بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 33
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 392 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ:"يَا بُنَيَّ، لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ، وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زَهَادَةً فِيهِ، وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ، وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، فَاجْلِسْ مَعَهُمْ، إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ، وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا عَلَّمُوكَ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ، وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ، إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَمْ يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ، وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا أَوْ عِيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِسَخَطٍ فَيُصِيبَكَ بِهِ مَعَهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
داؤد بن سابور نے شہر بن حوشب کو کہتے سنا: لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے! علم اس لئے نہ سیکھو کہ اس کے ذریعہ ریاکاری کرو، علم سے بےرغبتی اور جہالت میں رغبت کرتے ہوئے علم کو نہ چھوڑو، اور جب تم کسی جماعت کو دیکھو جو الله کو یاد کرتی ہے تو ان کے ساتھ بیٹھو، اگر تم علم والے ہو گے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا، اور اگر جاہل ہو گے تو وہ تمہیں آگاہ کریں گے، اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کی نظر ڈالے اور ان کے ساتھ تمہیں بھی اس سے کچھ حصہ نصیب ہو جائے۔ اور اگر تم ایسی جماعت کو دیکھو جو اللہ کے ذکر سے غافل ہیں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو، کیونکہ تمہارے پاس علم ہو تو بھی تمہارا علم فائدہ نہ دے گا، اور اگر جاہل ہو تو وہ تمہاری گمراہی یا بیچارگی میں اضافہ ہی کریں گے، اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر ناراض ہو تو تم بھی اس ناراضگی میں شامل ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 392]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى شهر بن حوشب ولكنه معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 393] »
شہر بن حوشب تک اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف بلکہ معضل ہے۔ دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 952] ، [حلية الأولياء 62/6] ، [جامع بيان العلم 679] ، نیز دیکھئے: الرقم (388)۔
الحكم: إسناده صحيح إلى شهر بن حوشب ولكنه معضل
حدیث نمبر: 393 سنن دارمی
الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، ثُوَيْرٍ ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:"يَا حَمَلَةَ الْعِلْمِ، اعْمَلُوا بِهِ، فَإِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَوَافَقَ عِلْمُهُ عَمَلَهُ، وَسَيَكُونُ أَقْوَامٌ يَحْمِلُونَ الْعِلْمَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يُخَالِفُ عَمَلُهُمْ عِلْمَهُمْ، وَتُخَالِفُ سَرِيرَتُهُمْ عَلَانِيَتَهُمْ، يَجْلِسُونَ حِلَقًا فَيُبَاهِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَغْضَبُ عَلَى جَلِيسِهِ أَنْ يَجْلِسَ إِلَى غَيْرِهِ وَيَدَعَهُ، أُولَئِكَ لَا تَصْعَدُ أَعْمَالُهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ تِلْكَ إِلَى اللَّهِ تعَالَيَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے علم کے حاصل کرنے والو! اس پر عمل کرو، بیشک عالم وہی ہے جس نے اپنے علم کے مطابق عمل کیا، اور اس کے علم و عمل میں موافقت ہو، عنقریب ایسے لوگ (پیدا) ہوں گے جو علم کے حامل ہوں گے لیکن وہ علم ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کا عمل ان کے علم کے خلاف ہو گا اور ان کا اندرونی معاملہ ظاہر کے خلاف ہوتا ہے، حلقوں میں بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں یہاں تک کہ آدمی اپنے ہم نشین سے بھی اگر وہ اس کو چھوڑ کر کسی اور کے پاس بیٹھے تو ناراض ہو جاتا ہے، یہ لوگ ایسے ہیں جن کے اعمال ان کی مجالس سے اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھ کر جاتے ہی نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 393]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «بشر بن سلم منكر الحديث وثوير بن أبي فاخته ضعيف ويحيى بن جعدة ما عرفنا له رواية عن علي فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 394] »
اس روایت میں بشر بن سلمہ منکر الحدیث ہیں، ثویر بن فاختہ ضعف، یحییٰ بن جعدہ غیر معروف ہیں، لہٰذا یہ اثر ضعیف ہے، گرچہ [اقتضاء العلم 9] و [الجامع لأخلاق الراوي 321] میں یہ اثر موجود ہے۔
الحكم: بشر بن سلم منكر الحديث وثوير بن أبي فاخته ضعيف ويحيى بن جعدة ما عرفنا له رواية عن علي فيما نعلم
حدیث نمبر: 394 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: "كَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَى اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ يُعْجَبَ بِعِلْمِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: آدمی کے علم کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور آدمی کی جہالت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر گھمنڈ کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 394]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 395] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے اثر نمبر (322)۔
وضاحت
(تشریح احادیث 383 سے 394)
یعنی آدمی عالم ہو کر اللہ سے ڈرتا ہے اور جاہل اپنے علم پر گھمنڈ کرتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 395 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُجَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: "لَوْ أَنَّ أَدْنَى هَذِهِ الْأُمَّةِ عِلْمًا أَخَذَتْ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ بِعِلْمِهِ، لَرَشَدَتْ تِلْكَ الْأُمَّةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
معاویہ بن قرة رحمہ اللہ نے فرمایا: دیگر امم میں سے کوئی بھی امت اگر اس امت کے ادنیٰ عالم کی پیروی کرے تو وہ امت ہدایت یافتہ ہو جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 395]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 396] »
اس قول کی سند حسن ہے مگر کسی مرجع میں نہیں مل سکی۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 396 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُصِيبُ الْبَابَ مِنْ الْعِلْمِ فَيَعْمَلُ بِهِ، فَيَكُونُ خَيْرًا لَهُ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، لَوْ كَانَتْ لَهُ فَجَعَلَهَا فِي الْآخِرَةِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر آدمی کو علم کا باب حاصل ہو اور وہ اس پر عمل کرے تو یہ اس کے لئے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اگر دنیا اس کے پاس ہو تو اسے آخرت کے لئے رکھ چھوڑے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 396]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «ثلاثة أحاديث بإسناد واحد وهو إسناد صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 397] »
اس قول کی تخریج آگے آرہی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 17050] ، [جامع بيان العلم 273، 315]
الحكم: ثلاثة أحاديث بإسناد واحد وهو إسناد صحيح
حدیث نمبر: 397 سنن دارمی
قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ:"كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَبَ الْعِلْمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يُرَى ذَلِكَ فِي بَصَرِهِ، وَتَخَشُّعِهِ، وَلِسَانِهِ، وَيَدِهِ، وَصِلاتِهِ، وَزُهْدِهِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: (اسلاف میں سے) جب آدمی علم طلب کرتا تھا تو اس کی آنکھ، خشوع، زبان، ہاتھ، نماز اور زہد میں اس کا اثر دیکھا جاتا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 397]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 398] »
دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 79] ، [جامع بيان العلم 315] و [الزهد لأحمد ص: 261]
حدیث نمبر: 398 سنن دارمی
قَالَ: وقَالَ مُحَمَّدٌ:"انْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّمَا هُوَ دِينُكُمْ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث کس سے لیتے ہو دیکھ لو، اس لئے کہ یہی تمہارا دین ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 398]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 399] »
یہ تینوں اثر ایک سند سے صحیح اور امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے اقوال ہیں۔ امام مسلم نے مقدمہ صحیح مسلم میں باب باندھا ہے «باب بيان أن الاسناد من الدين» ، نیز خطیب نے اس اثر کو [الفقيه 96/2] ابونعیم نے [الحلية 278/2] اور الخطيب نے [الكفاية ص: 121] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [العلل المتناهية 188] ، [كشف الخفاء 796] وغيرها۔
حدیث نمبر: 399 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: "مَا ازْدَادَ عَبْدٌ عِلْمًا، فَازْدَادَ فِي الدُّنْيَا رَغْبَةً، إِلَّا ازْدَادَ مِنْ اللَّهِ بُعْدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بشر بن حکم نے خبر دی کہ میں نے سفیان رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: جس بندے نے علم میں اضافے کے ساتھ دنیا میں رغبت زیادہ کی اس نے الله تعالیٰ سے دوری میں اضافہ کیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 399]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 400] »
اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن کہیں مل نہ سکی۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 400 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ، قَالَ: "مَا ازْدَادَ عَبْدٌ بِاللَّهِ عِلْمًا، إِلَّا ازْدَادَ النَّاسُ مِنْهُ قُرْبًا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسان نے کہا: جس بندے نے علم الٰہی میں جتنی پیش قدمی کی، اللہ کی رحمت سے لوگ اس سے اتنے ہی زیادہ قریب ہوں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 400]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 401] »
ابوالمغيرة کا نام عبدالقدوس بن الحجاج ہے، اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 74/6] و [جامع بيان العلم 1508]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 401 سنن دارمی
وَقَالَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ:"مَا ازْدَادَ عَبْدٌ عِلْمًا، إِلَّا ازْدَادَ قَصْدًا، وَلَا قَلَّدَ اللَّهُ عَبْدًا قِلَادَةً خَيْرًا مِنْ سَكِينَةٍ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اور حسان نے دوسری حدیث میں کہا: کوئی بندہ علم میں جتنی ترقی و اضافہ کرتا ہے، قصد و ارادہ میں صحیح ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو سکون و اطمینان سے بہتر کوئی قلادہ نہیں پہنایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 401]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 402] »
اس روایت کی سند صحیح کہیں اور نہیں مل سکی، لیکن [الحلية 123/5] و [الزهد لابن مبارك 178] میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے۔
حدیث نمبر: 402 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِيرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِهِ: "اذْهَبْ فَاطْلُبْ الْعِلْمَ، فَخَرَجَ فَغَابَ عَنْهُ مَا غَابَ، ثُمَّ جَاءَهُ فَحَدَّثَهُ بِأَحَادِيثَ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: يَا بُنَيَّ، اذْهَبْ فَاطْلُبْ الْعِلْمَ، فَغَابَ عَنْهُ أَيْضًا زَمَانًا، ثُمَّ جَاءَ بِقَرَاطِيسَ فِيهَا كُتُبٌ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: هَذَا سَوَادٌ فِي بَيَاضٍ، فَاذْهَبْ اطْلُبْ الْعِلْمَ، فَخَرَجَ فَغَابَ عَنْهُ مَا غَابَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لِأَبِيهِ: سَلْنِي عَمَّا بَدَا لَكَ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّكَ مَرَرْتَ بِرَجُلٍ يَمْدَحُكَ، وَمَرَرْتَ بِآخَرَ يَعِيبُكَ؟، قَالَ: إِذًا لَمْ أَلُمْ الَّذِي يَعِيبُنِي، وَلَمْ أَحْمَدْ الَّذِي يَمْدَحُنِي، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِصَفِيحَةٍ؟، قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ: لَا أَدْرِي أَمِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ، فَقَالَ: إِذًا لَمْ أُهَيِّجْهَا وَلَمْ أَقْرَبْهَا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ عَلِمْتَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمیرہ نے کہا: ایک آدمی نے اپنے بیٹے سے کہا: جاؤ علم حاصل کرو، لڑکا نکلا اور غائب ہو گیا، پھر جب واپس آیا تو باپ سے کچھ احادیث بیان کیں، باپ نے کہا: جاؤ بیٹے (ابھی اور) علم تلاش کرو، کچھ زمانے تک وہ غائب رہا، پھر کچھ کتاب کاغذ لے کر واپس آیا اور اپنے باپ کو پڑھ کر سنائیں، تو باپ نے اس سے کہا: یہ سفیدی میں سیاہی ہے، ابھی جاؤ اورعلم سیکھو، چنانچہ وہ پھر ان کے پاس سے غائب ہو کر چلا گیا، پھر واپس آیا تو اپنے والد سے کہا: ابا جان! اب آپ جو چاہیں مجھ سے سوال کر لیں، اس کے باپ نے کہا: اگر تم کسی آدمی کے پاس سے گزرو جو تمہاری مدح سرائی کرتا ہے اور دوسرا آدمی تمہاری عیب جوئی کرتا ہے تو تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: ایسی صورت میں جو عیب جوئی کرے نہ اس کو ملامت کروں گا اور جو مدح سرائی کرتا ہے نہ اس کی تعریف کروں گا۔ باپ نے کہا: اگر تم نے کوئی ورق دیکھا تو کیا کرو گے؟ ابوشریح نے کہا: پتہ نہیں یہ کہا کہ سونے کا ورق یا یہ کہا کہ چاندی کا ورق دیکھو تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا: نہ میں اسے اٹھاؤں گا اور نہ اس کے قریب جاؤں گا۔ باپ نے کہا: جاؤ اب تم عالم بن گئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 402]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 402] »
عمیرہ: ابن ابی ناجیۃ ہیں، اس روایت کی سند صحیح ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 403 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ السَّكَنِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ، يَقُولُ:"يَا بُنَيَّ، عَلَيْكَ بِالْحِكْمَةِ، فَإِنَّ الْخَيْرَ فِي الْحِكْمَةِ كُلَّهُ، وَتُشَرِّفُ الصَّغِيرَ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْعَبْدَ عَلَى الْحُرِّ، وَتُزِيدُ السَّيِّدَ سُؤْدُدًا، وَتُجْلِسُ الْفَقِيرَ مَجَالِسَ الْمُلُوكِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سکن بن عمیر نے کہا: میں نے وہب بن منبہ رحمہ اللہ کو کہتے سنا ہے: بیٹے! حکمت و دانائی کو لازم پکڑو، بیشک تمام تر بھلائی حکمت میں ہے، جو حکمت چھوٹے کو بڑے پر اور غلام کو آزاد پر شرف دلاتی ہے۔ اور مالک کی شرافت میں اضافہ کرتی ہے، اور فقیر کو شاہوں کے مقام پر بٹھاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 403]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف بقية مدلس تدليس تسوية ولم يصرح بالتحديث إلى نهاية الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 403] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 625، 626]
الحكم: إسناده ضعيف بقية مدلس تدليس تسوية ولم يصرح بالتحديث إلى نهاية الإسناد
حدیث نمبر: 404 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، بَقِيَّةُ ، عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَقِيَّةُ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "وَمَا نَحْنُ لَوْلَا كَلِمَاتُ الْعُلَمَاءِ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر علماء کے ارشادات نہ ہوتے تو ہم کچھ نہیں ہوتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 404]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف بسبب الانقطاع فإن عتبة لم يدرك أبا الدرداء، [مكتبه الشامله نمبر: 404] »
اس اثر کی سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور عتبہ بن ابی حکیم نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا، لیکن اس کو خطیب نے [الفقيه 141] میں صحیح سند سے روایت کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 394 سے 404)
ان تمام آثار و اقوال میں علم و حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں، نیز ان میں علم حاصل کرنے، اور علم کے ساتھ عمل، اور حصولِ علم میں خلوصِ وللّٰہیت کی ترغیب ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف بسبب الانقطاع فإن عتبة لم يدرك أبا الدرداء