بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 33
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 372 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ: "الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَعَاشَ مَعَهُ النَّاسُ فِيهِ، وَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَلَمْ يَعِشْ مَعَهُ فِيهِ أَحَدٌ، وَرَجُلٌ عَاشَ النَّاسُ فِي عِلْمِهِ وَكَانَ وَبَالًا عَلَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومسلم خولانی رحمہ اللہ نے فرمایا: علماء کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ آدمی جو علم میں زندگی بسر کرے اور اسی میں اس کے ساتھ دوسرے لوگ زندگی گزاریں، دوسرا وہ شخص جو خود تو علمی دنیا میں رہے لیکن اس کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، تیسرا وہ شخص کہ لوگ اس کے علم سے فائدہ اٹھائیں اور (وہ خود بےعمل ہو) علم اس پر وبال ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 372]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 373] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ مزید دیکھئے: [المصنف 17547] ، [حلية الأولياء 121/5 و 283/2] ، [الجامع لمعمر 20472] ، [جامع بيان العلم 1546]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 373 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَطَاءٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ:"يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَحْكَمُ؟، قَالَ: الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى؟، قَالَ: أَرْضَاهُمْ بِمَا قَسَمْتُ لَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَخْشَى لَكَ؟، قَالَ: أَعْلَمُهُمْ بِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ دانا و بینا کون ہے؟ فرمایا: وہی جو لوگوں کے لئے بھی وہی فیصلہ کرتا ہے جو اپنے نفس کے لئے فیصلہ کرتا ہے۔ عرض کیا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ غنی کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ اپنی قسمت سے راضی ہو۔ عرض کیا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ خشیت والا کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ میرے بارے میں علم والا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 373]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عطاء وهو منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 374] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن منقطع ہے اور [الزهد لابن المبارك 223، 533] و [العلم لأبي خيثمة 86] میں مذکور ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى عطاء وهو منقطع
حدیث نمبر: 374 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: "كَانَ يُقَالُ الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ: عَالِمٌ بِاللَّهِ يَخْشَى اللَّهَ لَيْسَ بِعَالِمٍ بِأَمْرِ اللَّهِ، وَعَالِمٌ بِاللَّهِ عَالِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ يَخْشَى اللَّهَ، فَذَاكَ الْعَالِمُ الْكَامِلُ، وَعَالِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَيْسَ بِعَالِمٍ بِاللَّهِ لَا يَخْشَى اللَّهَ، فَذَلِكَ الْعَالِمُ الْفَاجِرُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: کہا جاتا ہے کہ علماء تین قسم کے ہیں: ایک تو وہ جو اللہ کا علم رکھتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، لیکن اللہ کے حکم سے لا علم ہے۔ دوسرا اللہ کو جانے والا، اور اللہ کے حکم کا عالم، اللہ سے ڈرتا بھی ہے، یہ کامل عالم (دین) ہے، تیسرا اللہ کے حکم کو جاننے والا الله کو نہ جانے نہ اس سے ڈرے، یہ عالم فاجر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 374]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 375] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1919] ، [حلية الأولياء 280/7] ، [جامع بيان العلم 1543] ، [الدر المنثور 250/5] و [تفسير ابن كثير 531/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 375 سنن دارمی
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْعِلْمُ عِلْمَانِ: فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ، وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَلِكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ آدَمَ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علم دو طرح کا ہے، جو علم دل میں گھر کر جائے یہ علم نافع ہے، دوسرا علم (جو صرف) زبان تک رہے تو یہ علم ابن آدم پر اللہ کی طرف سے حجت ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 375]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 376] »
یہ اثر امام حسن بصری رحمہ اللہ پر موقوف ہے، اور ان تک سند صحیح ہے۔ مزید دیکھئے: [المصنف 235/13] ، [تاريخ بغداد 346/4] ، [العلل المتناهية 88]
وضاحت
(تشریح احادیث 371 سے 375)
یعنی جو علم صرف زبان تک محدود رہے اور دل میں نہ بیٹھے تو عمل سے قاصر رہے گا اور کوئی فائدہ نہ دے گا، اس لئے علم کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحسن وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 376 سنن دارمی
عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مذکورہ بالا نص کے مثل روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 376]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 377] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دوسری جگہ یہ روایت نہیں مل سکی، نیز مذکورہ بالا تخریج دیکھئے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 377 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "تَعَلَّمُوا، تَعَلَّمُوا، فَإِذَا عَلِمْتُمْ، فَاعْمَلُوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم سیکھو، علم سیکھو، اور جب علم حاصل کر لو تو عمل کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 377]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 378] »
اس اثر کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [المصنف 294/13، 16394] ، [اقتضاء العلم والعمل للخطيب 10] ، [جامع بيان العلم 1266] ، [حلية الأولياء 131/1] سب نے اسی طریق سے اس روایت کو ذکر کیا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد
حدیث نمبر: 378 سنن دارمی
أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَبُو إِسْمَاعِيل هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَمَّنْ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِأَرْبَعٍ، دَخَلَ النَّارَ أَوْ نَحْوَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَوْ لِيَأْخُذَ بِهِ مِنْ الْأُمَرَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے چار چیزوں کے لئے علم طلب کیا وہ جہنم میں چلا گیا۔ یا اسی طرح کا جملہ کہا (وہ چیزیں یہ ہیں): تاکہ اس علم کے ذریعہ علماء پر گھمنڈ کرے، یا بے وقوف جاہلوں سے اس کے ذریعہ تکرار کرے، لڑے، یا اس کے ذریعہ لوگوں کے (دل) چہرے اپنی طرف موڑ لے، یا اس علم کے ذریعہ امراء سے کچھ حاصل کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 378]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة وهو موقوف على عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 379] »
اس اثر کی سند ضعیف اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [المطالب العالية 3028] و اثر رقم (384، 385) اس کے شواہد [مجمع الزوائد 875] میں موجود ہیں۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه جهالة وهو موقوف على عبد الله
حدیث نمبر: 379 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ بَلَغَنِي أَنَّهُ مِنْ كَلَامِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: "تَعْمَلُونَ لِلدُّنْيَا، وَأَنْتُمْ تُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ عَمَلٍ، وَلَا تَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ، وَأَنْتُمْ لَا تُرْزَقُونَ فِيهَا إِلَّا بِالْعَمَلِ، ويْلَكُمْ عُلَمَاءَ السَّوْءِ: الْأَجْرَ تَأْخُذُونَ، وَالْعَمَلَ تُضَيِّعُونَ، يُوشِكُ رَبُّ الْعَمَلِ أَنْ يَطْلُبَ عَمَلَهُ، وَتُوشِكُونَ أَنْ تَخْرُجُوا مِنْ الدُّنْيَا الْعَرِيضَةِ إِلَى ظُلْمَةِ الْقَبْرِ وَضِيقِهِ، اللَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ الْخَطَايَا، كَمَا أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ، كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ، وَاحْتَقَرَ مَنْزِلَتَهُ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ اتَّهَمَ اللَّهَ فِيمَا قَضَى لَهُ، فَلَيْسَ يَرْضَى شَيْئًا أَصَابَهُ؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ دُنْيَاهُ آثَرُ عِنْدَهُ مِنْ آخِرَتِهِ، وَهُوَ فِي الدُّنْيَا أَفْضَلُ رَغْبَةً؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ مَصِيرُهُ إِلَى آخِرَتِهِ، وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ، وَمَا يَضُرُّهُ أَشْهَى إِلَيْهِ، أَوْ قَالَ: أَحَبُّ إِلَيْهِ مِمَّا يَنْفَعُهُ؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ يَطْلُبُ الْكَلَامَ لِيُخْبِرَ بِهِ، وَلَا يَطْلُبُهُ لِيَعْمَلَ بِهِ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام دستوائی کے شاگرد نے کہا: میں نے کسی کتاب میں پڑھا، مجھے خبر ملی کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کا کلام ہے: تم دنیا کے لئے کام کرتے ہو اور تم کو اس دنیا میں بنا عمل کے رزق مہیا کیا جاتا ہے۔ اور تم آخرت کے لئے عمل نہیں کرتے ہو حالانکہ آخرت میں تم کو عمل کے عوض ہی رزق دیا جائے گا۔ علمائے سوء تمہاری خرابی ہو، اجرت لے لیتے ہو اور عمل ضائع کر دیتے ہو، قریب ہے کہ رب (العمل) اپنا کام طلب کر لے اور تم قریب ہے کہ اس وسیع دنیا سے نکل کر اندھیری اور تنگ قبر کی طرف چلے جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تم کو گناہوں سے منع کرتا ہے، جس طرح تم کو صلاة و صيام کا حکم دیتا ہے۔ وہ آدمی کیسے اہل علم میں سے ہو سکتا ہے جو اپنے رزق سے ناراض اور اپنے مقام کو حقیر جانے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت سے ہے، وہ آدمی کیسے اہل علم میں سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو فیصلہ کر دیا ہے اس پر الله کو الزام دے، اور جو چیز اللہ کی طرف سے اسے ملی اس پر راضی نہ ہو، وہ آدمی کیسے اہل علم میں سے ہو گا جس کے نزدیک اس کی دنیا آخرت سے زیادہ راجح ہو اور وہ دنیا کی زیادہ رغبت رکھے۔ وہ آدمی کیسے علماء میں سے ہو گا جس کا ٹھکانہ آخرت ہو لیکن وہ دنیا کی طرف متوجہ رہے، اور جو (چیز) اسے نقصان دے اس کی زیادہ خواہش رکھے، یا جو اس کو نفع دے اس سے زیادہ محبوب ہو، وہ کیسے اہل علم میں سے ہو گا جو علم طلب کرے تاکہ اس کو عام کرے اور عمل کے لئے علم طلب نہ کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 379]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 380] »
اس روایت کی سند میں اعضال ہے۔ دیکھئے: [حلية الاولياء 279/6] ، [الزهد لأحمد 75]
الحكم: إسناده معضل
حدیث نمبر: 380 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَانْتَفِعُوا بِهِ، وَلَا تَعَلَّمُوهُ لِتَتَجَمَّلُوا بِهِ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ إِنْ طَالَ بِكُمْ عُمُرٌ، أَنْ يَتَجَمَّلَ ذُو الْعِلْمِ بِعِلْمِهِ، كَمَا يَتَجَمَّلُ ذُو الْبِزَّةِ بِبِزَّتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن عبید نے کہا: کہا جاتا ہے علم سیکھو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اور علم اس لئے نہ حاصل کرو کہ اس سے زیب و زینت حاصل کرو، اگر تمہاری عمر دراز ہو تو قریب ہے (کہ تم دیکھو) عالم اپنے علم سے خوبصورتی حاصل کرے گا جس طرح پارچہ فروش پارچے (کپڑے) سے زیب و زینت حاصل کرتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 380]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 381] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد ص: 386] ، [الزهد لابن المبارك 1345] و [حلية الاولياء 102/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 381 سنن دارمی
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، بَقِيَّةُ ، الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشَّرِّ، فَقَالَ: "لَا تَسْأَلُونِي عَنْ الشَّرِّ، وَاسْأَلُونِي عَنْ الْخَيْرِ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:"أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
احوص بن حکیم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شر (برائی) کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو، بلکہ بھلائی کے بارے میں مجھ سے سوال کرو، تین بار اسی طرح فرمایا پھر فرمایا: خبردار سب سے بڑی برائی اور شر علماء کا شر ہے، اور سب سے بڑی بھلائی علماء کی بھلائی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 381]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 382] »
یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں، مرسل بھی ہے اور کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔
الحكم: الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا
حدیث نمبر: 382 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ عِيسَى، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: "إِنَّمَا كَانَ يَطْلُبُ هَذَا الْعِلْمَ مَنْ اجْتَمَعَتْ فِيهِ خَصْلَتَانِ: الْعَقْلُ وَالنُّسُكُ، فَإِنْ كَانَ نَاسِكًا، وَلَمْ يَكُنْ عَاقِلًا، قَالَ: هَذَا أَمْرٌ لَا يَنَالُهُ إِلَّا الْعُقَلَاءُ، فَلَمْ يَطْلُبْهُ، وَإِنْ كَانَ عَاقِلًا وَلَمْ يَكُنْ نَاسِكًا، قَالَ: هَذَا أَمْرٌ لَا يَنَالُهُ إِلَّا النُّسَّاكُ، فَلَمْ يَطْلُبْهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ يَكُونَ يَطْلُبُهُ الْيَوْمَ مَنْ لَيْسَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا: لَا عَقْلٌ وَلَا نُسُكٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عیسیٰ نے کہا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: اس علم کو وہی شخص طلب کرے گا جس میں دو خصلتیں ہوں گی: عقل اور عبادت، اگر عبادت گزار ہو گا اور عاقل نہ ہو گا تو کہے گا: اس (علم) کو صرف عاقل لوگ ہی حاصل کر سکتے ہیں اور اس کی طلب چھوڑ دے گا۔ اور اگر سمجھ دار (عاقل) ہو گا عبادت گزار نہیں تو کہے گا: اس چیز کو تو عبادت گزار ہی حاصل کر سکتے ہیں، لہٰذا اس (علم) کی طلب چھوڑ دے گا۔ امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ آج جو علم کی تلاش میں ہیں، ان میں دونوں میں سے ایک چیز بھی نہ ہو، نہ عقل مندی اور نہ عبادت گزاری۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 382]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 383] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابن ابی الدنیا نے اسے [العقل وفضله 51] میں، اور بیہقی نے [شعب الإيمان 1801] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 383 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: زَعَمَ لِي سُفْيَانُ، قَالَ: "كَانَ الرَّجُلُ لَا يَطْلُبُ الْعِلْمَ حَتَّى يَتَعَبَّدَ قَبْلَ ذَلِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعاصم نے کہا کہ سفیان نے اپنا عندیہ بتاتے ہوئے فرمایا: آدمی پہلے چالیس سال تک عبادت کرتا تھا، پھر علم کی طلب و تلاش میں نکلتا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 383]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 384] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 51]
وضاحت
(تشریح احادیث 375 سے 383)
ابوعاصم: ضحاک بن مخلد ہیں۔
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چالیس سال بعد نبوت ملی)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 384 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: جو علم کو اس لئے طلب کرے کہ اس کے ذر یعہ جاہل و بےوقوفوں سے جھگڑا و تکرار کرے، اور علماء سے اس پر فخر کرے، اور لوگوں کے دل اس کے ذریعے اپنی طرف موڑ لے، تو وہ جہنم کی آگ میں ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 384]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات وهذا إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 385] »
اس قول کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6177] ، [جامع بيان العلم 1132] لیکن یہ موقوف ہے۔
الحكم: رجاله ثقات وهذا إسناده صحيح
حدیث نمبر: 385 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ ، يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ، النُّعْمَانُ ، مَكْحُولٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے علم اس لئے طلب کیا کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرے، سفہاء سے تکرار کرے، یا اس کے ذریعہ لوگوں کے دل اپنی طرف متوجہ کرنا چاہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 385]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 386] »
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں، اور مرسل روایت ہے، لیکن [صحيح ابن حبان 77] میں اس کا شاہد موجود ہے۔ مزید دیکھئے: [ابن ماجه 254] ، [مستدرك الحاكم 86/1] ، [ترمذي 2656، واسناده ضعيف] لیکن ان شواہد سے اس حدیث کو تقویت ملتی ہے اور حسن کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه مرسل
حدیث نمبر: 386 سنن دارمی
إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ ، يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّمَا يُحْفَظُ حَدِيثُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آدمی کی بات اس کے خلوص نیت کے بمقدار یاد رکھی جاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 386]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 387] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے «وانفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 387 سنن دارمی
يَعْلَى ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْقَاسِمِ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: "إِنِّي لَأَحْسَبُ الرَّجُلَ يَنْسَى الْعِلْمَ كَانَ يَعْلَمُهُ لِلْخَطِيئَةِ كَانَ يَعْمَلُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میرے خیال میں آدمی جو علم رکھتا ہے، پھر جو گناہ کرتا ہے اس کی وجہ سے علم کو بھول جاتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 387]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 388] »
اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 132] ، [الزهد لابن المبارك 83] ، [الزهد لوكيع 269] ، [الزهد لأحمد ص: 195، 196] ، [حلية الأولياء 131/1] ، [جامع بيان العلم 1195]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 388 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ لِابْنِهِ:"يَا بُنَيَّ، لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ تُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ، وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زُهْدًا فِيهِ وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ، يَا بُنَيَّ، اخْتَرْ الْمَجَالِسَ عَلَى عَيْنِكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، فَاجْلِسْ مَعَهُمْ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ، وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا يُعَلِّمُوكَ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ، وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ، وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ عَيًّا، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِعَذَابٍ فَيُصِيبَكَ مَعَهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شہر بن حوشب نے کہا: ہمیں یہ بات ملی (پہنچی) ہے کہ لقمان حکیم اپنے بیٹے سے کہتے تھے: بیٹے! علم اس لئے نہ سیکھو کہ اس کے ذریعہ علماء پر فخر کرو، یا سفہاء سے تکرار کرو، یا اس کے ذریعہ مجلسوں میں ریاکاری کرو، اور علم کو بےرغبتی سے اور جہالت میں رغبت سے نہ چھوڑو۔ اے بیٹے! دیکھ بھال کر مجالس اختیار کرو، پس جب تم کسی جماعت کو الله کا ذکر کرتے دیکھو تو ان کے ساتھ بیٹھ جاؤ، کیونکہ اگر تم عالم ہو گے تو تمہارا علم تمہیں نفع دے گا، اور اگر جاہل ہو گے تو وہ لوگ تمہیں سکھائیں گے، اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کی نظر فرمائے تو تم کو بھی اس رحمت سے حصہ مل جائے۔ اور اگر تم ایسی جماعت کو دیکھو جو اللہ کے ذکر سے غافل ہیں، تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو، اس لئے کہ اگر تم عالم ہو تو تمہارا علم نفع نہ دے گا، اور اگر تم جاہل ہو تو وہ تمہاری بےچارگی اور بڑھا دیں گے، اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ان پر عذاب ڈال دے اور تمہیں بھی اس کا مزہ چکھنا پڑ جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 388]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى شهر بن حوشب، [مكتبه الشامله نمبر: 389] »
یہ روایت موقوف ہے، اور شہر بن حوشب تک سند حسن ہے، اس کو ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 678] میں ذکر کیا ہے اور اسی کے ہم معنی امام احمد نے [الزهد 153/1] میں اور انہیں کی سند سے ابونعیم نے [حلية 55/9] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: رقم (392)۔
الحكم: إسناده حسن إلى شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 389 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: "لَا تُحَدِّثْ الْبَاطِلَ الْحُكَمَاءَ فَيَمْقُتُوكَ، وَلَا تُحَدِّثْ الْحِكْمَةَ لِلسُّفَهَاءِ فَيُكَذِّبُوكَ، وَلَا تَمْنَعْ الْعِلْمَ أَهْلَهُ فَتَأْثَمَ، وَلَا تَضَعْهُ فِي غَيْرِ أَهْلِهِ فَتُجَهَّلَ، إِنَّ عَلَيْكَ فِي عِلْمِكَ حَقًّا كَمَا أَنَّ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ حَقًّا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن مرہ نے کہا: باطل کو حکماء (دانشمندوں) سے بیان نہ کرو، وہ تم سے نفرت کرنے لگیں گے، اور حکمت کی بات سفہاء (بےوقوفوں) سے نہ کہو، وہ تمہیں جھٹلا دیں گے، علم کے اہل لوگوں سے علم کو نہ چھپاؤ تم گنہگار ہو گے، اور نااہل لوگوں کو علم نہ سکھاؤ وہ تم کو جاہل سمجھیں گے، تمہارے علم کا تمہارے اوپر حق ہے جس طرح سے تمہارے مال میں تمہارا حق ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 389]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 390] »
اس کی سند صحیح ہے، اور یہ کثیر بن مرة کا قول ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد 386] ، [المحدث الفاصل 804] ، [الجامع لأخلاق الراوي 790]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 390 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، أَنَّ أَبَا فَرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَم عَلَيْهِ السَّلامُ، كَانَ يَقُولُ: "لَا تَمْنَعْ الْعِلْمَ مِنْ أَهْلِهِ فَتَأْثَمَ، وَلَا تَنْشُرْهُ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ فَتُجَهَّلَ، وَكُنْ طَبِيبًا رَفِيقًا يَضَعُ دَوَاءَهُ حَيْثُ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَنْفَعُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوفروہ نے بیان کیا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کہا کرتے تھے: علم کے اہل سے علم نہ روکو کیونکہ تم گنہگار ہو گے، اور نا اہل لوگوں میں علم نہ پھیلاؤ کہ تم کو جاہل بنایا جائے، نرم خو طبیب بنو جو دوا کو ایسی جگہ رکھتا ہے جہاں وہ فائدہ دے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 390]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عبد الله بن صالح كاتب الليث وهو ضعيف وفي الإسناد إعضال، [مكتبه الشامله نمبر: 391] »
اس روایت کی سند میں عبداللہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن [جامع بيان العلم 697] میں اس کا تابع موجود ہے۔ نیز دیکھئے: [المحدث الفاصل 808] و [حلية الأولياء 273/7]
الحكم: إسناده ضعيف فيه عبد الله بن صالح كاتب الليث وهو ضعيف وفي الإسناد إعضال
حدیث نمبر: 391 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: "لَا تُطْعِمْ طَعَامَكَ مَنْ لَا يَشْتَهِيهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مطرف نے کہا: اپنا کھانا ایسے آدمی کو نہ کھلاؤ جس کو اس کی اشتہاء نہ ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 391]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 392] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 843] ، [الجامع لأخلاق الراوي 738]
الحكم: إسناده صحيح