بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
فصلت/حم السجده
سورۃ فصلت/حم السجده — 54 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 41
وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی آفت چھو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو چوڑی دعا والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم انسان کو کوئی کچھ نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ (تکبر سے)منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اورجب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم انسان پر انعا م کرتے ہیں وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو(لمبی) چوڑی دعا والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کی سرکشی کا حال ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آ جائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہو جاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھلائی اور راحت مل جائے تو کہنے بیٹھ جاتا ہے کہ اللہ پر یہ تو میرا حق تھا، میں اسی کے لائق تھا، اب اس نعمت پر پھولتا ہے، اللہ کو بھول جاتا ہے اور صاف منکر بن جاتا ہے۔ قیامت کے آنے کا صاف انکار کر جاتا ہے۔ مال و دولت راحت آرام اس کے کفر کا سبب بن جاتا ہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ» ۱؎ [96-العلق:7،6] ‏‏‏‏ یعنی ’ انسان نے جہاں آسائش و آرام پایا وہیں اس نے سر اٹھایا اور سرکشی کی ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنا ہی نہیں بلکہ اس بداعمالی پر بھلی امیدیں بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بالفرض اگر قیامت آئی بھی اور میں وہاں اکٹھا بھی کیا گیا تو جس طرح یہاں سکھ چین میں ہوں وہاں بھی ہوں گا ‘۔ غرض انکار قیامت بھی کرتا ہے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتا بھی نہیں اور پھر امیدیں لمبی باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ جیسے میں یہاں ہوں ویسے ہی وہاں بھی رہوں گا۔ پھر ان لوگوں کو ڈراتا ہے کہ ’ جن کے یہ اعمال و عقائد ہوں انہیں ہم سخت سزا دیں گے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ جب انسان اللہ کی نعمتیں پا لیتا ہے تو اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے اور ماننے سے جی چراتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا «فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:39] ‏‏‏‏ ’ اور جب اسے کچھ نقصان پہنچتا ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے بیٹھ جاتا ہے ‘۔ ”عریض کلام“ اسے کہتے ہیں جس کے الفاظ بہت زیادہ ہوں اور معنی بہت کم ہوں۔ اور جو کلام اس کے خلاف ہو یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور معنی زیادہ ہوں تو اسے ”وجیز کلام“ کہتے ہیں۔ وہ بہت کم اور بہت کافی ہوتا ہے۔ اسی مضمون کو اور جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے «وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:12] ‏‏‏‏، ’ جب انسان کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر لیٹ کر اور بیٹھ کر اور اکٹھے ہو کر غرض ہر وقت ہم سے مناجات کرتا رہتا ہے اور جب وہ تکلیف ہم دور کر دیتے ہیں تو اس بےپرواہی سے چلا جاتا ہے کہ گویا اس مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا ‘۔
51۔ 1 یعنی حق سے منہ پھیر لیتا ہے اور حق کی اطاعت سے اپنا پہلو بدل لیتا ہے اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔ 51۔ 2 یعنی بارگاہ الہی میں تضرع وزاری کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت دور فرما دے۔ یعنی شدت میں اللہ کو یاد کرتا ہے، خوش حالی میں بھول جاتا ہے نزول نقمت کے وقت اللہ سے فریادیں کرتا ہے، حصول نعمت کے وقت اسے وہ یاد نہیں رہتا۔
(آیت 51) {وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ: ”نَأٰي يَنْأٰي نَأْيًا“} (ف) دور ہونا۔ یہ فعل لازم ہے، {” بِجَانِبِهٖ “} پر آنے والی ”باء“ کے ساتھ متعدی ہو گیا، اس لیے {” نَاٰ بِجَانِبِهٖ “} کا معنی ہے اپنا پہلو دور کر لیتا ہے۔ پچھلی آیت میں کافر انسان کا قول بیان ہوا ہے، اس آیت میں اس کا حال بیان ہوا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔ ہود(11،10) اور سورۂ زمر (۴۹)۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہکے پاس سے ہے پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! اے کافرو! تم(غور کر کے)مجھے بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہے پھر تم نے اس کا انکار کیا تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو مخالفت میں بہت دور نکل جائے؟
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم نے دیکھا ا گر وہ اللہ کی طرف سے ہوا، پھر تم نے اس کا انکار کر دیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہو گا جو بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہو گا؟ ‘ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے ‘۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہو گا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی۔ کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کر دیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الٰہی کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب و جبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، تندرستی، تنگی، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔

شیخ ابو جعفر قرشی نے اپنے اشعار میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا ہے۔ الغرض یہ بیرونی اور اندرونی آیات قدرت اس قدر ہیں کہ انسان اللہ کی باتوں کی حقانیت کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی بس کافی ہے وہ اپنے بندوں کے اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہے۔ جب وہ فرما رہا ہے کہ ’ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک؟ ‘ جیسے ارشاد ہے آیت «و لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ وَالْمَلٰىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ وَكَفٰي باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ یعنی ’ لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لیے بے فکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے ‘۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو! میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز پر اس کا احاطہٰ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے ‘۔ الحمدللہ سورۃ فصلت [ حم سجدہ ] ‏‏‏‏ کی تفسیر ختم ہوئی۔
52۔ 1 یعنی ایسی حالت میں تم سے زیادہ گمراہ اور تم سے زیادہ دشمن کون ہوگا۔ 52۔ 2 شقاق کے معنی ہیں ضد، عناد اور مخالفت بعید مل کر اس میں اور مبالغہ ہوجاتا ہے۔ یعنی جو بہت زیادہ مخالف اور عناد سے کام لیتا ہے، حتی کہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کی بھی تکذیب کردیتا ہے، اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت کون ہوسکتا ہے؟
(آیت 52){ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ …:} یہ پوری سورت قرآن کریم، توحید و رسالت اور قیامت کے حق ہونے کے دلائل سے بھری ہوئی ہے، جنھیں کفار نہ صرف یہ کہ مانتے نہیں تھے بلکہ سننے پر بھی تیار نہیں تھے، جیسا کہ آیت (۵) میں گزرا: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ» ‏‏‏‏ ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں۔“ اور آیت (۲۶) میں ہے: «‏‏‏‏وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ» ” اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو۔“ تو سورت کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ ان سے کہیں کہ تم جو قرآن کو سننے تک کے لیے تیار نہیں اسے باطل یا جھوٹ کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیونکہ اسے غلط تو تب کہہ سکتے ہو کہ اسے سنو، پھر حق ہو تو قبول کرو، ورنہ دلیل سے اسے باطل قرار دو، اتنا تم میں حوصلہ نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمھیں اس کے باطل ہونے کا یقین نہیں، ورنہ ایسی چیز جس کا غلط ہونا بالکل واضح ہو، اس کے سننے پر اتنی شدید پابندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ تمھارے ذہن میں بھی اس کے حق ہونے کا امکان موجود ہے۔ اس لیے یہ بتاؤ کہ یہ قرآن جسے تم سننے ہی کے روادار نہیں، اگر واقعی اللہ کی طرف سے حق ہوا، پھر سنے سمجھے بغیر تم نے اسے جھٹلا دیا اور اسی حالت میں تمھاری موت آ گئی، پھر حشر برپا ہوا تو اس وقت تو تم اتنی دور کی مخالفت میں پڑ چکے ہو گے جو بہت دور کی مخالفت ہے، جس سے واپسی تم چاہو گے بھی تو ممکن نہیں۔ پھر جو خواہ مخواہ کی ایسی غلط مخالفت پر ڈٹ جائے، جس سے واپسی ممکن نہ ہو، اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے؟ آیت کا مقصد کفار کو سننے اور سوچنے پر آمادگی کی ترغیب اور اس وقت سے ڈرانا ہے جب ان کی مخالفت کے نقصان کا مداوا نہیں ہو سکے گا۔
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں اور خود ان کے آپے میں یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم انہیں نشانیاں دکھائیں گے آفاق و کائنات میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہ (اللہ) بالکل حق ہے۔ کیا تمہارے پروردگار کے لئے یہ امر کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میںاور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے اور کیا تیرا رب کافی نہیں اس بات کے لیے کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہو گا؟ ‘ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے ‘۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہو گا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی۔ کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کر دیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الٰہی کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب و جبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، تندرستی، تنگی، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔

شیخ ابو جعفر قرشی نے اپنے اشعار میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا ہے۔ الغرض یہ بیرونی اور اندرونی آیات قدرت اس قدر ہیں کہ انسان اللہ کی باتوں کی حقانیت کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی بس کافی ہے وہ اپنے بندوں کے اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہے۔ جب وہ فرما رہا ہے کہ ’ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک؟ ‘ جیسے ارشاد ہے آیت «و لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ وَالْمَلٰىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ وَكَفٰي باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ یعنی ’ لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لیے بے فکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے ‘۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو! میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز پر اس کا احاطہٰ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے ‘۔ الحمدللہ سورۃ فصلت [ حم سجدہ ] ‏‏‏‏ کی تفسیر ختم ہوئی۔
53۔ 1 جن سے قرآن کی صداقت اور اس کا من جانب اللہ ہونا واضح ہوجائے گا یعنی انہ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے بعض نے اس کا مرجع اسلام یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا ہے۔ مآل سب کا ایک ہی ہے۔ آفاق افق کی جمع ہے کنارہ مطلب ہے کہ ہم اپنی نشانیاں باہر کناروں میں بھی دکھائیں گے اور خود انسان کے اپنے نفسوں کے اندر بھی۔ چناچہ آسمان و زمین کے کناروں میں بھی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں مثلا سورج، چاند، ستارے، رات اور دن، ہوا اور بارش، گرج چمک، بجلی، کڑک، نباتات وجمادات، اشجار، پہاڑ اور انہار و بحار وغیرہ۔ اور آیات انفس سے انسان کا وجود، جن اخلاط ومواد اور ہیئتوں پر مرکب ہے وہ مراد ہیں۔ جن کی تفصیلات طب وحکمت کا دلچسپ موضوع ہے۔ بعض کہتے ہیں، آفاق سے مراد شرق وغرب کے وہ دور دراز کے علاقے ہیں۔ جن کی فتح کو اللہ نے مسلمانوں کے لیے آسان فرما دیا اور انفس سے مراد خود عرب کی سرزمین پر مسلمانوں کی پیش قدمی ہے جیسے جنگ بدر اور فتح مکہ وغیرہ فتوحات میں مسلمانوں کو عزت و سرفرازی عطا کی گئی استفہام اقراری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اقوال و افعال کے دیکھنے کے لئے کافی ہے، اور وہی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو اس کے سچے رسول حضرت محمد پر نازل ہوا۔
(آیت 53) ➊ { سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ …: ” الْاٰفَاقِ”أُفُقٌ“} کی جمع ہے، کنارے۔ دور وہ جگہ جہاں آسمان و زمین ملتے ہوئے نظر آتے ہیں، افق کہلاتی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ {” اَنَّهُ “} کی ضمیر سے مراد قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یعنی ہم انھیں دنیا بھر میں اور خود ان میں اپنی ایسی نشانیاں دکھا دیں گے جن سے ثابت ہو جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن حق ہے۔ نشانیوں سے مراد ظاہری اسباب کی قلت کے باوجود اسلام کی فتوحات ہیں۔ {” الْاٰفَاقِ “} سے مراد مکہ کے گرد و پیش میں اسلام کا غلبہ ہے جو بدر، احد، خندق اور دوسرے معرکوں کے ساتھ جزیرۂ عرب پر اور آخر کار پوری زمین کے مشرقی اور مغربی کناروں تک پھیل گیا اور {” اَنْفُسِهِمْ “} سے مراد مکہ کی فتح ہے جو بجائے خود اسلام کے حق ہونے کی بہت بڑی دلیل تھی، جس کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔ مطلب یہ کہ عنقریب جب گرد و پیش کے ممالک اور خود ان (قریش) پر فتوحات حاصل ہوں گی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے اسلام کے عہد میں حاصل ہوئیں، تب انھیں یقین حاصل ہو گا کہ قرآن اور پیغمبر حق تھے اور یہ ناحق انھیں جھٹلاتے رہے۔ دوسری تفسیر یہ کہ {” اَنَّهُ “} کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے، مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل پر غور کریں گے، جو تمام آفاق یعنی زمین و آسمان میں پائے جاتے ہیں، مثلاً سورج چاند، نباتات و جمادات و حیوانات وغیرہ اور جو خود ان کی ذات میں پائے جاتے ہیں، مثلاً نطفے سے لے کر پیدائش تک، پھر بچپن سے لے کر موت تک، پھر ان کے وجود کی حیرت انگیز بناوٹ پر، جن کے عجائبات کے متعلق ہر روز نئے سے نئے انکشافات ہوتے رہیں گے، تو انھیں یقین ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے۔ پہلے مطلب کو ابن جریر طبری نے ترجیح دی ہے، جبکہ دوسرا مطلب بعض تابعین نے اختیار فرمایا ہے۔ دونوں مطلب بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ ➋ {اَوَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ …:} یعنی مسلمانوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی کہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ کفارِ قریش پر اور کل عالم پر کیسے ممکن ہے تو اسے کہو، کیا تمھارا رب یہ کام کرنے کے لیے اکیلا کافی نہیں؟ اس لیے کہ وہ اکیلا ہر چیز اور ہر کام کا نگران اور اس پر شاہد ہے، اسے کسی کی مدد یا مشورے کی کوئی حاجت نہیں۔
اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿٪۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آگاہ رہو، یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں سن رکھو، وہ ہر چیز پر محیط ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے
احمد رضا خان بریلوی
سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے سنو! وہ ہر چیز کو محیط ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یاد رکھو۔ یہ لوگ اپنے پروردگارکی بارگاہ میں حاضری و حضوری کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں آگاہ ہو جاؤ کہ وہ (اللہ) ہر چیز کااحاطہ کئے ہوئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سنو! یقینا وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے بارے میں شک میں ہیں ۔سن لو! یقینا وہ ہر چیز کااحاطہ کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہو گا؟ ‘ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے ‘۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہو گا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی۔ کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کر دیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الٰہی کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب و جبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، تندرستی، تنگی، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔

شیخ ابو جعفر قرشی نے اپنے اشعار میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا ہے۔ الغرض یہ بیرونی اور اندرونی آیات قدرت اس قدر ہیں کہ انسان اللہ کی باتوں کی حقانیت کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی بس کافی ہے وہ اپنے بندوں کے اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہے۔ جب وہ فرما رہا ہے کہ ’ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک؟ ‘ جیسے ارشاد ہے آیت «و لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ وَالْمَلٰىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ وَكَفٰي باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ یعنی ’ لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لیے بے فکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے ‘۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو! میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز پر اس کا احاطہٰ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے ‘۔ الحمدللہ سورۃ فصلت [ حم سجدہ ] ‏‏‏‏ کی تفسیر ختم ہوئی۔
54۔ 1 اس لئے اس کی بابت غورو فکر نہیں کرتے، نہ اس کے لئے عمل کرتے ہیں اور نہ اس دن کا کوئی خوف ان کے دلوں میں ہے۔ 54۔ 2 بنابریں اس کے لیے قیامت کا وقوع قطعا مشکل امر نہیں کیونکہ تمام مخلوقات پر اس کا غلبہ وتصرف ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے کرتا ہے کرسکتا ہے اور کرے گا کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے۔
(آیت 54) ➊ { اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ:} یعنی یہ لوگ قرآن اور اللہ کے رسول کو اس لیے جھٹلا رہے ہیں کہ انھیں قیامت کا یقین نہیں، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ ➋ { اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطٌ:} یعنی وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے، کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں، اس لیے وہ اس کی گرفت سے کسی طرح نہیں بچ سکتے۔