بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 186
صفحہ 7 از 10
حدیث نمبر: 1559 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین ذکر وہ ہے جو خفی ہو، اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کر سکے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبدالرحمن ثم هو منقطع، ابن عبدالرحمن هذا لم يدرك سعداً .
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبدالرحمن ثم هو منقطع، ابن عبدالرحمن هذا لم يدرك سعداً .
حدیث نمبر: 1560 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، أُسَامَةَ بن زيد ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أُسَامَةَ بن زيد ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ ، أَخْبَرَهُ فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1560]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه .
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه .
حدیث نمبر: 1561 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ، قَالَ:" قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ، خَمْسًا"، قَالَ: هَؤُلَاءِ لِرَبِّي، فَمَا لِي؟، قَالَ:" قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے کوئی دعا سکھا دیجئے جو میں پڑھ لیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہا کرو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ بہت بڑا ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے جو کہ تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت اللہ ہی سے مل سکتی ہے جو غالب حکمت والا ہے۔ یہ کلمات پانچ مرتبہ کہہ لیا کرو۔ اس دیہاتی نے عرض کیا کہ ان سب کلمات کا تعلق تو میرے رب سے ہے، میرے لئے کیا ہے؟ فرمایا: تم یوں کہہ لیا کرو: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي» اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے عافیت نصیب فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2696 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2696 .
حدیث نمبر: 1562 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، سَعْدًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدًا , يَقُولُ:" جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا (یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں[مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3725، م: 2412 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3725، م: 2412 .
حدیث نمبر: 1563 مسند احمد
يَحْيَى ، مُوسَى يَعْنِي الْجُهَنِيَّ ، مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي الْجُهَنِيَّ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟، قَالَ:" يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، تُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ"، قَالَ أَبِي: وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَيْضًا:" أَوْ يُحَطُّ" وَيَعْلَى أَيْضًا،" أَوْ يُحَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ دن میں ایک ہزار نیکیاں کما لے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی طاقت کس میں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہہ لیا کرے، اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ایک ہزار گناہ مٹا دیئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2698 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2698 .
حدیث نمبر: 1564 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب دائیں جانب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دایاں رخسار اپنی چمک کے ساتھ نظر آتا، اور جب بائیں جانب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1564]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مصعب بن ثابت لين الحديث لكنه توبع.
الحكم: حديث صحيح، مصعب بن ثابت لين الحديث لكنه توبع.
حدیث نمبر: 1565 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، سَعْدٍ ، قُتَيْبَةُ ، ِِاِلَْلَيثْ ، الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ"، حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، فقال: حَدَثْنَاه ِِاِلَْلَيثْ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سنتے وقت یہ کلمات کہے: «وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِينَا بِاللّٰهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کو رب مان کر، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا رسول مان کر اور اسلام کو اپنا دین مان کر راضی اور مطمئن ہوں، تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 386
الحكم: إسناده صحيح، م: 386
حدیث نمبر: 1566 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٌ ، سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَقَدْ أَتَيْنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ، وَهَذَا السَّمُرَ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي عَلَى الدِّينِ، لَقَدْ خِبْتُ إِذَاً، وَضَلَّ عَمَلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عرب کا وہ سب سے پہلا آدمی ہوں جس نے اللہ کے راستہ میں سب سے پہلا تیر پھینکا تھا، ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لئے سوائے انگور کی شاخوں اور ببول کے کوئی دوسری چیز نہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے ہر ایک اس طرح مینگنی کرتا تھا جیسے بکری مینگنی کرتی ہے، اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ملتی تھی، اور آج بنو اسد کے لوگ مجھ ہی کو میرے اسلام پر ملامت کرتے ہیں، تب تو میں بڑے خسارے میں رہا اور میری ساری محنت برباد ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3728، م: 2966 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3728، م: 2966 .
حدیث نمبر: 1567 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" أُنْزِلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ، قَالَ: قَالَ أَبِي : أَصَبْتُ سَيْفًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفِّلْنِيهِ؟ قَالَ:" ضَعْهُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفِّلْنِيهِ، أُجْعَلْ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟، قَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، فَنَزَلَتْ: 0 يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ 0، قَالَ: وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ، كَذَلِكَ , قُلِ الأَنْفَالُ سورة الأنفال آية 1، وَقَالَتْ أُمِّي: أَلَيْسَ اللَّهُ يَأْمُرُكَ بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَبِرِّ الْوَالِدَيْنِ؟، وَاللَّهِ لَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا، حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَكَانَتْ لَا تَأْكُلُ حَتَّى يَشْجُرُوا فَمَهَا بِعَصًا، فَيَصُبُّوا فِيهِ الشَّرَابَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأُرَاهُ قَالَ: وَالطَّعَامَ، فَأُنْزِلَتْ وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة لقمان آية 14 - 15، وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا مَرِيضٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟، فَنَهَانِي، قُلْتُ: النِّصْفُ؟، قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: الثُّلُثُ؟، فَسَكَتَ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ، وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا , فَأَكَلُوا، وَشَرِبُوا، وَانْتَشَوْا مِنَ الْخَمْرِ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ , فَتَفَاخَرُوا، وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: الْأَنْصَارُ خَيْرٌ، وَقَالَتْ الْمُهَاجِرُونَ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ، فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِلَحْيَيْ جَزُورٍ، فَفَزَرَ أَنْفَهُ، فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ إِلَى قَوْلِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 90 - 91.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب کے بارے قرآن کریم کی چار آیات مبارکہ نازل ہوئی ہیں، میرے والد کہتے ہیں کہ ایک غزوہ میں مجھے ایک تلوار ملی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مجھے عطاء فرما دیں، فرمایا: اسے رکھ دو۔ میں نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مجھے عطاء فرما دیجئے، کیا میں اس شخص کی طرح سمجھا جاؤں گا جسے کوئی ضرورت ہی نہ ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو۔ اس پر سورہ انفال کی ابتدائی آیت نازل ہوئی۔ پھر جب میں نے اسلام قبول کیا تھا تو میری والدہ نے مجھ سے کہا: کیا اللہ نے تمہیں صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیا؟ واللہ! میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انکار نہ کردو گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا حتی کہ لوگ زبردستی ان کے منہ میں لکڑی ڈال کر اسے کھولتے اور اس میں کوئی پینے کی چیز انڈیل دیتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ . . . . . بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [لقمان: 14-15] » ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے . . . . . لیکن اگر وہ تمہیں شرک پر مجبور کریں تو ان کی بات نہ مانو . . . . .۔ پھر ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرمایا، نصف کے متعلق سوال پر بھی منع کر دیا، لیکن ایک تہائی کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔ پھر حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے قبل ایک انصاری نے دعوت کا اہتمام کیا، مدعوین نے خوب کھایا پیا اور شراب کے نشے میں مد ہوش ہو گئے، اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع کر دیا، انصار کہنے لگے کہ انصار بہتر ہیں اور مہاجرین اپنے آپ کو بہتر قرار دینے لگے، اسی دوران ایک آدمی نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور ایک آدمی کی ناک زخمی کر دی، جن صاحب کی ناک زخمی ہوئی وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تھے، اس پر سورہ مائدہ کی آیت تحریم خمر نازل ہو گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1567]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 1748 .
الحكم: إسناده حسن، م: 1748 .
حدیث نمبر: 1568 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، غُنَيْمٌ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، حَدَّثَنِي غُنَيْمٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ الْمُتْعَةِ؟ قَالَ: فَعَلْنَاهَا، وَهَذَا كَافِرٌ بِالْعُرُشِ"، يَعْنِي مُعَاوِيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
غنیم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اس وقت حج تمتع کیا تھا جب انہوں نے یعنی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ کے گھروں میں اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 1225 .
الحكم: إسناده صحيح. م: 1225 .
حدیث نمبر: 1569 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کا پیٹ قئی سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1569]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2258 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2258 .
حدیث نمبر: 1570 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ سَعْدٍ ، فَقُلْتُ بِيَدَيَّ هَكَذَا، وَوَصَفَ يَحْيَى التَّطْبِيقَ، فَضَرَبَ بِيَدَيَّ، وَقَالَ:" كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، فَأُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ نماز پڑھی تو رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بیچ میں کر لئے، انہوں نے میرے ہاتھوں پر ایک ضرب لگائی اور فرمایا کہ ابتداء میں ہم لوگ اس طرح کیا کرتے تھے، بعد میں ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 790، م: 535 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 790، م: 535 .
حدیث نمبر: 1571 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هَاشِمٌ ، عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ، وَلَا سِحْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صبح نہار منہ عجوہ کھجور کے سات دانے کھا لے، اسے اس دن کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5445، م: 2047).
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5445، م: 2047).
حدیث نمبر: 1572 مسند احمد
مَكِّيٌّ ، هَاشِمٌ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، سَعْدٍ ، أَبُو بَدْرٍ ، هَاشِمٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ , قَالَ عَبْدُ الله , وقال أبى: حَدَّثَنَاه أَبُو بَدْرٍ ، عَنْ هَاشِمٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1572]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5445، م: 2047 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5445، م: 2047 .
حدیث نمبر: 1573 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ، أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا، وَقَالَ: الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ، لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا , أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں مدینہ منورہ کے دو کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس لئے یہاں کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، اور نہ ہی یہاں کا جانور شکار کیا جائے۔ اور فرمایا کہ لوگوں کے لئے مدینہ ہی سب سے بہتر ہے، کاش! کہ انہیں اس پر یقین بھی ہو، یہاں سے کوئی شخص بھی اگر بےرغبتی کی وجہ سے چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس سے بہتر شخص کو وہاں آباد فرما دیں گے، اور جو شخص بھی یہاں کی تکالیف اور محنت و مشقت پر ثابت قدم رہتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1387 ،1363
الحكم: إسناده صحيح، م: 1387 ،1363
حدیث نمبر: 1574 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُثْمَانَ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ، حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ رَبِّي: أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عالیہ سے آرہے تھے، راستے میں بنو معاویہ کی مسجد پر گذر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طویل دعا فرمائی اور فراغت کے بعد فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی، جن میں سے دو اس نے قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی۔ ایک درخواست تو میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے، اللہ نے میری یہ درخواست قبول کر لی، دوسری درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو قحط سالی کی وجہ سے ہلاک نہ کرے، اللہ نے میری یہ درخواست بھی قبول کر لی، اور تیسری درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت آپس میں نہ لڑے، لیکن اللہ نے یہ دعا قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2890 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2890 .
حدیث نمبر: 1575 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ الْعَبْدِيِّ ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللَّهَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ احْتَسَبَ وَصَبَرَ الْمُؤْمِنُ، يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ مومن کے متعلق اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر بھی ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے (صبر و شکر دونوں اللہ کو پسند ہیں)، مومن کو تو ہر چیز کے بدلے ثواب ملتا ہے حتی کہ اس لقمے پر بھی جو وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1575]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 1576 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" كُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ، وَضَعْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، قَالَ: فَرَآنِي أَبِي سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، فَنَهَانِي، وَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ نماز پڑھی تو رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بیچ میں کر لئے، انہوں نے مجھے اس سے منع کیا اور فرمایا کہ ابتداء میں ہم لوگ اس طرح کیا کرتے تھے، بعد میں ہمیں اس سے منع کر دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 790، م: 535 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 790، م: 535 .
حدیث نمبر: 1577 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ، أَوْ بَقِيَّةٌ مِنْ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا خزیمہ بن ثابت اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلی امتوں پر آیا تھا، اس لئے جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وباء پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218 .
حدیث نمبر: 1578 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَصِفَنَّ الدَّجَّالَ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا مَنْ كَانَ قَبْلِي، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے سامنے دجال کا ایک ایسا وصف بیان کروں گا جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کیا، یاد رکھو! دجال کانا ہوگا (اور ربوبیت کا دعوی کرے گا) جبکہ اللہ کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1578]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الإسناد ضعيف، أبن إسحاق مدلس وقد عنعن .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الإسناد ضعيف، أبن إسحاق مدلس وقد عنعن .