الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، بَقِيَّةُ ، عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَقِيَّةُ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "وَمَا نَحْنُ لَوْلَا كَلِمَاتُ الْعُلَمَاءِ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر علماء کے ارشادات نہ ہوتے تو ہم کچھ نہیں ہوتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 404]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف بسبب الانقطاع فإن عتبة لم يدرك أبا الدرداء، [مكتبه الشامله نمبر: 404] »
اس اثر کی سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور عتبہ بن ابی حکیم نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا، لیکن اس کو خطیب نے [الفقيه 141] میں صحیح سند سے روایت کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 394 سے 404)
ان تمام آثار و اقوال میں علم و حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں، نیز ان میں علم حاصل کرنے، اور علم کے ساتھ عمل، اور حصولِ علم میں خلوصِ وللّٰہیت کی ترغیب ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف بسبب الانقطاع فإن عتبة لم يدرك أبا الدرداء