أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: زَعَمَ لِي سُفْيَانُ، قَالَ: "كَانَ الرَّجُلُ لَا يَطْلُبُ الْعِلْمَ حَتَّى يَتَعَبَّدَ قَبْلَ ذَلِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعاصم نے کہا کہ سفیان نے اپنا عندیہ بتاتے ہوئے فرمایا: آدمی پہلے چالیس سال تک عبادت کرتا تھا، پھر علم کی طلب و تلاش میں نکلتا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 383]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 384] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 51]
وضاحت
(تشریح احادیث 375 سے 383)
ابوعاصم: ضحاک بن مخلد ہیں۔
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چالیس سال بعد نبوت ملی)۔
الحكم: إسناده صحيح