بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فصلت/حم السجده — Surah Fussilat
آیت نمبر 28
کل آیات: 54
قرآن کریم فصلت/حم السجده آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ فصلت/حم السجده islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰہِ النَّارُ ۚ لَہُمۡ فِیۡہَا دَارُ الۡخُلۡدِ ؕ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۲۸﴾
وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِن کا گھر ہو گا یہ ہے سزا اِس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے
اللہ کے دشمنوں کی سزا یہی دوزح کی آگ ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے (یہ) بدلہ ہے ہماری آیتوں سے انکار کرنے کا
یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آ گ، اس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے، سزا اس کی کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
یہ دشمنانِ خدا کی سزا ہے یعنی دوزخ۔ ان کیلئے اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا گھر ہے یہ ان کے اس جرم کی سزا ہے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
یہ اللہ کے دشمنوں کی جزا آگ ہی ہے، انھی کے لیے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، اس کی جزا کے لیے جو وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آداب قرآن حکیم ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ مشرکین کو اس نے گمراہ کر دیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کر دیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں ‘۔ جیسے اور آیتیں ہے «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:36-37] ‏‏‏‏، ان پر کلمہ عذاب صادق آ گیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہو گئے، کفار نے آپس میں مشورہ کر کے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کلام اللہ کو نہیں مانیں گے نہ ہی اس کے احکام کی پیروی کریں گے۔ بلکہ ایک دوسرے سے کہہ رکھا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور و غل کرو اور اسے نہ سنو۔ تالیاں بجاؤ سیٹیاں بجاؤ آوازیں نکالو۔ چنانچہ قریشی یہی کرتے تھے۔ عیب جوئی کرتے تھے انکار کرتے تھے۔ دشمنی کرتے تھے اور اسے اپنے غلبہ کا باعث جانتے تھے۔

یہی حال ہر جاہل کافر کا ہے کہ اسے قرآن کا سننا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا «اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:204] ‏‏‏‏۔ ’ جب قرآن پڑھا جائے تو تم سنو اور چب رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘، ان کافروں کو دھمکایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سے مخالفت کرنے کی بناء پر انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ اور ان کی بدعملی کا مزہ انہیں ضرور چکھایا جائے گا، ان اللہ کے دشمنوں کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس میں ان کیلئے ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس کے بعد آیت کا مطلب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جن سے مراد ابلیس اور انس سے مراد آدم علیہ السلام کا وہ لڑکا ہے جس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس تو ہر مشرک کو پکارے گا۔ اور آدم کا یہ لڑکا ہر کبیرہ گناہ کرنے والے کو پکارے گا۔ پس ابلیس شرک کی طرف اور تمام گناہوں کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہے اور اول رسول آدم کا یہ لڑکا جو اپنے بھائی کا قاتل ہے۔‏‏‏‏“ چنانچہ حدیث میں ہے { روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے اس پہلے فرزند پر بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل بیجا کا شروع کرنے والا یہ ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:3335] ‏‏‏‏ پس کفار قیامت کے دن جن و انس جو انہیں گمراہ کرنے والے تھے انہیں نیچے کے طبقے میں داخل کرانا چاہیں گے تا کہ انہیں سخت عذاب ہوں۔ وہ درک اسفل میں چلے جائیں اور ان سے زیادہ سزا بھگتیں۔ سورۃ الاعراف میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے کہ یہ ماننے والے جن کی مانتے تھے ان کیلئے قیامت کے دن دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے جس پر کہا جائے گا کہ «قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:38] ‏‏‏‏ ’ ہر ایک دوگنے عذاب میں ہی ہے، لیکن تم بے شعور ہو ‘۔ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا ہو رہی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏۔ یعنی ’ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم ان کے فساد کی وجہ سے عذاب پر عذاب دیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

28۔ 1 آیتوں سے مراد جیسا کہ پہلے بھی بتلایا گیا ہے وہ دلائل وبراہین واضحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ انبیاء پر نازل فرماتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو انہیں عطا کیے جاتے ہیں یا دلائل تکوینیہ ہیں جو کائنات یعنی آفاق وانفس میں پھیلے ہوئے ہیں کافر ان سب ہی کا انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایمان کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ { ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ …:} اللہ کے دشمنوں کی یہی جزا، یعنی آگ ہے، جنھوں نے کفر و شرک کیا، زبان اور ہاتھ کو ہر طرح سے اس کی کتاب سننے سے روکا، اس کے نبی اور ایمان والوں کا مقابلہ کیا، ان سے جنگ کی اور دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ➋ { بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ:} یعنی اس جزا کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری آیات حق ہیں، پھر جان بوجھ کر ضد اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کرتے تھے، پھر اللہ ایسے دشمنوں کو سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا؟ {”جُحُوْدٌ“} کا معنی جانتے ہوئے انکار کرنا ہے۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →