بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فصلت/حم السجده — Surah Fussilat
آیت نمبر 41
کل آیات: 54
قرآن کریم فصلت/حم السجده آیت 41
آیت نمبر: 41 — سورۃ فصلت/حم السجده islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالذِّکۡرِ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾
یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وه بھی ہم سے پوشیده نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے
بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے
جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا حالانکہ وہ ایک زبردست (معزز) کتاب ہے۔
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا، جب وہ ان کے پاس آئی ( وہ بھی ہم پر مخفی نہیں ہیں )اور بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت کتاب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب و ثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا ٭٭

«اِلْحَاد» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں۔ اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے «اِلْحَاد» کے معنی کفر و عناد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔ ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

41۔ 1 بریکٹ کے الفاظ ان کی خبر محذوف کا ترجمہ ہیں بعض نے کچھ اور الفاظ محذوف مانے ہیں مثلا یجازون بکفرھم انہیں ان کے کفر کی سزا دی جائے گی یا ھالکون وہ ہلاک ہونے والے ہیں یا یعذبون انہیں ان کے کفر کی سزا دی جائے گی یا (وہ ہلاک ہونے والے ہیں) 41۔ 2 یعنی یہ کتاب، جس سے اعراض انحراف کیا جاتا ہے معارضے اور طعن کرنے والوں کے طعن سے بہت بلند اور ہر عیب سے پاک ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 41) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ:} زمخشری نے فرمایا: ”یہ جملہ {” اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا “} سے بدل ہے۔“ (کشاف) اس لیے اس کی خبر وہی ہے جو پہلے جملے کی خبر ہے اور وہ ہے {” لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا “} اس صورت میں محذوف خبر نکالنے کی ضرورت نہیں، گویا عبارت اس طرح ہوئی کہ ”یقینا وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، جنھوں نے اس نصیحت کا اسی وقت انکار کر دیا جب وہ ان کے پاس آئی، وہ ہم پر مخفی نہیں ہیں۔“ بعض مفسرین نے فرمایا {” اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ “} کی خبر محذوف ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں، مقام کی مناسبت سے محذوف خبر {” يُجْزَوْنَ عَلٰي كُفْرِهِمْ“} یا اس سے ملتی جلتی ہو گی۔ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا جب وہ ان کے پاس آئی انھیں ان کے کفر کی جزا دی جائے گی۔ ➋ {” بِالذِّكْرِ “} سے مراد قرآن کریم ہے، جیسا کہ آگے اس کی صفات بیان ہو رہی ہیں۔ ➌ { لَمَّا جَآءَهُمْ:} یعنی انھوں نے قرآن مجید کی آیات کا نزول ہوتے ہی ان کا انکار کر دیا، غور سے سننے اور سوچنے سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ➍ {وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ:عَزِيْزٌ “} کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ یہ سب پر غالب ہے، زبان و بیان میں، دلیل و برہان میں، علم و حکمت میں، صدق و حقانیت میں، غرض ہر لحاظ سے یہ دوسری ہر کتاب پر غالب اور زبردست ہے، دوسری سب کتب اس کے مقابلے میں زیر ہیں۔ {” عَزِيْزٌ “} کا دوسرا معنی ہے عدیم النظیر، بے مثال، کیونکہ پوری کائنات اس کی ایک سورت کی مثال لانے سے عاجز ہے۔
← پچھلی آیت (40) پوری سورۃ اگلی آیت (42) →