بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأعلى — Surah Ala
آیت نمبر 1
کل آیات: 19
قرآن کریم الأعلى آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ الأعلى islamicurdubooks.com ↗
سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾
(اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر
اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جب سے بلند ہے
(اے نبی(ص)) اپنے بلند و برتر پروردگار کے نام کی تسبیح کیجئے۔
اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نماز وتر کی سورتیں:

اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال، سیدنا سعد رضی اللہ عنہم آئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے۔ میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [الاعلیٰ-1] ‏‏‏‏ اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی۔ [صحیح بخاری:4941] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ یہ سورۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی۔ [مسند احمد:96/1:ضعیف] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو نے سورۃ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاہا» اور «والليل إذا يغشى» کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی۔ [صحیح بخاری:705] ‏‏‏‏ مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» دونوں عیدوں کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے، اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی سورتوں کو پڑھتے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابوداود اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی مروی ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏‏‏‏ مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل ياأيہا الكافرون» اور «قل ھو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» اور بھی پڑھتے تھے۔ [سنن ابوداود:1423،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کے ساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے۔ «واللہ اعلم»

📖 احسن البیان

اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر (1)

📖 القرآن الکریم

(آیت 1) ➊ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى: ”تَسْبِيْحٌ“} کا معنی ہے ”ہربرائی سے پاک کرنا۔“ رب الاعلیٰ کے نام کو پاک کرنے کے حکم کے مفہوم میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی“} کہو۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب {” سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى “} پڑھتے توکہتے: [ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب الدعاء في الصلاۃ: ۸۸۳، وصححہ الألباني ] ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلندہے۔“ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں اس حکم پر عمل کے لیے {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي“} کم از کم تین دفعہ پڑھتے تھے۔ [ دیکھیے نسائي، التطبیق، باب نوع آخر: ۱۱۳۴، صحیح] دوسری یہ کہ اپنے رب کو ہر قسم کے نقص، عیب، کمزوری اور کسی بھی شریک سے پاک سمجھو اور اس کا اعلان کرتے رہو، تاکہ مشرکین اور باطل عقیدہ لوگوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی رہے۔ تیسری یہ کہ رب تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے رہو، اسے ایسے طریقے سے یا ایسی جگہ یا ایسے الفاظ میں یاد نہ کرو جو اس کی شان کے لائق نہ ہو، یا جس سے اس کی بے ادبی ہوتی ہو یا استہزا کا پہلو نکلتا ہویا اس کے ساتھ کسی کے شریک ٹھہرائے جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کے لیے سب سے زیادہ سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں جو خود اس نے اپنے لیے استعمال کیے ہیں۔ چوتھی یہ کہ اللہ کا نام کسی مخلوق پر نہ بولو، مثلاً عبدالرحمن کو رحمان مت کہو۔ اگر لفظ مشترک ہو تو مخلوق پر اس انداز سے نہ بولو جس سے خالق کو یاد کرنا چاہیے۔ ➋ ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر “ یا ” اپنے رب کی تسبیح کر“ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، کیونکہ ” رب“ بھی اس کا نام ہے۔ لفظ ”نام“ اس لیے بڑھایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی حقیقت اور کنہ تک تو پہنچ ہی نہیں سکتے، تمھاری رسائی اس کے نام تک ہے، سو اس کی تسبیح کرتے رہو۔ بعض نے فرمایا کہ جب نام کی تسبیح ضروری ٹھہری تو اس کی ذات تو بالاولیٰ تسبیح کی حق دار ہے۔
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →