أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً "، فَقَالَتْ: مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے آ کر کہا: «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو، آپ نے فرمایا: ”وَعَلَیکُم (تم لوگوں پر ہو!)“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! زبان بری نہ کرو۔“ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: آپ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا، میں نے کہا: تم پر ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5658]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة