بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فصلت/حم السجده — Surah Fussilat
آیت نمبر 5
کل آیات: 54
قرآن کریم فصلت/حم السجده آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ فصلت/حم السجده islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا فِیۡۤ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ وَ فِیۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ وَّ مِنۡۢ بَیۡنِنَا وَ بَیۡنِکَ حِجَابٌ فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ؓ﴿۵﴾
کہتے ہیں "جس چیز کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہو گئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جائیں گے"
اور انہوں نے کہا کہ تو جس کی طرف ہمیں بلا رہا ہے ہمارے دل تو اس سے پردے میں ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہم میں اور تجھ میں ایک حجاب ہے، اچھا تو اب اپنا کام کیے جا ہم بھی یقیناً کام کرنے والے ہیں
اور بولے ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں
اور وہ کہتے ہیں کہ آپ(ص) جس چیز کی طرف ہمیں دعوت دیتے ہیں اس سے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہمارے تمہارے درمیان پردہ حائل ہے آپ اپنا کام کیجئے ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔
اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہر معجزۂ قرآن کے باوجود ہدایت نہ پائی ٭٭

فرماتا ہے کہ ’یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے‘۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ» ۱؎ [16-النحل:102] ‏‏‏‏ ’ اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:192-194] ‏‏‏‏ ’ روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ‘، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» ۱؎ [11-ھود:1] ‏‏‏‏، ’ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ‘۔ «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے۔ کفار کو ڈراتا ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں۔ مسند عبد بن حمید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعر و شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں۔(‏‏‏‏یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )‏‏‏‏‏‏‏‏ جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں۔

چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آ کر کہنے لگا کہ ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبداللہ؟“ (‏‏‏‏یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد صاحب)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ ”تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبدالمطلب؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کردیا۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے۔ قریشیوں میں کاہن ہے۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں۔‏‏‏‏“ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس کہہ چکے؟ } اس نے کہا ”ہاں“! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب میری سنو! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اسی سورۃ کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع «مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ‏‏‏‏ تک پڑھا }،اتنا سن کر عتبہ بول پڑا ”بس کیجئے آپ (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں }۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا ”سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا؟ عتبہ نے جواب دیا کہ ”میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [ابن ابی شیبة فی المصنف:295/14:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏

بغوی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک گیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے، وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں۔ اسے ٹھیک کر لوں گا۔ وہاں جا کر ابوجہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کر کے تیری حالت ٹھیک کر دیں، تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا۔ وہ جب اس سورۃ کو پڑھتے ہوئے آیت «فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ» ۱؎ [41-فصلت:13] ‏‏‏‏، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں۔۱؎ [بغوی فی التفسیر:1863] ‏‏‏‏

سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریق پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کر لیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ”برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئیے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں }۔ اس نے کہا ”سنو! اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کراتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنی سب بات کہہ چکے؟ } کہا ہاں، فرمایا: { اب میری سنو }۔ وہ متوجہ ہو گیا۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، فرمایا ابوالولید! میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے }۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابوالولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

5۔ 1 اکنہ کنان کی جمع ہے۔ پردہ۔ یعنی ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں کہ ہم تیری توحید و ایمان کی دعوت کو سمجھ سکیں۔ 5۔ 2 وَقْر کے اصل معنی بوجھ کے ہیں، یہاں مراد بہرا پن ہے، جو حق کے سننے میں مانع تھا۔ 5۔ 3 یعنی ہمارے اور تیرے درمیان ایسا پردہ حائل ہے کہ تو جو کہتا ہے، وہ سن نہیں سکتے اور جو کرتا ہے، اسے دیکھ نہیں سکتے، اس لئے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم تجھے تیرے حال پر چھوڑ دیں، تو ہمارے دین پر عمل نہیں کرتا، ہم تیرے دین پر عمل نہیں کرسکتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊ {وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ …:” اَكِنَّةٍ “ ” كِنَانٌ “} کی جمع ہے، پردہ، جیسا کہ {” غِطَاءٌ“} کی جمع {” أَغْطِيَةٌ “} ہے۔ ترکش، یعنی تیروں کا تھیلا جس میں تیر چھپے ہوتے ہیں{ ” كِنَانَةٌ “ } کہلاتا ہے۔ {” وَقْرٌ “} کا اصل معنی ”بوجھ“ ہے، مراد بہرا پن ہے۔ ➋ فرمایا، کفار کا آیاتِ الٰہی سے اعراض اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ صرف یہ نہیں کہ وہ سنتے نہیں یا منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں، بلکہ ان کی نفرت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ انھوں نے واشگاف الفاظ میں اس کا اظہار کیا اور اس کی تین وجہیں بیان کیں۔ پہلی یہ کہ تم ہمیں جس بات کی طرف دعوت دیتے ہو ہمارے دل اس سے بھاری پردوں میں محفوظ ہیں۔ ({اَكِنَّةٍ} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) وہ دعوت ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ دوسری یہ کہ ہمارے کانوں میں بھاری بوجھ ہے۔ ({وَقْرٌ} کی تنوین تعظیم کے لیے ہے) وہ تمھاری بات سننے سے شدید بہرے ہیں اور تیسری یہ کہ ہمارے اور تمھارے درمیان بھاری پردہ ہے۔ غرض، ہماری آنکھیں یا کان یا دل تمھاری کوئی بھی بات سننے یا سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ کفار نے یہ بات اپنی خوبی کے طور پر بیان کی۔ سورۂ بقرہ میں ہے: «وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۸۸ ] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل غلاف میں (محفوظ) ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔“ ➌ { وَ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ:} بقاعی نے اس {” مِنْ“} سے تبعیض کا مفہوم اخذ کیا ہے کہ ہمارے اور تمھارے درمیان کے بعض معاملات میں ایک پردہ ہے، یعنی ایک دوسرے کے دنیوی معاملات تو ہم دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر دین کے معاملات میں ہمارے اور تمھارے درمیان بھاری پردہ ہے، لہٰذا تم اپنے دین پر عمل کرو اور ہم اپنے دین پر عمل کرنے والے ہیں۔ ➍ دوسری جگہ فرمایا کہ ان کے دلوں، آنکھوں اور کانوں پر یہ پردے ہم نے ڈالے ہیں اور اس کی وجہ خود ان کا اعراض اور گریز ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۵۷ ] ”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور اسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے بنا دیے ہیں، اس سے کہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انھیں سیدھی راہ کی طرف بلائے تو اس وقت وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔“ اور ضد اور عناد کی وجہ سے مخالفت پر ڈٹ جانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا» [ النساء: ۱۱۵ ] ”اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت خوب واضح ہو چکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ» [ الصف: ۵ ] ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے۔“ ➎ {فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ:} بار بار دعوت اور نصیحت سے امید ہوتی ہے کہ شاید کسی وقت ہی اثر کر جائے، اس لیے کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح مایوس کرنے کے لیے یہ جملہ کہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ کفار کو {” لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ “} (تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے) کہہ کر اس بات سے پوری طرح مایوس کر دیں کہ آپ ان کے معبودوں کی کبھی کسی صورت میں بھی عبادت کر سکتے ہیں۔ (دیکھیے کافرون: ۶)
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →