بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
علمی گفتگو کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ علمی گفتگو کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 615 سنن دارمی
أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، شُعْبَةُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، وَأَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کا مذاکره کرو، اس لئے کہ حدیث سے حدیث یاد آتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 615]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 617] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس میں ابونضرة کا نام: منذر بن مالک ہے۔ تخریج آگے آرہی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 611 سے 615)
مذاکرہ: گفتگو کرنے، یاد کرنے اور دہرانے کو کہتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 616 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
دوسری سند سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 616]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 618] »
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 617 سنن دارمی
أَبُو مَعْمَرٍ ، هُشَيْمٍ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْريَّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْريَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونضرة بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: حدیث میں گفتگو کرو، کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کو یاد دلاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 617]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أن هشيما قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 619] »
الحكم: إسناده رجاله ثقات غير أن هشيما قد عنعن وهو مدلس
حدیث نمبر: 618 سنن دارمی
أَبُو مَعْمَرٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبِي سَعِيدٍ..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونضرة، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اور اس میں اس سے زیادہ کلام ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 618]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 620] »
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 619 سنن دارمی
وَابْنِ عُلَيَّةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
وَابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبِي سَعِيدٍ..
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 621] »
دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6184] ، [المحدث الفاصل 723] ، [الجامع لأخلاق الراوي 470، 1882] و [جامع بيان العلم 626، 706] ، اور سب کی سند صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 615 سے 619)
یہ تمام روایات سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔
معنی اوپر ذکر کیا جا چکا ہے، اور اس میں حدیث یاد کرنے اور دہراتے رہنے کی ترغیب ہے۔
حدیث نمبر: 620 سنن دارمی
أَبُو مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبي سَعيدٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ يُعْنِي، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبي سَعيدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمۃ ابونضرة کے طریق سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے یہی قول روایت کرتے ہیں، اس میں اُس سے زیادہ کلام ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 620]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 622] »
وضاحت
(تشریح حدیث 619)
یہ روایت بھی بالکل مذکور بالا الفاظ میں مروی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کلام ہے۔
اور اس کی بھی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 621 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي طَاوُسٌ: "اذْهَبْ بِنَا نُجَالِسْ النَّاسَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن مسلم سے مروی ہے کہ امام طاؤوس رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: ہمیں لے چلو لوگوں کے پاس بیٹھیں گے (یعنی مذاکرہ حدیث کے لئے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 621]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 623] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دوسری جگہ نہیں مل سکی۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 622 سنن دارمی
إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ لَا يَنْفَلِتْ مِنْكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَ الْقُرْآنِ مَجْمُوعٌ مَحْفُوظٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ يَنْفَلِتْ مِنْكُمْ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ حَدَّثْتُ أَمْسِ فَلَا أُحَدِّثُ الْيَوْمَ، بَلْ حَدِّثْ أَمْسِ، وَلْتُحَدِّثْ الْيَوْمَ، وَلْتُحَدِّثْ غَدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حدیث دہرا لیا کرو تاکہ تم بھول نہ جاؤ، کیونکہ حدیث قرآن کی طرح مجموع و محفوظ نہیں ہے، اگر تم اس کا مذاکرہ نہیں کرو گے تو بھول جاؤ گے۔ نیز تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے کل تو حدیث بیان کی ہے لہٰذا آج بیان نہیں کروں، بلکہ گزشتہ كل حدیث بیان کی ہو تو آج بھی بیان کرو اور آنے والے کل بھی بیان کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 622]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 624] »
اس سند کے رواة ثقات ہیں، صرف جعفر بن ابی المغیرۃ کے بارے میں ابن مندہ نے کہا ہے کہ وہ سعید بن جبیر سے روایت کرنے میں قوی نہیں۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 729]
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 623 سنن دارمی
مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "رُدُّوا الْحَدِيثَ وَاسْتَذْكِرُوهُ، فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ تَذْكُرُوهُ، ذَهَبَ، وَلَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ لِحَدِيثٍ قَدْ حَدَّثَهُ قَدْ حَدَّثْتُهُ مَرَّةً، فَإِنَّهُ مَنْ كَانَ سَمِعَهُ يَزْدَادُ بِهِ عِلْمًا، وَيَسْمَعُ مَنْ لَمْ يَسْمَعْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہی مروی ہے، سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حدیث کو دہراؤ اور یاد کرو، اگر یاد نہ کرو گے تو بھول جاؤ گے، اور کوئی آدمی کسی حدیث کو بیان کرنے کے بعد یہ نہ کہے کہ میں نے ایک بار بیان کر دی، کیونکہ جس نے پہلے حدیث سنی اس کے علم میں اضافہ ہو گا اور جس نے نہیں سنی وہ اب سن لے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 623]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف مندل بن علي، [مكتبه الشامله نمبر: 625] »
مندل بن علی کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ مذکورہ بالا تخریج ملاحظہ فرمائیں۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مندل بن علي
حدیث نمبر: 624 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: "تَذَاكَرُوا، فَإِنَّ إِحْيَاءَ الْحَدِيثِ مُذَاكَرَتُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن ابی زیاد سے مروی ہے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے کہا: مذاکرہ کرو، حدیث کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس کا دہرانا و مذاکرہ کرنا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 624]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 626] »
اس قول کی سند بھی ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 727] نیز آنے والا اثر رقم (641)۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 625 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ ذِكْرَهُ حَيَاتُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم سے مروی ہے علقمہ نے کہا: حدیث کا مذاکره کرو، اس کا یاد کرنا ہی اس کی زندگی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 625]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 627] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 1884] ، [العلم 71] ، [المحدث الفاصل 725] ، [حلية الأولياء 101/2] و [جامع بيان العلم 627]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 626 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: "كَانَ ابْنُ شِهَابٍ يُحَدِّثُ الْأَعْرَابَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان بن عیینہ سے مروی ہے زیاد بن سعد نے کہا: ابن شہاب الزہری دیہاتیوں کو بھی حدیث سنایا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 626]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 628] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 1888]
وضاحت
(تشریح احادیث 620 سے 626)
یہ بھی مذاکرۂ حدیث کا ایک طریقہ ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 627 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "كَانَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَجَاءٍ يَجْمَعُ صِبْيَانَ الْكُتَّابِ يُحَدِّثُهُمْ يَتَحَفَّظُ بِذَاكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا: اسماعیل بن رجاء منشیوں کے بچوں کو جمع کر کے انہیں حدیث سنایا کرتے تھے، وہ اسی طرح یاد کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 627]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 629] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 712] ، [الجامع لأخلاق الراوي 680] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6187، ومن طريقه أخرجه ابن عبدالبر فى جامع بيان العلم 729، 738] و [العلم لأبي خيثمه 73]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 628 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "حَدِّثْ حَدِيثَكَ مَنْ يَشْتَهِيهِ، وَمَنْ لَا يَشْتَهِيهِ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ عِنْدَكَ كَأَنَّهُ إِمَامٌ تَقْرَؤُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعبدالله الشقری سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اپنی حدیث ہر کسی کو سناؤ چاہے وہ اس کو سننے کی خواہش رکھے یا نہ رکھے، اس لئے کہ وہی تمہارے لئے اصل ہو جائیں گے گو کہ تم اصل کو دیکھ کر پڑھ رہے ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 628]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 630] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل اور ابوعبدالله الشقری کا نام سلمہ بن تمام ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6188] ، [الجامع لأخلاق الراوي 1885، 1886] ، [جامع بيان العلم وفضله 630]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 629 سنن دارمی
أَبُو مَعْمَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ السَّلَامِ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا سَمِعْتُمْ مِنَّا حَدِيثًا، فَتَذَاكَرُوهُ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء (ابن ابی رباح) سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم ہم سے کوئی حدیث سنو تو آپس میں اس کا مذاکرہ کر لیا کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 629]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حجاج بن أرطاة ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 631] »
اس روایت میں حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ابومعمر کا نام اسماعیل بن ابراہیم بن معمر ہے اور عبدالسلام: ابن حرب ہیں۔ تخریج دیکھئے: [الجامع 469] و [المحدث الفاصل 728]
الحكم: حجاج بن أرطاة ضعيف
حدیث نمبر: 630 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي الْحَسَنَ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، تَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشیم نے کہا: یونس بن عبید نے خبر دی کہ ہم حسن رحمہ اللہ کے پاس جاتے تھے اور جب ان کے پاس سے لوٹتے تو آپس میں مذاکرہ کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 630]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 632] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 631 سنن دارمی
صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَرْوِيَ حَدِيثًا، فَلْيُرَدِّدْهُ ثَلَاثًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی حدیث بیان کرنا چاہے تو اس حدیث کو تین بار دہرا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 631]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 633] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 640]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 632 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: "إِحْيَاءُ الْحَدِيثِ مُذَاكَرَتُهُ"، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ:"يَرْحَمُكَ اللَّهُ، كَمْ مِنْ حَدِيثٍ أَحْيَيْتَهُ فِي صَدْرِي كَانَ قَدْ مَاتَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے کہا: حدیث کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس کا مذاکرہ کرنا ہے، عبداللہ بن شداد نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، کتنی احادیث ہیں جو مٹ گئی تھیں، آپ نے انہیں میرے دل میں زندہ کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 632]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 634] »
یہ روایت یزید بن ابی زیادہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الجامع 472، 1895] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6189] ، [جامع بيان العلم 631، 707] ، [ العلم 72] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (626)۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد
حدیث نمبر: 633 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "كَانَ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ، وَابْنُ شُبْرُمَةَ، وَالْقَعْقَاعُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُغِيرَةُ إِذَا صَلَّوْا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، جَلَسُوا فِي الْفِقْهِ، فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَهُمْ إِلَّا أَذَانُ الصُّبْحِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان کے والد نے کہا: حارث بن یزید عکلی، ابن شبرمہ اور قعقاع بن یزید و مغیرہ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے، فقہ (کے مذاکرے) میں بیٹھ جاتے، اور پھر صبح کی اذان ہی انہیں جدا کرتی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 633]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 635] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 108] ، [المعرفة للفسوي 614/2] ، [الفقيه والمتفقه 956، 957] ۔ نیز اثر رقم (642)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 634 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: سَمِعْتُ شَرِيكًا ذَكَرَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالَ: عَنْ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ "لَا بَأْسَ بِالسَّمَرِ فِي الْفِقْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مالک بن اسماعیل نے خبر دی کہ میں نے شریک کو کہتے سنا، انہوں نے لیث کے طریق سے کہا، عطاء و طاؤوس و مجاہد میں سے دو نے کہا: فقہی امور میں رات جاگنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 634]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 636] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم