بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 381 — بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان حدیث 381
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، بَقِيَّةُ ، الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشَّرِّ، فَقَالَ: "لَا تَسْأَلُونِي عَنْ الشَّرِّ، وَاسْأَلُونِي عَنْ الْخَيْرِ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:"أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
احوص بن حکیم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شر (برائی) کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو، بلکہ بھلائی کے بارے میں مجھ سے سوال کرو، تین بار اسی طرح فرمایا پھر فرمایا: خبردار سب سے بڑی برائی اور شر علماء کا شر ہے، اور سب سے بڑی بھلائی علماء کی بھلائی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 381]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 382] »
یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں، مرسل بھی ہے اور کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔
الحكم: الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا
← پچھلی حدیث (380) باب پر واپس اگلی حدیث (382) →