ہم آپ(ص) کو (ایسا) پڑھائیں گے کہ پھر آپ(ص) نہیں بھولیں گے۔
ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا۔
📖 تفسیر ابن کثیر
یہ تفسیر ابھی دستیاب نہیں — جلد لوڈ ہو گی
📖 احسن البیان
6۔ 1 حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آتے تو آپ جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس طرح جلدی نہ کریں، نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے، یعنی آپ کی زبان پر جاری کردیں گے۔ پس آپ بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لیے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا (فتح القدیر)
📖 القرآن الکریم
(آیت6) {سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیات (۱۶ تا 19) کی تفسیر۔ یہ پیشین گوئی ابتدائے اسلام میں مکہ کے اندر ہوئی، پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک دفعہ جبریل علیہ السلام سے سن کر کسی کتابت یا تکرار کے بغیر اتنا بڑا قرآن حفظ ہوگیا۔ یہ قرآن کا بھی معجزہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی جنھیں قرآن یاد ہوا اور پھر بھولا نہیں۔