(اے نبی(ص)) اپنے بلند و برتر پروردگار کے نام کی تسبیح کیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نماز وتر کی سورتیں:
اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر (1)
(آیت 1) ➊ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى: ”تَسْبِيْحٌ“} کا معنی ہے ”ہربرائی سے پاک کرنا۔“ رب الاعلیٰ کے نام کو پاک کرنے کے حکم کے مفہوم میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی“} کہو۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب {” سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى “} پڑھتے توکہتے: [ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب الدعاء في الصلاۃ: ۸۸۳، وصححہ الألباني ] ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلندہے۔“ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں اس حکم پر عمل کے لیے {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي“} کم از کم تین دفعہ پڑھتے تھے۔ [ دیکھیے نسائي، التطبیق، باب نوع آخر: ۱۱۳۴، صحیح] دوسری یہ کہ اپنے رب کو ہر قسم کے نقص، عیب، کمزوری اور کسی بھی شریک سے پاک سمجھو اور اس کا اعلان کرتے رہو، تاکہ مشرکین اور باطل عقیدہ لوگوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی رہے۔ تیسری یہ کہ رب تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے رہو، اسے ایسے طریقے سے یا ایسی جگہ یا ایسے الفاظ میں یاد نہ کرو جو اس کی شان کے لائق نہ ہو، یا جس سے اس کی بے ادبی ہوتی ہو یا استہزا کا پہلو نکلتا ہویا اس کے ساتھ کسی کے شریک ٹھہرائے جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کے لیے سب سے زیادہ سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں جو خود اس نے اپنے لیے استعمال کیے ہیں۔ چوتھی یہ کہ اللہ کا نام کسی مخلوق پر نہ بولو، مثلاً عبدالرحمن کو رحمان مت کہو۔ اگر لفظ مشترک ہو تو مخلوق پر اس انداز سے نہ بولو جس سے خالق کو یاد کرنا چاہیے۔ ➋ ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر “ یا ” اپنے رب کی تسبیح کر“ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، کیونکہ ” رب“ بھی اس کا نام ہے۔ لفظ ”نام“ اس لیے بڑھایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی حقیقت اور کنہ تک تو پہنچ ہی نہیں سکتے، تمھاری رسائی اس کے نام تک ہے، سو اس کی تسبیح کرتے رہو۔ بعض نے فرمایا کہ جب نام کی تسبیح ضروری ٹھہری تو اس کی ذات تو بالاولیٰ تسبیح کی حق دار ہے۔
جس نے (ہر چیزکو) پیدا کیا پھر درست کیا (تناسب قائم کیا)۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔
احسن البیان
القرآن الکریم
2۔ 1 دیکھیے سورة انفطار کا حاشیہ نمبر 7
(آیت 2){ الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى: ” الَّذِيْ خَلَقَ “} (جس نے پیدا کیا) اس کا مفعول بہ محذوف ہے، یعنی یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ کسے پیدا کیا، کیونکہ پیدا کرنا کام اسی کا ہے اور سب اسی کی مخلوق ہیں۔ {” فَسَوّٰى “} ”پس درست بنایا“ یعنی ہر چیز کو ٹھیک، متوازن اور عمدہ ترین شکل میں بنایا، کوئی چیز بے ڈھب اور غیر متوازن نہیں، جیسا کہ فرمایا: «الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ» [ السجدۃ: ۷ ] ” وہ جس نے جو چیز پیدا کی خوب صورت پیدا کی۔“ اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں رب تعالیٰ کی بعض وہ صفات بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ تسبیح کا مستحق ہے۔
اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی
احمد رضا خان بریلوی
اور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے تقدیر مقرر کی (ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا) اور (سیدھی) راہ دکھائی۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی ۔
احسن البیان
القرآن الکریم
3۔ 1 یعنی نیکی اور بدی کی، ضروریات زندگی، اشیا کی جنسوں کی، ان کی انواع وصفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ حاصل کرے۔
(آیت 3) {وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى:} یعنی اس نے ہر چیز کے متعلق اندازہ لگا کر پہلے ہی لکھ دیا کہ وہ کیا کرے گا؟ اس کا رزق، عمر، سعادت یا شقاوت سب کچھ لکھ دیا۔ اسی کا نام تقدیر ہے، اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہمارے اندازے کی طرح نہیں کہ غلط ہو جائے۔ {” فَهَدٰى “} پھر جس نے جو کچھ کرنا تھا اسے اس راہ پر لگا دیا۔ ایک معنی یہ ہے کہ ہر جاندار کو پیدا کرکے اس کی ضرورتوں کا اندازہ مقرر کر دیا کہ اسے کیا کیا ضرورت ہو گی، پھر اسے اس کی ضروریات و مصالح حاصل کرنے کا راستہ بتا دیا، مثلاً بچے کو پستان چوسنے کا اور نر و مادہ کو بقائے نسل کا راستہ بتا دیا اور اس پر چلا دیا۔پرندوں کو شام کے وقت اپنے گونسلوں کی طرف واپسی کا اور شہد کی مکھی کو اپنے چھتے کا راستہ بتا دیا اور اس پر چلا دیا۔
(آیت 5،4){ وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى …:} حیوانوں کی ایک بڑی ضرورت چارا تھی، جو اس نے اگایا، پھر بتدریج اسے سیاہ کوڑا بنا دیا۔ یہ اشارہ ہے ہر چیز کے کمال کے بعد زوال کی طرف۔
ہم آپ(ص) کو (ایسا) پڑھائیں گے کہ پھر آپ(ص) نہیں بھولیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا۔
احسن البیان
القرآن الکریم
6۔ 1 حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آتے تو آپ جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس طرح جلدی نہ کریں، نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے، یعنی آپ کی زبان پر جاری کردیں گے۔ پس آپ بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لیے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا (فتح القدیر)
(آیت6) {سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیات (۱۶ تا 19) کی تفسیر۔ یہ پیشین گوئی ابتدائے اسلام میں مکہ کے اندر ہوئی، پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک دفعہ جبریل علیہ السلام سے سن کر کسی کتابت یا تکرار کے بغیر اتنا بڑا قرآن حفظ ہوگیا۔ یہ قرآن کا بھی معجزہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی جنھیں قرآن یاد ہوا اور پھر بھولا نہیں۔
سوائے اُس کے جو اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ﻇاہر اور پوشیده کو جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو اللہ چاہے بیشک وہ جانتا ہے ہر کھلے اور چھپے کو،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر جو اللہ چاہے (بھلا دے) بےشک وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو چھپا ہوا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جو اللہ چاہے۔ یقینا وہ کھلی بات کو جانتا ہے اور اس بات کو بھی جو چھپی ہوئی ہے۔
احسن البیان
القرآن الکریم
7۔ 1 یہ بھی عام ہے جہر قرآن کا وہ حصہ ہے جسے رسول اللہ یاد کرلیں اور جو آپ کے سینے سے محو کردیا جائے وہ مخفی ہے۔ خفی چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر ان سب کو اللہ جانتا ہے۔
(آیت 7) ➊ { اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} یعنی اللہ تعالیٰ جو چاہے بھلا دے۔ بعض اوقات کچھ آیات اس طرح بھی منسوخ کی جاتی تھیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلا دی جاتیں، جیسا کہ فرمایا: «مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا» [ البقرۃ: ۱۰۶ ] ”جو آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔“ ➋ {اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفٰى:} ”وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے“ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کھلی اور چھپی سب باتیں جانتا ہے، کوئی بات اونچی آواز سے کی گئی ہو یا آہستہ یا بالکل مخفی ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (دیکھیے رعد: ۱۰۔ طہ: ۷۔ انعام: ۳۔ انبیاء: ۱۱۰۔ ملک: ۱۳) ابن جوزی کے استاذ وزیر ابن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات پر بہت غور کیا کہ چھپی ہوئی باتوں کو تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، مگر بلند آواز سے کی گئی باتیں تو ہم بھی جانتے اور سمجھتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان باتوں کے جاننے کو اپنی خاص صفت کے طور پر کیوں بیان فرما رہے ہیں؟ پھر میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ بلند آواز کے ساتھ اگر ایک وقت میں کئی آدمی بولنا شروع کر دیں تو ہمیں کچھ پتا نہیں چلتا، یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ وہ ساری مخلوق کی بلند آوازسے کی ہوئی باتیں سنتا ہے اور چھپی ہوئی باتیں بھی۔ اس مقام پر یہ صفت بیان کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ جب جبریل علیہ السلام پڑھیں تو آپ یاد کرنے کے لیے ساتھ ساتھ نہ پڑھیں، ان کے ساتھ ساتھ پڑھیں گے تو سمجھنا مشکل ہو گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ بلند آواز سے کی گئی باتیں ہوں، خواہ کروڑوں لوگوں کی ہوں یا چھپی ہوئی، وہ سب جانتا ہے۔
8۔ 1 یہ بھی عام ہے۔ ہم آپ پر وحی آسان کردیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے ہم آپ کے اس طریقے سے رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا، ہم جنت والا عمل آپ کے لئے آسان کردیں گے۔ ہم آپ کے لیے ایسے اقوال و افعال آسان کردیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لیے ایسی شریعت مقرر کریں گے جو سہل، مستقیم، اور معتدل ہوگی جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہوگی۔
(آیت 8){ وَ نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى:} یعنی ہم آپ کے لیے یہ آسانی فرمائیں گے کہ آپ کے خاموش رہ کرسنتے جانے سے آپ کو وحی الٰہی یاد ہو جائے گی۔
9۔ 1 یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت اور تعلیم کے لیے ایک اصول اور ادب بیان فرمایا۔ امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، چاہے فائدہ دے یا نہ دے، کیونکہ انداز و تبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لیے ضروری تھی۔
(آیت 9تا11) {فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى …:} ” تو نصیحت کر اگر نصیحت کرنا فائدہ دے“ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر نصیحت فائدہ نہ دے تو کیا نصیحت چھوڑ دی جائے؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ نصیحت کرتے رہنا لازم ہے۔ تو پھر آیت کا مطلب کیا ہے؟ آیت کی مختلف تفاسیر میں سے تین تفسیریں زیادہ قریب ہیں: (1) تفسیر ثنائی میں ہے کہ اس آیت کی بنا پر بعض لوگ گمراہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ نصیحت کے نفع دینے کی صورت میں نصیحت کرنے کا حکم ہے ورنہ نہیں، یہ ان کی غلطی ہے۔ آیت میں {” اِنْ “} ہے کہ جب تک انسان کو کسی قطعی دلیل سے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ فلاں شخص کو نصیحت فائدہ نہ دے گی{” اِنْ “} کا محل رہتا ہے اور قطعی دلیل صرف وحی الٰہی ہے۔ وحی کے بغیر ہر حال میں نصیحت کے مفید ہونے کا امکان باقی ہے، اس لیے جب تک تمھیں وحی الٰہی سے معلوم نہ ہو جائے کہ فلاں کو نصیحت نفع نہ دے گی وعظ و نصیحت کرتے جاؤ۔ ظاہر ہے کہ تمھارے پاس وحی الٰہی نہیں، اس لیے تم ہمیشہ نصیحت کرتے رہو۔ (مختصراً) (2) دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى “} (نصیحت کر، اگر نصیحت فائدہ دے)کا یہ مطلب نہیں کہ جسے نصیحت فائدہ دے اسے نصیحت کر دوسرے کو نہ کر، کیونکہ یہ تو معلوم ہی نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصیحت کر اگر کسی ایک کو بھی نصیحت فائدہ دے۔گویا {” نَفَعَتْ“} کا مفعول محذوف ہے، یعنی {” إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرٰي أَحَدًا “} اور ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی کو تو فائدہ ہوتا ہی ہے، اس لیے آپ ہر شخص کو نصیحت کرتے جائیں۔ {” سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى … “} پھر ڈرنے والا قبول کرلے گا اور بدبخت اجتناب کرے گا، آپ کا کام نصیحت کرتے چلے جانا ہے اس امید پر کہ نصیحت کسی کو تو فائدہ دے گی۔ (3) تیسری تفسیر یہ ہے کہ {” اِنْ “} حرف شرط {”إِذْ“} کے معنی میں ہے، یعنی نصیحت کر جب نصیحت کرنا فائدہ دے۔ موقع و محل کا خیال رکھو، بے موقع بات مؤثر نہیں ہوتی۔ جب دیکھو کہ سننے کی طرف مائل ہیں تو نصیحت کرو اور جب ضد اور سرکشی پر اترے ہوئے ہوں تو کنارہ کشی اختیار کرو، یہ نہیں کہ نصیحت ہی چھوڑ دو۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو، نوح اور دوسرے انبیاء علیھم السلام نے اپنی اپنی اقوام کو ان پر عذاب آنے تک نصیحت ترک نہیں کی۔
(آیت 13،12) {الَّذِيْ يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى …:} سب سے بڑی آگ اس لیے کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر (۶۹) گنا بڑھی ہوئی ہے۔ (دیکھیے بخاری: ۳۲۶۵) {” ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى “} یعنی نہ مرے گا کہ جان چھوٹ جائے اور نہ ایسی زندگی ہوگی کہ کوئی راحت ہو۔
جہاں پھر نہ وه مرے گا نہ جیے گا، (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا)
احمد رضا خان بریلوی
پھر نہ اس میں مرے اور نہ جیے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ جئے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا ۔
احسن البیان
القرآن الکریم
13۔ 1 ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا حتی کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہوجائیں گے پھیر اللہ تعالیٰ انبیاء وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے جس سے وہ اس طرح اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے سے دانہ اگ آتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بداعتقادی و بدعملی سے) پاک کیا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ کامیاب ہوگیا جو پاک ہوگیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2284،ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔ اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:81/6،ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ]
پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا }۔ ۱؎ [مسند بزار:2285،ضعیف] نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» ۱؎ [53-النجم:38] اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔ سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» ۱؎ [53-النجم:42-36] آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔ بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» ۱؎ [87-الأعلى:14] سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»
14۔ 1 جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک کی آلودگی سے پاک کرلیا۔
(آیت 15،14) {قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى …:} یعنی کفر و شرک اور گناہوں سے پاک ہو کر اللہ اکبر کہہ کر پانچوں نمازیں پڑھیں۔
اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے اپنے رب کا نام یاد کیا، پس نماز پڑھی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2284،ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔ اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:81/6،ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ]
پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا }۔ ۱؎ [مسند بزار:2285،ضعیف] نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» ۱؎ [53-النجم:38] اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔ سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» ۱؎ [53-النجم:42-36] آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔ بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» ۱؎ [87-الأعلى:14] سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»
مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دیتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2284،ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔ اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:81/6،ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ]
پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا }۔ ۱؎ [مسند بزار:2285،ضعیف] نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» ۱؎ [53-النجم:38] اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔ سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» ۱؎ [53-النجم:42-36] آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔ بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» ۱؎ [87-الأعلى:14] سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17،16){ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا …:} فرمایا،آخرت کی بھلائی کے کاموں میں تم اس لیے کوتاہی کرتے ہو کہ دنیا کے مشغلوں کو چھوڑنا تمھیں شاق گزرتا ہے، حالانکہ تم اسے نہ بھی چھوڑو گے تو وہ تمھیں چھوڑ دے گی، کیونکہ وہ باقی رہنے والی نہیں ہے اور اگر آخرت کو اختیار کر لو گے تو وہ تمھیں کبھی نہیں چھوڑے گی، پھر سوچ لو کسے ترجیح دینی چاہیے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)
حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس نے صلوٰۃ کو بروقت ادا کیا ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2284،ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔ اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:81/6،ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ]
پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا }۔ ۱؎ [مسند بزار:2285،ضعیف] نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» ۱؎ [53-النجم:38] اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔ سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» ۱؎ [53-النجم:42-36] آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔ بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» ۱؎ [87-الأعلى:14] سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»
17۔ 1 کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لئے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2284،ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔ اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:81/6،ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ]
پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا }۔ ۱؎ [مسند بزار:2285،ضعیف] نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» ۱؎ [53-النجم:38] اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔ سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» ۱؎ [53-النجم:42-36] آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔ بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» ۱؎ [87-الأعلى:14] سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا، احکام اسلام کی تابعداری کی، نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پا لی ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہونے کی گواہی دے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:2284،ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ابوخلدہ رحمہ اللہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا، جب میں گیا تو مجھ سے کہا: کچھ کھا لیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔ اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے، ابوالاحواص رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے، پھر یہی آیت پڑھی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا، پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے۔ دنیا ذلیل ہے، فانی ہے، آخرت شریف ہے، باقی ہے۔ کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو۔ اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:81/6،ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ عرفجہ ثقفی اس سورت کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب یہ اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو، یہاں کی عورتوں کو، یہاں کے کھانے پینے کو، ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں۔ یا تو یہ فرمان سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، تم، اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو }۔ ۱؎ [مسند احمد:412/4،حسن لغیرہ]
پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی یہ تھا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا }۔ ۱؎ [مسند بزار:2285،ضعیف] نسائی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مروی ہے اور جب آیت «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» ۱؎ [53-النجم:37] نازل ہوئی تو فرمایا کہ «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» ۱؎ [53-النجم:38] اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے۔ سورۃ النجم میں ہے «أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ» * «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» * «أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ» * «وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ» * «وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ» * «ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» * «وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ» * «وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا» ۱؎ [53-النجم:42-36] آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» کی یہ آیتیں ہیں۔ بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے «قَدْ أَفْلَحَ» ۱؎ [87-الأعلى:14] سے «خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:17] تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ سبح کی تفسیر ختم ہوئی۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة وَبِهِ التَّوْفِيق وَالْعِصْمَة»