بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ فصلت/حم السجده — Surah Fussilat
آیت نمبر 16
کل آیات: 54
قرآن کریم فصلت/حم السجده آیت 16
آیت نمبر: 16 — سورۃ فصلت/حم السجده islamicurdubooks.com ↗
فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیۡقَہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَخۡزٰی وَ ہُمۡ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
آخرکار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا
بالﺂخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں، اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیاده رسوائی واﻻ ہے اور وه مدد نہیں کیے جائیں گے
تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،
سو ہم نے ان پر خاص منحوس دنوں میں تیز و تند (طوفانی) ہوا بھیجی تاکہ ہم انہیں زندگانئِ دنیا میں ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو زیادہ رسوا کن ہوگا اور ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔
تو ہم نے ان پر ایک سخت تند ہوا چند منحوس دنوں میں بھیجی، تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والاہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کر دی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے در پے رسول علیہم السلام آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر علیہم السلام اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ مانا۔ اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔

جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47] ‏‏‏‏’ ہم نے اپنے ہاتھوں آسمان کو پیدا کیا اور ہم بہت ہی طاقتور اور زور آور ہیں ‘۔ پس ان کے اس تکبر پر اور اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے پر اور اللہ کی نافرمانی کرنے اور رب کی آیتوں کے انکار پر ان پر عذاب الٰہی آ پڑا۔ تیز و تند، سرد، دہشت ناک، سرسراتی ہوئی سخت آندھی آئی۔ تاکہ ان کا غرور ٹوٹ جائے اور ہوا سے وہ تباہ کر دیئے جائیں۔ «صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔ ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔

📖 احسن البیان

16۔ 1 صر صر، صرۃ (آواز) سے ہے۔ یعنی ایسی ہوا جس میں سخت آواز تھی، یعنی نہایت تند اور تیز ہوا، جس میں آواز بھی ہوتی ہے بعض کہتے ہیں یہ صر سے ہے جس کے معنی برد ٹھنڈک کے ہیں یعنی ایسی پالے والی ہوا جو آگ کی طرح جلا ڈالتی ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں والحق انہا متصفۃ بجمیع ذلک وہ ہوا ان تمام ہی باتوں سے متصف تھی۔ 16۔ 2 نحسات کا ترجمہ، بعض نے متواتر پے درپے کا کیا ہے کیونکہ یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، بعض نے گرد و غبار یہ ایام جن میں ان پر سخت ہوا کا طوفان جاری رہا، انکے لئے منحوس ثابت ہوئے۔ یہ نہیں کہ ایام ہی منحوس ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 16) ➊ { فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا:صَرْصَرًا”صِرٌّ“} (صاد پر کسرہ) سے ہے، سردی کی شدت جو بدن سکیڑ کر رکھ دے، یعنی شدید ٹھنڈی ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۱۷] ”اس ہوا کی مثال جیسی ہے جس میں سخت سردی ہے۔“ یا {”صَرَّةٌ“} سے ہے، جس کا معنی ”خوفناک چیخ“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ» [ الذاریات: ۲۹ ] ”تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی۔“ یہاں دونوں معنی اکٹھے ملحوظ ہیں کہ وہ ہوا نہایت ٹھنڈی اور خوفناک چیخ جیسی آواز والی تھی۔ {” صَرْصَرًا “} میں حروف مکرر ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی ہم نے ان پر نہایت خوفناک آواز والی شدید ٹھنڈی تیز و تند آندھی بھیجی اور اسی ہوا کو جو ان کی زندگی کے قیام اور دل کی راحت کا باعث تھی اور جسے وہ بالکل معمولی اور بے ضرر سمجھتے تھے، ان کی ہلاکت کا سامان بنا دیا اور ان کی کوئی قوت انھیں بچا نہ سکی۔ ➋ {فِيْۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ:نَحِسَاتٍ”نَحْسٌ“} (نون کے فتحہ اور حاء کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ» ‏‏‏‏ [ القمر: ۱۹ ] ”ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔“ {” نَحْسٌ“} اور {”مَنْحُوْسٌ“} (بدقسمتی والا) {”سَعْدٌ“} (خوش قسمتی والا) کی ضد ہے۔ فی الحقیقت اپنی ذات میں کوئی چیز منحوس نہیں، یہ صرف اضافی چیز ہے، یعنی ایک ہی شے کسی کے حق میں خوش قسمتی کا باعث ہوتی ہے اور کسی کے حق میں بدقسمتی کا، جیسا کہ آندھی کے یہ ایام قومِ عاد کے حق میں منحوس تھے مگر ہود علیہ السلام اور ایمان والوں کے لیے ان دنوں سے زیادہ خوش قسمتی والا دن اور کون سا ہو گا۔ اس آندھی کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۲)، قمر (۱۸ تا ۲۰)، ذاریات (۴۱، ۴۲) اور سورۂ حاقہ (۶ تا ۸)۔ بعض مسلمان کہلانے والے بھی بعض دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، جیسے دس محرم، کیونکہ اس میں حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، حالانکہ اس دس محرم کو موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہوئی، جس کی خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔ بعض لوگ صفر کے کچھ دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا عقیدہ باطل ہے۔ ➌ { لِنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یہ ذلت و رسوائی ان کے غرور اور تکبر کا جواب تھا کہ وہی زمین جس پر وہ بڑے بنے ہوئے تھے اسی پر ان کے بے جان لاشے کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرے پڑے تھے۔ ➍ { وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى …:} یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے، اس لیے کہ وہ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کے سامنے ہو گا، پھر دنیا میں تو ظاہری اسباب کے ساتھ شاید کوئی مدد کے لیے پہنچ جائے، وہاں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر دنیا کی رسوائی تو ایک وقت تک ہے، جب کہ وہاں کی رسوائی ہمیشہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
← پچھلی آیت (15) پوری سورۃ اگلی آیت (17) →