بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 186
صفحہ 5 از 10
حدیث نمبر: 1519 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان سے قتال کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ہے، اور کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع کلامی کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1519]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، والحديث صحيح .
الحكم: إسناده حسن، والحديث صحيح .
حدیث نمبر: 1520 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا: رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ، حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جس نے کسی چیز کے متعلق سوال کیا اور ناگوار گذرنے والے امور کو معلوم کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اس کے سوال کے نتیجے میں اس چیز کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7289، م: 2358 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7289، م: 2358 .
حدیث نمبر: 1521 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، أَوْ غَيْرِهِ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ يُهِنْ قُرَيْشًا، يُهِنْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1521]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1522 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ مُسْلِمٌ"، حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَوْ مُسْلِمٌ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا، وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ، فَلَا أُعْطِيهِ شَيْئًا، مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال و دولت عطاء فرمایا، لیکن ان ہی میں سے ایک آدمی کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے فلاں فلاں کو تو دے دیا، لیکن فلاں شخص کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ پکا مومن بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نہیں؟ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں جو مجھے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، اور انہیں کچھ نہیں دیتا اس خوف اور اندیشے کی بناء پر کہ کہیں انہیں ان کے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 27، م: 150 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 27، م: 150 .
حدیث نمبر: 1523 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِقَتْلِ الْوَزَغِ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام فویسق رکھا ہے (جو کہ فاسق کی تصغیر ہے)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2238.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2238.
حدیث نمبر: 1524 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لَا" , قُلْتُ: بِشَطْرِ مَالِي؟ قَالَ:" لَا" , قُلْتُ: فَثُلُثُ مَالِي؟ قَالَ:" الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِم امْرَأَتِكَ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تَتَخَلَّفَ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا، وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ" رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَاتَ بِمَكَّةَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 56، م: 1628 .
الحكم: إسناده صحيح. خ: 56، م: 1628 .
حدیث نمبر: 1525 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَحَلَّهُ لَاخْتَصَيْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے گوشہ نشینی اختیار کرنا چاہی لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت نہ دی، اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اس چیز کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی کم از کم اپنے آپ کو خصی کر لیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5073، م: 1402 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5073، م: 1402 .
حدیث نمبر: 1526 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ، وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي , إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی نے اپنی امت کے سامنے دجال کے اوصاف ضرور ذکر کئے ہیں، لیکن میں تمہارے سامنے اس کا ایک ایسا وصف بیان کروں گا جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کیا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا (اور ربوبیت کا دعوی کرے گا) جبکہ اللہ کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1526]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الإسناد ضعيف، ابن إسحاق مدلس وقد عنعن .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الإسناد ضعيف، ابن إسحاق مدلس وقد عنعن .
حدیث نمبر: 1527 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنِي , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ , أَنَّ الطَّاعُونَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ رِجْزٌ أُصِيبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا كُنْتُمْ بِأَرْضٍ، وَهُوَ بِهَا، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں طاعون کا ذکر چھڑ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک عذاب ہے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، اس لئے جس علاقے میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1527]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218 .
الحكم: حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1528 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّ سَعْدًا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ حِينَ يُصْبِحُ، لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يُمْسِيَ"، قَالَ فُلَيْحٌ: وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ:" وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصْبِحَ" قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ يَا عَامِرُ، انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ عَامِرٌ: وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ، وَمَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن معمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عامر بن سعد نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو - جبکہ وہ گورنر مدینہ تھے - اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صبح نہار منہ مدینہ منورہ کے دونوں اطراف میں کہیں سے بھی عجوہ کھجور کے سات دانے لے کر کھائے تو اس دن شام تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ راوی کا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اگر شام کو کھا لے تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: عامر! اچھی طرح سوچ لو کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کیا حدیث بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر گواہ ہوں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں باندھ رہا، اور یہ کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1528]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5445، م: 2047 .
الحكم: حديث صحيح، خ: 5445، م: 2047 .
حدیث نمبر: 1529 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ ، الْمُطَّلِبِ ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ , فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا؟ لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا نَبَا عَنْهُ، وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمر بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عامر مدینہ منورہ سے باہر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: بیٹا! کیا تم مجھے شورش کے کاموں کا سرغنہ بننے کے لئے کہتے ہو؟ واللہ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے ہاتھ میں تلوار پکڑا دی جائے اور میں اس سے کسی مومن کو قتل کر دوں تو وہ اس کی خبر اڑا دے، اور اگر کسی کافر کو قتل کر دوں تو وہ بھی اس پر پل پڑے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بےنیاز ہو، اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1529]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والإسناد فيه قلب، فالذي روى القصة هو عامر بن سعد، والذي جاء إلى سعد يأمره أن يكون رأساً هو عمر بن سعد، وقد تقدم على الصواب من غير هذا الطريق برقم: 1441 .
الحكم: حديث صحيح، والإسناد فيه قلب، فالذي روى القصة هو عامر بن سعد، والذي جاء إلى سعد يأمره أن يكون رأساً هو عمر بن سعد، وقد تقدم على الصواب من غير هذا الطريق برقم: 1441 .
حدیث نمبر: 1530 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مِسْعَرٌ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِيهِ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ لَمْ أَرَهُمَا قَبْلُ، وَلَا بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا، جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5826، م: 2306.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5826، م: 2306.
حدیث نمبر: 1531 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْعَيْزَارِ ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" عَجِبْتُ لِلْمُسْلِمِ إِذَا أَصَابَهُ خَيْرٌ، حَمِدَ اللَّهَ وَشَكَرَ، وَإِذَا أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، احْتَسَبَ وَصَبَرَ، الْمُسْلِمُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ مومن کے متعلق اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر بھی ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے (اور صبر و شکر دونوں اللہ کو پسند ہیں)، مومن کو تو ہر چیز کے بدلے ثواب ملتا ہے حتی کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1531]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1532 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ أَبي وقّاص ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ أَبي وقّاص ، حدَّثَنا عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: فدَخَلْتُ عَلَى سَعْدٍ، فَقُلْتُ حَدِيثًا حُدِّثْتُهُ عَنْكَ حِينَ اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ، فَقَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهِ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَهُ أَنَّ ابْنَهُ حَدَّثَنِيهِ فَيَغْضَبَ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ اسْتَخْلَفَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ وَجْهًا إِلَّا وَأَنَا مَعَكَ , فَقَالَ:" أَو َمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے ایک حدیث سنائی، میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیچھے مدینہ منورہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا؟ وہ یہ سن کر غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ تم سے یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ میں نے ان کے بیٹے کا نام لینا مناسب نہ سمجھا، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک میں مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر کر کے وہاں چھوڑ دیا تو وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! میری خواہش تو یہی ہے کہ آپ جہاں بھی جائیں، میں آپ کے ہمراہ رہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو - سوائے نبوت کے - جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3706، م: 2404
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3706، م: 2404
حدیث نمبر: 1533 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، أَبُو النَّضْرِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِحَيٍّ يَمْشِي:" إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ" , إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی زندہ شخص کے حق میں یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ زمین پر چلتا پھرتا جنتی ہے، سوائے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1533]
حکم دارالسلام
. إسناده صحيح، خ: 3812، م: 2483 .
الحكم: . إسناده صحيح، خ: 3812، م: 2483 .
حدیث نمبر: 1534 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةُ ، أَبِيهِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا، ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ، , فَقَالَ:" أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي؟" , فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ , فَقَالَ:" مَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ؟" , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ:" إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَوَاتِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ، غَمْرٍ عَذْبٍ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا تُرَوْنَ يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ دَرَنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا، اس افضل شخص کا پہلے انتقال ہو گیا اور دوسرا بھائی اس کے بعد چالیس دن تک مزید زندہ رہا، پھر وہ بھی فوت ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب ان کا تذکرہ ہوا تو لوگوں نے پہلے کے افضل ہونے کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ دوسرا بھائی نماز نہیں پڑھتا تھا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا خبر کہ اس کی نمازوں نے اسے کہاں تک پہنچا دیا؟ پھر فرمایا کہ نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے جس کا پانی میٹھا اور شیریں ہو، اور وہ تمہارے گھر کے دروازے پر بہہ رہی ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غوطہ لگاتا ہو، تمہارا کیا خیال ہے، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہے گا؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1534]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 1535 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا وَدَمًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کا پیٹ قئی سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2258 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2258 .
حدیث نمبر: 1536 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَبَلَغَنَا أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ يَرْوِي هَذَا الْحَدِيثَ؟ فَقِيلَ: عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: وَكَانَ غَائِبًا، فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ سَعْدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِهَا، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا" , قَالَ: قُلْتُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا ہوا تھا، پیچھے سے خبر معلوم ہوئی کہ کوفہ میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ اس مضمون کی حدیث یہاں کون بیان کرتا ہے؟ لوگوں نے عامر بن سعد کا نام لیا، لیکن وہ اس وقت وہاں موجود نہ تھے، پھر میری ملاقات ابراہیم بن سعد سے ہوئی، انہوں نے مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی یہ روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی قوم میں طاعون کی وباء پھیل جائے تو تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں پہلے سے موجود ہو اور وہاں طاعون کی وباء پھیل جائے تو وہاں سے نکلو مت۔ میں نے ابراہیم سے پوچھا: کیا آپ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت خود سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 3473، م: 2218 .
الحكم: إسناده صحيح. خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1537 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، زَكَرِيَّا ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قِتَالُ الْمُسْلِمِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فِسْقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان سے قتال کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1537]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 1538 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ شَفَانِي اللَّهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفُ , قَالَ:" إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِي، ضَعْهُ" , قَالَ: فَوَضَعْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، قُلْتُ: عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا السَّيْفُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي، قَالَ: إِذَا رَجُلٌ يَدْعُونِي مِنْ وَرَائِي، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قَالَ:" كُنْتَ سَأَلْتَنِي السَّيْفَ، وَلَيْسَ هُوَ لِي، وَإِنَّهُ قَدْ وُهِبَ لِي، فَهُوَ لَكَ" , قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ نے آج مجھے مشرکین سے بچا لیا ہے، اس لئے آپ یہ تلوار مجھے دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار تمہاری ہے اور نہ میری، اس لئے اسے یہیں رکھ دو۔ چنانچہ میں وہ تلوار رکھ کر واپس چلا گیا اور اپنے دل میں سوچنے لگا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ تلوار کسی ایسے شخص کو عطاء فرما دیں جسے میری طرح کی آزمائش نہ آئی ہو، اتنی دیر میں مجھے پیچھے سے ایک آدمی کی آواز آئی جو مجھے بلا رہا تھا، میں نے سوچا کہ شاید میرے بارے کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی، واقعی یہ تلوار میری نہ تھی لیکن اب مجھے بطور ہبہ کے مل گئی ہے، اس لئے میں تمہیں دیتا ہوں۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ﴾ [الأنفال: 1] » اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ لوگ آپ سے مال غنیمت کا سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1538]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .