بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فصلت/حم السجده — Surah Fussilat
آیت نمبر 54
کل آیات: 54
قرآن کریم فصلت/حم السجده آیت 54
آیت نمبر: 54 — سورۃ فصلت/حم السجده islamicurdubooks.com ↗
اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿٪۵۴﴾
آگاہ رہو، یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں سن رکھو، وہ ہر چیز پر محیط ہے
یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے
سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے سنو! وہ ہر چیز کو محیط ہے
یاد رکھو۔ یہ لوگ اپنے پروردگارکی بارگاہ میں حاضری و حضوری کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں آگاہ ہو جاؤ کہ وہ (اللہ) ہر چیز کااحاطہ کئے ہوئے ہے۔
سنو! یقینا وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے بارے میں شک میں ہیں ۔سن لو! یقینا وہ ہر چیز کااحاطہ کرنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہو گا؟ ‘ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے ‘۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہو گا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی۔ کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کر دیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الٰہی کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب و جبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، تندرستی، تنگی، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔

شیخ ابو جعفر قرشی نے اپنے اشعار میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا ہے۔ الغرض یہ بیرونی اور اندرونی آیات قدرت اس قدر ہیں کہ انسان اللہ کی باتوں کی حقانیت کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی بس کافی ہے وہ اپنے بندوں کے اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہے۔ جب وہ فرما رہا ہے کہ ’ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک؟ ‘ جیسے ارشاد ہے آیت «و لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ وَالْمَلٰىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ وَكَفٰي باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ یعنی ’ لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لیے بے فکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے ‘۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو! میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔‏‏‏‏“ آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز پر اس کا احاطہٰ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے ‘۔ الحمدللہ سورۃ فصلت [ حم سجدہ ] ‏‏‏‏ کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

54۔ 1 اس لئے اس کی بابت غورو فکر نہیں کرتے، نہ اس کے لئے عمل کرتے ہیں اور نہ اس دن کا کوئی خوف ان کے دلوں میں ہے۔ 54۔ 2 بنابریں اس کے لیے قیامت کا وقوع قطعا مشکل امر نہیں کیونکہ تمام مخلوقات پر اس کا غلبہ وتصرف ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے کرتا ہے کرسکتا ہے اور کرے گا کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 54) ➊ { اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ:} یعنی یہ لوگ قرآن اور اللہ کے رسول کو اس لیے جھٹلا رہے ہیں کہ انھیں قیامت کا یقین نہیں، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ ➋ { اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطٌ:} یعنی وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے، کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں، اس لیے وہ اس کی گرفت سے کسی طرح نہیں بچ سکتے۔
← پچھلی آیت (53) پوری سورۃ اگلی آیت →