بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
علمی گفتگو کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ علمی گفتگو کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 635 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِالسَّمَرِ فِي الْفِقْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث سے مروی ہے مجاہد نے کہا: فقہی مذاکرہ میں جاگنے سے کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 635]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 637] »
اس روایت کی سند میں بھی لیث بن ابی سلیم ہیں جن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 110] ، [الفقيه و المتفقه 955]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 636 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَفْصٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنْ اللَّيْلِ، خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن جریج سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک گھڑی مل جل کر پڑھنا پوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 636]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ابن جريج لم يدرك ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 638] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ ابن حجر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 20469] ، [جامع بيان العلم 107] ، نیز یہ روایت (270) میں گزر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف ابن جريج لم يدرك ابن عباس
حدیث نمبر: 637 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ تَذَاكَرْنَا، فَكَانَ أَبُو الزُّبَيْرِ أَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: ہم سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تھے، اور جب ان کے پاس سے واپس آتے تو آپس میں مذاکرہ کرتے، نیز ابوالزبیر ہم میں سب سے زیادہ حافظ حدیث تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 637]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أبي أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 639] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ [العلم 79] و [الجامع 471] میں بھی یہ روایت موجود ہے، لیکن سند سب کی ضعیف ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أبي أرطاة
حدیث نمبر: 638 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: "تَذَاكَرَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ حَدِيثًا وَهُوَ جَالِسٌ مُتَوَضِّئًا، قَالَ: فَمَا زَالَ ذَلِكَ مَجْلِسَهُ حَتَّى أَصْبَحَ"، قَالَ مَرْوَانُ:"جَعَلَ يَتَذَاكَرُ الْحَدِيثَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان بن محمد نے خبر دی کہ میں نے لیث بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا: ابن شہاب (زہری) ایک رات عشاء کے بعد بیٹھے وضو کر رہے تھے کہ حدیث یاد کرنے لگے، پھر بیٹھے یاد ہی کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ مروان نے کہا: حدیث کا مذاکرہ کرتے رہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 638]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 640] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ ابن عساكر 95، 96] زہری میں دیکھئے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 639 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، الزُّهْرِيِّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "كُنْتُ إِذَا لَقِيتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَأَنَّمَا أَفْجُرُ بِهِ بَحْرًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن اسحاق سے مروی ہے، زہری نے کہا: میں جب عبیداللہ بن عتبہ سے ملاقات کرتا تو ایسا لگتا کہ گویا میں نے سمندر کو چیر دیا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 639]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 641] »
اس روایت کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبى شيبه 6108، 15783] ، [المعرفة والتاريخ 561/1، 552، 622] و [تاريخ دمشق 227]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 640 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "كَانَ الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ وَأَصْحَابُهُ يَتَجَالَسُونَ بِاللَّيْلِ، وَيَذْكُرُونَ الْفِقْهَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن عبداللہ نے کہا: حارث عکلی اور ان کے ساتھی رات میں بیٹھ کر فقہی مسائل یاد کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 640]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 642] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور رقم (633) میں گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 641 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، رَوَى عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ حَيَاتَهُ مُذَاكَرَتُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالأحوص سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث یاد کرو، کیونکہ اس کی زندگی اس کا یاد کرنا یا مذاکرہ کرنا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 641]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل وهو: إسماعيل بن خليفة لكن الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 643] »
اس اثر کی سند ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 726] لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (617، 626، 627)۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل وهو: إسماعيل بن خليفة لكن الأثر صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 642 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَوْنٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: هَلْ تَجَالَسُونَ؟، قَالُوا: لَيْسَ نُتْرَكُ ذَاكَ، قَالَ: فَهَلْ تَزَاوَرُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ، فَيَمْشِي فِي طَلَبِهِ إِلَى أَقْصَى الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ، قَالَ: "فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عون بن عبداللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا: کیا تم مجلس جماتے ہو؟ جواب دیا: اسے تو ہم چھوڑتے ہی نہیں، فرمایا: کیا تم ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہو؟ جواب دیا: جی ہاں اے ابوعبدالرحمٰن! ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے ساتھی کو نہ دیکھے تو کوفے کے آخری کنارے تک اس کو دیکھنے جاتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جب تک ایسا کرتے رہو گے خیر سے رہو گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 642]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والإنقطاع، [مكتبه الشامله نمبر: 644] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 8979]
الحكم: في إسناده علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والإنقطاع
حدیث نمبر: 643 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَتَرْكُ الْمُذَاكَرَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی آفت نسیان اور ترک مذاکرہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 643]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف الوليد هو: ابن مسلم مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 645] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تاريخ دمشق 235]
الحكم: إسناده ضعيف الوليد هو: ابن مسلم مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 644 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَبُو عُمَيْسٍ ، الْقَاسِمِ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "آفَةُ الْحَدِيثِ النِّسْيَانُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم بن عبدالرحمٰن مسعودی سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کی آفت نسیان ہے (یعنی بھلا دینا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 644]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم بن عبد الرحمن المسعودي لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 646] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ ابوعمیس کا نام عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ ہے۔ تخریج دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6191] ، [جامع بيان العلم 691] اس کے دیگر اسانید سے شواہد موجود ہیں «كما سيأتي» ۔
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم بن عبد الرحمن المسعودي لم يسمع عبد الله بن مسعود
حدیث نمبر: 645 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، طَارِقٍ ، حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ آفَةً، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حکیم بن جابر سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک آفت ہوتی ہے، علم کی آفت نسیان ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 645]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 647] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 646 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْأَعْمَشِ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: علم کی آفت نسیان ہے، اور اس کا ضیاع یہ ہے کہ تم نااہل کو اس کی تعلیم دو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 646]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 648] »
اس حدیث کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل، ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6190] ، [جامع بيان العلم 690] ، [المحدث الفاصل 793]
الحكم: إسناده معضل
حدیث نمبر: 647 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "غَائِلَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحمزه التمار سے مروی ہے، حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی برائی نسیان ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 647]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 649] »
اس روایت میں ابوحمزہ کو شیخ کہا گیا ہے، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 689] اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں لہٰذا صحیح ہے۔
الحكم: الأثر صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 648 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، كَهْمَسٌ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، وَتَزَاوَرُوا، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا يَدْرُسْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن بريدة سے مروی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس (علم) حدیث کو یاد کرو (دہراؤ)، ایک دوسرے کی زیارت کرو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو یہ (علم) مٹ جائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 648]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 650] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6185] ، [جامع بيان العلم وفضله 624] ، [المحدث الفاصل 721] و [الجامع لأخلاق الراوي 468،467]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 649 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: "كُنْتُ أَحْسَبُ بِأَنِّي أَصَبْتُ مِنْ الْعِلْمِ، فَجَالَسْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، فَكَأَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں سمجھتا تھا کہ میں نے علم کی تکمیل کر لی، لیکن جب عبیداللہ (بن عبدالله بن مسعود) کی مجالست اختیار کی تو لگا کہ میں تو علم کی بہت ساری گھاٹی یا وادیوں میں سے صرف ایک وادی میں تھا (یعنی ان کے مقابلہ میں میرا علم بہت تھوڑا تھا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 649]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 651] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعة 1395]
وضاحت
(تشریح احادیث 626 سے 649)
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔
الحكم: إسناده صحيح