بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فصلت/حم السجده — Surah Fussilat
آیت نمبر 43
کل آیات: 54
قرآن کریم فصلت/حم السجده آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ فصلت/حم السجده islamicurdubooks.com ↗
مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدۡ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ وَّ ذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۴۳﴾
اے نبیؐ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے نہ کہی جاچکی ہو بے شک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے
آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی واﻻ اور دردناک عذاب واﻻ ہے
تم سے نہ فرمایا جائے مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے
(اے رسول(ص)) آپ سے وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو آپ سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں(ع) سے کہا گیا ہے بیشک آپ کا پروردگار بڑا بخشش والا بھی ہے اور بڑے دردناک عذاب والا بھی۔
تجھے نہیں کہا جائے گا مگر وہی جو ان رسولوں سے کہا گیا جو تجھ سے پہلے تھے اور بے شک تیرا رب یقینا بڑی بخشش والا اور بہت دردناک عذاب والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭

«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔ ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

43۔ 1 یعنی پچھلی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کے لئے جو کچھ کہا یہ ساحر ہیں، مجنون ہیں، کذاب ہیں وغیرہ وغیرہ، وہی کچھ کفار مکہ نے بھی آپ کو کہا۔ یہ گویا آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپکی تکذیب اور آپ کی سحر، کذب اور جنون کی طرف نسبت، نئی نہیں ہے، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52؀ۚ اَتَوَاصَوْا بِهٖ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ 53؀ۚ) 51۔ الزایات:53-52) دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کو بھی کہی گئی تھیں اس لیے کہ تمام شریعتیں ان باتوں پر متفق رہی ہیں بلکہ سب کی اولین دعوت ہی توحید و اخلاص تھی۔ (فتح القدیر)۔ 43۔ 2 یعنی اہل ایمان و توحید کے لئے جو مستحق مغفرت ہیں۔ 43۔ 3 ان کے لئے جو کافر اور اللہ کے پیغمبروں کے دشمن ہیں۔ یہ آیت بھی سورة حجر کی آیت کی طرح ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) ➊ { مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کو جادوگر، شاعر، کاہن، دیوانہ، کذاب، متکبر یا اس قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کرکے آپ کو ایذا دیتے ہیں تو آپ اطمینان رکھیں، ان کے رکھے ہوئے ناموں میں سے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا طعنہ آپ سے پہلے رسولوں کو نہ مل چکا ہو، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور نہ پہلے شخص ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔ سورۂ ذاریات میں فرمایا: «‏‏‏‏كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ (52) اَتَوَاصَوْا بِهٖ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ» [الذاریات: ۵۲، ۵۳ ] ”اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں آیا مگر انھوں نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔ کیا انھوں نے ایک دوسرے کو اس (بات) کی وصیت کی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ (خود ہی) سرکش لوگ ہیں۔“ کفار کی ایسی تمام باتوں پر رسولوں نے صبر کیا اور پوری ہمت سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے، یہی فریضہ آپ کا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ» ‏‏‏‏ [ الأحقاف: ۳۵ ] ”پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی کا مطالبہ نہ کر۔“ ➋ { اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ: } یعنی اتنی ایذا اور بدزبانی کے باوجود اگر یہ لوگ توبہ کرکے ایمان لے آئیں تو تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے ({مَغْفِرَةٍ } کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) اور اگر اپنے کفر پر اصرار کریں تو وہ نہایت دردناک عذاب والا بھی ہے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں ان کی اس بد زبانی کا بدلا دینا آپ کا کام نہیں ہے، یہ ہمارا اختیار اور ہماری مرضی ہے کہ ہم انھیں ایمان کی توفیق سے نواز کر بخش دیں یا انھیں کفر پر رہنے دیں اور عذابِ الیم چکھائیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ اَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۲۸ ] ”تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں، یا وہ ان پر مہربانی فرمائے یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔“
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →