بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2163 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، هُشَيْمٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسًا ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، هُشَيْمٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی بکر نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں «وعليكم» اور تم پر، کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5652]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5652 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، هُشَيْمٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسًا ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، هُشَيْمٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن ابی بکر نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں «وعليكم» اور تم پر، کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5652]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2163 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟، قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں، آپ نے فرمایا: تم لوگ «وعليكم» اور تم پر، کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5653]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5653 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟، قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں، آپ نے فرمایا: تم لوگ «وعليكم» اور تم پر، کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5653]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2164 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَر
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص «اَلسَامُ عَلَيكُم» تم پر موت نازل ہو، کہتا ہے۔ (اس پر) تم «عَلَيكُم» تجھ پر ہو کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5654]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5654 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَر
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص «اَلسَامُ عَلَيكُم» تم پر موت نازل ہو، کہتا ہے۔ (اس پر) تم «عَلَيكُم» تجھ پر ہو کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5654]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2164 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے: تو تم کہو: «وعليكم» تم پر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5655]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5655 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے: تو تم کہو: «وعليكم» تم پر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5655]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2165 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ "، قَالَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ: " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا «اَلسَامُ عَلَيكُم» آپ پر موت ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے «وَعَلَيكُم» اور تم پر ہو، کہہ دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5656]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5656 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ "، قَالَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ: " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا «اَلسَامُ عَلَيكُم» آپ پر موت ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے «وَعَلَيكُم» اور تم پر ہو، کہہ دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5656]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2165 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے «عليكم» کہہ دیا تھا۔ اور انہوں نے اس کے ساتھ واؤ (اور) نہیں لگایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5657]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5657 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے «عليكم» کہہ دیا تھا۔ اور انہوں نے اس کے ساتھ واؤ (اور) نہیں لگایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5657]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2165 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً "، فَقَالَتْ: مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے آ کر کہا: «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو، آپ نے فرمایا: وَعَلَیکُم (تم لوگوں پر ہو!) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! زبان بری نہ کرو۔ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: آپ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا، میں نے کہا: تم پر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5658]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5658 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً "، فَقَالَتْ: مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے آ کر کہا: «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو، آپ نے فرمایا: وَعَلَیکُم (تم لوگوں پر ہو!) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! زبان بری نہ کرو۔ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: آپ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا، میں نے کہا: تم پر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5658]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2165 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» نازل فرمائی: اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5659]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5659 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» نازل فرمائی: اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5659]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2166 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا اور کہا «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو! اس پر آپ نے فرمایا: تم پر ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے اور ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5660]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5660 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا اور کہا «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو! اس پر آپ نے فرمایا: تم پر ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے اور ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5660]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2167 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ کو سلام کہنے میں ابتدا نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو (تو بجائے اس کے وہ یہ کام کرے) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جانے پر مجبور کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5661]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5661 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ کو سلام کہنے میں ابتدا نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو (تو بجائے اس کے وہ یہ کام کرے) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جانے پر مجبور کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5661]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة