اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی
اور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی
جس نے تقدیر مقرر کی (ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا) اور (سیدھی) راہ دکھائی۔
اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی ۔
📖 تفسیر ابن کثیر
یہ تفسیر ابھی دستیاب نہیں — جلد لوڈ ہو گی
📖 احسن البیان
3۔ 1 یعنی نیکی اور بدی کی، ضروریات زندگی، اشیا کی جنسوں کی، ان کی انواع وصفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ حاصل کرے۔
📖 القرآن الکریم
(آیت 3) {وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى:} یعنی اس نے ہر چیز کے متعلق اندازہ لگا کر پہلے ہی لکھ دیا کہ وہ کیا کرے گا؟ اس کا رزق، عمر، سعادت یا شقاوت سب کچھ لکھ دیا۔ اسی کا نام تقدیر ہے، اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہمارے اندازے کی طرح نہیں کہ غلط ہو جائے۔ {” فَهَدٰى “} پھر جس نے جو کچھ کرنا تھا اسے اس راہ پر لگا دیا۔ ایک معنی یہ ہے کہ ہر جاندار کو پیدا کرکے اس کی ضرورتوں کا اندازہ مقرر کر دیا کہ اسے کیا کیا ضرورت ہو گی، پھر اسے اس کی ضروریات و مصالح حاصل کرنے کا راستہ بتا دیا، مثلاً بچے کو پستان چوسنے کا اور نر و مادہ کو بقائے نسل کا راستہ بتا دیا اور اس پر چلا دیا۔پرندوں کو شام کے وقت اپنے گونسلوں کی طرف واپسی کا اور شہد کی مکھی کو اپنے چھتے کا راستہ بتا دیا اور اس پر چلا دیا۔