عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ "، قَالَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ: " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا «اَلسَامُ عَلَيكُم» آپ پر موت ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے «وَعَلَيكُم» اور تم پر ہو، کہہ دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5656]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة