هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا اور کہا «اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم» ابوالقاسم! آپ پر موت ہو! اس پر آپ نے فرمایا: ”تم پر ہو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے اور ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5660]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة