بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 385 — بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان حدیث 385
يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ ، يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ، النُّعْمَانُ ، مَكْحُولٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے علم اس لئے طلب کیا کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرے، سفہاء سے تکرار کرے، یا اس کے ذریعہ لوگوں کے دل اپنی طرف متوجہ کرنا چاہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 385]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 386] »
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں، اور مرسل روایت ہے، لیکن [صحيح ابن حبان 77] میں اس کا شاہد موجود ہے۔ مزید دیکھئے: [ابن ماجه 254] ، [مستدرك الحاكم 86/1] ، [ترمذي 2656، واسناده ضعيف] لیکن ان شواہد سے اس حدیث کو تقویت ملتی ہے اور حسن کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه مرسل
← پچھلی حدیث (384) باب پر واپس اگلی حدیث (386) →