ جن دو دوسری آیتوں میں ایک میں بات کے نہ چھپانے کا اور ایک میں چھپانے کا ذکر ہے یہ بھی دو موقعے ہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحدوں کے گناہ بخش دیئے گئے تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب منہ پر مہر لگ جائیں گی اور اعضاء بدن گواہی دینے لگیں گے تو اب کچھ بھی نہ چھپے گا۔ اور خود اپنے کرتوت کے اقراری ہو جائیں گے اور کہنے لگیں گے کاش کے ہم زمین کے برابر کر دیئے جاتے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کی ترتیب بیان میں بھی دراصل کچھ اختلاف نہیں پہلے دو دن میں زمین بنائی گئی پھر آسمان کو دو دن میں بنایا گیا پھر زمین کی چیزیں پانی، چارہ، پہاڑ، کنکر، ریت، جمادات، ٹیلے وغیرہ دو دن میں پیدا کئے یہی معنی لفظ «دَحَاھَا» کے ہیں۔ پس زمین کی پوری پیدائش چار دن میں ہوئی۔ اور دو دن میں آسمان۔ اور جو نام اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے مقرر کئے ہیں ان کا بیان فرمایا ہے وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ اللہ کا کوئی ارادہ پورا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ پس قرآن میں ہرگز اختلاف نہیں۔ اس کا ایک ایک لفظ اللہ کی طرف سے ہے“ }۔
{ زمین کو اللہ تعالیٰ نے دو دن میں پیدا کیا ہے یعنی اتوار اور پیر کے دن، اور زمین میں زمین کے اوپر ہی پہاڑ بنا دیئے اور زمین کو اس نے بابرکت بنایا، تم اس میں بیج بوتے ہو درخت اور پھل وغیرہ اس میں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور اہل زمین کو جن چیزوں کی احتیاج ہے وہ اسی میں سے پیدا ہوتی رہتی ہیں زمین کی یہ درستگی منگل بدھ کے دن ہوئی۔ چار دن میں زمین کی پیدائش ختم ہوئی۔ جو لوگ اس کی معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے انہیں پورا جواب مل گیا۔ زمین کے ہر حصے میں اس نے وہ چیز مہیا کر دی جو وہاں والوں کے لائق تھی۔ مثلاً عصب یمن میں۔ سابوری میں ابور میں۔ طیالسہ رے میں۔ یہی مطلب آیت کے آخری جملے کا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس کی جو حاجت تھی اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے مہیا کر دی۔ اس معنی کی تائید اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ» ۱؎ [14-ابراھیم:34] ’ تم نے جو جو مانگا اللہ نے تمہیں دیا ‘ }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جناب باری نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی وہ دھویں کی شکل میں تھا، زمین کے پیدا کئے جانے کے وقت پانی کے جو بخارات اٹھے تھے۔ اب دونوں سے فرمایا کہ ’ یا تو میرے حکم کو مانو اور جو میں کہتا ہوں ہو جاؤ خوشی سے یا ناخوشی سے ‘، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مثلاً آسمانوں کو حکم ہوا کہ سورج چاند ستارے طلوع کرے زمین سے فرمایا اپنی نہریں جاری کر اپنے پھل اگا وغیرہ۔ دونوں فرمانبرداری کیلئے راضی خوشی تیار ہو گئے۔ اور عرض کیا کہ ہم مع اس تمام مخلوق کے جسے تو رچانے والا ہے تابع فرمان ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ انہیں قائم مقام کلام کرنے والوں کیلئے کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین کے اس حصے نے کلام کیا جہاں کعبہ بنایا گیا ہے اور آسمان کے اس حصے نے کلام کیا جو ٹھیک اس کے اوپر ہے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر آسمان و زمین اطاعت گزاری کا اقرار نہ کرتے تو انہیں سزا ہوتی جس کا احساس بھی انہیں ہوتا۔ پس دو دن میں ساتوں آسمان اس نے بنا دیئے یعنی جمعرات اور جمعہ کے دن۔ اور ہر آسمان میں اس نے جو جو چیزیں اور جیسے جیسے فرشتے مقرر کرنے چاہے مقرر فرما دیئے اور دنیا کے آسمان کو اس نے ستاروں سے مزین کر دیا جو زمین پر چمکتے رہتے ہیں اور جو ان شیاطین کی نگہبانی کرتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کیلئے اوپر چڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ تدبیرو اندازہ اس اللہ کا قائم کردہ ہے جو سب پر غالب ہے جو کائنات کے ایک ایک چپے کی ہر چھپی کھلی حرکت کو جانتا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے { یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان و زمین کی پیدائش کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اتوار اور پیر کے دن اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور جتنے نفعات اس میں ہیں اور بدھ کے دن درختوں کو پانی کو شہروں کو اور آبادی اور ویرانے کو پیدا کیا تو یہ چار دن ہوئے۔ اسے بیان فرما کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جمعرات والے دن آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں کو اور سورج چاند کو اور فرشتوں کو پیدا کیا تین ساعت کے باقی رہنے تک۔ پھر دوسری ساعت میں ہرچیز میں آفت ڈالی جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور تیسری میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا انہیں جنت میں بسایا ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ اور آخری ساعت میں وہاں سے نکال دیا }۔ یہودیوں نے کہا اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ فرمایا: { پھر عرش پر مستوی ہو گیا } انہوں نے کہا سب تو ٹھیک کہا لیکن آخری بات یہ کہی کہ پھر آرام حاصل کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور یہ آیت اتری «وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ» ۱؎ [50-ق:38-39] یعنی ’ ہم نے آسمان و زمین اور جو ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکان نہیں ہوئی، تو ان کی باتوں پر صبر کر ‘ }۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30429:] یہ حدیث غریب ہے۔ اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میرا ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے روز پیدا کیا اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن رکھا درخت پیر والے دن پیدا کئے مکروہات کو منگل کے دن نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جانوروں کو زمین میں جمعرات کے دن پھیلا دیا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد جمعہ کی آخری ساعت آدم کو پیدا کیا اور کل مخلوقات پوری ہوئی } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2789] مسلم اور نسائی میں یہ حدیث ہے لیکن یہ بھی غرائب صحیح میں سے ہے۔ اور امام بخاری نے تاریخ میں اسے معلل بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ اسے بعض راویوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اسے کعب احبار رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
11۔ 1 یہ آنا کس طرح تھا؟ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ یہ دونوں اللہ کے پاس آئے جس طرح اس نے چاہا، بعض نے اس کا مفہوم لیا ہے کہ میرے حکم کی اطاعت کرو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم حاضر ہیں، چناچہ اللہ نے آسمانوں کو حکم دیا، سورج، چاند ستارے نکال اور زمین کو کہا، نہریں جاری کر دے اور پھل نکال دے (ابن کثیر) یہ مفہوم ہے کہ تم دونوں وجود میں آجاؤ۔
(آیت 11) ➊ { ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ …:” اسْتَوٰۤى “} کے بعد {” اِلَى “} ہو تو اس کا معنی قصد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی پھر اللہ نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، وہ اس وقت دھویں کی صورت میں تھا، تو اسے یعنی آسمان اور زمین دونوں سے کہا {” ائْتِيَا “} (آ جاؤ) یعنی میرے حکم کی اطاعت کرو، خوشی سے کرو یا مجبوری سے، ہر حال میں کرنا پڑے گی۔ ➋ {قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَآىِٕعِيْنَ:} ان دونوں نے کہا، ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات میں جو چیزیں طبعی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں، مثلاً فرشتے اس کے حکم کے بغیر کوئی بات کرتے ہیں نہ کوئی کام، اسی طرح سورج، چاند، ستارے، بادل، ہوائیں، سمندر، نباتات اور حیوانات و جمادات، غرض ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چل رہی ہے، ذرہ برابر ادھر ادھر نہیں ہوتی، تو یہ سب چیزیں مجبور ہو کر نہیں بلکہ اپنی رضا اور خوش دلی سے مالک کے حکم پر چل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت ہی اسلام (فرماں برداری اور اطاعت) بنائی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کے احکام سننے، سمجھنے، ان کا جواب دینے اور ان پر عمل کرنے کی پوری سمجھ رکھتی ہے، خواہ ہم اسے {” لَا يَعْقِلُ“} (بے سمجھ) خیال کرتے رہیں، کیونکہ لفظ {” طَآىِٕعِيْنَ “} (جمع مذکر سالم) عربی لغت میں ذوی العقول کے لیے آتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہم ان کی گفتگو یا تسبیح نہ سمجھ سکیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل(۴۴)۔
تب اُس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیے، اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کر دیا اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کر دیا یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس دو دن میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی، یہ تدبیر اللہ غالب و دانا کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے اور ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور نگہبانی کے لیے یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس (اللہ) نے انہیں دو دن میں سات آسمان بنا دیا اور ہر آسمان میں اس کے معاملہ کی وحی کر دی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے زینت بخشی اور اسے محفوظ کر دیا یہ اس (خدا) کی منصوبہ بندی ہے جو (ہر چیز پر) غالب ہے اور بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے انھیں دو دنوں میں سات آسمان پورے بنا دیا اور ہر آسمان میںاس کے کام کی وحی فرمائی اور ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت دی اور خوب محفوظ کر دیا۔ یہ اس کا اندازہ ہے جو سب پر غالب، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
12۔ 1 یعنی خود آسمانوں کو یا ان میں آباد فرشتوں کو مخصوص کاموں اور وظائف کا پابند کردیا۔ 12۔ 2 یعنی شیطان سے نگہبانی، جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت کی ہے ستاروں کا ایک تیسرا مقصد دوسری جگہ اَھْتِدَاء (راستہ معلوم کرنا) بھی بیان کیا گیا (وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل:16)
(آیت 12) ➊ { فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان کو جو دخان کی صورت میں تھا، دو دنوں میں پورے سات آسمان بنا دیا۔ ➋ { وَ اَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا:} یعنی کائنات کے اس نظام میں ہر آسمان کی اور اس میں رہنے والی ہر مخلوق کی جو ذمہ داری تھی وہ اس کی طرف وحی فرما دی کہ تمھیں یہ کام کرنا ہے اور اس طرح کرنا ہے۔ ➌ {وَ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَ حِفْظًا: ” حِفْظًا “ ”حَفِظْنَاهَا“} کا مفعول مطلق ہے جو یہاں مقدر ہے اور اس کا عطف لفظ مقدر {” زِيْنَةٌ “} پر ہے جو {” زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا “} کا مفعول مطلق ہے۔ گویا اصل جملہ یہ تھا: {” وَ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ زِيْنَةً وَ حَفِظْنَاهَا بِهَا حِفْظًا۔“} لفظ {” زَيَّنَّا “} کی دلالت کی وجہ سے {” زِيْنَةً “} کو حذف کر دیا اور {” حِفْظًا “} کی دلالت کی وجہ سے {”حَفِظْنَاهَا“} کو حذف کر دیا۔ اس طرح نہایت خوب صورتی کے ساتھ ایک لمبی بات مختصر لفظوں میں سمیٹ دی۔ یہ قرآن کی بلاغت ہے اور اسے احتباک کہتے ہیں۔ (بقاعی) {” حِفْظًا “} کے مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے ”خوب محفوظ کر دیا۔“ اس زینت و حفاظت کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورۂ حجر (۱۶ تا ۱۸)، صافات (۶ تا ۱۰) اور سورۂ ملک (۵)۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ ان آیات میں اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر غائب کے صیغے {”بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ“} کے ساتھ کیا ہے،{ ” زَيَّنَّا السَّمَآءَ “ } میں متکلم کے صیغے کے ساتھ اور {” ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ “} میں پھر غائب کے ساتھ فرمایا ہے، اسے التفات کہتے ہیں، اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے اور کئی حکمتیں بھی ملحوظ ہوتی ہیں۔ ➍ { ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ:} یہ سب اس ہستی کا اندازہ اور مقرر کردہ نظام ہے جو عزت و علم کے ساتھ پوری طرح موصوف ہے۔ وہ سب پر غالب ہے، کوئی اس پر غالب نہیں، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ گزشتہ، موجودہ یا آئندہ کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں، اس لیے اس کے اس نظام میں کوئی غلطی، کوئی حادثہ نہیں اور کسی اور کا اس نظام میں ذرہ برابر دخل نہیں۔ سلسلۂ کلام {” قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ “} سے شروع ہوا تھا اور {” ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ “} پر ختم ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پوری کائنات جس نے چھ دن میں پیدا فرمائی، اس میں موجود ہر چیز حتیٰ کہ تمھیں اور ان چیزوں کو بھی پیدا کیا جنھیں تم نے معبود بنا رکھا ہے، کیا تم اس عظیم ہستی کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کے ساتھ شریک بناتے ہو جس نے یہ سب کچھ کیا ہے؟
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اب بھی یہ روگرداں ہوں تو کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو مثل عادیوں اور ﺛمودیوں کی کڑک ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑ ک سے جیسی کڑ ک عاد اور ثمود پر آئی تھی
علامہ محمد حسین نجفی
پس اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ میں نے تو تمہیں اس (آسمانی) کڑک سے ڈرا دیا ہے جو عاد والی کڑک کی مانند ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں ایک ایسی کڑک سے خبردار کر دیا جو عاد اور ثمود کی کڑک جیسی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13){ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ …: ” صٰعِقَةً “} کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۱۳)۔ سورت کی ابتدائی آیات (۴، ۵) میں اللہ کی کتاب سے اکثر لوگوں کے اعراض کا ذکر فرمایا، اس کے بعد چھ دنوں میں زمین و آسمان کی تخلیق کی تفصیل بیان فرمائی، اب فرمایا کہ اگر یہ لوگ اب بھی نہ مانیں کہ معبود برحق صرف ایک ہے، جس نے یہ زمین و آسمان اور ساری کائنات بنائی ہے اور اس حقیقت سے اعراض پر اڑے رہیں، تو ان سے کہہ دیں کہ تم سے پہلے بھی کئی اقوام نے یہ روش اختیار کی جو تم اختیار کر رہے ہو۔ سو میں تمھیں اس جیسے عذاب اور کڑکنے والی بجلی سے ڈراتا ہوں جو تم سے پہلی اقوام عاد و ثمود پر گری تھی۔ عاد و ثمود کے تعارف کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۶۵ تا ۷۹)۔
جب خدا کے رسول اُن کے پاس آگے اور پیچھے، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا "ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے پاس جب ان کے آگے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بولے ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے
علامہ محمد حسین نجفی
جبکہ ان کے پاس (اللہ کے) رسول(ع) ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے آئے (اس پیغام کے ساتھ) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مگر انہوں نے (جواب میں) کہا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو (ہماری طرف) فرشتے نازل کرتا۔ لہٰذا جس (پیغام) کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب ان کے پاس ان کے رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، انھوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے نازل کر دیتا، پس بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
14۔ 1 یعنی چونکہ تم ہماری طرح ہی کے انسان ہو، اس لئے ہم تمہیں نبی نہیں مان سکتے اللہ تعالیٰ کو نبی بھیجنا ہوتا تو فرشتوں کو بھیجتا نہ کہ انسانوں کو۔
(آیت 14) ➊ { اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ:} دونوں قوموں کی طرف آنے والے دو رسولوں ہود اور صالح علیھما السلام کے لیے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے، یا مراد دونوں پیغمبروں میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغام حق پہنچانے والے مومن بھی ہیں، جنھوں نے ہر طرح اور ہر جانب سے آ کر انھیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ آگے پیچھے سے مراد ہر طرف سے اور ہر طرح سے آ کر سمجھانا ہے، جیسا کہ ابلیس نے کہا تھا: «ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَيْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىِٕلِهِمْ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ» [ الأعراف: ۱۷ ] ”پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آؤں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔“ ➋ { اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ: ” أَلَّا “ ”أَنْ لَا “} ہے، اس میں {”أَنْ“} تفسیریہ ہے، یعنی تمام رسولوں کی دعوت یہ تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو۔ ➌ { قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۹، ۱۰) اور سورۂ بنی اسرائیل (۹۴، ۹۵)۔
عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے "کون ہے ہم سے زیادہ زور آور" اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اب عاد نے تو بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وه ان سے (بہت ہی) زیاده زور آور ہے، وه (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو قومِ عاد نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور کہا کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے؟ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ (اور نہ یہ سوچا) کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے کہ وہ ان سے بڑھ کر طاقتور ہے وہ (ہمیشہ) ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو عاد تھے وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے کہا ہم سے قوت میں کون زیادہ سخت ہے؟ اور کیا انھوںنے نہیںدیکھا کہ وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
15۔ 1 اس فقرے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ عذاب روک لینے پر قادر ہیں کیونکہ وہ دراز قد اور نہایت زور آور تھے یہ انہوں نے اس وقت کہا جب ان کے پیغمبر حضرت ہود ؑ نے ان کو انذار و تنبیہ کے لیے عذاب الہی سے ڈرایا۔ 15۔ 1 یعنی کیا وہ اللہ سے بھی زیادہ زور آور ہیں، جس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں قوت و طاقت سے نوازا۔ کیا ان کے بنانے کے بعد اس کی اپنی قوت و طاقت ختم ہوگئی ہے؟ یہ استفہام استنکار اور توبیخ کے لیے ہے۔ 15۔ 2 ان معجزات کا جو انبیاء کو ہم نے دیئے تھے یا ان دلائل کا جو پیغمبروں کے ساتھ نازل کیے تھے یا ان آیات تکوینیہ کا جو کائنات میں پھیلی اور بکھری ہوئی ہیں۔
(آیت 15) ➊ {فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا۠ فِي الْاَرْضِ …:} اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو ایسے لمبے قد، جسمانی قوت اور دنیوی ترقی کے اسباب عطا فرمائے تھے کہ اس کے فرمان کے مطابق اس جیسی کوئی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا: «اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ (6) اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ (7) الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [ الفجر: ۶ تا ۸ ] ”کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کس طرح کیا۔ (وہ عاد) جو ارم (قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔ وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔“ اور فرمایا: «اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ (128) وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ (129) وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ» [الشعراء: ۱۲۸ تا ۱۳۰ ] ”کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔ اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔ اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ جب ہود علیہ السلام نے انھیں توحید کی دعوت دی تو انھوں نے یہ جان لینے کے باوجود کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، محض اپنی بڑائی اور سرداری کے گمان میں انھیں جھٹلا دیا، کیونکہ انھیں رسول ماننے کی صورت میں ان کی اطاعت اختیار کرنا پڑتی تھی، جس کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ ➋ { وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً:} جب ہود علیہ السلام نے انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے جس سے ہم خوف کھائیں؟ ہم آنے والا ہر عذاب ہٹا سکتے ہیں۔ آج کل بھی ملحد لوگ آسمانی آفات کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ شاہ عبد القار لکھتے ہیں: ”ان کے جسم بڑے بڑے ہوتے تھے، بدن کی قوت پر غرور آیا، غرور کا دم بھرنا اللہ کے ہاں وبال لاتا ہے۔“ (موضح) ➌ {اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَهُمْ …: ” اَوَ لَمْ يَرَوْا “} کا معنی {”أَوَ لَمْ يَعْلَمُوْا“} ہے، یہ رؤیت علمی ہے۔ یعنی کیا انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ کتنی قوت والے سہی، اس اللہ سے زیادہ قوت والے نہیں ہو سکتے جس نے انھیں پیدا کیا؟ یقینا انھیں یہ معلوم تھا، استفہام انکاری ہے۔ ➍ {وَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ: ”جُحُوْدٌ“} کا معنی ”جاننے کے باوجود انکار کرنا“ ہے۔ یعنی دل میں ان کا حق ہونا سمجھتے تھے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کرتے چلے جاتے تھے۔ آیات سے مراد انبیاء پر نازل ہونے والی آیات بھی ہیں، ان کے معجزات بھی اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی پھیلی ہوئی بے شمار نشانیاں بھی۔
آخرکار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
بالﺂخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں، اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیاده رسوائی واﻻ ہے اور وه مدد نہیں کیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
سو ہم نے ان پر خاص منحوس دنوں میں تیز و تند (طوفانی) ہوا بھیجی تاکہ ہم انہیں زندگانئِ دنیا میں ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو زیادہ رسوا کن ہوگا اور ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ان پر ایک سخت تند ہوا چند منحوس دنوں میں بھیجی، تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والاہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
16۔ 1 صر صر، صرۃ (آواز) سے ہے۔ یعنی ایسی ہوا جس میں سخت آواز تھی، یعنی نہایت تند اور تیز ہوا، جس میں آواز بھی ہوتی ہے بعض کہتے ہیں یہ صر سے ہے جس کے معنی برد ٹھنڈک کے ہیں یعنی ایسی پالے والی ہوا جو آگ کی طرح جلا ڈالتی ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں والحق انہا متصفۃ بجمیع ذلک وہ ہوا ان تمام ہی باتوں سے متصف تھی۔ 16۔ 2 نحسات کا ترجمہ، بعض نے متواتر پے درپے کا کیا ہے کیونکہ یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، بعض نے گرد و غبار یہ ایام جن میں ان پر سخت ہوا کا طوفان جاری رہا، انکے لئے منحوس ثابت ہوئے۔ یہ نہیں کہ ایام ہی منحوس ہیں۔
(آیت 16) ➊ { فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا: ” صَرْصَرًا “ ”صِرٌّ“} (صاد پر کسرہ) سے ہے، سردی کی شدت جو بدن سکیڑ کر رکھ دے، یعنی شدید ٹھنڈی ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ» [ آل عمران: ۱۱۷] ”اس ہوا کی مثال جیسی ہے جس میں سخت سردی ہے۔“ یا {”صَرَّةٌ“} سے ہے، جس کا معنی ”خوفناک چیخ“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ» [ الذاریات: ۲۹ ] ”تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی۔“ یہاں دونوں معنی اکٹھے ملحوظ ہیں کہ وہ ہوا نہایت ٹھنڈی اور خوفناک چیخ جیسی آواز والی تھی۔ {” صَرْصَرًا “} میں حروف مکرر ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی ہم نے ان پر نہایت خوفناک آواز والی شدید ٹھنڈی تیز و تند آندھی بھیجی اور اسی ہوا کو جو ان کی زندگی کے قیام اور دل کی راحت کا باعث تھی اور جسے وہ بالکل معمولی اور بے ضرر سمجھتے تھے، ان کی ہلاکت کا سامان بنا دیا اور ان کی کوئی قوت انھیں بچا نہ سکی۔ ➋ {فِيْۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ: ” نَحِسَاتٍ “ ”نَحْسٌ“} (نون کے فتحہ اور حاء کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ» [ القمر: ۱۹ ] ”ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔“ {” نَحْسٌ“} اور {”مَنْحُوْسٌ“} (بدقسمتی والا) {”سَعْدٌ“} (خوش قسمتی والا) کی ضد ہے۔ فی الحقیقت اپنی ذات میں کوئی چیز منحوس نہیں، یہ صرف اضافی چیز ہے، یعنی ایک ہی شے کسی کے حق میں خوش قسمتی کا باعث ہوتی ہے اور کسی کے حق میں بدقسمتی کا، جیسا کہ آندھی کے یہ ایام قومِ عاد کے حق میں منحوس تھے مگر ہود علیہ السلام اور ایمان والوں کے لیے ان دنوں سے زیادہ خوش قسمتی والا دن اور کون سا ہو گا۔ اس آندھی کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۲)، قمر (۱۸ تا ۲۰)، ذاریات (۴۱، ۴۲) اور سورۂ حاقہ (۶ تا ۸)۔ بعض مسلمان کہلانے والے بھی بعض دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، جیسے دس محرم، کیونکہ اس میں حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، حالانکہ اس دس محرم کو موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہوئی، جس کی خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔ بعض لوگ صفر کے کچھ دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا عقیدہ باطل ہے۔ ➌ { لِنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یہ ذلت و رسوائی ان کے غرور اور تکبر کا جواب تھا کہ وہی زمین جس پر وہ بڑے بنے ہوئے تھے اسی پر ان کے بے جان لاشے کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرے پڑے تھے۔ ➍ { وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى …:} یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے، اس لیے کہ وہ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کے سامنے ہو گا، پھر دنیا میں تو ظاہری اسباب کے ساتھ شاید کوئی مدد کے لیے پہنچ جائے، وہاں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر دنیا کی رسوائی تو ایک وقت تک ہے، جب کہ وہاں کی رسوائی ہمیشہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
رہے ثمود، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنا رہنا پسند کیا آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا
مولانا محمد جوناگڑھی
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا سزا ان کے کیے کی
علامہ محمد حسین نجفی
رہے ثمود! ہم نے ان کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت پر اندھے پن (گمراہی) کو ترجیح دی۔ پس ان کو ذلت کے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو ثمود تھے تو ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوںنے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا تو انھیںذلیل کرنے والے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا، اس کی وجہ سے جو وہ کماتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
17۔ 1 یعنی ان کو توحید کی دعوت دی، اس کے دلائل ان کے سامنے واضح کئے اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کے ذریعے سے ان پر حجت تمام کی۔ 17۔ 2 یعنی انہوں نے مخالفت کی حتیٰ کہ اس اونٹنی تک کو ذبح کر ڈالا جو بطور معجزہ ان کی خواہش پر چٹان سے ظاہر کی گئی تھی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی۔ 17۔ 2 صاعقۃ عذاب شدید کو کہتے ہیں ان پر یہ سخت عذاب چنگھاڑ اور زلزلے کی صورت میں آیا جس نے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ تباہ و برباد کردیا۔
(آیت 17) ➊ {وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ …:} قوم ثمود کے تعارف کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)۔ ہدایت کی تفسیر کے لیے سورۂ فاتحہ کی آیت: { اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ } کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یعنی ہم نے انھیں راہِ حق دکھا دیا، مگر انھوں نے ہدایت قبول کرنے کے بجائے اندھا اور گمراہ رہنے کو ترجیح دی۔ ➋ {فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ …:” الْهُوْنِ “} اور{”اَلْهَوَانُ“} معنی ذلت، یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ ثمود پر آنے والے عذاب کو کہیں {” الرَّجْفَةُ “} (زلزلہ) کہا گیا ہے، کہیں {” الصَّيْحَةُ “} (سخت چیخ) یہاں اسے بجلی کی کڑک کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک سخت چیخ تھی جس میں بجلی کی کڑک اور شعلہ تھا، ساتھ ہی شدید زلزلہ تھا جس سے ان کے جگر پھٹ گئے اور سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ یہ ذلت کا عذاب ان کے اعمال بد کا انجام تھا۔
اور ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بد عملی سے پرہیز کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (ہاں) ایماندار اور پارساؤں کو ہم نے (بال بال) بچا لیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے انہیں بچالیا جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لاتے تھے اور (ہماری نافرمانی سے) ڈرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18) {وَ نَجَّيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت ہے کہ اتنے شدید عذاب، زلزلے، خوف ناک چیخ اور بجلیاں چمکنے اور گرنے کے باوجود کسی مسلمان کا بال تک بیکا نہیں ہوا، وہ سب اللہ کے فضل سے صحیح و سلامت رہے۔
اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ﻻئے جائیں گے اور ان (سب) کو جمع کر دیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے اور پھر ترتیب وار کھڑے کئے جائیں گے (یا پھر روکے جائیں گے)۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ’ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] یعنی ’ گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ‘۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے، کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی حکم بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا۔ وہی تو تمہارا ابتداء پیدا کرنے والا ہے اسی نے ہرچیز کو زبان عطا فرمائی ہے۔ خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟
مسند بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دیئے پھر فرمایا: { تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے }؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”فرمایئے کیا وجہ ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا۔ کہے گا کہ ”اے اللہ! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا“؟ اللہ تعالیٰ اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا کہ ”میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا۔“ اللہ فرمائے گا ’ کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت ناکافی ہے ‘؟ لیکن پھر بھی وہ باربار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا۔ پس اتمام حجت کیلئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا کہ اس نے جو جو کیا تھا اس کی گواہی تم دو۔ جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا کہ ”میں تو تمہارے ہی بچاؤ کیلئے لڑ جھگڑ رہا تھا“ } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2969]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کافر و منافق کو حساب کیلئے بلایا جائے گا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش ہوں گے تو قسمیں کھا کھا کر انکار کرے گا اور کہے گا اے اللہ تیرے فرشتوں نے وہ لکھ لیا ہے جو میں نے ہرگز نہیں کیا فرشتے کہیں گے فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں عمل نہیں کیا؟ یہ کہے گا اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے ہرگز نہیں کیا۔ اب منہ پر مہر مار دی جائے گی اور اعضاء بدن گواہی دیں گے سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی۔“ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن کافر کے سامنے اس کی بداعمالیاں لائی جائیں گی تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے پڑوسی جو شاہد ہیں ‘۔ یہ کہے گا سب جھوٹے ہیں۔ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے کنبے قبیلے والے جو گواہ ہیں ‘۔ کہے گا یہ بھی سب جھوٹے ہیں۔ اللہ ان سے قسم دلوائے گا، وہ قسم کھائیں گے لیکن یہ انکار ہی کرے گا۔ سب کو اللہ چپ کرا دے گا اور خود ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی پھر انہیں جہنم واصل کر دیا جائے گا }۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عباس فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ایک وقت تو وہ ہو گا کہ نہ کسی کو بولنے کی اجازت ہو گی نہ عذر معذرت کرنے کی۔ پھر جب اجازت دی جائے گی تو بولنے لگیں گے اور جھگڑے کریں گے اور انکار کریں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ پھر گواہوں کو لایا جائے گا آخر زبانیں بند ہو جائیں گی اور خود اعضاء بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ گواہی دیں گے۔ پھر زبانیں کھول دی جائیں گی تو اپنے اعضاء بدن کو ملامت کریں گے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ نے قوت گویائی دی اور ہم نے صحیح صحیح کہا پس زبانی اقرار بھی ہو جائے گا۔“
ابن ابی حاتم میں رافع ابوالحسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اپنے کرتوت کے انکار پر زبان اتنی موٹی ہو جائے گی کہ بولا نہ جائے گا۔ پھر جسم کے اعضاء کو حکم ہو گا تم بولو تو ہر ایک اپنا اپنا عمل بتا دے گا کان، آنکھ، کھال، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ۔“ اور بھی اسی طرح کی بہت سی روایتیں سورۃ یٰسین کی آیت «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [36-يس:65] ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ جنہیں دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے پوچھا { تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ }۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علماء کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لیے ہوئے آ رہی تھی انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے۔ اور ایک ایک عمل کھل جائے گا اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا اس قوم کو اللہ تعالیٰ کس طرح پاک کرے جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے؟ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:18457:] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابن ابی الدنیا میں یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے، جب یہ اپنے اعضاء کو ملامت کریں گے تو اعضاء جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ تمہارے اعمال دراصل کچھ پوشیدہ نہ تھے اللہ کے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے تم کفر و معاصی میں مستغرق رہتے تھے اور کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ تم سمجھے ہوئے تھے کہ ہمارے بہت سے اعمال اس سے مخفی ہیں، اسی فاسد خیال نے تمہیں تلف اور برباد کر دیا اور آج کے دن تم برباد ہو گئے۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں کعبتہ اللہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا جو تین شخص آئے بڑے پیٹ اور کم عقل والے ایک نے کہا کیوں جی ہم جو بولتے چالتے ہیں اسے اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اگر اونچی آواز سے بولیں تو تو سنتا ہے اور آہستہ آواز سے باتیں کریں تو نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا اگر کچھ سنتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا اس پر آیت «وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:22] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4817] مسند عبد الرزق میں ہے { منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ہے کہ ’ میرے ساتھ میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ }۔ حسن رحمہ اللہ اتنا فرما کر کچھ تامل کر کے فرمانے لگے ”جس کا جیسا گمان اللہ کے ساتھ ہوتا نیک ظن ہوتا ہے وہ اعمال بھی اچھے کرتا ہے اور کافر و منافق چونکہ اللہ کے ساتھ بدظن ہوتے ہیں وہ اعمال بھی بد کرتے ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔“۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11469:حسن]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ نیک ظن ہو۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ برے خیالات رکھے اللہ نے انہیں تہ و بالا کر دیا۔ پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:حدیث صحیح وهذا اسناد ضعیف] آگ جہنم میں صبر سے پڑے رہنا اور بے صبری کرنا ان کیلئے یکساں ہے۔ نہ ان کی عذر معذرت مقبول نہ ان کے گناہ معاف۔ یہ دنیا کی طرف اگر لوٹنا چاہیں تو وہ راہ بھی بند جیسے اور جگہ ہے «قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [23-المؤمنون:106-108] ’ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی۔ یقیناً ہم بے راہ تھے۔ اے اللہ اب تو یہاں سے نجات دے۔ اگر ایسا کریں تو پھر ہمیں ہمارے ظلم کی سزا دینا ‘۔ لیکن جناب باری کی طرف سے جواب آئے گا کہ ’ اب یہ منصوبے بےسود ہیں۔ دھتکارے ہوئے یہیں پڑے رہو خبردار جو مجھ سے بات کی ‘۔
19۔ 1 یہاں اذکر محذوف ہے وہ وقت یاد کرو جب اللہ کے دشمنوں کو جہنم کے فرشتے جمع کریں گے یعنی اول سے آخر تک کے دشمنوں کا اجتماع ہوگا۔ 19۔ 1 ای یحبس اولھم علی آخرھم لیلا حقوا (فتح القدیر) یعنی ان کو روک روک کر اول وآخر کو باہم جمع کیا جائے گا اس لفظ کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورة النمل آیت نمبر 17 (وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ) کا حاشیہ
(آیت 19) ➊ { وَ يَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ:} لفظ {” يَوْمَ “ ”اُذْكُرْ“} کا مفعول ہے جو یہاں مقدر ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ واؤ کا عطف کس پر ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے پہلے انبیاء کو جھٹلانے والے منکرین پر دنیا میں آنے والے عذابوں کا ذکر فرمایا تھا، اب آخرت میں ان کے ہونے والے حال کا ذکر فرمایا۔ چنانچہ آخرت کا حال یاد دلانے والے اس جملے کا عطف اس مقدر جملے پر ہے جس میں ان پر دنیا میں آنے والے عذاب یاد دلائے گئے ہیں۔ گویا اصل عبارت یہ تھی: {” اُذْكُرْ أَيَّامَ أَعْدَاءِ اللّٰهِ فِي الدُّنْيَا فِيْ إِنْزَالِ الْعَذَابِ لَهُمْ وَاذْكُرْ يَوْمَ يُحْشَرُوْنَ إِلَي النَّارِ۔“} یعنی ”انھیں اللہ کے دشمنوں پر دنیا میں آنے والے عذابوں کی یاد دہانی کروا اور انھیں وہ دن یاد دلا جب وہ آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔“ آیات کی ابتدا میں آنے والی واؤ عاطفہ کی مناسبت ہر جگہ{” نَظْمُ الدُّرَرِ فِيْ تَنَاسُبِ الْآيَاتِ وَالسُّوَرِ “} کے مصنف نے نہایت عمدہ بیان فرمائی ہے۔ میں نے اختصار کے پیش نظر صرف چند ایک مقامات پر اس کا ذکر کیا ہے، اصحاب ذوق اصل کتاب سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ➋ { فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ: ” وَزَعَ يَزَعُ “} کا اصل معنی روکنا، ترتیب دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف اکٹھا کرکے لے جایا جائے گا اور انھیں اس طرح اکٹھا کیا جائے گا کہ آگے والوں کو آگے جانے سے اور پیچھے والوں کو پیچھے جانے سے روک کر اکٹھا کر لیا جائے گا، پھر ان کی الگ الگ ترتیب لگائی جائے گی، ان کے جرائم کے مطابق ان کی ٹولیاں بنائی جائیں گی اور انھیں دھکیل کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ حم السجدہ(۱۹) اور سورۂ صافات (۲۲ تا ۲۶)۔
پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کےپاس آجائیں گے اور ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ پچھلے آ ملیں یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کیے کی گواہی دیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچ جائیں تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے برخلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جوں ہی اس کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ’ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] یعنی ’ گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ‘۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے، کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی حکم بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا۔ وہی تو تمہارا ابتداء پیدا کرنے والا ہے اسی نے ہرچیز کو زبان عطا فرمائی ہے۔ خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟
مسند بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دیئے پھر فرمایا: { تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے }؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”فرمایئے کیا وجہ ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا۔ کہے گا کہ ”اے اللہ! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا“؟ اللہ تعالیٰ اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا کہ ”میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا۔“ اللہ فرمائے گا ’ کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت ناکافی ہے ‘؟ لیکن پھر بھی وہ باربار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا۔ پس اتمام حجت کیلئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا کہ اس نے جو جو کیا تھا اس کی گواہی تم دو۔ جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا کہ ”میں تو تمہارے ہی بچاؤ کیلئے لڑ جھگڑ رہا تھا“ } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2969]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کافر و منافق کو حساب کیلئے بلایا جائے گا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش ہوں گے تو قسمیں کھا کھا کر انکار کرے گا اور کہے گا اے اللہ تیرے فرشتوں نے وہ لکھ لیا ہے جو میں نے ہرگز نہیں کیا فرشتے کہیں گے فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں عمل نہیں کیا؟ یہ کہے گا اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے ہرگز نہیں کیا۔ اب منہ پر مہر مار دی جائے گی اور اعضاء بدن گواہی دیں گے سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی۔“ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن کافر کے سامنے اس کی بداعمالیاں لائی جائیں گی تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے پڑوسی جو شاہد ہیں ‘۔ یہ کہے گا سب جھوٹے ہیں۔ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے کنبے قبیلے والے جو گواہ ہیں ‘۔ کہے گا یہ بھی سب جھوٹے ہیں۔ اللہ ان سے قسم دلوائے گا، وہ قسم کھائیں گے لیکن یہ انکار ہی کرے گا۔ سب کو اللہ چپ کرا دے گا اور خود ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی پھر انہیں جہنم واصل کر دیا جائے گا }۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عباس فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ایک وقت تو وہ ہو گا کہ نہ کسی کو بولنے کی اجازت ہو گی نہ عذر معذرت کرنے کی۔ پھر جب اجازت دی جائے گی تو بولنے لگیں گے اور جھگڑے کریں گے اور انکار کریں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ پھر گواہوں کو لایا جائے گا آخر زبانیں بند ہو جائیں گی اور خود اعضاء بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ گواہی دیں گے۔ پھر زبانیں کھول دی جائیں گی تو اپنے اعضاء بدن کو ملامت کریں گے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ نے قوت گویائی دی اور ہم نے صحیح صحیح کہا پس زبانی اقرار بھی ہو جائے گا۔“
ابن ابی حاتم میں رافع ابوالحسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اپنے کرتوت کے انکار پر زبان اتنی موٹی ہو جائے گی کہ بولا نہ جائے گا۔ پھر جسم کے اعضاء کو حکم ہو گا تم بولو تو ہر ایک اپنا اپنا عمل بتا دے گا کان، آنکھ، کھال، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ۔“ اور بھی اسی طرح کی بہت سی روایتیں سورۃ یٰسین کی آیت «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [36-يس:65] ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ جنہیں دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے پوچھا { تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ }۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علماء کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لیے ہوئے آ رہی تھی انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے۔ اور ایک ایک عمل کھل جائے گا اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا اس قوم کو اللہ تعالیٰ کس طرح پاک کرے جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے؟ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:18457:] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابن ابی الدنیا میں یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے، جب یہ اپنے اعضاء کو ملامت کریں گے تو اعضاء جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ تمہارے اعمال دراصل کچھ پوشیدہ نہ تھے اللہ کے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے تم کفر و معاصی میں مستغرق رہتے تھے اور کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ تم سمجھے ہوئے تھے کہ ہمارے بہت سے اعمال اس سے مخفی ہیں، اسی فاسد خیال نے تمہیں تلف اور برباد کر دیا اور آج کے دن تم برباد ہو گئے۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں کعبتہ اللہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا جو تین شخص آئے بڑے پیٹ اور کم عقل والے ایک نے کہا کیوں جی ہم جو بولتے چالتے ہیں اسے اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اگر اونچی آواز سے بولیں تو تو سنتا ہے اور آہستہ آواز سے باتیں کریں تو نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا اگر کچھ سنتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا اس پر آیت «وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:22] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4817] مسند عبد الرزق میں ہے { منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ہے کہ ’ میرے ساتھ میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ }۔ حسن رحمہ اللہ اتنا فرما کر کچھ تامل کر کے فرمانے لگے ”جس کا جیسا گمان اللہ کے ساتھ ہوتا نیک ظن ہوتا ہے وہ اعمال بھی اچھے کرتا ہے اور کافر و منافق چونکہ اللہ کے ساتھ بدظن ہوتے ہیں وہ اعمال بھی بد کرتے ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔“۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11469:حسن]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ نیک ظن ہو۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ برے خیالات رکھے اللہ نے انہیں تہ و بالا کر دیا۔ پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:حدیث صحیح وهذا اسناد ضعیف] آگ جہنم میں صبر سے پڑے رہنا اور بے صبری کرنا ان کیلئے یکساں ہے۔ نہ ان کی عذر معذرت مقبول نہ ان کے گناہ معاف۔ یہ دنیا کی طرف اگر لوٹنا چاہیں تو وہ راہ بھی بند جیسے اور جگہ ہے «قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [23-المؤمنون:106-108] ’ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی۔ یقیناً ہم بے راہ تھے۔ اے اللہ اب تو یہاں سے نجات دے۔ اگر ایسا کریں تو پھر ہمیں ہمارے ظلم کی سزا دینا ‘۔ لیکن جناب باری کی طرف سے جواب آئے گا کہ ’ اب یہ منصوبے بےسود ہیں۔ دھتکارے ہوئے یہیں پڑے رہو خبردار جو مجھ سے بات کی ‘۔
20۔ 1 یعنی جب وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا، تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء بول کر گواہی دیں گے کہ یہ فلاں فلاں کام کرتے رہے۔ اذا ما جاءوھا میں ما زائد ہے تاکید کے لیے انسان کے اندر پانچ حواس ہیں یہاں دو کا ذکر ہے تیسری جلد میں کھال کا ذکر ہے جو مس یا لمس کا آلہ ہے یوں حواس کی تین قسمیں ہوگئیں باقی دو حواس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ذوق بوجہ لمس میں داخل ہے کیونکہ یہ چکھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس شئے کو زبان کی جلد پر نہ رکھا جائے اسی طرح سونگھنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ شئے ناک کی جلد پر نہ گزرے اس اعتبار سے جلود کے لفظ میں تین حواس آجاتے ہیں۔ فتح القدیر
(آیت 20) {حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ …:} زمخشری نے فرمایا: {” اِذَا “} کے بعد لفظ{” مَا “} اس کی تاکید کے لیے ہے، تاکید کا مطلب یہ ہے کہ آگ کے پاس پہنچنے کا وقت ہی ان پر شہادت کا وقت ہو گا، یہ نہیں کہ کچھ وقت شہادت سے خالی ہو۔“ (کشاف) اس لیے میں نے {” اِذَا مَا “} کا ترجمہ ”جونہی“ کیا ہے۔ یعنی آگ کے پاس پہنچنے پر جب وہ اپنے جرائم سے انکار کریں گے تو فوراً ہی ان کے کان، آنکھیں اور چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ اس کی تفصیل سورۂ یس کی آیت (۶۵): «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ» میں گزر چکی ہے۔
وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے "تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟"وہ جواب دیں گی "ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی، وه جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے، اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ تو وہ کہیں گی کہ ہمیں اسی اللہ نے گویائی عطا کی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی دی اور اسی نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور پھر اسی کی طرف تمہاری بازگشت ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ’ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] یعنی ’ گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ‘۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے، کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی حکم بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا۔ وہی تو تمہارا ابتداء پیدا کرنے والا ہے اسی نے ہرچیز کو زبان عطا فرمائی ہے۔ خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟
مسند بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دیئے پھر فرمایا: { تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے }؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”فرمایئے کیا وجہ ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا۔ کہے گا کہ ”اے اللہ! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا“؟ اللہ تعالیٰ اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا کہ ”میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا۔“ اللہ فرمائے گا ’ کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت ناکافی ہے ‘؟ لیکن پھر بھی وہ باربار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا۔ پس اتمام حجت کیلئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا کہ اس نے جو جو کیا تھا اس کی گواہی تم دو۔ جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا کہ ”میں تو تمہارے ہی بچاؤ کیلئے لڑ جھگڑ رہا تھا“ } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2969]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کافر و منافق کو حساب کیلئے بلایا جائے گا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش ہوں گے تو قسمیں کھا کھا کر انکار کرے گا اور کہے گا اے اللہ تیرے فرشتوں نے وہ لکھ لیا ہے جو میں نے ہرگز نہیں کیا فرشتے کہیں گے فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں عمل نہیں کیا؟ یہ کہے گا اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے ہرگز نہیں کیا۔ اب منہ پر مہر مار دی جائے گی اور اعضاء بدن گواہی دیں گے سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی۔“ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن کافر کے سامنے اس کی بداعمالیاں لائی جائیں گی تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے پڑوسی جو شاہد ہیں ‘۔ یہ کہے گا سب جھوٹے ہیں۔ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے کنبے قبیلے والے جو گواہ ہیں ‘۔ کہے گا یہ بھی سب جھوٹے ہیں۔ اللہ ان سے قسم دلوائے گا، وہ قسم کھائیں گے لیکن یہ انکار ہی کرے گا۔ سب کو اللہ چپ کرا دے گا اور خود ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی پھر انہیں جہنم واصل کر دیا جائے گا }۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عباس فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ایک وقت تو وہ ہو گا کہ نہ کسی کو بولنے کی اجازت ہو گی نہ عذر معذرت کرنے کی۔ پھر جب اجازت دی جائے گی تو بولنے لگیں گے اور جھگڑے کریں گے اور انکار کریں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ پھر گواہوں کو لایا جائے گا آخر زبانیں بند ہو جائیں گی اور خود اعضاء بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ گواہی دیں گے۔ پھر زبانیں کھول دی جائیں گی تو اپنے اعضاء بدن کو ملامت کریں گے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ نے قوت گویائی دی اور ہم نے صحیح صحیح کہا پس زبانی اقرار بھی ہو جائے گا۔“
ابن ابی حاتم میں رافع ابوالحسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اپنے کرتوت کے انکار پر زبان اتنی موٹی ہو جائے گی کہ بولا نہ جائے گا۔ پھر جسم کے اعضاء کو حکم ہو گا تم بولو تو ہر ایک اپنا اپنا عمل بتا دے گا کان، آنکھ، کھال، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ۔“ اور بھی اسی طرح کی بہت سی روایتیں سورۃ یٰسین کی آیت «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [36-يس:65] ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ جنہیں دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے پوچھا { تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ }۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علماء کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لیے ہوئے آ رہی تھی انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے۔ اور ایک ایک عمل کھل جائے گا اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا اس قوم کو اللہ تعالیٰ کس طرح پاک کرے جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے؟ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:18457:] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابن ابی الدنیا میں یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے، جب یہ اپنے اعضاء کو ملامت کریں گے تو اعضاء جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ تمہارے اعمال دراصل کچھ پوشیدہ نہ تھے اللہ کے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے تم کفر و معاصی میں مستغرق رہتے تھے اور کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ تم سمجھے ہوئے تھے کہ ہمارے بہت سے اعمال اس سے مخفی ہیں، اسی فاسد خیال نے تمہیں تلف اور برباد کر دیا اور آج کے دن تم برباد ہو گئے۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں کعبتہ اللہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا جو تین شخص آئے بڑے پیٹ اور کم عقل والے ایک نے کہا کیوں جی ہم جو بولتے چالتے ہیں اسے اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اگر اونچی آواز سے بولیں تو تو سنتا ہے اور آہستہ آواز سے باتیں کریں تو نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا اگر کچھ سنتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا اس پر آیت «وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:22] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4817] مسند عبد الرزق میں ہے { منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ہے کہ ’ میرے ساتھ میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ }۔ حسن رحمہ اللہ اتنا فرما کر کچھ تامل کر کے فرمانے لگے ”جس کا جیسا گمان اللہ کے ساتھ ہوتا نیک ظن ہوتا ہے وہ اعمال بھی اچھے کرتا ہے اور کافر و منافق چونکہ اللہ کے ساتھ بدظن ہوتے ہیں وہ اعمال بھی بد کرتے ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔“۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11469:حسن]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ نیک ظن ہو۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ برے خیالات رکھے اللہ نے انہیں تہ و بالا کر دیا۔ پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:حدیث صحیح وهذا اسناد ضعیف] آگ جہنم میں صبر سے پڑے رہنا اور بے صبری کرنا ان کیلئے یکساں ہے۔ نہ ان کی عذر معذرت مقبول نہ ان کے گناہ معاف۔ یہ دنیا کی طرف اگر لوٹنا چاہیں تو وہ راہ بھی بند جیسے اور جگہ ہے «قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [23-المؤمنون:106-108] ’ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی۔ یقیناً ہم بے راہ تھے۔ اے اللہ اب تو یہاں سے نجات دے۔ اگر ایسا کریں تو پھر ہمیں ہمارے ظلم کی سزا دینا ‘۔ لیکن جناب باری کی طرف سے جواب آئے گا کہ ’ اب یہ منصوبے بےسود ہیں۔ دھتکارے ہوئے یہیں پڑے رہو خبردار جو مجھ سے بات کی ‘۔
21۔ 1 یعنی جب مشرکین اور کفار دیکھیں گے کہ خود ان کے اپنے اعضا ان کے خلاف گواہی دے رہے ہیں، تو ازراہ تعجب یا بطور عتاب اور ناراضگی کے، ان سے کہیں گے۔ 21۔ 1 بعض کے نزدیک وہو سے اللہ کا کلام مراد ہے اس لحاظ سے یہ جملہ مستانفہ ہے اور بعض کے نزدیک جلود انسانی ہی کا اس اعتبار سے یہ انہی کے کلام کا تتمہ ہے قیامت والے دن انسانی اعضاء کے گواہی دینے کا ذکر اس سے قبل (وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 24۔ النور:42) (اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 65) میں بھی گزر چکا ہے اور صحیح احادیث میں بھی اسے بیان کیا گیا ہے مثلا جب اللہ کے حکم سے انسانی اعضا بول کر بتلائیں گے تو بندہ کہے گا بعدا لکن وسحقا فعنکن کنت اناضل (صحیح مسلم، کتاب الزہد) تمہارے لیے ہلاکت اور دوری ہو میں تو تمہاری ہی خاطر چھگڑ رہا اور مدافعت کر رہا تھا اسی روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ بندہ کہے گا کہ میں اپنے نفس کے سوا کسی کی گواہی نہیں مانوں گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں اور میرے فرشتے کراما کاتبین گواہی کے لیے کافی نہیں پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء کو بولنے کا حکم دیا جائے گا (حوالہ مذکورہ)
(آیت 21) ➊ {وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا:} اپنے چمڑوں سے یہ بات وہ پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ تعجب کے اظہار اور ملامت کے لیے کہیں گے کہ تمھی کو بچانے کے لیے تو ہم اللہ تعالیٰ سے جھوٹ بول رہے تھے اور تمھی ہمارے خلاف شہادت دے رہے ہو۔ ➋ { قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ:} اعضا ان کے تعجب اور ملامت دونوں کا جواب دیں گے۔ تعجب کا جواب تو یہ دیں گے کہ ہمارا بولنا کوئی تعجب کی بات نہیں، زبان بولتی تھی تو اللہ کے حکم سے اور اس کے گویائی عطا کرنے سے بولتی تھی، اسی طرح ہر بولنے والی چیز اسی کے حکم سے بولتی ہے، تو اب اس نے ہمیں بلوا دیا تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ ➌ { وَ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یہ چمڑوں کا کلام بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کے منکروں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب بھی ہو سکتا ہے۔
تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیده رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سےاعمال سے اللہ بےخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم (گناہ کرتے وقت) اپنے آپ کو اس بات سے چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہاری خلاف گواہی دیں لیکن تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا جو تم کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ’ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] یعنی ’ گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ‘۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے، کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی حکم بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا۔ وہی تو تمہارا ابتداء پیدا کرنے والا ہے اسی نے ہرچیز کو زبان عطا فرمائی ہے۔ خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟
مسند بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دیئے پھر فرمایا: { تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے }؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”فرمایئے کیا وجہ ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا۔ کہے گا کہ ”اے اللہ! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا“؟ اللہ تعالیٰ اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا کہ ”میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا۔“ اللہ فرمائے گا ’ کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت ناکافی ہے ‘؟ لیکن پھر بھی وہ باربار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا۔ پس اتمام حجت کیلئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا کہ اس نے جو جو کیا تھا اس کی گواہی تم دو۔ جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا کہ ”میں تو تمہارے ہی بچاؤ کیلئے لڑ جھگڑ رہا تھا“ } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2969]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کافر و منافق کو حساب کیلئے بلایا جائے گا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش ہوں گے تو قسمیں کھا کھا کر انکار کرے گا اور کہے گا اے اللہ تیرے فرشتوں نے وہ لکھ لیا ہے جو میں نے ہرگز نہیں کیا فرشتے کہیں گے فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں عمل نہیں کیا؟ یہ کہے گا اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے ہرگز نہیں کیا۔ اب منہ پر مہر مار دی جائے گی اور اعضاء بدن گواہی دیں گے سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی۔“ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن کافر کے سامنے اس کی بداعمالیاں لائی جائیں گی تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے پڑوسی جو شاہد ہیں ‘۔ یہ کہے گا سب جھوٹے ہیں۔ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے کنبے قبیلے والے جو گواہ ہیں ‘۔ کہے گا یہ بھی سب جھوٹے ہیں۔ اللہ ان سے قسم دلوائے گا، وہ قسم کھائیں گے لیکن یہ انکار ہی کرے گا۔ سب کو اللہ چپ کرا دے گا اور خود ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی پھر انہیں جہنم واصل کر دیا جائے گا }۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عباس فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ایک وقت تو وہ ہو گا کہ نہ کسی کو بولنے کی اجازت ہو گی نہ عذر معذرت کرنے کی۔ پھر جب اجازت دی جائے گی تو بولنے لگیں گے اور جھگڑے کریں گے اور انکار کریں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ پھر گواہوں کو لایا جائے گا آخر زبانیں بند ہو جائیں گی اور خود اعضاء بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ گواہی دیں گے۔ پھر زبانیں کھول دی جائیں گی تو اپنے اعضاء بدن کو ملامت کریں گے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ نے قوت گویائی دی اور ہم نے صحیح صحیح کہا پس زبانی اقرار بھی ہو جائے گا۔“
ابن ابی حاتم میں رافع ابوالحسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اپنے کرتوت کے انکار پر زبان اتنی موٹی ہو جائے گی کہ بولا نہ جائے گا۔ پھر جسم کے اعضاء کو حکم ہو گا تم بولو تو ہر ایک اپنا اپنا عمل بتا دے گا کان، آنکھ، کھال، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ۔“ اور بھی اسی طرح کی بہت سی روایتیں سورۃ یٰسین کی آیت «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [36-يس:65] ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ جنہیں دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے پوچھا { تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ }۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علماء کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لیے ہوئے آ رہی تھی انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے۔ اور ایک ایک عمل کھل جائے گا اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا اس قوم کو اللہ تعالیٰ کس طرح پاک کرے جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے؟ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:18457:] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابن ابی الدنیا میں یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے، جب یہ اپنے اعضاء کو ملامت کریں گے تو اعضاء جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ تمہارے اعمال دراصل کچھ پوشیدہ نہ تھے اللہ کے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے تم کفر و معاصی میں مستغرق رہتے تھے اور کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ تم سمجھے ہوئے تھے کہ ہمارے بہت سے اعمال اس سے مخفی ہیں، اسی فاسد خیال نے تمہیں تلف اور برباد کر دیا اور آج کے دن تم برباد ہو گئے۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں کعبتہ اللہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا جو تین شخص آئے بڑے پیٹ اور کم عقل والے ایک نے کہا کیوں جی ہم جو بولتے چالتے ہیں اسے اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اگر اونچی آواز سے بولیں تو تو سنتا ہے اور آہستہ آواز سے باتیں کریں تو نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا اگر کچھ سنتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا اس پر آیت «وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:22] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4817] مسند عبد الرزق میں ہے { منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ہے کہ ’ میرے ساتھ میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ }۔ حسن رحمہ اللہ اتنا فرما کر کچھ تامل کر کے فرمانے لگے ”جس کا جیسا گمان اللہ کے ساتھ ہوتا نیک ظن ہوتا ہے وہ اعمال بھی اچھے کرتا ہے اور کافر و منافق چونکہ اللہ کے ساتھ بدظن ہوتے ہیں وہ اعمال بھی بد کرتے ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔“۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11469:حسن]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ نیک ظن ہو۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ برے خیالات رکھے اللہ نے انہیں تہ و بالا کر دیا۔ پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:حدیث صحیح وهذا اسناد ضعیف] آگ جہنم میں صبر سے پڑے رہنا اور بے صبری کرنا ان کیلئے یکساں ہے۔ نہ ان کی عذر معذرت مقبول نہ ان کے گناہ معاف۔ یہ دنیا کی طرف اگر لوٹنا چاہیں تو وہ راہ بھی بند جیسے اور جگہ ہے «قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [23-المؤمنون:106-108] ’ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی۔ یقیناً ہم بے راہ تھے۔ اے اللہ اب تو یہاں سے نجات دے۔ اگر ایسا کریں تو پھر ہمیں ہمارے ظلم کی سزا دینا ‘۔ لیکن جناب باری کی طرف سے جواب آئے گا کہ ’ اب یہ منصوبے بےسود ہیں۔ دھتکارے ہوئے یہیں پڑے رہو خبردار جو مجھ سے بات کی ‘۔
22۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے تو چھپنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس بات کا کوئی خوف تمہیں نہیں تھا کہ تمہارے خلاف خود تمہارے اپنے اعضا بھی گواہی دیں گے جن سے چھپنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ اس کی وجہ ان کا بعث و نشور سے انکار اور اس پر عدم یقین تھا۔ 22۔ 1 اس لیے تم اللہ کی حدیں توڑنے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بےباک تھے
(آیت 22) ➊ { وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ …:} یہ ان کی ملامت کا جواب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے اور پردہ کرنے کا تو پورا اہتمام کرتے تھے، مگر تمھیں اس بات کا خوف نہ تھا کہ تمھارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہی تمھارے خلاف تمھارے اعمالِ بد کی شہادت دیں گے۔ اگر تمھیں اس بات کا خوف ہوتا تو تم برے اعمال کر ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ انھی اعضا کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی نافرمانی کرنا تھی۔ ➋ { وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ …:} یعنی بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمھیں یقین نہ تھا کہ قیامت قائم ہو سکتی ہے اور تمھارے اعضا تمھارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے، تم نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ تمھارے بہت سے اعمال کو جانتا ہی نہیں۔ ورنہ اگر تمھیں یقین ہوتا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، تمھاری ہر بات سن رہا ہے اور تمھارے ہر حال کا علم رکھتا ہے تو تم گناہ پر اتنے دلیر نہ ہوتے۔ مشرکینِ قریش کی اس نادانی کا ذکر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: [ اِجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَ قُرَشِيٌّ، كَثِيْرَةٌ شَحْمُ بُطُوْنِهِمْ، قَلِيْلَةٌ فِقْهُ قُلُوْبِهِمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتُرَوْنَ أَنَّ اللّٰهَ يَسْمَعُ مَا نَقُوْلُ؟ قَالَ الْآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا، وَ قَالَ الْآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ: «وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ حٰمٓ السجدۃ، باب: { وذٰلکم ظنکم الذی… }: ۴۸۱۷ ] ”بیت اللہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، جن کے پیٹ کی چربی بہت تھی، (مگر) دلوں کی سمجھ بہت کم تھی۔ تو ان میں سے ایک نے کہا: ”کیا تمھارا خیال ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ سن رہا ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اگر ہم اونچی آواز سے کہیں تو وہ سنتا ہے اور اگر آہستہ کہیں تو نہیں سنتا۔“ ایک اور بولا: ”اگر وہ اس وقت سنتا ہے جب ہم اونچی آواز سے بات کریں تو یقینا وہ اس وقت بھی سنتا ہے جب ہم آہستہ بات کریں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ” اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔“ یاد رہے کہ اس بات کا مطلب کہ یہ آیت فلاں موقع پر اتری، یہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی انھی دنوں میں ہوا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں موقع پر یہ آیت پڑھی، یا یہ کہ وہ آیت اس واقعہ پر بھی منطبق ہوتی ہے، جیسا کہ اصولِ تفسیر میں واضح کیا گیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آیات کا سیاق تو قیامت کے دن کے متعلق ہے۔
تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے"
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری اسی بدگمانی نےجو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالﺂخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے پروردگار کی نسبت کیا تھا تمہیں تباہ کر دیا اور تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ’ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] یعنی ’ گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ‘۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے، کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی حکم بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا۔ وہی تو تمہارا ابتداء پیدا کرنے والا ہے اسی نے ہرچیز کو زبان عطا فرمائی ہے۔ خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟
مسند بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دیئے پھر فرمایا: { تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے }؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”فرمایئے کیا وجہ ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا۔ کہے گا کہ ”اے اللہ! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا“؟ اللہ تعالیٰ اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا کہ ”میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا۔“ اللہ فرمائے گا ’ کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت ناکافی ہے ‘؟ لیکن پھر بھی وہ باربار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا۔ پس اتمام حجت کیلئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا کہ اس نے جو جو کیا تھا اس کی گواہی تم دو۔ جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا کہ ”میں تو تمہارے ہی بچاؤ کیلئے لڑ جھگڑ رہا تھا“ } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2969]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کافر و منافق کو حساب کیلئے بلایا جائے گا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش ہوں گے تو قسمیں کھا کھا کر انکار کرے گا اور کہے گا اے اللہ تیرے فرشتوں نے وہ لکھ لیا ہے جو میں نے ہرگز نہیں کیا فرشتے کہیں گے فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں عمل نہیں کیا؟ یہ کہے گا اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے ہرگز نہیں کیا۔ اب منہ پر مہر مار دی جائے گی اور اعضاء بدن گواہی دیں گے سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی۔“ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن کافر کے سامنے اس کی بداعمالیاں لائی جائیں گی تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے پڑوسی جو شاہد ہیں ‘۔ یہ کہے گا سب جھوٹے ہیں۔ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے کنبے قبیلے والے جو گواہ ہیں ‘۔ کہے گا یہ بھی سب جھوٹے ہیں۔ اللہ ان سے قسم دلوائے گا، وہ قسم کھائیں گے لیکن یہ انکار ہی کرے گا۔ سب کو اللہ چپ کرا دے گا اور خود ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی پھر انہیں جہنم واصل کر دیا جائے گا }۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عباس فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ایک وقت تو وہ ہو گا کہ نہ کسی کو بولنے کی اجازت ہو گی نہ عذر معذرت کرنے کی۔ پھر جب اجازت دی جائے گی تو بولنے لگیں گے اور جھگڑے کریں گے اور انکار کریں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ پھر گواہوں کو لایا جائے گا آخر زبانیں بند ہو جائیں گی اور خود اعضاء بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ گواہی دیں گے۔ پھر زبانیں کھول دی جائیں گی تو اپنے اعضاء بدن کو ملامت کریں گے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ نے قوت گویائی دی اور ہم نے صحیح صحیح کہا پس زبانی اقرار بھی ہو جائے گا۔“
ابن ابی حاتم میں رافع ابوالحسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اپنے کرتوت کے انکار پر زبان اتنی موٹی ہو جائے گی کہ بولا نہ جائے گا۔ پھر جسم کے اعضاء کو حکم ہو گا تم بولو تو ہر ایک اپنا اپنا عمل بتا دے گا کان، آنکھ، کھال، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ۔“ اور بھی اسی طرح کی بہت سی روایتیں سورۃ یٰسین کی آیت «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [36-يس:65] ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ جنہیں دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے پوچھا { تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ }۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علماء کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لیے ہوئے آ رہی تھی انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے۔ اور ایک ایک عمل کھل جائے گا اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا اس قوم کو اللہ تعالیٰ کس طرح پاک کرے جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے؟ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:18457:] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابن ابی الدنیا میں یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے، جب یہ اپنے اعضاء کو ملامت کریں گے تو اعضاء جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ تمہارے اعمال دراصل کچھ پوشیدہ نہ تھے اللہ کے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے تم کفر و معاصی میں مستغرق رہتے تھے اور کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ تم سمجھے ہوئے تھے کہ ہمارے بہت سے اعمال اس سے مخفی ہیں، اسی فاسد خیال نے تمہیں تلف اور برباد کر دیا اور آج کے دن تم برباد ہو گئے۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں کعبتہ اللہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا جو تین شخص آئے بڑے پیٹ اور کم عقل والے ایک نے کہا کیوں جی ہم جو بولتے چالتے ہیں اسے اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اگر اونچی آواز سے بولیں تو تو سنتا ہے اور آہستہ آواز سے باتیں کریں تو نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا اگر کچھ سنتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا اس پر آیت «وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:22] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4817] مسند عبد الرزق میں ہے { منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ہے کہ ’ میرے ساتھ میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ }۔ حسن رحمہ اللہ اتنا فرما کر کچھ تامل کر کے فرمانے لگے ”جس کا جیسا گمان اللہ کے ساتھ ہوتا نیک ظن ہوتا ہے وہ اعمال بھی اچھے کرتا ہے اور کافر و منافق چونکہ اللہ کے ساتھ بدظن ہوتے ہیں وہ اعمال بھی بد کرتے ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔“۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11469:حسن]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ نیک ظن ہو۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ برے خیالات رکھے اللہ نے انہیں تہ و بالا کر دیا۔ پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:حدیث صحیح وهذا اسناد ضعیف] آگ جہنم میں صبر سے پڑے رہنا اور بے صبری کرنا ان کیلئے یکساں ہے۔ نہ ان کی عذر معذرت مقبول نہ ان کے گناہ معاف۔ یہ دنیا کی طرف اگر لوٹنا چاہیں تو وہ راہ بھی بند جیسے اور جگہ ہے «قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [23-المؤمنون:106-108] ’ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی۔ یقیناً ہم بے راہ تھے۔ اے اللہ اب تو یہاں سے نجات دے۔ اگر ایسا کریں تو پھر ہمیں ہمارے ظلم کی سزا دینا ‘۔ لیکن جناب باری کی طرف سے جواب آئے گا کہ ’ اب یہ منصوبے بےسود ہیں۔ دھتکارے ہوئے یہیں پڑے رہو خبردار جو مجھ سے بات کی ‘۔
23۔ 1 یعنی تمہارے اس اعتقاد فاسد اور گمان باطل نے کہ اللہ کو ہمارے بہت سے عملوں کا علم نہیں ہوتا تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا کیونکہ اس کی وجہ سے تم ہر قسم کا گناہ کرنے میں دلیر اور بےخوف ہوگئے تھے اس کی شان نزول میں ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قرشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قرشی جمع ہوئے فربہ بدن قلیل الفہم ان میں سے ایک نے کہا کیا تم سمجھتے ہو ہماری باتیں اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا ہماری جہری باتیں سنتا ہے اور سری باتیں نہیں سنتا ایک اور نے کہا اگر وہ ہماری جہری باتیں سنتا ہے تو ہماری سری باتیں بھی یقینا سنتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت وما کنتم تسترون نازل فرمائی (صحیح بخاری، تفسیر سورة حم السجدۃ)
(آیت 23) {وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ …:” ذٰلِكُمْ “} کی خبر{” ظَنُّكُمْ “} معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”یہی تمھارا گمان تھا“ کیا گیا ہے۔ {”أَرْدٰي يُرْدِيْ“} (افعال) ہلاک کرنا۔ یعنی تمھارے اسی باطل گمان اور غلط عقیدے نے کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہوتا، تمھیں ہلاک کر دیا، کیونکہ اس سے تم اس کی نافرمانی پر دلیر ہو گئے اور خسارا پانے والوں میں سے ہو گئے۔ یاد رہے کہ گمراہی کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب صحیح غور و فکر نہ کرنا اور محض گمان کے پیچھے چلتے رہنا ہے۔ مشرکین کی اصل گمراہی بھی یہی تھی، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ» [ الأنعام: ۱۱۶ ] ”وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے۔“ اور فرمایا: «يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ» [ آل عمران: ۱۵۴ ] ”وہ اللہ کے بارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے۔“
اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اب اگر یہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور اگر یہ (عذر اور) معافی کےخواستگار ہوں تو بھی (معذور اور) معاف نہیں رکھے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ منانا چاہیں تو کوئی ان کا منانا نہ مانے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اب اگر وہ صبر کریں بھی تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اگر وہ (خدا کو) راضی کرنا چاہیں تو وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے جن پر (اللہ) راضی ہوا۔
عبدالسلام بن محمد
پس اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کے لیے ٹھکانا ہے اور اگر وہ معافی کی درخواست کریں تو وہ معاف کیے گئے لوگوں سے نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ’ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86] یعنی ’ گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ‘۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے، کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ کی حکم بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا۔ وہی تو تمہارا ابتداء پیدا کرنے والا ہے اسی نے ہرچیز کو زبان عطا فرمائی ہے۔ خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟
مسند بزار میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دیئے پھر فرمایا: { تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے }؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”فرمایئے کیا وجہ ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا۔ کہے گا کہ ”اے اللہ! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا“؟ اللہ تعالیٰ اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا کہ ”میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا۔“ اللہ فرمائے گا ’ کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت ناکافی ہے ‘؟ لیکن پھر بھی وہ باربار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا۔ پس اتمام حجت کیلئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا کہ اس نے جو جو کیا تھا اس کی گواہی تم دو۔ جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا کہ ”میں تو تمہارے ہی بچاؤ کیلئے لڑ جھگڑ رہا تھا“ } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2969]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”کافر و منافق کو حساب کیلئے بلایا جائے گا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش ہوں گے تو قسمیں کھا کھا کر انکار کرے گا اور کہے گا اے اللہ تیرے فرشتوں نے وہ لکھ لیا ہے جو میں نے ہرگز نہیں کیا فرشتے کہیں گے فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں عمل نہیں کیا؟ یہ کہے گا اے اللہ تیری عزت کی قسم میں نے ہرگز نہیں کیا۔ اب منہ پر مہر مار دی جائے گی اور اعضاء بدن گواہی دیں گے سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی۔“ [ابن ابی حاتم]
ابو یعلیٰ میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن کافر کے سامنے اس کی بداعمالیاں لائی جائیں گی تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے پڑوسی جو شاہد ہیں ‘۔ یہ کہے گا سب جھوٹے ہیں۔ فرمائے گا ’ یہ ہیں تیرے کنبے قبیلے والے جو گواہ ہیں ‘۔ کہے گا یہ بھی سب جھوٹے ہیں۔ اللہ ان سے قسم دلوائے گا، وہ قسم کھائیں گے لیکن یہ انکار ہی کرے گا۔ سب کو اللہ چپ کرا دے گا اور خود ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی پھر انہیں جہنم واصل کر دیا جائے گا }۔ ابن ابی حاتم میں ہے ابن عباس فرماتے ہیں ”قیامت کے دن ایک وقت تو وہ ہو گا کہ نہ کسی کو بولنے کی اجازت ہو گی نہ عذر معذرت کرنے کی۔ پھر جب اجازت دی جائے گی تو بولنے لگیں گے اور جھگڑے کریں گے اور انکار کریں گے اور جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ پھر گواہوں کو لایا جائے گا آخر زبانیں بند ہو جائیں گی اور خود اعضاء بدن ہاتھ پاؤں وغیرہ گواہی دیں گے۔ پھر زبانیں کھول دی جائیں گی تو اپنے اعضاء بدن کو ملامت کریں گے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ نے قوت گویائی دی اور ہم نے صحیح صحیح کہا پس زبانی اقرار بھی ہو جائے گا۔“
ابن ابی حاتم میں رافع ابوالحسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اپنے کرتوت کے انکار پر زبان اتنی موٹی ہو جائے گی کہ بولا نہ جائے گا۔ پھر جسم کے اعضاء کو حکم ہو گا تم بولو تو ہر ایک اپنا اپنا عمل بتا دے گا کان، آنکھ، کھال، شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ۔“ اور بھی اسی طرح کی بہت سی روایتیں سورۃ یٰسین کی آیت «اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ۱؎ [36-يس:65] ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ جنہیں دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہم سے پوچھا { تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ }۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علماء کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لیے ہوئے آ رہی تھی انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا۔ وہ اٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے۔ اور ایک ایک عمل کھل جائے گا اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے { اس نے سچ کہا اس نے سچ کہا اس قوم کو اللہ تعالیٰ کس طرح پاک کرے جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے؟ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:18457:] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابن ابی الدنیا میں یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے، جب یہ اپنے اعضاء کو ملامت کریں گے تو اعضاء جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ تمہارے اعمال دراصل کچھ پوشیدہ نہ تھے اللہ کے دیکھتے ہوئے اس کے سامنے تم کفر و معاصی میں مستغرق رہتے تھے اور کچھ پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ تم سمجھے ہوئے تھے کہ ہمارے بہت سے اعمال اس سے مخفی ہیں، اسی فاسد خیال نے تمہیں تلف اور برباد کر دیا اور آج کے دن تم برباد ہو گئے۔ مسلم ترمذی وغیرہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں کعبتہ اللہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا جو تین شخص آئے بڑے پیٹ اور کم عقل والے ایک نے کہا کیوں جی ہم جو بولتے چالتے ہیں اسے اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا اگر اونچی آواز سے بولیں تو تو سنتا ہے اور آہستہ آواز سے باتیں کریں تو نہیں سنتا۔ دوسرے نے کہا اگر کچھ سنتا ہے تو سب سنتا ہو گا۔ میں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا اس پر آیت «وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:22] ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4817] مسند عبد الرزق میں ہے { منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ہے کہ ’ میرے ساتھ میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ }۔ حسن رحمہ اللہ اتنا فرما کر کچھ تامل کر کے فرمانے لگے ”جس کا جیسا گمان اللہ کے ساتھ ہوتا نیک ظن ہوتا ہے وہ اعمال بھی اچھے کرتا ہے اور کافر و منافق چونکہ اللہ کے ساتھ بدظن ہوتے ہیں وہ اعمال بھی بد کرتے ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔“۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11469:حسن]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے { تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ نیک ظن ہو۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ برے خیالات رکھے اللہ نے انہیں تہ و بالا کر دیا۔ پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:390/3:حدیث صحیح وهذا اسناد ضعیف] آگ جہنم میں صبر سے پڑے رہنا اور بے صبری کرنا ان کیلئے یکساں ہے۔ نہ ان کی عذر معذرت مقبول نہ ان کے گناہ معاف۔ یہ دنیا کی طرف اگر لوٹنا چاہیں تو وہ راہ بھی بند جیسے اور جگہ ہے «قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ» [23-المؤمنون:106-108] ’ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی۔ یقیناً ہم بے راہ تھے۔ اے اللہ اب تو یہاں سے نجات دے۔ اگر ایسا کریں تو پھر ہمیں ہمارے ظلم کی سزا دینا ‘۔ لیکن جناب باری کی طرف سے جواب آئے گا کہ ’ اب یہ منصوبے بےسود ہیں۔ دھتکارے ہوئے یہیں پڑے رہو خبردار جو مجھ سے بات کی ‘۔
24۔ 1 ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ اگر وہ منانا چاہیں گے تاکہ وہ جنت میں چلے جائیں تو یہ چیز ان کو کبھی حاصل نہ ہوگی (ایسر التفاسیر و فتح القدیر) بعض نے اس کا مفہرم یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی آرزو کریں گے جو منظور نہیں ہوگی ابن جریر طبری نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ان کا ابدی ٹھکانا جہنم ہے اس پر صبر کریں تب بھی رحم نہیں کیا جائے گا جیسا کہ دنیا میں بعض دفعہ صبر کرنے والوں پر ترس آجاتا ہے یا کسی اور طریقے سے وہاں سے نکلنے کی سعی کریں مگر اس میں بھی انہیں ناکامی ہی ہوگی۔
(آیت 24){ فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ …:} یعنی دنیا میں کئی مصیبتیں صبر کرنے سے ٹل جاتی ہیں یا آسان ہو جاتی ہیں اور بعض مصیبتیں منتیں کرنے سے ٹل جاتی ہیں، لیکن وہاں کافر صبر کریں یا نہ کریں ان کے لیے جہنم ٹھکانا طے ہو چکا اور منتیں جتنی چاہیں کریں کوئی قبول نہیں ہو گی۔
ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، آخر کار اُن پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناً وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشیں مقرر کر رکھے تھے، جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول ان امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وه زیاں کار ﺛابت ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے اور ان پر بات پوری ہوئی ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کے لئے کچھ ساتھی مقرر کر دیئے ہیں جنہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے (کرتوتوں کو) خوشنما بنا دیا اور ان پر وہی بات ثابت ہوگئی (عذابِ الٰہی) جو جِنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر ثابت ہے جو ان سے پہلے گزر چکے تھے بے شک وہ سب نقصان اٹھانے والوں میں سے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان کے لیے کچھ ساتھی مقرر کر دیے تو انھوں نے ان کے لیے ان کے سامنے اور ان کے پیچھے جو کچھ تھا، خوش نما بنا دیا اور ان پر بات ثابت ہو گئی، ان قوموں کے ساتھ ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے ان سے پہلے گزر چکی تھیں، بے شک وہ خسارہ اٹھانے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب قرآن حکیم ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ‘۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37] ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔
یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:204] ۔ ’ جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔“ چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335] پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔
25۔ 1 ان سے مراد وہ شیاطین انس و جن ہیں جو باطل پر اصرار کرنے والوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں، جو انہیں کفر و معاصی کو خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں، پس وہ اس گمراہی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں موت آجاتی ہے اور وہ خسارہ ابدی کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
(آیت 25) ➊ {وَ قَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ …:” قُرَنَآءَ “ ”قَرِيْنٌ“} کی جمع ہے، ساتھ رہنے والا۔ {”اَلْقَيْضُ“} انڈے کے چھلکے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح چھلکا انڈے کے ساتھ پیوست ہوتا ہے اسی طرح ہم نے ایسے برے لوگ ان مشرکین کے ساتھ لگا دیے جو ان کے ساتھ اس طرح چمٹے رہتے ہیں جس طرح انڈے کا چھلکا چمٹا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں، جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہو جاتا ہے اور آخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ زخرف (۳۶) اور سورۂ ق (۲۳ تا ۲۹)۔ ➋ { فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ …: ” مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ دنیا میں کر رہے تھے اور {” وَ مَا خَلْفَهُمْ “} سے مراد وہ اعمالِ بد ہیں جو اس سے پہلے کر چکے تھے۔ یعنی وہ برے ساتھی ان کے لیے ان کے موجودہ اور گزشتہ تمام برے اعمال کو خوش نما بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ انھی پر جمے رہتے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جن کے اعمالِ بد کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے: «لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» [ ہود: ۱۱۹ ] ”میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور ہی بھروں گا۔“ بعض مفسرین نے {” مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} سے مراد دنیا اور {” وَ مَا خَلْفَهُمْ “} سے مراد آخرت لی ہے۔ یعنی ان کے برے ساتھی آخرت کے متعلق بھی انھیں خوش گمانی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اوّل تو وہ ہو گی ہی نہیں اور اگر ہوئی بھی تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمھیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا ہے وہاں بھی نوازے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۷۷)۔
یہ منکرین حق کہتے ہیں "اِس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آ جاؤ"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے کہا اس قرآن کو سنو ہی مت (اس کے پڑھے جانے کے وقت) اور بیہوده گوئی کرو کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو شاید یونہی تم غالب آؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی (تلاوت کے دوران) شوروغل مچا دیا کرو شاید اس طرح تم غالب آجاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب قرآن حکیم ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ‘۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37] ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔
یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:204] ۔ ’ جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔“ چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335] پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔
26۔ 1 یہ انہوں نے باہم ایک دوسرے کو کہا۔ بعض نے لا تسمعوا کے معنی کیے ہیں اس کی اطاعت نہ کرو۔ 26۔ 2 یعنی شور کرو، تالیاں، سیٹیاں بجاؤ، چیخ چیخ کر باتیں کرو تاکہ حاضرین کے کانوں میں قرآن کی آواز نہ جائے اور ان کے دل قرآن کی بلاغت اور خوبیوں سے متا ثر نہ ہوں۔ 26۔ 3 یعنی ممکن ہے اس طرح شور کرنے کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت ہی نہ کرے جسے سن کر لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
(آیت 26) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا …:} کفار قرآن کی تاثیر سے واقف تھے کہ جو شخص عناد سے خالی ہو کر اسے سن لے وہ یقینا اس سے متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ نہ خود قرآن سنو، نہ کسی کو سننے دو۔ یہ ان کا واضح اعترافِ شکست تھا، وہ اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہ لا سکے تو حق یہ تھا کہ اس پر ایمان لے آتے، مگر وہ اس کی مخالفت پر ڈٹ گئے اور ہر طریقے سے لوگوں کو اس سے روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ ➋ { لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ:} یعنی پہلی کتابیں پڑھنے سننے پر کوئی پابندی نہیں، کیونکہ اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ قرآن جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) لے کر آئے ہیں، یہ مت سنو، کیونکہ یہ دلوں کو کھینچتا ہے۔ ➌ { وَ الْغَوْا فِيْهِ: ” الْغَوْا “ ”لَغِيَ يَلْغٰي“} (س، ف) بغیر سوچے سمجھے بولنا، شور مچانا۔ یعنی اگر کبھی سننے کا اتفاق ہو تو اس میں شور ڈال دو، تاکہ تم غالب رہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ مان رہے تھے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا مسلمان قرآن سنانے میں کامیاب ہو گئے تو وہی غالب رہیں گے۔ عربی مقولہ ہے: {” وَالْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ “} ”اصل برتری وہ ہے جس کی شہادت دشمن دیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس بات کے برعکس فرمایا: «وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» [ الأعراف: ۲۰۴ ] ”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یعنی جعلی غلبے کے بجائے حقیقی رحمت کے طلب گار بنو۔ ➍ کفار کی یہ بدتمیزی صرف اس وقت نہیں تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں قرآن سنانے کی کوشش کرتے، بلکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قرآن سنا رہے ہوتے، یا انھیں نماز پڑھاتے ہوئے بلند آواز سے قراء ت کرتے تو وہ اس وقت بھی بدزبانی اور گالی گلوچ شروع کر دیتے، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [ بني إسرائیل: ۱۱۰ ] ”اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھ اور نہ اسے پست کر اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کر۔“ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی اسی آیت کی تفسیر۔
اِن کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ اِنہیں دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس یقیناً ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے۔ اور انہیں ان کے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بیشک ہم ان کے بُرے سے بُرے کام کا انہیں بدلہ دیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم ان کافروں کو ضرور سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور وہ بدترین عمل کرتے ہیں ہم انہیں ضرور ان کی بدترین سزا دیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سو یقینا ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ضرور بہت سخت عذاب چکھائیں گے اور یقیناً ہم انھیں ان بدترین اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب قرآن حکیم ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ‘۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37] ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔
یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:204] ۔ ’ جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔“ چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335] پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔
27۔ 1 یعنی ان کے بعض اچھے عملوں کی کوئی قیمت نہ ہوگی، مثلاً اکرام ضعیف، صلہ رحمی وغیرہ، کیونکہ ایمان کی دولت سے وہ محروم رہے تھے، البتہ برے عملوں کی جزا انہیں ملے گی، جن میں قرآن کریم سے روکنے کا جرم بھی ہے۔
(آیت 27) ➊ {فَلَنُذِيْقَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِيْدًا:} چونکہ یہ ان کا صریح ظلم اور عناد تھا اور ان کی ہدایت کی امید ہی نہ تھی، اس لیے عبرت ناک سزا اور عذاب کے سوا ان کی کوئی جزا نہ تھی۔ {” فَلَنُذِيْقَنَّ “} کی فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی ان کے قرآن سننے سے روکنے کی وجہ سے ہم انھیں شدید عذاب چکھائیں گے۔ ➋ { ”فَلَنُعَذِّبَنَّ“} (ہم انھیں ضرور عذاب دیں گے) کے بجائے {” فَلَنُذِيْقَنَّ “} (ہم انھیں ضرور چکھائیں گے) کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ جو چیز چکھی جاتی ہے وہ معمولی سی زبان پر لگتی ہے، تو جس کا معمولی سا لگنا اتنا سخت ہو گا وہ پورا عذاب کس قدر سخت ہو گا۔ ➌ { وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} کفار نے اگرچہ بے شمار گناہ کیے ہوں گے، مثلاً چوری، زنا وغیرہ، مگر ان کے سب سے برے اعمال کفر و شرک اور دوسروں کو ایمان سے روکنا تھے۔ چنانچہ انھیں ملنے والی سزا کفر و شرک اور ایمان سے روکنے کے پیمانے کے مطابق ہو گی، جس کے مقابلے میں دوسرے گناہوں کی سزا کی کچھ حقیقت نہیں ہو گی۔
وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِن کا گھر ہو گا یہ ہے سزا اِس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے دشمنوں کی سزا یہی دوزح کی آگ ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے (یہ) بدلہ ہے ہماری آیتوں سے انکار کرنے کا
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آ گ، اس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے، سزا اس کی کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ دشمنانِ خدا کی سزا ہے یعنی دوزخ۔ ان کیلئے اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا گھر ہے یہ ان کے اس جرم کی سزا ہے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اللہ کے دشمنوں کی جزا آگ ہی ہے، انھی کے لیے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، اس کی جزا کے لیے جو وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب قرآن حکیم ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ‘۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37] ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔
یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:204] ۔ ’ جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔“ چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335] پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔
28۔ 1 آیتوں سے مراد جیسا کہ پہلے بھی بتلایا گیا ہے وہ دلائل وبراہین واضحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ انبیاء پر نازل فرماتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو انہیں عطا کیے جاتے ہیں یا دلائل تکوینیہ ہیں جو کائنات یعنی آفاق وانفس میں پھیلے ہوئے ہیں کافر ان سب ہی کا انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایمان کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔
(آیت 28) ➊ { ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ …:} اللہ کے دشمنوں کی یہی جزا، یعنی آگ ہے، جنھوں نے کفر و شرک کیا، زبان اور ہاتھ کو ہر طرح سے اس کی کتاب سننے سے روکا، اس کے نبی اور ایمان والوں کا مقابلہ کیا، ان سے جنگ کی اور دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ➋ { بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ:} یعنی اس جزا کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری آیات حق ہیں، پھر جان بوجھ کر ضد اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کرتے تھے، پھر اللہ ایسے دشمنوں کو سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا؟ {”جُحُوْدٌ“} کا معنی جانتے ہوئے انکار کرنا ہے۔
وہاں یہ کافر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ذرا ہمیں دکھا دے اُن جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں (کے وه دونوں فریق) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراه کیا (تاکہ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وه جہنم میں سب سے نیچے (سخت عذاب میں) ہو جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کافر بولے اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور کافر لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں دونوں قسم یعنی جنوں اور انسانوں میں سے وہ (شیطان) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں کے نیچے روندیں تاکہ وہ پست ترین اشخاص سے ہو جائیں (ذلیل و خوار ہوں)۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! تو ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے ڈالیں، تاکہ وہ سب سے نچلے لوگوں سے ہو جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب قرآن حکیم ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ‘۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37] ، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔
یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:204] ۔ ’ جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔“ چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335] پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔
29۔ 1 اس کا مفہوم واضح ہے کہ گمراہ کرنے والے شیاطین ہی نہیں ہوتے تاہم بعض نے جن سے ابلیس اور انسانوں سے قابیل مراد لیا ہے، جس نے انسانوں میں سے سب سے پہلے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے ظلم اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا اور حدیث کے مطابق قیامت تک ہونے والے ناجائز قتلوں کے گناہ کا ایک حصہ بھی اس کو ملتا رہے گا ہمارے خیال میں پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ 29۔ 2 یعنی اپنے قدموں سے انہیں روندیں اور اس طرح ہم انہیں خوب ذلیل و رسوا کریں جہنمیوں کو اپنے لیڈروں پر جو غصہ ہوگا اس کی تشفی کے لیے وہ یہ کہیں گے ورنہ دونوں ہی مجرم ہیں اور دونوں ہی یکساں جہنم کی سزا بھگتیں گے جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ) 7۔ الاعراف:38) جہنمیوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا تذکرہ فرما رہا ہے جیسا کہ عام طور پر قرآن کا انداز ہے تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب اور ترغیب کے ساتھ ترہیب کا بھی اہتمام رہے گویا انذار کے بعد اب تبشیر۔
(آیت 29) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا …:} اس سے پہلے آیت (۲۵): «وَ قَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ …» میں کفار کے اعمالِ بد کی وجہ سے ان پر جن و انس کے وہ قرین مسلط کرنے کا ذکر ہے جو ان کے لیے ان کے برے اعمال خوش نما بنا کر پیش کرتے رہے، حتیٰ کہ ان پر جہنمی ہونے کا ٹھپا پکا ہو گیا۔ اب جہنم میں کفار کی اپنے ان دوستوں کے متعلق خواہش اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کا ذکر ہے۔ ➋ کفار یہ بات جہنم میں جانے کے بعد کہیں گے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ماضی کا صیغہ {” قَالَ “} استعمال فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بات اتنی یقینی ہے کہ سمجھو یہ کام ہو چکا۔ ➌ قیامت کے دن جہنمی اپنے گمراہ کرنے والے جن و انس میں سے شیاطین دوستوں پر سخت ناراض ہوں گے اور ان کی خواہش ہو گی کہ انھیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہو۔ {” اَرِنَا “} کا لفظی معنی اگرچہ ”ہمیں دکھا“ ہے، مگر مراد یہ ہے کہ پروردگارا! تو انھیں ہمارے حوالے کر، تاکہ ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں، تاکہ وہ سب سے نیچے لوگوں میں شامل ہوں۔ ہر کافر خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا مجرم بھی ہے۔ کفار کی یہ خواہش پوری ہو گی یا نہیں، اس کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹) اور سورۂ ص (۵۵ تا ۶۱)۔ ➍ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن صرف ایمان والوں کی دوستی باقی رہے گی، دوسرے سب ایک دوسرے میں سے دشمن ہو جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۶، ۱۶۷) اور سورۂ زخرف (۶۸)۔
جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر قائم اور ثابت قدم رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں (ان سے کہتے ہیں کہ) تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کی بشارت پر خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جائو جس کاتم وعدہ دیے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسقامت اور اس کا انجام ٭٭
جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کر کے پھر کفر کر لیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3250،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ کرنا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے اسے غلط سمجھایا۔ اس سے مراد اللہ کی الوہیت کا اقرار کر کے پھر دوسرے کی طرف کبھی بھی التفات نہ کرنا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ قرآن میں حکم اور جزا کے لحاظ سے سب سے زیادہ آسان آیت کون سی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی کہ ”توحید اللہ پر تا عمر قائم رہنا۔“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”واللہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر جم جاتے ہیں اور لومڑی کی چال نہیں چلتے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”فرائض اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ یہ دعا مانگا کرتے تھے «اَللَّهُمَّ اَنْتَ رَبُّنـَا فَارْزُقْـنَا الْاِسْتِقَامَةَ» یعنی ”اے اللہ تو ہمارا رب ہے ہمیں استقامت اور پختگی عطا فرما۔“ استقامت سے مراد دین اور عمل کا خلوص ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے اسلام کا کوئی ایسا امر بتلائیے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { زبان سے اقرار کر کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جا }۔ اس نے پھر پوچھا اچھا یہ تو عمل ہوا اب بچوں کس چیز سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:38] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔
ان کے پاس ان کی موت کے وقت فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارتیں سناتے ہیں کہ تم اب آخرت کی منزل کی طرف جا رہے ہو بے خوف رہو تم پر وہاں کوئی کھٹکا نہیں۔ تم اپنے پیچھے جو دنیا چھوڑے جا رہے ہو اس پر بھی کوئی غم و رنج نہ کرو۔ تمہارے اہل و عیال، مال و متاع کی دین و دیانت کی حفاظت ہمارے ذمے ہے۔ ہم تمہارے خلیفہ ہیں۔ تمہیں ہم خوشخبری سناتے ہیں کہ تم جنتی ہو تمہیں سچا اور صحیح وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ پس وہ اپنے انتقال کے وقت خوش خوش جاتے ہیں کہ تمام برائیوں سے بچے اور تمام بھلائیاں حاصل ہوئیں۔ حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی روح سے فرشتے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی چل اللہ کی بخشش انعام اور اس کی نعمت کی طرف۔ چل اس اللہ کے پاس جو تجھ پر ناراض نہیں } }۔۱؎ [مسند احمد:287/4:صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ جب مسلمان اپنی قبروں سے اٹھیں گے اسی وقت فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور انہیں بشارتیں سنائیں گے۔ حضرت ثابت رحمہ اللہ جب اس سورت کو پڑھتے ہوئے اس آیت تک پہنچے تو ٹھہر گئے اور فرمایا ”ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ مومن بندہ جب قبر سے اٹھے گا تو وہ دو فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ تھے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ڈر نہیں گھبرا نہیں غمگین نہ ہو تو جنتی ہے خوش ہو جا تجھ سے اللہ کے جو وعدے تھے پورے ہوں گے۔“ غرض خوف امن سے بدل جائے گا آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دل مطمئن ہو جائے گا۔ قیامت کا تمام خوف دہشت اور وحشت دور ہو جائے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ اپنی آنکھوں دیکھے گا اور خوش ہو گا۔ الحاصل موت کے وقت قبر میں اور قبر سے اٹھتے ہوئے ہر وقت ملائکہ رحمت اس کے ساتھ رہیں گے اور ہر وقت بشارتیں سناتے رہیں گے، ان سے فرشتے یہ بھی کہیں گے کہ زندگانی دنیا میں بھی ہم تمہارے رفیق و ولی تھے تمہیں نیکی کی راہ سمجھاتے تھے خیر کی رہنمائی کرتے تھے۔ تمہاری حفاظت کرتے رہتے تھے، ٹھیک اسی طرح آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھ رہیں گے تمہاری وحشت و دہشت دور کرتے رہیں گے قبر میں، حشر میں، میدان قیامت میں، پل صراط پر، غرض ہر جگہ ہم تمہارے رفیق اور دوست اور ساتھی ہیں۔ نعمتوں والی جنتوں میں پہنچا دینے تک تم سے الگ نہ ہوں گے وہاں جو تم چاہو گے ملے گا۔ جو خواہش ہو گی پوری ہو گی، یہ مہمانی یہ عطا یہ انعام یہ ضیافت اس اللہ کی طرف سے ہے جو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کا لطف و رحم اس کی بخشش اور کرم بہت وسیع ہے۔
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوتی ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں ملائے۔“ اس پر سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”کیا جنت میں بھی بازار ہوں گے؟“ فرمایا ”ہاں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ جنتی جب جنت میں جائیں گے اور اپنے اپنے مراتب کے مطابق درجے پائیں گے تو دنیا کے اندازے سے جمعہ والے دن انہیں ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت ملے گی۔ جب سب جمع ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اس کا عرش ظاہر ہو گا۔ وہ سب جنت کے باغیچے میں نور لولو یاقوت زبرجد اور سونے چاندی کے منبروں پر بیٹھیں گے، جو نیکیوں کے اعتبار سے کم درجے کے ہیں لیکن جنتی ہونے کے اعتبار سے کوئی کسی سے کمتر نہیں وہ مشک اور کافور کے ٹیلوں پر ہوں گے لیکن اپنی جگہ اتنے خوش ہوں گے کہ کرسی والوں کو اپنے سے افضل مجلس میں نہیں جانتے ہوں گے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ہاں دیکھو گے۔ آدھے دن کے سورج اور چودہویں رات کے چاند کو جس طرح صاف دیکھتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ اس مجلس میں ایک ایک سے اللہ تبارک و تعالیٰ بات چیت کرے گا یہاں تک کہ کسی سے فرمائے گا ’ یاد ہے فلاں دن تم نے فلاں کا خلاف کیا تھا؟ ‘،وہ کہے گا کیوں جناب باری تو تو وہ خطا معاف فرما چکا تھا پھر اس کا کیا ذکر؟ کہے گا ہ’ اں ٹھیک ہے اسی میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے ہی تو اس درجے پر پہنچا ‘۔ یہ اسی حالت میں ہوں گے کہ انہیں ایک ابر ڈھانپ لے گا اور اس سے ایسی خوشبو برسے گی کہ کبھی کسی نے نہیں سونگھی تھی۔ پھر رب العالمین عزوجل فرمائے گا کہ ’ اٹھو اور میں نے جو انعام و اکرام تمہارے لیے تیار کر رکھے ہیں انہیں لو ‘۔ پھر یہ سب ایک بازار میں پہنچیں گے جسے چاروں طرف سے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے وہاں وہ چیزیں دیکھیں گے جو نہ کبھی دیکھی تھیں نہ سنی تھیں نہ کبھی خیال میں گزری تھیں۔ جو شخص جو چیز چاہے گا لے لے گا خرید فروخت وہاں نہ ہو گی۔ بلکہ انعام ہو گا۔ وہاں تمام اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ایک کم درجے کا جنتی اعلیٰ درجے کے جنتی سے ملاقات کرے گا تو اس کے لباس وغیرہ کو دیکھ کر جی میں خیال کرے گا وہیں اپنے جسم کی طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھے کپڑے اس کے ہیں۔ کیونکہ وہاں کسی کو کوئی رنج و غم نہ ہو گا۔ اب ہم سب لوٹ کر اپنی اپنی منزلوں میں جائیں گے وہاں ہماری بیویاں ہمیں مرحبا کہیں گے اور کہیں گی کہ جس وقت آپ یہاں سے گئے تب یہ تروتازگی اور یہ نورانیت آپ میں نہ تھی لیکن اس وقت تو جمال و خوبی اور خوشبو اور تازگی بہت ہی بڑھی ہوئی ہے۔ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے ہم آج اللہ تعالیٰ کی مجلس میں تھے اور یقیناً ہم بہت ہی بڑھ چڑھ گئے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2549،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنے کو چاہتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو برا جانے اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو موت کو مکروہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس سے مراد موت کی کراہیت نہیں بلکہ مومن کی سکرات کے وقت اس کے پاس اللہ کی طرف سے خوشخبری آتی ہے جسے سن کر اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے زیاہ محبوب چیز کوئی نہیں رہتی۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات پسند فرماتا ہے اور فاجر یا کافر کی سکرات کے وقت جب اسے اس برائی کی خبر دی جاتی ہے جو اسے اب پہنچنے والی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6507] یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کی بہت سی اسنادیں ہیں۔
30۔ 1 یعنی ایک اللہ وحدہ لا شریک رب بھی وہی اور معبود بھی وہی یہ نہیں کہ ربوبیت کا تو اقرار لیکن الوہیت میں دوسروں کو بھی شریک کیا جارہا ہے۔ 30۔ 2 یعنی سخت سے سخت حالات میں بھی ایمان و توحید پر قائم رہے، اس سے انحراف نہیں کیا بعض نے استقامت کے معنی اخلاص کیے ہیں یعنی صرف ایک اللہ ہی کی عبادت واطاعت کی جس طرح حدیث میں بھی آتا ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے ایسی بات بتلا دیں کہ آپ کے بعد کسی سے مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قل آمنت باللہ ثم استقم (صحیح مسلم کتاب الایمان) کہہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیار کر۔ 30۔ 3 یعنی موت کے وقت، بعض کہتے ہیں، فرشتے یہ خوشخبری تین جگہوں پر دیتے ہیں، موت کے وقت، قبر میں اور قبر سے دوبارہ اٹھتے وقت۔ 30۔ 4 یعنی آخرت میں پیش آنے والے حالات کا اندیشہ اور دنیا میں مال و اولاد جو چھوڑ آئے ہو، ان کا غم نہ کرو۔ 30۔ 5 یعنی دنیا میں جس کا وعدہ تمہیں دیا گیا تھا۔
(آیت 30) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا …:} کفار کے برے عقیدہ و عمل کی وجہ سے ان پر جن و انس کے شیاطین مسلط کرنے اور ان کے برے انجام کے ذکر کے بعد ایمان اور اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کی تائید و نصرت کے لیے فرشتے نازل کرنے کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ ➋ { رَبُّنَا اللّٰهُ:} ”ہمارا رب صرف اللہ ہے“ یہ مختصر سا جملہ معانی کا سمندر ہے۔ مبتدا کے بعد خبر معرفہ ہو تو کلام میں حصر پیدا ہو جاتا ہے، کتبِ بلاغت میں اس کی مشہور مثال {”صَدِيْقِيْ زَيْدٌ“} ہے، یعنی ”میرا دوست صرف زید ہے۔“ اس لیے {” رَبُّنَا اللّٰهُ “} کا معنی ہے ”ہمارا رب صرف اللہ ہے۔“ یہ بات دل سے کہہ لینے کے بعد آدمی کسی اور کو داتا، دستگیر، گنج بخش، غریب نواز، بگڑی بنانے والا اور ڈوبتوں کو پار لگانے والا نہیں مان سکتا۔ پھر اس کی قولی، بدنی اور مالی عبادت، بلکہ پوری زندگی اور موت صرف اللہ کے لیے ہوتی ہے، وہ صرف اسی سے مانگتا اور اسی کے حکم پر چلتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ عمل میں کوتاہی ہو سکتی ہے اور گناہ کا ارتکاب بھی ہو سکتا ہے، مگر وہ اسی کے دروازے پر رہتا اور اسی سے معافی مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (161) قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (162) لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ (163) قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ» [ الأنعام: ۱۶۱ تا ۱۶۴ ] ”کہہ دے بے شک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر دی ہے، جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے۔“ {” رَبُّنَا اللّٰهُ “} کہنے کے بعد کسی اور کی عبادت، اس کا دین یا اس کا بتایا ہوا زندگی گزارنے کا طریقہ اختیار کرنے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا ہے: چوں می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلاتِ لا الٰہ را ”جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں، کیونکہ میں {”لا الٰه “} کی مشکلات کو جانتا ہوں۔“ ➌ { ثُمَّ اسْتَقَامُوْا:} اس میں سین اور تاء مبالغے کے لیے ہے، یعنی پھر اس پر خوب قائم رہے اور موت تک ڈٹے رہے، کوئی خوف یا لالچ انھیں اس عقیدے اور عمل سے نہ پھیر سکا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [الحجر: ۹۹ ] ”اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آ جائے۔“ طبری نے اسود بن ہلال سے روایت کی ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: «اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا» اور فرمایا: ”اس آیت کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: [ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا مِنْ ذَنْبٍ ] ”انھوں نے {” رَبُّنَا اللّٰهُ “} کہا، پھر گناہ سے بچنے پر ڈٹے رہے۔“ تو انھوں نے فرمایا: [ لَقَدْ حَمَلْتُمُوْهُ عَلٰی غَيْرِ الْمَحْمَلِ، قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا ثُمَّ لَمْ يَلْتَفِتُوْا إِلٰی إِلٰهٍ غَيْرِهِ ] [ طبري: ۳۰۷۷۰ ] ”تم نے اسے اس کے اصل محمل کے غیر پر محمول کیا ہے، مقصد {” قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا “} کا یہ ہے کہ پھر انھوں نے اس کے سوا کسی اور معبود کی طرف جھانک کر نہیں دیکھا۔“ حاکم نے بھی اسے اسود بن ہلال کے طریق سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ دیکھیے مستدرک حاکم میں ”سورۂ حم السجدہ“ کی تفسیر۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے، فرماتے ہیں: {”قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا عَلٰی أَدَاءِ فَرَائِضِهِ “} یعنی {” ثُمَّ اسْتَقَامُوْا “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے فرائض کی ادائیگی پر خوب قائم رہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ {” ثُمَّ اسْتَقَامُوْا “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ موت تک توحید پر خوب قائم رہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلتے رہے اور فرائض ادا کرتے رہے، اگر کوئی کوتاہی یا گناہ ہوا بھی ہو تو انھوں نے توحید و سنت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ➍ سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! حَدِّثْنِيْ بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللّٰهُ، ثُمَّ اسْتَقِمْ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ هٰذَا ] [مسند أحمد: 413/3، ح: ۱۵۴۲۵ ] ”یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسا کام بتائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کہہ، میرا رب صرف اللہ ہے، پھر اس پر خوب قائم رہ۔“ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! سب سے خوف ناک چیز جس سے آپ میرے بارے میں ڈرتے ہوں، کیا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا: ”یہ (زبان)۔“ مسند احمد کے محقق حضرات نے اسے صحیح کہا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے، سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قُلْ لِّيْ فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، وَ فِيْ حَدِيْثِ أَبِيْ أُسَامَةَ غَيْرَكَ، قَالَ قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ] [ مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام: ۳۸ ] ”یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام میں ایسی بات بتا دیں کہ میں اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کہہ، میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر خوب قائم رہ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ {” رَبِّيَ اللّٰهُ “} اور {” آمَنْتُ بِاللّٰهِ“} کا مفہوم ایک ہے اور یہ جامع کلمہ ہے، جس میں اسلام کے تمام ارکان آ گئے ہیں، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ کے صحیح مسلم پر باب کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ ➎ {تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ …:} ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔ بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ {” رَبُّنَا اللّٰهُ “} کہہ کر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول موت کے وقت ہوتا ہے، پھر قبر میں اور آخر میں حشر کے دن ہو گا، حالانکہ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ ان حضرات کی اس تفسیر کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ایمان والوں پر فرشتوں کا نزول نظر نہیں آتا، وہ موت کے وقت نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ وہ نظر نہیں آتے، مگر یقینا دنیا میں بھی اہلِ استقامت پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، جس سے ان کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے، ایمان اور میدان میں انھیں استقامت اور ثابت قدمی حاصل ہوتی ہے اور وہ ان کے دلوں میں نیکی کی رغبت، برائی سے نفرت اور بہترین خیالات پیدا ہونے کا باعث بنتے ہیں، جیسا کہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے، فرمایا: «اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ (9) وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ الأنفال: ۹، ۱۰ ] ”جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمھاری دعا قبول کر لی کہ بے شک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمھارے دل مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے۔ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ اور فرمایا: «اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّيْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» [ الأنفال: ۱۲ ] ”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔“ فرشتے ایمان والوں پر اترتے ہیں مگر ایک آدھ استثنائی صورت کے علاوہ رسول کے سوا کسی کو نظر نہیں آتے اور جب تک یہ مادی زندگی ختم نہیں ہو جاتی اور مادیت کے پردے چاک نہیں ہو جاتے تب تک فرشتوں کا نزول اسی صورت میں ہوتا ہے۔ البتہ مرنے کے ساتھ ہی جب یہ پردے اور حجاب اٹھ جائیں گے تو فرشتے موت کے وقت، پھر قبر میں، پھر قیامت میں ہر جگہ یقینا انسانوں کو نظر آئیں گے اور ایمان والوں کو ان الفاظ میں تسلی دیں گے جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔ دنیا میں اگر فرشتے نظر آنا شروع ہو جائیں تو امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، اس لیے یہاں وہ اسی وقت عام لوگوں کو نظر آتے ہیں جب وہ عذاب لے کر آتے ہیں اور امتحان کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۸) کی تفسیر۔ فرشتوں کا ایمان والوں پر اترنا ایسے ہی ہے جیسے کفار اور خبیث لوگوں پر شیاطین کا نزول ہے کہ وہ ان کے دلوں میں گندے خیالات اور فاسد عقائد ڈالتے اور برائی پر ابھارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ (221) تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ (222) يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ» [ الشعراء: ۲۲۱ تا ۲۲۳ ] ”کیا میں تمھیں بتاؤں شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر زبردست جھوٹے، سخت گناہ گار پر اترتے ہیں۔ وہ سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹے ہیں۔“ اور فرمایا: «وَ اِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِيٰٓـِٕهِمْ۠ لِيُجَادِلُوْكُمْ» [ الأنعام: ۱۲۱ ] ”اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ضرور باتیں ڈالتے ہیں، تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔“ اور فرمایا: «وَ اِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّيْ جَارٌ لَّكُمْ» [ الأنفال: ۴۸ ] ” اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے اور کہا آج تم پر لوگوں میں سے کوئی غالب آنے والا نہیں اور یقینا میں تمھارا حمایتی ہوں۔“ ➏ { اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا:} مفسر عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں: ”یعنی جب فرشتے ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں تو انھیں یہ تلقین کرتے ہیں یا ان کے دل میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ باطل کی طاقتیں خواہ کتنی ہی چیرہ دست ہوں ان سے خوف زدہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور حق پرستی کی وجہ سے جو مظالم تم پر ڈھائے جا رہے ہیں ان پر رنج نہ کرو، کیونکہ اللہ نے تمھارے لیے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی سب نعمتیں ہیچ ہیں۔ اور موت کے وقت بھی فرشتے ہر مومن سے یہی کلمات کہتے ہیں، اس وقت وہ فرشتوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کی بات سمجھتا بھی ہے، تو اس وقت ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آگے جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو اس سے خوف زدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ جنت تمھاری منتظر ہے اور دنیا میں جنھیں تم چھوڑ کر جا رہے ہو ان کے لیے بھی رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہم تمھارے ولی اور رفیق ہیں۔“ (تیسیر القرآن) ➐ دنیا میں انسانوں کے ساتھ کئی طرح کے فرشتے مقرر ہیں، جن میں کراماً کاتبین بھی ہیں (دیکھیے انفطار: ۱۰ تا ۱۲) اور آفات و مصائب سے حفاظت کرنے والے فرشتے بھی۔ (دیکھیے رعد: ۱۱) یہ فرشتے مومن و کافر سب کے ساتھ ہیں، مگر جن فرشتوں کا ان آیات میں ذکر ہے یہ صرف اہلِ ایمان و استقامت کے ساتھ خاص ہیں، انھی پر اترتے ہیں اور انھی کو حوصلہ دیتے، نیکیوں کی رغبت دلاتے اور خیر کا الہام کرتے ہیں۔
ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لیے (جنت میں موجود﴾ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم زندگانئِ دنیا میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی اور وہاں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور اس میں ہر چیز موجود ہے جو تم طلب کروگے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسقامت اور اس کا انجام ٭٭
جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کر کے پھر کفر کر لیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3250،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ کرنا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے اسے غلط سمجھایا۔ اس سے مراد اللہ کی الوہیت کا اقرار کر کے پھر دوسرے کی طرف کبھی بھی التفات نہ کرنا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ قرآن میں حکم اور جزا کے لحاظ سے سب سے زیادہ آسان آیت کون سی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی کہ ”توحید اللہ پر تا عمر قائم رہنا۔“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”واللہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر جم جاتے ہیں اور لومڑی کی چال نہیں چلتے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”فرائض اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ یہ دعا مانگا کرتے تھے «اَللَّهُمَّ اَنْتَ رَبُّنـَا فَارْزُقْـنَا الْاِسْتِقَامَةَ» یعنی ”اے اللہ تو ہمارا رب ہے ہمیں استقامت اور پختگی عطا فرما۔“ استقامت سے مراد دین اور عمل کا خلوص ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے اسلام کا کوئی ایسا امر بتلائیے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { زبان سے اقرار کر کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جا }۔ اس نے پھر پوچھا اچھا یہ تو عمل ہوا اب بچوں کس چیز سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:38] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔
ان کے پاس ان کی موت کے وقت فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارتیں سناتے ہیں کہ تم اب آخرت کی منزل کی طرف جا رہے ہو بے خوف رہو تم پر وہاں کوئی کھٹکا نہیں۔ تم اپنے پیچھے جو دنیا چھوڑے جا رہے ہو اس پر بھی کوئی غم و رنج نہ کرو۔ تمہارے اہل و عیال، مال و متاع کی دین و دیانت کی حفاظت ہمارے ذمے ہے۔ ہم تمہارے خلیفہ ہیں۔ تمہیں ہم خوشخبری سناتے ہیں کہ تم جنتی ہو تمہیں سچا اور صحیح وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ پس وہ اپنے انتقال کے وقت خوش خوش جاتے ہیں کہ تمام برائیوں سے بچے اور تمام بھلائیاں حاصل ہوئیں۔ حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی روح سے فرشتے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی چل اللہ کی بخشش انعام اور اس کی نعمت کی طرف۔ چل اس اللہ کے پاس جو تجھ پر ناراض نہیں } }۔۱؎ [مسند احمد:287/4:صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ جب مسلمان اپنی قبروں سے اٹھیں گے اسی وقت فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور انہیں بشارتیں سنائیں گے۔ حضرت ثابت رحمہ اللہ جب اس سورت کو پڑھتے ہوئے اس آیت تک پہنچے تو ٹھہر گئے اور فرمایا ”ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ مومن بندہ جب قبر سے اٹھے گا تو وہ دو فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ تھے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ڈر نہیں گھبرا نہیں غمگین نہ ہو تو جنتی ہے خوش ہو جا تجھ سے اللہ کے جو وعدے تھے پورے ہوں گے۔“ غرض خوف امن سے بدل جائے گا آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دل مطمئن ہو جائے گا۔ قیامت کا تمام خوف دہشت اور وحشت دور ہو جائے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ اپنی آنکھوں دیکھے گا اور خوش ہو گا۔ الحاصل موت کے وقت قبر میں اور قبر سے اٹھتے ہوئے ہر وقت ملائکہ رحمت اس کے ساتھ رہیں گے اور ہر وقت بشارتیں سناتے رہیں گے، ان سے فرشتے یہ بھی کہیں گے کہ زندگانی دنیا میں بھی ہم تمہارے رفیق و ولی تھے تمہیں نیکی کی راہ سمجھاتے تھے خیر کی رہنمائی کرتے تھے۔ تمہاری حفاظت کرتے رہتے تھے، ٹھیک اسی طرح آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھ رہیں گے تمہاری وحشت و دہشت دور کرتے رہیں گے قبر میں، حشر میں، میدان قیامت میں، پل صراط پر، غرض ہر جگہ ہم تمہارے رفیق اور دوست اور ساتھی ہیں۔ نعمتوں والی جنتوں میں پہنچا دینے تک تم سے الگ نہ ہوں گے وہاں جو تم چاہو گے ملے گا۔ جو خواہش ہو گی پوری ہو گی، یہ مہمانی یہ عطا یہ انعام یہ ضیافت اس اللہ کی طرف سے ہے جو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کا لطف و رحم اس کی بخشش اور کرم بہت وسیع ہے۔
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوتی ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں ملائے۔“ اس پر سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”کیا جنت میں بھی بازار ہوں گے؟“ فرمایا ”ہاں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ جنتی جب جنت میں جائیں گے اور اپنے اپنے مراتب کے مطابق درجے پائیں گے تو دنیا کے اندازے سے جمعہ والے دن انہیں ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت ملے گی۔ جب سب جمع ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اس کا عرش ظاہر ہو گا۔ وہ سب جنت کے باغیچے میں نور لولو یاقوت زبرجد اور سونے چاندی کے منبروں پر بیٹھیں گے، جو نیکیوں کے اعتبار سے کم درجے کے ہیں لیکن جنتی ہونے کے اعتبار سے کوئی کسی سے کمتر نہیں وہ مشک اور کافور کے ٹیلوں پر ہوں گے لیکن اپنی جگہ اتنے خوش ہوں گے کہ کرسی والوں کو اپنے سے افضل مجلس میں نہیں جانتے ہوں گے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ہاں دیکھو گے۔ آدھے دن کے سورج اور چودہویں رات کے چاند کو جس طرح صاف دیکھتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ اس مجلس میں ایک ایک سے اللہ تبارک و تعالیٰ بات چیت کرے گا یہاں تک کہ کسی سے فرمائے گا ’ یاد ہے فلاں دن تم نے فلاں کا خلاف کیا تھا؟ ‘،وہ کہے گا کیوں جناب باری تو تو وہ خطا معاف فرما چکا تھا پھر اس کا کیا ذکر؟ کہے گا ہ’ اں ٹھیک ہے اسی میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے ہی تو اس درجے پر پہنچا ‘۔ یہ اسی حالت میں ہوں گے کہ انہیں ایک ابر ڈھانپ لے گا اور اس سے ایسی خوشبو برسے گی کہ کبھی کسی نے نہیں سونگھی تھی۔ پھر رب العالمین عزوجل فرمائے گا کہ ’ اٹھو اور میں نے جو انعام و اکرام تمہارے لیے تیار کر رکھے ہیں انہیں لو ‘۔ پھر یہ سب ایک بازار میں پہنچیں گے جسے چاروں طرف سے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے وہاں وہ چیزیں دیکھیں گے جو نہ کبھی دیکھی تھیں نہ سنی تھیں نہ کبھی خیال میں گزری تھیں۔ جو شخص جو چیز چاہے گا لے لے گا خرید فروخت وہاں نہ ہو گی۔ بلکہ انعام ہو گا۔ وہاں تمام اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ایک کم درجے کا جنتی اعلیٰ درجے کے جنتی سے ملاقات کرے گا تو اس کے لباس وغیرہ کو دیکھ کر جی میں خیال کرے گا وہیں اپنے جسم کی طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھے کپڑے اس کے ہیں۔ کیونکہ وہاں کسی کو کوئی رنج و غم نہ ہو گا۔ اب ہم سب لوٹ کر اپنی اپنی منزلوں میں جائیں گے وہاں ہماری بیویاں ہمیں مرحبا کہیں گے اور کہیں گی کہ جس وقت آپ یہاں سے گئے تب یہ تروتازگی اور یہ نورانیت آپ میں نہ تھی لیکن اس وقت تو جمال و خوبی اور خوشبو اور تازگی بہت ہی بڑھی ہوئی ہے۔ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے ہم آج اللہ تعالیٰ کی مجلس میں تھے اور یقیناً ہم بہت ہی بڑھ چڑھ گئے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2549،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنے کو چاہتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو برا جانے اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو موت کو مکروہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس سے مراد موت کی کراہیت نہیں بلکہ مومن کی سکرات کے وقت اس کے پاس اللہ کی طرف سے خوشخبری آتی ہے جسے سن کر اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے زیاہ محبوب چیز کوئی نہیں رہتی۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات پسند فرماتا ہے اور فاجر یا کافر کی سکرات کے وقت جب اسے اس برائی کی خبر دی جاتی ہے جو اسے اب پہنچنے والی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6507] یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کی بہت سی اسنادیں ہیں۔
31۔ 1 یہ مزید خوشخبری ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ بعض کے نزدیک یہ فرشتوں کا قول ہے، دونوں صورتوں میں مومن کے لئے یہ عظیم خوشخبری ہے۔
(آیت 31)➊ {نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ:} دنیا میں دوستی یہ کہ ہم تمھارے لیے دعائیں کرتے ہیں (دیکھیے مومن: ۷)، تمھیں نیکی کا الہام کرتے ہیں اور دشمنوں کے مقابلے میں تمھاری مدد کرتے ہیں اور آخرت میں یہ کہ جب متقی لوگوں کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، تو ہماری دوستی تمھارے ساتھ قائم رہے گی، ہم آنے والے ہر مرحلے میں تمھارے ساتھی اور مددگار رہیں گے اور تمھیں حفاظت سے جنت میں پہنچائیں گے۔ فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔ ➋ {وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ: ” مَا تَدَّعُوْنَ “ ”دَعَا يَدْعُوْ“} سے باب افتعال ہے، جو تم طلب کرو گے، مانگو گے۔ جنت کی نعمتوں کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ کی آیت (۱۷) کی تفسیر۔ «مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ» (جو تمھارے دل چاہیں گے) سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ان کی ذاتی خواہش ہوں گی اور {” مَا تَدَّعُوْنَ “} (جو تم مانگو گے) کا لفظ عام ہے، اس میں ذاتی خواہش کی اشیا بھی شامل ہیں اور وہ بھی جو ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ مثال کے طور پر کسی اور کی خاطر طلب کریں گے۔ (ابو السعود)
یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے
احمد رضا خان بریلوی
مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ سب کچھ) غفور و رحیم پروردگار کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ بے حد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسقامت اور اس کا انجام ٭٭
جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چنانچہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کر کے پھر کفر کر لیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3250،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔“ ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ کرنا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے اسے غلط سمجھایا۔ اس سے مراد اللہ کی الوہیت کا اقرار کر کے پھر دوسرے کی طرف کبھی بھی التفات نہ کرنا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ قرآن میں حکم اور جزا کے لحاظ سے سب سے زیادہ آسان آیت کون سی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی کہ ”توحید اللہ پر تا عمر قائم رہنا۔“ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”واللہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر جم جاتے ہیں اور لومڑی کی چال نہیں چلتے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”فرائض اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ یہ دعا مانگا کرتے تھے «اَللَّهُمَّ اَنْتَ رَبُّنـَا فَارْزُقْـنَا الْاِسْتِقَامَةَ» یعنی ”اے اللہ تو ہمارا رب ہے ہمیں استقامت اور پختگی عطا فرما۔“ استقامت سے مراد دین اور عمل کا خلوص ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے اسلام کا کوئی ایسا امر بتلائیے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { زبان سے اقرار کر کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جا }۔ اس نے پھر پوچھا اچھا یہ تو عمل ہوا اب بچوں کس چیز سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ فرمایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:38] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔
ان کے پاس ان کی موت کے وقت فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارتیں سناتے ہیں کہ تم اب آخرت کی منزل کی طرف جا رہے ہو بے خوف رہو تم پر وہاں کوئی کھٹکا نہیں۔ تم اپنے پیچھے جو دنیا چھوڑے جا رہے ہو اس پر بھی کوئی غم و رنج نہ کرو۔ تمہارے اہل و عیال، مال و متاع کی دین و دیانت کی حفاظت ہمارے ذمے ہے۔ ہم تمہارے خلیفہ ہیں۔ تمہیں ہم خوشخبری سناتے ہیں کہ تم جنتی ہو تمہیں سچا اور صحیح وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ پس وہ اپنے انتقال کے وقت خوش خوش جاتے ہیں کہ تمام برائیوں سے بچے اور تمام بھلائیاں حاصل ہوئیں۔ حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی روح سے فرشتے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی چل اللہ کی بخشش انعام اور اس کی نعمت کی طرف۔ چل اس اللہ کے پاس جو تجھ پر ناراض نہیں } }۔۱؎ [مسند احمد:287/4:صحیح] یہ بھی مروی ہے کہ جب مسلمان اپنی قبروں سے اٹھیں گے اسی وقت فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور انہیں بشارتیں سنائیں گے۔ حضرت ثابت رحمہ اللہ جب اس سورت کو پڑھتے ہوئے اس آیت تک پہنچے تو ٹھہر گئے اور فرمایا ”ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ مومن بندہ جب قبر سے اٹھے گا تو وہ دو فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ تھے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ڈر نہیں گھبرا نہیں غمگین نہ ہو تو جنتی ہے خوش ہو جا تجھ سے اللہ کے جو وعدے تھے پورے ہوں گے۔“ غرض خوف امن سے بدل جائے گا آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دل مطمئن ہو جائے گا۔ قیامت کا تمام خوف دہشت اور وحشت دور ہو جائے گی۔ اعمال صالحہ کا بدلہ اپنی آنکھوں دیکھے گا اور خوش ہو گا۔ الحاصل موت کے وقت قبر میں اور قبر سے اٹھتے ہوئے ہر وقت ملائکہ رحمت اس کے ساتھ رہیں گے اور ہر وقت بشارتیں سناتے رہیں گے، ان سے فرشتے یہ بھی کہیں گے کہ زندگانی دنیا میں بھی ہم تمہارے رفیق و ولی تھے تمہیں نیکی کی راہ سمجھاتے تھے خیر کی رہنمائی کرتے تھے۔ تمہاری حفاظت کرتے رہتے تھے، ٹھیک اسی طرح آخرت میں بھی ہم تمہارے ساتھ رہیں گے تمہاری وحشت و دہشت دور کرتے رہیں گے قبر میں، حشر میں، میدان قیامت میں، پل صراط پر، غرض ہر جگہ ہم تمہارے رفیق اور دوست اور ساتھی ہیں۔ نعمتوں والی جنتوں میں پہنچا دینے تک تم سے الگ نہ ہوں گے وہاں جو تم چاہو گے ملے گا۔ جو خواہش ہو گی پوری ہو گی، یہ مہمانی یہ عطا یہ انعام یہ ضیافت اس اللہ کی طرف سے ہے جو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کا لطف و رحم اس کی بخشش اور کرم بہت وسیع ہے۔
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوتی ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں ملائے۔“ اس پر سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”کیا جنت میں بھی بازار ہوں گے؟“ فرمایا ”ہاں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ جنتی جب جنت میں جائیں گے اور اپنے اپنے مراتب کے مطابق درجے پائیں گے تو دنیا کے اندازے سے جمعہ والے دن انہیں ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت ملے گی۔ جب سب جمع ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اس کا عرش ظاہر ہو گا۔ وہ سب جنت کے باغیچے میں نور لولو یاقوت زبرجد اور سونے چاندی کے منبروں پر بیٹھیں گے، جو نیکیوں کے اعتبار سے کم درجے کے ہیں لیکن جنتی ہونے کے اعتبار سے کوئی کسی سے کمتر نہیں وہ مشک اور کافور کے ٹیلوں پر ہوں گے لیکن اپنی جگہ اتنے خوش ہوں گے کہ کرسی والوں کو اپنے سے افضل مجلس میں نہیں جانتے ہوں گے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ہاں دیکھو گے۔ آدھے دن کے سورج اور چودہویں رات کے چاند کو جس طرح صاف دیکھتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ اس مجلس میں ایک ایک سے اللہ تبارک و تعالیٰ بات چیت کرے گا یہاں تک کہ کسی سے فرمائے گا ’ یاد ہے فلاں دن تم نے فلاں کا خلاف کیا تھا؟ ‘،وہ کہے گا کیوں جناب باری تو تو وہ خطا معاف فرما چکا تھا پھر اس کا کیا ذکر؟ کہے گا ہ’ اں ٹھیک ہے اسی میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے ہی تو اس درجے پر پہنچا ‘۔ یہ اسی حالت میں ہوں گے کہ انہیں ایک ابر ڈھانپ لے گا اور اس سے ایسی خوشبو برسے گی کہ کبھی کسی نے نہیں سونگھی تھی۔ پھر رب العالمین عزوجل فرمائے گا کہ ’ اٹھو اور میں نے جو انعام و اکرام تمہارے لیے تیار کر رکھے ہیں انہیں لو ‘۔ پھر یہ سب ایک بازار میں پہنچیں گے جسے چاروں طرف سے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے وہاں وہ چیزیں دیکھیں گے جو نہ کبھی دیکھی تھیں نہ سنی تھیں نہ کبھی خیال میں گزری تھیں۔ جو شخص جو چیز چاہے گا لے لے گا خرید فروخت وہاں نہ ہو گی۔ بلکہ انعام ہو گا۔ وہاں تمام اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ایک کم درجے کا جنتی اعلیٰ درجے کے جنتی سے ملاقات کرے گا تو اس کے لباس وغیرہ کو دیکھ کر جی میں خیال کرے گا وہیں اپنے جسم کی طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھے کپڑے اس کے ہیں۔ کیونکہ وہاں کسی کو کوئی رنج و غم نہ ہو گا۔ اب ہم سب لوٹ کر اپنی اپنی منزلوں میں جائیں گے وہاں ہماری بیویاں ہمیں مرحبا کہیں گے اور کہیں گی کہ جس وقت آپ یہاں سے گئے تب یہ تروتازگی اور یہ نورانیت آپ میں نہ تھی لیکن اس وقت تو جمال و خوبی اور خوشبو اور تازگی بہت ہی بڑھی ہوئی ہے۔ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے ہم آج اللہ تعالیٰ کی مجلس میں تھے اور یقیناً ہم بہت ہی بڑھ چڑھ گئے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2549،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنے کو چاہتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو برا جانے اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو موت کو مکروہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس سے مراد موت کی کراہیت نہیں بلکہ مومن کی سکرات کے وقت اس کے پاس اللہ کی طرف سے خوشخبری آتی ہے جسے سن کر اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے زیاہ محبوب چیز کوئی نہیں رہتی۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات پسند فرماتا ہے اور فاجر یا کافر کی سکرات کے وقت جب اسے اس برائی کی خبر دی جاتی ہے جو اسے اب پہنچنے والی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے۔ پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو مکروہ رکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6507] یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کی بہت سی اسنادیں ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32) {نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ کی آیت (۱۹) کی تفسیر۔
اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل بجا لائے اور کہے کہ میں مسلمانوں (خدا کے فرمانبردار بندوں) میں سے ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بات کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماںبرداروں میں سے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا محبوب انسان ٭٭
فرماتا ہے ’ جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہو گی؟ ‘ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے { قیامت کے دن مؤذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:387] سنن میں ہے { امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے اللہ تعالیٰ اماموں کو راہ راست دکھائے اور موذنوں کو بخشے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:517،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اذان دینے والوں کا حصہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مثل جہاد کرنے والوں کے حصے کے ہے۔ اذان و اقامت کے درمیان ان کی وہ حالت ہے جیسے کوئی جہاد میں راہ اللہ میں اپنے خون میں لوٹ پوٹ ہو رہا ہو۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر میں مؤذن ہوتا تو پھر مجھے حج و عمرے اور جہاد کی اتنی زیادہ پروانہ نہ رہتی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے { اگر میں مؤذن ہوتا تو میری آرزو پوری ہو جاتی۔ اور میں رات کے نفلی قیام کی اور دن کے نفلی روزوں کی اس قدر تگ ودو نہ کرتا۔ میں نے سنا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار موذنوں کی بخشش کی دعا مانگی۔ اس پر میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں ہمیں یاد نہ فرمایا حالانکہ ہم اذان کہنے پر تلواریں تان لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! لیکن اے عمر! ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ مؤذنی غریب مسکین لوگوں تک رہ جائے گا۔ سنو عمر جن لوگوں کا گوشت پوست جہنم پر حرام ہے ان میں مؤذن ہیں } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { اس آیت میں بھی موذنوں کی تعریف ہے اس کا «حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ» کہنا اللہ کی طرف بلانا ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں اتری ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ عمل صالح کرتا ہے اس سے مراد اذان و تکبیر کے درمیان دو رکعت پڑھنا ہے۔“ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:624] ایک حدیث میں ہے کہ { اذان و اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی }۔۱؎ [سنن ابوداود:521،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بات یہ ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے مؤذن غیر مؤذن ہر اس شخص کو شامل ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ یاد رہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت تو سرے سے اذان شروع ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ آیت مکے میں اترتی ہے اور اذان مدینے پہنچ جانے کے بعد مقرر ہوئی ہے جبکہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب میں اذان دیتے دیکھا اور سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بلال کو سکھاؤ۔ وہ بلند آواز والے ہیں }۔ پس صحیح بات یہی ہے کہ آیت عام ہے اس میں مؤذن بھی شامل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں ”یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہاں اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بے حد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا ‘، اس وصیت پر عمل اسی سے ہو گا جو صابر ہو نفس پر اختیار رکھتا ہو اور ہو بھی نصیب دار کہ دین و دنیا کی بہتری اس کی تقدیر میں ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایمان والوں کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں اور دوسرے کی جہالت پر اپنی بردباری کا ثبوت دیں اور دوسرے کی برائی سے در گزر کر لیں ایسے لوگ شیطانی داؤ سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے دشمن بھی پھر تو ان کے دوست بن جاتے ہیں۔“
اب شیطانی شر سے بچنے کا طریقہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ کی طرف جھک جایا کرو اسی نے اسے یہ طاقت دے رکھی ہے کہ وہ دل میں وساوس پیدا کرے اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ اس کے شر سے محفوظ رکھے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں فرماتے تھے { «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيم مِنَ الشَّیطانِ الرَّجِيمِ مِن هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ومِنْ هَمَزَاتِ الشّيَاطِينِ وَأَعُوذَ بَكَ رَبِّي أَنْ يَحْضُرُونِ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:775،قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس مقام جیسا ہی مقام صرف سورۂ اعراف میں ہے جہاں ارشاد ہے «خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:199] ، اور سورۃ مومنین کی آیت «اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ» ۱؎ [23-المؤمنون:96] ، میں حکم ہوا ہے کہ ’ در گزر کرنے کی عادت ڈالو اور اللہ کی پناہ میں آ جایا کرو برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرو ‘ وغیرہ۔
33۔ 1 یعنی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے ساتھ خود بھی ہدایت یافتہ، دین کا پابند اور اللہ کا مطیع ہے۔
(آیت 33) ➊ { وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ …:} پچھلی آیات میں ایمان لا کر اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتوں کے نزول، دنیا و آخرت میں ان کی دوستی، جنت میں داخلے اور غفور و رحیم کی مہمانی کی بشارت دے کر ان کے قلبی سکون و اطمینان اور دلی راحت کا سامان فرمایا، اب ایک ایسے کام کا ذکر فرمایا جو {” رَبُّنَا اللّٰهُ “} کہنے کا فطری تقاضا ہے کہ وہ اس نعمت کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ان کی کوشش اسے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی ہوتی ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو نعمت انھیں عطا ہوئی ہے وہ ہر شخص کو عطا ہو جائے۔ یہ کام سرانجام دیتے ہوئے جب وہ تین باتوں کا اہتمام کریں تو بات میں ان سے بہتر اور درجے میں ان سے بلند کوئی نہیں ہو سکتا۔ پہلی بات {” دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ “} یعنی وہ صرف اللہ کی طرف بلائیں۔ نہ اپنی ذات کی طرف، نہ کسی شخصیت کی طرف اور نہ کسی قبیلے، جماعت، نسل یا وطن کی طرف، بلکہ ان کی دعوت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہو کہ سب اسی کے بندے اور فرماں بردار بن جاؤ، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ یوسف: ۱۰۸ ] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔“ یہ پیغمبروں کا اور ان کے جانشینوں کا کام ہے اور اتنا عظیم کام ہے کہ ان کی دعوت سے جو لوگ راہ ہدایت اختیار کریں گے ان کا اجر ان کے علاوہ انھیں بھی ملے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا ] [ مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ أو سیئۃ…: ۲۶۷۴ ] ”جو شخص ہدایت کی کسی بات کی طرف دعوت دے اس کے لیے ان لوگوں کے اجروں جیسا اجر ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں کرے گا اور جو شخص گمراہی کی کسی بات کی طرف دعوت دے اس پر ان لوگوں کے گناہوں جیسا گناہ ہو گا جو اس کی پیروی کریں گے، یہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ یہی وجہ ہے کہ پوری امت مل کر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے کو نہیں پا سکتی، نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد آنے والے ان کے درجے تک پہنچ سکتے ہیں، یہی حال بعد میں دعوت الی اللہ دینے والوں کا ہے۔ پھر بات میں ان سے بہتر کون ہو سکتا ہے جسے ان اعمال کا اجر بھی مل رہا ہو جو اس نے نہیں کیے۔ کوئی شخص خود کتنا بھی عمل کر لے یہ مقام کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ ➋ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت زبان کے ساتھ بھی ہے اور ہاتھ کے ساتھ بھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے ساتھ تلوار دے کر بھیجا گیا، آپ کے اصحاب نے آپ کا ساتھ دیا، پھر زبانی دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ اسلام مشرق سے مغرب تک پھیل گیا۔ یہی مناسبت ہے: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا» [ الفتح: ۲۸ ] کے بعد: «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ …» [الفتح: ۲۹ ] میں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۰۴، ۱۱۰)۔ ➌ قول میں سب سے بہتر ہونے کے لیے دوسری ضروری بات {” وَ عَمِلَ صَالِحًا “} ہے، یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ وہ خود بھی عمل صالح کریں۔ صالح عمل کا مطلب یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کے لیے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ (دیکھیے سورۂ کہف کی آخری آیت) جو شخص دوسروں کو دعوت دے مگر خود اس کے خلاف عمل کرے اس کے لیے شدید وعید آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۴)۔ ➍ تیسری بات {” وَ قَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “} یعنی وہ ڈنکے کی چوٹ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ، کمیونسٹ، ڈیموکریٹ اور لبرل وغیرہ ہونے کے بجائے اپنے مسلم ہونے کا اعلان کرے، اس پر فخر کرے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ {” مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “} یعنی مسلمانوں کی جماعت کا فرد ہونے پر اسے خوشی ہو اور کسی دین، مذہب، ملت یا معاشرے کو اسلام اور مسلمانوں سے بہتر نہ سمجھے۔ آج کل کے بعض ملحدوں کی طرح نہیں جو مسلمانوں میں پیدا ہو گئے، مگر وہ کفار سے اس قدر مرعوب ہیں کہ بعض اوقات یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ہم بدقسمتی سے مسلمانوں میں پیدا ہو گئے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے: نہ بہ نظم شاعرِ خوش غزل، نہ بہ نثرِ ناثرِ بے بدل بہ غلامیٔ شہِ عزوجل و بعاشقیٔ نبی خوشم ”نہ کسی خوب صورت غزل والے شاعر کی نظم پر اور نہ کسی بے مثال نثر لکھنے والے کی نثر پر، بلکہ میں کائنات کے بادشاہ عز و جل کی غلامی پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر خوش ہوں۔“ عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيْمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا وَ بِالإِْسْلاَمِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا ] [ مسلم، الإیمان، باب الدلیل علٰی أن من رضي باللہ ربا…: ۳۴۔ ترمذي: ۲۶۲۳ ] ”اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔“
اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست
احمد رضا خان بریلوی
اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست
علامہ محمد حسین نجفی
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہیں آپ(ص) (بدی کا) احسن طریقہ سے دفعیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ میں اور جس میں دشمنی تھی وہ گویا آپ کا جگری دوست بن گیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا محبوب انسان ٭٭
فرماتا ہے ’ جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہو گی؟ ‘ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے { قیامت کے دن مؤذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:387] سنن میں ہے { امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے اللہ تعالیٰ اماموں کو راہ راست دکھائے اور موذنوں کو بخشے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:517،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اذان دینے والوں کا حصہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مثل جہاد کرنے والوں کے حصے کے ہے۔ اذان و اقامت کے درمیان ان کی وہ حالت ہے جیسے کوئی جہاد میں راہ اللہ میں اپنے خون میں لوٹ پوٹ ہو رہا ہو۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر میں مؤذن ہوتا تو پھر مجھے حج و عمرے اور جہاد کی اتنی زیادہ پروانہ نہ رہتی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے { اگر میں مؤذن ہوتا تو میری آرزو پوری ہو جاتی۔ اور میں رات کے نفلی قیام کی اور دن کے نفلی روزوں کی اس قدر تگ ودو نہ کرتا۔ میں نے سنا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار موذنوں کی بخشش کی دعا مانگی۔ اس پر میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں ہمیں یاد نہ فرمایا حالانکہ ہم اذان کہنے پر تلواریں تان لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! لیکن اے عمر! ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ مؤذنی غریب مسکین لوگوں تک رہ جائے گا۔ سنو عمر جن لوگوں کا گوشت پوست جہنم پر حرام ہے ان میں مؤذن ہیں } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { اس آیت میں بھی موذنوں کی تعریف ہے اس کا «حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ» کہنا اللہ کی طرف بلانا ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں اتری ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ عمل صالح کرتا ہے اس سے مراد اذان و تکبیر کے درمیان دو رکعت پڑھنا ہے۔“ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:624] ایک حدیث میں ہے کہ { اذان و اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی }۔۱؎ [سنن ابوداود:521،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بات یہ ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے مؤذن غیر مؤذن ہر اس شخص کو شامل ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ یاد رہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت تو سرے سے اذان شروع ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ آیت مکے میں اترتی ہے اور اذان مدینے پہنچ جانے کے بعد مقرر ہوئی ہے جبکہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب میں اذان دیتے دیکھا اور سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بلال کو سکھاؤ۔ وہ بلند آواز والے ہیں }۔ پس صحیح بات یہی ہے کہ آیت عام ہے اس میں مؤذن بھی شامل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں ”یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہاں اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بے حد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا ‘، اس وصیت پر عمل اسی سے ہو گا جو صابر ہو نفس پر اختیار رکھتا ہو اور ہو بھی نصیب دار کہ دین و دنیا کی بہتری اس کی تقدیر میں ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایمان والوں کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں اور دوسرے کی جہالت پر اپنی بردباری کا ثبوت دیں اور دوسرے کی برائی سے در گزر کر لیں ایسے لوگ شیطانی داؤ سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے دشمن بھی پھر تو ان کے دوست بن جاتے ہیں۔“
اب شیطانی شر سے بچنے کا طریقہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ کی طرف جھک جایا کرو اسی نے اسے یہ طاقت دے رکھی ہے کہ وہ دل میں وساوس پیدا کرے اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ اس کے شر سے محفوظ رکھے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں فرماتے تھے { «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيم مِنَ الشَّیطانِ الرَّجِيمِ مِن هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ومِنْ هَمَزَاتِ الشّيَاطِينِ وَأَعُوذَ بَكَ رَبِّي أَنْ يَحْضُرُونِ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:775،قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس مقام جیسا ہی مقام صرف سورۂ اعراف میں ہے جہاں ارشاد ہے «خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:199] ، اور سورۃ مومنین کی آیت «اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ» ۱؎ [23-المؤمنون:96] ، میں حکم ہوا ہے کہ ’ در گزر کرنے کی عادت ڈالو اور اللہ کی پناہ میں آ جایا کرو برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرو ‘ وغیرہ۔
34۔ 1 بلکہ ان میں عظیم فرق ہے۔ 24۔ 2 یہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہے کہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالو یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ غضب کا صبر کے ساتھ بےہودگیوں کا جواب چشم پوشی کے ساتھ اور مکروہات کا جواب برداشت اور حلم کے ساتھ دیا جائے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن دوست بن جائے گا دور دور رہنے والا قریب ہوجائے گا اور خون کا پیاسا تمہارا گرویدہ اور جانثار ہو جائے گا۔
(آیت 34) ➊ {وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ …:} اس آیت میں دعوت کے مخاطب لوگوں کی زیادتی اور برائی کا جواب دینے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ عام طور پر {” وَ لَا السَّيِّئَةُ “} کے{” لَا “} کو زائد کہہ کر ترجمہ کیا جاتا ہے کہ ”نیکی اور برائی برابر نہیں۔“ بعض حضرات اسے زائد برائے تاکید کہہ دیتے ہیں، حالانکہ قرآن مجید کے کسی لفظ بلکہ حرف کو زائد کہنے کے بجائے وہ فائدہ سمجھنے کی کوشش ضروری ہے جس کے لیے وہ لفظ لایا گیا ہے، جو بظاہر زائد ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس بات سے کہ بلا ضرورت کوئی لفظ لائے۔ اصل میں یہاں بات بیان ہو رہی ہے کہ نیکی برابر نہیں، نہ اپنی جنس کے افراد کے لحاظ سے، کیونکہ نیکیوں کے بے شمار درجے ہیں، کوئی کمتر درجے کی نیکی، کوئی اس سے برتر اور کوئی سب سے برتر، جیسا کہ حدیث میں ہے: [ فَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ ] [ ترمذي، الإیمان، باب في استکمال الإیمان…: ۲۶۱۴ ] ”سب سے کمتر نیکی راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور سب سے اونچی لا الٰہ الا اللہ کہنا۔“ اور نہ ہی ایک نیکی اپنے درجات کے اعتبار سے برابر ہے، مثلاً کسی کے ساتھ حسن سلوک کے کئی درجے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی نیکی اپنے کرنے والوں کے مختلف ہونے کے لحاظ سے بھی برابر نہیں، کوئی اسے خالص نیت سے کرتا ہے اور کوئی ریا سے، کوئی پوری کوشش سے کرتا ہے، کوئی درمیانی کوشش سے اور کوئی بے دلی سے۔ غرض کوئی بھی نیکی نہ دوسری نیکیوں کے ساتھ برابر ہے، نہ اپنی ذات میں برابر ہے اور نہ کرنے والوں کے لحاظ سے برابر ہے۔ ➋ { وَ لَا السَّيِّئَةُ:} برائی کا بھی یہی حال ہے کہ وہ برابر نہیں۔ زبانی دشمنی اور تیر تلوار کے ساتھ دشمنی میں فرق ہے، ابوطالب اور ابوجہل کے کفر میں فرق ہے۔ اس لیے آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔“ شاہ عبد القادر اور شاہ رفیع الدین دونوں کے ترجمہ میں یہ بات ملحوظ رکھی گئی ہے۔ ➌ { اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ:} یعنی برائی کا جواب صرف یہ نہیں کہ نیکی کے ساتھ دو، بلکہ اس طریقے سے دو جو سب سے اچھا ہے اور نیکی کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ یہ سب سے اچھا طریقہ بعض اوقات اچھی بات اور اچھا لہجہ ہوتا ہے، جیسا کہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: [ أَمَرَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَ الْحِلْمِ وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَائَةِ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمَهُمُ اللّٰهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ، كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ ] [ طبري: ۳۰۷۹۴۔ السنن الکبرٰی للبیہقي: 45/7، ح: ۱۳۶۸۰ ] ”اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو غصے کے وقت صبر کا اور بدسلوکی کے وقت حلم اور عفو کا حکم دیا، تو جب وہ ایسا کریں گے اللہ تعالیٰ انھیں شیطان سے بچائے گا اور ان کا دشمن ان کے لیے زیر ہو جائے گا، گویا کہ وہ دلی دوست ہے۔“ اور بعض اوقات سب سے اچھا طریقہ خوش اخلاقی اور بہترین بات کے ساتھ ساتھ جہاد بالید ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو سب سے بہتر امت قرار دیا (دیکھیے آل عمران: ۱۱۰) اور جس کی وجہ سے بڑے بڑے دشمن دلی دوست بن جاتے ہیں، جیسے ثمامہ بن اثال، ابوسفیان، صفوان بن امیہ، حارث بن ہشام رضی اللہ عنھم اور بے شمار کفار جو جہاد کی برکت سے جگری دوست بن گئے۔ آج بھی جب تک کافر ملکوں کے فرماں رواؤں کی گردنوں کے سریے کاٹ کر انھیں ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کی طرح مسجد نبوی کے ستون سے باندھ کر اسلام کی تعلیمات کا آنکھوں سے مشاہدہ نہ کروایا جائے ان کا مسلمان ہونا یا دلی دوست بننا مشکل ہے۔ (مزید دیکھیے رعد: ۲۲) مومن نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو ہوتا ہے۔
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو، اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ صفت انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ طریقۂ کار انہی کو سکھایا جاتا ہے جو بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا محبوب انسان ٭٭
فرماتا ہے ’ جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہو گی؟ ‘ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے { قیامت کے دن مؤذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:387] سنن میں ہے { امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے اللہ تعالیٰ اماموں کو راہ راست دکھائے اور موذنوں کو بخشے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:517،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اذان دینے والوں کا حصہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مثل جہاد کرنے والوں کے حصے کے ہے۔ اذان و اقامت کے درمیان ان کی وہ حالت ہے جیسے کوئی جہاد میں راہ اللہ میں اپنے خون میں لوٹ پوٹ ہو رہا ہو۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر میں مؤذن ہوتا تو پھر مجھے حج و عمرے اور جہاد کی اتنی زیادہ پروانہ نہ رہتی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے { اگر میں مؤذن ہوتا تو میری آرزو پوری ہو جاتی۔ اور میں رات کے نفلی قیام کی اور دن کے نفلی روزوں کی اس قدر تگ ودو نہ کرتا۔ میں نے سنا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار موذنوں کی بخشش کی دعا مانگی۔ اس پر میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں ہمیں یاد نہ فرمایا حالانکہ ہم اذان کہنے پر تلواریں تان لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! لیکن اے عمر! ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ مؤذنی غریب مسکین لوگوں تک رہ جائے گا۔ سنو عمر جن لوگوں کا گوشت پوست جہنم پر حرام ہے ان میں مؤذن ہیں } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { اس آیت میں بھی موذنوں کی تعریف ہے اس کا «حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ» کہنا اللہ کی طرف بلانا ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں اتری ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ عمل صالح کرتا ہے اس سے مراد اذان و تکبیر کے درمیان دو رکعت پڑھنا ہے۔“ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:624] ایک حدیث میں ہے کہ { اذان و اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی }۔۱؎ [سنن ابوداود:521،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بات یہ ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے مؤذن غیر مؤذن ہر اس شخص کو شامل ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ یاد رہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت تو سرے سے اذان شروع ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ آیت مکے میں اترتی ہے اور اذان مدینے پہنچ جانے کے بعد مقرر ہوئی ہے جبکہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب میں اذان دیتے دیکھا اور سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بلال کو سکھاؤ۔ وہ بلند آواز والے ہیں }۔ پس صحیح بات یہی ہے کہ آیت عام ہے اس میں مؤذن بھی شامل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں ”یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہاں اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بے حد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا ‘، اس وصیت پر عمل اسی سے ہو گا جو صابر ہو نفس پر اختیار رکھتا ہو اور ہو بھی نصیب دار کہ دین و دنیا کی بہتری اس کی تقدیر میں ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایمان والوں کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں اور دوسرے کی جہالت پر اپنی بردباری کا ثبوت دیں اور دوسرے کی برائی سے در گزر کر لیں ایسے لوگ شیطانی داؤ سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے دشمن بھی پھر تو ان کے دوست بن جاتے ہیں۔“
اب شیطانی شر سے بچنے کا طریقہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ کی طرف جھک جایا کرو اسی نے اسے یہ طاقت دے رکھی ہے کہ وہ دل میں وساوس پیدا کرے اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ اس کے شر سے محفوظ رکھے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں فرماتے تھے { «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيم مِنَ الشَّیطانِ الرَّجِيمِ مِن هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ومِنْ هَمَزَاتِ الشّيَاطِينِ وَأَعُوذَ بَكَ رَبِّي أَنْ يَحْضُرُونِ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:775،قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس مقام جیسا ہی مقام صرف سورۂ اعراف میں ہے جہاں ارشاد ہے «خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:199] ، اور سورۃ مومنین کی آیت «اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ» ۱؎ [23-المؤمنون:96] ، میں حکم ہوا ہے کہ ’ در گزر کرنے کی عادت ڈالو اور اللہ کی پناہ میں آ جایا کرو برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرو ‘ وغیرہ۔
35۔ 1 یعنی برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی خوبی اگرچہ نہایت مفید اور بڑی ثمر آور ہے لیکن اس پر عمل وہی کرسکیں گے جو صابر ہونگے۔ غصے کو پی جانے والے اور ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنے والے۔ 35۔ 2 حظ عظیم (بڑا نصیبہ) سے مراد جنت ہے۔ یعنی مذکورہ خوبیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں جو بڑے نصیبے والا ہوتا ہے، یعنی جنتی جس کے لئے جنت میں جانا لکھ دیا گیا ہو۔
(آیت 35) ➊ {وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا:} یعنی برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دینے کی توفیق انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جنھوں نے اس سے پہلے بھی صبر کی عادت اپنائی ہوتی ہے۔ {” صَبَرُوْا “} ماضی کا صیغہ ہے۔ ➋ {وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ:} یعنی یہ خوبی کہ برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دیں، صرف انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو بہت بڑے نصیب والے ہوں۔ معلوم ہوا یہ حوصلہ انسان کے بس کی بات نہیں، محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لیے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اسی سے صبر اور حوصلے کی دعا کرنا لازم ہے۔
اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناه طلب کرو یقیناً وه بہت ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے مخاطب) اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ محسوس ہو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ۔ بے شک وہ بڑا سننے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کا محبوب انسان ٭٭
فرماتا ہے ’ جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہو گی؟ ‘ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے { قیامت کے دن مؤذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:387] سنن میں ہے { امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے اللہ تعالیٰ اماموں کو راہ راست دکھائے اور موذنوں کو بخشے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:517،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اذان دینے والوں کا حصہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مثل جہاد کرنے والوں کے حصے کے ہے۔ اذان و اقامت کے درمیان ان کی وہ حالت ہے جیسے کوئی جہاد میں راہ اللہ میں اپنے خون میں لوٹ پوٹ ہو رہا ہو۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر میں مؤذن ہوتا تو پھر مجھے حج و عمرے اور جہاد کی اتنی زیادہ پروانہ نہ رہتی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے { اگر میں مؤذن ہوتا تو میری آرزو پوری ہو جاتی۔ اور میں رات کے نفلی قیام کی اور دن کے نفلی روزوں کی اس قدر تگ ودو نہ کرتا۔ میں نے سنا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار موذنوں کی بخشش کی دعا مانگی۔ اس پر میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں ہمیں یاد نہ فرمایا حالانکہ ہم اذان کہنے پر تلواریں تان لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں! لیکن اے عمر! ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ مؤذنی غریب مسکین لوگوں تک رہ جائے گا۔ سنو عمر جن لوگوں کا گوشت پوست جہنم پر حرام ہے ان میں مؤذن ہیں } }۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { اس آیت میں بھی موذنوں کی تعریف ہے اس کا «حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ» کہنا اللہ کی طرف بلانا ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں اتری ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ عمل صالح کرتا ہے اس سے مراد اذان و تکبیر کے درمیان دو رکعت پڑھنا ہے۔“ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:624] ایک حدیث میں ہے کہ { اذان و اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی }۔۱؎ [سنن ابوداود:521،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بات یہ ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے مؤذن غیر مؤذن ہر اس شخص کو شامل ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ یاد رہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت تو سرے سے اذان شروع ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ آیت مکے میں اترتی ہے اور اذان مدینے پہنچ جانے کے بعد مقرر ہوئی ہے جبکہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب میں اذان دیتے دیکھا اور سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بلال کو سکھاؤ۔ وہ بلند آواز والے ہیں }۔ پس صحیح بات یہی ہے کہ آیت عام ہے اس میں مؤذن بھی شامل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں ”یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہاں اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بے حد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا ‘، اس وصیت پر عمل اسی سے ہو گا جو صابر ہو نفس پر اختیار رکھتا ہو اور ہو بھی نصیب دار کہ دین و دنیا کی بہتری اس کی تقدیر میں ہو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایمان والوں کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں اور دوسرے کی جہالت پر اپنی بردباری کا ثبوت دیں اور دوسرے کی برائی سے در گزر کر لیں ایسے لوگ شیطانی داؤ سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے دشمن بھی پھر تو ان کے دوست بن جاتے ہیں۔“
اب شیطانی شر سے بچنے کا طریقہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ اللہ کی طرف جھک جایا کرو اسی نے اسے یہ طاقت دے رکھی ہے کہ وہ دل میں وساوس پیدا کرے اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ اس کے شر سے محفوظ رکھے ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں فرماتے تھے { «أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيم مِنَ الشَّیطانِ الرَّجِيمِ مِن هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ومِنْ هَمَزَاتِ الشّيَاطِينِ وَأَعُوذَ بَكَ رَبِّي أَنْ يَحْضُرُونِ» }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:775،قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس مقام جیسا ہی مقام صرف سورۂ اعراف میں ہے جہاں ارشاد ہے «خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:199] ، اور سورۃ مومنین کی آیت «اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ» ۱؎ [23-المؤمنون:96] ، میں حکم ہوا ہے کہ ’ در گزر کرنے کی عادت ڈالو اور اللہ کی پناہ میں آ جایا کرو برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرو ‘ وغیرہ۔
36۔ 1 یعنی شیطان، شریعت کے کام سے پھیرنا چاہے یا احسن طریقے سے برائی کے دفع کرنے میں رکاوٹ ڈالے تو اس کے شر سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ 36۔ 2 اور جو ایسا ہو یعنی ہر ایک کی سننے والا اور ہر بات کو جاننے والا، وہی پناہ کے طلب گاروں کو پناہ دے سکتا ہے۔ اس کے بعد اب پھر بعض ان نشانیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو اللہ کی توحید، اس کی قدرت کاملہ اور اس کی قوت تصرف پر دلالت کرتی ہیں۔
(آیت 36) {وَ اِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ …: ” نَزْغٌ “} کا لفظی معنی ”کسی سوئی یا نوک دار چیز کے ساتھ چوکا مارنا“ ہے، مراد شیطان کا غصہ دلا کر برانگیختہ کر دینا ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورۂ اعراف (۲۰۰) اور سورۂ مومنون (۹۶ تا ۹۸) میں گزر چکی ہے۔
اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم اس کے بندے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کی نشانیوں میں رات، دن، سورج اور چاند بھی ہیں تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو (بلکہ) اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو (اور اسی کو مستحقِ عبادت سمجھتے ہو)۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کی نشانیوں میںسے رات اور دن، اورسورج اور چاند ہیں، نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بے مثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہو جاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہو جاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لیے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ «لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37] ’ اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لیے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے ‘۔ پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کر لی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کر لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بے تھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:89] ’ اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لیے رحمت ہیں اور بعض کے لیے زحمت }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2194:ضعیف] اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے۔
37۔ 1 یعنی رات کو تاریک بنانا تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں دن کو روشن بنانا تاکہ کسب معاش میں پریشانی نہ ہو پھر یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کا آنا جانا اور کبھی رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور کبھی اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہوتا اسی طرح سورج اور چاند کا اپنے اپنے وقت پر طلوع وغرب ہونا اور اپنے اپنے مدار پر اپنی منزلیں طے کرتے رہنا اور آپس میں باہمی تصادم محفوظ رہنا، یہ سب اس بات کی دلیلیں ہیں کہ ان کا یقینا کوئی خالق اور مالک ہے نیز وہ ایک اور صرف ایک ہے اور کائنات میں صرف اسی کا تصرف اور حکم چلتا ہے اگر تدبیر و امر کا اختیار رکھنے والے ایک سے زیادہ ہوتے ہیں تو یہ نظام کائنات ایسے مستحکم اور لگے بندھے طریقے سے کبھی نہیں چل سکتا تھا۔ 37۔ 2 اس لئے کہ یہ بھی تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں، خدائی اختیارات سے بہرہ ور یا ان میں شریک نہیں ہیں 37۔ 3 خلقھن میں جمع مونث کی ضمیر اس لیے آئی ہے کہ یہ یا تو خلق ھذہ الاربعۃ المذکورۃ کے مفہوم میں ہے کیونکہ غیر عاقل کی جمع کا حکم جمع مونث ہی کا ہے یا اس کا مرجع صرف شمس وقمر ہی ہیں اور بعض ازمہ نحاۃ کے نزدیک تثنیہ بھی جمع ہے یا پھر مراد الآیات ہیں فتح القدیر
(آیت 37) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهِ الَّيْلُ وَ النَّهَارُ …:} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو سب سے اچھی بات قرار دیا، اب اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کے لیے چند اور چیزیں بطور دلیل ذکر فرمائیں، جن میں سے بعض آسمان سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض زمین سے اور واضح فرمایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ➋ انسان کو نظر آنے والی اشیا میں سے سب سے عظیم اور سب سے روشن چیزیں سورج اور چاند ہیں، اس لیے بہت سے لوگ انھی کو رب تعالیٰ سمجھ بیٹھے۔ بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ان کی پرستش اور انھیں سجدہ کرنے لگے، جیسے صابی اور پارسی لوگ ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم شرک کی متعدد صورتوں میں مبتلا تھی، وہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کی بھی پرستش کرتی تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے نہایت حکمت کے ساتھ ان کا بے اختیار ہونا اور رب نہ ہونا واضح فرمایا۔ (دیکھیے سورۂ انعام: ۷۶ تا ۸۲) زیر تفسیر آیات سے ان مشرکین کا رد مقصود ہے۔ چنانچہ بتایا کہ رات دن اور سورج چاند اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت کی نشانیوں اور دلیلوں میں سے ہیں۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس لیے فرمایا کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج کا نمودار ہو جانا صاف دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی رب یا رب تعالیٰ کا مظہر نہیں کہ اس کی صورت میں وہ خود ظاہر ہو رہا ہے، بلکہ یہ دونوں مجبور اور لاچار پیدا کیے گئے ہیں، جو رب تعالیٰ کے فرمان کے تحت مسخر ہیں اور اپنی گردش اور طلوع و غروب میں اس کے حکم کے پابند ہیں۔ اگر یہ خود رب ہوتے تو دن کے وقت کا سورج رات اور چاند کو نہ آنے دیتا، اسی طرح رات دن کے مقابلے میں ڈٹ جاتی اور اسے قدم نہ رکھنے دیتی، مگر ان سب کا بے اختیار ہو کر گردش کرتے چلے جانا اور ان میں کبھی کسی حادثے کا رونما نہ ہونا اکیلے رب تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے، جو ہر چیز کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہا ہے۔ ➌ رات دن کے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہونے اور ان آیات کے حوالے کے لیے جن میں اس کی تفصیل ہے، دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۱۲) کی تفسیر۔ ➍ { لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ …:} اس سے معلوم ہوا کہ مخلوق کو سجدہ کرنا حرام ہے، سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا۔ ➎ { اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ:} کچھ لوگ عقلی ڈھکوسلے گھڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ ان کے واسطے سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، جیسا کہ مشرکین کہتے تھے: «مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى» [ الزمر: ۳ ] ”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا، اگر تم واقعی اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو ان واسطوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھے اسی کو سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ ➏ سجدۂ عبادت اور سجدۂ تعظیم میں فرق اور سجدۂ تعظیم کی حرمت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۳۴) اور سورۂ یوسف (۱۰۰)۔
لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آ کر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی اگر یہ کبر و غرور کریں تو وه (فرشتے) جو آپ کے رب کے نزدیک ہیں وه تو رات دن اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور (کسی وقت بھی) نہیں اکتاتے
احمد رضا خان بریلوی
تو اگر یہ تکبر کریں تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں، السجدة ۔۱۱)
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر یہ لوگ تکبر کریں (اور قبولِ حق سے انکار کریں) تو جو فرشتے آپ کے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ تکبر کریں تو وہ (فرشتے) جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ نہیں اکتاتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بے مثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہو جاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہو جاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لیے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ «لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37] ’ اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لیے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے ‘۔ پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کر لی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کر لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بے تھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:89] ’ اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لیے رحمت ہیں اور بعض کے لیے زحمت }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2194:ضعیف] اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38) ➊ {فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا:} ”پھر اگر وہ تکبر کریں“ یعنی یہ سب کچھ سن کر بھی اگر وہ اپنی بات چھوڑنے کو ذلت سمجھیں، سورج، چاند اور مخلوق کو سجدہ کرنے پر اڑے رہیں اور اپنی جھوٹی عزت اور بڑائی کی وجہ سے جہالت اور شرک پر اصرار کرتے چلے جائیں۔ ➋ یعنی اگر مشرکین اس قدر مغرور اور متکبر ہو گئے ہیں کہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں، اللہ تعالیٰ ان کا محتاج نہیں۔ اس کی عظمت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ مقرب ترین فرشتے جو اس کے پاس ہیں، اس کا عرش اٹھائے ہوئے ہیں، یا عرش کے اردگرد یا اس کے نیچے عاجزی سے کھڑے ہیں۔ (دیکھیے مومن: ۷) جن کے ذریعے سے ساری کائنات کے معاملات کی تدبیر ہو رہی ہے۔ وہ سب دن رات اس کی تسبیح کر رہے ہیں، یعنی اس بات کی شہادت دے رہے ہیں اور اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ ان کا مالک اس سے پاک ہے کہ اس کے رب ہونے میں یا اس کے معبود برحق ہونے میں کوئی اس کا شریک ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۹، ۲۰) اور سورۂ اعراف (۲۰۶)۔ اب اگر چند احمق سمجھانے پر نہیں سمجھتے اور ساری کائنات کی شہادت کو رد کرکے اپنی عزت اور بڑائی کے جھوٹے گمان پر اڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کریں گے، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی ہے۔ ➌ جو لوگ عرشِ الٰہی کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو کائنات سے الگ سب سے بلندی پر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ کائنات کے اندر ہے نہ اس سے باہر، وہ لفظ {” فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ “} (وہ فرشتے جو تیرے رب کے پاس ہیں) کی عجیب و غریب تاویلیں کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رب تعالیٰ کے ہاں بڑا مقام و مرتبہ رکھتے ہیں، کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ، مگر رحمن کے عرش کو فرشتوں کے اٹھائے ہونے کے صریح الفاظ ان کی ایسی تمام تاویلوں کا تار و پود بکھیر دیتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مومن (۷) اور سورۂ حاقہ (۱۷)۔
اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے، بیشک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بے قدر پڑی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین جمود اور افسردگی کی حالت میں پڑی ہے اور جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو جنبش میں آتی ہے (ابھرتی ہے) اور اس میں بالیدگی آجاتی ہے (پھول جاتی ہے) بیشک جس نے اسے زندہ کیا ہے وہی مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے بلاشبہ وہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی نشانیوںمیں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بے شک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بے مثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہو جاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہو جاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لیے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ «لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37] ’ اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لیے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے ‘۔ پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کر لی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کر لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بے تھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:89] ’ اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لیے رحمت ہیں اور بعض کے لیے زحمت }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:2194:ضعیف] اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے۔
39۔ 1 خَاشِعَۃً کا مطلب، خشک اور قحط زدہ یعنی مردہ۔ 39۔ 2 یعنی انوارع و اقسام کے خوش ذائقہ پھل اور غلے پیدا کرتی ہے۔ 39۔ 3 مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے اس طرح زندہ کردینا اور روئیدگی کے قابل بنادینا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو بھی یقینا زندہ کر دے گا۔
(آیت 39) {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۶۵) اور سورۂ حج (۵ تا ۷)۔ یہاں بنجر زمین کے لیے {” خَاشِعَةً “} (دبی ہوئی، عاجز) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ بات ایک اللہ کو سجدے کی ہو رہی ہے، یعنی خشوع کی ہو رہی ہے، جب کہ سورۂ حج میں اسی بنجر زمین کے لیے {” هَامِدَةً “} (مردہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ وہاں مرنے کے بعد زندگی کی بات ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)
جو لوگ ہماری آیات کو الٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہو گا؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں وه (کچھ) ہم سے مخفی نہیں، (بتلاؤ تو) جو آگ میں ڈاﻻ جائے وه اچھا ہے یا وه جو امن و امان کے ساتھ قیامت کے دن آئے؟ تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ وه تمہارا سب کیا کرایا دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں ہم سے چھپے نہیں تو کیا جو آ گ میں ڈالا جائے گا وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں (اور انہیں الٹے معنی پہناتے ہیں) وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں بھلا وہ شخص جو دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و اطمینان کے ساتھ آئے؟ تم جو چاہو کرو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، وہ ہم پر مخفی نہیں رہتے، تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یاجو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے؟ تم کرو جو چاہو، بے شک وہ اسے جو تم کر رہے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭
«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔ ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف]
40۔ 1 یعنی ان کو مانتے نہیں بلکہ ان سے اعراض، انحراف اور ان کی تکذیب کرتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے الحاد کے معنی کیے ہیں وضع الکلام علی غیر مواضعہ جس کی رو سے اس میں وہ باطل فرقے بھی آجاتے ہیں جو اپنے غلط عقائد و نظریات کے اثبات کے لیے آیات الہی میں تحریف معنوی اور دجل وتلبیس سے کام لیتے ہیں۔ 40۔ 2 یہ ملحدین (چاہے وہ کسی قسم کے ہوں) کے لئے سخت وعید ہے۔ 40۔ 3 یعنی کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ نہیں۔، یقینا نہیں علاوہ ازیں اس سے اشارہ کردیا کہ کافر آگ میں ڈالے جائیں گے اور اہل ایمان قیامت والے دن بےخوف ہونگے۔ 40۔ 3 یہ امر کا لفظ ہے، لیکن یہاں اس سے مقصود وعید اور تہدید ہے۔ کفر و شرک اور معیصت کے لئے اذن اور جواز نہیں ہے۔
(آیت 40) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا: ” يُلْحِدُوْنَ “} کا مادہ {”لَحْدٌ“} ہے۔ لحد اس قبر کو کہتے ہیں جو نیچے سیدھی کھودنے کے بجائے کچھ نیچے جا کر ایک طرف کھود کر بنائی جاتی ہے۔ {” إِلْحَادٌ “} کا معنی ہے سیدھے راستے سے انحراف، یعنی ایک طرف کو ہٹ جانا، کج روی اور ٹیڑھا چلنا، یعنی جو لوگ حق سے ہٹ کر ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد (ٹیڑھا چلنا) یہ ہے کہ ان کا انکار کر دے، یا ان کا سیدھا سادا اور واضح مطلب لینے کے بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انھیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات مثلاً مشرکانہ عقائد، بدعت، انکارِ حدیث، اشتراکیت، سرمایہ داری اور دہریت وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کرتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہاں آیاتِ الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والوں کے لیے وعید آئی ہے اور سورۂ اعراف کی آیت (۱۸۰) میں اسمائے الٰہی میں کج روی اختیار کرنے والوں سے علیحدگی کا حکم اور ایسے لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔ ➋ {لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا:} یہ پہلی شدید وعید ہے جو یہاں آیاتِ الٰہی میں ٹیڑھا چلنے والوں کے لیے آئی ہے کہ یہ لوگ ہم پر مخفی نہیں ہیں، بلکہ ہر لمحے ہماری نگاہ میں ہیں اور ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ ہم اگر ان کے عذاب میں تاخیر کر رہے ہیں اور انھیں مہلت دے رہے ہیں تو اس لیے کہ جلدی تو وہ کرے جسے خطرہ ہو کہ مجرم رو پوش ہو جائے گا اور قابو سے نکل جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم انھیں اس الحاد کی سزا ضرور دیں گے۔ ➌ { اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْۤ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ:} یہ دوسری دھمکی ہے کہ آیاتِ الٰہی کا مطلب توڑنے مروڑنے والے اور ان کے بارے میں ٹیڑھے چلنے والے آگ میں پھینکے جائیں گے اور آیاتِ الٰہی میں الحاد سے اجتناب کرنے والے قیامت کے دن امن کی حالت میں آئیں گے۔ تو بتاؤ، جو آگ میں پھینکا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا؟ ➍ {اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ …:} یہ تیسری دھمکی ہے، ”کرو جو چاہو“ کا مطلب اپنی مرضی کرنے کی اجازت دینا نہیں بلکہ ڈانٹ ہے کہ اس مہلت میں تم جو چاہو کر لو، پھر اس کی سزا کے لیے ہم جو چاہیں گے کریں گے۔ تمھارے ہر عمل کو ہم خوب دیکھ رہے ہیں، یہ خیال نہ کرنا کہ تم اپنے کسی عملِ بد کی سزا سے اس لیے بچ جاؤ گے کہ وہ ہماری نگاہ سے اوجھل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی عظیم فرماں روا اپنے کچھ غلاموں پر ناراض ہو کر شدید غصے سے کہے، جو چاہو کرو۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وه بھی ہم سے پوشیده نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا حالانکہ وہ ایک زبردست (معزز) کتاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا، جب وہ ان کے پاس آئی ( وہ بھی ہم پر مخفی نہیں ہیں )اور بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت کتاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭
«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔ ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف]
41۔ 1 بریکٹ کے الفاظ ان کی خبر محذوف کا ترجمہ ہیں بعض نے کچھ اور الفاظ محذوف مانے ہیں مثلا یجازون بکفرھم انہیں ان کے کفر کی سزا دی جائے گی یا ھالکون وہ ہلاک ہونے والے ہیں یا یعذبون انہیں ان کے کفر کی سزا دی جائے گی یا (وہ ہلاک ہونے والے ہیں) 41۔ 2 یعنی یہ کتاب، جس سے اعراض انحراف کیا جاتا ہے معارضے اور طعن کرنے والوں کے طعن سے بہت بلند اور ہر عیب سے پاک ہے۔
(آیت 41) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ:} زمخشری نے فرمایا: ”یہ جملہ {” اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا “} سے بدل ہے۔“ (کشاف) اس لیے اس کی خبر وہی ہے جو پہلے جملے کی خبر ہے اور وہ ہے {” لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا “} اس صورت میں محذوف خبر نکالنے کی ضرورت نہیں، گویا عبارت اس طرح ہوئی کہ ”یقینا وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، جنھوں نے اس نصیحت کا اسی وقت انکار کر دیا جب وہ ان کے پاس آئی، وہ ہم پر مخفی نہیں ہیں۔“ بعض مفسرین نے فرمایا {” اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ “} کی خبر محذوف ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، مقام کی مناسبت سے محذوف خبر {” يُجْزَوْنَ عَلٰي كُفْرِهِمْ“} یا اس سے ملتی جلتی ہو گی۔ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا جب وہ ان کے پاس آئی انھیں ان کے کفر کی جزا دی جائے گی۔ ➋ {” بِالذِّكْرِ “} سے مراد قرآن کریم ہے، جیسا کہ آگے اس کی صفات بیان ہو رہی ہیں۔ ➌ { لَمَّا جَآءَهُمْ:} یعنی انھوں نے قرآن مجید کی آیات کا نزول ہوتے ہی ان کا انکار کر دیا، غور سے سننے اور سوچنے سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ➍ {وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ: ” عَزِيْزٌ “} کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ یہ سب پر غالب ہے، زبان و بیان میں، دلیل و برہان میں، علم و حکمت میں، صدق و حقانیت میں، غرض ہر لحاظ سے یہ دوسری ہر کتاب پر غالب اور زبردست ہے، دوسری سب کتب اس کے مقابلے میں زیر ہیں۔ {” عَزِيْزٌ “} کا دوسرا معنی ہے عدیم النظیر، بے مثال، کیونکہ پوری کائنات اس کی ایک سورت کی مثال لانے سے عاجز ہے۔
باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے
احمد رضا خان بریلوی
باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا،
علامہ محمد حسین نجفی
باطل کا اس کے پاس گزر نہیں ہے وہ نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ پیچھے سے یہ اس ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے جو بڑی حکمت والی ہے (اور) قابلِ ستائش ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭
«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔ ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف]
42۔ 1 یعنی وہ ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کر اس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آ کر اضافہ کرسکتا ہے اور نہ کوئی تغیر و تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں یعنی اچھے اور مفید ہیں (ابن کثیر)
(آیت 42) ➊ { لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ:} اس کے پاس نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ باطل آ کر اس پر غلبہ نہیں پا سکتا، یعنی باطل کی مجال نہیں کہ کسی پہلو سے آ کر اس پر غلبہ پا سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آ کر اور نہ چوری چھپے پیچھے سے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے کی کوئی کتاب یا تحقیق اس قرآن کی کسی بات کو غلط یا باطل ثابت نہیں کر سکتی اور نہ ہی بعد کی کوئی کتاب یا تحقیق اس کی کسی بات کو غلط ثابت کر سکے گی، اور یہ مطلب بھی ہے کہ اس میں باطل کی آمیزش نہ کوئی کھلم کھلا کر سکتا ہے نہ چوری چھپے، جیسا پہلی کتابوں کے ساتھ ہوا، بلکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، فرمایا: «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [ الحجر: ۹ ] ”بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ ➋ { تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ:} قرآن مجید کی کوئی بات غلط نہیں ہو سکتی، اس میں کسی باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دلیل میں باطل کسی طرح اس پر غالب آ سکتا ہے، کیونکہ یہ حکیم و حمید کی طرف سے تنزیل ہے۔ {” تَنْزِيْلٌ “} کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۱۰۶)۔ یعنی یہ کتاب اس نے تھوڑی تھوڑی کر کے نازل فرمائی ہے جو کمال حکمت والا ہے، ہر تعریف کا مستحق اور ہر خوبی کا مالک ہے۔ {” حَكِيْمٍ “} وہ جس کی کسی تدبیر میں خطا نہ ہو اور{ ” حَمِيْدٍ “} وہ جس کے کسی فعل کی مذمت نہ ہو سکے۔
اے نبیؐ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی واﻻ اور دردناک عذاب واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم سے نہ فرمایا جائے مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ سے وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو آپ سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں(ع) سے کہا گیا ہے بیشک آپ کا پروردگار بڑا بخشش والا بھی ہے اور بڑے دردناک عذاب والا بھی۔
عبدالسلام بن محمد
تجھے نہیں کہا جائے گا مگر وہی جو ان رسولوں سے کہا گیا جو تجھ سے پہلے تھے اور بے شک تیرا رب یقینا بڑی بخشش والا اور بہت دردناک عذاب والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭
«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔ ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف]
43۔ 1 یعنی پچھلی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کے لئے جو کچھ کہا یہ ساحر ہیں، مجنون ہیں، کذاب ہیں وغیرہ وغیرہ، وہی کچھ کفار مکہ نے بھی آپ کو کہا۔ یہ گویا آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپکی تکذیب اور آپ کی سحر، کذب اور جنون کی طرف نسبت، نئی نہیں ہے، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ اَتَوَاصَوْا بِهٖ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ 53ۚ) 51۔ الزایات:53-52) دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کو بھی کہی گئی تھیں اس لیے کہ تمام شریعتیں ان باتوں پر متفق رہی ہیں بلکہ سب کی اولین دعوت ہی توحید و اخلاص تھی۔ (فتح القدیر)۔ 43۔ 2 یعنی اہل ایمان و توحید کے لئے جو مستحق مغفرت ہیں۔ 43۔ 3 ان کے لئے جو کافر اور اللہ کے پیغمبروں کے دشمن ہیں۔ یہ آیت بھی سورة حجر کی آیت کی طرح ہے۔
(آیت 43) ➊ { مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کو جادوگر، شاعر، کاہن، دیوانہ، کذاب، متکبر یا اس قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کرکے آپ کو ایذا دیتے ہیں تو آپ اطمینان رکھیں، ان کے رکھے ہوئے ناموں میں سے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا طعنہ آپ سے پہلے رسولوں کو نہ مل چکا ہو، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور نہ پہلے شخص ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔ سورۂ ذاریات میں فرمایا: «كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ (52) اَتَوَاصَوْا بِهٖ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ» [الذاریات: ۵۲، ۵۳ ] ”اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں آیا مگر انھوں نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔ کیا انھوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سرکش لوگ ہیں۔“ کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے، فرمایا: «فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ» [ الأحقاف: ۳۵ ] ”پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر۔“ ➋ { اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ: } یعنی اتنی ایذا اور بدزبانی کے باوجود اگر یہ لوگ توبہ کرکے ایمان لے آئیں تو تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے ({مَغْفِرَةٍ } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) اور اگر اپنے کفر پر اصرار کریں تو وہ نہایت دردناک عذاب والا بھی ہے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں ان کی اس بد زبانی کا بدلا دینا آپ کا کام نہیں ہے، یہ ہمارا اختیار اور ہماری مرضی ہے کہ ہم انھیں ایمان کی توفیق سے نواز کر بخش دیں یا انھیں کفر پر رہنے دیں اور عذابِ الیم چکھائیں، جیسا کہ فرمایا: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ اَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ» [ آل عمران: ۱۲۸ ] ”تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں، یا وہ ان پر مہربانی فرمائے یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔“
اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے "کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی" اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں ﻻتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں کیا کتاب عجمی اور نبی عربی تم فرماؤ وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی زبان میں بنا کر نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف (کھول کر) کیوں بیان نہیں کی گئیں؟ آپ(ص) کہہ دیجئے کہ یہ ایمان لانے والوں کیلئے ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (بہرہ پن) ہے اور وہ ان کے حق میں نابینائی ہے اور یہ لوگ (بہرہ پن کی وجہ سے گویا) بہت دور راستہ کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بنا دیتے تو یقینا وہ کہتے اس کی آیات کھول کر کیوں نہ بیان کی گئیں، کیا عجمی زبان اور عربی (رسول)؟ کہہ دے یہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں بہت دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کو جھٹلانے والے جھکی ہیں ٭٭
قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اس کے حکم احکام اس کے لفظی و معنوی فوائد کا بیان کر کے اس پر ایمان نہ لانے والوں کی سرکشی ضد اور عداوت کا بیان فرما رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:198،199] مطلب یہ ہے کہ نہ ماننے کے بیسیوں حیلے ہیں نہ یوں چین نہ ووں چین۔ اگر قرآن کسی عجمی زبان میں اترتا تو بہانہ کرتے کہ ہم تو اسے صاف صاف سمجھ نہیں سکتے۔ مخاطب جب عربی زبان کے ہیں تو ان پر جو کتاب اترتی ہے وہ غیر عربی زبان میں کیوں اتر رہی ہے؟ اور اگر کچھ عربی میں ہوتی اور کچھ دوسری زبان میں تو بھی ان کا یہی اعتراض ہوتا کہ اس کی کیا وجہ؟ حسن بصری رحمہ اللہ کی قرأت «اَعْجَمِیٌّ» ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بھی یہی مطلب بیان کرتے ہیں۔ اس سے ان کی سرکشی معلوم ہوتی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن ایمان والوں کے دل کی ہدایت اور ان کے سینوں کی شفاء ہے۔ ان کے تمام شک اس سے زائل ہو جاتے ہیں اور جنہیں اس پر ایمان نہیں وہ تو اسے سمجھ ہی نہیں سکتے جیسے کوئی بہرا ہو، نہ اس کے بیان کی طرف انہیں ہدایت ہو جیسے کوئی اندھا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ’ ہمارا نازل کردہ یہ قرآن ایمان داروں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو تو ان کا نقصان ہی بڑھاتا ہے ‘۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی دور سے کسی سے کچھ کہہ رہا ہو کہ نہ اس کے کانوں تک صحیح الفاظ پہنچتے ہیں نہ وہ ٹھیک طرح مطلب سمجھتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:171] یعنی، ’ کافروں کی مثال اس کی طرح ہے جو پکارتا ہے مگر آواز اور پکار کے سوا کچھ اور اس کے کان میں نہیں پڑتا۔ بہرے گونگے اندھے ہیں پھر کیسے سمجھ لیں گے؟ ‘ ضحاک رحمہ اللہ نے یہ مطلب بیان فرمایا ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے بدترین ناموں سے پکارا جائے گا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک مسلمان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جس کا آخری وقت تھا اس نے یکایک «لَبـَّیـْكَ» پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تجھے کوئی دیکھ رہا ہے یا کوئی پکار رہا ہے“؟ اس نے کہا ہاں سمندر کے اس کنارے سے کوئی بلا رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی جملہ پڑھا «اُولٰىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ۔ [ابن ابی حاتم]
پھر فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب دی لیکن اس میں بھی اختلاف کیا گیا۔ انہیں بھی جھٹلایا اور ستایا گیا۔ «فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:35] ’ پس جیسے انہوں نے صبر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی صبر کرنا چاہیئے ‘، چونکہ «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» ۱؎ [42-الشورى:14] ’ پہلے ہی سے تیرے رب نے اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ ایک وقت مقرر یعنی قیامت تک عذاب رکے رہیں گے ‘۔ اس لیے یہ مہلت مقررہ ہے ورنہ ان کے کرتوت تو ایسے نہ تھے کہ یہ چھوڑ دیئے جائیں اور کھاتے پیتے رہیں۔ ابھی ہی ہلاک کر دیئے جاتے۔ یہ اپنی تکذیب میں بھی کسی یقین پر نہیں بلکہ شک میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ لرز رہے ہیں ادھر ادھر ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
44۔ 1 یعنی عربی کے بجائے کسی اور زبان میں قرآن نازل کرتے۔ 44۔ 2 یعنی ہماری زبان میں اسے بیان کیوں نہیں کیا گیا جسے ہم سمجھ سکتے کیونکہ ہم تو عرب ہیں عجمی زبان نہیں سمجھتے 44۔ 3 یہ بھی کافروں ہی کا قول ہے کہ وہ تعجب کرتے کہ رسول تو عربی ہے اور قرآن اس پر عجمی زبان میں نازل ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن کو عربی زبان میں نازل فرما کر اس کے اولین مخاطب عربوں کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنے دیا ہے اگر یہ غیر عربی زبان میں ہوتا تو وہ عذر کرسکتے تھے 44۔ 4 یعنی جس طرح دور کا شخص، دوری کی وجہ سے پکارنے والے کی آواز سننے سے قاصر رہتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کی عقل و فہم میں قرآن نہیں آتا۔
(آیت 44) ➊ { وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا …:} سورت کے شروع میں ذکر فرمایا کہ ”رحمان و رحیم کی طرف سے یہ ایسی کتاب نازل کی گئی ہے جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں، جو عربی قرآن ہے، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔“ مشرکینِ مکہ جو عرب تھے ان کا حق تھا کہ اپنی زبان میں اترنے والی کتاب کو سنتے اور اس پر غور و فکر کرتے، تو اس کے نتیجے میں انھیں ایمان کی دولت بھی نصیب ہو جاتی، مگر انھوں نے اپنی زبان میں ہونے کے باوجود اپنے کانوں، آنکھوں اور دلوں کے دریچے اس کے لیے بند کر دیے اور کہنے لگے: «قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ وَ فِيْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۵ ] ”ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے اور ہمارے کانوں میں بھاری بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان بھاری پردہ ہے۔“ بلکہ انھوں نے عملاً طے کر لیا کہ یہ عربی قرآن نہ خود سنیں گے اور نہ کسی کو سننے دیں گے، جیسا کہ اسی سورت میں ہے: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [حٰمٓ السجدۃ: ۲۶ ] ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ اب انھیں قائل کرنے کے لیے ایک صورت رہ جاتی تھی کہ قرآن عربی زبان کے بجائے کسی اور زبان میں اتارا جاتا، جس سے انھیں یقین ہو جائے کہ یہ عربی رسول جو عجمی زبان جانتا ہی نہیں، عجمی قرآن لے کر آیا ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہوتا، پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، بلکہ نہ ماننے کے لیے ایک اور بہانہ پیش کر دیتے، کیونکہ جو طے کر چکا ہو کہ میں نے ماننا ہی نہیں اسے منوانے کی کوئی صورت نہیں۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”یہ کفارِ مکہ بھی عجیب شے ہیں، اگر ان کے پاس انھی میں سے ایک آدمی عربی میں قرآن لے کر آیا ہے تو کہتے ہیں کہ ایک عرب کا عربی قرآن پیش کرنا کوئی کمال نہیں، کمال تو اس وقت ہوتا جب یہ شخص کسی عجمی زبان فارسی، رومی یا ترکی میں قرآن پیش کرتا۔ حالانکہ اگر ہم ان کا مطالبہ مان لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی عجمی زبان میں قرآن نازل کر دیتے تو یہی لوگ اس وقت اعتراض کرتے کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ پیغمبر تو عربوں کو دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن قرآن ایسی زبان میں لے کر آیا ہے جسے عرب سمجھ بھی نہیں سکتے۔“ (اشرف الحواشی) ➋ {قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ:} اس کی تفسیر گزر چکی ہے، دیکھیے سورۂ یونس (۵۷) اور سورۂ بنی اسرائیل (۸۲)۔ ➌ { وَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ …:} یعنی قرآن اگرچہ رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے، لیکن وہ ان کافروں کے حق میں کانوں کا بوجھ اور آنکھوں کا پردہ ہے۔ اس کی وجہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب ہے، اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے سورج روشنی دینے والی چیز ہے، لیکن اس کے طلوع ہوتے ہی چمگادڑ کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ➍ {اُولٰٓىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ:} یہ ایک محاورہ ہے اور اس شخص کے حق میں استعمال ہوتا ہے جو کوئی بات نہ سمجھتا ہو۔ (قرطبی) یعنی یہ لوگ قرآن کو دل سے سننے کی کوشش نہیں کرتے، صرف اوپرے دل سے سنتے ہیں، اس لیے اس سے کوئی ہدایت نہیں پاتے۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی شخص کو دور سے پکارا جائے اور وہ آواز تو محسوس کرے مگر مطلب مراد کچھ نہ سمجھے۔
اِس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا اگر تیرے رب نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر دی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا اور بیشک وہ ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ہی نے موسیٰ(ع) کو کتاب (توراۃ) عطا کی تھی تو اس میں اختلاف کیا گیا ہے اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی تو ان (اختلاف کرنے والوں) میں فیصلہ کر دیا جاتا اور بیشک وہ ایک تردد انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہو چکی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور بلاشبہ وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میں ہیں جو بے چین رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کو جھٹلانے والے جھکی ہیں ٭٭
قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اس کے حکم احکام اس کے لفظی و معنوی فوائد کا بیان کر کے اس پر ایمان نہ لانے والوں کی سرکشی ضد اور عداوت کا بیان فرما رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:198،199] مطلب یہ ہے کہ نہ ماننے کے بیسیوں حیلے ہیں نہ یوں چین نہ ووں چین۔ اگر قرآن کسی عجمی زبان میں اترتا تو بہانہ کرتے کہ ہم تو اسے صاف صاف سمجھ نہیں سکتے۔ مخاطب جب عربی زبان کے ہیں تو ان پر جو کتاب اترتی ہے وہ غیر عربی زبان میں کیوں اتر رہی ہے؟ اور اگر کچھ عربی میں ہوتی اور کچھ دوسری زبان میں تو بھی ان کا یہی اعتراض ہوتا کہ اس کی کیا وجہ؟ حسن بصری رحمہ اللہ کی قرأت «اَعْجَمِیٌّ» ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بھی یہی مطلب بیان کرتے ہیں۔ اس سے ان کی سرکشی معلوم ہوتی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن ایمان والوں کے دل کی ہدایت اور ان کے سینوں کی شفاء ہے۔ ان کے تمام شک اس سے زائل ہو جاتے ہیں اور جنہیں اس پر ایمان نہیں وہ تو اسے سمجھ ہی نہیں سکتے جیسے کوئی بہرا ہو، نہ اس کے بیان کی طرف انہیں ہدایت ہو جیسے کوئی اندھا ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ’ ہمارا نازل کردہ یہ قرآن ایمان داروں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو تو ان کا نقصان ہی بڑھاتا ہے ‘۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی دور سے کسی سے کچھ کہہ رہا ہو کہ نہ اس کے کانوں تک صحیح الفاظ پہنچتے ہیں نہ وہ ٹھیک طرح مطلب سمجھتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [2-البقرة:171] یعنی، ’ کافروں کی مثال اس کی طرح ہے جو پکارتا ہے مگر آواز اور پکار کے سوا کچھ اور اس کے کان میں نہیں پڑتا۔ بہرے گونگے اندھے ہیں پھر کیسے سمجھ لیں گے؟ ‘ ضحاک رحمہ اللہ نے یہ مطلب بیان فرمایا ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے بدترین ناموں سے پکارا جائے گا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک مسلمان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جس کا آخری وقت تھا اس نے یکایک «لَبـَّیـْكَ» پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تجھے کوئی دیکھ رہا ہے یا کوئی پکار رہا ہے“؟ اس نے کہا ہاں سمندر کے اس کنارے سے کوئی بلا رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی جملہ پڑھا «اُولٰىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ۔ [ابن ابی حاتم]
پھر فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب دی لیکن اس میں بھی اختلاف کیا گیا۔ انہیں بھی جھٹلایا اور ستایا گیا۔ «فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:35] ’ پس جیسے انہوں نے صبر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی صبر کرنا چاہیئے ‘، چونکہ «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى» ۱؎ [42-الشورى:14] ’ پہلے ہی سے تیرے رب نے اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ ایک وقت مقرر یعنی قیامت تک عذاب رکے رہیں گے ‘۔ اس لیے یہ مہلت مقررہ ہے ورنہ ان کے کرتوت تو ایسے نہ تھے کہ یہ چھوڑ دیئے جائیں اور کھاتے پیتے رہیں۔ ابھی ہی ہلاک کر دیئے جاتے۔ یہ اپنی تکذیب میں بھی کسی یقین پر نہیں بلکہ شک میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ لرز رہے ہیں ادھر ادھر ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
45۔ 1 کہ ان کے عذاب دینے سے پہلے مہلت دی جائے گی۔ ولکن یوخرھم الی اجل مسمی فاطر 45۔ 2 یعنی فوراً عذاب دے کر ان کو تباہ کردیا گیا ہوتا۔ 45۔ 3 یعنی ان کا انکار عقل و بصیرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض شک کی وجہ سے ہے جو ان کو بےچین کئے رکھتا ہے۔
(آیت 45) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ:} اس سے بھی مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے، یعنی اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی گئی، مگر لوگوں نے اس کے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف کیا، اسی طرح اگر یہ کفارِ مکہ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں تو آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ (قرطبی) ➋ { وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ:} یعنی اگر پہلے یہ طے نہ ہو چکا ہوتا کہ کفار کے اعمالِ بد پر فوری گرفت کے بجائے دنیا میں ایک وقت تک انھیں مہلت دی جائے گی اور اصل فیصلہ آخرت میں ہو گا، تو ان کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۲)، نحل (۶۱) اور فاطر (۴۵)۔ {” وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ “} میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ طے نہ کر دیا ہوتا کہ ان کفار سے پیدا ہونے والی نسلیں مسلمان ہوں گی، جو اسلام کا علم بلند کریں گی تو ان کا قصہ تمام کر دیا گیا ہوتا، جیساکہ طائف میں ہونے والی بدسلوکی پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی کے لیے ملک الجبال (پہاڑوں کے فرشتے) کو بھیجا اور اس نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کش کی کہ اگر آپ کہیں تو میں ان کفار پر اخشبین (دو پہاڑوں) کو ملا دوں۔ (یہ مکہ کے دو پہاڑ ہیں، ایک ابوقبیس ہے اور دوسرا اس کے بالمقابل قُعیقعان ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَلْ أَرْجُوْ أَنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ وَحْدَهُ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا] [ بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین…: ۳۲۳۱، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ] ”بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ان لوگوں کو نکالے گا جو اکیلے اللہ عزو جل کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائیں گے۔“ {” وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ “} میں یہ بات بھی شامل ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے بعد طے کر دیا گیا کہ اب پہلی اقوام پر آنے والے عذابوں کے بجائے دنیا میں کفار کو جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دی جائے گی اور آخری فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔یہ پوری آیت اور اس کی تفسیر سورۂ ہود کی آیت (۱۱۰) میں گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ ➌ { وَ اِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ: ” شَكٍّ “} اور {” مُرِيْبٍ “} کی لغوی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۲)۔
جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو شخص نیک کام کرے گا وه اپنے نفع کے لیے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔ اور آپ کا رب بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو برائی کرے اپنے بُرے کو، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے اور جو شخص برائی کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے اور آپ(ص) کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہوگی اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناکردہ گناہ سزا نہیں پاتا ٭٭
اس آیت کا مطلب بہت صاف ہے بھلائی کرنے والے کے اعمال کا نفع اسی کو ہوتا ہے اور برائی کرنے والے کی برائی کا وبال بھی اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ پروردگار کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ ایک کے گناہ پر دوسرے کو وہ نہیں پکڑتا۔ ناکردہ گناہ کو وہ سزا نہیں دیتا۔ پہلے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتا ہے۔ اپنی کتاب اتارتا ہے، اپنی حجت تمام کرتا ہے، اپنی باتیں پہنچا دیتا ہے، اب بھی جو نہ مانے وہ مستحق عذاب و سزا قرار دے دیا جاتا ہے۔
46۔ 1 اس لئے کہ وہ عذاب صرف اسی کو دیتا ہے جو گناہ گار ہوتا ہے، نہ کہ جس کو چاہے، یوں ہی عذاب میں مبتلا کر دے۔
(آیت 46) ➊ { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں۔ جو صالح عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔ ➋ { وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} اور اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں کہ کسی کو اس کی نیکی کا بدلا نہ دے، یا ایک کی بدی دوسرے پر ڈال دے۔ ➌ یہاں لفظ {” بِظَلَّامٍ “} پر ایک مشہور سوال ہے، اس سوال اور اس کے جواب کے لیے دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۸۲)، انفال (۵۱) اور سورۂ حج (۱۰) کی تفسیر۔
اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، "ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں
احمد رضا خان بریلوی
قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ساعت (قیامت) کا علم اسی (اللہ) کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اسی (اللہ) کے علم کے ساتھ اور جس دن وہ (اللہ) ان (مشرکین) کو پکارے گا (اور پوچھے گا کہ)میرے شریک کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ ہم تجھے بتا چکے ہیں (عرض کر چکے ہیں) کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے(اور نہ کوئی ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹا یا جاتا ہے اور کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہبچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ انھیں پکارے گا کہاں ہیں میرے شریک ؟وہ کہیں گے ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے، ہم میں سے کوئی (اس کی) شہادت دینے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم الٰہی کی وسعتیں ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کب آئے گی؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں ‘۔ { تمام انسانوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی جبرائیل علیہ السلام نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں } }۔۱؎ [صحیح بخاری:50] قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» ۱؎ [79-النازعات:44] یعنی ’ قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الاعراف:187] مطلب یہی ہے کہ ’ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے ‘، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ’ جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34-سبأ:3] ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الانعام:59] یعنی ’ جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ‘۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:11] ’ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ‘۔ قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ’ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔ قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] یعنی ’ گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔
47۔ 1 یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا علم کسی کو نہیں۔ اس لئے جب حضرت جبرائیل ؑ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ' اس کی بابت مجھے بھی اتنا علم ہے، جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا) 79۔ النازعات:44) 47۔ 2 یہ اللہ کے علم کا محیط کا بیان ہے اور اس کی صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں، حتیٰ کے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی نہیں انہیں بھی اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔ 47۔ 3 یعنی آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے؟
(آیت 47) ➊ {اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ:} پچھلی آیت کے ضمن میں ہر نیک و بد عمل کی جزا کا ذکر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اکثر لوگ جزا کے بغیر فوت ہو جاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ اس کا نام ہی ”یوم الدین“ (جزا کا دن) ہے، کیونکہ اگر وہ نیک و بد کو جزا نہ دے تو یہ ظلم ہے، جب کہ وہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا نہیں۔ کفار چونکہ قیامت قائم ہونے اور اس پر اللہ تعالیٰ کے پوری طرح قادر ہونے کی بات کو دلیل کے ساتھ نہیں جھٹلا سکتے تھے، اس لیے انھوں نے جھٹلانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ بار بار پوچھتے، قیامت کب ہو گی؟ گویا ان کی فرمائش پر وہ فوراً قائم نہ ہوئی تو کہہ سکیں گے کہ قیامت ہوتی تو آ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ یعنی انسان، جن اور فرشتے، غرض جس کسی سے قیامت کے متعلق پوچھو وہ بے خبر ہو گا۔ کسی دوسرے سے پوچھنے کو کہے گا تو وہ بھی بے خبر ہو گا۔ پوچھتے پوچھتے سبھی جس کی طرف لوٹائیں گے کہ وہی بتا سکتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب بے خبر ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ نازعات (۴۲ تا ۴۴)، انعام (۵۹) اور سورۂ اعراف (۱۸۷) جبریل علیہ السلام نے انسانی شکل میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب ہو گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰ ] ”جس سے اس کے متعلق پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“ مطلب یہ ہے کہ تم جس بات کے پیچھے پڑے ہو تمھیں اس سے کچھ حاصل نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم ہی نہیں، اس لیے تم یہ فکر کرو کہ اس دن تمھارا بنے گا کیا اور تم نے اس کے لیے تیاری کیا کی ہے؟ ➋ { وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا: ”أَكْمَامٌ“ ”كِمٌّ“} (کاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ غلاف یا پردہ جس کے اندر شروع میں پھل چھپا ہوتا ہے۔ {” ثَمَرٰتٍ “} جمع ہے اور نکرہ ہے، اس پر {” مِنْ “} آنے سے عموم میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے ”کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے۔“ مطلب یہ ہے کہ صرف قیامت کا علم ہی نہیں، غیب کے متعلق جتنے بھی امور ہیں ان سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کسی نبی، ولی یا فرشتے کو غیب کے معاملات کا علم اسی حد تک ہو سکتا ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۵۹) اور سورۂ اعراف (۱۸۷)۔ ➌{ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ:} دیکھیے سورۂ رعد (۸) اور سورۂ فاطر (۱۱)۔ یعنی قیامت کے علاوہ کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے کے وقت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، تو کیا آج تک تم نے اس وجہ سے کسی پھل کے اپنے غلاف سے نکلنے یا کسی مادہ کے حاملہ ہونے یا بچہ جننے سے اور دوسری بے شمار چیزوں کے واقع ہونے سے اس لیے انکار کیا ہے کہ اس کا متعین وقت تمھیں نہیں بتایا گیا، تو قیامت کا انکار صرف اس لیے کیوں کہ تمھیں اس کے برپا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا!؟ ➍ {وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَآءِيْ: ” يَوْمَ “} فعل محذوف {”اُذْكُرْ“} کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن یاد کرو جب اللہ تعالیٰ مشرکین کو پکار کر کہے گا کہاں ہیں میرے شریک؟ {” شُرَكَآءِيْ “} (میرے شریک) سے مراد وہ ہیں جو انھوں نے بنا رکھے تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کا شریک کون ہو سکتا ہے!؟ اللہ تعالیٰ کا انھیں یہ کہنا صرف انھیں ذلیل کرنے کے لیے ہو گا، کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں جسے وہ لے آئیں گے۔ ➎ { قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيْدٍ:} یعنی وہ اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کی شہادت دینے والا نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے، یعنی ہم نے تیرے ساتھ کبھی شرک کیا ہی نہیں۔ (دیکھیے انعام: ۲۲ تا ۲۴) حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ کبھی اپنے مشرک ہونے سے انکار کریں گے، کبھی بے اختیار اس کا اقرار کریں گے، پھر انکار کریں گے۔ (دیکھیے مومن: ۷۳، ۷۴) پھر شہادتیں پیش ہونے پر اقرار کے سوا کچھ چارہ نہ ہو گا۔
اُس وقت وہ سارے معبود اِن سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اِن کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ جن (جن) کی پرستش اس سے پہلے کرتے تھے وه ان کی نگاه سے گم ہوگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کے لیے کوئی بچاؤ نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور گم گیا ان سے جسے پہلے پوجتے تھے اور سمجھ لیے کہ انہیں کہیں بھاگنے کی جگہ نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن کو وہ پہلے پکارا کرتے تھے وہ سب (اس دن) گم ہو جائیں گے اور وہ سمجھ جائیں گے کہ اب ان کے لئے چھٹکارا نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان سے غائب ہو جائیں گے وہ جنھیں وہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علم الٰہی کی وسعتیں ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ قیامت کب آئے گی؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں ‘۔ { تمام انسانوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی جبرائیل علیہ السلام نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں } }۔۱؎ [صحیح بخاری:50] قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے «اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا» ۱؎ [79-النازعات:44] یعنی ’ قیامت کب ہو گی؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت «لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الاعراف:187] مطلب یہی ہے کہ ’ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے ‘، «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ’ جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [34-سبأ:3] ایک اور آیت میں ہے «وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [6-الانعام:59] یعنی ’ جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ‘۔ «وَاللَّـهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [35-فاطر:11] ’ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ‘۔ قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ ’ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے۔ قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] یعنی ’ گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔
48۔ 1 یعنی وہ ادھر ادھر ہوگئے اور حسب گمان انہوں نے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ 48۔ 2 یہ گمان، یقین کے معنی میں ہیں یعنی قیامت والے دن وہ یقین کرنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا " وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا "18۔ الکہف:53)
(آیت 48) ➊ { وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ:} یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چاروں طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جنھیں پکارتے رہے، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آ جائے، انھیں عذاب سے چھڑا لے، یا اس میں کچھ کمی ہی کروا دے، مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔ ➋ {وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ: ”حَاصَ يَحِيْصُ حَيْصًا “} (ض) بھاگنا۔ {” مَحِيْصٍ “} مصدر میمی ہے یا ظرف۔ مصدر کا معنی ہو گا بھاگنے کی کوئی صورت اور ظرف کا معنی ہے بھاگنے کی کوئی جگہ۔ ”ظن“ کا لفظ گمان کے علاوہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۴۶) یہاں بھی {” ظَنُّوْا “} یقین کے معنی میں ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی اور کسی کو کوئی شک باقی نہیں رہے گا، حتی کہ کفار خود کو یقین ہو جانے کا اقرار کریں گے، فرمایا: «رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [ السجدۃ: ۱۲ ] ”اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج کہ ہم نیک عمل کریں، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ مریم (۳۸)، سورۂ ق (۲۲) اور سورۂ انعام (۳۰)۔ مطلب یہ ہے کہ کفار کے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی انھیں نظر نہیں آئے گا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھاگ نکلنے کی کوئی جگہ ہے نہ اس کی کوئی صورت۔
انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اِس پر آ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا اور کوئی برائی پہنچے تو ناامید آس ٹوٹا
علامہ محمد حسین نجفی
انسان بھلائی کی دعا کرتے ہوئے نہیں تھکتا اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو ایکدم بالکل مایوس و ناامید ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انسان بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا اور اگر اسے کوئی برائی آ پہنچے تو بہت مایوس، نہایت ناامید ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آ جائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہو جاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھلائی اور راحت مل جائے تو کہنے بیٹھ جاتا ہے کہ اللہ پر یہ تو میرا حق تھا، میں اسی کے لائق تھا، اب اس نعمت پر پھولتا ہے، اللہ کو بھول جاتا ہے اور صاف منکر بن جاتا ہے۔ قیامت کے آنے کا صاف انکار کر جاتا ہے۔ مال و دولت راحت آرام اس کے کفر کا سبب بن جاتا ہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ» ۱؎ [96-العلق:7،6] یعنی ’ انسان نے جہاں آسائش و آرام پایا وہیں اس نے سر اٹھایا اور سرکشی کی ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنا ہی نہیں بلکہ اس بداعمالی پر بھلی امیدیں بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بالفرض اگر قیامت آئی بھی اور میں وہاں اکٹھا بھی کیا گیا تو جس طرح یہاں سکھ چین میں ہوں وہاں بھی ہوں گا ‘۔ غرض انکار قیامت بھی کرتا ہے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتا بھی نہیں اور پھر امیدیں لمبی باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ جیسے میں یہاں ہوں ویسے ہی وہاں بھی رہوں گا۔ پھر ان لوگوں کو ڈراتا ہے کہ ’ جن کے یہ اعمال و عقائد ہوں انہیں ہم سخت سزا دیں گے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ جب انسان اللہ کی نعمتیں پا لیتا ہے تو اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے اور ماننے سے جی چراتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا «فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:39] ’ اور جب اسے کچھ نقصان پہنچتا ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے بیٹھ جاتا ہے ‘۔ ”عریض کلام“ اسے کہتے ہیں جس کے الفاظ بہت زیادہ ہوں اور معنی بہت کم ہوں۔ اور جو کلام اس کے خلاف ہو یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور معنی زیادہ ہوں تو اسے ”وجیز کلام“ کہتے ہیں۔ وہ بہت کم اور بہت کافی ہوتا ہے۔ اسی مضمون کو اور جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے «وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:12] ، ’ جب انسان کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر لیٹ کر اور بیٹھ کر اور اکٹھے ہو کر غرض ہر وقت ہم سے مناجات کرتا رہتا ہے اور جب وہ تکلیف ہم دور کر دیتے ہیں تو اس بےپرواہی سے چلا جاتا ہے کہ گویا اس مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا ‘۔
49۔ 1 یعنی دنیا کا مال و اسباب، صحت وقوت، عزت و رفعت اور دیگر دنیاوی نعمتوں کے مانگنے سے انسان نہیں تھکتا، بلکہ مانگتا ہی رہتا ہے۔ انسان سے مراد انسانوں کی غالب اکثریت ہے۔ 49۔ 2 یعنی تکلیف پہنچنے پر فوراً مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے جب کہ اللہ کے مخلص بندوں کا حال اس سے مختلف ہوتا ہے، وہ ایک تو دنیا کے طالب نہیں ہوتے، ان کے سامنے ہر وقت آخرت ہی ہوتی ہے، دوسرے تکلیف پہنچنے پر بھی اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے مایوس نہیں ہوتے، بلکہ آزمائشوں کو بھی کفارہ سیأت اور رفع درجات کا باعث گردانتے ہیں، گویا مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔
(آیت 49) ➊ { لَا يَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ …:} یہاں سے انسانی طبیعت پر کفر و شرک اور قیامت کے انکار کا ایک بہت برا اثر ذکر فرمایا۔ {” الْاِنْسَانُ “} سے مراد عام انسان ہے جو ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہو، اس میں طبعی طور پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے۔ توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان کے بعد اس کی اس کمزوری کا علاج ہو جاتا ہے اور ایمان جس قدر قوی ہوتا ہے اتنا ہی وہ اس کمزوری سے پاک ہوتا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا (19) اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا (20) وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا (21) اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ (22) الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ ...... اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ» [ المعارج: ۱۹ تا ۳۵ ] ”بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔ وہ جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں...... یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۹ تا ۱۱) کی تفسیر۔ ➋ { مِنْ دُعَآءِ الْخَيْرِ: ” الْخَيْرِ “} سے مراد دنیوی بھلائی ہے جس میں مال، اولاد، عزت، صحت اور قوت سبھی کچھ شامل ہے۔ {” دُعَآءِ “} سے مراد خیر کی طلب ہے، یعنی انسان دنیوی بھلائی کی طلب سے نہ اکتاتا ہے اور نہ تھکتا ہے، خواہ اسے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَّالٍ لاَبْتَغٰی ثَالِثًا، وَ لاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰی مَنْ تَابَ ] [بخاري، الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال: ۶۴۳۶ ] ”اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ کوئی تیسری تلاش کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس پر پھر مہربان ہو جاتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔“ ➌ {وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَـُٔوْسٌ قَنُوْطٌ: ”مَسَّ يَمَسُّ“} (س) چھونا۔ {” فَيَـُٔوْسٌ “ ”يَئِسَ يَيْئَسُ يَأْسًا “} (س، ح) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ {” قَنُوْطٌ “ ”قَنِطَ يَقْنَطُ قَنُوْطًا“} (س، ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ بعض مفسرین نے فرمایا {” فَيَـُٔوْسٌ “} اور {” قَنُوْطٌ “} دونوں کا معنی ایک ہے، تاکید کے لیے {” فَيَـُٔوْسٌ “} کے بعد {” قَنُوْطٌ “} لایا گیا ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ ابوحیان نے فرمایا: {”يَأْسٌ“} دل کی حالت ہے کہ آدمی کا دل خیر کی امید سے خالی ہو جائے اور {”قَنُوْطٌ“} یہ ہے کہ ناامیدی کے آثار اس کے چہرے اور بدن پر بھی ظاہر ہو جائیں۔“ ظاہر ہے یہ فرق اس وقت ہے جب یہ دونوں لفظ اکٹھے آئیں، ورنہ یاس اور قنوط دونوں میں قلبی اور بدنی ہر طرح کی ناامیدی مراد ہوتی ہے، جیسا کہ ایمان و اسلام کا معاملہ ہے۔ {”مَسٌّ“} (چھونے) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ کافر اتنا بے حوصلہ ہوتا ہے کہ برائی چھو جانے ہی سے آخری حد تک امید توڑ بیٹھتا ہے۔ مومن ایسا نہیں ہوتا، یہ صرف کافر کا حال ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ» [یوسف: ۸۷ ] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ “
مگر جو ں ہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اِسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں، یہ کہتا ہے کہ "میں اِسی کا مستحق ہوں، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا" حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچتی تھی اپنی رحمت کامزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے یہ تو میرے ہی لئے ہے (میں اس کامستحق ہوں) نیز کہتا ہے کہ میں خیال نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف کبھی لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے ہاں بھی بہتری ہوگی ہم کافروں کو ضرور ان کے ان اعمال سے آگاہ کریں گے جو وہ کرتے رہے اور انہیں سخت عذاب کامزہ چکھائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اگر ہم اسے کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو، اپنی طرف سے کسی رحمت کامزہ چکھائیں تو ضرور ہی کہے گا یہ میرا حق ہے اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو نے والی ہے اور اگر واقعی مجھے اپنے رب کی طر ف واپس لے جایا گیا تو یقینا میرے لیے اس کے پاس ضرور بھلائی ہے۔ پس ہم یقینا ان لوگوں کو جنھوںنے کفر کیا ضرور بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا اور یقینا ہم انھیں ایک سخت عذاب میں سے ضرور چکھائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آ جائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہو جاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھلائی اور راحت مل جائے تو کہنے بیٹھ جاتا ہے کہ اللہ پر یہ تو میرا حق تھا، میں اسی کے لائق تھا، اب اس نعمت پر پھولتا ہے، اللہ کو بھول جاتا ہے اور صاف منکر بن جاتا ہے۔ قیامت کے آنے کا صاف انکار کر جاتا ہے۔ مال و دولت راحت آرام اس کے کفر کا سبب بن جاتا ہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ» ۱؎ [96-العلق:7،6] یعنی ’ انسان نے جہاں آسائش و آرام پایا وہیں اس نے سر اٹھایا اور سرکشی کی ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنا ہی نہیں بلکہ اس بداعمالی پر بھلی امیدیں بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بالفرض اگر قیامت آئی بھی اور میں وہاں اکٹھا بھی کیا گیا تو جس طرح یہاں سکھ چین میں ہوں وہاں بھی ہوں گا ‘۔ غرض انکار قیامت بھی کرتا ہے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتا بھی نہیں اور پھر امیدیں لمبی باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ جیسے میں یہاں ہوں ویسے ہی وہاں بھی رہوں گا۔ پھر ان لوگوں کو ڈراتا ہے کہ ’ جن کے یہ اعمال و عقائد ہوں انہیں ہم سخت سزا دیں گے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ جب انسان اللہ کی نعمتیں پا لیتا ہے تو اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے اور ماننے سے جی چراتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا «فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:39] ’ اور جب اسے کچھ نقصان پہنچتا ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے بیٹھ جاتا ہے ‘۔ ”عریض کلام“ اسے کہتے ہیں جس کے الفاظ بہت زیادہ ہوں اور معنی بہت کم ہوں۔ اور جو کلام اس کے خلاف ہو یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور معنی زیادہ ہوں تو اسے ”وجیز کلام“ کہتے ہیں۔ وہ بہت کم اور بہت کافی ہوتا ہے۔ اسی مضمون کو اور جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے «وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:12] ، ’ جب انسان کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر لیٹ کر اور بیٹھ کر اور اکٹھے ہو کر غرض ہر وقت ہم سے مناجات کرتا رہتا ہے اور جب وہ تکلیف ہم دور کر دیتے ہیں تو اس بےپرواہی سے چلا جاتا ہے کہ گویا اس مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا ‘۔
50۔ 1 یعنی اللہ کے ہاں میں محبوب ہوں، وہ مجھ سے خوش ہے، اسی لئے مجھے وہ اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ حالانکہ دنیا کی کمی بیشی اس کی محبت یا نارضگی کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ صرف آزمائش کے لئے اللہ ایسا کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ نعمتوں میں اس کا شکر کون کر رہا ہے اور تکلیفوں میں صابر کون ہے؟ 50۔ 2 یہ کہنے والا منافق یا کافر ہے، کوئی مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ کافر ہی یہ سمجھتا ہے کہ میری دنیا خیر کے ساتھ گزر رہی ہے تو آخرت بھی میرے لئے ایسی ہی ہوگی۔ 49۔ 3 یہ کہنے والا منافق یا کافر ہے، کوئی مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ کافر ہی یہ سمجھتا ہے کہ میری دنیا خیر کے ساتھ گزر رہی ہے تو آخرت بھی میرے لیے ایسی ہی ہوگی۔
(آیت 50) ➊ { وَ لَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا …:} یعنی ایک طرف وہ ناامیدی کہ شر کے چھو جانے ہی سے آخری حد تک ناامید ہوتا ہے، دوسری طرف یہ احسان فراموشی کہ مصیبت کے بعد کسی رحمت کا ذائقہ چکھتے ہی پھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہو جاتا ہے، حالانکہ نہ وہ شر اور مصیبت دائمی تھی نہ اس دنیوی نعمت کو دوام ہے۔ پھر یہ نعمت اس کی محنت کا نتیجہ نہیں کہ اس پر پھول جائے، بلکہ یہ محض ہماری عطا ہے۔ {” رَحْمَةً مِّنَّا “} کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۹، ۱۰) کی تفسیر۔ ➋ { لَيَقُوْلَنَّ هٰذَا لِيْ:} یعنی کافر آدمی دنیوی نعمت کا ذائقہ چکھتے ہی تین کفریہ باتیں کہے گا، اس کے دل میں یہی باتیں ہوں گی اور زبان سے بھی یہی کہے گا۔ پہلی بات یہ کہ یہ نعمت میری جدوجہد کا نتیجہ اور میرا حق ہے، جیسا کہ فرعون کے لوگ کہتے تھے (دیکھیے اعراف: ۱۳۰، ۱۳۱) اور جیسا کہ قارون نے کہا تھا (دیکھیے قصص: ۷۸) حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صریح ناشکری اور احسان فراموشی ہے۔ ➌ { وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً وَّ لَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْۤ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى:} ان دونوں باتوں کی تفصیل سورۂ کہف کی آیت (۳۶) کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔