نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، بَقِيَّةُ ، الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشَّرِّ، فَقَالَ: "لَا تَسْأَلُونِي عَنْ الشَّرِّ، وَاسْأَلُونِي عَنْ الْخَيْرِ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:"أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
احوص بن حکیم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”شر (برائی) کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو، بلکہ بھلائی کے بارے میں مجھ سے سوال کرو“، تین بار اسی طرح فرمایا پھر فرمایا: ”خبردار سب سے بڑی برائی اور شر علماء کا شر ہے، اور سب سے بڑی بھلائی علماء کی بھلائی ہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 381]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 382] »
یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں، مرسل بھی ہے اور کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔
الحكم: الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا